پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی علیہ الرحمہ

 

اسمِ گرامی: محمد مسعود احمد ۔

 کنیت: ابو المسرور ۔

 القاب: مسعودِ ملت، محقق و مجددِ اہلسنت، ماہرِ رضویات و ناشرِ مجددیات بہقیِ وقت وغیرہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی بن حضرت شاہ مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی بن شاہ محمد سعید بن شاہ مفتی محمد مسعود محدث دہلوی (علیہم الرحمہ) ۔

والد ماجد کی جانب سے سلسلۂ نسب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، اور والدہ محترمہ کی جانب سے سلسلۂ نسب سرورِ عالم ﷺ تک منتہی ہوتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:آپ علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت 1348ھ، مطابق 1930ء کو " دہلی " میں ہوئی ۔ آپ علیہ الرحمہ کی سعادت مندی کی بشارت آپ علیہ الرحمہ کے نانا محترم شیرِ اسلام سید واحد علی شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے بایں الفاظ ارشاد فرمائی تھی: " اگر دین کا چراغ روشن ہوگا تو میری صاحبزادی سے ہوگا"۔
تحصیلِ علم:آپ علیہ الرحمہ نے ایک علمی خاندان میں آنکھ کھولی تھی، جہاں ہر طرف قال اللہ، وقال رسول ﷺ کی صدائیں بلند ہوتیں تھیں ۔ قرآنِ کریم اور عربی و فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد ماجد علیہ الرحمہ سے پڑھیں ۔

1940ء میں مدرسہ عالیہ جامع مسجد فتح پوری دہلی میں داخلہ لیا اور باقاعدہ علومِ عربیہ کی تحصیل شروع کی ۔
1945
ء میں آپ نے اورینٹل کالج دہلی میں داخل ہو کر دو سال فارسی زبان و ادب کی تحصیل کی ۔
1948
ء میں آپ نے مشرقی پنجاب یونیورسٹی سے فاضل فارسی، فاضل اردو، فاضل درسِ نظامی، کا امتحان پاس کیا ۔سندھ یونیورسٹی سے ایم اے ، اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ الحمدللہ آپ علیہ الرحمہ نےتمام امتحانات امتیازی پوزیشن سے حاصل کیے ۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی دن کو فی سبیل اللہ تدریس کرتے تھے، اور رات کو خود پڑھتے تھے ۔

بیعت و خلافت:سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے والدِ گرامی مفتیِ اعظم حضرت شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی سے بیعت و خلافت ۔ مفتی محمد محمود شاہ الوری سے خلافت و جازت، اور سلسلۂ عالیہ قادریہ میں پیر زین العابدین شاہ گیلانی سے خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ (علیہم الرحمۃ اولرضوان) ـ

سیرت و خصائص:مسعودِ ملت ، امینِ اہلِ سنت ، مجددِ ملت ، پیرِ طریقت ، رہبرِ شریعت ، سراپا عظمت ، پیکرِ علم و وجاہت ، عاملِ سنت عاشقِ مصطفیٰ ﷺ ، محبِ مجدد، و امام احمد رضا ، فخر المحققین ، ماہرِ رضویات ، ناشرِ مجددیات ، حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ  ۔

حضرت مسعودِ ملت علیہ الرحمہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ نے بہت سے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے، لیکن آپ علیہ الرحمہ کی مجدِّدَین (حضرت مجدد الفِ ثانی، اور مجدد امام احمد رضاخاں علیہما لرحمہ) پر جو خدمات ہیں ان کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائےگا ۔
بالخصوص اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نور اللہ مرقدہ کی عظیم شخصیت، اور ان کے دینی، تجدیدی، اصلاحی، علمی،ادبی، سماجی، سیاسی، قومی و ملی، و تقدیسی، کارناموں کو اجاگر کرکے ہندوسندھ سے لے کر تمام عالمِ اسلام، اور یورپ آسٹریلیا و افریقہ و امریکہ، کے کلیات و جامعات اور لائبریریوں میں اس طرح پہنچا دیا کہ آج دنیا امام احمد رضا خان کی عبقری شخصیت اور ان کے عظیم علمی کارناموں سے روشناس ہو رہی ہے۔ایک دفعہ ایک غیر مقلد مولوی نے کہاتھا! " کہ ہم امام احمد رضا بریلوی کو دفن کر چکے تھے ۔ لیکن ایک پروفیسر نے انہیں قبر سے نکال کر پھر زندہ کر دیا ہے، اب ہمیں مزید پچاس سال کام کرنا پڑےگا"۔ (تذکار مسعود ملت ، ص:219) ـ

