Showing posts with label Hazrat Syeduna Shah Niyaz Ahmad Alvi Barailwi Alaihir Rahmah. Show all posts
Showing posts with label Hazrat Syeduna Shah Niyaz Ahmad Alvi Barailwi Alaihir Rahmah. Show all posts

حضرت سیدنا شاہ نیاز احمد علوی بریلوی علیہ الرحمہ

 

آپ علیہ الرحمہ  کا اسم مبارک راز احمد المعروف نیاز احمد ہے۔ آپ علیہ الرحمہ  کو حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ بھی کہا جاتا ہے۔ بے نیاز صرف اللہ کی ذات ہے جب کہ نیاز کے معنی حاجت کے ہیں اور اس کا مادہ حوج ہے اور حوج کے معنیٰ محتاج ، نیاز مند کے ہیں۔آپ کے اس نام کے لفظی معنیٰ ہوئے محتاج اور نیاز مند خدائے بے نیاز کا۔

ولادت باسعادت: آپ علیہ الرحمہ  چھ (6) جمادی الثانی بعد نماز فجر جمعہ۱۱۵۵ ہجری نبوی بمقام سرہند میں پیدا ہوئے۔ آپ علیہ الرحمہ کا سلسلہ نسب علوی سید ہے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے بنی فاطمہ سید رضوی ہے۔آپ علیہ الرحمہ کے اجداد شاہان بخارا سے ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ کے اجداد میں حضرت شاہ آیت اللہ علوی ترک سلطنت کر کے ملتان تشریف لے آئے تھے اور اُن کے ایک پوتے حضرت شاہ عظمت اللہ علوی سرہند میں آکر آباد ہوگے پھر وہاں سے حضرت شاہ نیاز احمد علیہ الرحمہ کے والد ماجد حضرت شاہ محمد رحمت اللہ علوی  علیہ الرحمہ اپنے خاندان کے ساتھ دہلی تشریف لے آئے جہاں آپ علیہ الرحمہ قاضی القضاہ کے عہدے پر فائز رہے ۔آپ علیہ الرحمہ کے والد محترم کی سرہند سے وقتِ ہجرت حضرت شاہ نیاز احمد علیہ الرحمہ کی عمر مبارک چار سال کچھ ماہ تھی ۔ آپ کے والد محترم سلسلہ نقشبدیہ(قدیمہ) کے صاحب ارشاد بزرگ گزرے ہیں اور سلسلہ چشتیہ صابریہ کی خلافت بھی آپ علیہ الرحمہ کو حاصل ہوئی تھی۔ صاحب ارشاد وہ اولیاء کامل کہلاتے ہیں جو واصل بحق ہوتے ہیں اور حق تعا لیٰ ان کے وسلیے سے مخلوق پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور خلق کی حاجت روائی کرتا ہے یعنی یہ اللہ کی جناب میں مخلوق کے لیے وسلیہ ہوتے ہے۔ یہ حضرات انبیاء علیہ السلام کےحقیقی نائب ہوتے ہیں لوگوں کے قلبوں میں انوار و برکات ان کی وجہ سے آتے ہیں.

