حضرت مولانا عبدالرحمن جامی نقشبندی علیہ الرحمہ

 

مولانا عماد الدین نور الدین عبد الرحمٰن جامی عموماً مولانا عبد الرحمٰن جامی اور عبد الرحمٰن نور الدین محمد دشتی کے نام سے افغانستان کے مشہور و معروف صوفی شاعر اور مؤرخ تھے۔آپ علیہ الرحمہ کا عرصہ حیات 1414ء سے 1492ء تک محیط ہے۔ آپ اپنے زمانہ میں علمائے اسلام اور صوفیائے اسلام کی صف اول میں شمار کیے جاتے تھے۔ اسلامی صوفی ازم میں آپ کا رتبہ مقام عالیت کو پہنچا ہوا ہے۔ آپ نے صنف شاعری میں کئی اہم کتب تصنیف فرمائیں جن میں تصوف اور روحانیت کا درس دیتے ہوئے مولانا جامی علیہ الرحمہ کی شخصیت مزید اُبھرتی ہوئی ہمارے سامنے آتی ہے۔

ولادت باسعادت: مولانا جامی علیہ الرحمہ  کی ولادت بروز بدھ 23 شعبان المعظم 817ھ مطابق 7 نومبر، 1414ء کو بوقت عشاء جام کے موضع خرجرد میں ہوئی جو اب افغانستان کے صوبہ غور میں واقع ہے۔ جام ایک گاؤں ہے جو افغانستان کے صوبہ غور میں چشت کے شمال میں ہری رُود کے بائیں کنارے کے معاون تگاؤ گنبذ کے کنارے آباد ہے۔

والدین:  مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  کے والد احمد بن محمد دشتی تھی۔ وہ اولاً اصفہان کے قریہ دشت میں رہا کرتے تھے، بعد ازاں جام آ گئے۔ مولانا محمد (مولاناجامی کے جد امجد) کے عقد میں امام محمد بن حسن شیبانی کی اولاد سے ایک صاحبزادی تھیں، جن کے بطن سے مولانا جامی علیہ الرحمہ کے والد احمد بن محمد پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ کا اسم گرامی معلوم نہیں ہو سکا مگر اِتنا پتہ چلتا ہے کہ 878ہجری تک وہ بقیدِ حیات تھیں، کیونکہ اُن کی حالت ضعیفی کی بنا پر مولانا جامی علیہ الرحمہ تبریز میں قیام نہیں کرسکے تھے اور واپس  ہرات آ گئے تھے۔ غالباً طویل العمری میں اُن کا اِنتقال ہرات میں ہوا۔

تحصیل علم: مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  کی ابتدائی تعلیم کے متعلق صفی الدین علی نے اپنی تصنیف رشحات عین الحیات میں بہت معلومات تحریر کی ہے، اُن کے مدرسین، اُساتذہ، کسبِ علم کے لیے کیے گئے سفر اور مولانا جامی علیہ الرحمہ کے نبوغ و اِستعداد پر تفصیل سے جائزہ لکھا ہے۔ صفی الدین علی کتاب رشحات عین الحیات میں یوں لکھتے ہیں کہ:جب وہ چھوٹی عمر میں اپنے والد محترم کے ساتھ ہرات آئے تو مدرسہ نظامیہ میں ٹھہرے۔ وہاں علومِ عربی کے ماہر جنید اُصولی کے درس میں داخل ہو گئے، جن کی اِس فن میں شہرت بڑی دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ کو مختصر تلخیص پڑھنے کا شوق ہوا۔ جن جامی اِس درس میں داخل ہوئے تو بعض طلبہ شرح مفتاح اور مطول پڑھ رہے تھے۔ جامی اگرچہ ابھی شرعی حدِ بلوغت کو نہیں پہنچے تھے لیکن خود میں وہ کتب سمجھنے کی اِستعداد پاتے تھے، لہٰذا وہ بھی مطول اور حاشیہ مطول پڑھنے لگے۔ پھر مولانا خواجہ علی سمرقندی کے حلقہ درس میں داخل ہو گئے جو مدققِ روزگار اور حضرت سید شریف جرجانی کے نامورشاگرد تھے اور طریقہ مطالعہ (تدریس) میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے۔ لیکن جامی 40 دن میں ہی اُن سے مستغنی ہو گئے اور مولانا شہاب الدین محمد جاجرمی کے حلقہ درس میں چلے گئے جو اپنے وقت کے بہترین باحث (مناظر) تھے اور اُن کا سلسلہ تلمذ حضرت مولانا سعد الدین تفتازانی تک ملتا تھا۔ جامی فرمایا کرتے تھے:ہم جو چند روز اُن کے درس میں گئے تو اُن سے دو کارآمد باتیں سنیں، ایک یہ کہ کتاب تلویح پڑھاتے وقت وہ مولانا زادہ خطائی کے اعتراضات کا رَد کرتے۔ پہلے دن جب انھوں نے اُن (یعنی مولانا زادہ خطائی) کا اعتراض دور کرنے کے لیے دو تین مقدمات بیان کیے تو ہم نے انھیں جھٹلا دیا۔ دوسری نشست میں انھوں نے بڑے غوروخوض کے بعد جواب دیا، جو قدرے منطقی تھا۔ دوسری بات فن بیان میں انھیں تلخیص مطول سے قدرے اِختلاف تھا، گو وہ بنیادی طور پر اِس کی کوئی زیادہ تردید نہیں کرتے تھے اور صرف کتاب کی عبارت اور الفاظ پر اَڑے ہوئے تھے، تاہم اُن کی توجیہ میں کچھ وزن تھا۔

مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  اِس کے بعد سمرقند مین محققۃ روزگار قاضی زادہ روم کے مدرسہ میں چلے گئے، پہلی ہی ملاقات میں جامی کی اُن سے بحث چل نکلی، جو طول پکڑ گئی۔ آخر کار قاضی زادہ روم کو جامی کی بات سے اِتفاق کرنا پڑا۔ مرزا الغ بیگ کے ہاں عہدہ صدارت پر فائز ایک متبحر عالم دین مولانا فتح اللہ تبریزی بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی اِس مجلس مباحثہ میں موجود تھے، قاضی زادہ روم نے سمرقند میں اپنے مدرسہ میں مجلس کا اہتمام کیا۔ دنیا کے سبھی اکابر و افاضل وہاں موجود تھے۔ قاضی زادہ روم اِس مجلس میں زیادہ تر صاحبِ اِستعداد اور خوش طبع لوگوں کا ذکر کرتے رہے۔ مولانا عبد الرحمٰن جامی کے بارے میں یوں فرمایا: جب سے سمرقند آباد ہوا ہے، جدتِ طبع اور قوتِ تصرف میں جام کے اِس نوجوان کے پائے کا کوئی شخص دریائے آمویہ عبور کرکے اِدھر نہیں آیا۔ (دریائے آمویہ موجودہ آمو دریا کا پرانا نام ہے، یہ وسط ایشیا کا سب سے بڑا دریا ہے اور دریائے جیحوں بھی کہلاتا ہے۔

