Zalzale Islam Aur Science Ki Nazar me

زلزلے اسلام کی نظر میں
آج کل زلزلے اور طوفان بہت عام ہو چکے ہیں، ہمیشہ ہم دنیا کے کسی نہ کسی علاقے میں زلزلے اور طوفان کی خبریں سنتے رہتے ہیں، آپ کو یاد ہوگا کہ ہیٹی میں 12 جنوری 2010 میں آنے والے زلزلے میں دولاکھ تیس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے، چلی میں27 فروری 2010 میں آنے والے زلزلے میں سات سو آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس سے پہلے انڈونیشیا میں 26 دسمبر 2004 میں جو زلزلہ آیا تھا اس سے پیدا ہونے والی سونامی میں ڈھائی لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، جس سے سری لنکا، بھارت ،تھائی لینڈ اور مالدیپ، یہ سارے ممالک متاثر ہوئے تھے ۔ پچھلے دنوں پاکستان اور کشمیر میں زبردست سیلاب اور طوفان آیا جس سے بے شمار جان و مال کی تباہی ہوئی تھی۔
ہمیں چاہیے کہ بحیثیت مسلمان اپنی زندگی کے سارے معاملات کو شرعی نقظہ نظر سے دیکھیں اور ملکوں اور قوموں کے حالات میں جو تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں شریعت کی روشنی میں ان کا جائزہ لیں کیوں کہ اس سے انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور انسان کو جس مقصد کے تحت اس دنیا میں بسایا گیا ہے اس کی یادد ہانی ہوتی رہتی ہے،ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ آفات، تباہیوں، طوفان اور زلزلوں سے عبرت حاصل کریں، کیوں کہ یہ چیزیں انسانوں کے کرتوت کے نتیجے میں "الٹی میٹم" کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں تاکہ انسان سدھر جائے، سنبھل جائےاور اپنے مقصد حیات کی تکمیل میں لگ جائے۔
افسوس کہ ہم اس طرح کی خبریں آئے دن سنتے رہتے ہیں لیکن وہ ہماری زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں پیداکر پاتیں،اس میں زیادہ کردار ہمارے ماحول کا بھی ہوتا ہے، ان آفتوں کا کیا پیغام ہے انہیں لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا، آئیے ذرا ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات پیش آنے پر اللہ والوں کا کیا معمول ہوا کرتا تھا۔
صحیح بخاری کی روایت میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
كُنَّا عندَ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ، فانكسفَتْ الشمسُ ، فقام رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يجُرُّ رداءَهُ حتى دخل المسجدَ ، فدخلنا ، فصلَّى بنا ركعتانِ حتى انجلَتْ الشمسُ ، فقال صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ : إنَّ الشمسَ والقمرَ لا ينكسفانِ لموتِ أَحَدٍ ، فإذا رأيتموهما فصلُّواْ وادْعُواْ ، حتى يُكْشَفَ ما بِكُمْ .(صحیح البخاری: 1040)
ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج کو داغ لگ گیا،  (معمولی سورج گہن ہوتا ہے تو دیکھیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا حالت ہو جاتی ہے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ اپنی بالائی چادر زمین پر کھینچتے ہوئے جارہے تھے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہوئے،ہم بھی مسجد میں داخل ہوئے، ہمیں آپ نے دو رکعتیں پڑھائیں یہاں تک کہ سورج بالکل صاف ہوگیا۔ پھر آپ نے فرمایا: بیشک سورج اور چاند کو گہن کسی کی موت کی وجہ سے نہیں لگتا، جب تم اسے دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو، یہاں تک کہ گہن دور ہوجائے۔
مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ جلدی میں ایک دوپٹہ اٹھا لی یہاں تک کہ آپ کو اندازہ ہوا تو آپ نے اسے رکھ کر چادر اٹھائی، حدیث کے الفاظ ہیں : فأخذ درعًا حتى أدرك بردائِه . فقام للناس قيامًا  طويلاً  یعنی پریشانی میں آپ نے اپنی کسی بیوی کی بڑی چادر اٹھا لی اور آپ چلے یہاں تک کہ آپ کی چادر آپ کو لاکر دی گئی۔ پھر مسجد میں جاکر آپ نے نماز شروع کی، اور نہایت لمبی نماز ادا فرمائی، اس قدر لمبا قیام اور رکوع اور سجود کیا کہ راوی کہتے ہیں: اس سے لمبا قیام اور رکوع اور سجود میں نے کبھی زندگی میں نہ دیکھا ہوگا۔(صحیح مسلم : 906)