حضرت شاہ نیاز احمد کی والدہ محترمہ جو رابعہ العصر وعفیفہ دہر کہلائی تھی جنہیں بی بی غریب نواز کے لقب سے پکارا جاتا تھا، آپ علیہ الرحمہ حضرت مولانا سید سعید الدین رضوی کی صاحبزادی تھیں، جو سلسلہ چشتیہ میں حضرت شیخ کلیم اﷲ شاہ جہاں آبادی کے خلیفہ تھے۔ آپ علیہما الرحمہ فر ماتی ہیں کہ بعد ولادت آپ نے عالم رویا میں مشاہدہ کیا تھا کہ آپ کے اس فرزند کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور جناب سیدۃ النسا بی بی فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا نے اپنا بچہ فرما کر آغوش رحمت میں لے لیا تھا۔ آپ علیہ الرحمہ کی والدہ ماجدہ قادری سلسلہ میں حضرت شیخ محی الدین دیاسنامی قدس سرہ العزیز سے بیعت تھیں اور آپ کے شیخ نے آپ کی والدہ محترمہ سے دومرتبہ بیعت لی جس کی وجہ آپ کے شیخ نے بیان فرمائی تھی کہ تمہارے بطن سے ایک بزرگ صفت فرزند پیدا ہو گا اور اس وقت میں نہیں ہونگا ، لہذا میں اس کی روح کو بھی بیعت کرکے داخل سلسلہ قادریہ کررہا ہوں۔ آپ کی والدہ بچپن سے ہی آپ پر توجہ القائی فرمایا کرتی تھیں اور باطنی طور پر اپنے شیخ حضرت شیخ محی الدین دیا سنامی قدس سرہ العزیز کی روح پرقنوت کے وسیلے سے فیضان قادریہ سے مستفیض کرتی رہتی تھیں ۔

آپ کے خاندان کا یہ معمول رہا ہے کہ جب بچہ مدرسہ جانے کے قابل ہوجاتا ہے تو شیخ ِخاندان یا خاندان کا جوبھی بزرگ ہو وہ اس بچے کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیتاہے۔ جب حضرت نیازبے نیاز علیہ الرحمہ مدرسہ جانے کے قابل ہوئے تو خاندانی رواج کے مطابق آپ کے محترم نانا نے اپنا دست مبارک آپ کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا۔ آپ علیہ الرحمہ کے نانا حضرت مولانا سعید الدین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کو سلسلہ چشتہ میں حضرت کلیم اللہ جہان آبادی قدس سرہ العزیز سےخلافت حاصل تھی اور آپ کا شمار بھی اپنے دور کے جید کامل و صاحب ارشاد بزرگوں میں ہوتا تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو دہلی میں ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم کے لیے حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ کے سپرد فرما دیا تھا جو خلیفہ و فرزند حضرت شاہ شاہاں نظام الدین اورنگ آبادی علیہ الرحمہ کے تھے اور وہ اُن دِنوں اپنے والد گرامی کے حکم کے موجب اپنے پیر بھائی حضرت سعید الدین رضوی علیہ الرحمہ سے بطریق سلوک نعمتِ ہائے سلسلہ حاصل کرنے میں مشغول تھے۔ لہذا حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ آپ کے نانا حضرت سعید الدین رضوی  کا بہت احترام کرتے تھے اورسوئے ادب حضرت نیاز بے نیازعلیہ الرحمہ کو اپنے دست مبارک پر بیعت کرنے کی بجائے اپنا دامن پکڑا کا بیعت طالبی سے سرفراز فرمایا اور آپ کے نانا کے دست مبارک کووقت آغاز ِتعلیم پر آپ کےہاتھ پر رکھنے کو سلسلہ چشتیہ میں بیعت کرنے ہی سے تعبیر کیا اور اس کے بعد ظاہری و باطنی تعلیم دینا شروع کی۔ اس طرح گویا آپ کو سلسلہ چشتیہ میں بیعت کا شرف حضرت کلیم اللہ جہان آبادی علیہ الرحمہ  کے خلفاء یعنی حضرت سعید الدین رضوی علیہ الرحمہ  اور حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ  سے حاصل ہوا۔ حضرت مولانا فخر الدین فخر جہاں دہلوی علیہ الرحمہ  نےسوئے ادب آپ کے ناناحضرت سعید الدین رضوی علیہ الرحمہ  کبھی حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  کو اپنا مرید نہیں سمجھا اور نہ کبھی آپ کا نام لیا ہمیشہ آپ کو میاں کہتے تھے اور علم باطنی کےایسے اہم اسرار تعلیم فرماتے رہے کیونکہ آپ کا معاملہ خاص الخاص تھا۔ اس کے علاوہ تحصیل علوم ظاہری و باطنی کے لیے جیسی فراست اور ذکاوت و ذہانت حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  میں تھی مولانا فخر الدین علیہ الرحمہ  کے کسی شاگرد و خلیفہ یا مریدین میں نہیں تھی۔ آپ اپنی ذہانت و خداد صلاحیتوں کی بناء پر سترہ (۱۷) سال کی عمر میں فارغ تحصیل ہوگے۔ اس کے علاوہ آپ نے تمام فنون مروجہ مثلاً سپہ گری؛ خطاطی؛ موسیقی؛ طب و غیرہ میں مہارت کامل حاصل کی۔

