حضرت مخدوم علاوالدین علی احمد صابر کلیری چشتی علیہ الرحمہ

 

 اسم گرامی : آپ علیہ الرحمہ  کا اسم گرامی علی احمد آپ کے والد محترم کا اسم گرامی حضرت سید عبداللہ علیہ الرحمہ اور دادا جان حضرت سید فتح اللہ علیہ الرحمہ آپ کا تعلق سید گھرانے سے تھا والد محترم سے سید النسب تھے اور والدہ محترمہ سے فاروقی النسب آپ کی والدہ محترمہ حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کی ہمشیرہ تھیں۔

شجرہ نسب:آپ علیہ الرحمہ  مستند روایت کے مطابق حضرت سرکار غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے ہیں۔ شجرۂ نسب یہ ہے:سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبدالرحیم بن سید عبدالوہاب بن غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی۔  والدہ ماجدہ  کی طرف سے آپ فاروقی ہیں حضرت گنج شکرعلیہ الرحمہ  کے حقیقی بھانجے اور داماد بھی ہیں۔

لقب و خطابات: آپ علیہ الرحمہ   کا لقب علاؤالدین ہے آپ کے خطابات مخدوم اور صابر ہیں ۔منقول ہے کہ آپ کے ماموں حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے آپ کو صابر کے خطاب سے نوازا ۔

 ولادت باسعادت : آپ کی ولادت 19 ربیع الاول شریف 592ہجری کو ہرات افغانستان میں ہوئی۔منقول ہے کہ آپ کی ولادت سے قبل آپ کی والدہ محترمہ کے خواب میں حضرت سرور کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا ہونے والے بچے کا نام احمد رکھنا ایک رات کے بعد حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ خواب میں تشریف لائے اور آپ کی والدہ کو ہدایت کی کہ اس بچے کا نام علی رکھنا اس لئے آپ کا اسم مبارک علی احمد رکھا گیا ۔

منقول ہے کہ آپ علیہ الرحمہ جب چار سال کے ہوئے تو گفتگو شروع کر دی پہلا لفظ جو زبان حق سے صادر ہوا وہ تھا لا موجود الاللہ یعنی اللہ کے سوائے کوئی موجود نہیں ۔

منقول ہے کہ بچپن میں ایک دفعہ آپ علیہ الرحمہ پر ایسا وقت آیا کہ آپ نے رات کو چار پائی پر سونا بھی ترک کر دیا دن کو جنگلوں میں چلے جاتے اور وہاں یاد الہی کرتے اور تمام تمام رات عبادت میں گذار دیتے کئی روز گوشہ تنہائی میں بسر کرتے کسی کو اپنے پاس تک نہ آنے دیتے اور نہ کچھ کھاتے نہ کچھ پیتے تھے جب بھوک کا زیادہ غلبہ ہوتا تو اپنی والدہ سے کوئی چیز کھانے کےلئے طلب کرتے تھے

آپ علیہ الرحمہ کی عمر مبارک جب پانچ سال ہوئی تو شفیق والد محترم کا وصال ہوگیا ۔

آپ علیہ الرحمہ نے سات سال کی عمر میں باقاعدہ نماز پڑھنا شروع کی جو نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا فرماتے ۔

تعلیم و تربیت: آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم ہرات میں حاصل کی سب سے پہلے قرآن مجید پڑھا بعد میں عربی اور فارسی پڑھنا شروع کی اور تھوڑے عرصہ میں عربی اور فارسی کی تعلیم مکمل کر لی ۔

جب آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم کی تکمیل کی تو آپ علیہ الرحمہ کی والدہ محترمہ نے آپ کو مزید تعلیم حاصل کرانے کےلئے اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ سے رجوع کیا۔

منقول ہے کہ 601ہجری  کو آپ اجودھن (پاکپتن شریف) تشریف لائے ۔جب آپ علیہ الرحمہ کی عمر مبارک گیارہ سال ہوئی تو 25 شوال بروز جمعرات بعد نماز عصر 603ھ کو اپنے حقیقی ماموں حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کے دست اقدس پہ مرید ہوئے ۔اور انہی سے ہی خرقہ خلافت حاصل کیا ۔کچھ عرصہ تک آپ علیہ الرحمہ کی والدہ صاحبہ اجودھن (پاکپتن) شریف میں رہیں پھر اپنے وطن جانے کا ارادہ کیا تو اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کو عرض کی بھائی میرا بیٹا علی احمد کھانے پینے میں خیال نہیں کرتا آپ نے اس کا بھرپور خیال رکھنا ہے۔

حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے جب سنا تو فرمایا علی احمد کو بلایا جائے جب آپ حاضر ہوئے تو حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے فرمایا آج سے لنگر کے تمام انتظامات تمہارے سپرد کرتے ہیں یہ سن کر آپ کی والدہ صاحبہ اطمینان میں آ گئیں اور اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کا شکریہ ادا کیا اور اجودھن (پاکپتن) شریف سے رخصت ہوگئیں ۔

آپ علیہ الرحمہ  روزانہ لنگر شریف تقسیم کرتے مگر خود کچھ نہ کھاتے لنگر شریف تقسیم کرنے کے بعد اپنے حجرے میں تشریف لے جاتے خوب عبادت کرتے اگر بھوک کا غلبہ آتا تو جنگل میں تشریف لے جاتے جنگل میں پتوں وغیرہ سے گذارا کرتے اور عبادت میں مشغول ہوجاتے ۔

کئی سالوں کے بعد آپ علیہ الرحمہ کی والدہ صاحبہ اجودھن (پاکپتن) شریف تشریف لائیں آپ علیہ الرحمہ کی جسامت انتہائی دبلا پتلا دیکھ کر بہت پریشان ہوئیں اور اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کو عرض کی میرا بیٹا بہت کمزور ہو چکا ہے۔

حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ حضرت مخدوم علی احمد صاحب کو بلایا اور حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا تو آپ علیہ الرحمہ نے جواب دیا آپ نے تقسیم لنگر ہی کا مجھے حکم دیا تھا یہ کب فرمایا تھا کہ اس میں سے کھا بھی لینا یہ جواب سن کر ماموں پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ علیہ الرحمہ نے شفقت سے فرمایا '' علاؤالدین صابر است '' اور اسی وقت سینے سے لگا کر خدا جانے کیا کیا عطا فر ما دیا اس کے علاوہ بھی آپ علیہ الرحمہ کے مجاہدے اور کرامتیں اس درجہ شدید صبر آزما تھیں کہ انہیں سن کر حیرت ہوتی ہے کثرت مجاہدہ اور فاقوں سے آپ کی طبیعت میں بہت ہی قہر و جلال پیدا کر دیا تھا۔

ایک دن آپ  علیہ الرحمہ کی والدہ نے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کوآپ علیہ الرحمہ کی بیٹی سے علاؤالدین  صابر کلیری علیہ الرحمہ کی شادی کی بات کی توبا با فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ علاؤالدین  صابر کلیری علیہ الرحمہ کو شادی اور بیوی کا ہوش نہیں ہے لیکن بہن نہیں مانیں اور بھائی سے رشتے پر اصرار کرتی رہیں آخر با با فرید علیہ الرحمہ نے بہن کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنی بیٹی خدیجہ بیگم کے ساتھ حضرت علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ کا نکاح پڑھا دیا آپ علیہ الرحمہ نے دلہن کو اپنے حجرہ میں دیکھا تودریافت کیاتم کون ہو؟

