حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری علیہ الرحمہ

اسم گرامی: سید علی

والد بزگوار :سید شاہ عثمان غزنی

کنیت: ابوالحسن۔

لقب: داتا گنج بخش، مخدوم الامم۔

سلسلہ نسب: آپ حسنی سادات میں سے ہیں آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے مولاۓ کاٸنات سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم سے مل جاتا ہے آپ کا سلسلہ نسب درج ذیل ہے :سید مخدوم علی بن سید  عثمان بن سید علی بن سید عبدالرحمن بن سید شجاع بن سید ابوالحسن علی بن سید حسین اصغر  بن سید زید  بن حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ  بن علی کرم اللہ وجہہ الکریم

تاریخ ولادت: حضور سیدنا داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کی تاریخ پیداٸیش کے متعلق کتب سیر یکسر خاموش ہیں  مؤلفین و مؤرخین نے ظن و تخمین سے 400ہجری /401ہجری لکھا ہے۔ اس کو یقینی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ (مقدمہ کشف المحجوب:11)

مقام ولادت: حضرت کا وطن اصلی افغانستان کا شہر غزنی ہے۔ "جلابی، ہجویری" اسلئے کہلاتے ہیں کہ یہ دونوں محلے "غزنی" کے ہیں۔ آپ کے والدین کی قبریں غزنی میں ہیں داتا صاحب علیہ الرحمہ خود اپنی تصنيف کشف الاسرار میں تحریر فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد بزرگوار سے سنا کہ میری پیدائش محلہ ہجویر میں ہوئی۔  پھر اس جگہ کے متعلق رقم کرتے ہیں مولی تعالی اس سرزمين کو حادثات اور دیگر آفات سے محفوظ رکھے اور اسے بادشاہوں کے مظالم سے محفوظ رکھے ۔

تحصیل علم: حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ علوم ظاہری و باطنی کے بحر ذخار تھے۔ آپ نے صرف "خراسان میں تین سو علماء و مشائخ سے استفادہ کیا،حضرت شیخ ابوالقاسم گرگانی علیہ الرحمہ ،حضرت شیخ ابوالقاسم قشیری علیہ الرحمہ اور ان کے علاوہ حضرت خضر علیہ السلام سے بھی خوب استفادہ کیا۔

حضرت سیدنا خواجہ خضر علیہ السلام   سے  اکتساب فیض: حضرت سیدنا علی خواص علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حضرت سیدنا خواجہ خضر علیہ السلام   سے ملاقات کی تین شرطیں ہیں : (1)وہ سنّت  کا عامل ہو ۔ (2)دنیا پر  لالچی نہ ہو، (3)مسلمانوں کےلیے اس کا سینہ بالکل صاف ہو،نہ تو اس کے دل میں کینہ ہو نہ  ہی حسد اورنہ ہی وہ کسی پرتکبر کرتا ہو ۔

آپ علیہ الرحمہ  کی ذات مبارکہ میں  یہ تینوں شرائط موجود   تھیں ،آپ  عامل سنت ،لالچ  دنیا سے بہت دور اور مسلمانوں کے خیرخوا ہ تھے،  اسی لیے آپ  نے  حضرت سیدنا خواجہ خضر علیہ السلام   سے  نہ صر ف  ملاقات فرمائی بلکہ آپ انہی  کی صحبت میں رہ کر ظاہر ی و باطنی علوم حاصل فرمائے اور  آپ کی   حضرت سیدنا خواجہ خضر علیہ السلام   سے بہت ہی گہری دوستی تھی ۔

بیعت و خلافت: آپ علیہ الرحمہ  ظاہری علوم و فنون سے فراغت کے بعد باطنی علوم کی جانب متوجہ ہوۓ اور بے شمار اولیائے کاملین سے مستفض و مستنیر ہوئے اس وقت ملک شام کی سرزمین پر قدوة السالکین شیخ کامل حضرت ابو الفضل محمد  بن حسن ختلی علیہ الرحمہ کا سکہ چل رہا تھا داتا صاحب نے شیخ کامل کے عادات و اطوار اور پیر کے کل شرائط کے ساتھ ساتھ ان کے  اخلاق و کردار سے متاثرہ ہو کر  آپ سلسلہ عالیہ جنیدیہ میں حضرت شیخ ابوالفضل محمد بن حسن الختلی علیہ الرحمہ کے دست پر بیعت ہو گئے۔ آپ علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں اس وقت سب سے مشہور سلسلہ عالیہ جنیدیہ تھا پھر آپ نے شیخ محترم کی خدمت میں رہ کر سلوک کی تمام تر منازل کو طے کرنے کے بعد خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے۔

آپ کا شجرۂ طریقت: آپ علیہ الرحمہ  شجرۂ طریقت  دس واسطوں سے امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ تک پہنچتا ہے ۔

حکم پیرو مرشد:حضرت سید علی ہجویری علیہ الرحمہ  کی زندگی کا بیشتر حصہ سفر میں گزرا ہے ۔ انہیں جہاں بھی کسی صاحب علم و دانش کا پتا چلا آپ دشوار گزار راستوں کو عبورکرکے وہاں پہنچ گئے۔ قدرت نے انہیں جس اعلیٰ روحانی تجربے سے آشنا کرنا تھا اس کی جزئیات سے آگاہی کے لیے حضرت داتا صاحب  ایک طویل عرصہ تک آزمائش و ابتلا سے گزرے ۔ آپ نے اپنے عہد کے نظریات و تصورات کا عمیق مطالعہ کیا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے علمی اور روحانی سفر کو جاری رکھا ۔

ایک طویل سفر کے بعد آپ واپس اپنے مرشد کی خدمت میں دمشق آپہنچے۔ اس وقت شیخ ابو الفضل محمد بن الحسن ختلی علیہ الرحمہ  بیت الجن دمشق میں مقیم تھے۔

ایک روز اچانک مرشد نے اپنے ہونہار شاگرد علی ہجویری سے ارشاد فرمایا :

‘‘ عزیزم ! سرزمین لاہور کی جانب کوچ کر جاؤ ۔ ’’

‘‘حضور ! وہاں تو پہلے سے حسین زنجانی علیہ الرحمہ  شمع ہدایت روشن کیے بیٹھے ہیں۔ مجھ ناچیز کی کیا ضرورت آن پڑی؟’’

حضرت  سید علی ہجویری علیہ الرحمہ  نے بصد احترام سوال کیا۔

‘‘عزیز م ! یہ لیت و لعل کا موقع نہیں…. رخت سفر باندھو اور کوچ کر جاؤ۔ ’’مرشدنے متبسم لہجے میں فرمایا۔ مرشد کے حکم کی بجا آوری ہر مرید کا فرض ہے۔ سلوک میں سر تسلیم خم کرنے ہی سے سربلندی نصیب ہوتی ہے۔ تو پھر اس تناظر میں علی ہجویری علیہ الرحمہ  نے سوال کیوں کیا ….؟

کیا واقعی لیت و لعل سے کام لیا جارہا تھا یا حقیقت کچھ اور تھی۔ علی ہجویری کی طبیعت میں جستجو اور دل میں اجتہاد تھا ۔ چنانچہ تجسس کو دور کرکے اطمینان قلب کے ساتھ اطاعت  مرشد میں سفر کو روانہ ہوگئی۔

دمشق سے لاہور تک:دمشق سے غزنی اور غزنی سے لاہور تک کا یہ سفر بڑا طویل اور تھکادینے والا تھا جو راہ  عشق کے مسافر نے اپنے دو ساتھیوں کی ہمرا ہی میں طے کیا تھا۔ علی ہجویری کے ہمراہ ان کے دو ساتھی سید احمد حمادی سرخسی علیہ الرحمہ  اور شیخ ابو سعید ہجویری علیہ الرحمہ  تھے ۔ یہ لمبا سفر اطاعت  مرشد کی خاطر کیا گیا تھا، لہٰذا داتا صاحب نے ہر صعوبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا تھا ۔ لیکن دوران سفر ایک الجھن سی ضرور تھی جس نے علی ہجویری علیہ الرحمہ  کو مضطرب کیے رکھا تھا۔ اس دیار  غیر لاہور میں اس کا پیر بھائی پہلے ہی رشد و ہدایت کی شمع فروزاں کیے بیٹھا تھا ، آخر انہیں لاہور جانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے۔

جس دن لاہور پہنچے رات ہو گئی تھی۔ شہر کے دروازے بندے ہو گئے تھے ۔لہٰذا فصیل  شہر کے باہر رات گذاری۔ صبح اٹھے تو مرشد کے حکم  سفر میں پوشیدہ حکمت آشکار ہوئی۔ دیکھا کہ چند افراد، بصد احترام ایک جنازہ لیے شہر کے مشرقی حصے سے باہر آرہے تھے۔ انہوں نے تجسس سے دریافت کیا کہ یہ کس ہستی کا سفر  آخرت ہے؟