علماء شہر آپ کی علمی قابلیت سے بےحد متاثر تھے۔ آپ کی رسم دستار بندی میں عمائدین شہر اور علماء الکرام کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔ حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ  نے آپ کو دستار فضیلت کے ساتھ ہی خرقہ خلافت بھی مرحمت فرمایا۔

بعد رسم ِدستار بندی آپ اپنے استاد محترم کے اس مدرسے فخریہ میں جہاں دورر دور سے لوگ آکراپنی علمی پیاس بجھاتے تھے اور جو اس دور میں کالج کا درجہ رکھتا تھا بحیثیت استاد شامل کرلیے گے اور آپ علیہ الرحمہ  بریلی ہجرت فرمانے تک اس مدرسے میں تدریس کے فرائض بحسن خوبی انجام دیتےرہے اور آپ اس مدرسے کے پرنسپل بھی مقرر ہوئے۔ دستار فضیلت و خرقہ خلافت کے اجماع سے آپ کی ذات گرامی سے علم باطنی و علم روحانی نوعیت کے چشمے ہائے فیض جاری ہوئے۔ ایک طرف علوم عقلی کے متلاشی معقولات ومنقولات کے جواہرات سے اپنے دامن کو پُر کرنے لگے تو دوسری طرف تشنہ گان ِ حقیقت اس بحرِ معرفت سے اپنی پیاس بجھانے لگے۔ حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  صحیح معنوں میں اپنے استاد و پیر و مرشد کے دست راز اور جانشین ثابت ہوئےاور ہر حیثیت سےآپ نے دہلی اور اطراف دہلی میں دور دور تک بہت جلد شہرت حاصل کرلی ۔ مدرسہ فخریہ میں آپ کی محنت و قابلیت کی تعریفین ہر شخص کی زبان پر تھیں۔ آپ کا شمار علوم منقول و معقول و فروع و اصول ، علم حدیث وتفسیر وفقہ کے جید استادوں میں ہونے لگا تھااور آپ کو ان علوم میں منتہیٰ و باکمال استاد ومحقق تسلیم کیا جاتا تھا۔ تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا شاہ فخرالدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ  کےتمام خلفاء آسمان ولایت کے شمس و قمر تھے لیکن حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  جیسی شخصیت کوئی دوسری نظر نہیں آئی تھی جو علوم ظاہر وباطن میں بیک وقت یگانہ اور رموز صوری و معنوی میں یکتائے زمانہ ہو۔

حضرت شاہ نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  عالمِ دہر اور صاحب ارشاد ولی کامل ہونے کے علاوہ چاروں زبان یعنی عربی ، فارسی ، اردو و ہندی کےایک عظیم المرتب اور قادر الکلام صوفی شاعر بھی تھے۔ اس زمانے میں دہلی میں مرزا جان جاناں مظہر صاحب علیہ الرحمہ  کی تصوفانہ شاعری کا بہت شہرہ تھا۔ دہلی میں ایک جگہ عرس تھا مولانا اور مرزا مظہر جانِ جاناں صاحب شریک تھے اس سے پہلے حضور قبلہ پر ایک حالت طاری ہوئی تھی اور آپ نے غزل کہی تھی اس وقت حضرت مولانانے فرمایا کہ اپنی غزل مرزا صاحب کو بہ نظر اصلاح سناؤ۔آپ نے غزل کا مطلع پڑھا