خدیجہ بیگم نے جواب دیا :آپ کی بیوی ہوں ۔

آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا :جب ہم خدا کے ہو چکے تو پھر ہمیں غیر کی کیا ضرورت رہی اور جب آپ علیہ الرحمہ نے نظر ڈالی تو دلہن کے جسم میں آگ لگ گئی صبح کو ماں آئی تو بہو کو راکھ دیکھ کر غصے میں کہا کہ میں تمہارے ماموں کو کیا جواب دونگی انہیں بھی فورا بخار آگیا اور کچھ روز بعد وصال فرماگئیں۔

اس کے بعد آپ علیہ الرحمہ جو حجرے میں داخل ہوئے تو پورے نو سال اندر ہی رہے اور باہر نہیں نکلے نہ کچھ کھا یا پیا نو برس کے بعد حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ جب حضرت مخدوم علیہ الرحمہ کے حجرے میں صبح کے وقت گئے تو دیکھا کہ آپ استغراق کے عالم میں بے حس و حرکت بیٹھے ہیں آپ کے کان میں سات مرتبہ الا اللہ بلندآواز سے کہا توہوش میں آ گئے اور مرشد کو سامنے دیکھ کر قدم چومے اور آداب بجا لائے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ نے آپ کو با ہر لا کر خرقہ خلافت عطا کیا اور سند لکھی اور اسم اعظم کی تعلیم دی۔

حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ نے آپ علیہ الرحمہ کو دہلی کے لئے متعین کیا اور فر ما یا پہلے ہانسی جا کر اپنے بھائی جمال سے اس پر مہر ثبت کرا لینا جب آپ علیہ الرحمہ سند لے کر ہانسی پہنچے تو حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ نے نہایت محبت اور احترام سے آپ کی مہمان نوازی فرمائی اور پیر روشن ضمیر با با فرید الدین مسعودگنج شکر علیہ الرحمہ کے حالات صحت اور معلومات کی متعلق گفتگو کرتے رہے اسی دوران مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہو نے کے بعد حضرت مخدوم صابر کلیری علیہ الرحمہ نے دہلی کی خلافت کے لئے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ کی سند خلافت حضرت جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ کو پیش کی اور فر ما یا کہ آپ اس پر مہر ثبت کر دیجئے اسی وقت چراغ گل ہو گیا تو جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ نے فر ما یا بھائی چراغ گل ہو گیا ہے۔ صبح مہر ثبت کردونگا لیکن آپ علیہ الرحمہ نے فر ما یا نہیں دوسرا چراغ منگوا کر اسی وقت مہر لگا دیجئے جمال الدین ہانسوی نے دوسرا چراغ منگوایا ابھی آپ مہر لگوانا ہی چاہتے تھے کہ دوسرا چراغ بھی گل ہو گیا اب آپ صبح مہر لگوا لینا۔

اسی وقت آپ  علیہ الرحمہ نے اپنی انگلی پر دم کیا تو انگلی روشن ہو گئی آپ نے جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ سے فرمایا اب آپ مہر ثبت کر دیجئے حضرت جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ نے یہ رنگ دیکھاتو حضرت علاؤالدین صابر کلیری علیہ الرحمہ کی سند چاک کر دی اور فرما یا تمہارے دم مارنے کی تاب دہلی میں کہاں تم تو ایک دم مارتے ہی دہلی کو جلا کر خاک کر دو گے جواباً حضرت مخدوم علاؤالدین صابر کلیری علیہ الرحمہ نے حالت جلال میں فر ما یا کہ آپ نے میری سند خلافت چاک کی ہے میں نے آپ کا سلسلہ چاک کردیا اور اجودھن جا کر حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ کو ساری تفصیل گوش گزار کی۔

حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے دوسری سند لکھ کر فر ما یا میں کلیر شریف کاعلاقہ تمہارے سپرد کر تا ہوں وہاں تکبرو غرور اور گمراہی کا ایک طوفان عظیم بر پا ہے وہاں پہنچ کر خلق خدا کو ہدایت کرو اور اسلام کو تقویت پہنچاؤ۔ کلیر اس عہد میں عظیم الشان با رونق شہر تھا امیر کلیر نے آپ کو شاہ ولایت تسلیم کر لیا مگر قاضی شہر نے ور غلایا کہ یہ جادو گرہے آپ علیہ الرحمہ نے سن کر فر ما یا اس طرح آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس فقیر عاصی کے حق میں تازہ ہو ئی ہے یہ فر ما کر وہاں سے واپس چلے آئے۔

آپ علیہ الرحمہ نے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کو خط ارسال کیا یہاں تو میں اطمینان قلب نماز اول کے ثواب سے بھی محروم ہو گیا ہوں حضرت با با فرید الدین علیہ الرحمہ نے صبر کی تلقین فرمائی لیکن علماء و امراء کے غرور و تکبر کاوہی حال رہا آپ علیہ الرحمہ نے مرشدحق کو خط بھیجا حضرت با با فرید علیہ الرحمہ نے آپ کو لکھا کہ شہر کلیر تمہاری بکری ہے تمہیں اختیار ہے خواہ اس کا دودھ پیو یا اس کا گوشت کھاؤیہ جواب پا کر آپ علیہ الرحمہ جمعہ کے روز جامع مسجد میں گئے امراء شہر نے آپ علیہ الرحمہ کو مسجد سے نکال دیا آپ علیہ الرحمہ نے غضب ناک ہو کر فرما یا ظالمو! تم اللہ کے گھر میں بھی امتیازات پیدا کرتے ہو اور یہاں بھی بندہ بن کر نہیں آتے ہو لیکن کسی نے پرواہ نہیں کی آخر امام نے جب خطبہ ختم کیا تو آپ علیہ الرحمہ نے جلا ل میں آ کر مسجد کو مخاطب کیا اور فر ما یا کہ اب تو بھی سجدہ کر لے یہ فر ماتے ہی عظیم الشان مسجد فورا ہی زمین بوس ہو گئی اہل کلیر گھبرائے ہوئے آپ علیہ الرحمہ کے پاس آئے تو آپ علیہ الرحمہ نے فر ما یا میں تو اللہ سے ویرانی کلیر کی دعا مانگ چکا ہوں اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔

بہت سے افراد تو جامع مسجد میں دب کر ہلاک ہو گئے اس کے بعد شہر میں طاعون پھیل گیا جس نے تمام شہر کو ویران کر دیا ہزاروں مر گئے اور جو بچے وہ جنگلوں اور پہاڑوں پر بھاگ گئے آپ نور العارفین حضرت با با فرید مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کے جانشین تھے اور صابری سلسلہ آپ ہی سے جاری ہے حضرت شیخ علاؤالدین علی احمد صابر علیہ الرحمہ کو سماع کا بہت ذوق تھا اور وہ اکثر سے سنا کر تے تھے یہاں تک کہ آپ علیہ الرحمہ کاوصال بھی عین حالت سماع ہی میں ہوا آپ میں جذبہ الہی حد سے زیادہ تھا زبان مبارک سے جو بھی نکل جاتا وہ پورا ہو جاتا دنیا اور دنیا والوں سے انہیں کوئی غرض نہ تھی ان سے وہ دور بھاگتے تھے اور ہمیشہ ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے۔

ایک مرتبہ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے مریدوں میں سے ایک شخص حضرت علاؤالدین  علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بو لا کہ آپ نے حضرت شیخ شمس الدین ترک پانی پتی علیہ الرحمہ کے علاوہ کس کو اپنا مرید اور خلیفہ نہیں بنا یا اور میرے پیر و مرشد حضرت شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے آسمان پر ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ اپنے مرید بنائے ہیں آپ علیہ الرحمہ نے جواب دیا کہ میرا شمس (علیہ الرحمہ ) ہی کافی ہے جو اللہ کے فضل سے سارے ستاروں پر غالب ہے وہ شخص خاموش رہا اور دہلی آ کر اس نے حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ سے یہ واقعہ بیان کیاحضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ تم نے حضرت (علیہ الرحمہ )کو کیوں رنجیدہ کیا آئندہ ایسی حرکت نہیں ہو نی چاہئے بے شک انہوں نے جو کچھ فرمایا صحیح ہے وہ مقرب بارگاہ ربانی ہیں۔