قاضی روم کے شاگرد مولانا ابو یوسف سمرقندی کا بیان ہے کہ جب حضرت مولانا عبد الرحمٰن جامی علیہ الرحمہ  سمرقند آئے تو اِتفاق سے فنِ ہیئت میں ایک کتاب کی شرح پڑھنے لگے۔ قاضی روم نے اُس کتاب کے حواشی پر سالہا سال سے کچھ تعلیقات لکھ رکھی تھیں، جامی روزانہ ہر نشست میں اُن میں سے ایک دو کی اِصلاح کر دیا کرتے۔ قاضی روم اِس کام پر جامی کے بے حد شکر گزار ہوئے۔ چنانچہ وہ اپنی شرح ملخص چغمینی بھی اُٹھا لائے اور مولانا جامی علیہ الرحمہ کو دکھائی۔ جامی نے اُس کتاب میں وہ تصرفات بھی کیے جو قاضی روم کے وہم و گماں میں بھی نہ تھے۔

اساتذہ کرام: اِن مذکورہ بالا واقعات میں جن شخصیات کا ذکر آیا، وہ مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  کے اُساتذہ کرام ہیں۔ اِن کا مختصراً ذکر یوں ہے:

شہاب الدین محمد جاجرمی علیہ الرحمہ:   یہ مولانا شمس الدین محمد جاجرمی علیہ الرحمہ  سے الگ ایک شخصیت ہیں۔

عثمان بن عبد اللہ خطائی حنفی معروف بہ مولانا زادہ خطائی نظام الدین علیہ الرحمہ:    علم اصول وبیان کے عالم تھے، انھوں نے علامہ سعد الدین تفتازانی کی کتب پر حواشی لکھے۔ 

قاضی زادہ روم صلاح الدین موسیٰ بن احمدعلیہ الرحمہ:    قاضی محمودی کے نواسے تھے اور سلطان مراد عثمانی کے عہد حکومت میں 761ہجری  تا 792ہجری تک بروسہ کے قاضہ بھی رہے۔ 

مولانا فتح اللہ تبریزی علیہ الرحمہ:    علوم معقول و منقول میں ماہر تھے۔ مدتوں سلطان سعید کی ملازمت میں رہے۔ درس و تدریس سے بھی رابستہ رہے۔

آپ علیہ الرحمہ  کے روحانی پیشوا: مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  نے اپنے عہد کی نامور روحانی شخصیات سے اکتسابِ فیض حاصل کیا جن میں قابل ذکر یہ شخصیات ہیں:

حضرت مخدوم سعد الدین کاشغری علیہ الرحمہ : اِن سے مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  نے سمرقند میں ملاقات کی ۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار آپ کے سلسلہ طریقت میں خلیفہ تھے۔

خواجہ محمد پارسا علیہ الرحمہ: اِن کو بچپن میں مولانا جامی علیہ الرحمہ نے دیکھا۔

مولانا فخر الدین لورستانی علیہ الرحمہ: اِن کو بچپن میں مولانا جامی علیہ الرحمہ نے دیکھا۔

حضرت شیخ بہاءُ الدین عمر قدس چغارگی علیہ الرحمہ: اِن سے بھی بکثرت ملاقات رہی۔ چغارہ ہرات کے قریب ہری رود دریا کے کنارے واقع ہے۔ وہیں پیدا ہوئے اور اِسی نسبت سے چغارگی کہلائے۔  اِن کا سلسلہ طریقت حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی علیہ الرحمہ سے ملتا ہے۔ حکومتی حلقوں میں اِن کا بہت اثر و رسوخ تھا۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ جب تک ہرات میں مقیم رہے، ہفتے میں دو تین بار شیخ سے ملنے جایا کرتے تھے۔

خواجہ محمد ب رہان الدین ابو نصر پارسا علیہ الرحمہ: مولانا جامی علیہ الرحمہ اکثر اِن کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔

خواجہ شمس الدین محمد کوسوئی علیہ الرحمہ: یہ حضرت خواجہ سعد الدین کاشغری علیہ الرحمہ کے بھی استاد تھے اور مولانا جامی علیہ الرحمہ خود اِن کی خدمت میں آیا کرتے تھے۔

مولانا جلال الدین ابو یزید پورانی علیہ الرحمہ: مولانا جامی علیہ الرحمہ اِن کے قریہ پوران میں جاکر اِن کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، نفحات الانس میں مولانا جامی علیہ الرحمہ نے اِن کی خشیتِ الٰہی بیان کی ہے۔ ۔ ہرات کے مشرقی سمت میں واقع ایک گاؤں پوران میں پیدا ہوئے تھے، اِسی نسبت سے پورانی کہلائے۔

مولانا شمس الدین محمد اسد علیہ الرحمہ: ان کے ہاں بھی مولانا جامی علیہ الرحمہ کی بہت آمدورفت رہا کرتی تھی۔ مقامِ تصور و تخیلات میں اوجِ کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ کا بیان ہے کہ اُن کی مقام جمع تک رسائی ممکن ہوتی تھی۔ ہرات کے ایک علاقہ گازرگاہ میں مدفون ہوئے۔

حضرت خواجہ عبید اللہ اَحرار علیہ الرحمہ: ملا علی بن حسین کاشفی علیہ الرحمہ  نے رشحات عین الحیات میں مولانا جامی علیہ الرحمہ کے مرشد حضرت خواجہ عبید اللہ احرار یعنی حضرت ناصر الدین عبید اللہ المعروف بہ خواجہ احرار کا مفصل تذکرہ کیا ہے۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ اور اِن کے مابین قلبی و روحانی تعلق قائم تھا اور یہ تعلق مولانا جامی علیہ الرحمہ کی نثری اور منظومی تصانیف میں نظر بھی آتا ہے۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار سے مولانا جامی علیہ الرحمہ کی خط کتابت ملاقات سے قبل بہت تھی لیکن ملاقات غالباً 872ھ/ 1467ء میں بمقام ہرات میں ہوئی جب حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ ہرات کے تیموری حکمران ابو سعید مرزا کی درخواست پر چوتھی مرتبہ ہرات آئے تھے۔ تب مولانا جامی علیہ الرحمہ کی عمر 55 سال ہو چکی تھی اور حضرت خواجہ عبید اللہ احرار تقریباً 66/67 سال کے تھے۔ اِس ملاقات کے بعد حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ 23 سال تک بقیدِ حیات رہے۔ اِن کا سلسلہ نقشبندیہ سے 19 واسطوں سے ہوتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک جا پہنچتا ہے۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کی ولادت ماہِ رمضان 806ھ/مارچ/اپریل 1404ء میں ہوئی ۔