امشت آنست کہ زدحلقہ جہاں بردرِ ما

نیر نورِ خدا کرد طلوع از برِ ما

مرزا صاحب علیہ الرحمہ  یہ شعر سن کر وجد آگیا اور وجد میں سر زمین پر رکھ دیا اسی طرع پوری غزل پر یہ کیفیت رہی آخر میں فرمایا کہ میاں سبحان اللہ کیا کہنا آخر کس کے نواسے اور کس کے شاگرد ہو۔

آپ کا کلام کئی بار مختلف اشخاص اور اداروں کی جانب سے ہندوستان اور پاکستان میں طبع ہوچکا ہے اور آج بھی اہل ذوق آپ کے کلام سے استفادہ حاصل کرتے رہتےہیں۔

نقی علی خان خورجوی اپنی خود نوشت عمر رفتہ میں لکھتے ہیں

میرے چھوٹے بھائی شفیع محمد خان سب انسپکٹر ہو چکے تھے۔ ہمشیر کی شادی ہوگئی تھی۔ والد صاحب کا سنہ 1908 میں انتقال ہو چکا تھا۔ تنہائی کی وجہ سے کبھی والدہ صاحبہ میرے پاس آ جاتیں اور جب دل چاہتا خورجہ چلی جاتیں۔ میرے گانے بجانے کا شغل برابر جاری تھا۔

ایک روز مردانہ مکان میں جس میں نشست کا کمرہ سڑک کی جانب تھا ، اپنے شغل میں مصروف تھا۔ بھیرون دت سب انسپکٹر طبلہ اور میں باجا بجا رہا تھا۔ حکیم جی اور مبارک حسین۔

"رفتم اندر تہ خاک ، اُنسِ بتانم باقیست"

حضرت نیاز کی غزل قوالی کے طرز میں بڑے مزے میں گا رہا تھا۔ الاپ اور تان موقع موقع سے لے لیتا تھا۔ محمد حسین اور شمس الحق دو سب انسپکٹر اور بھی تھے۔ رات کے دس بجے تھے۔ سڑک سنسان تھی۔ یکایک میرے ہارمونیم پر بہت سے پیسے جن میں کچھ دونی چونی بھی تھیں ، کچھ ریوڑیاں اور پھول بکثرت آن کر گرے۔ گانا بند ہو گیا۔ محمد حسین اور شمس الحق جو دروازے کے قریب ہی بیٹھے تھے دوڑ کر باہر گئے۔ لیکن گلی میں کوئی نظر نہ آیا۔ سب کو اس واقعہ سے حیرت ہوئی۔

اس کے بعد پھر اس قسم کا واقعہ پیش نہ آیا۔

آپ کے مشہور کلام میں (یار کو ہم نے جا بجا دیکھا) اور ( ہم کودر در پھرایا یار نے) عابدہ پروین نے پیش کیا اور بہت سے لوگوں نے آپ کے کلام پیش کیے۔ آپ کے کلام کو پورے عالم میں قبولیت کا درجہ حاصل ہے اور کلام کی مقبولیت کا یہ حال ہے تمام ہندوستان اور پاکستان میں کوٸی قوال نہیں جو آپ کا کلام سے صوفیا کی محفل کو نہ گرماتا ہو۔ حضرت خواجہ غریب نوازکے عرس کے موقعہ پر حضور قبلہ شاہ نیاز احمدکی اس غزل پر جس کا مطلع ہے۔

خواجہ خواجگان معین الدین علیہ الرحمہ

فخر کون و مکان معین الدین علیہ الرحمہ

قل ہوتا ہے۔ حضرت محبوب الہی قدس سرہ کے عرس میں قل کی یہ غزل ہوتی ہے جس کا مطلع ہے