منقول ہے کہ حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے آپ کو شہر کلیر شریف کا شاہ ولایت مقرر فرما کر اپنے دست مبارک سے ایک حکم نامہ تحریر فرمایا حضرت بابا صاحب نے 15 ذوالحجہ 652ہجری  علیم اللہ ابدال کی معیت میں جانب کلیر روانہ فرمایا ۔کلیر شریف پہنچ کر آپ نے اسلام کی خوب تبلیغ فرمائی ۔

آپ  علیہ الرحمہ کا وصال 13 ربیع الاول شریف 690ہجری  بروز پنجشنبہ کو ہوا بعض روایات 694 ہجری کی بھی مرقوم ہیں ۔آپ کا مزار اقدس کلیر شریف انڈیا میں ہے ۔

( تذکرہ حضرت علی احمد صابر علیہ الرحمہ / تذکرہ اولیائے پاک و ہند / تذکرہ جلیل)


حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری علیہ الرحمہ

اسم گرامی: سید علی

والد بزگوار :سید شاہ عثمان غزنی

کنیت: ابوالحسن۔

لقب: داتا گنج بخش، مخدوم الامم۔

سلسلہ نسب: آپ حسنی سادات میں سے ہیں آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے مولاۓ کاٸنات سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم سے مل جاتا ہے آپ کا سلسلہ نسب درج ذیل ہے :سید مخدوم علی بن سید  عثمان بن سید علی بن سید عبدالرحمن بن سید شجاع بن سید ابوالحسن علی بن سید حسین اصغر  بن سید زید  بن حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ  بن علی کرم اللہ وجہہ الکریم

تاریخ ولادت: حضور سیدنا داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کی تاریخ پیداٸیش کے متعلق کتب سیر یکسر خاموش ہیں  مؤلفین و مؤرخین نے ظن و تخمین سے 400ہجری /401ہجری لکھا ہے۔ اس کو یقینی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ (مقدمہ کشف المحجوب:11)

مقام ولادت: حضرت کا وطن اصلی افغانستان کا شہر غزنی ہے۔ "جلابی، ہجویری" اسلئے کہلاتے ہیں کہ یہ دونوں محلے "غزنی" کے ہیں۔ آپ کے والدین کی قبریں غزنی میں ہیں داتا صاحب علیہ الرحمہ خود اپنی تصنيف کشف الاسرار میں تحریر فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد بزرگوار سے سنا کہ میری پیدائش محلہ ہجویر میں ہوئی۔  پھر اس جگہ کے متعلق رقم کرتے ہیں مولی تعالی اس سرزمين کو حادثات اور دیگر آفات سے محفوظ رکھے اور اسے بادشاہوں کے مظالم سے محفوظ رکھے ۔

تحصیل علم: حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ علوم ظاہری و باطنی کے بحر ذخار تھے۔ آپ نے صرف "خراسان میں تین سو علماء و مشائخ سے استفادہ کیا،حضرت شیخ ابوالقاسم گرگانی علیہ الرحمہ ،حضرت شیخ ابوالقاسم قشیری علیہ الرحمہ اور ان کے علاوہ حضرت خضر علیہ السلام سے بھی خوب استفادہ کیا۔

حضرت سیدنا خواجہ خضر علیہ السلام   سے  اکتساب فیض: حضرت سیدنا علی خواص علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حضرت سیدنا خواجہ خضر علیہ السلام   سے ملاقات کی تین شرطیں ہیں : (1)وہ سنّت  کا عامل ہو ۔ (2)دنیا پر  لالچی نہ ہو، (3)مسلمانوں کےلیے اس کا سینہ بالکل صاف ہو،نہ تو اس کے دل میں کینہ ہو نہ  ہی حسد اورنہ ہی وہ کسی پرتکبر کرتا ہو ۔

آپ علیہ الرحمہ  کی ذات مبارکہ میں  یہ تینوں شرائط موجود   تھیں ،آپ  عامل سنت ،لالچ  دنیا سے بہت دور اور مسلمانوں کے خیرخوا ہ تھے،  اسی لیے آپ  نے  حضرت سیدنا خواجہ خضر علیہ السلام   سے  نہ صر ف  ملاقات فرمائی بلکہ آپ انہی  کی صحبت میں رہ کر ظاہر ی و باطنی علوم حاصل فرمائے اور  آپ کی   حضرت سیدنا خواجہ خضر علیہ السلام   سے بہت ہی گہری دوستی تھی ۔

بیعت و خلافت: آپ علیہ الرحمہ  ظاہری علوم و فنون سے فراغت کے بعد باطنی علوم کی جانب متوجہ ہوۓ اور بے شمار اولیائے کاملین سے مستفض و مستنیر ہوئے اس وقت ملک شام کی سرزمین پر قدوة السالکین شیخ کامل حضرت ابو الفضل محمد  بن حسن ختلی علیہ الرحمہ کا سکہ چل رہا تھا داتا صاحب نے شیخ کامل کے عادات و اطوار اور پیر کے کل شرائط کے ساتھ ساتھ ان کے  اخلاق و کردار سے متاثرہ ہو کر  آپ سلسلہ عالیہ جنیدیہ میں حضرت شیخ ابوالفضل محمد بن حسن الختلی علیہ الرحمہ کے دست پر بیعت ہو گئے۔ آپ علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں اس وقت سب سے مشہور سلسلہ عالیہ جنیدیہ تھا پھر آپ نے شیخ محترم کی خدمت میں رہ کر سلوک کی تمام تر منازل کو طے کرنے کے بعد خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے۔

آپ کا شجرۂ طریقت: آپ علیہ الرحمہ  شجرۂ طریقت  دس واسطوں سے امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ تک پہنچتا ہے ۔

حکم پیرو مرشد:حضرت سید علی ہجویری علیہ الرحمہ  کی زندگی کا بیشتر حصہ سفر میں گزرا ہے ۔ انہیں جہاں بھی کسی صاحب علم و دانش کا پتا چلا آپ دشوار گزار راستوں کو عبورکرکے وہاں پہنچ گئے۔ قدرت نے انہیں جس اعلیٰ روحانی تجربے سے آشنا کرنا تھا اس کی جزئیات سے آگاہی کے لیے حضرت داتا صاحب  ایک طویل عرصہ تک آزمائش و ابتلا سے گزرے ۔ آپ نے اپنے عہد کے نظریات و تصورات کا عمیق مطالعہ کیا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے علمی اور روحانی سفر کو جاری رکھا ۔

ایک طویل سفر کے بعد آپ واپس اپنے مرشد کی خدمت میں دمشق آپہنچے۔ اس وقت شیخ ابو الفضل محمد بن الحسن ختلی علیہ الرحمہ  بیت الجن دمشق میں مقیم تھے۔

ایک روز اچانک مرشد نے اپنے ہونہار شاگرد علی ہجویری سے ارشاد فرمایا :

‘‘ عزیزم ! سرزمین لاہور کی جانب کوچ کر جاؤ ۔ ’’

‘‘حضور ! وہاں تو پہلے سے حسین زنجانی علیہ الرحمہ  شمع ہدایت روشن کیے بیٹھے ہیں۔ مجھ ناچیز کی کیا ضرورت آن پڑی؟’’