شرفِ ملت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں: " ان کی تحریر میں متانت اور شائستگی ہے ۔ معقولیت اور تسلسل ہے، دریا کی روانی اور سمندر کی گہرائی ہے ۔ شبنم کی لطافت اور گلاب کی جاذبیت ہے ۔ جو لکھتے ہیں باحوالہ اور دلائل کی روشنی میں لکھتے ہیں ۔ عقیدے اور عقیدت کی بناء پر تاریخ وضع نہیں کرتے، بلکہ تاریخی حقائق کے رخ سے نقاب الٹ دیتے ہیں ۔ وہ جو کچھ لکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا اور خوشنودی اور دین متین کا پیغام قارئین تک پہنچانے کے لئے لکھتے ہیں"۔

حضرت پروفیسر صاحب کی شخصیت جتنی عظیم تھی، آپ علیہ الرحمہ کے اندر اس درجہ انکسار بھی تھا ۔ اہل علم سے ٹوٹ کر ملتے، ان کی قدر کرتے، کسرِ نفسی آپ علیہ الرحمہ کی خو تھی ۔ آپ علیہ الرحمہ کی گفتار عالمانہ تھی ۔ کردار زاہدانہ تھا ۔ شفقت و محبت جاودانہ تھی ۔ آپ علیہ الرحمہ اخلاق و ایثار، مؤدت و مروت، دانائی و حکمت، سنجیدگی و ظرافت کا ایک حسین پیکر تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ سراپا اخلاق تھے ۔ جو شخص ایک مرتبہ آپ علیہ الرحمہ سے ملاقات کرتا وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا ۔

آپ علیہ الرحمہ سے تمام مذاہب کے افراد کا واسطہ رہتا تھا ۔ آپ علیہ الرحمہ ہر شخص سے اس کے مرتبے کے مطابق سلوک کرتے تھے ۔ جب آپ کا تبادلہ " مٹھی " کے دور دراز اور ایسے علاقے میں ہوا جہاں اسی فیصد ہندو تھے چنانچہ آپ علیہ الرحمہ نے اس تبادلے کو تبلیغِ اسلام کے لئے ایک انمول موقع جانا ، اور وہاں اپنے اعلیٰ کردار، اور اخلاقِ مصطفوی سے غیر مسلموں کے دل جیت لئے، بہت سوں کو قبولِ اسلام کی دولت نصیب ہوئی ۔ ہندو کہا کرتے تھے: " مسلمان تو بس ایک ہی دیکھا ہے مولانا مسعود صاحب! " ۔الغرض! آپ علیہ الرحمہ کی زندگی مجسمۂ سچائی، فرماں برداری، حق کی رہبری، خشیتِ ایزدی، حق کی روشنی، بے حد خوبیوں اور اعلیٰ صفات سے آپ علیہ الرحمہ کی ذات متصف تھی ۔

امتیازی اعزازات:شعبہ تعلیم میں امتیازی خدمات کے اعتراف میں سابق صدرِ پاکستان فاروق احمد لغاری کی جانب سے 1992ء میں گولڈ میڈل اور اعزازِ فضیلت سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ بھی متعدد اداروں کی جانب سے گولڈ میڈلز اور تمغات سے نوازا گیا ۔ آپ علیہ الرحمہ کی زندگی ہی میں آپ علیہ الرحمہ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ ڈاکٹر اعجاز انجم لطیفی نے 1997ء میں بہار یونیورسٹی بھارت سے مکمل کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔

تاریخِ وصال:آپ علیہ الرحمہ 22 ربیع الثانی 1429ہجری، مطابق 28 اپریل 2008ء بروز پیر بعد نماز مغرب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔ آپ علیہ الرحمہ کا مزار شریف " ماڈل کالونی قبرستان " کراچی میں ہے ۔

(ماخذ و مراجع:تذکار مسعودِ ملت ۔ مجدد عصر ۔ تعارف علماء اہلسنت ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کی حیات علمی اور ادبی خدمات پی ایچ ڈی مقالہ )

سلطان التارکین حضرت صوفی حمیدالدین ناگوری علیہ الرحمہ

 

ولادت باسعادت:  سلطان الہند،خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری (خواجہ غریب نواز) رحمتہ اللہ علیہ کی بشارت پر محمد غوری نے 1129ءمیں پرتھوی راج چوہان کو شکست دے کر جب دہلی پر اپنی فتح کا پرچم لہرایا اس کے بعد مسلم گھرانوں میں جو بچہ سب سے پہلے پیدا ہوا وہ صوفی حمیدالدین ناگوری علیہ الرحمہ تھے آپ کی پیدائش دہلی میں589ھ مطابق 1193ءمیں ہوئی تھی۔ آپ کا نام محمد ابن احمد ابن محمد ہے اور لقب حمیدالدین ،سلطان التارکین ،سوالی، صوفی، سعیدی، ناگوری ہے۔

آپ کے والد ماجد شیخ احمد ابن محمد لاہور سے دہلی تشریف لائے تھے ۔ آپ کے والد محترم جو نہایت دین دار، پاکباز ،متقی وپرہیزگار تھے۔آپ کا سلسلۂ نسب حضرت سعید بن زیدؓ سے ملتا ہے، جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ آپ کی والدہ حضرت بی بی خدیجہ حسینی سیدہ تھیں۔آپ کی والدہ محترمہ بھی اپنے زمانے کی نہایت بزرگوار ، صالح، نیک اور پاکباز خاتون تھیں۔ صوفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جس وقت میں پیدا ہوا اگر ان دنوں کوئی عورت میری والدہ سے بہتر ہوتی تو میں اس کے شکم سے پیدا ہوا ہوتا۔

حصول علم و فیض: صوفی علیہ الرحمہ کے استاذ مولانا شمس الدین حلوائی تھے جن سے آپ نے علوم شریعت وطریقت کا وافر حصہ اور درجۂ کمال حاصل کیا۔ انہوں نے مولانا حلوائی کے علاوہ شیخ حمیدالدین خوئی علیہ الرحمہ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ سے بھی استفادہ کیا ۔ یوں تو انہوں نے کئی خدارسیدہ بزرگان دین کی صحبت اٹھائی اور علوم ظاہری وباطنی حاصل کئے-

صوفی علیہ الرحمہ ایک نہایت حسین وجمیل نوجوان تھے اور آپ پر خلق خدا فریفتہ تھی۔ ایک مرتبہ خواجہ غریب نواز بیٹھے ہوئے تھے اور صوفی حمیدالدین جارہے تھے جیسے ہی خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کی نظر صوفی حمیدالدین علیہ الرحمہ کے جمال باکمال پر پڑی آپ نے فرمایا سبحان اللہ اگر تو میرے پاس آجائے تو حق تعالیٰ بھی تیرے جمال پر عاشق ہوجائے۔چنانچہ اسی وقت تائب ہوکر آپ خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے-

خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے بعد جس شخصیت کو سب سے زیادہ خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا وہ صوفی حمیدالدین ناگوری علیہ الرحمہ تھے۔ آپ برسوں خواجہ صاحب کی خدمت میں رہے اور روحانی فیض اٹھاتے رہے۔ آپ نے ایک لمبی مدت تک ریاضت ومجاہدے کئے

