ولاوت باسعادت :آپ کی ولادت 21 صفر المظفر 1300 ہجری بمطابق یکم
جنوری 1883ء بروز پیر کو اس خاک دان گیتی شہر مراد آباد یوپی جلوہ فگن ہوئے۔
تاریخی نام:غلام مصطفیٰ رکھا گیا
مشہور نام: سید محمد نعیم الدین کے نام سے مشہور ہوئے
القابات : صدر الافاضل فخر الاماثل استاد العلما مفسر اعظم
فقیہ اعظم وغيرہ
روحانی شیخ: شیخ المشائخ عارف حق آگاہ ہم شبیہ غوث الثقلین حاجی الحرمین نوردیدۂ حسنین حضور سیدنا سندنا مرشدنا ملجانا ماوانا اعلی حضرت سرکار سید شاہ
علی حسین اشرفی الجیلانی المعروف اعلی حضرت اشرفی میاں نور اللہ مرقدہ وغيرہ
تعلیم و تربیت: آپ آٹھ سال کی عمر میں حفظ قراٰن پاک کی سعادت سے
سرفراز ہوۓ بتداٸی تعلم اپنے
والد بزگوار حضرت مولانا سید معین نزھت
قادری قدس سرہ سے حاصل کی ۔
درس نظامی کی تعلیم مولانا شاہ فضل احمد امروہی اور قطب وقت حضرت
مولانا شاہ گل محمد قادری علیہما رحمۃ اللہ الہادی سے حاصل کی۔ 19سال کی عمر میں
درس نظامی سے فراغت حاصل کی اور ایک سال فتویٰ نویسی کی مشق فرمائی اور تمام علوم
و فنون میں مہارت تامہ حاصل کرکے سلطان العلوم و الفنون کہلائے۔
آپ والد بزگوار حضرت مولانا سید محمد معین الدین
نزہت ؔ مرادآبادی علیہ الرحمہ نے درج ذیل شعر سے دستار فضیلت کا سال استخراج
فرمایا ؎
ہے میرے پسر کو طلباء پر وہ فضیلت
سیاروں میں رکھتا ہے جو مریخ فضیلت
نزہتؔ نعیم الدین کو یہ کہہ کے سنادے
دستار فضیلت کی ہے تاریخ "فضیلت"
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ سے تعلق: 20سال کی عمر
میں پہلی کتاب علم غیب نبوی صلی اللہ
تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم پرتالیف فرمائی جس کا نام "الْکلمۃ الْعلْیا لاعْلاء
علْم الْمصْطفٰی"ہے۔ جب یہ کتاب امام اہل سنت اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا
خان علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں پیش کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ما شآء اللٰہ
بڑی عمدہ نفیس کتاب ہے۔ یہ نوعمری اور اوراتنے احسن دلائل کے ساتھ اتنی بلند کتاب
مصنف کے ہونہار ہونے پر دال ہے پھر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں پہلی بار
حاضری کا شرف ملا۔ اس کے بعد آپ کی یہ حالت ہوگئی کہ ہر ہرپیر اور جمعرات کولازمی
اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت کی بارگاہ میں حاضری دیتے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ
آپ پر بہت اعتماد فرماتے اور اہم امور میں آپ سے مشورہ فرماتے تھے۔ اعلیٰ حضرت کے
ترجمۂ قراٰن بنام” کنزالایمان“ پر آپ نے تفسیری حاشیہ خزائن العرفان تحریر
فرمایا۔ جو سابقہ معتمد تفاسیر کا خلاصہ و نچوڑ اور مشہور زمانہ ہر خاص و عام ہے۔
پیر مرشدکی
تلاش: صدر الافاضل علیہ رحمۃ پیر کی جستجو میں ’’ پیلی بھیت شریف قطب پیلی بھیت
حضرت حاجی شاہ جی محمد شیر میاں نقشبندی مجددی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت شاہ جی
محمد شیر میاں علیہ الرحمہ نے بڑی محبت و
کرم سے پیش آئے اور اس سے پہلے کہ صدر الافاضل کچھ کہتے شاہ جی میاں علیہ الرحمہ نے
اپنے انداز میں فرمایا مولانا مراد آباد میں مولانا سیدمحمد گل قادری علیہ الرحمہ بڑی