اکتسابِ علم میں شغف: مولانا جامی علیہ الرحمہ کی علم میں جستجو کے ملکہ، اِنہماک اور تحصیل علم میں شغف کو جو کمال حاصل ہوا، شاید وہ نویں صدی ہجری کے کسی عالم دین یا فقیہ کو حاصل ہوا ہو۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ کے شاگردِ عزیز ملا عبد الغفور لاری لکھتے ہیں کہ "فقیر (عبد الغفور لاری) کو آنحضرت علیہ الرحمۃ والرضوان (مولانا جامی) کے آستانِ رفیع الشان پر پہنچنے سے پہلے تردد تھا کہ جو مرتبہ شعر (گوئی) کی بدولت انھیں حاصل ہے، وہ گہرے تفکر اور دقیق تامل کے بغیر میسر نہیں آ سکتا اور یہ امر مرتبہ کمال کے منافی اور جمعیتِ خاطر کے خلاف ہے۔ لیکن جب میں اُن کی خدمت میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ کوئی شغل بلکہ حوادثِ زمانہ میں سے کوئی واقعہ یا حادثہ بھی اُن کے ظاہری و باطنی اَشغال کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا اور وہ اپنی کیفیت میں کسی تبدیلی کے بغیر اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ وہ اپنا بہترین وقت بلا تکلف و زحمتِ درس (روحانی) دینے میں صرف کرتے۔

تصانیف: ادب (بحر نثر) میں مولانا جامی علیہ الرحمہ کی مستقل تصانیف جو شائع ہو چکی ہیں۔

بہارستان یا روضۃ الاخیار: یہ تصنیف فارسی زبان میں نثر اور نظم یکجائی بحر میں ہے جو گلستان سعدی کے طرز پر لکھی گئی ہے۔

شرح دیباچہ مرقع : فارسی زبان میں بحر نثر میں ہے۔

 منشآت جامیفارسی زبان میں بحر نثر میں ہے۔ برصغیر میں یہ مجموعہ مکاتیب انشائے جامی اور رقعات جامی کے نام سے کئی بار شائع ہوا ہے۔ کلکتہ سے پہلی بار 1226ہجری  میں فارسی زبان میں شائع ہوا۔نظم و نثر کی تصانیف 49 ہیں۔ نظم میں سات مثنویاں ہفت اورنگ سلسلۃ الذہب، سلامان وابسال، تحفۃ الاحرار، صحبۃ الابرار، یوسف زلیخا، لیلی مجنوں، فرد نامۂ سکندری اور غزلوں کے تین مجموعے آپ کی یادگار ہیں۔ نثر میں گیارہ کتابیں تصنیف کیں۔سلاطین وقت جیسے سلطان ابو سعید گرگانی، سلطان حسین مرزا، میر علی شیرنوائی، اوزون حسن، آق قیونلو، سلطان یعقوب، سلطان محمد فاتح اور سلطان بایزید دوم مولانا جامی علیہ الرحمہ کی بڑی عزت کرتے تھے۔

علامہ جامی علیہ الرحمہ  کا عشق رسول ﷺ: آپ علیہ الرحمہ سچے عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔آپ نے جس والہانہ انداز سے بارگاہ رسالت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ہدیۂ نعت پیش کیا ہے ، اس بات کا اندازہ آپ علیہ الرحمہ کے اشعار سے کیا جاسکتا ہے ۔آپ رحمۃ اﷲ علیہ کا نعتیہ کلام اگرچہ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔لیکن نثر میں بھی آپ نے اپنے عشق و محبت کا اظہار کیا ہے ۔ سیرت رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کی جامع کتاب ’’شواہدۃ النبوۃ‘‘ ہے ، جس کا ہر لفظ ہر ہر حرف اور ہر ہر جملہ آپ کے عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا عکاس ہے ۔ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت جس چیز سے ہو اس سے محبت کی جاےچناں چہ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کا ذکر خیر بھی دل نشیں انداز میں کیا جاے ۔ اہل بیت ِاطہار علیہم السلام سے بطورِ خاص محبت کا اظہار آپ کی کتاب ’’بارہ امام‘‘ سے بھی ہوتا ہے۔علامہ منشا تابش قصوری لکھتے ہیں: حضرت شاہ محمد ہاشم رحمۃ اﷲ علیہ ’’جامع الشواہد‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ماہ ربیع الاوّل کی ایک پر کیف اور نورانی رات میں امام العاشقین حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی قدس سرہ السامی نے ایک روح پرور اور ایمان افروز خواب دیکھا کہ محراب النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قریب حبیب کبریا جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جلوہ افروز ہیں، ذکر و اذکار اور حمد ونعت کا سلسلہ جاری ہے ۔حضرت جامی رحمۃ اﷲ علیہ بھی چند نعتیہ اشعار پیش کرتے ہیں، جنہیں سرکار ابد قرار صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم منظور فرماتے ہیں۔ جب آنکھ کھلی تو جامی رحمۃ اﷲ علیہ پر وجد و سرور کی کیفیت طاری تھی ،عالم جذب میں فرمانے لگے ’’وہ نورانی رخ زیبا جو چاند سے زیادہ حسین اور روشن ہے ، جب جبینِ مقدس سے ، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے موئے مبارک کو ہٹایا تو سراج منیر کی تجلیاں نمودار ہونی لگیں‘‘۔اس کے بعد جب جامی رحمۃ اﷲ علیہ کا اپنے وطن آنا ہوا تو بے تابی کے عالم میں پکارنے لگے:

نسیما جانب بطحا گزر کن     

ز احوالم محمد را خبر کن

ببر ایں جان مشتاقم در آنجا

فدائے روضۂ خیر البشر کن

توئی سلطان عالم یا محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم

ز روئے لطف سوئے من نظر کن

مشرف گرچہ شد جامی

زلطفش خدایا ایں کرم بار دگر کن

جامی رحمۃ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ہفتہ بھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ انہیں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پھر زیارت سے مشرف فرمایا۔ (اغثنی یا رسول اﷲ ،صفحہ 17,18)۔نیز حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی رحمۃ اﷲ علیہ وہ عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں جن کو بارگاہ رسالت میں شرف قبولیت حاصل ہے۔ایک نعت شریف لکھنے کے بعد جب حج کے لیے تشریف لے گئے تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہوکر اس نعت پاک کو حضور پاک کے سامنے پیش کریں گے ۔چناں چہ حج بیت اللہ شریف کے لیے تشریف لے گئے اورحج سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ کی حاضری کا ارادہ کیا تو امیر مکہ کو خواب میں نبی کریم رؤوف الرحیم کی زیارت نصیب ہوئی ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ امیر مدینہ تم سوئے ہوئے ہو جاگو اور اس شخص کو یعنی حضرت عبدالرحمن جامی کو مدینہ طیبہ کی جانب آنے سے روکو ۔ چناں چہ گورنر مدینہ نے تمام سرحدوں پر پہرے لگادیئے ۔حضرت عبدالرحمن جامی بڑے پائے کے عاشق رسولﷺ تھے ۔ ان کے دل پر عشق نبی کریمﷺ اس قدر غالب تھا کہ چھپ کر مدینہ طیبہ کی جانب چل پڑے ۔ترکی سے آنے والے قافلے کو اپنے ساتھ لے جانے کو کہا پہلے تو قافلے نے انکار کردیا لیکن پھر چند سکوں کے عوض انہیں مدینہ پاک ساتھ لے جانے پر رضا مند ہوگئے اورعبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ کو ایک اونٹ پر موجود صندوق میں بند کردیا ۔جب یہ اونٹوں کاقافلہ جو کہ ترکی سے مدینہ کی جانب رواں دواں تھا جب مدینہ پاک کی سرحد پر پہنچا تو سکیورٹی پر مامور پہرہ داروں نے اس قافلے کو روک لیا اور اسے چیک کیا جانے لگا ۔قافلے والوں نے بڑی منتیں کیں کہ ہمارے قافلے کو جانے دیا جائے لیکن انہوں نے انکار کردیا اورکہا کہ جب تک آپ لوگ اپنے اونٹوں پر لدے سامان کی مکمل چیکنگ نہیں کرواتے گورنر مدینہ نے مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے منع کیا ہے ۔بیسیوں اونٹوں کی چیکنگ کے بعد ایک اونٹ کو جب بٹھایا گیا اور اس پر لدے ایک صندوق کو کھولا تو اس میں سے جناب عبدالرحمن جامی چھپے ہوئے نکال لیے اورانہیں واپس عراق کی طرف ڈھکیل دیا گیا۔حضرت عبدالرحمن جامی رحمہ اللہ علیہ بڑے غمگین ہوئے اور رونے لگے ۔ پھر دوبارہ عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ  نے مدینہ کا قصد کیا اورایک بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ چل پڑے ، موصل سے یہ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ طائف کی طرف رواں دواں تھا علامہ جامی نے اس قافلے والے سے اجازت طلب کی کہ میں آپ کی ان بھیڑ بکریوں کی ساتھ حفاظت کروں گا آپ مجھے بھی ساتھ لے چلیں ۔وہ قافلہ راضی ہوگیا اور علامہ جامی علیہ الرحمہ  کو اپنے ساتھ لے آیا جب مدینہ کے قریب سرحد پر پہنچے تو آپ نے ایک بھیڑ کی کھال پہن کر سرحد کے دروازے سے مدینہ پاک میں داخل ہو رہے تھے کہ اچانک ایک نقاب پوش گھڑ سوار نے آپ کو پکڑ لیا اور لے کر گورنر کی سپرد کردیا اورگورنر نے انہیں قیدخانے میں ڈال دیا ۔اسی رات گورنر مدینہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اورفرمایا کہ تم نے جامی کو قید میں کیوں ڈالا وہ کوئی مجرم نہیں ہے اسے فوراً رہا کرو کیوں کہ وہ صرف عاشق رسول ﷺ ہے ۔اگر عبدالرحمن جامی مدینہ پاک میں داخل ہوگیا تو مجھے قانون قدرت کو توڑ کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے روضہ انور سے باہر آنا پڑے گا ۔ایک اور روایت کے مطابق عبدالرحمن جامی اس وفد کے لیڈر تھے جو کئی دن کی مسافت کے بعد روضہ رسول ﷺ پہ حاضری دینے کے لیے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ ان کا نام امام عبدالرحمٰن جامی علیہ الرحمہ تھا۔ جن کا نام آج بھی تاریخ میں عشق رسول ﷺ کے حوالے سے زندہ ہے۔انہوں نے مدینہ سے باہر چند میل کے فاصلے پہ پڑا ڈالا۔ وہ سارا دن ادھر ہی رہے۔ قافلے والوں نے دیکھا کہ ایک گھڑ سوار ان کی طرف آ رہا ہے، گھڑ سوار ان کے درمیان میں پہنچا اور قافلے والوں سے پوچھا کہ تم میں سے جامی کون ہے؟

لوگوں نے امام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ امام عبدالرحمن جامی ہیں اور یہ ہمارے قافلے کے لیڈر ہیں اور گھڑ سوار جامی علیہ الرحمہ کی طرف مڑ گیا اور السلام علیکم کہا۔

جامی علیہ الرحمہ  نے فرمایا وعلیکم السلام! آپ کون ہیں ؟

 کہاں سے آئے ہیں؟

اور کس لیے آئے ہیں؟

 اس آنے والے گھڑ سوار (جو کہ شکل و صورت سے ایک صوفی معلوم ہوتا تھا)۔ نے کہا کہ میں مدینہ سے آیا ہوں۔

یہ الفاظ سننا تھے کہ حضرت جامی علیہ الرحمہ  نے اپنی پگڑی اتار کر اس گھڑ سوار آدمی کے قدموں میں رکھ دی اور فرمایا کہ میں ان قدموں پہ قربان جو میرے محبوب نبی پاکﷺ کے مقدس شہر سے آ رہے ہیں۔ جامی علیہ الرحمہ نے اپنی بات جاری رکھی اور پوچھا کہ آپ یہاں کس مقصد سے تشریف لائے ہیں؟

آدمی کچھ دیر کے لیے خاموش رہا پھر جواب دیا کہ جامی علیہ الرحمہ  مجھ سے وعدہ کرو جو کچھ میں تمہیں بتاوں گا تم اسے دل تھام کے سنو گے! جامی علیہ الرحمہ نے آہستہ آواز سے فرمایا کہ ٹھیک ہے۔ آدمی نے اپنی بات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تمہارے پاس نبی آخر زماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے۔

جامی علیہ الرحمہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے فرمایا کہ میرے آقا ﷺ نے کیا فرمایا ہے!