حضرت  سید علی ہجویری علیہ الرحمہ  نے بصد احترام سوال کیا۔

‘‘عزیز م ! یہ لیت و لعل کا موقع نہیں…. رخت سفر باندھو اور کوچ کر جاؤ۔ ’’مرشدنے متبسم لہجے میں فرمایا۔ مرشد کے حکم کی بجا آوری ہر مرید کا فرض ہے۔ سلوک میں سر تسلیم خم کرنے ہی سے سربلندی نصیب ہوتی ہے۔ تو پھر اس تناظر میں علی ہجویری علیہ الرحمہ  نے سوال کیوں کیا ….؟

کیا واقعی لیت و لعل سے کام لیا جارہا تھا یا حقیقت کچھ اور تھی۔ علی ہجویری کی طبیعت میں جستجو اور دل میں اجتہاد تھا ۔ چنانچہ تجسس کو دور کرکے اطمینان قلب کے ساتھ اطاعت  مرشد میں سفر کو روانہ ہوگئی۔

دمشق سے لاہور تک:دمشق سے غزنی اور غزنی سے لاہور تک کا یہ سفر بڑا طویل اور تھکادینے والا تھا جو راہ  عشق کے مسافر نے اپنے دو ساتھیوں کی ہمرا ہی میں طے کیا تھا۔ علی ہجویری کے ہمراہ ان کے دو ساتھی سید احمد حمادی سرخسی علیہ الرحمہ  اور شیخ ابو سعید ہجویری علیہ الرحمہ  تھے ۔ یہ لمبا سفر اطاعت  مرشد کی خاطر کیا گیا تھا، لہٰذا داتا صاحب نے ہر صعوبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا تھا ۔ لیکن دوران سفر ایک الجھن سی ضرور تھی جس نے علی ہجویری علیہ الرحمہ  کو مضطرب کیے رکھا تھا۔ اس دیار  غیر لاہور میں اس کا پیر بھائی پہلے ہی رشد و ہدایت کی شمع فروزاں کیے بیٹھا تھا ، آخر انہیں لاہور جانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے۔

جس دن لاہور پہنچے رات ہو گئی تھی۔ شہر کے دروازے بندے ہو گئے تھے ۔لہٰذا فصیل  شہر کے باہر رات گذاری۔ صبح اٹھے تو مرشد کے حکم  سفر میں پوشیدہ حکمت آشکار ہوئی۔ دیکھا کہ چند افراد، بصد احترام ایک جنازہ لیے شہر کے مشرقی حصے سے باہر آرہے تھے۔ انہوں نے تجسس سے دریافت کیا کہ یہ کس ہستی کا سفر  آخرت ہے؟

ایک شخص نے تاسف بھرے لہجے میں جواب دیا ‘‘یہ جنازہ ولیٰ قطب  وقت سی میراں حسین زنجانی علیہ الرحمہ  کا ہے۔ ’’

تینوں مسافر تو بس دھک سے دم بخود ہوکررہ گئے۔بے اختیار آپ کی زبان مبارک سے نکلا کہ ‘‘اللہ شیخ کو جزائے خیر دے ،وہ واقعی روشن ضمیرتھے۔’’

چشم تصور میں مرشد سے ملاقات، سر زمین لاہور کی جانب حکم سفر، ساری باتیں سمجھ میں آتی چلی گئیں۔

جب جنازے کے شرکاء کو پتا چلا کہ آپ حضرت شیخ حسین زنجانی علیہ الرحمہ  کے پیر بھائی ہیں تو انہوں نے جنازہ پڑھانے کا اصرار کیا اوریوں آپ نے پہلے جنازہ پڑھایا اور پھر تدفین کے عمل سے فارغ ہوکرشہر کی جانبروانہ ہوئے۔

لاہور اولیاء اللہ کی سرزمین ہے۔ اس خطہ پر نور میں کئی جلیل القدر ہستیاں محو خواب ہیں۔ ان واقف حال صاحب کمال بابرکت ہستیوں میں ایک ایسا روشن چراغ کہ جس کی روشنی نے اک عالم کو خیرا کیا ہوا ہے وہ داتا گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا کی ہستی ہے۔ یوں تو لاہور ایک ہزار سال سے زائد عرصہ سے اولیاءکرام اور صوفیاءکا مسکن رہا ہے اس شہر میں میاں میر اور شاہ حسین جیسی بابرکت ہستیاں مدفون ہیں۔ لیکن جو عزت اور تکریم حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش علیہ الرحمہ  کے حصہ میں آئی کسی کے حصہ میں نہ آئی۔ شہر لاہور کو حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ  ، علی ہجویری علیہ الرحمہ  کی نسبت سے داتا کی نگری کہا جاتا ہے۔داتا گنج بخش علیہ الرحمہ  کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ  ،بابا فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ  سمیت بڑی بڑی ہستیاں آپ کے مزار پر حاضری دیا کرتی تھیں۔ داتا گنج بخش کی لاہور آمد کا سن 410ہجری بمطابق 1025عیسوی ہے۔ آپ نے اپنی عمر کی 52 برس لاہور اسلام کی اشاعت کا کام کیا۔ آپ کے ہاتھوں بیشمار لوگ مسلمان ہوئے۔

رائے راجو جادوگر کا قبول اسلام :آپ علیہ الرحمہ  جب لاہور تشریف لائے۔رائے راجو ایک بہت بڑا ہندو جادوگر تھا لوگ اسے اپنے جانوروں کا دودھ دیا کرتے تھے اور اگر کوئی اسے دودھ کا نذرانہ نہ دیتا تو وہ اس کے جانوروں پر ایسا جادو کرتا کہ جانوروں کے تھنوں سے دودھ کے بجائے خون نکلنے لگتا۔

ایک دن ایک بوڑھی عورت رائے راجو کے پاس دودھ کا مٹکا سر پر رکھ کر لے جا رہی تھی کہ حضرت سیدنا داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ  نے اسے بلا کر فرمایا کہ یہ دودھ مجھے دے دو اور جو اس کی قیمت بنتی ہے وہ لے لو۔

اس بوڑھی عورت نے کہا کہ میں یہ دودھ تم کو نہیں دے سکتی ہمیں بہر صورت یہ دودھ رائے راجو کو دینا ہی پڑتا ہے ورنہ ہمارے جانوروں کے تھنوں سے دودھ کے بجائے خون آنے لگتا ہے۔

اس پر حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ  نے مسکرا کر فرمایا :

اگر تم یہ دودھ مجھے دے دو تو تمہارے جانوروں کا دودھ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جائےگا۔یہ سنتے ہی اس عورت نے آپ کو دودھ پیش کر دیا۔

 جب وہ اپنے گھر گئی تو یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس کے جانوروں میں اس قدر دودھ تھا کہ گھر کے تمام برتن بھرجانے کے بعد بھی تھنوں سے دودھ ختم نہیں ہو رہا تھا کچھ ہی دیر میں یہ خبر پورے شہر بھر میں پھیل گئےجب آپ  کی یہ زندہ کرامت لوگوں میں عام ہوئی تو گرد و نواح سے لوگ دودھ کا نذرانہ لے کر آپ  کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔

ایک طرف تو لوگوں کی عقیدت کا یہ حال تھا اور دوسری طرف رائے راجویہ ماجرا دیکھ کر آگ بگولا ہو رہا تھا۔ آخر کارآپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور انہیں مقابلے کیلئے للکارتے ہوئے کہنے لگا کہ اگر آپ کے پاس کوئی کمال ہے تو دکھائیں ۔

آپ  نے فرمایا میں کوئی جادوگر نہیں، میں تو اللہ تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ ہوں، ہاں!