اچھی صورت میں ہیں ، میں مراد آباد جاتا ہوں تو ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں ، آپ
جس ارادے سے آئے ہیں آپ کا حصہ وہیں ہے۔ چنانچہ صدر الافاضل علیہ الرحمہ مراد آباد
واپس آئے تو حضرت مولاناسید محمد گل قادری علیہ الرحمہ نے دیکھتے ہی ارشادفرمایا : ’’شاہ جی !میاں صاحب کے ہاں ہو آئے، اچھا !پرسوں جمعہ
ہے، نماز فجر کے بعد آئیے تو آپ کا جو حصہ ہے، عطا کیا جائے گا۔ ‘‘ تیسرے روز جمعہ
کو بعد نماز فجر حصرت مولانا شاہ محمد گل علیہ رحمۃ نے قادری سلسلے میں بیعت
فرمایااور جو حصہ تھا عطا کیا۔
دو شہزادوں کی ولادت: حضرت حاجی شاہ جی محمد شیر
میاں نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ نے چلتے وقت دعا دی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دشمنان دین پر فتح مند رکھے اور دو بچے عطا
فرمائے، مراد آباد آنے کے بعد ایک ہفتہ گزرا تھا کہ آپ کے یہاں دو فرزندپیدا ہوئے۔
شرف بیعت اور اجازت و خلافت: آپ نے اپنے استاد مکرم
مولانا شاہ گل محمد قادری علیہ الرحمہ سے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں شرف بیعت حاصل
کی اجازت و خلافت سے نوازے گئے، لیکن حضرت مولانا حافظ محمد گل قادری علیہ الرحمہ
نے بیعت کے بعد آپ کو قطب دوراں، شیخ المشائخ، ہم شبیہ غوث اعظم اعلی حضرت سید
شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی سجادہ نشین درگاہ مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کے سپرد
کردیا، حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ نے آپ سے روحانی اکتساب فیض کیا اور آپ سے
بھی تمغۂ خلافت و اجازت حاصل کیا، حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہ کی
اجازت سے صدرالافاضل علیہ الرحمہ نے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا بریلوی قدس
سرہٗ سے بھی خلافت و اجازت حاصل کی۔
شان تدریس: صدْر الافاضل علیہ رحمۃ اللٰہ العادل نے
۱۳۲۸ ھ میں مراد آباد میں مدرسہ انجمن اہل سنت و جماعت کی بنیاد رکھی جس میں
معقولات و منقولات کی تعلیم کا اعلیٰ پیمانے پر انتظام کیا گیا۔ ۱۳۵۲ ھ میں حضرت
صدْر الافاضل کے اسم گرامی ’’نعیم الدین‘‘ کی نسبت سے اس کا نام جامعہ نعیمیہ رکھا
گیا۔ صدْر الافاضل کو اللٰہ تعالٰی نے بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا ۔ آپ بیک وقت
بہترین مقرر، باعمل مبلغ، منجھے ہوئے مفتی اور پر اثر مصنف و مفسر و محقق محدث
سیاست داں ہونے کے ساتھ ساتھ قابل ترین مدرس بھی تھے ۔ علم حدیث میں تو آپ مشہور
خاص و عام تھے ۔بڑے بڑے علماء کرام اس بات کا اعتراف کیا کرتے تھے کہ جس طرح حدیث
کی تعلیم آپ دیتے ہیں ا ن کے کانوں نے کبھی اور کہیں اس کی سماعت نہیں کی۔اس
جامعیت سے مختصر الفاظ بیان فرماتے تھے کہ مفہوم ذہن کی گہرائیوں میں اتر جاتا
تھا۔فنون عقْلیہ کی کتابوں کی پر مغْز مدلل تقاریر زبانی کیا کرتے تھے ۔درْس کے
وقت اپنے سامنے فنون عقلیہ کی کتاب۔نہ رکھتے تھے ۔جب طلبہ عبارت پڑھ چکتے اور آپ
کتاب پر تقریر فرماتے توایسا گمان ہوتا تھا کہ شاید صدْر الافاضل ہی اس کتاب کے
مصنف ہیں جو کتاب کی گہرائیوں اور عبارت کے رموزواسرار کی وضاحت فرما رہے ہیں
۔علْم التوقیت جسے علم ہیْئت بھی کہتے ہیں اس میں آپ کو خدادادمہارت حاصل تھی
