امام السنہ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ

 

نام و نسب:آپ علیہ الرحمہ کا نام احمد، ابو عبد اللہ کنیت، شیخ الاسلام اور امام السنہ القاب، شیبانی، بصری، مروزی اور بغدادی نسبتیں ہیں ۔

سلسلہ نسب : آپ علیہ الرحمہ کاسلسلہ نسب کچھ یوں بیان کیاجاتا ہے ’’احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن اسد بن ادریس بن عبد اللہ بن حیان بن عبد اللہ بن انس بن عوف بن قاسط بن مازن بن شیبان‘‘۔

ولادت باسعادت: آپ علیہ الرحمہ کی ولادت ماہِ ربیع الاول164ھ بغداد میں ہوئی۔ (تہذیب الاسماء و اللغات، جز:1، صفحہ :112)

آپ خالص عربی النسل تھےاور جس خاندان میں پیدا ہوئے وہ خاندان اپنی شجاعت، دلیری اور غیرت و حمیت کیلئے ہمیشہ سےمشہور تھا۔آپ کے دادا حنبل امویوں کے عہد میں سرخس کے گورنر اور والد محمد ایک بہادر سپاہی تھے۔ امام احمد علیہ الرحمہ صرف تین سال کے تھے کہ والدمحترم کاتیس سال کی عمرمیں انتقال ہوگیا؛ آپ کی پرورش والدہ ماجدہ نے فرمائی۔دنیوی و جاہت کی طرح علمی حیثیت میں بھی یہ خاندان بہت ممتاز تھا اس میں متعدد علماء ، فضلاء، مقررین، شعراء اور ماہرینِ اَنساب گزرے ہیں۔

تحصیلِ علم:آپ کی تعلیم کا سلسلہ اوّل عمری ہی میں شروع ہوگیا۔ چار (4) سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا سات (7)سال کی عمر میں حدیث پڑھنا شروع کردی اور پندرہ، سولہ سال کی عمر میں باقاعدہ حدیث پاک کی طلب و تکمیل میں مصروف ہوگئے۔اِمام احمدعلیہ الرحمہ عرصہ تک بغدادہی میں رہ کروہاں کےمشائخ سےسماع کرتےرہے۔بعد ازاں آپ نے دوسرے مشہور مراکز حدیث کوفہ، بصرہ، مکہ، مدینہ، یمن، شام اور جزیرہ وغیرہ کا رخ کیا۔

شیوخ و اساتذہ:شروع میں اِمام احمدعلیہ الرحمہ بغداد کے علماء وفضلاء کے دامنِ فیض سے وابستہ رہے ۔بغداد میں آپ کی نظر سب سے پہلے مشہور محدث حافظ ہشیم بن بشیر پر پڑی جو حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن عمر (رضی اللہ عنہما) کی مرویات کے معتبر عالم تھے۔4سال تک اسی خرمن علم کی خوشہ چینی کرتے رہے جب یہ آفتابِ علم غروب ہو گیا تو دوسرے اساتذہ فن کی طرف متوجہ ہوئے۔اِمام احمدعلیہ الرحمہ کے اساتذہ میں سب سے زیادہ ممتاز و باکمال شخصیت سیدنا امام شافعی علیہ الرحمہ کی ہے ۔آپ نے ان سے صرف علم فقہ کے حصول پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فقہ کے علاوہ حدیث و انساب کا علم بھی ان سےحاصل کیا ۔ امام شافعی(رحمۃ اللہ علیہ) جب تک بغداد میں رہے آپ ان کے حلقہء درس سے وابستہ رہے جب وہ مصر تشریف لے گئے تو امام احمد نے بھی وہاں جانا چاہا مگربوجہ عسرت و ناداری، وہاں جانے کا موقع نہ ملا۔اِمام احمدعلیہ الرحمہ کو امام شافعی کی ذات سے بڑی عقیدت تھی وہ ان کا ہمیشہ بڑا احترام کرتے تھے ۔جب امام شافعی سوار ہوتے تو آپ کے پیچھے پیدل چلتے ہوئے ان سے سوال کرتے جاتے تھے ۔اِمام احمد(رحمۃ اللہ علیہ) کا بیان ہے میں نے30سال سے کوئی ایسی نماز نہیں پڑھی جس میں امام شافعی کے لیے دعا نہ کی ہو۔

اپنے استاد سے عقیدت و محبت کایہ ایک بہت بڑا ثبوت ہے لیکن ساتھ ہی ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اس انتہاء کی عقیدت کے باوجود علمی اختلاف روا رکھا اور ایک نئے مذہب کو جنم دیا اور جس سے اسلام کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔مزید براں یہ بھی استدلال کیا جاسکتا ہے کہ علمی اختلاف ہرگز بےادبی استاد میں شمار نہیں ہوتا۔

شفیق استاد کوبھی اپنے لائق شاگردسے بڑی محبت تھی اور ان کے علم و فضل، ذہانت، تقوی پر بڑا اعتماد تھا۔ ان سے روایت بھی کرتے تھے اور فتوی دیتے وقت ان سے مشورہ بھی کرتے تھے فرط تعلق کی بنا پر اکثر ان کے گھر بھی تشریف لے جایا کرتے تھے۔مذکورہ دو شخصیات کے علاوہ جن سے اکتسابِ علم کیا ان میں چند مشہورشخصیات درج ذیل ہیں۔

’’اسماعیل بن علیہ، حماد بن خالد، منصور بن سلمہ خزاعی، مظفر بن مدرک، عثمان بن عمر بن فارس، ابو سعید مولی بن ہاشم، محمد بن یزید، محمد بن ابو عدی، محمد بن جعفر غندر، یحی بن سعید قسطان، عبد الرحمٰن بن مھدی، بشر بن مفضل، محمد بن بکر برسانی، ابو داؤد طیالسی، روح بن عبادہ، وکیع بن جراح، عبد اللہ بن نمیر، ابو اسامہ، سفیان بن عیینہ، یحی بن سلیم طائفی، ابراہیم بن سعد زہری، عبد الرزاق بن ہمام، ولید بن مسلم، ابو مسہردمشقی، علی بن عیاش اور بشر بن شعیب بن ابو حمزہ‘‘۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین (تاریخ بغداد، ج:6، صفحہ :90)

تلامذہ: سیدنا امام احمدبن حنبل علیہ الرحمہ کے تلامذہ کےمختلف طبقے ہیں۔حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ : ’’آپ کے اساتذہ میں سے امام شافعی، وکیع بن جراح، یحی بن آدم، ابو الولید، امام عبد الرزاق بن ہمام اور یزید بن ہارون نے آپ سے سماع کیا۔آپ کے زمانے کے اکابرین میں سے قتیبہ بن سعید، داؤد بن عمرو، خلف بن ہشام نے آپ سے سماع کیا۔معاصرین میں سے احمد بن ابی حواری، یحی بن معین، علی بن مدینی، حسین بن منصور، زیاد بن ایوب، ابو قدامہ سرخسی، محمد بن رافع اور محمد بن یحی بن ابی سمینہ(رحمۃ اللہ علیہم) نے آپ سے سماع حدیث کیا۔

ان کے علاوہ امام بخاری علیہ الرحمہ ، امام مسلم علیہ الرحمہ ، امام داؤد علیہ الرحمہ ، اسود بن عامر ابن مہدی علیہ الرحمہ اور آپ کے دونوں صاحبزادے عبد اللہ علیہ الرحمہ ، صالح علیہ الرحمہ اور ابوبکر اثرم علیہ الرحمہ کوآپ سے شرفِ تلمذ حاصل ہے۔