آدمی نے کہا کہ نبی پاک نے آپ کو مدینہ شریف آنے سے اور ملاقات سے منع فرمایا ہے۔

 یہ الفاظ جامی علیہ الرحمہ کے دل پر تیر کی طرح لگے اور آپ کا سر چکرانا شروع ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے۔ان کے ساتھی یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے کہ ان کے امام گزر گئے ہیں۔ لیکن کچھ گھنٹوں بعد آپ کو ہوش آ گیا ۔ آدمی ابھی ادھر ہی تھا۔ جامی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ مجھے بتا کہ کیوں میرے آقا ﷺ نے مجھے مدینہ شریف داخل ہونے سے روکا ہے!۔

میں نے کیا گناہ کیا ہے کہ میرے آقا ﷺ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں!

آدمی نے جواب دیا کہ آقا ﷺ آپ سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ تو آپ سے بے حد راضی ہیں۔تو پھر کیوں میرے آقا ﷺ نے مجھے مدینہ آنے سے روکا ۔

 آدمی بولا کہ آقا ﷺ نے فرما یا ہے کہ جامی سے کہو کہ اگر وہ میرے لیے اپنے دل میں اتنی محبت لے کر مدینہ آیا تو یہ میرے لیے لازم ہو جائے گا کہ میں روضہ سے نکل کر خود استقبال کروں اور اس سے مصافحہ کروں۔ اس لیے جامی سے کہو کہ وہ مدینہ شریف میں داخل نہ ہو میں خود اس سے ملوں گا۔جامی سے کہو کہ ادھر نہ آئے اور نہ مجھ سے ملے میں خود اس سے ملاقات کروں گا۔ یوں جامی دربار رسالت پہ حاضری دئیے بغیر حاضری کی خواہش اپنے دل میں لیے روتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔قارئین جانتے وہ کلام کون سا ہے جس کے متعلق یہ واقعہ پیش آیا وہ مشہور زمانہ کلام یہ ہے

تنم فرسودہ جاں پارہ زِہجراں یا رسول اللہ

میرا جسم ناکارہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے آپ کی جدائی میں،اے اللہ کے پیارے نبی!

دِلم پژ مردہ آوارہ زِعصیاں یارسول اللہ

میرا دل بھٹک رہا اور دل کا پھول مرجھا چکا ہے گناہوں کہ بوجھ سے،اے اللہ کے پیارے نبی!

چوں سوئے من گزر آرِی منِ مِسکیں زِ ناداری

کبھی خواب میں اپنا جلوہ دکھا دیں اس عاجِز مِسکین اور غریب نادار سائل کو

فِدائے نقشِ نعلینت کنم جاں یا رسول اللہ

( تو میں پھر آپ کے(جوتی کے)نقشِ پا پر فدا ہو جاں گا۔اے اللہ کے پیارے نبی !

زِکردہ خویش حیرانم سِیاہ شد روز عِصیانم

میں نے جو کچھ کیا ہے بہت حیران ہوں روزِحساب میرا اعمال نامہ گناہوں کی بہتات سے سیاہ ہوگا

پشیمانم پشیمانم پشِیماں یا رسول اللہ

میں انتہائی پشیماں اور سخت شرمندہ ہوں پشیمان ہی پشیمان ہوں،اے اللہ کے پیارے نبی!

زِجامِ حبِ تومستم بہ زنجیرِ تو دِل بستم۔۔

آپ کی محبت میں،میں مست ہوں آپ کے عشق کی زنجیر سے میرا دل بندھا ہوا ہے

نمی گویم کہ من ھستم سخن داں یا رسول اللہ

میں عاجز اور مِسکین کوئی دعوی نہیں کرتا کہ میں ایک بہت بڑا شاعرہوں،اے اللہ کے پیارے نبی

چوں بازوئے شفاعت را کشائی بر گناہ گاراں

جب روزِ قیامت آپ اپنی شفاعت کا بازو لمبا کرکے گناہ گاروں کے سر پر پھیلا دیں گے

مکن محرومِ جامی را درا آں یا رسول اللہ

اس روز اِس عاجز جامی کو محروم نہ رکھیے گا اس جان جوکھوں کی نازک گھڑی میں،اے اللہ کے پیارے نبی!

وصال مبارک:  مولانا جامی علیہ الرحمہ کی وفات بروز جمعہ 18 محرم الحرام 898ہجری مطابق 14 نومبر 1492ء کو ہرات میں میں بوقت اذانِ جمعہ ہوئی۔ ہرات اب افغانستان کے صوبہ ہرات کا دار الحکومت ہے۔


حضرت شیخ اسدالدین معروف کرخی علیہ الرحمہ


 

اسم گرامی :آپ علیہ الرحمہ کا اسم گرامی اسد الدین المعروف تھا جبکہ آپ علیہ الرحمہ معروف کرخی کے نام سے مشہور ہوئے آپ علیہ الرحمہ کے والد ماجد کا نام فیروز تھا۔ آپ علیہ الرحمہ کے والدین پارسی مذہب کے پیروکار تھے۔

تعلیم و تربیت :  آپ علیہ الرحمہ اہل بیت اطہار میں سے آٹھویں امام حضرت سیدنا امام علی رضا رضی بن  حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہماکے تربیت یافتہ تھے۔

بیعت و خلافت:  ۱۹ شوال ۱۲۸ہجری  بروزچہار شنبہ عصر کے وقت جلیل القدر تبع تابعی ، عظیم محدث اور بلند پایہ صوفی حضرت خواجہ داود طائی علیہ الرحمہ سے بغداد میں آپ نے خلافت حاصل کی اوراس کے بعد ۱۹۷ ہجری میں بروز جمعہ مشہد میں امام موسیٰ علی رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ    سے خلافت حاصل کی۔