اگر تمہارے پاس کوئی کمال ہے تو تم دکھاؤ۔

یہ سنتے ہی وہ اپنے جادو کے زور پر ہوا میں اڑنے لگا۔

آپ یہ دیکھ کر مسکرائے اور اپنے جوتے ہوا میں اچھال دیئے، جوتے رائے راجو کے   سر پر پڑنے لگے اور اتنے پڑے کہ وہ زمیں پر گر پڑا ۔

راجو نے جب آپ کی یہ کرامت دیکھی تو فورا قدموں میں گر پڑا معافی مانگی  دائرۂ اسلام میں داخل ہوگیا ۔

آپ علیہ الرحمہ  نے اس کا نام احمد رکھا اور شیخ ہندی کا خطاب عطا فرمایا ۔شیخ ہندی ہی کی اولاد و امجاد  اس وقت سے آج تک خانقاہ کی خدمت کے فرائض انجام دیتی چلی آرہی ہے۔

سمت مسجدالحرام سے متعلق کرامت :آپ علیہ الرحمہ  نے لاہور تشریف لاتے ہی اپنی قیام گاہ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کرائی ،اس مسجد کی محراب دیگر مساجد کی بہ نسبت جنوب کی طرف کچھ زیادہ مائل تھی ،لہٰذامرکزالاولیا لاہور میں رہنے والے اس وقت کے علماء کو اس مسجد کی سمت کے معاملے میں تشویش لاحق ہوئی چنانچہ ایک روز آپ علیہ الرحمہ  نے تمام علماء کو اس مسجد میں جمع کیا اور خود امامت کے فرائض انجام دیئے،نماز کی ادائیگی کے بعد حاضرین سے فرمایا:’’ دیکھئے کہ کعبہ شریف کس سمت میں ہے؟‘‘

یہ کہنا تھا کہ مسجد و کعبہ شریف کے درمیان جتنے حجابات تھے سب کے سب اٹھ گئے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کعبہ شریف محراب مسجد کے عین سامنے نظر آرہا ہے ۔

آپ علیہ الرحمہ  کے فیضان کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جاسکتا ہےکہ معین الاسلام حضرت سیدنا خواجہ غریب نوازمعین الدین سیدحسن چشتی سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بھی ایک عرصے تک آپ کے دربار پر مقیم رہے اور منبع فیض سے گوہر مراد حاصل کرتے رہے اور جب دربار سے رخصت ہونے لگے تو اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں فرمایا ۔

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا

 ناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنما

 سیرت مبارکہ:  یہ درست ہے کہ سلطان محمود کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی یہاں، مسلمان ایک "حاکم قوم" کی حیثیت سے رہنے لگے تھے اور یہاں کے کفار مسلم عوام سے بظاہر مرعوب ضرور تھے، لیکن ان کے قلوب مسلمان فاتحین کے ساتھ نہیں تھے، اور وہ ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ مگر یہاں تشریف لانے والے صوفیائے کرام بالخصوص آپ علیہ الرحمہ  کے درود مسعود کے بعد یہاں کی مقامی آبادی میں سے لا تعداد لوگ ان کی تبلیغ کے سبب حلقہ بگوش اسلام ہو گئے چنانچہ یہاں کے باشندوں میں سے ایک کثیر گروہ کی دلی ہمدردیاں مسلم فاتحین کے ساتھ ہو گئیں۔ نظریہ و طنیت، خاک میں مل گیا اور دو قومی نظریۂ کی بنیادیں رکھ دی گئیں، اور بعد میں آنے والے صوفیہ کرام کی مساعی جمیلہ سے اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا جس سے مسلمانوں کی حکومت استحکام پکڑتی گئی۔ فاتحین نے کفار کو تیر و سنان سے زیر کیا تو نائبین مصطفیٰﷺ نے انہیں تیر نظر سے خدا ئے واحد کا مطیع و منقاد بنایا۔

ہندوستان کے قطب الارشاد:حضرت شیخ مجدد الف ثانی سرہندی علیہ الرحمہ  نے لاہور کو جو قطب ارشاد کا درجہ دیا ہے، اصل میں یہ اسی قطب الاقطاب (علی ہجویری) کو خراج تحسین ادا کیا ہے۔ حضرت شیخ مجدد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فقیر کے نزدیک یہ شہر لاہور تمام ہندوستان کے شہروں میں قطب ارشاد کی طرح ہے، اس شہر کی خیر و برکت تمام بلاد ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔

آپ علیہ الرحمہ  کے ارشادات عالیہ:

دس چیزیں، دس چیزوں کو کھاجاتی ہیں؛ توبہ گناہ کو، جھوٹ رزق کو، غیبت عمل کو، غم عمر کو، صدقہ بلا کو، غصہ عقل کو، پشیمانی سخاوت کو، تکبر علم کو ، نیکی بدی کو اورعدل ظلم کو۔

غافل امراء، کاہل فقراء اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز بھی عبادت میں شامل ہے۔

عارف کامل کے لیے عالم ہونا ضروری ہے اور ہر عالم عارف نہیں ہوتا۔

جب فقیر کو بادشاہ کا قرب حاصل ہوجاتا ہے تو اس کا سامان سفر اور توشہ آخرت برباد ہوجاتا ہے۔

نفس کی مثال شیطان کی ہے اور اس کی مخالفت عبادت کا کمال ہے۔

کامل صوفی وہ ہے جس کی گفتار و کردار میں فرق نہ ہو اور جو اخلاق کی تہذیب کا کام کرے۔

کامل صوفی وہ ہے جس کے ایک ہاتھ میں قرآن کریم اور دوسرے میں سنت رسول اللہﷺ ہو۔

اولیاء اللہ رب تعالیٰ کے ملک کے والی اور منتظم ہیں۔

جس کام میں نفسانی غرض آجائے، اس سے برکت اٹھ جاتی ہے۔

جو چیز بندے کو رب تعالیٰ سے دور کردے وہ عزت نہیں بدترین قسم کی ذلت ہے۔

وصال پر ملال:آپ علیہ الرحمہ  کاوصال پرملال اکثر تذکرہ نگاروں کے نزدیک ۲۰صفرالمظفر ۴٦۵ ہجری کوہوا۔ آپ  کامزار ‘‘داتا دربار’’لاہور میں شہر قدیم کی فصیل میں جنوبی جانب واقع بھاٹی گیٹ کی بیرونی جانب سرکلر روڈ سے پرے واقع ہے مرجع خلائق ہے۔ ( متفرق کتب سے ماخوذ/از قلم : کریم پاشاہ سہروردی قادری   حفظہ اللہ)


حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ

حضرت سلطان  صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ  

پیدائشی نام : الناصر ابو المظفر صلاح الدين والدنيا يوسف بن ايوب بن شاذی بن مروان بن يعقوب الدوينی التكريتی

پیدائش: 569 ہجری بمطابق 1138 عیسوی

والدماجد: نجم الدین ایوب

والدہ ماجدہ: ست الملک خاتون

بھائی:توران شاہ بن ایوب، ملک عادل، سیف الاسلام طغتکین

بہن: ربیعہ خاتون، ، فاطمہ خاتون

خاندان:ایوبی سلطنت

زوجہ:عصمت الدین خاتون

اولادیں:الافضل بن صلاح الدین، العزیز عثمان، الظاہر غازی

تعلیم و تربیت : حضرت صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ  تکریت کے ایک قلعہ میں پیدا ہوئے تھے، گو کہ ان کی تربیت مکمل فوجی ماحول میں ہوئی لیکن ان کی ہمیشہ کی ایک ہی خواہش تھی کہ وہ ایک عالم بنیں اور ہوتی بھی کیوں نہ کہ اس زمانے کے سب سے بہترین انسان نورالدین زنگی نے ان کی تربیت خود کی تھی۔آپ نے کم عمری ہی میں قرآن کریم حفظ کر لیا تھا اور آپ خود اہلسنت و جماعت اورشافعی صوفی تھے۔