علم وفضل اور آئمہ کرام کی آراء:سیدنا امام احمد بن حنبل(رحمۃ اللہ علیہ) محدثین اور فقہاء میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے تبحر علمی،مہارتِ فن، صدق و ثقاہت، قوت حفظ و ضبط میں ایک مینارہ نور کی حیثیت رکھتے تھے آپ کی ذات حدیث، فقہ، حفظ، صدق، ورع اور زہد کی جامع تھی۔ابو زرعہ فرماتے ہیں: ’’میں نے آپ کے علاوہ کوئی جامع شخصیت نہیں دیکھی اور نہ ہی آپ کے علاوہ کوئی کامل شخصیت دیکھی ہے کہ جس میں زہد، فقہ، فضل اور بہت ساری چیزوں کا اجتماع پایا جاتا ہو‘‘۔(تہذیب الاسماء و اللغات، جز:1، صفحہ :111)

اسی جامعیت و کاملیت کی وجہ سے قتیبہ بن سعید فرماتے ہیں: ’’احمد امام الدنیا‘‘"امام احمد علیہ الرحمہ دنیا کے امام ہیں۔

علم و فضل کے میدان میں آپ کی ذات حجت کی حیثیت رکھتی ہے یہی وجہ ہے محمد بن اسحاق بن ابراہیم الحنظلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا:  ’’امام احمد بن حنبل اللہ تعالیٰ کی زمین میں اللہ اوراس کے بندوں کے درمیان حجت ہیں‘‘۔ (تاریخ بغداد، ج:6، صفحہ :90)

 اسماعیل بن خلیل علیہ الرحمہ فرماتے ہیں’’: اگر ا حمد بن حنبل بنی اسرائیل میں ہوتے تو ایک نشانی ہوتے‘‘۔(تاریخ بغداد، ج:6، صفحہ :90)

 علمی میدان میں آپ ایسے بلند پایہ مرتبے پر فائز ہیں کہ علمائے امت نے ان کی مدح و توصیف کو تقوی و دیانت کا ثبوت اور ذم و تنقیص کو ایمان کے منافی اور نفاق کی علامت قرار دیا ہے۔

سفیان بن وکیع علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ)کی عیب جوئی کرنے والا فاسق و فاجر ہے ۔احمددورقی فرماتے ہیں’’امام احمد کی مذمت کرنےوالے کو بے دین سمجھو‘‘۔ (تہذیب التہذیب، جز:1، صفحہ :74)

آئمہ کرام نے آپ کے علم و فضل اور ثقاہت کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے ۔امام نسائی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’ آپ ثقہ ومامون آئمہ میں سے ایک ہیں‘‘۔(تہذیب التہذیب، جز:1، صفحہ :74)

ابن سعد  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’آپ ثقہ، ثابت، صدوق اور کثیر الحدیث تھے‘‘۔(تہذیب التہذیب، جز:1، صفحہ :76)

امام عجلی سعد  علیہ الرحمہ فرماتےہیں: ’’آپ ثقہ حدیث میں ثابت اور حدیث میں فقیہ آثار کی اتباع کرنےوالے صاحب سنہ اور خیروالےہیں‘‘۔(تہذیب التہذیب، جز:1، صفحہ :74)

قتیبہ بن سعید سعد  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’اگر امام احمد امام ثوری، امام مالک، امام اوزاعی اور لیث بن سعد کا زمانہ پاتے تو ان سے مقدم ہوتے‘‘۔ (الجرح و التعدیل، جز:1، صفحہ :293)

عبد الرحمٰن بن مہدی امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’یہ سفیان ثوری کی روایت کردہ احادیث کے سب سے بڑے عالم ہیں‘‘۔(الجرح و التعدیل، جز:1، صفحہ :292)

امام ابو جعفر نفیلی فرماتے ہیں: ’’امام احمد بن حنبل دین کی نشانیوں میں سے تھے‘‘۔(الجرح و التعدیل، جز:1، صفحہ :293)

ابو نصر بن ماکولا سعد  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’آپ صحابہ و تابعین کے مذاہب سے سب سے زیادہ واقفیت رکھنے والے تھے‘‘۔(تہذیب التہذیب، جز:1، صفحہ :75)

اسحاق بن راہویہ سعد  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ: ’’اسلام کی خاطر امام احمد بن حنبل کی قربانیاں نہ ہوتیں تو آج ہمارے سینوں میں اسلام نہ ہوتا‘‘۔(تہذیب التہذیب، جز:1، صفحہ :75)

ابراہیم الحربی سعد  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’میں نے امام احمد کو دیکھا گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے اولین اور آخرین کا علم جمع فرما دیا ہے‘‘۔(طبقات الشافیہ الکبری، جز:2، صفحہ :28)

اِمام احمدعلیہ الرحمہ علم اور شریعت میں اتنے کامل تھے کہ آپ کے ساتھ محبت کرنے والے کو صاحب سنہ کہا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ قتیبہ بن سعید فرماتے ہیں: ’’جب تو کسی آدمی کو امام احمد کے ساتھ محبت کرنے والا دیکھے پس تو جان لے وہ صاحب سنت ہے‘‘۔(طبقات الشافیہ الکبری، جز:2، صفحہ :28)

حفظ و ضبط:امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بڑے بلند پایہ محدث تھے۔ ایک محدث کے لئے ضروری ہے علم حدیث میں کمال حاصل کرنے کے لئے حفظ و ضبط میں ماہر ہو۔اِمام احمدعلیہ الرحمہ حفظ و ضبط کی دولت سے مالا مال تھے۔آپ کا حافظہ غیر معمولی اور یاداشت حیرت انگیر تھی۔آپ کی قوت حافظہ کا کمال اس سے ظاہر ہے آپ نے چار سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔الغرض آپ(رحمۃ اللہ علیہ) ان تمام اوصاف و کمالات سےمتصف تھے جو ایک محدث میں ہونے چاہئیں مؤرخین فرماتے ہیں کہ آپ کے پاس بارہ گٹھڑوں کی مقدار کتابیں تھیں وہ سب آپ کو یاد تھیں۔

علی بن مدینی آپ کے حفظ وضبط کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ’’ہمارے اصحاب میں امام احمد بن حنبل سے بڑھ کر کوئی حافظ نہیں تھا‘‘۔(تہذیب الاسماء و اللغات، جز:1، صفحہ :111)

امام احمد  علیہ الرحمہ خود فرماتے ہیں: ’’امام ہشیم علیہ الرحمہ کا جب وصال ہوا اس وقت میری عمر بیس سال تھی ان سے جو بھی سنا اس کو یاد کر لیتا تھا‘‘۔(الجرح و التعدیل، جز:1، صفحہ :295)

آپ کے حفظ و ضبط کےکمال کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ عبد اللہ بن احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ : ’’میرے والد گرامی نے فرمایاآپ وکیع بن جراح کی کوئی بھی کتاب لے کر مجھ سے سوال کریں ۔اگر آپ کلام پڑھ کر اسناد کے بارے سوال کریں گےتو میں اسناد کی خبر دوں گا اگر آپ اسناد پڑھ کر کلام کے بارے سوال کریں گے تو میں اس کی بھی خبر دوں گا‘‘۔(طبقات الشافیہ الکبری، جز:2، صفحہ :28)

اِمام احمدعلیہ الرحمہ حدیثوں کے فقط معتبر ناقل و حافظ ہی نہ تھے بلکہ روایتوں میں امتیاز کا بھی پورا پورا ملکہ رکھتے تھے۔ ابو حاتم رازی فرماتے ہیں: ’’امام احمد بن حنبل صحیح اور سقیم حدیثوں کی معرفت میں بہت زیادہ سمجھ رکھتے تھے‘‘۔ (تہذیب الاسماء و اللغات، جز:1، صفحہ :111)