۔آپ نے متعدد کرۂ فلکی تیار کرائے جس میں سبعہ ثوابت(یعنی سات آسمانوں ) اور
سیارگان کو کرہ میں چاندی کے نقطوں سے واضح فرمایا۔جب آپ علم ہیْئتکی تعلیم دیتے
تھے تو وہ کرہ سامنے رکھ کرطلبہ کو گویا آسمان کی سیر کرادیتے تھے۔تدریس میں آپ
کی بے مثال مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بر صغیر ھند و پاک میں
بالواسطہ یا بلا واسطہ بیشتر صدر الافاضل ہی کے شاگرد ہیں
آپ کے مشہور تلامذہ:
آپ کے علمی اور روحانی خوان نعمت سے واسطہ
بالواسطہ مستفیض و مستنیر ہونے والوں کے اسما ٕ فہرست سے جنت نگاہ بناتے چلیں تاکہ
ان کی قصر عظمت کو خراج عقيدت پیش کرتے وقت ہماری عقیدت و احترام کو بادب با ملاحظہ
ہوشیار کی منزل سعادت مل جائے۔
(1) حضرت علامہ سیدابوالبرکات احمدقادری نعیمی علیہ الرحمہ بانی دارالعلوم حزب
الاحناف مرکز الاولیاء لاہور
(2) مفسرقرآن
علامہ سیدابوالحسنات محمداحمد اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ مرکزالاولیاء لاہور
(3)،تاج
العلماء مفتی محمدعمر اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ باب المدینہ کراچی
(4)حکیم الامت مفتی احمدیار اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ گجرات
(5) فقیہ
اعظم مفتی محمدنور اللٰہ اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ بصیرپوراوکاڑہ
(6) فقیہ
اسلام مفتی سیدغلام معین الدین اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ مرکزالاولیاء لاہور
(7)مناظر اسلام مفتی محمدحسین اشرفی نعیمی سنبھلی علیہ الرحمہ بانی جامعہ
نعیمیہ مرکزالاولیاء لاہور
(8) مولاناغلام قادراشرفی نعیمی علیہ الرحمہ
(9)عمدة المحققین مفتی محمد حبیب اللٰہ نعیمی اشرفی
علیہ الرحمہ شیخ الحدیث جامعہ نعیمیہ مرادآباد
(10)غزالئ زماں حضرت علامہ سید سعید احمد کاظمی نعیمی علیہ الرحمہ
(11) مخدوم المشائخ حضرت علامہ سید
شاہ محمد مختار اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ ۔
(12)امام النحو مفتی غلام جیلانی اشرفی نعیمی میرٹھی علیہ الرحمہ
(13)حافظ ملت مولانا عبدالعزیز اشرفی نعیمی مرادآبادی علیہ الرحمہ
(14)ضیاء امت علامہ پیر کرم شاہ نعیمی الازہری علیہ الرحمہ سابق چیف
جسٹس پاکستان۔
(15) مبلغ اسلام مفتی نذیر الاکرم اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ
(16) مفتی اعظم راجستھان علامہ اشفاق حسین صاحب نعیمی علیہ الرحمہ
(17)یادگار اسلاف علامہ محمد اطہر اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ
(18) شمس العلماء قاضی شمس الدین نعیمی جونپوری علیہ الرحمہ
(19)مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن اشرفی نعیمی اڑیسوی علیہ الرحمہ
(20)اجمل العلماء مفتی اجمل حسین نعیمی رضوی سنبھلی علیہ الرحمہ
(21)صاحب تسہیل المصادر ناصح فاسق و و فاجر مفتی عبد الرشید اشرفی
نعیمی علیہ الرحمہ فتح پور
تصنیف وتالیف:حضرت سیدنا صدْر الافاضل علیہ نے بے
پناہ دینی و ملی مصروفیات کے باوجود تصنیف و تالیف کا بڑا ذخیرہ یادگار چھوڑا ۔آپ
نے ۱۳۴۳ھ بمطابق 1924ء میں مرادآبادسے ماہنامہ ’’السواد الْاعْظم ‘‘جاری فرمایاجس
میں مسلمانوں کی خوب تربیت فرمائی ، آپ کی یادگارکتب یہ ہیں
(1) تفسیر خزائن العرفان
(2)نعیم
البیان فی تفسیر القرآن