جب کبھی ہوا چلتی، یا آسمان میں بادل چھاجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت دگر گوں ہونے لگتی تھی، آگے آتے پیچھے جاتے گھر میں داخل ہوتے، گھر سے باہر نکلتے، آپ کے چہرے کی کیفیت بدل جایا کرتی تھی، جب بارش ہونے لگتی تو آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہو جاتے تھے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے حضرت عائشہ صدیقہ ضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب کبھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آسمان میں بدلی یا ہوا دیکھتےتو آپ کے چہرے پر اس کا اثر ظاہر ہوجاتا تھا، عائشہ صدیقہ ضی اللہ عنہا نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! لوگ جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ ممکن ہے بارش ہوگی لیکن میں دیکھتی ہوں کہ جب آپ بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا عائشةُ ، ما يُؤَمَّنِّني أن يكونَ فيهِ عذابٌ ؟ عُذِّبَ قومٌ بالريحِ ، وقد رأَى قومٌ العذابَ ، فقالوا : هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا ۔ (صحیح البخاری، ( 4828)
اے عائشہ ! (رضی اللہ تعالی عنہا)
 آخر مجھے کونسی چیزمامون کرسکتی ہے کہ اس میں عذاب نہیں ہے جبکہ ایک قوم کو ہوا کے ذریعہ عذاب دیا گیا ،انہوں نے جب عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے : “یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا
یہ وہی بادل ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی نے خبر دی کہ :
فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَـٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ (سورہ احقاف 24(
پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے “یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا” نہیں، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آ رہا ہے”۔
ابن ابی الدنیا نے ایک مرسل حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے عہد میں زمین لرز نے لگی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا: آرام سے! ابھی تمہارا وقت نہیں آیا، پھر آپ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: تمہارارب تم پر اپنی خفگی ظاہر کرتا ہے کہ تم اس کوراضی کرو،پس اس کو راضی کرلو۔
مسندامام احمد میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینہ میں زلزلہ آیا تو انہوں نے خطبہ دیا: لوگو! یہ کیاہے؟ کتنی جلد تم نے نئے کام شروع کرلیے، دیکھو اگر یہ دو بارہ ہوا تو میں یہاں تمہارے ساتھ رہنے کا نہیں ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں اور میرے ساتھ ایک شخص ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، میرے ساتھی نے سوال کیا: اے ماں! زلزلے اور اس کی حکمت وسبب سے متعلق کچھ بتا یئے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب دنیا والے زناکوحلال سمجھ لیں گے، شراب کثرت سے پی جانے لگے گی، گانے باجے کا عام رواج ہو جائے گا تو آسمان میں اللہ تعالی کو غیرت آئے گی اور وہ زمین کو حکم دیگا کہ تو کانپ اٹھ، پھر اگر لوگ توبہ کرلیے اور اپنی بد اعمالیوں سے رک گئے تو ٹھیک ورنہ زمین کو ان پر ڈھا دیتا ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھی نے عرض کیا: اے ام المومنین! کیا یہ لوگوں پر اللہ تعالی کا عذاب ہوتا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : نہیں! بلکہ مومنوں کے لیے نصیحت، ان کے لیے باعث رحمت وبرکت ہوتا اور کافروں کے لیے سزا عذاب اور اللہ کی ناراضگی ہوتی ہے۔
(العقوبات لا بن ابی الدنیا ص : 29 )
بخاری اور مسلم کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میری اس امت کے آخری دور میں زمین میں دھنسا دیئے جانے، صورتوں کو مسخ کیے جانے اور پتھروں سے مارے جانے کا عذاب آئے گا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : أنهلِك وفينا الصالحون ؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے اندر ابھی نیک لوگ موجود ہوں گے پھر بھی ہم ہلاک کردیئے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نعم، إذا كثُر الخبثُ (صحيح البخاري 7059 صحيح مسلم 2880 )  ہاں! جب فسق وفجور عام ہو جائے گا تو ایسا ہوگا”۔