امام شافعی علیہ الرحمہ کو ان کی بصیرت و حفظ پر اس درجہ اعتماد تھاکہ آپ اکثر فرماتے تھے جب کوئی روایت تمہارے معیار پرصحیح و ثابت آجائے تو مجھے بتلا دو میں اس کوبےتکلف قبول کرلوں گا۔

زہد وتقوٰی:امام احمد علیہ الرحمہ زہد و تقوی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے آپ کے زہد کا یہ عالم تھا کہ جب خلق قرآن کے انکار کے جرم میں آپ کو کوڑے لگائے گئے اور بدن لہو لہان ہوگیا اس وقت بھی ابن سماعہ کی اقتداء میں نماز ادا کی انہوں نےاعتراض کیا کہ خون سے لت پت ہونے کے باوجود آپ نے نماز پڑھی تو آپ نے جواب دیا کہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کاجسم بھی لہو لہان ہو گیا تھا مگر انہوں نےبھی اسی حالت میں نماز ادا کی تھی۔علمی اور نظری مصروفیات کے باوجود امام احمد علیہ الرحمہ عبادات میں قدم راسخ رکھتے تھے۔آپ کے صاحبزادے عبد اللہ فرماتے ہیں آپ دن اور رات میں300نفل ادا فرمایا کرتے تھے۔جب آپ کی عمر 56سال کو پہنچی آپ مسئلہ خلق قرآن کے امتحان میں مبتلا ہوئے آپ کے جسم پر کوڑے مارے جاتے تھے لیکن آپ اس حال میں بھی روزانہ150نوافل پڑھا کرتے تھے۔(حلیۃ الاولیاء: جز:9، صفحہ :171)

آپ علیہ الرحمہ عشاء کے بعد تھوڑی دیر تک آرام فرماتے پھر ساری رات نماز اور یاد الٰہی میں گزارتے ابو بکر مروزی فرماتے ہیں کہ میں نےچار مہینے ان کے ساتھ قیام کیا اس عرصہ میں کبھی انہوں نے تہجد ترک نہیں کی۔

امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ فقر و فاقہ میں استغناء کی شان رکھتے تھے : ’’ایک مرتبہ کھانے کے لئے کچھ نہ تھا مجبور ہوکر اپنی نعلین گروی رکھ کر روٹیاں خریدیں امام عبد الرزاق کو پتہ چلا تو انہوں نے آپ کو رقم مہیا کی لیکن آپ کے غیور ضمیر نے ان سے کچھ لینا گوارا نہ کیا اور خود محنت ومشقت کر کے اپنی ضرورت پوری کی۔ (حلیۃ الاولیاء: جز:9، صفحہ :175)

’’حسن بن عبد العزیر کو ایک لاکھ دینار وراثت میں ملےانہوں نےان میں سے 3000دینار آپ کی خدمت میں پیش کیےعرض کی یہ مال حلال ہےآپ اس سےفائدہ اٹھائیں لیکن آپ نے یہ کَہ کر دینار واپس کردیے کہ مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔(حلیۃ الاولیاء: جز:9، صفحہ :175)

آپ کے صاحبزادے عبد اللہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ: ’’اگرکسی شخص کو امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کی تلاش ہوتی تو آپ اس کو مسجد میں ملتے یا نماز جنازہ میں یا کسی مریض کے ہاں عیادت میں ملتے۔ (حلیۃ الاولیاء: جز:9، صفحہ :184)

امام احمد اور فتنہ خلق القرآن:آئمہ مسلمین کے لئے212ہجری انتہائی صبرآزما سال تھا۔اسی سال عباسی خلفاء کےایک خلیفہ مامون رشید نے خلق قرآن کے مکروہ عقیدہ کا اظہار کیا اور علماء معتزلہ کی معاونت سے اس عقیدہ کو پھیلاتا رہا۔217 ہجری میں اس نے بغداد میں اپنے نائب اسحاق بن ابراہیم معتزلی کو لکھا تم بغداد کے تمام علماء اور مقتدر لوگوں کو جمع کرو ان پر خلق قرآن کا عقیدہ پیش کرو جومان لے اس کو امان دو جو نہ مانے ان کے جوابات لکھ کر مجھے بھیج دو۔بہت سے لوگ اپنی جان بچانے کے لئے معتزلی عقیدہ خلقِ قرآنی کے قائل ہوگئے۔امام احمد بن حنبل سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہتا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔قاضی اسحاق بن ابراہیم نے یہ جواب مامون رشید کو لکھ کر بھیجا۔مامون رشید نے جواب میں لکھا جو شخص عقیدہ خلقِ قرآنی سے موافقت نہ کرے اس کو درس و افتاء سے روک دو۔ کچھ عرصہ بعد مامون رشید نے قاضی بغدادکو لکھاکہ جو لوگ عقیدہ خلق قرآن کا اقرار کرلیں تو ٹھیک ورنہ ان کو قتل کردیا جائے۔اس دھمکی سے مرعوب ہو کر امام احمد بن حنبل، محمد بن نوح اور امام قواریری کے سوا بغداد کے کئی علماء نے خلقِ قرآن کا اقرار کیا۔قاضی کے حکم سے امام احمد وغیرہ کو قید کرکے مامون کی طرف بھجوادیا گیا لیکن اس سے پہلے کہ مامون ان مردانِ خدا پر تلوار اٹھاتا سیفِ قضا نے خود اس کا کام تمام کردیا۔(تاریخ الخلفاء، صفحہ :236۔240)

امام احمد کے شاگرد احمد بن غسان علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ: ’’ خلیفہ کے حکم پر مجھے اور امام احمد بن حنبل کو گرفتار کر کے اس کے پاس لے جایا جا رہا تھا۔راستہ میں امام احمد بن حنبل کو یہ خبر پہنچی کہ خلیفہ مامون نے قسم کھائی ہے اگر احمد بن حنبل نے خلق قرآن کا اقرار نہ کیا تو وہ ان کو اور ان کے شاگرد کو مار مار کر ہلاک کردے گا۔اس وقت امام احمد نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر عرض کی اے اللہ! آج اس فاجر کو یہاں تک جرأت ہوگئی ہے کہ یہ تیرے اولیاء کو للکارتا ہے اگر تیرا قرآن غیر مخلوق ہے تو ہم سے اس مشقت کو دور فرما۔ابھی رات کا ایک تہائی حصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ سپاہی دوڑتے ہوئے آئے اور کہا اے ابو عبد اللہ تم واقعی سچے ہو قرآن غیر مخلوق ہے قسم بخدا خلیفہ ہلاک ہوگیا‘‘۔ (حلیۃ الاولیاء: جز:9، صفحہ :195)

218ہجری میں خلیفہ مامون ہلاک ہوا اس کا بھائی معتصم باللہ تختِ حکومت پر قابض ہوا۔مامون کی طرح معتصم بھی اعتزال کا حامی تھا اس نے حکومت سنبھالنے کے بعد عقیدہ اعتزال کی ترویج شروع کی۔ پہلے مختلف حیلوں سے امام احمد کو اعتزال کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا رہا بالآخر 220ہجری میں اس نے امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کو دربار خلافت میں طلب کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب امام احمد علیہ الرحمہ کی عمر56سال کی ہو چکی تھی۔شباب رخصت ہوچکا تھا جیل کی صعوبتوں کے باعث ان کا جسم بڑھاپے کی سرحد میں داخل اور نحیف و نزار تھا لیکن اعصاب فولاد کی طرح مضبوط اور قوت ارادی چٹان سے کہیں زیادہ مضبوط تھی ، اُن کے ایمان کی عظمت و مضبوطی پہ ہم جیسے گناہگار بھلا کیا استعارہ یا تشبیہ قائم کر سکتے ہیں جن کی قوتِ ایمانی سے آج ہمارا ایمان محفوظ ہے ۔