(3)الکلمۃ العلیا لاعلاء علم المصطفیٰ
(4)اطیب البیان در رد تقویۃ الایمان
(5)اسواط العذاب علی قوامع القباب
(6)آداب الاخیار فی تعظم الآثار
(7)سوانح کربلا
(8)سیرت صحابہ رضی اللٰہ تعالٰی عنہم
(9)التحقیقات لدفع التلبیسات
(10)ارشاد
الانام فی محفل لمولود والقیام
(11)کتاب العقائد
(12)زاد الحرمین
(13)الموالات
(14)گلبن غریب نواز
(15)شرح شرح مائۃ عامل
(16)پراچین
کال
(17)شرح بخاری (نامکمل غیر مطبوع)
(18)شرح قطبی (نامکمل غیر مطبوع)
(19)ریاض نعیم (مجموعہ کلام)
(20)کشف الحجاب عن مسائل ایصال ثواب
(21)فرائد النور فی جرائد القبور
(22)حق کی پہچان
(23)مقالات صدر الافاضل
(24)رسائل صدرالافاضل
(25)فتاوی صدر الافاضل
(26)اسلام اور ہندوستان
(27)حاشیہ بخاری
شعر و سخن : اللہ
تعالیٰ نے حضرت صدْر الافاضل شعر گوئی کا بڑا پاکیزہ ذوق بخشا تھا۔ عربی، فارسی
اور اردو میں بڑی روانی سے شعر کہتے تھے، بلند و بالاتخیلات کو اس عمدگی اور خوبی
سے ادا کرتے کہ سننے والا جھوم جھوم جائے، لیکن آپ سرمایۂ شاعری حمد ونعت ،
منْقبت اور نصیحت آموز اشعار مشتمل ہے آپ کی شاعری کے مجموعے کا نام ’’ریاض
النعیم‘‘ ہے۔ فکر آخرت سے معمور چند اشعار ملاحظہ ہو ں ۔
فصاحت سے کہتے ہیں موئے سفید کہ ہشیار ہو، اب سحر
ہوگئی
خودی سے گزر، چل خدا کی طرف کہ عمر گرامی، بسر
ہوگئی
غم و خون دل کھاتے پیتے رہے غریبوں کی اچھی گزر
ہوگئی
نعیمؔ خطا کار مغفور ہو جو
شاہ جہاں کی نظر ہوگئی
ایک نعت شریف کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
دیکھئے سیمائے انور، دیکھئے رخ کی بہار مہر تاباں
دیکھئے، ماہ درخشاں دیکھئے
دیکھئے وہ عارض اور وہ زلْف مشکیں دیکھئے صبح روشن
دیکھئے ، شام غریباں دیکھئے
جلوہ فرما ہیں جبین پاک میں آیات حق مصحف رخ دیکھئے تفسیر قرآں دیکھئے
یہ نعیم ؔزار کیسا ہجْر میں بے تاب ہے دیکھئے اس کی
طرف، اے شاہ شاہاں دیکھئے
نعیمی دار الافتا: صدْر الافاضل اپنی گوناگوں
مصروفیات کے باوجود دارالافتاء بھی بڑی خوبی اور باقاعدگی کے ساتھ چلاتے، ہندا
وربیرون ہندنیز مراد آباد کے اطراف و اکناف سے بے شمار اسْتفْتا اور اسْتفْسارات
آتے اور تمام جوابات آپ خود عنایت فرماتے۔ بفضلہ تعالٰی فقہی جزْئیاتاس قدر
مسْتحْضر تھے کہ جوابات لکھنے کے لیے کتبْہائے فقْہ کی طرف مراجعت کی ضرورت بہت ہی
کم پیش آتی۔ شہزادۂ صدْر الافاضل حضرت علامہ سید اخْتصاص الدین علیہ الرحمہ
فرمایا کرتے تھے کہ میراث وفرائض کے فتوے کثرت سے آتے مگر حضرت کو جواب لکھنے کے
لیے کتاب دیکھتے ہوئے نہیں دیکھا آج تو ایک بطْن دو بطْن چار بطْن کے فتوے اگر
دار الافتاء میں آجائیں تو گھنٹوں کتابیں دیکھی جاتی ہیں تب کہیں جاکر فتوے کا
جواب لکھا جاتا ہے مگر حضرت صدْر الافاضل کا یہ حال تھا کہ بیس بیس اکیس اکیس بطون
کے فتوے بھی دار الافتاء میں آگئے مگر حضرت بغیر کتاب دیکھے جواب تحریر فرما دیتے
تھے البتہ انگلیوں پر کچھ شمار کرتے ضرور دیکھا جاتا اور آپ کے فتوے کے اسْترداد
کی کبھی نوبت نہیں آئی ۔
خوش نویسی: صدْر الافاضل کی خطاطی ایسی عمدہ اور
قواعد کے مطابق تھی کہ سینکڑوں خوش نویس اس فن میں آپکے شاگرد ہیں ۔ مزید برآں
آپ خطاطی کے ساتوں طرز تحریر میں بے مثال کمال رکھتے تھے
کنزالایمان‘‘ کی پہلی اشاعت: اعلیٰ حضرت، امام