ایک شخص نے تاسف بھرے لہجے میں جواب دیا ‘‘یہ جنازہ ولیٰ قطب  وقت سی میراں حسین زنجانی علیہ الرحمہ  کا ہے۔ ’’

تینوں مسافر تو بس دھک سے دم بخود ہوکررہ گئے۔بے اختیار آپ کی زبان مبارک سے نکلا کہ ‘‘اللہ شیخ کو جزائے خیر دے ،وہ واقعی روشن ضمیرتھے۔’’

چشم تصور میں مرشد سے ملاقات، سر زمین لاہور کی جانب حکم سفر، ساری باتیں سمجھ میں آتی چلی گئیں۔

جب جنازے کے شرکاء کو پتا چلا کہ آپ حضرت شیخ حسین زنجانی علیہ الرحمہ  کے پیر بھائی ہیں تو انہوں نے جنازہ پڑھانے کا اصرار کیا اوریوں آپ نے پہلے جنازہ پڑھایا اور پھر تدفین کے عمل سے فارغ ہوکرشہر کی جانبروانہ ہوئے۔

لاہور اولیاء اللہ کی سرزمین ہے۔ اس خطہ پر نور میں کئی جلیل القدر ہستیاں محو خواب ہیں۔ ان واقف حال صاحب کمال بابرکت ہستیوں میں ایک ایسا روشن چراغ کہ جس کی روشنی نے اک عالم کو خیرا کیا ہوا ہے وہ داتا گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا کی ہستی ہے۔ یوں تو لاہور ایک ہزار سال سے زائد عرصہ سے اولیاءکرام اور صوفیاءکا مسکن رہا ہے اس شہر میں میاں میر اور شاہ حسین جیسی بابرکت ہستیاں مدفون ہیں۔ لیکن جو عزت اور تکریم حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش علیہ الرحمہ  کے حصہ میں آئی کسی کے حصہ میں نہ آئی۔ شہر لاہور کو حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ  ، علی ہجویری علیہ الرحمہ  کی نسبت سے داتا کی نگری کہا جاتا ہے۔داتا گنج بخش علیہ الرحمہ  کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ  ،بابا فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ  سمیت بڑی بڑی ہستیاں آپ کے مزار پر حاضری دیا کرتی تھیں۔ داتا گنج بخش کی لاہور آمد کا سن 410ہجری بمطابق 1025عیسوی ہے۔ آپ نے اپنی عمر کی 52 برس لاہور اسلام کی اشاعت کا کام کیا۔ آپ کے ہاتھوں بیشمار لوگ مسلمان ہوئے۔

رائے راجو جادوگر کا قبول اسلام :آپ علیہ الرحمہ  جب لاہور تشریف لائے۔رائے راجو ایک بہت بڑا ہندو جادوگر تھا لوگ اسے اپنے جانوروں کا دودھ دیا کرتے تھے اور اگر کوئی اسے دودھ کا نذرانہ نہ دیتا تو وہ اس کے جانوروں پر ایسا جادو کرتا کہ جانوروں کے تھنوں سے دودھ کے بجائے خون نکلنے لگتا۔

ایک دن ایک بوڑھی عورت رائے راجو کے پاس دودھ کا مٹکا سر پر رکھ کر لے جا رہی تھی کہ حضرت سیدنا داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ  نے اسے بلا کر فرمایا کہ یہ دودھ مجھے دے دو اور جو اس کی قیمت بنتی ہے وہ لے لو۔

اس بوڑھی عورت نے کہا کہ میں یہ دودھ تم کو نہیں دے سکتی ہمیں بہر صورت یہ دودھ رائے راجو کو دینا ہی پڑتا ہے ورنہ ہمارے جانوروں کے تھنوں سے دودھ کے بجائے خون آنے لگتا ہے۔

اس پر حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ  نے مسکرا کر فرمایا :

اگر تم یہ دودھ مجھے دے دو تو تمہارے جانوروں کا دودھ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جائےگا۔یہ سنتے ہی اس عورت نے آپ کو دودھ پیش کر دیا۔

 جب وہ اپنے گھر گئی تو یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس کے جانوروں میں اس قدر دودھ تھا کہ گھر کے تمام برتن بھرجانے کے بعد بھی تھنوں سے دودھ ختم نہیں ہو رہا تھا کچھ ہی دیر میں یہ خبر پورے شہر بھر میں پھیل گئےجب آپ  کی یہ زندہ کرامت لوگوں میں عام ہوئی تو گرد و نواح سے لوگ دودھ کا نذرانہ لے کر آپ  کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔

ایک طرف تو لوگوں کی عقیدت کا یہ حال تھا اور دوسری طرف رائے راجویہ ماجرا دیکھ کر آگ بگولا ہو رہا تھا۔ آخر کارآپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور انہیں مقابلے کیلئے للکارتے ہوئے کہنے لگا کہ اگر آپ کے پاس کوئی کمال ہے تو دکھائیں ۔

آپ  نے فرمایا میں کوئی جادوگر نہیں، میں تو اللہ تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ ہوں، ہاں!

اگر تمہارے پاس کوئی کمال ہے تو تم دکھاؤ۔

یہ سنتے ہی وہ اپنے جادو کے زور پر ہوا میں اڑنے لگا۔

آپ یہ دیکھ کر مسکرائے اور اپنے جوتے ہوا میں اچھال دیئے، جوتے رائے راجو کے   سر پر پڑنے لگے اور اتنے پڑے کہ وہ زمیں پر گر پڑا ۔

راجو نے جب آپ کی یہ کرامت دیکھی تو فورا قدموں میں گر پڑا معافی مانگی  دائرۂ اسلام میں داخل ہوگیا ۔

آپ علیہ الرحمہ  نے اس کا نام احمد رکھا اور شیخ ہندی کا خطاب عطا فرمایا ۔شیخ ہندی ہی کی اولاد و امجاد  اس وقت سے آج تک خانقاہ کی خدمت کے فرائض انجام دیتی چلی آرہی ہے۔

سمت مسجدالحرام سے متعلق کرامت :آپ علیہ الرحمہ  نے لاہور تشریف لاتے ہی اپنی قیام گاہ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کرائی ،اس مسجد کی محراب دیگر مساجد کی بہ نسبت جنوب کی طرف کچھ زیادہ مائل تھی ،لہٰذامرکزالاولیا لاہور میں رہنے والے اس وقت کے علماء کو اس مسجد کی سمت کے معاملے میں تشویش لاحق ہوئی چنانچہ ایک روز آپ علیہ الرحمہ  نے تمام علماء کو اس مسجد میں جمع کیا اور خود امامت کے فرائض انجام دیئے،نماز کی ادائیگی کے بعد حاضرین سے فرمایا:’’ دیکھئے کہ کعبہ شریف کس سمت میں ہے؟‘‘

یہ کہنا تھا کہ مسجد و کعبہ شریف کے درمیان جتنے حجابات تھے سب کے سب اٹھ گئے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کعبہ شریف محراب مسجد کے عین سامنے نظر آرہا ہے ۔

آپ علیہ الرحمہ  کے فیضان کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جاسکتا ہےکہ معین الاسلام حضرت سیدنا خواجہ غریب نوازمعین الدین سیدحسن چشتی سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بھی ایک عرصے تک آپ کے دربار پر مقیم رہے اور منبع فیض سے گوہر مراد حاصل کرتے رہے اور جب دربار سے رخصت ہونے لگے تو اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں فرمایا ۔

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا

 ناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنما

 سیرت مبارکہ:  یہ درست ہے کہ سلطان محمود کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی یہاں، مسلمان ایک "حاکم قوم" کی حیثیت سے رہنے لگے تھے اور یہاں کے کفار مسلم عوام سے بظاہر مرعوب ضرور تھے، لیکن ان کے قلوب مسلمان فاتحین کے ساتھ نہیں تھے، اور وہ ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ مگر یہاں تشریف لانے والے صوفیائے کرام بالخصوص آپ علیہ الرحمہ  کے درود مسعود کے بعد یہاں کی مقامی آبادی میں سے لا تعداد لوگ ان کی تبلیغ کے سبب حلقہ بگوش اسلام ہو گئے چنانچہ یہاں کے باشندوں میں سے ایک کثیر گروہ کی دلی ہمدردیاں مسلم فاتحین کے ساتھ ہو گئیں۔ نظریہ و طنیت، خاک میں مل گیا اور دو قومی نظریۂ کی بنیادیں رکھ دی گئیں، اور بعد میں آنے والے صوفیہ کرام کی مساعی جمیلہ سے اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا جس سے مسلمانوں کی حکومت استحکام پکڑتی گئی۔ فاتحین نے کفار کو تیر و سنان سے زیر کیا تو نائبین مصطفیٰﷺ نے انہیں تیر نظر سے خدا ئے واحد کا مطیع و منقاد بنایا۔