خلیفہ کے سامنے ایک طویل مناظرہ ہوا اِمام احمدعلیہ الرحمہ کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ قرآن کلام اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اگر یہ حادث ہوتو اللہ تعالیٰ کی ذات محل حوادث بن جائے گی اور یہ محال ہے خلیفہ کے پاس اِمام احمدعلیہ الرحمہ کی اس دلیل کا کوئی جواب نہیں تھا۔بالآخر معتزلی قاضی اور اس کے حواری معتزلہ علماء نے کہا ہم فتویٰ دیتے ہیں کہ اس شخص کا خون آپ پر مباح ہے آپ اس کو قتل کریں خلیفہ نے جلاد کو بلایا اور اس سے کہا کہ احمد بن حنبل کو کوڑے مارو ایک جلاد جب کوڑے مارتے مارتے شل ہوجاتا تو دوسرا جلاد آجاتا اس طرح بار بار جلاد بدلتے رہے اور امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ صبرو استقامت سے اپنے تن پر کوڑے برداشت کرتے رہے۔اِمام احمدعلیہ الرحمہ خودفرماتے ہیں کہ آخر میں مار کی شدت سے میرے ہوش و حواس بجانہ رہے۔اور تکلیف کا احساس تک ختم ہوگیا اس سے خلیفہ خوفزدہ ہوگیا اس نے رہائی کا فرمان جاری کردیا اور پورے 80 کوڑے لگائے جانے کے بعد میں 25 رمضان المبارک کو رہا کردیا گیا۔

آج لوگ سمجھتے ہیں کہ نظریات کی جنگ میں استقامت کی کیا ضرورت ہے ؟ جو وقت کی روش ہو یا دربارِ شاہی کا نظریہ ہو وہ قبول کرو اور شکم پروری سے غافل مت بنو ۔ مگر صاحبو! تاریخ کھنگال لو ، جس طرح امام احمد ابن حنبل علیہ الرحمہ نے اپنے نظریات کی صداقت پہ صعوبتیں اٹھا کر بھی پہرہ دیا اِس کی مثالیں کم ملیں گی ۔ اِس سے یہ معلوم کرنے میں دقت نہیں رہتی کہ اگر قوم کے اہلِ علم و قلم اور دانشور بکاؤ مال بن جائیں قومیں اپنے نظریات نذرِ آتش کر بیٹھتی ہیں ، ہاں صرف اُن قوموں کے نظریات قائم رہتے ہیں جن میں بدن پہ کوڑے جھیل کر اور قید و بند کے مصائب اٹھا کر بھی استقامت اور ثابت قدمی سے کھڑے رہنے والے اہلِ علم و فضل موجود ہوتے ہیں ۔ اب تہذیب التہذیب میں روایت کیا گیا صاحبِ مُسند امام اسحاق ابن راہویہ کا قولِ بلیغ دوبارہ دیکھیں اور اُس کی حکمت و حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ ’’اسلام کی خاطر امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کی قربانیاں نہ ہوتیں تو آج ہمارے سینوں میں اسلام نہ ہوتا‘‘۔ اِس لئے جس کے پاس علم ہے اور ایمان ہے آج دین کے اندر سے اُٹھنے والے فتنوں کی علمی سرکوبی کیلئے اپنے اندر استقامت پیدا کرے ، علمائے حق کیلئے صعوبتیں اٹھانا نئی بات نہیں ۔

تصنیفات و تالیفات: آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں:

کتاب الزہد: اِمام احمدعلیہ الرحمہ کی یہ بڑی اہم کتاب ہے ۔ صاحبِ تذکرۃ المحدثین لکھتے ہیں :

’’ابنِ تیمیہ کا قول ہے جن لوگوں نے زہد و رقاق کے متعلق حدیثیں جمع کی ہیں ان میں سب سے عمدہ کتاب امام احمد کی ہے جس کی ترتیب ناموں پر ہے۔حافظ ابن کثیر بیان کرتے ہیں اس موضوع پر متقدمین اور متاخرین علماء میں سے کسی کی کتاب بھی اس کے ہم پایہ نہیں ہے علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ یہ مسند کے ثلث کی مقدار ہے اور اس کی متعدد حدیثیں اور آثار مسند احمد میں نہیں ہیں اس کا قلمی نسخہ برلین میں ہے‘‘۔(تذکرۃ المحدثین، صفحہ :195)

مسند احمد بن حنبل:اِمام احمدعلیہ الرحمہ کی یہ سب سے زیادہ مشہور اور حدیث کی اہم ترین کتاب ہے اِمام احمدعلیہ الرحمہ سے پہلے بھی اس طرح کی کتابیں لکھی گئیں اور بعد میں بھی لیکن کسی مجموعہ مسانید کو اس قدر شہرت و مقبولیت اور اعتبار و استناد حاصل نہیں ہوا۔اس میں عام کتب مسانید کی طرح صحابہ کی ترتیب پر حدیثیں مرتب کی گئی ہیں۔اِمام احمدعلیہ الرحمہ نے جب اس کتاب کو جمع فرمایا تو اس کی باقاعدہ ترتیب کیلئے مہلت نہ ملی۔آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ اور مسند احمد کے ایک راوی حضرت ابو بکر قطیعی نے اس میں کچھ زیادات کیے اور پھر اس کی ترتیب کی خدمت حضرت عبد اللہ بن احمد نے سر انجام دی ترتیب میں زیادہ تر سبقت فی الاسلام کا لحاظ رکھا گیا ہے لیکن اس اصول کا ہر جگہ التزام نہیں کیا۔شاہ عبد العزیز صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں کہ ترتیب میں بہت سی غلطیاں ہوگئیں ہیں مثلاً مدنیوں کی روایت شامیوں اور شامیوں کے مدنیوں میں شامل کردی گئی ہیں۔

یہ مسند 18 مسندوں کا مجموعہ ہے جس میں کل 40000 اور بحذف مکر رات تین ہزار احادیث ہیں جن کو امام احمد نے ساڑھے سات لاکھ اور بقول حضرت ابو زرعہ دس لاکھ احادیث سے منتخب فرمایا کیونکہ امام احمد ایک عظیم حافظ الحدیث تھے جن کو دس لاکھ تک احادیث زبانی یاد تھیں ، اسی لئے آپ کو امیر المؤمنین فی الحدیث کہا جاتا ہے ۔امام احمد بن حنبل کی اس مسند کو بعض محدثین اصفہان نے فقہی ابواب پر بھی مرتب کیا مگر افسوس کہ وہ شائع نہ ہوسکا۔البتہ اب مصر سے الفتح الربانی کے نام سے فقہی ابواب اور حواشی کے ساتھ غالباً بیس جلدوں میں ہےشائع ہوچکی ہیں۔

مسند کی اہمیت اور کتب حدیث میں اس کا درجہ:محدثین کے نزدیک اگرچہ مسانید کا درجہ سنن سے کم تر ہے لیکن مسند احمد بن حنبل کی حیثیت عام مسانید سے مختلف ہے شاہ ولی اللہ نے اس کو دوسرے درجے کی کتابوں یعنی سنن ابی داؤد، جامع ترمذی اور نسائی کے لگ بھگ اور تیسرے درجے کی کتابوں سے جس میں عام جوامع و مسانید شامل ہیں اس کو اہم اور ممتاز قرار دیا ہے۔حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ مسند احمد کی حدیثوں کی نوعیت عام کتب مسانید سے مختلف ہے۔ابو الحسن علی بن احمدہیثمی لکھتے ہیں کہ وہ دوسری مسانید کے مقابلے میں زیادہ صحیح اور بہتر ہے۔