اہلسنت، مولاناشاہ امام احمد رضا کے شہرۂ آفاق ترجمۂ قراٰن ’’ کنزالایمان ‘‘ کی
اولین اشاعت کا سہرا بھی صدْر الافاضل کے سر ہے ۔ کنزالایمان کی اولین، عمدہ اور
خوبصورت طباعت کے لئے صدْر الافاضل نے جامعہ نعیمہ مراد آباد میں ذاتی پریس
لگوایا۔جس میں کام کرنے والے سارے افرادخوش عقیدہ مسلمان تھے جو باوضو ہو
کرکنزالایمان کی کتابت سے لے کر جلد سازی تک کے تمام مراحل بڑے انہماک اور عقیدت
سے طے کرتے تھے۔ اس سارے عمل کی نگرانی صدْر الافاضل خود کرتے تھے۔آج دنیا میں
جوکنزالایمان دستیاب ہے یہ وہی ’’ کنزالایمان ‘‘ہے جسے صدْر الافاض نے شائع کرایا
تھا۔پھر آپ نے کنزالایمان پر تفسیری حاشیہ بنام’’ خزائن الْعرْفان فیْ تفْْسیْر
الْقرْاٰن‘‘لکھا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے پہلا مکمل حاشیہ ہے اور اس کی مقبولیت
کا اندازہ صرف اس ایک بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ آج کنزالایمان اور خزائن
العرفان دونوں لازم وملزوم ہیں
فن مناظرہ: صدر الافاضل کو مناظر ہ میں ایسا درک و
کمال حاصل تھا کہ جب بھی کسی سے مناظرہ ہوا اللہ ﷻ نے فتح و نصرت کا تمغہ آپ کو ہی
عطا فرمایا دشمن ہر گام پر مغلوب ہی رہا آپ مناظر ہ کو منٹوں میں سر کر لیتے تھے
کوٸی بھی عساٸی پادری رافضی آریہ خارجی قادیانی وہابی دیوبندی زیادہ دیر آپکے سامنے ٹہر
ہی نہیں سکتا تھا بلکہ شکست خوردہ ہو کر ذلت سے دم دبا کر بھاگتا تھا یا نام سن کر
ہی مقام مناظر تک پہونچتا ہی نہ تھا جب بھی ضرورت مناظرہ کرنے کی پیش آٸی اعلی حضرت کی نظر آپ ہی پر مرکوز ہوٸی فورا آپنے صدرالافاضل ہی کو اسکی سرکوبی کے لئے بھیجا ۔
حضور صدرالافاضل کی انوکھی کرامت:: حضور صدرالافاضل سید نعیم الدین مرادآبادی
رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ کے ایک بچپن کے دوست محمد حسین صاحب تھے، ایک مرتبہ محمد حسین
صاحب نے آپ رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ سے عرض کی:
حضور میری شادی کو بارہ 12 برس ہوگیے ہیں مگر اب تک
کوئی اولاد نہیں ہے - اتنا سننے کے بعد حضور صدرالافاضل رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ کی
پیشانی پر ایک چمک پیدا ہوئی اور فرمایا : کہ میاں! کلیر شریف جاؤ، وہاں تم کو
اولاد کی بشارت دی جائے گی - محمد حسین صاحب کلیر شریف روانہ ہوگئے - کئی روز تک صابر
پاک کے مقدس دربار میں حاضری دیتے رہے اور حضرت مخدوم صابر پاک کلیری رضیﷲ عنہ سے
عرض کرتے رہے کہ حضور مجھ کو آپ کے دربار میں مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی نے
بھیجا ہے - سرکار کرم فرمائیے اور ﷲ سے دعا کیجئے کہ قادر مطلق مجھے اولاد سے سر
فراز فرمائے۔
ایک روز آستانئہ پاک سے قریب فرش پر سو رہے تھے کہ
سرکار صابر پاک رضیﷲ عنہ خواب میں تشریف لائے اور فرمایا: کہ تمہارے لیے اولاد کا
تحفہ مولانا نعیم الدین کے پاس ہے جاکے لے لو - اتنا سننے کے بعد آپ خوشی کے عالم
میں بیدار ہوئے اور مرادآباد حضور صدرالافاضل رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں
تشریف لے آئے - ابھی محمد حسین صاحب نے کلیر شریف کے تعلق سے کچھ کہا بھی نہیں تھا
کہ حضور صدرالافاضل نے وہ ساری باتیں جو صابر پاک (رضیﷲ عنہ) نے محمد حسین صاحب کو