آپ کی صحبت میں رہ کر تصوف ومعرفت کے راز ہائے سربستہ کا مشاہدہ کیا اور عشق الٰہی سے اپنے سینے کو منور کیا یہاں تک کہ آپ خواجہ غریب نواز کے منظور نظر ہوگئے۔اور اس کے بعد خواجہ صاحب نے خرقہ خلافت عطا کیا۔ اپنے مرشد کے حکم سے ناگور گئے جہاں بندگان خدا کی خدمت میں مصروف رہے۔ آپ روحانیت میں اس قدر غرق تھے اور دنیا کے معاملات سے اس قدر بیزار تھے کہ خواجہ صاحب نے آپ کو سلطان التارکین اور صوفی کے ا لقاب عنایت فرمائے۔

لقب سلطان التارکین:ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ خواجہ غریب نواز نے بحالت خوشی حاضرین سے دریافت کیا کہ جو کچھ مانگناچاہتے ہو مانگو کیونکہ قبولیت کے دروازے کھلے ہوئے ہیںکسی نے دنیا اور کسی نے عقبیٰ کی درخواست کی ۔ صوفی حمیدالدین نے عرض کیا کہ بندے کی کوئی خواہش نہیں ہے جو کچھ چاہیں مولا تعالیٰ چاہیں۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے عرض کیا کہ بندے کو اختیار نہیں ہے جو حکم ہو آپ کو اختیار ہے۔ اس پر خواجہ غریب نواز نے فرمایا ”التارک من الدنیا والفارغ عن العقبیٰ الواصل بالمولیٰ سلطان التارکین حمید الدین صوفی“ اس طرح اس دن سے آپ کا لقب سلطان التارکین ہوگیا۔

کرامات : آپ کی کرامات سے متعلق ایک اور واقعہ منقول ہے کہ ناگور میں ایک تاجر تھا جو ہر سال تل لے کر ملتان کی منڈی میں جاتا اور وہاں سے روٹی لے کر ناگور آتا تھا۔ وہ صوفی علیہ الرحمہ کے خطوط حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی ؒ کے نام سے لے جاتا اور ان کے جواب لا کر حضرت کو دیا کرتا تھا ۔ ایک مرتبہ شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی نے کسی تاجر کے ساتھ دو باردان سونے چاندی سے پر کر کے آپ کی خدمت میں بھیجے اور اسے قبول کرنے کی درخواست بھی کی آپ نے اس تاجر سے فرمایا کہ یہ زروجواہر گیندانی تالاب کے میدان میں ڈال دو تاکہ غریبوںاور مسکینوں کے کام آجائے اور ہماری طرف سے اسی میدان کے سنگ ریزے بھر کر لے جاﺅ اور شیخ الاسلام کی خدمت میں تحفة ً پیش کردو۔ تاجر نے ایسا ہی کیا ۔ ملتان پہنچنے پر وہ سنگ ریزے ہیرے جواہرات بن گئے یہ دیکھ کر تاجر حیران رہ گیا۔

روحانی ولایت ناگور شریف:خواجہ غریب نواز نے قطب صاحب کو دہلی اور آپ کو ناگور کی روحانی ولایت عطا کی، اسی وجہ سے آپ ناگوری کہلاتے ہیں۔ جب آپ ناگور تشریف لائے اس وقت آپ کی عمر چالیس برس تھی۔