مسندِ احمد کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں 300 ثلاثی احادیث مبارکہ ہیں؛ مسند احمد کا شمار ان اہم اور امہات کتب میں ہوتا ہے جن پر ملت ِاسلامیہ کاہمیشہ اعتماد و اعتبار رہا ہے۔جن سے محدثین نے ہر زمانہ میں اخذ و استفادہ کیا ہے۔علامہ سبکی فرماتے ہیں وہ اس امت کی اساسی اور بنیادی کتابوں میں ہے۔ابو موسیٰ مدینی کا بیان ہے کہ مسند ایک اہم اصل اور محدثین کیلئے قابل وثوق مرجع ہے۔

ان مذکورہ دو کے علاوہ دیگر کتب یہ ہیں:

کتاب التفسیر

الناسخ المنسوخ

المنسک الکبیر

المنسک الصغیر

فضائل ابو بکر

 فضائل حسنین

 کتاب التاریخ

کتاب الاشربہ

 فضائل الصحابہ

وصال پر ملال: آپ علیہ الرحمہ کا وصال 12 ربیع الاول جمعہ کے دن 241ہجری میں ہوا ۔علامہ درکانی فرماتےہیں کہ آپ علیہ الرحمہ کے وصال کے دن یہود و نصاری اور مجوس میں سے10000آدمی مسلمان ہوئے۔(تہذیب الاسماء و اللغات، جز:1، صفحہ :112)آپ علیہ الرحمہ کے جنازے میں 3لاکھ مرد اور 60 ہزار عورتیں شریک ہوئیں اور ایک قول کے مطابق 7 لاکھ مرد شریک ہوئے۔(البدایہ و النہایہ، جز:10، صفحہ :342)

آپ علیہ الرحمہ بغداد میں دفن ہوئے آپ کی قبر باعتبار تبرک کے بہت مشہور ہے۔




شیر ربانی حضرت میاں شیر محمد شرقپوری علیہ الرحمہ

 

شجرہ پدری:  میاں شیر محمد بن میاں عزیز الدین بن محمد حسین بن حافظ محمد عمر  بن محمد صالح بن حافظ محمد بن حافظ ہاشم

ولادت باسعادت :  آپ علیہ الرحمہ  1282 ہجری 1865 عیسوی میں پیدا ہوئے ولادت کے ساتویں دن آپ کا نام شیر محمد رکھا گیا۔ ذات کے ارائیں تھے۔ کھیتی باڑی ان کا خاندانی پیشہ تھا۔ میاں شیر محمدکی ولادت سے قبل ایک مجذوب بزرگ شر قپور شریف میں تشریف لائے اور اکثر آپ کے گھر کے گرد چکر لگاتے ہوئے لمبے لمبے سانس لیتے جیسے کہ کوئی خوشبو سونگھتا ہے جب اُن سے پوچھا جاتا تو کہتے کہ اس گھر سے دوست کی خوشبو آ رہی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہوگا اسی طرح آپ کی ولادت سے قبل خواجہ امیر الدین نے اکثر شرقپور شریف جانا شروع کر دیا تاکہ اس با برکت بچے کو نسبت نقشبندیہ سے مستفیض فرمائیں۔

آباو اجداد: میاں شیر محمد المعروف شیرربانی کے آبا و اجداد کابل افغانستان سے ہجرت کر کے پنجاب ہندوستان  آئے اور پہلے وہ دیپالپور میں مقیم ہوئے پھر زمانے کے انقلاب نے خاندان کے بعض بزرگوں نے شہر قصور میں رہائش اختیار کی۔ آپ کے جد اعلیٰ مولوی غلام رسول جن دنوں حجرہ شاہ مقیم میں سکونت رکھتے تھے ویدیوؤں نے اس علاقہ پر حملہ کرکے قبضہ کر لیا اس دوران مولوی غلام رسول کو بھی گرفتار کر لیا گیا ان کی قید سے جب رہائی ملی تو حجرہ شاہ مقیم سے شرقپور شریف تشریف لے آئے اور اس مقام پر مستقل سکونت اختیار کی۔۔ آپ کے والد ماجد کا نام میاں عزیز الدین تھا۔ قادری طریق میں بیعت تھے نہایت نیک سیرت اور پاک طینت بزرگ تھے رہتک میں ملازمت کرتے تھے اور وہیں پر ان کا انتقال ہوا۔ علم وہنر کے سبب شہر کے روسا ان کے حلقہ بگوش ہو گئے اور انھیں مخدوم کے لقب سے یاد کرنے لگے۔ دین کی تدریس و تبلیغ کے سوا اس خاندان کا کوئی مشغلہ نہیں تھا۔۔ وہ محنت و مشقت کی روزی پر یقین رکھتے تھے اس لیے اپنی کتابوں اور قرآن پاک کی کتابت کرتے تھے۔ قرآن پاک کا حفظ اس خاندان کی روایت تھی۔ حالات کچھ معمول پر آئے تو ان میں چند بزرگ دیپال پور واپس چلے گئے مگر خاندان کے باقی لوگوں کو قصور کی آب وہوا اور اس کے لوگ ایسے پسندآئے کہ وہ وہیں کے ہوکے رہ گئے۔ میاں عزیز الدین کے نانا مولوی غلام رسول کو قصور کے باشندے بے حد عزیز رکھتے تھے۔ مولوی غلام رسول تپاک، انکسار، دیانت اور زہد وتقوی میں ایک مثال تھے۔ وہ حافظ ہونے کے علاوہ خطاط بھی تھے۔ لوگ اپنے دینی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے انھی سے رجوع کرتے تھے۔

القابات و خطابات: آپ علیہ الرحمہ  کوعاشق ربانی ،شیر یز دانی، عارفِ اکمل اور شیر ربانی کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔

مادر زاد ولی اللہ : آپ علیہ الرحمہ  مادر زاد ولی اللہ تھے جو کوئی آپ کو دیکھتا تو بے اختیار کہہ دیتا کہ آپ مادرزاد ولی اللہ ہیں۔ آپ کا بچپن عام بچوں کی طرح نہ تھا آپ بچپن سے ہی گوشہ نشینی کو پسند فرماتے تھے بچوں کے ساتھ کھیلتے کودتے نہ تھے آپ کی حیا کا یہ عالم تھا کہ چھوٹی سی عمر میں بھی جب کبھی محلّہ سے گزرتے تو سر مبارک پر چادر اوڑھے ہوئے ہوتے محلّہ کی عورتیں آپ کی نگاہ کی پاکیزگی اور حیاء کی قدر کرتی تھیں۔ بچپن سے ہی آپ کی پیشانی مبارک سے نور ولایت ہویدا تھا۔