تاریخ اسلام میں ہے کہ "شیرکو ہ اور صلاح الدین دونوں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے ۔ صلاح الدین ایوبی نے شیعہ قاضیوں کو موقوف کرکے شافعی قضاۃ مامور کیا ۔ مدرسہ شافعیہ اور مدرسہ مالکیہ کی بنیاد رکھی ۔" (تاریخ اسلام جلد دوم صفحہ 722)

فیضان غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ : ایک بار حضرت نجم الدین ایوب بغداد معلیٰ حاضر ہوکر اپنے دس سالہ بیٹے حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ عنہ کی خدمت بابرکت میں پیش کردیا اور عرض کی کہ یا سیدی یا مرشدی ! اس بچے کے سرپر اپنا نورانی ہاتھ رکھ دیں اور اس کے لئے دعا فرمادیں کہ یہ اسلام کا عظیم مجاہد اور فاتح بنے ۔ چنا نچہ حضور غوث الاعظم نے اس بچے کے سر پر دست مبارک پھیرا اور دعا فرمائی اور پھر ارشاد فرمایا کہ " یہ بچہ تاریخ عالم کی ایک عظیم نامورشخصیت ہوگااور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے بہت بڑی اسلام کی فتح کرائے گا۔" (حیات المعظم فی مناقب سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ صفحہ 152- 154 ) و (اسلامی معلومات کا انسائیکلوپیڈیا صفحہ 443)

چنانچہ پھر دنیا نے دیکھا کہ حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی جو سلطان نورالدین زنگی کی افواج میں ترقی پاکر جرنیل بنے اور پھر صلیبی جنگوں کے دوران سلطان نورالدین کی اچانک وفات کے بعد سلطان بنائے گئے اور پھر سلطان بن جا نے کے بعد حضرت سلطان صلاح الدین ایو بی نے عظیم کارنامے انجام دئے وہ تاریخ اسلام کا زریں باب ہیں۔یہ سب کچھ سید نا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی شان کرامت اور دعاؤں کا نتیجہ تھا۔

اسی طرح جس زمانے میں سلطان صلاح الدین ایوبی شام میں فتوحات حاصل کررہے تھے اس وقت مسلم دنیا میں کوئی بھی ان کے پائے کا حکمراں نہیں تھا گوکہ حضرت سلطان شہاب الدین غوری علیہ الرحمہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہم عصر تھے مگر وہ ہندوستان میں فتوحات حاصل کررہے تھے ۔ وہ پہلے افغان مسلمان سپہ سالار تھے جنہوں نے پرتھوی راج چوہان کو شکست دے کر دہلی پر پہلی اسلامی حکومت قائم کی ۔ آپ کا یہ دور سلطان الہند عطائے رسول خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ کادور ہےاور خودسلطان غوری بھی حضرت خواجہ غریب نواز سے فیض لیا کرتے تھے۔ (تاریخ اسلام)

مسلمان غازیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جہاں ا ن کی جنگی فتوحات اور جنگی حکمت عملی کا ذکر ہوتاہے ، وہیں یہ پہلوبھی باربار ہمارے سامنے آتاہے کہ ان غازیوں کے شخصیت میں ایک پراسرارروحانی جہت بھی تھی ۔ یاد رہے کہ حضرت نورالدین زنگی علیہ الرحمہ کا حضور ﷺ سے قریبی روحانی تعلق تھا یہ حضور کافیضان تھا کہ پوری دنیا سے صرف انہی کو مدینہ منورہ کی مہم کے لئے منتخب کیاگیا چنانچہ اس کا ذکر آگے کیا جائے گا۔یہ ایک غیرمعولی روحانی پہلو ہے کہ جس کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔وہ تمام مسلمان جرنیل ،غازی، اور حکمراں کہ جنہوں نے تاریخ میں نئے باب رقم کئے ۔ ان سب میں یہ پر اسرار روحانی پہلو نظر آتی ہے ۔اللہ اور اس کے رسول سے ان کا روحانی تعلق کبھی ظاہر ہوتاہے اور کبھی پوشیدہ ہی رہتاہے لیکن یہ پہلو اِ ن سب میں موجود ضرور ہوتا ہے۔یہی وہ عنصر ہے جوکہ ان کو پراسرار بناتا ہے اور یہ مافوق الفطرت وجود معلوم ہوتےہیں اور ایسے ایسے جنگی کارنامے انجام دیتےہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔یہ روحانی پہلو ہمیں غازی کے وجود میں نظر آتی ہےچاہے وہ امیر حمزہ ، حضرت عمر فاروق اعظم، عمر بن عاص، قتیبہ بن مسلم، سعد بن ابی وقاص، سعد بن زید ،عتبہ بن نافع، خالد بن ولید ، سلطان نورالدین زنگی الحنفی ، موسیٰ بن نصیر،عمادالدین زنگی ،سلطان صلاح الدین ایوبی ، طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم ، سلطان محمد غزنوی الشافعی ، عمر المختار المالکی ، عبدالقادر الجرائری المالکی ، عمر المختار المالکی ،ناصرالدین محمود ، یوسف بن تاشقین مالکی، الپ ارسلان ، سلطان محمد فاتح الحنفی ، اما م شامل الحنبلی نقشبدی ،الشیخ عزالدین قسام الشافعی ، خیرالدین باربروسہ وغیرہ بھی ایسے ہی پراسرار مجاہد تھے جن کی تلوار سے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے دفاع کا کام لیا ہے اور ان کو یہ توفیق بخشی ہے حضور ﷺ کی خاص الخاص خدمت کرسکیں۔ اس کے بعد اس شخص کی خوش نصیبی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔

جب قائد اپنے بلند مقام پر ہو کہ ان کے ہرکام کی نگرانی خود ارسول اعظم فرمارہے ہوں تو پھر قدرتی امر ہے کہ وہ اپنے پروں کے سائے میں ایسے شہباز فتح ہی ملے گی ۔

یہاں پر ایک عجیب و غریب واقعہ رو نما ہوتا ہے ۔ سلطان کی فوج میں ہمیشہ بھاری تعداد میں امت مسلمہ کے علماء عظام ،مشائخ کرام، درویش، فقراء اور صوفیاء شامل ہوا کرتے تھے اور ان کا کام دعائیں کرنا اورمجاہدین کے حوصلہ بڑھانا ہوتا تھا اور ضرورت پڑنے پر سلطان ان سے فتویٰ بھی لیا کرتے تھے ۔ لیکن یہ علماء ، مشائخ ،صوفیاء، فقراء اور درویش کبھی بھی خود تلوار ہاتھ میں لے کر جنگ نہیں کرتے تھے ان کے علم ، مقام اور مرتبے کی وجہ سے ان کو ایک الگ مقام حاصل تھا اور ان کا زیادہ تر وقت فوج کی اخلاقی و روحانی تربیت اور دعاؤں میں گزرتاتھا۔سلطان ایوبی ان کا خاص خیال رکھتے تھے اور فوجیوں میں بھاری اکثریت حضور سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے تلامذہ کی تھی۔ جو علماء اور فضلاء تھے اور باقی کچھ مدرسہ نظام الملک (جو حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی )کے مدرسےکے تھے اور جو چیف ایڈوائزر تھے جن کا نام امام موفق الدین ابن قدامہ المقدسی الحنبلی ہیں وہ سیدناسرکار غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی الحنبلی رضی اللہ عنہ کے شاگرد ، مرید اور خلیفہ ہیں ۔ یہ جو تاریخ میں سنہرہ باب حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی نے رقم کی وہ روحانی فیض حضور سیدنا سرکار غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا تھا۔