دلادستِ طلب بکشار بدر گاہِ شہنشا ہے

نظام الدین و الملت علیہ رحمت اللہ ہے

حضرت پیرانِ پیر غوث پاک قدس سرہ کی جہاں فاتحہ ہوتی ہے وہاں یہ غزل گائی جاتی ہے

بدہِ دستِ یقین اے دل بہ دست شاہ جیلانی رضی اللہ عنہ

کہ دستِ او بود اندر حقیقت دست یزدانی رضی اللہ عنہ

حضرت مولانا فخر الدین محمد دہلوی قدس سرہ کے عرس میں حضور قبلہ کی اس غزل پر ہوتا ہے جس کا مطلع ہے۔

مرید پیر مغانم دگر نمی دانم

خرابِ بادہ آنم دگر نمی دانم

خانقاہ نیازیہ میں اب بھی آپ کا ایسا کلام ہے جو غیر مطبوعہ ہے۔

آپ توحید وجودی کے قائل تھے اور شرابِ عشق حقیقی میں ہر وقت مستقرق وبے خود رہتے تھے۔آپ نے جو کچھ لکھا دل کی گہرائیوں میں ڈوب کر لکھا لہذا آپ کا پورا کلام آمد ہے اور اس میں آورد کا نشان تک نہیں ملتا ۔ فن شاعری میں مومن خان مومن اور غلام ہمدانی مصحفی کو بھی آپ کی شاگردی کا فخر حاصل ہوا ہے۔ غلام ہمدانی مصحفی جیسا مسلّم الثبوت استاد آپ کی شاگردگی پر فخر کرتا ہے اپنے تزکرہ”ریاض الفصحا“ کے صفحہ٢٣٩ پر حضرت قبلہ رضی اللہ عنہ  کے لیے یوں رقم طراز ہے ” مولوی نیازؔ احمد تخلص کہ بندہ درایام طالب علمی شانِ علم وجاہت ایشاں رادیدہ بلکہ میزان ہم از ایشاں درشاہجہان آباد خوندہ بود

حضرت شاہ نیاز بے نیاز علیہ الرحمہ  کو فن سپہ گری وشہسواری سے بھی خاص لگاٶ تھا کیونکہ اُس زمانے میں ملکی حالات اس امر کے متقاضی تھے کہ بچہ بچہ ہتھیار بند اور فن شہسواری میں طاق ہو۔ آپ وسیع المطالعہ تھے تعلیم و تربیت سے فرصت ملتی تو کتابوں کے مطالعے میں لگ جاتے تھے، اُس سے فرصت ملتی تو تصنیف و تالیف کا مشغلہ شروع ہو جاتے۔آپ کی تصانیف کی ایک طویل فہرست ہے۔آپ کو خوش نویسی میں بھی یدطولیٰ حاصل تھا اور آپ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے کئی کتب، وصلیں، خاندانی وطائف اور رسالے آج بھی موجود ہیں جن کا شمار خطاطی کے اعلیٰ نمونوں میں ہوتا ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے جس زمانے میں آپ کا دہلی میں قیام تھا آپ نے علم جفعر ونجوم کی تحصیل بھی فرمائی تھی۔