جی ہاں! یہ ساری آفتیں فسق وفجور کے عام ہونے کی وجہ سے آرہی ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا ظهرَ الرِّبا والزِّنا في قريةٍ فقد أحلُّوا بأنفسِهم عذابَ اللهِ (صحيح البخاري 2731 )جب زنا اور باکسی بستی میں ظاہر وعام ہو جائیں تو اللہ تعالی اس کی تباہی کا اذن دے دیا کرتا ہے”۔
اور زلزلوں کی کثرت اصل میں قرب قیامت کی علامت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تقومُ الساعةُ حتى يُقْبَضَ العِلْمُ ، وتَكْثُرُ الزلازلُ ، ويَتقاربُ الزمانُ ، وتظهرُ الفِتَنُ ، ويكثُرُ الهَرَجُ ، وهو القَتْلُ القَتْلُ ، حتى يكثُرَ فيكم المالُ فيَفيضُ . (صحیح البخاری: 1036)
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا، زلزلوں کی کثرت ہوگی، زمانے قریب ہوجائیں گے، فتنوں کا ظہور ہوگا، قتل وغارت گری عام ہوگی اور مال کی بہتات اور فراوانی ہوگی۔
آیئے یہ حدیث بھی سن لیجیے سنن ابن ماجہ کتاب لفتن کی صحیح حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جماعت مہاجرین ! پانچ چیزیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو جاؤ اور میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں تمہارے دور میں وہ پیش آجائیں:
لم تظهَرِ الفاحشةُ في قومٍ قطُّ حتَّى يُعلِنوا بها إلَّا فشا فيهم الطَّاعون والأوجاعُ الَّتي لم تكُنْ مضت في أسلافِهم الَّذين مضَوْا ولم ينقُصوا المكيالَ والميزانَ إلَّا أُخِذوا بالسِّنين وشدَّةِ المؤنةِ وجوْرِ السُّلطانِ عليهم ولم يمنَعوا زكاةَ أموالِهم إلَّا مُنِعوا القطْرَ من السَّماءِ ولولا البهائمُ لم يُمطَروا ولم يَنقُضوا عهدَ اللهِ وعهدَ رسولِه إلَّا سلَّط اللهُ عليهم عدوًّا من غيرِهم فأخذوا بعضَ ما في أيديهم وما لم تحكُمْ أئمَّتُهم بكتابِ اللهِ تعالَى ويتخيَّروا فيما أنزل اللهُ إلَّا جعل اللهُ بأسَهم بينهم (الترغیب والترھیب للمنذری: 3/29(
فحش کاری جب کسی قوم میں عام ہوجائے یہاں تک کہ لوگ کھلم کهلا اس کا ارتکاب کرنے لگیں تو ضرور ان میں ایسی وبائیں اور ایسے روگ پیدا ہوں گے جن کا ان کی پہلی نسلوں میں کبھی گزر نہ ہوا ہوگا، جب وہ ناپ تول میں کمی کرنے لگیں گے تو خشک سالی آئے گی، فراوانی اشیاء کی عدم دستیابی ہوگی اور حکمرا ں طبقے کا ستم سہنا ہوگا، جب بھی لوگوں میں زکاۃ نہ دینے کا رجحان پھیلے گا، تو ان کو آسمان سے پانی ملنا بند ہو جائے گا، پرند و چرند نہ ہوں تو ان کو بارش ہی نہ ملے ، جب بھی لوگ اللہ اور رسول کی عہد شکنی کریں گے اللہ ان پر باہر سے دشمنوں کو مسلط کردے گا جو ان کے ہاتھ میں پڑی چیز سے اپنے حصہ کا بھتہ لیں گے ،جب ان کے حکمراں وقائد ین کتاب اللہ کی رو سے فیصلے نہ کریں گے اور اللہ کے اتارے ہوئے احکام اخذ نہ کریں گے تو اللہ ان کے آپس میں بھی پھوٹ پڑجانے دے گا”۔
ہم بحیثیت مسلمان جانتے ہیں کہ اللہ پاک نے اپنی کتاب قرآن کریم میں مردود اقوام کے قصے بیان کیے ہیں، قوم نوح، قوم شعیب، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، بنو اسرائیل، اور قارون وہامان کے قصے قرآن کریم میں جگہ جگہ ملتے ہیں، آخر انہیں تباہ وبرباد کیوں کیا گیا، پھر ان کی تباہی کے قصوں کو قرآن میں کیوں جگہ دی گئی؟ اسی لیے ناکہ ہم ان سے عبرت حاصل کریں۔
زلزلے
سائنس کی نظر میں
انسانی زندگی پر زلزلے کے اثرات دیگر قدرتی آفات مثلاً سیلاب، طوفان، وبائی بیماریوں اور جنگوں وغیرہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں، زلزلوں کی ہلاکت خیزی بھی جنگوں اور وبائی امراض سے کہیں زیادہ ہے۔ نفسیاتی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ زلزلے سے زندہ بچ جانے والے افراد پر برسوں شدید حزن و ملال، پژمردگی، خوف اور ڈرائونے خواب مسلط رہتے ہیں۔
معلوم تاریخ کے مطالعے کے بعد ایک اندازہ لگایا گیا ہے اب تک آنے والے زلزلے آٹھ کروڑ انسانوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ مالی نقصانات کا تو شاید کوئی حساب ہی نہیں کیا جاسکتا۔ 
زلزلے آنے کے اسباب؟؟؟
سائنسی ریسرچ کے بعد حقائق کے انکشافات سے پہلے زلزلے کے بارے میں عجیب وغریب روایات مروج تھیں :
1-
عیسائی پادریوں کا خیال تھا کہ زلزلے خدا کے باغی اور گنہگار انسانوں کے لئے اجتماعی سزا اور تنبیہ ہوتے ہیں.