ابتدائی دور: سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ شروع میں وہ سلطان العادل حضرت نورالدین زنگی الحنفی علیہ الرحمہ کے یہاں ایک فوجی افسر تھے۔ مصر کو فتح کرنے والی فوج میں صلاح الدین بھی موجود تھے اور اس کے سپہ سالار شیر کوہ صلاح الدین ایوبی کے چچا تھے۔ مصر فتح ہو جانے کے بعد صلاح الدین کو 564ہجری میں مصر کا حاکم مقرر کردیا گیا۔ اسی زمانے میں 569ہجری میں انہوں نے یمن بھی فتح کرلیا۔ حضرت نور الدین زنگی علیہ الرحمہ کے انتقال کے بعد صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ نے حکومت سنبھالی۔

آپ علیہ الرحمہ کے طور طریقے اور ادب و آداب: مؤرخین لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین ایوبی ایک ایسا عظیم حکمران تھا جو میدانِ جنگ میں قہر برپا کرنے والا ایک بہادر جنگجو تو تھا لیکن وہ ایک رحم دل انسان بھی تھے۔ صلاح الدین نمازِ پنجگانہ کا پابند اور نفلی عبادت گزار تھے۔ اس نے کبھی کوئی نماز نہ چھوڑی اور نہ قضا کی۔اس کے ساتھ ہمیشہ ایک امام موجود ہوتے تھے اور اگر کوئی امام نہ ہوں تو کسی عالمِ دین کے پیچھے نماز ادا کرلیتےتھے جو وہاں موجود ہوتے تھے۔

صلاح الدین نے ساری زندگی جو کچھ کمایا اس کا بیشتر حصہ صدقے و خیرات میں خرچ کردیا اور کبھی وہ اتنی دولت جمع ہی کر پایا کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے۔ صلاح الدین کی ایک بڑی خواہش تھی کہ وہ حج ادا کرے لیکن وہ جہاد میں اس حد تک مصروف رہے کہ اس کے پاس اتنی رقم ہی جمع نہ ہوسکی کہ وہ حج کرسکے اور اس کے بغیر ہی انتقال کرگئے۔آپ ہر پیر اور جمعرات کو ایک اجلاس منعقد کرتے تھے جس میں بیٹھ کر عوام کی فریاد اور تکالیف سنی جاتیں۔اس محفل میں قانون دان٬ قاضی صاحبان اور عالمِ دین بھی شرکت کرتے تھے- صلاح الدین نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کی مدد کرنے میں کوتاہی نہیں برتی آپ نے کبھی بھی کسی سے بدکلامی نہیں کی اور نہ ہی اپنی موجودگی میں کسی اور کو کرنے دی۔ اپنی پوری زندگی میں ان نے کبھی کوئی تلخ بات نہیں کی اور نہ ہی کبھی کسی مسلمان کے خلاف اپنے قلم اور تلوارکو استعمال کی٬ جب بھی کوئی یتیم آپ کے دروازے پر آیا آپ نے بہت شفت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ،ان کوا پنےمال سے حصہ بھی دیا کرتے تھے ۔ حضرت نور الدین زنگی علیہ الرحمہ کی طرح آپ کی زندگی بھی بڑی سادہ تھی۔ ریشمی اور قیمتی کپڑے کبھی استعمال نہیں کئے اور رہنے کے لئے محل کی جگہ معمولی سا مکان ہوتا تھا۔

قاہرہ پر قبضے کے بعد جب آپ نے فاطمی حکمرانوں کے محلات کا جائزہ لیا تو وہاں بے شمار جواہرات اور سونے چاندی کے برتن جمع تھے ۔ آپ نے یہ ساری چیزیں اپنے قبضے میں لانے کے بجائے بیت المال میں داخل کرادیں۔ محلات کو عام استعمال میں لایا گیا اور ایک محل میں عظیم الشان خانقاہ قائم کی گئی۔فاطمیوں کے زمانے میں مدرسے قائم نہیں کئے گئے شام میں تو نور الدین کے زمانے میں مدرسے اور شفاخانے قائم ہوئے لیکن مصر اب تک محروم تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے یہاں کثرت سے مدرسے اور شفاخانے قائم کئے ۔ ان مدارس میں طلبا کے قیام و طعام کا انتظام بھی سرکار کی طرف سے ہوتا تھا۔قاہرہ میں آپ علیہ الرحمہ کے قائم کردہ شفاخانے کے بارے میں ایک سیاح ابن جبیر لکھتا ہے کہ یہ شفاخانہ ایک محل کی طرح معلوم ہوتا ہے جس میں دواؤں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے ۔ اس نے عورتوں کے شفاخانے اور پاگل خانے کا بھی ذکر کیا ہے ۔ آپ کے تمام عظیم کارناموں میں ایک کارنامہ یہ بھی ہےجو صاحب المدائح النبویہ فرماتے ہیں کہ "فاطمی خلافت میں رائج بری رسومات کو اور شخصی میلاد کو ختم کرکے صلاح الدین ایوبی (رحمۃ اللہ علیہ) نے صرف اورصرف میلاد مصطفیٰ علیہ التحیہ والثنا کا انعقاد رائج ٹھہرایا اور صوفیا ء کے لئے خانقاہوں کی تعمیر کی ۔(المدائح النبویہ صفحہ 100 ازالدکتور محمود علی مکی)

ولی اللہ کی بشارت :آپ کو علماء ، فقراء ، درویش اور مشائخ عظام سے بے حد محبت تھی اور انکے دعائیں لئے بغیر کو ئی بھی کام نہ کرتے تھے اور ہر کام کی شروعات بعدنماز جمعہ کیا کرتے تھے۔

صلاح الدین کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم: ایک دفعہ حاکم مدینہ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو ایک تحفہ بھیجا۔لانے والے نے کہا کہ حاکم مدینہ نے آپ کے لئے ایک ایسا خاص تحفہ بھیجا ہے جو آج تک شائد آپ کو کسی نے نہ دیا ہو۔ سلطان نے جب اس تحفے کے لحاف کو کھولا تو اس میں کھجور کے پتوں کا بنا ہواایک پنکھا تھا۔ سلطان نے لانے والے سے پوچھاکہ اس میں کیا خاص بات ہے؟

 جو تم لوگ اتنی دور سے میرے لئے یہ پنکھا لے کر آئے ہو۔

تحفہ لانے والوں نے کہا کہ حضور اتنی جلدی نہ کیجئے ۔ ذرا اس کے دوسری طرف کی عبارت پڑھ لیجئے۔ سلطان نے پنکھے کو جب دوسری طرف الٹا تو اس پر لکھا تھا۔ کہ" یہ پنکھا حاکم مدینہ کی طرف سے سلطان کے لئے ایک خاص تحفہ ہے جو کہ اس کھجور کے پتوں سے بنایا گیا ہے جوبالکل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور کے ساتھ متصل ہے۔"

سلطان نے جب یہ پڑھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے۔اور پنکھے کو چوم کراپنے سر پر رکھا اور درود شریف پڑھ کر کہنے لگا۔ کہ واقعی اس سے پہلے آج تک کسی نے مجھے ایسا تحفہ نہیں دیا۔