ہندوستان کے قطب الارشاد:حضرت شیخ مجدد الف ثانی سرہندی علیہ الرحمہ  نے لاہور کو جو قطب ارشاد کا درجہ دیا ہے، اصل میں یہ اسی قطب الاقطاب (علی ہجویری) کو خراج تحسین ادا کیا ہے۔ حضرت شیخ مجدد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فقیر کے نزدیک یہ شہر لاہور تمام ہندوستان کے شہروں میں قطب ارشاد کی طرح ہے، اس شہر کی خیر و برکت تمام بلاد ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔

آپ علیہ الرحمہ  کے ارشادات عالیہ:

دس چیزیں، دس چیزوں کو کھاجاتی ہیں؛ توبہ گناہ کو، جھوٹ رزق کو، غیبت عمل کو، غم عمر کو، صدقہ بلا کو، غصہ عقل کو، پشیمانی سخاوت کو، تکبر علم کو ، نیکی بدی کو اورعدل ظلم کو۔

غافل امراء، کاہل فقراء اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز بھی عبادت میں شامل ہے۔

عارف کامل کے لیے عالم ہونا ضروری ہے اور ہر عالم عارف نہیں ہوتا۔

جب فقیر کو بادشاہ کا قرب حاصل ہوجاتا ہے تو اس کا سامان سفر اور توشہ آخرت برباد ہوجاتا ہے۔

نفس کی مثال شیطان کی ہے اور اس کی مخالفت عبادت کا کمال ہے۔

کامل صوفی وہ ہے جس کی گفتار و کردار میں فرق نہ ہو اور جو اخلاق کی تہذیب کا کام کرے۔

کامل صوفی وہ ہے جس کے ایک ہاتھ میں قرآن کریم اور دوسرے میں سنت رسول اللہﷺ ہو۔

اولیاء اللہ رب تعالیٰ کے ملک کے والی اور منتظم ہیں۔

جس کام میں نفسانی غرض آجائے، اس سے برکت اٹھ جاتی ہے۔

جو چیز بندے کو رب تعالیٰ سے دور کردے وہ عزت نہیں بدترین قسم کی ذلت ہے۔

وصال پر ملال:آپ علیہ الرحمہ  کاوصال پرملال اکثر تذکرہ نگاروں کے نزدیک ۲۰صفرالمظفر ۴٦۵ ہجری کوہوا۔ آپ  کامزار ‘‘داتا دربار’’لاہور میں شہر قدیم کی فصیل میں جنوبی جانب واقع بھاٹی گیٹ کی بیرونی جانب سرکلر روڈ سے پرے واقع ہے مرجع خلائق ہے۔ ( متفرق کتب سے ماخوذ/از قلم : کریم پاشاہ سہروردی قادری   حفظہ اللہ)


حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ

حضرت سلطان  صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ  

پیدائشی نام : الناصر ابو المظفر صلاح الدين والدنيا يوسف بن ايوب بن شاذی بن مروان بن يعقوب الدوينی التكريتی

پیدائش: 569 ہجری بمطابق 1138 عیسوی

والدماجد: نجم الدین ایوب

والدہ ماجدہ: ست الملک خاتون

بھائی:توران شاہ بن ایوب، ملک عادل، سیف الاسلام طغتکین

بہن: ربیعہ خاتون، ، فاطمہ خاتون

خاندان:ایوبی سلطنت

زوجہ:عصمت الدین خاتون

اولادیں:الافضل بن صلاح الدین، العزیز عثمان، الظاہر غازی

تعلیم و تربیت : حضرت صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ  تکریت کے ایک قلعہ میں پیدا ہوئے تھے، گو کہ ان کی تربیت مکمل فوجی ماحول میں ہوئی لیکن ان کی ہمیشہ کی ایک ہی خواہش تھی کہ وہ ایک عالم بنیں اور ہوتی بھی کیوں نہ کہ اس زمانے کے سب سے بہترین انسان نورالدین زنگی نے ان کی تربیت خود کی تھی۔آپ نے کم عمری ہی میں قرآن کریم حفظ کر لیا تھا اور آپ خود اہلسنت و جماعت اورشافعی صوفی تھے۔

تاریخ اسلام میں ہے کہ "شیرکو ہ اور صلاح الدین دونوں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے ۔ صلاح الدین ایوبی نے شیعہ قاضیوں کو موقوف کرکے شافعی قضاۃ مامور کیا ۔ مدرسہ شافعیہ اور مدرسہ مالکیہ کی بنیاد رکھی ۔" (تاریخ اسلام جلد دوم صفحہ 722)

فیضان غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ : ایک بار حضرت نجم الدین ایوب بغداد معلیٰ حاضر ہوکر اپنے دس سالہ بیٹے حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ عنہ کی خدمت بابرکت میں پیش کردیا اور عرض کی کہ یا سیدی یا مرشدی ! اس بچے کے سرپر اپنا نورانی ہاتھ رکھ دیں اور اس کے لئے دعا فرمادیں کہ یہ اسلام کا عظیم مجاہد اور فاتح بنے ۔ چنا نچہ حضور غوث الاعظم نے اس بچے کے سر پر دست مبارک پھیرا اور دعا فرمائی اور پھر ارشاد فرمایا کہ " یہ بچہ تاریخ عالم کی ایک عظیم نامورشخصیت ہوگااور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے بہت بڑی اسلام کی فتح کرائے گا۔" (حیات المعظم فی مناقب سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ صفحہ 152- 154 ) و (اسلامی معلومات کا انسائیکلوپیڈیا صفحہ 443)

چنانچہ پھر دنیا نے دیکھا کہ حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی جو سلطان نورالدین زنگی کی افواج میں ترقی پاکر جرنیل بنے اور پھر صلیبی جنگوں کے دوران سلطان نورالدین کی اچانک وفات کے بعد سلطان بنائے گئے اور پھر سلطان بن جا نے کے بعد حضرت سلطان صلاح الدین ایو بی نے عظیم کارنامے انجام دئے وہ تاریخ اسلام کا زریں باب ہیں۔یہ سب کچھ سید نا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی شان کرامت اور دعاؤں کا نتیجہ تھا۔

اسی طرح جس زمانے میں سلطان صلاح الدین ایوبی شام میں فتوحات حاصل کررہے تھے اس وقت مسلم دنیا میں کوئی بھی ان کے پائے کا حکمراں نہیں تھا گوکہ حضرت سلطان شہاب الدین غوری علیہ الرحمہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہم عصر تھے مگر وہ ہندوستان میں فتوحات حاصل کررہے تھے ۔ وہ پہلے افغان مسلمان سپہ سالار تھے جنہوں نے پرتھوی راج چوہان کو شکست دے کر دہلی پر پہلی اسلامی حکومت قائم کی ۔ آپ کا یہ دور سلطان الہند عطائے رسول خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ کادور ہےاور خودسلطان غوری بھی حضرت خواجہ غریب نواز سے فیض لیا کرتے تھے۔ (تاریخ اسلام)

مسلمان غازیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جہاں ا ن کی جنگی فتوحات اور جنگی حکمت عملی کا ذکر ہوتاہے ، وہیں یہ پہلوبھی باربار ہمارے سامنے آتاہے کہ ان غازیوں کے شخصیت میں ایک پراسرارروحانی جہت بھی تھی ۔ یاد رہے کہ حضرت نورالدین زنگی علیہ الرحمہ کا حضور ﷺ سے قریبی روحانی تعلق تھا یہ حضور کافیضان تھا کہ پوری دنیا سے صرف انہی کو مدینہ منورہ کی مہم کے لئے منتخب کیاگیا چنانچہ اس کا ذکر آگے کیا جائے گا۔یہ ایک غیرمعولی روحانی پہلو ہے کہ جس کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔وہ تمام مسلمان جرنیل ،غازی، اور حکمراں کہ جنہوں نے تاریخ میں نئے باب رقم کئے ۔ ان سب میں یہ پر اسرار روحانی پہلو نظر آتی ہے ۔اللہ اور اس کے رسول سے ان کا روحانی تعلق کبھی ظاہر ہوتاہے اور کبھی پوشیدہ ہی رہتاہے لیکن یہ پہلو اِ ن سب میں موجود ضرور ہوتا ہے۔یہی وہ عنصر ہے جوکہ ان کو پراسرار بناتا ہے اور یہ مافوق الفطرت وجود معلوم ہوتےہیں اور ایسے ایسے جنگی کارنامے انجام دیتےہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔یہ روحانی پہلو ہمیں غازی کے وجود میں نظر آتی ہےچاہے وہ امیر حمزہ ، حضرت عمر فاروق اعظم، عمر بن عاص، قتیبہ بن مسلم، سعد بن ابی وقاص، سعد بن زید ،عتبہ بن نافع، خالد بن ولید ، سلطان نورالدین زنگی الحنفی ، موسیٰ بن نصیر،عمادالدین زنگی ،سلطان صلاح الدین ایوبی ، طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم ، سلطان محمد غزنوی الشافعی ، عمر المختار المالکی ، عبدالقادر الجرائری المالکی ، عمر المختار المالکی ،ناصرالدین محمود ، یوسف بن تاشقین مالکی، الپ ارسلان ، سلطان محمد فاتح الحنفی ، اما م شامل الحنبلی نقشبدی ،الشیخ عزالدین قسام الشافعی ، خیرالدین باربروسہ وغیرہ بھی ایسے ہی پراسرار مجاہد تھے جن کی تلوار سے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے دفاع کا کام لیا ہے اور ان کو یہ توفیق بخشی ہے حضور ﷺ کی خاص الخاص خدمت کرسکیں۔ اس کے بعد اس شخص کی خوش نصیبی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔

جب قائد اپنے بلند مقام پر ہو کہ ان کے ہرکام کی نگرانی خود ارسول اعظم فرمارہے ہوں تو پھر قدرتی امر ہے کہ وہ اپنے پروں کے سائے میں ایسے شہباز فتح ہی ملے گی ۔

یہاں پر ایک عجیب و غریب واقعہ رو نما ہوتا ہے ۔ سلطان کی فوج میں ہمیشہ بھاری تعداد میں امت مسلمہ کے علماء عظام ،مشائخ کرام، درویش، فقراء اور صوفیاء شامل ہوا کرتے تھے اور ان کا کام دعائیں کرنا اورمجاہدین کے حوصلہ بڑھانا ہوتا تھا اور ضرورت پڑنے پر سلطان ان سے فتویٰ بھی لیا کرتے تھے ۔ لیکن یہ علماء ، مشائخ ،صوفیاء، فقراء اور درویش کبھی بھی خود تلوار ہاتھ میں لے کر جنگ نہیں کرتے تھے ان کے علم ، مقام اور مرتبے کی وجہ سے ان کو ایک الگ مقام حاصل تھا اور ان کا زیادہ تر وقت فوج کی اخلاقی و روحانی تربیت اور دعاؤں میں گزرتاتھا۔سلطان ایوبی ان کا خاص خیال رکھتے تھے اور فوجیوں میں بھاری اکثریت حضور سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے تلامذہ کی تھی۔ جو علماء اور فضلاء تھے اور باقی کچھ مدرسہ نظام الملک (جو حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی )کے مدرسےکے تھے اور جو چیف ایڈوائزر تھے جن کا نام امام موفق الدین ابن قدامہ المقدسی الحنبلی ہیں وہ سیدناسرکار غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی الحنبلی رضی اللہ عنہ کے شاگرد ، مرید اور خلیفہ ہیں ۔ یہ جو تاریخ میں سنہرہ باب حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی نے رقم کی وہ روحانی فیض حضور سیدنا سرکار غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا تھا۔

ابتدائی دور: سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ شروع میں وہ سلطان العادل حضرت نورالدین زنگی الحنفی علیہ الرحمہ کے یہاں ایک فوجی افسر تھے۔ مصر کو فتح کرنے والی فوج میں صلاح الدین بھی موجود تھے اور اس کے سپہ سالار شیر کوہ صلاح الدین ایوبی کے چچا تھے۔ مصر فتح ہو جانے کے بعد صلاح الدین کو 564ہجری میں مصر کا حاکم مقرر کردیا گیا۔ اسی زمانے میں 569ہجری میں انہوں نے یمن بھی فتح کرلیا۔ حضرت نور الدین زنگی علیہ الرحمہ کے انتقال کے بعد صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ نے حکومت سنبھالی۔

آپ علیہ الرحمہ کے طور طریقے اور ادب و آداب: مؤرخین لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین ایوبی ایک ایسا عظیم حکمران تھا جو میدانِ جنگ میں قہر برپا کرنے والا ایک بہادر جنگجو تو تھا لیکن وہ ایک رحم دل انسان بھی تھے۔ صلاح الدین نمازِ پنجگانہ کا پابند اور نفلی عبادت گزار تھے۔ اس نے کبھی کوئی نماز نہ چھوڑی اور نہ قضا کی۔اس کے ساتھ ہمیشہ ایک امام موجود ہوتے تھے اور اگر کوئی امام نہ ہوں تو کسی عالمِ دین کے پیچھے نماز ادا کرلیتےتھے جو وہاں موجود ہوتے تھے۔

صلاح الدین نے ساری زندگی جو کچھ کمایا اس کا بیشتر حصہ صدقے و خیرات میں خرچ کردیا اور کبھی وہ اتنی دولت جمع ہی کر پایا کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے۔ صلاح الدین کی ایک بڑی خواہش تھی کہ وہ حج ادا کرے لیکن وہ جہاد میں اس حد تک مصروف رہے کہ اس کے پاس اتنی رقم ہی جمع نہ ہوسکی کہ وہ حج کرسکے اور اس کے بغیر ہی انتقال کرگئے۔آپ ہر پیر اور جمعرات کو ایک اجلاس منعقد کرتے تھے جس میں بیٹھ کر عوام کی فریاد اور تکالیف سنی جاتیں۔اس محفل میں قانون دان٬ قاضی صاحبان اور عالمِ دین بھی شرکت کرتے تھے- صلاح الدین نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کی مدد کرنے میں کوتاہی نہیں برتی آپ نے کبھی بھی کسی سے بدکلامی نہیں کی اور نہ ہی اپنی موجودگی میں کسی اور کو کرنے دی۔ اپنی پوری زندگی میں ان نے کبھی کوئی تلخ بات نہیں کی اور نہ ہی کبھی کسی مسلمان کے خلاف اپنے قلم اور تلوارکو استعمال کی٬ جب بھی کوئی یتیم آپ کے دروازے پر آیا آپ نے بہت شفت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ،ان کوا پنےمال سے حصہ بھی دیا کرتے تھے ۔ حضرت نور الدین زنگی علیہ الرحمہ کی طرح آپ کی زندگی بھی بڑی سادہ تھی۔ ریشمی اور قیمتی کپڑے کبھی استعمال نہیں کئے اور رہنے کے لئے محل کی جگہ معمولی سا مکان ہوتا تھا۔

قاہرہ پر قبضے کے بعد جب آپ نے فاطمی حکمرانوں کے محلات کا جائزہ لیا تو وہاں بے شمار جواہرات اور سونے چاندی کے برتن جمع تھے ۔ آپ نے یہ ساری چیزیں اپنے قبضے میں لانے کے بجائے بیت المال میں داخل کرادیں۔ محلات کو عام استعمال میں لایا گیا اور ایک محل میں عظیم الشان خانقاہ قائم کی گئی۔فاطمیوں کے زمانے میں مدرسے قائم نہیں کئے گئے شام میں تو نور الدین کے زمانے میں مدرسے اور شفاخانے قائم ہوئے لیکن مصر اب تک محروم تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے یہاں کثرت سے مدرسے اور شفاخانے قائم کئے ۔ ان مدارس میں طلبا کے قیام و طعام کا انتظام بھی سرکار کی طرف سے ہوتا تھا۔قاہرہ میں آپ علیہ الرحمہ کے قائم کردہ شفاخانے کے بارے میں ایک سیاح ابن جبیر لکھتا ہے کہ یہ شفاخانہ ایک محل کی طرح معلوم ہوتا ہے جس میں دواؤں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے ۔ اس نے عورتوں کے شفاخانے اور پاگل خانے کا بھی ذکر کیا ہے ۔ آپ کے تمام عظیم کارناموں میں ایک کارنامہ یہ بھی ہےجو صاحب المدائح النبویہ فرماتے ہیں کہ "فاطمی خلافت میں رائج بری رسومات کو اور شخصی میلاد کو ختم کرکے صلاح الدین ایوبی (رحمۃ اللہ علیہ) نے صرف اورصرف میلاد مصطفیٰ علیہ التحیہ والثنا کا انعقاد رائج ٹھہرایا اور صوفیا ء کے لئے خانقاہوں کی تعمیر کی ۔(المدائح النبویہ صفحہ 100 ازالدکتور محمود علی مکی)

ولی اللہ کی بشارت :آپ کو علماء ، فقراء ، درویش اور مشائخ عظام سے بے حد محبت تھی اور انکے دعائیں لئے بغیر کو ئی بھی کام نہ کرتے تھے اور ہر کام کی شروعات بعدنماز جمعہ کیا کرتے تھے۔

صلاح الدین کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم: ایک دفعہ حاکم مدینہ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو ایک تحفہ بھیجا۔لانے والے نے کہا کہ حاکم مدینہ نے آپ کے لئے ایک ایسا خاص تحفہ بھیجا ہے جو آج تک شائد آپ کو کسی نے نہ دیا ہو۔ سلطان نے جب اس تحفے کے لحاف کو کھولا تو اس میں کھجور کے پتوں کا بنا ہواایک پنکھا تھا۔ سلطان نے لانے والے سے پوچھاکہ اس میں کیا خاص بات ہے؟