2-بعض قدیم اقوام سمجھتی تھیں مافوق الفطرت قوتوں کے مالک دیوہیکل درندے جو زمین کے اندر رہتے ہیں، زلزلے پیدا کرتے ہیں
3- قدیم جاپانیوں کا عقیدہ تھا کہ ایک طویل قامت چھپکلی زمین کو اپنی پشت پر اُٹھائے ہوئے ہے اور اس کے ہلنے سے زلزلے آتے ہیں
4-کچھ ایسا ہی عقیدہ امریکی ریڈ انڈینز کا بھی تھا کہ زمین ایک بہت بڑے کچھوے کی پیٹھ پر دھری ہے اور کچھوے کے حرکت کرنے سے زلزلے آتے ہیں
5-سائیبیریا کے قدیم باشندے زلزلے کی ذمّہ داری ایک قوی البحثّہ برفانی کتے کے سر تھوپتے ہیں، جو ان کے بقول جب اپنے بالوں سے برف جھاڑنے کے لئے جسم کو جھٹکے دیتا ہے تو زمین لرزنے لگتی ہے
5-ہندوئوں کا عقیدہ ہے کہ زمین ایک گائے کے سینگوں پر رکھی ہوئی ہے، جب وہ سینگ تبدیل کرتی ہے تو زلزلے آتے ہیں۔ 
6-قدیم یونانی فلسفی اور ریاضی داں فیثا غورث کا خیال تھا کہ جب زمین کے اندر مُردے آپس میں لڑتے ہیں تو زلزلے آتے ہیں۔ 
7-اس کے برعکس ارسطو کی توجیہہ کسی حد تک سائنسی معلوم ہوتی ہے، وہ کہتا ہے کہ جب زمین کے اندر گرم ہوا باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔ 
8-افلاطون کا نظریہ بھی کچھ اسی قسم کا تھا کہ زیرِ زمین تیز و تند ہوائیں زلزلوں کو جنم دیتی ہیں۔
 9-تقریباً 70 سال پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ زمین ٹھنڈی ہورہی ہے اور اس عمل کے نتیجے میں اس کا غلاف کہیں کہیں چٹخ جاتا ہے، جس سے زلزلے آتے ہیں۔
10- کچھ دوسرے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ زمین کے اندرونی حصّے میں آگ کا جہنم دہک رہا ہے
اور اس بے پناہ حرارت کی وجہ سے زمین غبارے کی طرح پھیلتی ہے۔ 
11-لیکن آج کا سب سے مقبول نظریہ ''پلیٹ ٹیکٹونکس'' کا ہے جس کی معقولیت کو دنیا بھر کے جیولوجی اور سیسمولوجی کے ماہرین نے تسلیم کرلیا ہے۔ اس نظرئیے کے مطابق زمین کی بالائی پَرت اندرونی طور پر مختلف پلیٹوں میں منقسم ہے۔ جب زمین کے اندرونی کُرے میں موجود پگھلے ہوئے مادّے جسے جیولوجی کی زبان میں میگما Magma کہتے ہیں، میں کرنٹ پیدا ہوتا ہے تو یہ پلیٹیں بھی اس کے جھٹکے سے یوں متحرک ہوجاتی ہیں جیسے کنویئر بیلٹ پر رکھی ہوئی ہوں، میگما ان پلیٹوں کو کھسکانے میں ایندھن کا کام کرتا ہے۔ یہ پلیٹیں ایک دوسرے کی جانب سرکتی ہیں، اوپر ، نیچے، یا پہلو میں ہوجاتی ہیں یا پھر ان کا درمیانی فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ زلزلہ یا آتش فشانی عمل زیادہ تر ان علاقوں میں رونما ہوتا ہے، جو ان پلیٹوں کے Joint پر واقع ہیں۔
ارضی پلیٹوں کی حالت میں فوری تبدیلی سے سطح میں دراڑیں یا فالٹ Fault پیدا ہوتے ہیں جن میں پیدا ہونے والے ارتعاش سے زلزلہ آتا ہے۔ زیرِزمین جو مقام میگما کے دبائو کا نشانہ بنتا ہے، اسے محور Focus 
اور اس کے عین اوپر کے مقام کو جہاں اس جھٹکے کے فوری اثرات پڑتے ہیں، زلزلے کا مرکز Epicenter کہا جاتا ہے۔ 
زلزلے کی لہریں پانی میں پتھر گرنے سے پیدا ہونے والی لہروں کی طرح دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔ ان سے ہونے والی تباہی کا تعلق جھٹکوں کی ریکٹر اسکیل پر شدّت، فالٹ یا دراڑوں کی نوعیت، زمین کی ساخت اور تعمیرات کے معیار پر ہوتا ہے۔ اگر زلزلہ زمین کی تہہ میں آئے تو ا س سے پیدا ہونے والی بلند موجیں پوری رفتار کے ساتھ چاروں طرف چلتی ہیں اور ساحلی علاقوں میں سخت تباہی پھیلاتی ہیں۔
زلزلے دو قسم کے ہوتے ہیں، قدرتی وجوہات کی وجہ سے آنے والے زلزلوں کو ٹیکٹونک Tectonic زلزلے کہا جاتا ہے جبکہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے آنے والے زلزلے نان ٹیکٹونک Non Tectonic کہلاتے ہیں۔ ٹیکٹونک زلزلے انتہائی شدت کے بھی ہوسکتے ہیں۔ جبکہ نان ٹیکٹونک عام طور پر معمولی شدت کے ہی ہوتی ہیں۔ ایک ہی زلزلے کا مختلف علاقوں پر اثر مختلف ہوسکتا ہے چنانچہ کسی خطے میں تو بہت زیادہ تباہی ہوجاتی ہے لیکن دوسرے علاقے محفوظ رہتے ہیں۔
زلزلے کی لہریں 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھیلتی ہیں۔ نرم مٹی اور ریت کے علاقے میں یہ نہایت تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ ان کی شدّت کا اندازہ ریکٹر اسکیل پر زلزلہ پیما کے ریکارڈ سے لگایا جاتا ہے۔ جبکہ ظاہر ہونے والی تباہی کی شدّت مرکلی اسکیل Metrically Intensity Scale سے ناپی جاتی ہے۔