حالت خواب میں بتائی تھیں بیان فرمادیں، گویا کہ خواب محمد حسین صاحب نے نہیں بلکہ
حضور صدرالافاضل نے دیکھا ہو - حضرت نے مسکراتے ہوئے فرمایا :
میں آپ کو اولاد ہونے کی بشارت دیتا ہوں اتنا سننا
تھا کہ محمد حسین صاحب خوشی سے جھومنے لگے اور بولے :
حضور ہونے والے بچے کا نام بھی بتادیں - حضرت نے
تبسم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بچے کا اصلی نام محمد اور پکارنے کے لیے فضیل
رکھنا - جب نو 9 ماہ گزرے تو محمد حسین صاحب کے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا اس کو
بارگاہ صدرالافاضل میں لایا گیا آپ نے اس کا اصلی نام محمد اور پکارنے کے لیے فضیل
نام رکھا - محمد حسین صاحب نے کہا :
حضور دوسرا بچہ کب ہوگا؟
آپ رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : دو سال بعد -
چنانچہ ایسا ہی ہوا، دو سال کے بعد جب دوسرا بچہ
ہوا تو محمد حسین صاحب نے عرض کی : حضور! تیسرا بچہ کب ہوگا؟
آپ رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: دو سال بعد -
چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب محمد حسین صاحب کے تین بیٹے ہوگئے تو انہوں نے حضور
صدرالافاضل کی بارگاہ میں عرض کی کہ حضور ایک بیٹی کے لیے دعا فرمائیں - آپ رحمتہﷲ
تعالیٰ علیہ نے دعا کی اور ارشاد فرمایا کہ دو سال بعد بیٹی ہوگی اس کا نام
کنیز فاطمہ رکھنا - چنانچہ
ایسا ہی ہوا اور اس بچی کا نام کنیز فاطمہ رکھا گیا -
قربان جائیے حضور صدرالافاضل رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ کی
نگاہ عنایت پر جو مصطفی صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کے غلام ہو کر محمد حسین
صاحب کو ﷲ عزوجل کے حکم سے اولاد سے نواز تے ہیں - جب مصطفیٰ صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم
کے غلام سید نعیم الدین کی شان کا یہ عالم ہے تو رسول خدا صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم کی
شان کا عالم کیا ہوگا -
کیا ہی خوب کہا ہے :
جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہان زمانہ کی جھولی
محتاج کا جب یہ عالم ہے مختار کا عالم کیا ہوگا-
حضور صدرالافاضل سخاوت کے بادشاہ تھے:
حضور صدرالافاضل سید نعیم الدین اشرفی مرادآبادی
علیہ الرحمہ اپنے جد امجد صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم کے خلق عظیم کے مظہر تھے، مصاحبین
پر پروانہ وارنثار ہونے کا جزبہ رکھتے تھے، تلامذہ سے والہانہ محبت رکھتے تھے، آپ
کی خدمت عالیہ میں دیگر مقامات سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بغرض استفادہ بکثرت
علماء کرام آتے تھے، اس دوران ان سب کی کفالت آپ فرماتے اور ان کو کافی انعام
واکرام سے نوازتے تھے - چنانچہ
اس سلسلہ میں حضرت علامہ مفتی یونس صاحب نعیمی
اشرفی (ناظم جامعہ نعیمیہ لاہور پاکستان) ارشاد فرماتے ہیں:
میں نے نو 9 سال جامعہ نعیمیہ مرادآباد میں رہ کر
کبھی کسی سائل کو حضور صدرالافاضل بارگاہ سے خالی ہاتھ جاتے نہ دیکھا بلکہ میری
آنکھوں نے ایسا بھی دیکھا کہ سائلوں کو آپ نے اپنے بدن کے کپڑے تک دے دیے - اور
متعدد غربا، مساکین، بیواؤں اور یتیموں کو آپ کے در دولت سے پلتا دیکھا، ہر غریب
ومسکین کو سہارا دینا آپ کا مشغلہ تھا اور جس کو آپ نے سہارا دے دیا وہ اپنے پیروں