آپ اپنی دستاربندی کے بعد بھی تقریبا تیس سال کی عمر تک دہلی میں قیام پذیر رہے اس ہی اثنا میں آپ کی پہلے شادی عمدۃ ا لاولاد و جانشین غوث اعظم  علیہ الرحمہ  حضرت سید عبداللہ بغدادی قادری  علیہ الرحمہ  کی صاحبزادی سے انجام پائی جو شادی کے کچھ عرصے بعد ہی لاولد وفات پا گئیں تھیں ۔ آپ کوسلسلہ قادریہ میں بیعت کی سعادت اپنی پیدائش سے قبل عالم مثال میں ہی بتواسط اپنی والدہ محترم حضرت شیخ محی الدین دیاسنامی قدس سرہ العزیز سے حاصل ہوئی تھی مگر یہ بیعت ظاہری نہیں تھی۔ لہذا حضور غوث پاک نے آپ کو رویا میں حضرت سید عبداللہ بغدادی قادری  علیہ الرحمہ  جو کہ حضور غوث پاک علیہ الرحمہ  کے حکم پر بغداد سےدہلی تشریف لائے تھے کے دست مبارک پر قادری سلسلہ میں ظاہری بیعت کی سعادت حاصل کرنےکا فرمایا۔ حضرت سید عبداللہ بغدادی قادری  علیہ الرحمہ  نے آپ کو ہر قسم کی تعلیم وتلقین کے علاوہ اشغال واذکار قادریہ وعربی میں خلافت نامہ و اپنی دستار و دیگر تبرکات مع خرقہ شریف حضور غوث اعظم کے مرحمت فرمایا۔ مذکورہ تبرکات اور مجمع عام میں دستار مبارک اور خرقہ شریف کا حضور غوث اعظم کے حکم سے حضرت شاہ نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  کو عطا کیا جانا اور آپ کے خلافت نامے میں جانشینی کا ذکر موجود ہونا اس امر کی دلالت ہے کہ برصغیر میں حضور غوث پاک  علیہ الرحمہ  کے صحیح سجادہ نشین آپ ہی ہیں۔

حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی نے سلسلہ چشتیہ کے وسیع نظام ِ جو ملک گیر تھا چلانے اور بغرض تبلیغ و تربیت روحانی کے حضرت نیاز احمد بے نیاز  علیہ الرحمہ  کو اپنی مسند مبارک، تکیہ جن میں کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے، تسبیح و عصا مرحمت کیا اور اپنے سر مبارک سے دستار اُتار آپ کے سر مبارک پر رکھی اور انہیں اپنا سجادہ نشین کرکے بریلی میں مامور فرمایا۔ آپ کی یہ جانشینی درحقیقت سلطان الہند حضرت معین الدین چشتی علیہ الرحمہ  کی جانشینی تھی کیونکہ حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ  سلطان الہند کے صحیح جانشین تھے۔ اس لیے آپ کو جانشین غوث و خواجہ بھی کہا جاتا ہے جب آپ کے شیخ نے آپ کو بانس بریلی میں مامور فرمایا تو آپ کے والد بزرگوار جو کہ دہلی میں قاضی القضات کے عہدے پر متمکن تھے شفقت پدری سے مجبور ہوکر اوراپنے منصب قضا سے مستعفی ہوکر اپنے اہل وعیال کے ساتھ بریلی تشریف لے آئے۔

حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  کو سلسلہ قادریہ اور چشتیہ (نظامیہ) کی صحیح و مستند جانشینی مع مسانید و تبرکات حاصل تھی ۔ آپ ان دوسلسلوں کے علاوہ دیگر سلاسل کے بھی صاحب ارشاد بزرگ ہیں ۔ آپ کو سلسلہ چشتیہ (صابریہ ) اور خاندان نقشبندیہ کا فیض اپنے والد گرامی حضرت شاہ محمد رحمت اللہ قدس سرہ سے حاصل ہوا۔ جب کہ سہروریہ کا فیض آپ کوبواسط حضرت مولانا فخر الدین دہلوی حاصل ہوا تھا۔ خاندان سہروردیہ حضرت شیخ ضیا الدین ابو النجیب عبدالقاہر سہروردی علیہ الرحمہ  سے شروع ہوتا ہے اور اس سلسلے میں آپ سے لیکر حضور غوث پاک  علیہ الرحمہ  تک اکیس واسطے ہیں۔حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  کے سلسلہ عالیہ میں قادریہ، چشتیہ ، سہروردیہ اور نقشبندیہ کا حسین امتزاج ہے تاہم آپ پر چشتیہ کا غلبہ تھا۔ آپ اپنے پیران عظام کی طرح مثالی اہل سماع تھے اور جملہ لوازم شریعت اور شرائط طریقت و معرفت کے ساتھ سماع سنتے تھے۔پانچ منفرد چشتی صُوفی درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ  خواجہ بختیار کاکی رضی اللہ عنہ  مہر ولی (دہلی) بابا فرید گنج شکر رضی اللہ عنہ  پاکپتن خواجہ نظام الدین اولیاء رضی اللہ عنہ  اور خواجہ نصیرالدین رضی اللہ عنہ  چراغ دہلوی ہیں۔ متوئسلین میں حضرت شاہ نیاز احمد رضی اللہ عنہ  نے خاص امتیاز پایا۔