تعلیم و تربیت: آپ علیہ الرحمہ  کو قرآن حکیم پڑھنے کی غرض سے مکتب میں داخل کرایا گیا تو آپ نے بہت جلد قرآن حکیم پڑھ لیا ماں اور چچا کی نگرانی میں آپ نے گھر میں ناظرہ قرآن ختم کیا۔ چچا نے آپ کو شرقپور کے اسکول میں داخل کروایا۔ اسکول کی فضا آپ کے لیے نئی تھی، ماں اور چچا کی خواہش پر آپ پابندی سے اسکول تو چلے جاتے مگر وہاں آپ کا جی نہیں لگتا تھا۔۔ چچا آپ کی بے دلی پر ہراساں ہو گے۔ آپ کے اساتذہ بتاتے کے آپ جماعت میں گم صم بیٹھے رہتے ہیں۔ آپ کا عجب عالم تھا چھٹی کی گھنٹی بجتی تو سب بچے کھیل کودمیں مشغول ہو جاتے لیکن آپ مسجد کا رخ کرتے اور وہاں جاکر سرجھکائے تنہا بیٹھے رہتے۔ بہر صورت کسی نہ کسی طرح آپ نے پانچویں جماعت پاس کر لی۔ چچا کو احساس ہو گیا کہ مدرسہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے۔ انھوں نے مستقل طور پر آپ کے نگاہوں کے سامنے رکھنا شروع کر دیا اور فارسی کی درسی کتب سے ابتدا کی۔ دادا حافظ محمد حسین نے بھی توجہ کی اور قرآن کا آموختہ کرایا۔ آپ کا یہ حال تھا کہ جب سپارہ پڑھنے کو دیا جاتا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے سپارہ بھیگ بھیگ کر چند روز میں خستہ ہو جاتا۔ دادا آپ کی اشک فسانی کی وجہ پوچھتے تو جواب سکوت کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ دادا اور چچا کی درخواست پر شہر کے ایک عالم حکیم شیر علی نے آپ کو کتابوں کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے اب بھی کتابوں میں کسی دلچسپی کا اظہار نہ کیا۔ ہاں آپ کو خوشنویسی سے ضرور کسی قدر رغبت ہوئی۔ مدرسے ہی میں آپ حروف و الفاظ کو ایک کہنہ مشق خطاط کی طرح نئی نئی شکلیں دینے لگے تھے۔ آپ نے مختلف خطوں میں قرآن پاک لکھنے کی مشق کی۔ آپ کی مکتوبہ بیاضیں اور قرآنی نسخے دیکھ کر بڑے بڑے کاتب نقاش اور خطاط انگشت بہ لب رہ جاتے تھے۔ کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ کام نو مکتب کا کیا ہوا ہے۔

بیعت وخلافت: بابا امیر الدین نقشبندی علیہ الرحمہ  کوٹلہ سے شرقپور آتے اکثر آپ کے والد صاحب کے ہاں ٹھہرتے ان کے روحانی تصرف کے زیر اثر آپ نے ان سے بیعت کی اور کافی عرصہ تک جذب و سکر کی کیفیت طاری رہی جب مرشد نے عروج دیکھا تو خلافت بھی عطا فرمانے کا ارادہ کیا لیکن آپ کافی عرصہ تک انکاری رہے بالاخر مرشد کے اصرار پر قبول فرمایا اور ان کے حکم پر ہی شرقپور کو اپنی قیام گاہ بنایا اور روحانی سلسلہ آج تک قائم ہے۔

اتباع سنت: آپ علیہ الرحمہ  زندگی کے تمام معمولات میں شریعت مطہرہ کی پیروی کا خاص طور پر خیال رکھا کرتے تھے اگر کوئی آپ کی مجلس پاک میں آلتی پالتی مار کر بیٹھتا تو آپ اس پر خفا ہوتے اور فرماتے لوگوں کو بیٹھنے کا طریقہ بھی نہیں آتا پہلے بیٹھنے کا طریقہ تو سیکھنا چاہیے آپ دو زانو ہوکر بیٹھنے کو پسند فرماتے تھے۔ آپ اتباع نبوع ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اتباع سنت میں گزاری اور اپنے پیروکاروں کی بھی یہی درس دیا کہ زندگی کے ہر فعل میں سنت نبوی کی اتباع کرو۔ آپ جامع علوم ظاہری وباطنی تھے۔ آپ علم، ریاضت، مجاہدہ، زہد، جودوسخا اور بردباری میں بے نظیر تھے۔ گویا آپ اپنے وقت کے قطب الاقطاب اور ولی کامل تھے۔ آپ کی برکت سے کئی مردہ دل نور الہی سے منور ہوئے ہیں اور آج بھی آپ کا ذکر اور نام بڑی عقیدت وارفتگی سے لیا جاتا ہے۔

ارشادات عالیہ : آپ علیہ الرحمہ  کے ارشادات عالیہ سے بھلائی اور اچھائی کا درس ملتا ہے آپ کا معمول تھا کہ آپ ہر آنے والے کو تلقین و ہدایت فرمایا کرتے تھے اور شریعت مطہرہ کے مطابق زندگیاں گزارنے کا سبق دیتے تھے ذیل میں اسی حوالے سے آپ کے چند ارشادات عالیہ بیان کیے جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ

  •  اپنے سالن کی وجہ سے ہمسایہ کو تکلیف نہ دو اگر کوئی لذیذ سالن پکاؤ تو پہلے ہمسایہ کے گھر بھیج دہ جس شخص سے اس کا ہمسایہ ناراض ہو اس سے اللہ اور رسول ناراض ہو جاتے ہیں۔
  • لوگوں کو لا الہ اِلا اللہ پر پورا یقین نہیں ہے اگر یقین ہو تو اعمال درست ہوجائیں۔
  •  ہر کام کو کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔
  •  توجہ یہ چیز ہے کہ مرید صادق کا خیال مرشد کی طرف ہو اور شیخ کا خیال مرید کی طرف ہو یہ ضروری نہیں کہ سامنے بٹھا کر خیال کیا جائے۔
  •  جب کسی طالب صادق کی طرف خیال کیا جاتا ہے خواہ وہ طالب کہیں ہو ہوا میں سے گزرتا ہوا وہ خیال اُس تک پہنچ جاتا ہے۔
  •  دیوار کی ایک ایک اینٹ بھی صاحب فکر کے لیے بڑا وعظ ہے مگر انسان غفلت میں غرق ہے۔
  •  جو پیر جبراً مریدوں کے گھر میں قیام کرتے ہیں وہ ظالم تھانیداروں سے کم نہیں ہیں۔
  •  توکل بڑی مشکل چیز ہے کوئی ہم سے پوچھے کہ توکل کے راستہ میں کون کون سے امتحان ہوتے ہیں۔
  • عید تو تب ہے جب دل اللہ تعالیٰ کی طرف عود کرے ورنہ عید کیسی۔

وصال پرملال: آپ علیہ الرحمہ  سوموار  3 ربیع الاول 1347 ہجری بمطابق 20 اگست 1928 عیسوی بعد نماز عصر اس عالم فانی سے عالم باقی کی طرف رحلت فرما گئے۔  نصف شب کے وقت آپ کو غسل دیا گیا اور صبح کے وقت آپ کا جنازہ اٹھایا گیا نماز جنازہ صاحبزادہ محمد مظہر قیوم جانشین مکان شریف نے پڑھائی ہزاروں عقیدت مند نماز جنازہ میں شامل تھے آپ کو دوہڑاں والے قبرستان شرقپور شریف میں دفن کیا گیا۔ آپ کے مزار اقدس پر روزانہ لاتعداد عقیدت مند حاضری کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے ہیں۔ (تذکرہ مشائخ نقشبند،نور بخش توکلی صفحہ 732تا 746 /تاریخ و تذکرہ خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ شرقپور شریف،ص 34 تا77 )  


حضرت مخدوم علاوالدین علی احمد صابر کلیری چشتی علیہ الرحمہ

 

 اسم گرامی : آپ علیہ الرحمہ  کا اسم گرامی علی احمد آپ کے والد محترم کا اسم گرامی حضرت سید عبداللہ علیہ الرحمہ اور دادا جان حضرت سید فتح اللہ علیہ الرحمہ آپ کا تعلق سید گھرانے سے تھا والد محترم سے سید النسب تھے اور والدہ محترمہ سے فاروقی النسب آپ کی والدہ محترمہ حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کی ہمشیرہ تھیں۔

شجرہ نسب:آپ علیہ الرحمہ  مستند روایت کے مطابق حضرت سرکار غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے ہیں۔ شجرۂ نسب یہ ہے:سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبدالرحیم بن سید عبدالوہاب بن غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی۔  والدہ ماجدہ  کی طرف سے آپ فاروقی ہیں حضرت گنج شکرعلیہ الرحمہ  کے حقیقی بھانجے اور داماد بھی ہیں۔