آپ علیہ الرحمہ خود فرماتے ہیں کہ میرے والدین نے مجھے ایک عیسائی معلم کے پاس بٹھا دیا اس معلم نے سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ تمہارے گھر میں کتنے افراد ہیں جس پر میں نے بتایا کہ میرے گھر تین افراد ہیں اس پر استاد نے کہا کہ عیسیٰ تین خداؤں میں تیسرا خدا ہے۔

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں عالم کفر میں بھی میری غیرت نے یہ گوارہ نہ کیا کہ ایک سے سوا دوسرے کو پکاروں اس لئے میں نے انکار کردیا۔ اس پر معلم نے مجھے مارنا شروع کر دیا وہ جتنی شدت سے مجھے مارتا میں اتنی ہی جرات سے انکار کرتا آخر کار اس نے تنگ آ کر میرے والدین سے کہا کہ اس کو قید کر دو میں تین روز تک قید رہا ہر روز ایک روٹی ملتی تھی مگر میں اس کو چھوتا تک نہیں تھا جب مجھے قید سے نکالا گیا تو میں گھر سے بھاگ گیا کیونکہ میں والدین کا اکیلا ہی لڑکا تھا اس لئے میری جدائی سے انہیں سخت صدمہ ہوا پیغام بھیجا کہ واپس لوٹ آؤ جس مذہب کو چاہتے ہو اختیار کرلو ہم بھی تمہارے ساتھ اپنا دین تبدیل کرلیں گے۔ چنانچہ میں حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے دست حق پر مسلمان ہو گیا پھر جب میں گھر پہنچا والدین بھی ایمان کی دولت سے مالا مال ہو گئے

آپ علیہ الرحمہ نے تعلیم و تربیت حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ سے مکمل کی اس کے علاوہ حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے بھی بھر پور علم حاصل کیا اس کے علاوہ علم طریقت حضرت حبیب راعی علیہ الرحمہ سے حاصل کیا۔

آپ علیہ الرحمہ اذان اس شان سے پڑھتے تھے کہ خوف سے رونگٹے اور داڑھی کے بال کھڑے ہوجاتے تھے اور ایسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے آپ علیہ الرحمہ ابھی گر پڑیں گے بار بار رات کو آپ علیہ الرحمہ کی مسجد سے گریہ زاری کی آوازیں آتی رہتی۔

حضرت سری سقطی  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مجھے جو کچھ بھی ملا ہے وہ حضرت معروف کرخی علیہ الرحمہ کی بدولت ملا ہے حضرت عبد الوہاب علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ میں نے آپ علیہ الرحمہ سے بڑا تارک الدنیا اس جہان میں کسی کو نہ دیکھا آپ علیہ الرحمہ کے تصرف کا یہ عالم ہے کہ آپ علیہ الرحمہ کا مزار اقدس قضائے حاجات کے لئے تریاق مانا جاتا ہے۔

آپ علیہ الرحمہ ہر وقت با وضو رہتے تھے ایک دن آپ  علیہ الرحمہ کا وضو ساقط ہو گیا تو آپ علیہ الرحمہ نے فوراً تیمم کا اہتمام کر لیا لوگوں نے عرض کی کہ حضرت دریائے دجلہ پاس ہی ہے تیمم کی کیا ضرورت ہے اس پر حضرت معروف کرخی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اگر دجلہ تک پہنچتے پہنچتے موت آ گئی تو میری موت ناپاکی کی حالت میں ہوگی۔

آپ علیہ الرحمہ دنیا سے متنفر اور بے زار تھے ہر وقت یاد الٰہی میں مشغول رہتے تھے حضرت داتا گنج بخش  علیہ الرحمہ نے کشف المجوب میں لکھا ہے کہ آپ  علیہ الرحمہ کے مناقب و فضائل کی کوئی حد نہیں ہے علوم میں آپ علیہ الرحمہ قوم کے مقتدا اور سردار ہیں

ایک دفعہ آپ علیہ الرحمہ دریائے دجلہ کے کنارے کپڑے اور قرآن شریف رکھ کر غسل کر رہے تھے کہ ایک ضعیفہ آئی اور آپ  علیہ الرحمہ کے سامان کو اٹھا کر لے گئی آپ  علیہ الرحمہ نے اس کا پیچھا کیا اور ایک جگہ روک کر کہا کہ میں تمہارا بھائی معروف کرخی ہوں کیا تمہارا کوئی لڑکا بھائی یا شوہر ہے جو قرآن شریف پڑھے۔

اس نے کہا نہیں اس پر آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا قرآن شریف مجھے دے دو اور کپڑے لے لو میں نے دنیا و آخرت میں ہر جگہ تمہیں معاف کیا یہ سن کر ضعیفہ کو اتنی شرم آئی کہ اس نے توبہ کی پھر آپ علیہ الرحمہ کی دعا سے وہ ولیہ اور متقیہ ہو گئی۔

حضرت سری سقطی علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے عید کے دن آپ علیہ الرحمہ کو کھجوریں چنتے ہوئے دیکھا تو میں نے پوچھا حضور کیا کر رہے ہیں آپ  علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ میں نے اس لڑکے کو روتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھاکہ تم کیوں رو رہے ہو اس بچے نے جواب دیا کہ آج عید کا دن ہے اور میں یتیم ہوں سب لوگ نئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اس لئے میں یہ کھجوریں چن رہا ہوں ان کو بیچ کر میں اس لڑکے کو اخروٹ لے دوں تاکہ یہ کھیلے اور کھیل میں مشغول ہونے کی وجہ سے اپنا درد بھول جائے۔

حضرت سری سقطی علیہ الرحمہ نے عرض کی کہ حضرت میں اس کام کو انجام دے دیتا ہوں آپ علیہ الرحمہ بے فکر رہیں چنانچہ میں اس بچے کو لیکر کپڑے کی دکان پر گیا اس کو نئے کپڑے خرید کر پہنا دئیے اس کے بعد حضرت سری سقطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس کام کے بعد میرے دل میں ایک نور پیدا ہوا اور میری حالت کچھ اور ہی ہو گئی۔