زلزلے سمندر کی تہہ میں موجود زمینی سطح پر بھی پیدا ہوتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر زلزلے سمندر کی تہہ میں ہی پیداہوتے ہیں۔ بحری زلزلوں یعنی سونامی سے سمندر میں وسیع لہریں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انمیں سے بعض تو ایک سو میل سے لے کر 200 میل تک کی لمبائی تک پھیل جاتی ہیں، جبکہ ان کی اونچائی 40 فٹ تک ہوتی ہے۔ یہ لہریں ساحل پر پہنچتی ہیں تو ساحل سے گزر کر خشکی کی جانب سیلاب کی طرح داخل ہوجاتی ہیں اور بے پناہ تباہی و بربادی پھیلادیتی ہیں۔ 
دنیا کے وہ خطے جہاں زلزلے زیادہ پیدا ہوتے ہیں، بنیادی طور پر 3 پٹیوں Belts میں واقع ہیں۔ پہلی پٹی جو کہ مشرق کی جانب ہمالیہ کے پہاڑوں سے ملی ہوئی ہے، انڈیا اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہمالیہ کے پہاڑوں سے ہوتی ہوئی افغانستان، ایران اور پھر ترکی سے گزرتی ہوئی براعظم یورپ اور یوگوسلاویہ سے فرانس تک یعنی کوہ ایلپس تک پہنچ گئی ہے۔دوسری پٹی براعظم شمالی امریکا کے مغربی کنارے پر واقع الاسکا کے پہاڑی سلسلے سے شروع ہوکر جنوب کی طرف Rocky mountains کو شامل کرتے ہوئے میکسیکو سے گزر کربراعظم جنوبی امریکہ کے مغربی حصّے میں واقع ممالک کولمبیا، ایکواڈور اور پیرو سے ہوتی ہوئی چلّی تک پہنچ جاتی ہے۔جبکہ تیسری پٹی براعظم ایشیا کے مشرق پر موجود جاپان سے شروع ہوکر تائیوان سے گزرتی ہوئی جنوب میں واقع جزائر فلپائن، برونائی، ملائیشیاء اور انڈونیشیا تک پہنچ جاتی ہے۔
جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا کہ کچھ زلزلے فالٹس کی وجہ سے آتے ہیں۔ فالٹس دراصل Cracks ہوتے ہیں۔ جب اچانک یہ Crack بنتے ہیں تو بہت زیادہ انرجی خارج ہوتی ہے۔ اس انرجی کی وجہ سے چٹانوں کے بہت سارے بڑے بڑے بلاکس ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ زمین کے جس حصّہ میں یہ انرجی فوکس ہوکر زمین کی سطح پر خارج ہوتی ہے وہی زلزلہ کا Epicenter یعنی مرکز کہلاتا ہے۔ اگر یہ انرجی بہت زیادہ گہرائی میںخارج ہو تو زلزلے اتنی شدّت کے نہیں ہوتے کیونکہ سطح زمین تک پہنچتے پہنچتے ان کی بہت سی توانائی زائل ہوجاتی ہے۔ لیکن جب زلزلے کا مرکز Epicenter زمین کی سطح کے قریب بنتا ہے تو اس کی انرجی تقسیم نہیں ہوتی اسی بناء پر شدید تباہی پھیلتی ہے۔
زلزلہ کی انرجی یا لہروں کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک پرائمری ویوز اور دوسری سیکنڈری ویوز۔ سیکنڈری ویوز زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ ان ویوز میں پارٹیکلز ایک دوسرے سے ٹکراتے رہتے ہیں۔ پارٹیکلز کی موومنٹ رائٹ اینگل ہوتی ہے اس کی وجہ سے عمارتیں گرجاتی ہیں کیونکہ یہ ویوز پارٹیکلز پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
بڑے زلزلے کے بعد اس مقام پر مزید زلزلے آتے رہتے ہیں ، جیسا کہ زیارت کے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے ۔ ان آفٹر شاکس کو سیکنڈری ارتھ کوئیک بھی کہتے ہیں۔ دراصل جب شدید زلزلہ آتا ہے تو زمین کے اندر چٹانوں کے بڑے بلاکس بکھر جاتے ہیں۔ ان بے ترتیب بلاکس کی سطح برابر کرنے کے لئے سیکنڈری زلزلے آتے ہیں۔
جغرافیہ کے سائنسدانوں نے زمین کے کچھ حصّوں کو 
Zone of Seductions کا نام دیا ہے، جہاں زلزلہ کے زیادہ خطرات موجود رہتے ہیں۔ مثلاً بحر الکاہل Pacific Ocean کے چاروں طرف موجوز زون کو Firry Ring of Pacific کہتے ہیں۔ اس زون میں دو پلیٹیں جب آپس میں ملتی ہیں تو کوئی ایک دبائو کی وجہ سے نیچے چلی جاتی ہے۔ نیچے بہت زیادہ درجہ حرارت اور کیمیکل ری ایکشن کی وجہ سے وہ پلیٹ پگھل جاتی ہے۔ اس سے بننے والی انرجی والکینو یا آتش فشاں کی صورت میں نکلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ Firry Ring of Pacific میں جو ممالک ہیں مثلاً الاسکا، سائوتھ امریکہ میں انڈیز کا حصّہ، انڈونیشیا، چائنہ اور جاپان وغیرہ میں، وہاں زلزلے زیادہ آتے ہیں۔