 جو تم لوگ اتنی دور سے میرے لئے یہ پنکھا لے کر آئے ہو۔

تحفہ لانے والوں نے کہا کہ حضور اتنی جلدی نہ کیجئے ۔ ذرا اس کے دوسری طرف کی عبارت پڑھ لیجئے۔ سلطان نے پنکھے کو جب دوسری طرف الٹا تو اس پر لکھا تھا۔ کہ" یہ پنکھا حاکم مدینہ کی طرف سے سلطان کے لئے ایک خاص تحفہ ہے جو کہ اس کھجور کے پتوں سے بنایا گیا ہے جوبالکل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور کے ساتھ متصل ہے۔"

سلطان نے جب یہ پڑھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے۔اور پنکھے کو چوم کراپنے سر پر رکھا اور درود شریف پڑھ کر کہنے لگا۔ کہ واقعی اس سے پہلے آج تک کسی نے مجھے ایسا تحفہ نہیں دیا۔

عظیم جنگی کارنامے:یہاں کچھ اور بھی عظیم کارنامے ہیں جنہیں سلطان علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں کے دوران سرانجام دیا اور شاید چھ برس سے زائد نہ ہوں گےاور یہ مختلف النوع کامیابیوں سے بھر پو ر ہیں اور وہ یہ ہیں :فتح بیت المقدس ، حماۃ، بعلبک،قلعہ عزاز،قلعہ البیرہ، قلعہ شقیف، بیسان، رُہا، حران، رقہ، بلادخاربور، بزریہ، قلعہ طرطوس ، دربساک، نفراس، انطاکیہ، قلعہ کوکب،عسقلان، بکاس، شغر، سرمین،نصیبین، تل خالد،عتناب، طبریہ ، الناصرۃ، ارسوف، ہونین، جبلہ ، انطرطوس، الاذقیہ، حص، عنصری، حصن الغازریہ، البرج الاحمر، حصن الخلیل،تل الصافیہ، قلعہ الحبیب الفوقانی، الحبیب التحتانی، الحصن الاحمر، لد، قلنوسہ، القاقون، قیمون، الکرک، حلب، قلعہ حارم، میارفارقین، قلعہ الشوبک، قلعہ السلع، الوعیرۃ، قلعہ الجمع، قلعہ الطفیلہ،طبریہ، عکا، قلعہ الھرمز، صفد، حصن بازو، حصن اسکندرونہ صور اور عکاکے ما بین، قلعہ ابی الحسن، بالائی ساحل پر ایک شہر، المرقید، حصن یحمور (جبلہ اور مرقب کے مابین) ، بلنیاس ، محیون، بلانس، حص الجماہریہ، قلعہ ایسذو ، بکسرائیل، انسرمانیہ، قلعہ برزیہ، طبریہ ، دربساک (انطاکیہ کے قریب)، حیفا، نابلس، تنین ، صیدام بفراس (ارض بیروت میں) الدامور (صیدا کے نزدیک)، السوفند اس کے علاوہ اور بھی ہیں جنکے نام کچھ کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔( تاریخ ابن خلدون، ایوبی کی یلغاریں صفحہ 79)

حضرت سلطان ایوبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ ساحل کے بقیہ علاقے اللہ تعالیٰ کب فتح کروائے گا!!! میں جب پورے ملک میں بنظر غائر دیکھتاہوں تو دل میں یہ بات اٹھتی ہے کہ لوگوں کو خیرباد کہوں ..... گھنے جنگلوں تک پہونچوں.....سمندر کی پشت پر سوار ہوکر .....ایک ایک جزیرہ تک پہونچوں .....زمین کا ایک ایک چپہ تلاش کروں ..... روئے زمین پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخی کرنے والوں کو زندہ باقی نہ رکھوں ..... یا پھر میں خود شہید ہوجاؤں۔

وصال پرملال: مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ فاتح بیت المقدس، فلسطین، شام ، یمن ، لبنان ، اردن، عراق، مصر ،حجاز ،بصریٰ ،دمشق ،حمص کا جب وصال ہوا تو ان کے کفن کےلئے قرض حاصل کرکے ان کی تدفین کا انتظام کیا گیا حتی کہ اور لکڑیاں تک جو قبر میں لگیں قرض پر منگوائی گئیں۔ان کی وصال کے بعد جب ذاتی مال و ملکیت کا حساب کیا گیا تو ایک گھوڑا، ایک تلوار، ایک زرہ ، اور 36 چھتیس درہم کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا ۔ آپ شدید خواہش کے باوجود حج نہ کرسکے کیونکہ کے حج کے لئے رقم نہ تھی۔27 صفر المظفر 589ہجری کی صبح کا ستارہ افق نمودار ہوا تو سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ کی نبضیں ڈوب رہی تھیں ۔حضرت شیخ ابوجعفرعلیہ الرحمہ نے سکرات موت کے آثار محسوس کرکے سورۃ حشر کی تلاوت شروع کی جب آیت ھواللہ لا الہ الا ھو عالم الغیب پر پہونچے تویکایک سلطان نے آنکھیں کھول دیں مسکرائے اور تبسم ریز لہجےمیں کہا "سچ ہے"یہ کہہ کر ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کرلیں ۔

شیخ ضیاء الدین ابوالقاسم عبدالمالک نے غسل دیا اور قلعہ کے باغ کی بارہ دری میں عصر کے وقت اسی مقام دفن کردیا ۔جہاں انہوں نے انتقال فرمایا تھا ، جوتلوار جہادوں میں ان کے زیب کمرتھی ان کے برابر میں رکھ دی گئی اور اسے وہ جنت میں اپنے ساتھ لے گیا ۔

 مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ فاتح بیت المقدس، فلسطین، شام ، یمن ، لبنان ، اردن، عراق، مصر ،حجاز ،بصریٰ ،دمشق ،حمص کا جب وصال ہوا تو ان کے کفن کےلئے قرض حاصل کرکے ان کی تدفین کا انتظام کیا گیا حتی کہ اور لکڑیاں تک جو قبر میں لگیں قرض پر منگوائی گئیں۔ان کی وصال کے بعد جب ذاتی مال و ملکیت کا حساب کیا گیا تو ایک گھوڑا، ایک تلوار، ایک زرہ ، اور 36 چھتیس درہم کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا ۔ آپ شدید خواہش کے باوجود حج نہ کرسکے کیونکہ کے حج کے لئے رقم نہ تھی۔

لوگوں ہر اس قدر ہجوم الم تھا کہ ان کی زبانیں گنگ ہوگئی تھی ۔ دبن کے بعدہر شخص گھر چلا گیا اور ماتم میں مکان کے دروازے بند کرکے بیٹھ رہا ۔ صرف خاموشی اور سنسان سڑکیں بتاتی تھیں کہ لوگوں پر کس قدر عظیم صدمہ گزراہے ۔

·      طبیب عبداللطیف نے لکھا ہے کہ " اس کے علم میں صرف اسی ایک سلطان کی نظیر ہے ۔جس کے لئے واقعی رعایا نے ماتم کیا "۔

·      مورخ ابن خلکان کے مطابق ”ان کی وفات کا دن اتنا تکلیف دہ تھا کہ ایسا تکلیف دہ دن اسلام اور مسلمانوں پر خلفائے راشدین کی موت کے بعد کبھی نہیں آیا“ ۔

·      سلطان العادل حضرت نورالدین زنگی الحنفی علیہ الرحمہ اپنے دورحیات میں فرمایا کرتے تھےکہ اسلام کو ہر دور میں ایک صلاح الدین ایوبی (علیہ الرحمہ) کی ضرورت ہوگی ۔

·      انگریز مؤرخ لین پول نے بھی سلطان کی بڑی تعریف کی ہے اور لکھتا ہے کہ ”اس کے ہمعصر بادشاہوں اور اس میں ایک عجیب فرق تھا۔ بادشاہوں نے اپنے جاہ و جلال کے سبب عزت پائی اور انہوں نے عوام سے محبت اور ان کے معاملات میں دلچسپی لے کر ہردلعزیزی کی دولت کمائی“۔

·      مشہورمؤر خ ولیم آف ٹائر نے سلطان کی شان میں کہا ہے کہ بے مثال ذہانت کاحامل ، دوران جنگ ایک برق رفتار وجود اور انسان کی توقع سے بھی زیادہ شریف اورکریم النفس۔

·      مشہور انگریزداں دانتے نے کہا ہے صلاح الدین کی ذات ایسی منفرد اور عظیم الشان ہے کہ جس کو دیکھ کر میں بھی اپنے انسان ہونے کو فخر کرسکتاہوں۔

(بحوالہ : سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ / اٰلِ رسول احمد الصدیقی الحنفی کٹیہاری حفظہ اللہ)

 

 

 

 