پر کھڑا ہوگیا
بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں صدر
الافاضل:
حضرت سیدنا صدْر الافاضل علیہ الرحمہ کی وفات سے
قبل حضرت مولانا مفتی سیدغلام معین الدین اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ نے ایک ایمان
افروز خواب دیکھا کہ ایک نہایت عالی شان بقْعۂ نور کمرہ ہے، چاروں طرف قالین پر
گاؤ تکیے لگے ہوئے ہیں ، ایک طرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللٰہ تعالٰی عنہ
رونق افروز ہیں ، ایک طرف حضرت سیدنا عثمان ذوالنورین، ایک طرف حضرت سیدنا مولیٰ
علی مشکلکشا علی مرتضٰی کرم اللٰہ تعالٰی وجہہ الکریم ایک طرف حضرت سیدنا ابوہریرہ
اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللٰہ تعالٰی عنہم تکیہ لگائے رونق افروز ہیں ، آخر میں
ایک کونے پر ایک نشست خالی ہے، کمرے کے دروازہ پر حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللٰہ
تعالٰی عنہ کسی کے انتظار میں کھڑے ہیں کہ ایک طرف سے سفید عمامہ باندھے سفید ململ
کی اچکن پہنے حضرت صدْر الافاضل مولاناسید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ
اللٰہ الہادی آرہے ہیں ۔ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : تمہاری نشست اندر خالی ہے۔ آپ نے عرض کی : میرے لیے یہی بڑی سعادت ہے کہ جوتیوں میں جگہ مل
جائے ، مگر حضرت سیدنافاروق اعظم رضی اللٰہ تعالٰی عنہ ہاتھ پکڑ کر اندر لےآپ اندر
یہ کہہ کر اندر داخل ہوگئے : ’’ الْامْرفوْق الْادب ( یعنی حکم ادب پر فوقیت رکھتا
ہے )۔اس خالی نشست میں آپ کو لے جا کر بٹھایا گیا، آپ ابھی پورے بیٹھے بھی نہیں
تھے کہ میری آنکھ کسی وجہ سے کھل گئی۔ صبح میں نے حضرت صدْر الافاضل کے سامنے اپنا
خواب بیان کیا، جسے سن کر حضرت کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل آئے، فرمایا : ’’میرا انتظار ہے، اب میں جارہا ہوں ، یہی اس کی
تعبیر ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ نے اپنی غیر منقولہ جائیداد کو اپنے چاروں صاحبزادوں کو منتقل
فرمایا۔ منقولہ جائیداد کو تقسیم کیا، صرف آٹھ سو روپیہ اپنے تجہیز و تکفین اور
علاج وغیرہ کے لیے باقی رکھا
مدینے کا مسافر ہند سے پہنچا مدینے میں
حکیم الْامت مفتی احمد یار نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ
حج بیت اللٰہ پر تشریف لے گئے ۔ جب آپ مدینۂ منورہ میں جب سرکار دو عالم صلی
اللٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے دربار گہربار میں حاضر ہوئے تو سنہری جالیوں کے
قریب دیکھا کہ حضرت صدْر الافاضل علیہ الرحمہ بھی مجمع میں موجود ہیں ۔ملاقات کی
ہمت نہ ہوئی کیونکہ باادب لوگ تو وہاں بات چیت نہیں کر تے ۔صلوٰۃ و سلام سے فارغ ہونے
کے بعد باہر تلاش کیا مگر ملاقات نہ ہوئی
قطب مدینہ مولانا ضیا ء الدین مدنی علیہ الرحمہ کے
دربار فیض آثار پر حاضر ہوئے کہ عرب و عجم کے تمام علمائے حق اور مشائخ کرام
حرمیْن طیبینْکی حاضری کے دوران آپ کی زیارت کے لئے ضرور حاضر ہوتے تھے۔ وہاں بھی
حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ کے متعلقْ کوئی معلومات حاصل نہ ہوئیں ۔حیران تھے کہ
صدر الافاضل علیہ رحمۃ اللٰہ العادل اگر تشریف لائے ہیں تو کہاں گئے؟ دریں اثنا