اس کے علاوہ خشکی میں زلزلہ والے علاقوں میں ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ بھی اہم ہے۔ یہ حصّہ یوریشین اور آسٹرل انڈین پلیٹ پر واقع ہے۔ اس کے ٹکرائو کی وجہ سے Zone Of Conversion بنتا ہے یعنی جغرافیائی تبدیلی آتی رہتی ہے۔ یاد رہے ہمالیہ کسی زمانے میں سمندر میں تھا۔ ہزاروں سال جاری رہنے والے تغیر وتبدل کی بناء پر ان پلیٹوں کی رگڑ سے یہ خطہ اونچا ہوتا گیا۔ خشکی اور پانی کے خطے ایک دوسرے میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں، یہ ایک طویل جیولوجیکل پروسس ہے جو ہزاروں سال سے جاری ہے ، آئندہ بھی سمندر سے نئے لینڈز اُبھریں گے اور جو علاقے Seductions Zones سے گھرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک وقت آئے گا کہ سمندر بُرد ہوجائیں گے۔
بحر اوقیانوس Atlantic Ocean میں بھی ایک ایسا ہی زون موجود ہے جس کی سطح آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ یہ حصّہ گرین لینڈ سے نارتھ اٹلانٹک تک آتا ہے اس لئے اسے نارتھ اٹلانٹک Ridge یا شمالی اوقیانوس کا اُبھار کہا جاتا ہے۔ جب یہ سطح سمندر سے باہر آجائے گی تو ظاہر ہے وہاں ایک نیا لینڈ بن جائے گا۔ 
کہا جاتا ہے کہ جاپان میں روزانہ کئی زلزلے آتے ہیں لیکن جاپان کے لوگ اپنے ملک میں ہی رہتے ہیں
 جاپانیوں نے زلزلے سے خوف کھانے کے بجائے خود کو زلزلوں کی تباہی سے محفوظ رکھنے کے لئے سائنسی اصولوں کے مطابق آبادیاں بسائی ہیں ، جاپان کے شہروں میں کئی کئی منزلہ سڑکیں اور کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور یہ تمام تعمیرات زلزلہ سے بچائو کے سائنسی اصولوںکو مدِنظر رکھ بنائی گئی ہیں۔ 
 ازقلم : محمد عباس مصباحی ازہری
قاہرہ مصر
ब शक्ले रंग - व - गुल और हकीक़त में खार है दुनिया 
 एक पल में इधर से उधर चार दिन की बहार है दुनिया  
ज़िन्दगी  नाम  रख दिया  किसने
मौत  का  इतिज़ार  है   दुनिया




Hazrat Khwaja Gharib Nawaz (Urdu)


نائب رسول خواجہ خواجگاں
 حضور خواجہ غریب نواز (اجمیر شریف) علیہ الرحمہ
سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی  رضی اللہ عنہ کے والد 551 ہجری میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس وقت آپ کی عمر صرف 15 سال تھی۔         والد گرامی کی رحلت پر آپ ہر وقت اداس رہنے لگے۔ ایسے لمحات میں آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی نور نے بڑی استقامت کا ثبوت دیا اور بڑے حوصلے کے ساتھ بیٹے کو سمجھایا۔ اے فرزند! زندگی کے سفر میں ہر مسافر کو تنہائی کی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے اگر تم ابھی سے اپنی تکلیفوں کا ماتم کرنے بیٹھ گئے تو زندگی کے دشوار گزار راستے کیسے طے کرو گے۔
اٹھو اور پوری توانائی سے اپنی زندگی کا سفر شروع کرو۔ ابھی تمہاری منزل بہت دور ہے یہ والد سے محبت کا ثبوت نہیں کہ تم دن رات ان کی یاد میں آنسو بہاتے رہو۔ اولاد کی والدین کیلئے حقیقی محبت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہر عمل سے بزرگوں کے خواب کی تعبیر پیش کرے۔ تمہارے والد کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کرے۔ چنانچہ تمہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کے حصول کیلئے ہی صرف کر دینی چاہئیں۔ مادر گرامی کی تسلیوں سےحضرت خواجہ معین الدین چشتی رح کی طبیعت سنبھل گئی اور آپ زیادہ شوق سےعلم حاصل کرنے لگے۔ مگر سکون و راحت کی یہ مہلت بھی زیادہ طویل نہ تھی مشکل سے ایک سال ہی گزرا ہو گا کہ آپ کی والدہ حضرت بی بی نور بھی خالق حقیقی سےجا ملیں۔ اب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اس دنیا میں اکیلے رہ گئے۔ والد گرامی کی وفات پر ایک باغ اور ایک آٹا پیسنے والی چکی آپ کو ورثےمیں ملی۔ والدین کی جدائی کے بعد باغبانی کا پیشہ آپ نے اختیار کیا۔ درختوں کو خود پانی دیتے۔ زمین کو ہموار کرتے پودوں کی دیکھ بھال کرتے۔ حتیٰ کہ منڈی میں جا کر خود ہی پھل بھی فروخت کرتے۔ آپ کاروبار میں اس قدر محو ہو گئے کہ آپ کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ آپ کو اس کا بڑا افسوس تھا لیکن یہ ایک ایسی فطری مجبوری تھی کہ جس کا بظاہر کوئی علاج ممکن نہ تھا۔ آپ اکثر اوقات اپنی اس محرومی پر غور کرتے جب کوئی حل نظر نہ آتا تو شدید مایوسی کے عالم میں آسمان کی طرف دیکھتے اور رونے لگتے۔ یہ خدا کےحضور بندے کی ایک خاموش التجا تھی۔ ایک دن حضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنے باغ میں درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ ادھر سےمشہور بزرگ حضرت ابراہیم قندوزی کا گزر ہوا۔ آپ نےبزرگ کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے گئے اور حضرت ابراہیم قندوزی کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔ حضرت ابراہیم قندوزی ایک نوجوان کے اس جوش عقیدت سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کمال شفقت سے آپ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور چند دعائیہ کلمات کہہ کر آگے جانے لگے تو آپ نے حضرت ابراہیم قندوزی کا دامن تھام لیا۔ حضرت ابراہیم نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا اے نوجوان! ”آپ کیا چاہتے ہیں؟“ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے عرض کی کہ آپ چند لمحے اور میرے باغ میں قیام فرما لیں۔ کون جانتا ہے کہ یہ سعادت مجھے دوبارہ نصیب ہوتی ہے کہ نہیں۔ آپ کا لہجہ اس قدر عقیدت مندانہ تھا کہ حضرت ابراہیم سے انکار نہ ہو سکا اور آپ باغ میں بیٹھ گئے۔ پھر چند لمحوں بعد انگوروں سے بھرے ہوئے دو طباق لئے آپ حضرت ابراہیم کے سامنے رکھ دئیے اور خود دست بستہ کھڑے ہو گئے۔ اس نو عمری میں سعادت مندی اور عقیدت مندی کا بےمثال مظاہرہ دیکھ کر حضرت ابراہیم حیران تھے۔ انہوں نےچند انگور اٹھا کر کھا لیے۔ حضرت ابراہیم کے اس عمل سے آپ کے چہرے پر خوشی کا رنگ ابھر آیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم قندوزی نے فرمایا۔ معین الدین بیٹھ جائو ! آپ دوزانوں ہو کر بیٹھ گئے۔ فرزند! تم نے ایک فقیر کی خوب مہمان نوازی کی ہے۔ یہ سرسبز شاداب درخت، یہ لذیذ پھل، یہ ملکیت اور جائیداد سب کچھ فنا ہو جانے والا ہے۔ آج اگر یہاں بہار کا دور دورہ ہے تو کل یہاں خزاں بھی آئے گی۔ یہی گردش روز و شب ہے اور یہی نظام قدرت بھی۔ تیرا یہ باغ وقت کی تیز آندھیوں میں اجڑ جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ تجھے ایک اور باغ عطا فرمائےگا جس کےدرخت قیامت تک گرم ہوائوں سےمحفوظ رہیں گے ان درختوں میں لگے     پھلوں کا ذائقہ جو ایک بار چکھ لے گا پھر وہ دنیا کی کسی نعمت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔ حضرت ابراہیم قندوزی نے اپنے پیرھن میں ہاتھ ڈال کر جیب سے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر حضرت خواجہ کی طرف بڑھا دیا اور فرمایا "وہ تیری مہمان نوازی تھی یہ فقیر کی دعوت ہے۔" یہ کہہ کر خشک روٹی کا وہ ٹکڑا حضرت معین الدین چشتی کے منہ میں ڈال دیا۔ پھر باغ سے نکل کر اپنی منزل کی جانب تیزی سے چل دیئے۔ حضرت ابراہیم کی دی ہوئی روٹی کا ٹکڑا اس قدر سخت اور خشک تھا کہ اس کا چبانا دشوار تھا۔ مگر آپ نے ایک بزرگ کا تحفہ سمجھ کر وہ روٹی کا ٹکڑا کھا لیا۔ اس ٹکڑے کا حلق سے نیچے اترنا ہی تھا کہ حضرت معین الدین چشتی کی دنیا ہی بدل گئی۔ آپ کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے کائنات کی ہر شے فضول ہے۔ دوسرے ہی دن آپ نے اپنی چکی اور باغ فروخت کر دیا اور اس سےحاصل ہونے والی رقم غریبوں اور محتاجوں میں بانٹ دی۔ عزیز و اقارب آپ کی اس حرکت کو دماغی خلل قرار دے رہے تھے لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ذہن و دل کے کس گوشے سے روشنی کی وہ لکیر پھوٹ رہی ہے جس نے دنیا کے تمام اجالوں کو دھندلا کر کے رکھ دیا ہے۔   (گلدستہءاولیاء)
ایک موقع پر حضرت سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