خلیفہ راشد پنجم حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ

اسم گرامی : امیرالمومنین امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ، بارہ اماموں میں دوسرے امام ہیں۔ آپ کی کنیت ابو محمد تھی۔ آپ کا لقب  تقی اور سید تھا۔( اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ 3/557، مطالب السؤل صفحہ 221) حضرت ابو احمد عسکری  علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا اور کنیت ابو محمد تجویز فرمائی اور یہ نام دور جاہلیت میں کسی کا نہ تھا۔ (اشرف الموبدلآل محمد /علامہ یوسف بن اسماعیل  نبہانی علیہ الرحمہ  صفحہ 162)

ولادت باسعادت : آپ  رضی اللہ عنہ کی ولادت تین ہجری میں نصف رمضان المبارک کو ہوئی۔ ناموس اکبر، روح الامین، اور سروش یعنی جبرئیل رضی اللہ عنہ آپ کا نام ہدیۃً لے کر رسول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حریر کے ٹکڑے پر آپ کا نام لکھ کر پیش کیا۔

ولادت سے قبل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی جان حضرت سیدتنا  ام الفضل  رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ رسول اکرم کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں آ پہنچا ہے، خواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے کہ میری لخت جگر بی بی فاطمہ (رضی اللہ عنہ) کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کروگی۔ ۔(الذریۃ الطاہرۃ للدولابی صفحہ 72)

مورخین کا کہنا ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی، آپ کی ولادت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اور دنیا کے سامنے سورہ کوثر کی ایک عملی اور بنیادی تفسیر پیش کردی۔ دنیا جانتی ہے کہ انہی امام حسن رضی اللہ عنہ اور ان کے چھوٹے بھائی امام حسین رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے اولادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کثرت نصیب ہوئی۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی دیگرصحابۂ کرام کی طرح نواسہ ٔرسول حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ ایک موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ اللہ  بحانہ وتعالی کی قسم! عورتوں نے حسن بن علی (علیہ السلام) جیسا فرزند نہیں جنا۔‘‘(سبل الہدی11/69)

آپ( رضی اللہ عنہ) لوگوں میں سینے سے سر تک سب سے زیادہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کےہم شبیہ تھے۔(جامع ترمذی باب مناقب ابی محمد الحسن بن علی الرقم: 3779،صحیح بخاری ، باب مناقب الحسن و الحسین الرقم 3752)

امیرالمومنین حضرت سیدنا  ابوبکر  صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کو کندھے پر بٹھایا اور قسم کھا کر کہا کہ یہ لڑکا کا نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ ہے اور علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شبیہ نہیں ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم بھی وہاں  کھڑے تھے (یہ بات سن کر )مسکرائے۔ (البدایہ والنہایہ 8/33، مشکو ٰۃ شریف صفحہ 563، نورالابصار صفحہ 270 شرف السادات 164)

آپ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے پا پیادہ پچیس حج ادا فرمائے حالانکہ پیدل چلنے سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی۔(حاکم ،المستدرک 3/ 169، تاریخ مدینہ و دمشق 13/242، الصواعق المحرقہ 468 ،تاریخ الخلفاء 1/145)

حدیث میں آیا ہے کہ کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ  منبر پر تشریف لائیں اور حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی  لوگوں کی طرف دیکھتے اور کبھی حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتے۔ پھر فرمایا، وہ زمانہ جلد آنے والا ہے  کہ اللہ تعالی  میرے اس سید بیٹے کے  توسط سے، مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروائے گا۔ (بخاری شریف حدیث2704، سنن  نسائی حدیث 1411، ترمذی شریف جلد 2 /218،مشکوٰۃ شریف 5/ 783، الصواعق المحرقہ 638)

 یہ حدیث اس واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اچھی طرح جانتے تھے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ ہی فتنہ و فساد کے دشمن ہیں۔ چنانچہ جب امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم شہید  ہوئے تو معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے امیرالمومنین امام حسن اور اور حسین رضی اللہ عنہما سے مصالحت کی اور عہد کیا کہ اگر انہیں(معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو) کوئی حادثہ پیش آجائے تو  خلیفہ امیرالمومنین حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ ہوں گے۔ اس معاہدے کے بعد امیرالمومنین حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ: لوگو! میں نے فتنہ و فساد کو ہمیشہ مکروہ جانا ہے۔ آج میں نے مصالحت کرلی ہے اور معاملہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر چھوڑ دیا ہے کہ اگر خلافت  پر ان کا حق تھا تو وہ انہیں مل گیا ہے اور اگر میرا حق تھا تو میں نے انہیں امت رسول کی  بھلائی کی خاطر بخش دیا۔ (حاکم المستدرک 4/162)

اے معاویہ! اللہ تعالی نے تمہیں والی بنا دیا ہے اس حدیث کے پیش نظر جو تم جانتے تھے یا اس بات کے لئے جو تم میں دیکھی گئی ہے۔ وَ اِنْ اَدْرِیۡ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ وَ مَتٰعٌ اِلٰی حِیۡنٍ( سورہ الانبیاء آیت 111)  اس کے بعدممبر سے اتر آئے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا یا مسود ووجوہ المسلیمین (اے مسلمانوں کے چہرے سیاہ کرنے والے)۔ آپ نے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بیعت کی اور مال اس کے پاس چھوڑ دیا۔ (الاستیعاب 1/437، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ 3/562)

 امیرالمومنین  امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا، اللہ تعالی نے بنی امیہ کا ملک حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ لوگ یکے بعد دیگرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھ رہے ہیں۔ یہ منظر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دشوار محسوس ہوا، چنانچہ اللہ تعالی نے وحی نازل فرمائی۔ انا اعطیناک الکوثر۔( سورہ الکوثر) (اے حبیب بے شک ہم نے آپ کو خیرکثیرعطا فرمائی) یعنی جنت میں اور اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الْقَدْرِ﴿۱﴾ۚۖ وَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ ؕ﴿۲﴾ لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ۳﴾ بے شک ہم نے اسے (۲) شب قدر میں اتارا (۳) اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ۔ (اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ 3/562)  ہزار مہینوں سے مراد بنی امیہ کی حکومت ہے راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان کی حکومت کی مدت کا حساب لگایا تو ہزار مہینے ہی نکلی۔ علامہ جلال الدین السیوطی الشافعی علیہ الرحمہ اپنی مشہورکتاب خصائص الکبریٰ میں لکھتےہیں کہ قاسم بنی فضل علیہ الرحمہ نےفرمایا ہم نے بنی امیہ کی حکومت کی مدت شمار کی تو وہ ہزار مہینہ تھی ، نہ اس سے کم اور نہ اس سےزیادہ (خصائص الکبری 2/241/طبع ممتاز اکیڈمی لاہور)

بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ کام معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد کیا تو معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے ابو محمد! آپ نے اس قدر جواں مردی کا اظہار کیا ہے کہ مردان مرد کے نفس ہرگز ایسی جواں مردی نہیں دکھا سکتے۔ (تاریخ اسلام/ اکبرشاہ خان نجیب آبادی صفحہ 499)

علامہ صبان محمد بن علی مصری فرماتےہیں کہ جب امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ  عنہ محض اللہ تعالیٰ کے لئے اس خلافت سے دست بردار ہوگئے تو اللہ تبارک تعالیٰ نے انہیں  اور ان کے اہلبیت کو خلافت باطنیہ سے نواز دیا  یہاں تک کہ بعض علماء کا مذہب ہے ہر زمانے میں قطب اولیاء  اہلبیت کرام میں سے ہی ہوگا۔ (اشرف الموبدلآل محمد /علامہ یوسف بن اسماعیل  نبہانی علیہ الرحمہ  صفحہ 168)

سب سے پہلے غوث اعظم: امام اہلسنت حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے فتاویٰ رضویہ میں علامہ علی قاری حنفی مکی علیہ الرحمہ کے حوالے سے  لکھتے ہیں کہ’’ بے شک  مجھے اکابر(بُزرگوں)سے پہنچا کہ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نے جب بخیال فتنہ و بلا ( یعنی مسلمانوں میں فساد ختم کرنے کے خیال سے) یہ خلافت ترک فرمائی، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے ان میں اور ان کی اولاد امجادمیں غوثیت عظمی کا مرتبہ رکھا۔ پہلے قطب اکبر(غوث اعظم) خود حضور سیدنا امام حسن (علیہ السلام)  ہوئے اور اوسط (بیچ)  میں صرف حضور سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانی اور آخر میں حضرت امام مہدی ہوں گے ۔             (فتاوٰی رضویہ28/392)

امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد تھے  : شاہ عبدالحق حق محدث دہلوی علیہ الرحمہ  لکھتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت کو اس لیے ترک کیا تھا کہ آپ بادشاہوں میں داخل نہ ہونا چاہتے تھے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا الخلافۃ بعدی  ثلاثون سنتھ ثم یصیر ملکا عضو ضا  کہ میرے بعد تیس سال خلافت رہے گی اور اس کے بعد کٹھنہ کھنی بادشاہت آجائے گی اور یہ مدت خلافت حضرت ربیع الاول اکتالیس ہجری میں ختم ہوگئی۔جب کہ امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ  حضرت معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو گئے۔