مراد آباد(بھارت) سے تار علامہ ضیا ٕ الدین مدنی کے آستان عرْش نشان پر آیا کہ
فلاں دن فلاں وقت حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین صاحب رحْمۃ اللہ تعالٰی
علیْہ کامراد آباد میں وصال ہو گیا ہے ۔مفسرشہیر حکیم الْامت حضرت مفتی احمد یار
خان علیہ الرحمہ نے جب وقت ملایا تو وہی وقت تھا جس وقت سنہری جالیوں کے قریب صدر
الافاضل علیہ الرحمہ نظر آئے تھے ، فورا سمجھ گئے کہ جیسے ہی انْتقال فرمایا،
بارگاہ رسالت صلی اللٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم میں صلوٰۃوسلام کے لئے حاضر
ہوگئے۔ ؎
مدینے کا مسافر ہند سے پہنچا مدینے میں
قدم رکھنے کی نوبت بھی نہ آئی تھی سفینے میں
وفات حسرت آیات : معین
العلما حضرت علامہ سید شاہ غلام معین الدین نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ بیان فرماتے
ہیں کہ حضور صدرالافاضل (رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ) نے وصال سے چند منٹ پہلے مرید کرنے
کا سلسلہ بند کیا اور کچھ وقفہ کے لیے خاموش ہوگیے، پھر اس کے بعد چشم پاک کھولی
آپ کے لبوں پر مسکراہٹ تھی، معلوم ہوتا تھا جیسا کہ آپ کے سامنے نبی اکرم نور مجسم
سرور عالم صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوں بلند آواز سے کلمئہ طیبہ کا ورد کر
رہے تھے، پیشانی مبارک پر بے حد پسینہ آرہا تھا، (امام بخاری علیہ الرحمہ کے وصال
کے وقت بھی پسینہ نکل رہا تھا - اسلاف کرام ارشاد فرماتے ہیں کہ بوقت وصال پسینہ
آنا خاتمہ بالخیر کی علامت ہے) پھر آپ نے وصال سے کچھ لمحے قبل از خود قبلہ رخ
ہوکر اپنے دستہائے پاک اور قد مہائے ناز کو سیدھا کر لیا تھا اور آواز دھیرے دھیرے
مدھم ہوتی چلی گئی، جب شہزادگان نے کان لگا کر سنا تو آپ کی زبان مبارک پر کلمہ
طیبہ جاری تھا، پھر اس کے بعد آپ کے سینہ مبارک پر نور کی ایک لہر چمکی اور علم
وعمل کا یہ جبل استقامت، زہد وتقوی کا سیل رواں اہل سنت کا تاجدار، علم وفضل کا
گوہر، آبدار حقیقت ومعرفت کا شہسوار، ملت اسلامیہ کا غمخوار، اعدائے اسلام کے لیے
تیز تر تلوار، ہم شبہ غوث اعظم سید شاہ علی حیسن اشرفی میاں علیہ الرحمہ سے اکتساب
فیض کرنے والا سواد اعظم کا ناظر اور امت رسولﷲ صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ناصح،
شریعت وطریقت کا آفتاب 18 ذی الحجہ 1367ھ مطابق 23 اکتوبر 1948ء بروز جمعہ 12 بج
کر کچھ منٹ پر تمام محبین کو داغ مفارقت دے کر ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا - انا للہ
وانا الیہ راجعون
مزار پر انوار: جامعہ نعیمیہ (مراد آباد)کی مسجد کے بائیں گوشے
میں آپ کی آخری آرام گاہ مرجع خلاٸق ہے ۔
عرس مبارک: ہر سال16/17/ 18 ذی الحجہ کو آپ کا عرس مبارک بڑے
تزک و احتشام بہت دھوم دھام سے منایا جاتا ہے - کثیر تعداد میں عوام وخواص حاضر
ہوکر آپ فیض حاصل کرتے ہیں۔
ماخذ و مراجع:فتاوی صدر الافاضل ،رسائل صدر الافاضل
،حیات صدر الافاضل ،تذکرہ صدر الافاضل ،سوانح صدر الافاضل ،تاریخ اسلام کی عظیم
شخصيت صدر الافاضل ،کرامت صدر الافاضل
(بشکریہ محمد قاسم القادری نعیمی اشرفی چشتی غفرلہ
اللہ القوی شیش گڑھ بریلی شریف خادم غوثیہ دار الافتا صدیقی مارکیٹ کاشی پور
اتراکھنڈ رابطہ 9927726506)