ایک شخص کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا ابو محفوظ معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میرے لئے دعا فرمائی اور میں واپس گھر آ گیا ۔ دوسرے دن پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کے چہرہ پر نشان بنا ہوا ہے جیسے کوئی چوٹ لگی ہو ۔کسی نے آپ سے پوچھا : "اے ابو محفوظ! ہم کل آپ کے پاس سارا دن رہے ، آپ کے چہرہ پر کوئی نشان نہ تھا ، یہ کیا نشان ہے اور کیسے ہوا؟" آپ نے فرمایا : "اپنے مطلب کی بات کرو اسے چھوڑ یہ تمہارے مطلب کا سوال نہیں ہے ۔" اس شخص نے عرض کیا ، آپ کو اپنے معبود کی قسم ! آپ اس بارے میں کچھ بتائیں! اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا : " میں نے گزشتہ رات یہاں نماز ادا کی اور خواہش ہوئی کہ بیت اللہ کا طواف کر لوں پس میں مکہ شریف چلا گیا ، طواف کیا پھر زمزم کی طرف چل پڑا، تاکہ اس کا پانی بھی پی لوں تومیں دروازہ پر پھسل گیا ، گرنے کی وجہ سے میرے چہرہ پر جو تم دیکھ رہے ہو چوٹ آ گئی ۔ (جامع کرامات اولیاء ،ج ٢،ص٤٩)

حضرت سیدنا ابوعباس مؤَدِبْ علیہ الرحمہ  سے منقول ہے، ”میرے ایک ہاشمی پڑوسی کے معاشی حالات ٹھیک نہ تھے انہوں نے اپنا ایک واقعہ کچھ اس طر ح سنایا: ” ہمارے ہاں بچے کی ولادت ہوئی توگھر میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جو اپنی زوجہ کو کھلاتا۔ اس دکھیاری نے مجھ سے کہا : میرے سرتاج! آپ میری حالت وکیفیت سے خوب واقف ہیں، اس وقت مجھے غذا کی اشد ضرورت ہے تاکہ میری کمزوری دور ہو ، اب میں مزید صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ۔خدا را! کچھ کیجئے۔ اپنی زوجہ کی یہ حالت دیکھ کر میں بے تا ب ہوگیا اور عشاء کی نماز کے بعد ایک دُکان دار کے پاس گیا۔ میں غلہ وغیرہ اسی سے خریدتا تھا ، مجھ پر اس کا کچھ قرض بھی تھا۔ میں نے اسے اپنے گھر کی حالت بتائی اور کچھ سامانِ خورد ونوش (یعنی کھانے پینے کا سامان )طلب کیا او رکہا کہ میں جلد ہی اس کی قیمت ادا کردو ں گا۔

لیکن اس نے صاف انکار کر دیا۔ میں ایک دوسرے دکاندار کے پاس گیا اور اپنی حالت سے آگا ہ کر کے کچھ چیزیں طلب کیں۔ اس نے بھی انکار کردیا ۔ الغر ض! جس جس سے بھی امید تھی میں اس کے پاس گیا لیکن کسی نے میری مدد نہ کی۔ میں بہت رنجید ہ ہوا اور سوچنے لگا کہ اب کس کے پاس جاؤں ، کس سے اپنی حاجت طلب کرو ں۔ پھر میں دریائے دجلہ کی طرف چلا گیا ، میں نے ایک ملاح کو دیکھا جو اپنی کشتی میں بیٹھاہوا مسافروں کا انتظار کر رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے آواز لگائی: ”میں فلاں فلاں علاقے کی سواریاں بٹھاتا ہوں اگر کوئی مسافر ہے تو آ جائے۔”میں اس کی طر ف گیا تو وہ کشتی کنارے پر لے آیا، میں کشتی میں سوار ہوا اور ہماری کشتی دریائے دجلہ کا سینہ چیر تی ہوئی آگے بڑھنے لگی ۔

ملاح نے مجھ سے پوچھا :” تم کہاں جانا چاہتے ہو ؟

” میں نے کہا: ”کچھ معلوم نہیں ۔

” ملاح نے متعجب ہو کر کہا: ”تجھ جیسا عجیب شخص میں نے نہیں دیکھا تم اتنی رات گئے میرے ساتھ کشتی میں بیٹھے ہو اور تمہیں معلوم ہی نہیں کہ کہا ں جانا ہے؟

” ملاح کی یہ با ت سن کر میں نے اسے اپنی حالت سے آگا ہ کیا تو وہ ہمدرد انہ لہجے میں بولا: میرے بھائی! غم نہ کرو، میں فلاں علاقے میں رہتا ہوں، جہاں تک ہو سکامیں تمہاری پریشانی حل کرنے کی کوشش کروں گا ۔ پھر اس نے ایک جگہ کشتی روکی اور مجھے دریائے دجلہ کے کنارے واقع ایک مسجد میں لے گیا اور کہا: ” میرے بھائی! اس مسجد میں حضرت سیدنا معروف کرخی علیہ الرحمہ  دن رات عبادت میں مشغول رہتے ہیں ، تم وضو کر کے مسجد میں چلے جاؤاوراللہ تعالیٰ کے اس نیک بندے سے دعا کراؤ،  ان شاء اللہ ضرور کوئی راہ نکل آئے گی۔”میں وضو کر کے مسجد میں داخل ہو ا تو دیکھا کہ حضرت سیدنا معروف کرخی علیہ الرحمہ  محراب میں نماز ادا فرما رہے ہیں ۔ میں نے بھی دورکعت ادا کیں اور سلام کرکے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قریب بیٹھ گیا ۔ فراغت کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سلام کا جواب دیا اور کہا :”اللہ تم پررحم فرمائے! تم کون ہو ؟” میں نے اپنا واقعہ کہہ سنایا ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بڑی توجہ سے میری بات سنی پھر نماز کے لئے کھڑے ہوگئے۔ باہر موسم خراب ہونے لگا، بارش زورپکڑتی جارہی تھی۔ میں بہت گھبرایا اور سوچنے لگا کہ میں اپنے گھر سے کتنا دور آ گیا ہوں، بارش بڑھتی ہی جارہی ہے، نہ جانے گھر والے کس حال میں ہوں گے۔ میں اس شدید بارش میں اپنے گھر کیسے پہنچو ں گا ۔ میں انہیں خیالات میں گم تھا کہ اچانک مسجد سے باہر کسی جانور کی آواز سنائی دی ، ایک سوار اپنی سواری سے اُترکر مسجد میں داخل ہوا اور حضرت سیدنا معروف کرخی علیہ الرحمہ  کے قریب آکر بیٹھ گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نماز سے فراغت کے بعد اس سے پوچھا: ”مَنْ اَنْتَ رَحِمَکَ اللہُ ؟ یعنی اللہ تم پر رحم کرے ،تم کون ہو؟”اس نے کہا :” حضور! میں فلاں شخص کا قاصد ہوں، انہوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ” میں چادراوڑھ کر سو رہا تھا ، میں نے اپنے آپ کو اچھی حالت میں دیکھا او راپنے اوپر ایسی رحمت کی بر سات دیکھی ہے کہ اس پراللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ، میں اپ کی بارگاہ میں کچھ نذرانہ پیش کر رہا ہوں، اسے قبول فرماکر مجھ پر احسان فرمائیں، آپ جسے مستحق پائیں اسے یہ رقم عطا فرما دیں ۔”قاصد کا پیغام سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ” یہ ساری رقم اس ہاشمی شہزادے کی خدمت میں پیش کر دو ۔” قاصد نے کہا: ” حضور! یہ پانچ سو (500) دینار ہیں۔” فرمایا: ”ہاں! یہ سب اسے دے دو۔” قاصد نے ساری رقم مجھے دے دی۔ میں نے تمام رقم اپنی چادرمیں رکھی، حضرت سیدنا معروف کرخی علیہ الرحمہ  کا شکر یہ ادا کیا اور اسی وقت گھر کی طرف چل دیا، بارش میں بِھیگتا گرتا پڑتا اپنے علاقے میں پہنچا ،سیدھا دُکان دار کے پاس گیااور کہا:” یہ دیکھو !یہ پانچ سو(500)دینار ہیں، اللہ نے اپنے رزق کے خزانوں میں سے مجھے عطا فرمائے ہیں۔ تمہارا جتنا مجھ پر قرض ہے وہ لے لو اور مجھے کھانے کا سامان دے دو۔ دکاندار نے کہا:”کل تک یہ رقم اپنے پاس ہی رکھو ،جو چیزیں تمہیں چاہیں وہ لے جا ؤ ۔ پھر اس نے شہد ، شکر ، تِلوں کا تیل، چاول چربی اور بہت سی کھانے کی اشیاء مجھے دیتے ہوئے کہا: ”آپ یہ تمام چیزیں اپنے گھر لے جائیں۔”میں نے کہا: ” اتنا سارا سامان میں کیسے اٹھاؤں گا۔” کہا:” میں آپ کی مدد کروں گا۔”کچھ سامان اس نے اُٹھایا کچھ میں نے پھر ہم دونوں گھر کی طرف چل دیئے۔ گھر پہنچے تو دیکھا کہ دروازہ کھلا ہوا تھاکیونکہ میری زوجہ اتنی کمزور ہوگئی تھی کہ دروازہ بند کرنے کی طاقت بھی نہ تھی۔ مجھے دیکھ کر شکوہ کرتے ہوئے بولی:” اس نازک حالت میں مجھے چھوڑ کر کہا ں چلے گئے تھے؟

