نام و نسب: نام ، یعقوب۔
کنیت : ابو یوسف۔
لقب: قاضی القضاۃ ۔
ولادت
باسعادت: ۱۱۳ ہجری / ۷۳۱ ء علوم و معا رف کے شہر کوفہ میں ہوئی ۔
تعلیم
و تربیت: ابتدائی تعلیم کے
بعد آپ نے فقہ کو پسند کیا ، پہلے حضرت عبد الرحمن بن ابی یعلی علیہ الرحمہ کی
شاگردی اختیار کی ،پھر حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حلقہ ٔ درس میں آئے
اور مستقل طور پر انہیں سے وابستہ ہو گئے ۔والدین نہایت غریب تھے جو آپکی
تعلیم کو جاری نہیں رکھنا چاہتے تھے، جب حضرت امام اعظم کو حالات کا علم ہوا
توانہوں نے نہ صرف آپ کے تعلیمی مصارف بلکہ تمام گھر والوں کے اخراجات کی کفالت
اپنے ذمہ لے لی۔ حضرت امام ابو یوسف فرمایا کر تے تھے، مجھے امام اعظم سے اپنی
ضروریات بیان کرنے کی کبھی حاجت نہیں ہوئی ۔ وقتا فو قتا خود ہی اتنا روپیہ بھیجتے
رہتے تھے کہ میں فکر معاش سے بالکل آزاد ہو گیا ۔
قوت
حافظہ اور علم و فضل :۔آپ
ذہانت کے بحر ذخار تھے، آپکی ذہانت و فطانت بڑے بڑے فضلائے روزگار کے دلوں میں
گھر کر گئی تھی ۔
حضرت
سیدنا ملا احمد جیون علیہ الرحمہ صاحب نو ر الانوار فرماتے ہیں :۔ قاضی القضاۃ حضرت
امام ابو یوسف علیہ الرحمہ کو بیس ہزار موضوع احادیث یا د تھیں ،پھر صحیح احادیث
کے بارے میں تجھے کیا گمان ہے ۔
حاظ
ابن عبد البر لکھتے ہیں :۔آپ علیہ الرحمہ محدثین کے پاس حاضر ہو تے تو ایک ایک جلسہ میں
پچاس پچاس اور ساٹھ ساٹھ حدیثیں سن کر یاد کر لیتے تھے۔
امام
یحیی ابن معین ، امام احمد بن حنبل، اور شیخ علی بن المدینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :۔امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے شاگردوں میں آپ کا ہم سر نہ تھا۔
طلیحہ
ابن محمد کہتے ہیں :۔وہ اپنے زمانہ کے سب سے بڑی فقیہ تھے، کوئی ان سے بڑھ کر نہ
تھا ۔
داؤد
بن رشد کا قول ہے:۔امام ابو حنیفہ نے صرف یہ ہی ایک شاگرد پیدا کیا ہو تا تو انکے
فخر کے لئے کا فی تھا۔
آپ
علیہ الرحمہ کو نہ صرف نقد حدیث پر عبور
حاصل تھا بلکہ تفسیر، مغازی، تاریخ عرب، نعت ، ادب، اور علم کلام وغیرہ علوم و
فنون میں بھی کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ یہ ہی وہ فطری ذہانت تھی جس نے چند سال میں
آپ کو سارے ہم عصروں میں ممتاز کر دیا تھا اور علماء وقت آپکے تبحر علمی اور
جلالت فقہی کے قائل تھے۔ خود امام اعظم آپ کی بڑے قدر و منزلت فرماتے اور فرمایا
کرتے تھے کہ میرے شاگردوں میں سب سے زیادہ جس نے علم حاصل کیا وہ ابو یوسف ہیں۔
قاضی
القضاۃ:۔۱۶۶ہجری /۷۸۳ء میں آپ جب بغداد تشریف لائے تو خلیفہ
محمد المہدیبن منصور نے آپ علیہ الرحمہ کو
بصرہ کا قاضی مقرر کر دیا ۔ہادی بن مہدی بن منصور کے زمانہ میں بھی آپ اسی عہدہ
پر فائز رہے ۔ جب ہارون الرشید نے۱۹۳ ھ /۸۰۸ء میں عنان حکومت سنبھالی تواس نے آپ
کو تمام سلطنت عباسیہ کا قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) مقرر کر دیا۔
مو
جودہ زمانے کے تصور کے مطابق یہ عہدہ محض عدالت عالیہ کے حاکم اعلی کا نہ تھا بلکہ
اس کے ساتھ وزیر قانون کے فرائض بھی اس میں شامل تھے۔ اور سلطنت کے تمام داخلی و
خارجی معاملات میں قانونی رہنمائی کرنا بھی آپ کا کام تھا۔ مملکت اسلامیہ میں یہ
پہلا موقع تھا کہ کہ یہ منصب قائم ہوا۔ اس سے پہلے کوئی شخص خلافت راشدہ، اموی یا
عباسی سلطنتوں میں اس عہدہ پر فائز نہ ہوا۔ بلکہ زمانہ مابعد میں بھی بجز قاضی
داؤد کے اور کسی کویہ عہدہ تفویض نہ ہوا۔
عبادت
و ریاضت:۔آپ عہدہ قضا اور
علمی مشاغل کے باوجود عبادت و ریاضت میں بھی بلند مقام رکھتے تھے، آپ خود فرمایا
کر تے تھے کہ میں امام اعظم کی خدمت میں انتیس سال رہا اور میری صبح کی نماز
با جماعت فوت نہیں ہوئی ۔
بشیر
بن ولید کا بیان ہے کہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ کے زہد و ورع اور عبادت و تقوی کا یہ عالم تھا
کہ زمانہ قضا ء و وزارت میں بھی دو سو رکعتیں نوافل ادا کر تے۔