 حافظ ابن کثیرعلیہ الرحمہ  لکھتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ بھی  خلفائے راشدین سے ہیں کیوں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا  الخلافۃ یہ ثلاثون سنتھ ثم تکون ملکا کہ خلافت میرے بعد تیس سال ہوگی پھر بادشاہت ہوگی اور یہ خلافت تیس سال اس وقت مکمل ہوتی ہے جبکہ کے امام حسن کی خلافت کو بھی اس میں شامل کیا جائے کیوں کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات ریبع الاول 11 ہجری میں ہے  اور امام حسن حضرت معاویہ کے حق میں اکتالیس ہجری میں دستبردار ہوئے جب تک امام حسن کی خلافت کو شمار نہ کیا جائے اس وقت تک تیس سال مکمل نہیں ہوتے جس سے ثابت ہوا کہ امام حسن بھی خلیفہ راشد ہیں  اور خلفائے راشدین میں سے ہیں ۔ اور خلفائے راشدین میں حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کی مدت دو سال تین ماہ تھی اور حضرت عمر فاروق کی خلافت کی مدت دس سال اور 6 ماہ تھی اور حضرت عثمان غنی کی خلافت کی مدت بارہ سال مگر چند دن کم تھی اور اور حضرت علی شیر خدا کی مدت4 سال اور نو ماہ تھی اور اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کی مدت سے چھ ماہ اور کچھ دن تھی۔ ( منح الروض الأزہر شرح الفقہ الأكبر /ملا علی القاری  صفحہ ،68، شرح العقائد النسفیۃ/سعد الدين التفتازانی صفحہ 150، النبراس / علامہ نورالدين علی ، مفتی الدیار المصریہ  صفحہ 308،  المسامرۃ /شیخ قاسم بن قطلوبغا  الحنفی صفحہ 316)

صدرالشریعہ حضرت علامہ مفتی امجدعلی اعظمی علیہ الرحمہ اپنی مشہور کتاب بہار شریعت میں لکھتےہیں کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ برحق و امامِ مطلق حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق، پھر حضرت عمرِ فاروق، پھر حضرت عثمان غنی، پھر حضرت مولیٰ علی پھر چھ مہینے کے لیے حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم ہوئے۔ اِن حضرات کو خلفائے راشدین اور اِن کی خلافت کو خلافتِ راشدہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی سچی نیابت کا پورا حق ادا فرمایا۔( بہار شریعت/حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ 1/241، قانون شریعت (تخریج شدہ) /قاضی شمس الدین جونپوری علیہ الرحمہ صفحہ 70/مجلس مدینۃ العلمیہ دعوت اسلامی، فیض القدیر شرح جامع صغیر/ جلال الدین السيوطی الشافعی علیہ الرحمہ/شارح: علامہ عبدالرؤوف مناوی علیہ الرحمہ 4/664) امام الموحدین ابوسعیدحضرت سیدنا خواجہ حسن بصری(المتوفی 111ہجری)  قد س سرہ فرماتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قسم ! آپ کی خلافت میں ایک قطرہ بھی خون کا نہیں بہا۔ (مسند امام احمد بن حبنل 5/44)

خلافت راشدہ کا مفہوم ومطلب : خلافت راشدہ سے مراد یہ ہے کہ خدا اور رسول نے جو حکمرانی کے اصول بیان فرمائے ہیں اور رسول اللہ کی تربیت و تعلیم اور عملی رہنما سے جو معاشرہ وجود میں آیا ہے طریق  پر خلافت وحکومت کرنا خلافت راشدہ ہے۔ گویا کہ منہاج نبوت کے مطابق جو خلافت ہے وہ خلافت راشدہ ہے اور یہ خلافت صرف تیس سال تک ہے اور یہ مدتِ خلافت اس وقت پوری ہوگئی جبکہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت کو ترک کیا۔ تیس سال بعد ملوکیت اور بادشاہت شروع ہوگئی۔ اس بنا پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بادشاہ  ہیں خلیفہ نہیں ہیں چنانچہ حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ  جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت ہو جانے کے بعد ان سے ملے تو اسلام علیک ایھا الملک کہ کر کا خطاب کیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا اگر آپ مجھے  امیر المومنین کہتے تو کیا حرج تھا؟

انہوں نے جواب دیا خدا کی قسم! جس طرح آپ کو حکومت ملی ہے اس طریقہ پر  اگرمجھے مل رہی ہوتی ہو  تو میں اس کا لینا ہرگز پسند نہ کرتا۔ حضرت معاویہ  خود بھی اس کو حقیقت سمجھتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے خود کہا تھا انا اول  الملوک ملک میں مسلمانوں کا پہلا بادشاہ ہوں۔  (خلافت و ملوکیت صفحہ 148، بارہ امام /علامہ غلام رسول جماعتی نقشبندی علیہ الرحمہ صفحہ 293)

قاضی شمس الدین جونپوری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اول ملوک اسلام ہیں۔(قانون شریعت (تخریج شدہ) صفحہ 70/مجلس مدینۃ العلمیہ دعوت اسلامی)اس سے ثابت ہوا کہ خلافت راشدہ تیس سال تھی وہ موت اس وقت پوری ہوگئی جب امام حسن رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے اس کے بعد بادشاہت شروع ہوگئی اس بنا پر حضرت معاویہ بادشاہ تھے خلیفہ نہیں تھے۔

آپ  رضی اللہ عنہ کا علم و فضل: یہ مسلمات سے ہے کہ حضرات آئمہ اہلبیت اطہار علیہم السلام کا علم لدنی ہوا کرتا تھا ۔ وہ دینا میں تحصیل علم کے محتاج نہیں ہوا کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ وہ بچپن میں ہی ایسے مسائل علمیہ سے واقف ہوتے تھے جن سے دنیا کے عام علماء اپنی زندگی کے آخری عمر تک بے بہرہ رہتےہیں ۔  آپ رضی اللہ عنہ  کا علم و فضل براہ راست نبوت و رسالت کا فیضان تھا لہذا آپ کے علم و فضل کی کوئی انتہا نہ تھی ۔ ابن سعد (متوفی 230ہجری)،  بلاذری (متوفی 279 ہجری) اور ابن عساکر (متوفی 571 ہجری) نقل کرتے ہیں کہ امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز مسجد نبوی میں پڑھتے تھے جس کے بعد سورج نکلنے تک عبادت میں مشغول رہتے تھے اس کے بعد مسجد میں حاضر بزرگان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بحث و گفتگو کرتے تھے۔ ظہر کی نماز کے بعد بھی آپ کی یہی معمول ہوتی تھی۔ (تاریخ مدینہ و دمشق/ ابن عساکر 13/241، الطبقات الکبرى/ ابن سعد 10/297،أنساب الأشراف/ بلاذری ، 3/21)

" امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں تشریف رکھتے تھے اور لوگ آپ کے اردگرد حلقہ بنا کر مختلف موضوعات پر آپ سے سوال کرتے تھے جس کا آپ جواب دیتے تھے۔ (الفصول المہمۃ /ابن صباغ مالکی علیہ الرحمہ 2/702)

چنانچہ علامہ ابن طلحہ شافعی بحوالہ تفسیر واحدی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس اورابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آیت سے متعلق ”شاہد و مشہود“ کے معنی دریافت کئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ  نے شاہد سے یوم جمعہ اور مشہود سے یوم عرفہ بتایا اور ابن عمرنے یوم جمعہ اور یوم النحر کہا اس کے بعدوہ شخص امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، آپ نے شاہدسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور مشہود سے یوم قیامت فرمایا اور دلیل میں آیت پڑھی’’ یاایہاالنبی اناارسلناک شاہدا ومبشرا ونذیرا‘‘’’اے نبی( صلی اللہ علیہ وسلم)  ہم نے تم کوشاہد و مبشر اورنذیربناکربھیجاہے  ذالک یوم مجموع لہ الناس وذالک یوم مشہود‘‘،’’ قیامت کاوہ دن ہوگا جس میں تمام لوگ ایک مقام پرجمع کردیے جائیں گے، اوریہی یوم مشہود ہے ‘‘سائل نے سب کاجواب سننے کے بعدکہا ”فکان قول الحسن احسن“  ،’’ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ  کا جواب دونوں سے کہیں بہترہے ‘‘۔ (مطالب السوال صفحہ 235)

تابعی بزرگ حضرت سیدنا ابوالحواری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا:آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث یاد ہے؟

فرمایا: یہ حدیث یاد ہے کہ ( بچپن میں) ایک مرتبہ میں نے صدقے (یعنی زکوٰۃ) کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر مُنہ میں ڈال لی تو نانا جان، حضور اکرم ﷺ میرے مُنہ سے وہ کھجور نکالی اور صدقے کی کھجوروں میں واپس رکھ دی۔