میں سالہا سال تک بارگاہ خداوندی میں طلب گار کی حیثیت سے کھڑا رہا لیکن مجھے حیرت و ہیت کے سوا کچھ نہ ملا پھر جب اللہ عزوجل نے کرم فرمایا اور اپنی قربت بخشی تو کوئی دشواری نہ رہی۔ دنیا والوں کو میں نے دنیا میں مشغول دیکھا ۔ اور آخرت والوں کو ہر حال میں شرمندہ پایا۔ عاشق وہ ہے کہ اگر صبح کی نماز ادا کرے تو دوسری صبح تک خیال دوست میں ڈوبا رہے۔ دل محبت کا آتش کدہ ہے کہ جو چیز اس طرف آئے گی جل کر خاک ہو جائے گی۔ محبت کی آگ سے بڑھ کر کوئی آگ نہیں ۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ بہت بلند پایہ کے ولئ کامل تھے، آپ نے ہندوستان میں اسلام کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، آپ حضرت عثمان ہارونیؒ سے بیعت تھے، آپ۱۱۶۱ء میں حضرت علی بن عثمانؒ داتا گنج بخش کی مزارِ اقدس پر تشریف لانے کے بعد پہلی فرصت میں چلہ کشی فرمائی اور روحانی فیض حاصل کئے، بعد ازاں آپ نے حضرتا میراں حسین زنجانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزاق مقدس پر بھی چلہ کشی فرمائی، مختلف شہروں کا مشاہدہ کرتے ہوئے آپ نے ۱۲۰۶ء اجمیر کو رونق بحشنے کا مصمم ارادہ کرلیا، اجمیر اس وقت راجہ پرتھوی راج کا دار الحکومت تھا اور ایک طرح سے تمام ہندوستان کے ہندوؤں کا مرکز تھا اور اسی وجہ سے یہاں عام طور پر اسلام کی تبلیغ کو مشکل کام جاتا تھا۔

آپ نے شدید مزاحمت کے باوجودتبلیغ دین کا کام جاری رکھا اور کچھ ہی سالوں میں لوگ جو ق در جوق مسلمان ہوگئے، آپ کےمریدین بھی بڑے بلند پایہ اولیاء تھے، جن میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں، حضرت معین الدین چشتیؒ نے سماع کو رواج دیا جس نے بعد میں قوالی کی شکل اختیار کرلی۔
آپ کے لازوال و بے مثال ملفوظات دیکھئے
(1)         نماز مومن کی معراج ہے، قرب الٰہی کے لئے نماز ہی ذریعہ ہے۔
(2)سن لو کہ کوئی گناہ اس قدر نقصان نہیں پہنچاتا جتنا کسی مسلمان کو ذلیل اور بے عزت کرنا پہنچاتا ہے۔
(3)        عذاب جنہم سے بچنا چاہتے ہو تو بے بسوں کی مدد کرو، مجبوروں اور لا چاروں کی حاجت روائی کرو اور بھوکوں کو کھانا کھلاؤ۔
(4)          درویش و ہے کہ کسی کو محروم نہ کرے۔
(5)         لوگوں سے مدد کی امید نہ رکھنا اور حرف شکایت زبان پر نہ لانا ہی توکل ہے۔
(6)         محبت کی علامت یہ ہے کہ اطاعت کے ساتھ ہی محبوب (اللہ) کی ناراضگی سے ڈرتے رہو۔
(7)         صادق وہ ہے جو کسی چیز کا بھی مالک نہ ہو اور دنیوی معاملات میں داخل نہ دیتا ہو۔
(8)                 بلند آواز میں قہقہ لگانا اچھی بات نہیں کہی جاسکتا۔
(9)                قبرستان میں ہنسی مذاق نہیں بلکہ عبرت حاصل کرنے کے لئے جاؤ۔
(10)               اللہ کے عارفین سورج کی طرح پوری دنیا کو معرفت کی روشنی سے چمکاتے ہیں۔
(11)               اے دنیا والو اللہ کے سواء کسی اور کو لائقِ عبادت مت سمجھو۔
(12)                 جو دونوں جہانوں سے اپنی توجہ ہٹالے وہی عارف ہے۔
(13)               عارف کا کم تر درجہ یہ ہے کہ وہ صفاتِ الٰہی کا مظہر ہے۔
(14)               اللہ کا عاشق وہ ہے جو ابتدائے عشق میں ہی فناء ہوجائے۔
(15)قرب حق حاصل کرنے کے لئے دریا جیسی سعادت، آفتاب جیسی شفقت اور زمین جیسی تواضع کی ضروری ہے۔
(16)عارف وہ ہے جو موت کو عزیز رکھے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ اور کسی چیز سے تعلق نہ رکھے۔
(17)                               جھوٹوں کے گھروں سے برکات اٹھالی جاتی ہیں۔
(18)  عاشقِ حق وہ ہے جو نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد اگلی نمازِ فجر تک یادِ حق میں محو رہے۔
(19)                    عارف وہ ہے جو دونوں جہانوں سے بیزار ہو۔
(20)               دل تو محبت کا آتشکدہ ہے اس میں جو داخل ہوتا ہے جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔
(21)              اہل اللہ کا مقام بہت بلند ہے، یہ تو فرشتوں کو بھی حاصل نہیں۔
(22)               محنت اور حدمت سے ہی بلند درجہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
(23)               توبہ کی امید پر گناہ کرنے والا بدترین ہے۔
(24)               لوگوں سے اپنی پریشانیاں بیان کرتے پھرنا توکل نہیں۔
(25)     نفس کی زینت بھوکے کو کھانا کھلانا، حاتمند کی حاجت روائی کرنا اور مخالفوں سے حسنِ سلوک کرنے میں ہے۔