تلامذہ:۔ آپ کے شا گردوں میں محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ ، شفیق بن ابراہیم بلخی علیہ الرحمہ ، امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ ،بشر بن الولید کندی علیہ الرحمہ ، محمد بن سماعہ علیہ الرحمہ ، معلی بن منصور علیہ الرحمہ ، بشر بن غیاث علیہ الرحمہ ، علی بن جعدہ علیہ الرحمہ ، یحیی بن معین علیہ الرحمہ ، احمد بن منیع علیہ الرحمہ ، امام اسد بن فرات علیہ
الرحمہ، امام وکیع بن جراح علیہ الرحمہ ، امام ابو حفص کبیر بخاری علیہ الرحمہ ،
وغیرہ محدثین کبار و فقہائے کرام آفتاب و ماہتاب کی طرح درخشاںو تاباں نظر آتے
ہیں۔
تصیف
و تالیف: حضرت امام ابو یوسف
علیہ الرحمہ اسلامی تاریخ کے ان مایہ ناز محدثین اور فقہاء میں سے ہیں جنہوں نے
علم کو صرف زبانی روایت تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے تحریری اور کتابی شکل میں
محفوظ کیا۔ آپ کو فقہ حنفی کا پہلا باقاعدہ مصنف تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ
امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے خود کتب بہت کم لکھیں، ان کی فقہ کو مدون کرنے
اور کتابی شکل دینے کا اصل کام امام ابو یوسف ہی نے شروع کیا۔آپ
علیہ الرحمہ کی تصنیفی و تالیفی خدمات کا دائرہ فقہ، حدیث، معیشت، اور بین
الاقوامی قوانین (سیر) تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ کی اہم ترین تصنیفات درج ذیل ہیں:
کتاب
الخراج: یہ آپ علیہ الرحمہ کی سب سے مشہور اور معرکتہ الآراء
تصنیف ہے۔ یہ کتاب عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی خصوصی درخواست اور سوالات کے
جواب میں لکھی گئی تھی۔ خلیفہ اسلامی سلطنت کے مالیاتی اور معاشی نظام کو شریعت کے
مطابق چلانا چاہتا تھا۔ یہ کتاب اسلامی نظامِ معیشت اور پبلک فائنانس (عوامی
مالیات) پر دنیا کی پہلی باقاعدہ دستاویز ہے۔ اس میں ٹیکس، زکوٰۃ، خراج،
زمینوں کی آباد کاری، زراعت، پانی کے مسائل، اور قیدیوں کے حقوق جیسے اہم معاشی و
ریاستی امور پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔
کتاب
الآثار: یہ علمِ حدیث
اور فقہ کے امتزاج کی ایک بہترین اور مستند کتاب ہے۔اس کتاب میں امام ابو یوسف علیہ
الرحمہ نے اپنے استاد امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے واسطے سے مرویات،
احادیثِ نبوی اور صحابہ و تابعین کے آثار و فتاویٰ کو جمع کیا ہے۔ یہ کتاب فقہ
حنفی کے دلائل کا بنیادی ماخذ سمجھی جاتی ہے۔
کتاب
اختلافِ ابن ابی لیلیٰ و ابی حنیفہ:کوفہ کے مشہور قاضی ابن ابی لیلیٰ علیہ الرحمہ اور حضرت سیدنا امام ابو حنیفہ علیہ
الرحمہ کے درمیان جن فقہی مسائل میں اختلاف تھا، امام ابو یوسف علیہ الرحمہ نے اس
کتاب میں ان کا موازنہ کیا ہے۔چونکہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ نے قاضی ابن ابی
لیلیٰ سے بھی علم حاصل کیا تھا، اس لیے انہوں نے دونوں ائمہ کے دلائل کو بڑی غیر
جانبداری کے ساتھ پیش کیا ہے اور آخر میں امام اعظم علیہ الرحمہ کے موقف کی تائید
کی ہے۔
کتاب
الرد علیٰ سیر الاوزاعی:یہ
کتاب بین الاقوامی قوانین اور جنگ و امن کے اسلامی اصولوں پر مبنی ہے۔شام کے عظیم
فقیہ امام اوزاعی علیہ الرحمہ نے امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے بعض ان نظریات سے
اختلاف کیا تھا جو جنگی قوانین اور غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں
تھے۔ امام ابو یوسف نے اس کتاب میں امام اوزاعی کے اعتراضات کا علمی اور مدلل جواب
دیا ہے۔
کتاب
الامالی :یہ امام ابو یوسف علیہ
الرحمہ کی وہ علمی مجالس ہیں جو انہوں نے اپنے شاگردوں کو املا (ڈکٹیٹ) کروائیں۔
ان میں مختلف پیچیدہ فقہی مسائل کے حل اور ان کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔
دیگر
تصنیفات: مورخین
اور تذکرہ نویسوں کے مطابق امام ابو یوسف نے دسیوں دیگر رسائل اور کتب بھی لکھیں
جو وقت کے ساتھ ناپید ہو گئیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
کتاب
الجوامع: فقہی اصولوں کا
مجموعہ۔
کتاب
الادب القاضی: قاضیوں اور
عدالت کے آداب و ضوابط پر مبنی کتاب۔
کتاب
الصلاۃ و کتاب الزکوٰۃ: عبادات کے احکام پر الگ الگ رسائل۔