عظیم جنگی کارنامے:یہاں کچھ اور بھی عظیم کارنامے ہیں جنہیں سلطان علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں کے دوران سرانجام دیا اور شاید چھ برس سے زائد نہ ہوں گےاور یہ مختلف النوع کامیابیوں سے بھر پو ر ہیں اور وہ یہ ہیں :فتح بیت المقدس ، حماۃ، بعلبک،قلعہ عزاز،قلعہ البیرہ، قلعہ شقیف، بیسان، رُہا، حران، رقہ، بلادخاربور، بزریہ، قلعہ طرطوس ، دربساک، نفراس، انطاکیہ، قلعہ کوکب،عسقلان، بکاس، شغر، سرمین،نصیبین، تل خالد،عتناب، طبریہ ، الناصرۃ، ارسوف، ہونین، جبلہ ، انطرطوس، الاذقیہ، حص، عنصری، حصن الغازریہ، البرج الاحمر، حصن الخلیل،تل الصافیہ، قلعہ الحبیب الفوقانی، الحبیب التحتانی، الحصن الاحمر، لد، قلنوسہ، القاقون، قیمون، الکرک، حلب، قلعہ حارم، میارفارقین، قلعہ الشوبک، قلعہ السلع، الوعیرۃ، قلعہ الجمع، قلعہ الطفیلہ،طبریہ، عکا، قلعہ الھرمز، صفد، حصن بازو، حصن اسکندرونہ صور اور عکاکے ما بین، قلعہ ابی الحسن، بالائی ساحل پر ایک شہر، المرقید، حصن یحمور (جبلہ اور مرقب کے مابین) ، بلنیاس ، محیون، بلانس، حص الجماہریہ، قلعہ ایسذو ، بکسرائیل، انسرمانیہ، قلعہ برزیہ، طبریہ ، دربساک (انطاکیہ کے قریب)، حیفا، نابلس، تنین ، صیدام بفراس (ارض بیروت میں) الدامور (صیدا کے نزدیک)، السوفند اس کے علاوہ اور بھی ہیں جنکے نام کچھ کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔( تاریخ ابن خلدون، ایوبی کی یلغاریں صفحہ 79)

حضرت سلطان ایوبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ ساحل کے بقیہ علاقے اللہ تعالیٰ کب فتح کروائے گا!!! میں جب پورے ملک میں بنظر غائر دیکھتاہوں تو دل میں یہ بات اٹھتی ہے کہ لوگوں کو خیرباد کہوں ..... گھنے جنگلوں تک پہونچوں.....سمندر کی پشت پر سوار ہوکر .....ایک ایک جزیرہ تک پہونچوں .....زمین کا ایک ایک چپہ تلاش کروں ..... روئے زمین پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخی کرنے والوں کو زندہ باقی نہ رکھوں ..... یا پھر میں خود شہید ہوجاؤں۔

وصال پرملال: مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ فاتح بیت المقدس، فلسطین، شام ، یمن ، لبنان ، اردن، عراق، مصر ،حجاز ،بصریٰ ،دمشق ،حمص کا جب وصال ہوا تو ان کے کفن کےلئے قرض حاصل کرکے ان کی تدفین کا انتظام کیا گیا حتی کہ اور لکڑیاں تک جو قبر میں لگیں قرض پر منگوائی گئیں۔ان کی وصال کے بعد جب ذاتی مال و ملکیت کا حساب کیا گیا تو ایک گھوڑا، ایک تلوار، ایک زرہ ، اور 36 چھتیس درہم کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا ۔ آپ شدید خواہش کے باوجود حج نہ کرسکے کیونکہ کے حج کے لئے رقم نہ تھی۔27 صفر المظفر 589ہجری کی صبح کا ستارہ افق نمودار ہوا تو سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ کی نبضیں ڈوب رہی تھیں ۔حضرت شیخ ابوجعفرعلیہ الرحمہ نے سکرات موت کے آثار محسوس کرکے سورۃ حشر کی تلاوت شروع کی جب آیت ھواللہ لا الہ الا ھو عالم الغیب پر پہونچے تویکایک سلطان نے آنکھیں کھول دیں مسکرائے اور تبسم ریز لہجےمیں کہا "سچ ہے"یہ کہہ کر ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کرلیں ۔

شیخ ضیاء الدین ابوالقاسم عبدالمالک نے غسل دیا اور قلعہ کے باغ کی بارہ دری میں عصر کے وقت اسی مقام دفن کردیا ۔جہاں انہوں نے انتقال فرمایا تھا ، جوتلوار جہادوں میں ان کے زیب کمرتھی ان کے برابر میں رکھ دی گئی اور اسے وہ جنت میں اپنے ساتھ لے گیا ۔

 مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ فاتح بیت المقدس، فلسطین، شام ، یمن ، لبنان ، اردن، عراق، مصر ،حجاز ،بصریٰ ،دمشق ،حمص کا جب وصال ہوا تو ان کے کفن کےلئے قرض حاصل کرکے ان کی تدفین کا انتظام کیا گیا حتی کہ اور لکڑیاں تک جو قبر میں لگیں قرض پر منگوائی گئیں۔ان کی وصال کے بعد جب ذاتی مال و ملکیت کا حساب کیا گیا تو ایک گھوڑا، ایک تلوار، ایک زرہ ، اور 36 چھتیس درہم کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا ۔ آپ شدید خواہش کے باوجود حج نہ کرسکے کیونکہ کے حج کے لئے رقم نہ تھی۔

لوگوں ہر اس قدر ہجوم الم تھا کہ ان کی زبانیں گنگ ہوگئی تھی ۔ دبن کے بعدہر شخص گھر چلا گیا اور ماتم میں مکان کے دروازے بند کرکے بیٹھ رہا ۔ صرف خاموشی اور سنسان سڑکیں بتاتی تھیں کہ لوگوں پر کس قدر عظیم صدمہ گزراہے ۔

·      طبیب عبداللطیف نے لکھا ہے کہ " اس کے علم میں صرف اسی ایک سلطان کی نظیر ہے ۔جس کے لئے واقعی رعایا نے ماتم کیا "۔

·      مورخ ابن خلکان کے مطابق ”ان کی وفات کا دن اتنا تکلیف دہ تھا کہ ایسا تکلیف دہ دن اسلام اور مسلمانوں پر خلفائے راشدین کی موت کے بعد کبھی نہیں آیا“ ۔

·      سلطان العادل حضرت نورالدین زنگی الحنفی علیہ الرحمہ اپنے دورحیات میں فرمایا کرتے تھےکہ اسلام کو ہر دور میں ایک صلاح الدین ایوبی (علیہ الرحمہ) کی ضرورت ہوگی ۔

·      انگریز مؤرخ لین پول نے بھی سلطان کی بڑی تعریف کی ہے اور لکھتا ہے کہ ”اس کے ہمعصر بادشاہوں اور اس میں ایک عجیب فرق تھا۔ بادشاہوں نے اپنے جاہ و جلال کے سبب عزت پائی اور انہوں نے عوام سے محبت اور ان کے معاملات میں دلچسپی لے کر ہردلعزیزی کی دولت کمائی“۔

·      مشہورمؤر خ ولیم آف ٹائر نے سلطان کی شان میں کہا ہے کہ بے مثال ذہانت کاحامل ، دوران جنگ ایک برق رفتار وجود اور انسان کی توقع سے بھی زیادہ شریف اورکریم النفس۔

·      مشہور انگریزداں دانتے نے کہا ہے صلاح الدین کی ذات ایسی منفرد اور عظیم الشان ہے کہ جس کو دیکھ کر میں بھی اپنے انسان ہونے کو فخر کرسکتاہوں۔

(بحوالہ : سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ / اٰلِ رسول احمد الصدیقی الحنفی کٹیہاری حفظہ اللہ)