برصغیر کے چار مشہور آستانوں سے قطب عالم مداراعظم حضرت شاہ نیازبے نیاز رضی اللہ عنہ  کے جانشین حاضرہ کو٬ سالانہ عرس کے موقہ پر خلعُت اور خاص تبرک صاحب مزار کی جانب سے اور ان کے حکم سے مقرر کیا ہوا عطا کیا جاتا ہے دیگر کسی آستانے کے جانشین کو یہ شرف حاصل نہیں کیا یہ سلسلہ نیازیہ کی عظمت اور بے مثالی کی دلیل نہیں۔ آپ نے بھی اپنے شیخ طریقت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بریلی سے یہ روحانی نظام چلایا اور مکہ معظمہ، ايران، عرب، بلخ، بخارا ، سمرقند ,قوقند، کابل، بدخشان، وزیرخیل، دیوغاب، کشمیر اور پکھلی میں اپنے خلفاء متعین فرمائے۔آپ کے خلفا میں کوئی تاج الاولیا ہوا تو کوئی سراج السالکین اور کوئی امام السالکین ہوا تو کوئی خوان علوم۔

مشہور مثل ہے موت العالم ۔ حضرت نیاز بے نیاز  بریلوی علیہ الرحمہ  نے اس عالم ناسوت سے جمعہ ۶ جمادی الثانی ۱۲۵۰ھ کو بعد نماز ظہر بعمر ۹۵ سال پردہ فرمایا۔ وصال سے قبل آپ پر محویت اور استغراق کا اس قدر علبہ تھا کہ دن رات میں کسی بھی وقت ہوش نہ رہتا تھا۔ باوجود اس کے خلفاء ومریدین کو یہ تاکید تھی کہ جس طرح ہو ہم سے نماز پڑھوالیا کرو۔ نماز کے وقت خدام ہوشیار کرتے بمشکل تمام اُس عالم سے اِس عالم ناسوت کی طرف نزول فرماتے تھے جب نماز ختم ہوتی تو دوبارہ استغراق و محویت کی کفیت طاری ہوجاتی۔ وقت وصال آپ نے اپنے صاحبزادے اور جانشین حضرت شاہ نظام الدین حسین  علیہ الرحمہ  کو اپنے سینے سے لگایا اور نعمت باطنی اور اسرار مخفیہ جو ودیعت تھے آپ کے سینے میں بطور القا کے تفویض فرمائے۔ اس فیضان سے آپ کے صاحبزادے اور جانشین حضرت شاہ نظام الدین حسین علیہ الرحمہ  بےہوش ہوگے اور اسی حالت میں حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  کی روح پُر قنوت قالب عنصری سے مفارقت کرکے اپنے مرکز اصلی کو پہنچا إنا لله وإنا إليه راجعون ۔

آ پ علیہ الرحمہ  کا مزار اقدس بانس بریلی میں زیارت گاہ خلق ہے۔ آپ کا سالانہ عرس ہرسال بریلی شریف میں یکم تا دہم جمادی الثانی نہایت تزک و احتشام سے اور ساتھ ہی برصغیر پاک و ہند کے بڑے بڑے شہروں میں منعقد ہوتا ہے۔ کراچی میں بھی متعدد مقامات پر آپ کا عرس 5 اور 6 جمادی الثانی کو منعقد ہوتا ہے۔