عرض کی گئی: صلی اللہ علیہ وسلم! اگر ایک کھجورانہوں نے اُٹھالی تو اس میں کیا حرج ہے؟

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اِنَّااٰلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ ہم آلِ محمد کیلئے صدقے کا مال حلال نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ 2/16)

ابن سعدیہ روایت کرتے ہیں کہ آپ کی شیریں کلامی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ کسی سے تکلم فرماتے توجی چاہتا کہ بس آپ اسی طرح سلسلہ کلام جاری رکھیں اور خاموش نہ ہومیں نے آپ کی زبان سے کبھی کوئی فحش بات نہیں سنی ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 395)

کرامات: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات امام حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔  حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اپنی ماں کے پاس جاؤ۔ میں نے عرض کیا کہ میں ان کے ساتھ جاتا ہوں۔ فرمایا نہیں۔  اچانک آسمان پر بجلی چمکی اس کی روشنی میں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اپنی والدہ کے پاس  گئے۔ (دلائل النبوۃ /امام ابو نعیم احمد عبداللہ اصفہانی علیہ الرحمہ صفحہ 487)

بعض مقامات میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ حج کے دنوں میں پیدل مکہ معظمہ جاتے تھے جس کے سبب آپ کے پائے مبارک پر ورم ہو جاتا تھا۔ آپ کے مدد گاروں میں سے ایک نے کہا، کاش آپ اتنی ہی دیر کے لئے سوار ہوجاتے کہ پاؤں کا ورم کم ہو جاتا ۔ آپ نے اس کی تجویز قبول نہ کی۔ اس سے کہا کہ جب تم منزل پر پہنچ جاؤ گے تو ایک سپاہی تمہیں ملے گا اس کے پاس کسی قدر تیل ہوگا۔ اس سے تیل خرید کر پیالے میں بھر دے۔ اس نے کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں،  میں نے کسی منزل میں ایسا شخص نہیں دیکھا جس کے پاس یہ دوا ہو، تو اس منزل میں کہاں ہوگا۔فرمایا تلاش کرنا مل جائے گا جب منزل پر پہنچے تو وہ سپاہی وہاں تھا ۔ آپ نے مددگار سے کہا کہ میں نے جس سپاہی کے بارے میں کہا تھا وہ موجود ہے جاؤ اور پیسے دے کر اس سے روغن خرید لو۔ جب خادم سپاہی کے پاس آیا تو روغن طلب کیا۔ اس نے کہا اے خادم! تم یہ تیل کس کے لئے خرید رہے ہو۔ خادم نے جواب دیا کہ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے خرید رہا ہوں۔ اس نے کہا مجھے ان کے پاس لے چل کہ میں ان کا طرف دار  ہو ں۔ جب وہ سپاہی آپ کی خدمت میں آیا تو عرض کیا کہ میں آپ کا طرفدار ہوں، پیسے نہیں لوں گا۔ البتہ میری بیوی دردزہ  میں مبتلا ہے آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی سالم اور تندرست بیٹا عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا اپنے ڈیرے پر واپس جاؤ۔ اللہ تعالی تمہیں ایسا ہی بیٹا عطا فرمائے گا جیسا تم چاہتے ہو۔ وہ میرے طرفداروں میں ہوگا۔ سپاہی اپنے ڈیرے پر آیا اور اس نے ایسا ہی دیکھا جیسا آپ نے فرمایا تھا۔ ( علامہ نورالدین عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ/شواہد النبوۃ صفحہ 302)

حضرت سیدناعمران بن عبداللّٰہ رضی اللہ عنہ  روایت ہے کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں کے درمیان قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَد لکھاہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ خوشخبری اپنے اہل بیت کو سنائی۔انہوں نے جب یہ واقعہ تابعی بزرگ حضرت سیدنا سعید بن مسیب  رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیاتو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:  اگرواقعی یہ خواب دیکھا ہے تو ان کی عمر کے چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ اس واقعے کے کچھ دن ہی بعد امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا۔                        (الطبقات الکبیر لابن سعد ج۶ ص۳۸۶ رقم۷۳۷۹)

شیخ الاسلام حضرت نظام الدین غریب یمنی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ سلطان المحققین مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ  فرماتے تھے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خوارق اور کرامات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان سب کابیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ آپ کو زہر دیا گیا تھا۔ وفات کے وقت امیرالمومنین حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے سرہانے میں موجود تھے۔ انہوں نے فرمایا، اے بھائی! آپ کا گمان کس شخص پر ہے کہ اس نے آپ کو زہر دیا ہے۔ آپ نے فرمایا تم یہ بات اس لئے دریافت کر رہے ہو کہ اسے قتل کر دو۔ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جس کے بارے میں میرا گمان ہےتو اس پر عذاب کا انتظار کرو اللہ تعالی سخت تر ہے میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کوئی بے گناہ میری وجہ سے مار دیا جائے ۔(البدایہ والنہایہ 11/207، سیر اعلام والنبلاء 3/273)

آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت 49ھ میں ہوئی۔ مہینے کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کتب میں ربیع الاوّل اور بعض میں صفر لکھا ہے۔لیکن ’’صفر‘‘ پر زیادہ مؤرخ متفق ہیں۔ تاریخ کے بارے میں بھی 7صفر یا 28صفر میں اختلاف ہے۔

آ پ رضی اللہ عنہ  کی نمازجنازہ حضرت سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے پڑھائی جو اس وقت مدینۃالمنورہ کے گورنر تھے۔حضرت سیدنا امام حسین  رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو جنازہ پڑھانے کے لئے آگے بڑھایا ۔      (الاستیعاب 1/442، الصواعق المحرقہ 476)

      آپ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں اس قدر جم غفیر (بھیڑ) تھا کہ حضرت سیدنا ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوا،آپ رضی اللہ عنہ کوجنت البقیع میں(اپنی والدۂ ماجدہ کے پہلو میں) دفنایا گیا، میں نے جنت البقیع میں لوگوں کا اس قدر ازدحام (بھیڑ) دیکھا کہ اگر سوئی بھی پھینکی جاتی تو (بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے )وہ بھی زمین پر نہ گرتی بلکہ کسی نہ کسی انسان کے سر پر گرتی۔ (الاصابۃج۲/۶۵، تاریخ الاسلام 1/345،تہذیب الکمال صفحہ 89) آپ کا مزار اقدس، جنت البقیع میں دیگرآئمہ اہلبیت اطہار واصحاب رسول  کی قبروں کے ساتھ ہے۔ جو آج بھی وہابیت کے ظلم وستم کا نشانہ بن کر ویران ہے۔

امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ اور دیگر آل و اصحاب کے مزارات کا انہدام : 1924عیسوی میں مکہ مکرمہ میں جنت المعلی میں ام المومینن حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء کرام، اولاد عظام اور دیگر پیاروں کے مزارات کو مسمار کر دیا گیا۔

1925عیسوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات شہزادہ رسول حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام شہزادیوں رضی اللہ عنہن،  عم رسول حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت حلیمہ سعدیہ  رضی اللہ عنہا، ام مولیٰ علی حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالی عنہا اور دیگر آل و اصحاب اور اہم شخصیات کے مزارات کو مسمار کیا گیا تو شہزادی رسول سیدہ نساء الجنہ حضرت فاطمہ زہرہ کے مزار اقدس کے ساتھ آرام فرما نواسہ رسول مصلح اعظم حضرت سید امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر ائمہ اہل بیت عظام  حضرت سیدنا امام زین العابدین، امام باقر، امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہم کے مزارات مقدسہ  کو منہدم کردیا گیا۔

 1925 عیسوی میں جنت البقیع کے انہدام بعد سید الشہداء حضرت امیر حمزہ  رضی اللہ عنہ اور دیگر شہدائے احد رضی اللہ عنہم کے مزارات اور دیگر کئی مزارات مقدسہ اور کئی تاریخی مساجد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے آل و اصحاب رضی اللہ عنہم کے یادگاروں کو مسمار کیا گیا۔

 1974عیسوی میں مسجد نبوی کی توسیع کرتے وقت دار نابغہ میں حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور چھ صحابہ کبار رضٰ اللہ عنہم کی قبروں کی کھدائی کی گئی بڑے بڑے ہندوپاک کے اخبارات کے مطابق سب اجسام تروتازہ اور خوشبودار تھے۔ جن کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا اور مارچ 1999 عیسوی میں ابوا شریف کی ایک پہاڑی پر ام رسول حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کی قبر مبارک پر بلڈوزر چلا کر مسمار کردیا گیا اور آثار کا مسمار کرنے کا قبیح اور گھنونی حرکت کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ (الخلفاء الراشدون/حضرت پیر محمد افضل قادری صفحہ 193)

دعا ہے کہ  اللہ سبحانہ وتعالیٰ وہ دن جلد لائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل و اصحاب رضی اللہ عنہم کے تمام مزارات اور یادگاریں پھر سے بحال ہوں۔