 بھوک اورکمزوری سے میری حالت خراب ہو گئی ہے۔میں نے کہا:” اللہ کے فضل وکرم سے ہماری پریشانی دور ہوگئی، یہ دیکھو! گھی ، چربی ، شکر ، تیل اور بہت سی کھانے کی اشیاء کثیر مقدار میں ہمارے گھر میں موجود ہیں۔ یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئی ،اس کی تکلیف جاتی رہی ۔ میں نے اسے دیناروں کے بارے میں نہ بتایا اس خوف سے کہ کہیں خوشی سے ہلاک نہ ہوجائے۔ پھر کھانا تیار ہوا سب نے کھا نا کھاکر خدائے بزرگ وبَر تر کا شکر ادا کیا۔صبح میں نے اپنی زوجہ کو وہ دینار دکھائے او رسارا قصہ سنایا۔ وہ بہت خوش ہوئی اور اس غیبی امداد پراللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی۔ پھر ہم نے کاشت کے لئے کچھ زمین خرید لی تاکہ اس سے حاصل شدہ آمدنی کے ذریعے ہمارے اخراجات پورے ہوتے رہیں۔ اس طر ح کچھ ہی عرصہ بعد حضرت سیدنا معروف کرخی علیہ الرحمہ  کی برکت سے اللہ  نے ہماری تنگدستی ومفلسی دور فرمادی اور اب ہم بفضلہ تعالیٰ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

وصال مبارک: آپ اس دار فانی سے ۲۲۰ ہجری کو رخصت ہوئے آپ علیہ الرحمہ کے وصال کے وقت ایک عجیب واقعہ ظہور پذیر ہوا جب آپ علیہ الرحمہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو تمام لوگوں نے دعویٰ کیا کہ ہم آپ علیہ الرحمہ کا جنازہ اٹھائیں گے جس میں یہودی پارسی اور مسلمان سب شامل تھے۔

آپ علیہ الرحمہ کے خادم نے کہا کہ مجھے حضرت معروف کرخی علیہ الرحمہ نے وصیت کی تھی کہ جو قوم میرا جنازہ زمین سے اٹھائے گی وہی میری تجہیز و تکفین کرے گی چنانچہ سب سے پہلے یہودیوں نے کوشش کی پھر پارسیوں نے کوشش کی لیکن کوئی بھی جنازے کو اٹھا نہ سکا۔ آخرمیں مسلمانوں نے جنازے کو اٹھایا اور آپ علیہ الرحمہ کو سپرد خاک کر دیا آپ علیہ الرحمہ کا مزار اقدس بغداد شریف میں ہے۔

اسلامی تعلیمات:    آپ کے اقوال اسلامی تعلیمات اور دینی حکمتوں سے بھرپور مطالب ومعانی پر مشتمل ہیں ،درسِ عبرت اور سبق آموزی کے لیے چند اقوال پیش خدمت ہیں :

·       دولت کے بھوکے کو کبھی حقیقی راحت نہیں مل سکتی ۔

·       بغیر عمل جنت کی آرزو گناہ ہے ، بغیر ادائے سنت امید ِشفاعت رکھنا محض غرور اور دھوکا ہے اوربغیر فرماںبرداری کے امیدوار ِرحمت ہونا محض جہالت اور حماقت ہے ۔

·       حق تعالیٰ جب کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو حسن ِ عمل کا دروازہ اُس پر کھول دیتا ہے ۔

·       آپ سے پوچھا گیا کہ مصائب ِ دنیا کی کیا دَوا ہے ؟ فرمایا : خلق سے دور اور خُلق سے نزدیک رہنا۔حب ِ دنیا ترک کردو۔ کیوں کہ اگر دنیا کی ذرا سی چیز بھی تمہارے دِل میں ہوگی تو سجدہ کرنے میں بھی تم اس کو فراموش نہ کرسکوگے۔
(مصادر: حلیۃُ الاولیاء، صفۃ الصفوۃ ، کشف المحجوب ، مناقب معروف کرخی علامہ ابن الجوزی)