لقب و خطابات: آپ علیہ الرحمہ   کا لقب علاؤالدین ہے آپ کے خطابات مخدوم اور صابر ہیں ۔منقول ہے کہ آپ کے ماموں حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے آپ کو صابر کے خطاب سے نوازا ۔

 ولادت باسعادت : آپ کی ولادت 19 ربیع الاول شریف 592ہجری کو ہرات افغانستان میں ہوئی۔منقول ہے کہ آپ کی ولادت سے قبل آپ کی والدہ محترمہ کے خواب میں حضرت سرور کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا ہونے والے بچے کا نام احمد رکھنا ایک رات کے بعد حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ خواب میں تشریف لائے اور آپ کی والدہ کو ہدایت کی کہ اس بچے کا نام علی رکھنا اس لئے آپ کا اسم مبارک علی احمد رکھا گیا ۔

منقول ہے کہ آپ علیہ الرحمہ جب چار سال کے ہوئے تو گفتگو شروع کر دی پہلا لفظ جو زبان حق سے صادر ہوا وہ تھا لا موجود الاللہ یعنی اللہ کے سوائے کوئی موجود نہیں ۔

منقول ہے کہ بچپن میں ایک دفعہ آپ علیہ الرحمہ پر ایسا وقت آیا کہ آپ نے رات کو چار پائی پر سونا بھی ترک کر دیا دن کو جنگلوں میں چلے جاتے اور وہاں یاد الہی کرتے اور تمام تمام رات عبادت میں گذار دیتے کئی روز گوشہ تنہائی میں بسر کرتے کسی کو اپنے پاس تک نہ آنے دیتے اور نہ کچھ کھاتے نہ کچھ پیتے تھے جب بھوک کا زیادہ غلبہ ہوتا تو اپنی والدہ سے کوئی چیز کھانے کےلئے طلب کرتے تھے

آپ علیہ الرحمہ کی عمر مبارک جب پانچ سال ہوئی تو شفیق والد محترم کا وصال ہوگیا ۔

آپ علیہ الرحمہ نے سات سال کی عمر میں باقاعدہ نماز پڑھنا شروع کی جو نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا فرماتے ۔

تعلیم و تربیت: آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم ہرات میں حاصل کی سب سے پہلے قرآن مجید پڑھا بعد میں عربی اور فارسی پڑھنا شروع کی اور تھوڑے عرصہ میں عربی اور فارسی کی تعلیم مکمل کر لی ۔

جب آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم کی تکمیل کی تو آپ علیہ الرحمہ کی والدہ محترمہ نے آپ کو مزید تعلیم حاصل کرانے کےلئے اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ سے رجوع کیا۔

منقول ہے کہ 601ہجری  کو آپ اجودھن (پاکپتن شریف) تشریف لائے ۔جب آپ علیہ الرحمہ کی عمر مبارک گیارہ سال ہوئی تو 25 شوال بروز جمعرات بعد نماز عصر 603ھ کو اپنے حقیقی ماموں حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کے دست اقدس پہ مرید ہوئے ۔اور انہی سے ہی خرقہ خلافت حاصل کیا ۔کچھ عرصہ تک آپ علیہ الرحمہ کی والدہ صاحبہ اجودھن (پاکپتن) شریف میں رہیں پھر اپنے وطن جانے کا ارادہ کیا تو اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کو عرض کی بھائی میرا بیٹا علی احمد کھانے پینے میں خیال نہیں کرتا آپ نے اس کا بھرپور خیال رکھنا ہے۔

حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے جب سنا تو فرمایا علی احمد کو بلایا جائے جب آپ حاضر ہوئے تو حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے فرمایا آج سے لنگر کے تمام انتظامات تمہارے سپرد کرتے ہیں یہ سن کر آپ کی والدہ صاحبہ اطمینان میں آ گئیں اور اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کا شکریہ ادا کیا اور اجودھن (پاکپتن) شریف سے رخصت ہوگئیں ۔

آپ علیہ الرحمہ  روزانہ لنگر شریف تقسیم کرتے مگر خود کچھ نہ کھاتے لنگر شریف تقسیم کرنے کے بعد اپنے حجرے میں تشریف لے جاتے خوب عبادت کرتے اگر بھوک کا غلبہ آتا تو جنگل میں تشریف لے جاتے جنگل میں پتوں وغیرہ سے گذارا کرتے اور عبادت میں مشغول ہوجاتے ۔

کئی سالوں کے بعد آپ علیہ الرحمہ کی والدہ صاحبہ اجودھن (پاکپتن) شریف تشریف لائیں آپ علیہ الرحمہ کی جسامت انتہائی دبلا پتلا دیکھ کر بہت پریشان ہوئیں اور اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کو عرض کی میرا بیٹا بہت کمزور ہو چکا ہے۔

حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ حضرت مخدوم علی احمد صاحب کو بلایا اور حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا تو آپ علیہ الرحمہ نے جواب دیا آپ نے تقسیم لنگر ہی کا مجھے حکم دیا تھا یہ کب فرمایا تھا کہ اس میں سے کھا بھی لینا یہ جواب سن کر ماموں پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ علیہ الرحمہ نے شفقت سے فرمایا '' علاؤالدین صابر است '' اور اسی وقت سینے سے لگا کر خدا جانے کیا کیا عطا فر ما دیا اس کے علاوہ بھی آپ علیہ الرحمہ کے مجاہدے اور کرامتیں اس درجہ شدید صبر آزما تھیں کہ انہیں سن کر حیرت ہوتی ہے کثرت مجاہدہ اور فاقوں سے آپ کی طبیعت میں بہت ہی قہر و جلال پیدا کر دیا تھا۔

ایک دن آپ  علیہ الرحمہ کی والدہ نے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کوآپ علیہ الرحمہ کی بیٹی سے علاؤالدین  صابر کلیری علیہ الرحمہ کی شادی کی بات کی توبا با فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ علاؤالدین  صابر کلیری علیہ الرحمہ کو شادی اور بیوی کا ہوش نہیں ہے لیکن بہن نہیں مانیں اور بھائی سے رشتے پر اصرار کرتی رہیں آخر با با فرید علیہ الرحمہ نے بہن کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنی بیٹی خدیجہ بیگم کے ساتھ حضرت علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ کا نکاح پڑھا دیا آپ علیہ الرحمہ نے دلہن کو اپنے حجرہ میں دیکھا تودریافت کیاتم کون ہو؟

خدیجہ بیگم نے جواب دیا :آپ کی بیوی ہوں ۔

آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا :جب ہم خدا کے ہو چکے تو پھر ہمیں غیر کی کیا ضرورت رہی اور جب آپ علیہ الرحمہ نے نظر ڈالی تو دلہن کے جسم میں آگ لگ گئی صبح کو ماں آئی تو بہو کو راکھ دیکھ کر غصے میں کہا کہ میں تمہارے ماموں کو کیا جواب دونگی انہیں بھی فورا بخار آگیا اور کچھ روز بعد وصال فرماگئیں۔

اس کے بعد آپ علیہ الرحمہ جو حجرے میں داخل ہوئے تو پورے نو سال اندر ہی رہے اور باہر نہیں نکلے نہ کچھ کھا یا پیا نو برس کے بعد حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ جب حضرت مخدوم علیہ الرحمہ کے حجرے میں صبح کے وقت گئے تو دیکھا کہ آپ استغراق کے عالم میں بے حس و حرکت بیٹھے ہیں آپ کے کان میں سات مرتبہ الا اللہ بلندآواز سے کہا توہوش میں آ گئے اور مرشد کو سامنے دیکھ کر قدم چومے اور آداب بجا لائے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ نے آپ کو با ہر لا کر خرقہ خلافت عطا کیا اور سند لکھی اور اسم اعظم کی تعلیم دی۔

حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ نے آپ علیہ الرحمہ کو دہلی کے لئے متعین کیا اور فر ما یا پہلے ہانسی جا کر اپنے بھائی جمال سے اس پر مہر ثبت کرا لینا جب آپ علیہ الرحمہ سند لے کر ہانسی پہنچے تو حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ نے نہایت محبت اور احترام سے آپ کی مہمان نوازی فرمائی اور پیر روشن ضمیر با با فرید الدین مسعودگنج شکر علیہ الرحمہ کے حالات صحت اور معلومات کی متعلق گفتگو کرتے رہے اسی دوران مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہو نے کے بعد حضرت مخدوم صابر کلیری علیہ الرحمہ نے دہلی کی خلافت کے لئے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ کی سند خلافت حضرت جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ کو پیش کی اور فر ما یا کہ آپ اس پر مہر ثبت کر دیجئے اسی وقت چراغ گل ہو گیا تو جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ نے فر ما یا بھائی چراغ گل ہو گیا ہے۔ صبح مہر ثبت کردونگا لیکن آپ علیہ الرحمہ نے فر ما یا نہیں دوسرا چراغ منگوا کر اسی وقت مہر لگا دیجئے جمال الدین ہانسوی نے دوسرا چراغ منگوایا ابھی آپ مہر لگوانا ہی چاہتے تھے کہ دوسرا چراغ بھی گل ہو گیا اب آپ صبح مہر لگوا لینا۔

اسی وقت آپ  علیہ الرحمہ نے اپنی انگلی پر دم کیا تو انگلی روشن ہو گئی آپ نے جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ سے فرمایا اب آپ مہر ثبت کر دیجئے حضرت جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ نے یہ رنگ دیکھاتو حضرت علاؤالدین صابر کلیری علیہ الرحمہ کی سند چاک کر دی اور فرما یا تمہارے دم مارنے کی تاب دہلی میں کہاں تم تو ایک دم مارتے ہی دہلی کو جلا کر خاک کر دو گے جواباً حضرت مخدوم علاؤالدین صابر کلیری علیہ الرحمہ نے حالت جلال میں فر ما یا کہ آپ نے میری سند خلافت چاک کی ہے میں نے آپ کا سلسلہ چاک کردیا اور اجودھن جا کر حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ کو ساری تفصیل گوش گزار کی۔

حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے دوسری سند لکھ کر فر ما یا میں کلیر شریف کاعلاقہ تمہارے سپرد کر تا ہوں وہاں تکبرو غرور اور گمراہی کا ایک طوفان عظیم بر پا ہے وہاں پہنچ کر خلق خدا کو ہدایت کرو اور اسلام کو تقویت پہنچاؤ۔ کلیر اس عہد میں عظیم الشان با رونق شہر تھا امیر کلیر نے آپ کو شاہ ولایت تسلیم کر لیا مگر قاضی شہر نے ور غلایا کہ یہ جادو گرہے آپ علیہ الرحمہ نے سن کر فر ما یا اس طرح آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس فقیر عاصی کے حق میں تازہ ہو ئی ہے یہ فر ما کر وہاں سے واپس چلے آئے۔

آپ علیہ الرحمہ نے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کو خط ارسال کیا یہاں تو میں اطمینان قلب نماز اول کے ثواب سے بھی محروم ہو گیا ہوں حضرت با با فرید الدین علیہ الرحمہ نے صبر کی تلقین فرمائی لیکن علماء و امراء کے غرور و تکبر کاوہی حال رہا آپ علیہ الرحمہ نے مرشدحق کو خط بھیجا حضرت با با فرید علیہ الرحمہ نے آپ کو لکھا کہ شہر کلیر تمہاری بکری ہے تمہیں اختیار ہے خواہ اس کا دودھ پیو یا اس کا گوشت کھاؤیہ جواب پا کر آپ علیہ الرحمہ جمعہ کے روز جامع مسجد میں گئے امراء شہر نے آپ علیہ الرحمہ کو مسجد سے نکال دیا آپ علیہ الرحمہ نے غضب ناک ہو کر فرما یا ظالمو! تم اللہ کے گھر میں بھی امتیازات پیدا کرتے ہو اور یہاں بھی بندہ بن کر نہیں آتے ہو لیکن کسی نے پرواہ نہیں کی آخر امام نے جب خطبہ ختم کیا تو آپ علیہ الرحمہ نے جلا ل میں آ کر مسجد کو مخاطب کیا اور فر ما یا کہ اب تو بھی سجدہ کر لے یہ فر ماتے ہی عظیم الشان مسجد فورا ہی زمین بوس ہو گئی اہل کلیر گھبرائے ہوئے آپ علیہ الرحمہ کے پاس آئے تو آپ علیہ الرحمہ نے فر ما یا میں تو اللہ سے ویرانی کلیر کی دعا مانگ چکا ہوں اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔

بہت سے افراد تو جامع مسجد میں دب کر ہلاک ہو گئے اس کے بعد شہر میں طاعون پھیل گیا جس نے تمام شہر کو ویران کر دیا ہزاروں مر گئے اور جو بچے وہ جنگلوں اور پہاڑوں پر بھاگ گئے آپ نور العارفین حضرت با با فرید مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کے جانشین تھے اور صابری سلسلہ آپ ہی سے جاری ہے حضرت شیخ علاؤالدین علی احمد صابر علیہ الرحمہ کو سماع کا بہت ذوق تھا اور وہ اکثر سے سنا کر تے تھے یہاں تک کہ آپ علیہ الرحمہ کاوصال بھی عین حالت سماع ہی میں ہوا آپ میں جذبہ الہی حد سے زیادہ تھا زبان مبارک سے جو بھی نکل جاتا وہ پورا ہو جاتا دنیا اور دنیا والوں سے انہیں کوئی غرض نہ تھی ان سے وہ دور بھاگتے تھے اور ہمیشہ ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے۔

ایک مرتبہ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے مریدوں میں سے ایک شخص حضرت علاؤالدین  علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بو لا کہ آپ نے حضرت شیخ شمس الدین ترک پانی پتی علیہ الرحمہ کے علاوہ کس کو اپنا مرید اور خلیفہ نہیں بنا یا اور میرے پیر و مرشد حضرت شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے آسمان پر ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ اپنے مرید بنائے ہیں آپ علیہ الرحمہ نے جواب دیا کہ میرا شمس (علیہ الرحمہ ) ہی کافی ہے جو اللہ کے فضل سے سارے ستاروں پر غالب ہے وہ شخص خاموش رہا اور دہلی آ کر اس نے حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ سے یہ واقعہ بیان کیاحضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ تم نے حضرت (علیہ الرحمہ )کو کیوں رنجیدہ کیا آئندہ ایسی حرکت نہیں ہو نی چاہئے بے شک انہوں نے جو کچھ فرمایا صحیح ہے وہ مقرب بارگاہ ربانی ہیں۔

منقول ہے کہ حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے آپ کو شہر کلیر شریف کا شاہ ولایت مقرر فرما کر اپنے دست مبارک سے ایک حکم نامہ تحریر فرمایا حضرت بابا صاحب نے 15 ذوالحجہ 652ہجری  علیم اللہ ابدال کی معیت میں جانب کلیر روانہ فرمایا ۔کلیر شریف پہنچ کر آپ نے اسلام کی خوب تبلیغ فرمائی ۔

آپ  علیہ الرحمہ کا وصال 13 ربیع الاول شریف 690ہجری  بروز پنجشنبہ کو ہوا بعض روایات 694 ہجری کی بھی مرقوم ہیں ۔آپ کا مزار اقدس کلیر شریف انڈیا میں ہے ۔

( تذکرہ حضرت علی احمد صابر علیہ الرحمہ / تذکرہ اولیائے پاک و ہند / تذکرہ جلیل)