آپ راجستھان کے شہر ناگور کے قریب واقع آج پھاگلی گاؤں کے نام سے مشہور ایک جگہ پر جہاں ان کی کاشت کی ایک بیگہہ زمین تھی اسی سے متصل چھپر پوش کچی دیواروں کے ایک کمرے میں اپنی اہلیہ کے ساتھ نہایت غربت اور ناداری کی حالت میں زندگی گزاررہے تھے، جس سے متاثر ہو کر حاکم ناگور نے کچھ زمین اور کچھ نقدی حضرت صوفی صاحب کی خدمت میں پیش کی جس کو آپ نے چشتیہ روایت کے تحت فقیرانہ شان سے رد کردیا۔ اس کے بعد حاکم ناگور نے سلطان دہلی کو لکھ کر ایک گاﺅں اور پانچ سو چاندی کے ٹنکے صوفی صاحب کی خدمت میں نذر کے لئے منگوائے لیکن آپ نے اپنی اہلیہ بی بی خدیجہ سے جب مشورہ کیا تو انہوں نے بھی نذرانہ قبول کرنے منع فرمایا حالانکہ صوفی صاحب کا تہ بند پھٹ رہا تھا اور خود بی بی صاحبہ کر سر پر دوپٹہ نہیں تھا۔

اسی موقع پر بی بی خدیجہ نے صوفی صاحب کو بتلایا کہ اپنے دوپٹے اور آپ کی تہ بند کے لئے میں نے سوت کات کر رکھا ہوا ہے۔

حضرت صوفی حمیدالدین ناگوری علیہ الرحمہ کا اخلاق وکردار: حضرت صوفی علیہ الرحمہ کا اخلاقی وکردار اس وقت محبوب خلائق تھا یعنی آپ کے حسن اخلاق کا یہ عالم تھا کہ ہر ایک آپ سے متاثر تھا اور آپ سے عقیدت ومحبت رکھتا تھا۔ صرف انسانوں سے ہی نہیں بلکہ آپ جانوروں سے بھی بے حد نرمی، رحم دلی اور شفقت کا معاملہ فرماتے تھے ۔ آپ صلح پسند تھے اور باہمی امن وآشتی کا درس دیتے تھے۔ آپ اپنے وقت کے ایک عابد وزاہد اور تارک دنیا بزرگ تھے۔ مسلسل چالیس برس تک بے آب وگیاہ جنگلاتی سرزمین پر عبادت وریاضت میں مشغول رہے۔ اس قدر نفس کشی کی کہ ساری عمر میں صرف ایک من جو تناول فرمایا۔ اپنا کل اثاثہ اور کاشت کی زمین غرباءومساکین میں تقسیم کرنے کے بعد صرف ایک بیگہہ زمین پر قانع تھے جس پر اپنے ہاتھ سے کاشت کرکے اہل وعیال کی کفالت کرتے تھے۔

خشوع وخضوع عبادت: آپ عبادت وریاضت میں اس قدر منہمک ہوجاتے تھے کہ آپ کو دنیا کی کوئی کوئی خبرنہ ہوتی تھی چنانچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ آپ پیر نہر والی مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کے استاذ مولانا شمس الدین حلوائی اور دیگر لوگ جو اجمیر سے ان کے پاس آئے تھے مسجد میں آگئے صوفی علیہ الرحمہ اسی طرح خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کرتے رہے اور انہیں مذکورہ حضرات کی آمد کی قطعاً خبر نہ ہوئی۔

کثیر اللسانی، ذوق علم وآگہی : آپ اپنے وقت کے ایک عالی مرتبت اور بلند نظر کثیر اللسان عالم تھے انہیں عربی ،فارسی اور ہندی تینوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ آپ کو مطالعہ کا بے حد ذوق وشوق تھا ۔ قرآن پاک کی مختلف تفسیر یں اور مستند مشائخ کی تحریر کردہ حدیث کی بلند پایہ کتابیں آپ کے زیر مطالعہ رہتی تھی۔

تصانیف: آپ خود بھی کئی معتبر اور مستند کتابوں کے مصنف ہیں۔ تصوف وسلوک ،شریعت وطریقت تفسیر وحدیث فقہ اور علم الفرائض (میراث کے اسلامی قوانین) آپ کی دلچسپی کے خاص موضوعات تھے۔ آپ کے حق آگاہ قلم کی چند نگارشات جنہیں آج بھی علماءوصوفیاءکے درمیان نہایت قدر کی نگاہوںسے دیکھا جاتا ہے جودرج ذیل ہیں:

رسالہ اصول الطریقت

رسالہ چہار منزل

 رسالۃ السماع

 رسالۃ العشق

 رسالہ آیات القرآن

 رسالہ سوال وجواب

 رسالۃ السلوک

 فتاویٰ حمیدیہ

 ملفوظ شرف الانوار

اورفارسی زبان میں دیوان حمید کے نام سے آپ کاشعری مجموعہ بھی تھا۔ مذکورہ کتابوں میں سے چند آج کل ناپید ہوچکی ہیں۔

حضرت صوفی حمیدالدین ناگوری علیہ الرحمہ کے مشہور خلفاء : حضرت صوفی حمیدالدین ناگوری علیہ الرحمہ کے مشہور خلفاء جن میں شیخ عبداللہ علیہ الرحمہ ، یاسین ترک علیہ الرحمہ ، سید حیدر علیہ الرحمہ ، نصیر الدین خوئی علیہ الرحمہ اور ابوبکر کہالیٰ علیہ الرحمہ نہایت معروف ہیں ۔

وصال پر ملال: آپ علیہ الرحمہ  29ربیع الآخر 673 ہجری بروز پیر واصل بحق ہوئے۔

مزار پرانوار: آپ کی آخری آرام گاہ راجستھان کے شہر ناگور میں آج بھی مرجع خلائق ہے۔


حضرت مولانا شاہ محمد اجمل سنبھلی اشرفی علیہ الرحمہ

 

اسم گرامی: محمد اجمل

والد کا نام: شاہ محمد اکمل

القابات: سند الفقہا، سلطان المناظرین، اجمل العلماء

 ولادت باسعادت: ۱۵ محرم ۱۳۲۲ہجری سال پیدائش ہے، ابتدائی تعلیم والد اور بڑے بھائی سے پائی، ابتدائی عربی شرح جامی تک اپنے چچیرے بھائی مولانا شاہ محمد عماد الدین سنبھلی سے پڑھی، معقول و منقول کی تحصیل و تکمیل تاج العلما حضرت مفتی محمد عمر نعیمی  اشرفی اور حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین  اشرفی فاضل مراد آبادی علیہ الرحمہ  سے کی، ۱۳۳۹ھ میں سند فراغ حاصل کی ـ

اجمل العلما پر صدر الافاضل علیہ الرحمہ کی خصوصی نظر تھی اس لیے خود  صدرالافاضل آپ کو مرکز عقیدت بریلی شریف لے کر حاضر ہوئے، اور شیخ الاسلام والمسلمین، مجدد اعظم، اعلی حضرت، امام احمد رضا خان قادری حنفی بریلوی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت کرائی۔ پیر و مرشد کے وصال کے بعد شہزادہ اعلی حضرت، حجۃ الاسلام، علامہ حامد رضا خان  علیہ الرحمہ نے سلسلہ رضویہ قادریہ کی اجازت و خلافت سے نوازا، اور خانوادہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف کے عظیم بزرگ  محبوب ربانی حضرت مخدوم المشائخ، اعلی حضرت شاہ علی حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی نے بھی اجمل العلما کو سلسلۂ اشرفیہ چشتیہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔

معمولات زندگی: آپ کا معمول تھا کہ بعد نماز عشا میاں صاحب والی مسجد میں پابندی کے ساتھ قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر بیان فرماتے اور درس قرآن کا یہ سلسلہ تقریباً دس سال تک چلتا رہا، جہاں پر کثیر تعداد میں سامعین شرکت فرماتے تھے۔: حضور اجمل العلما علیہ الرحمہ  کا معمول تھا کہ بعد ظہر آئے  ہوے خطوط کا جواب رقم کرتے. اگر فقہی سوالات ہوتے تو ان کا نہایت مدلل جواب لکھتے، آپ نے تقریبا چالیس سال تک فتویٰ نویسی فرمائی، آپ کے فتاویٰ کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے جو آج فتاوی اجملیہ کے نام سے چار جلدوں میں اہل علم کی بیچ مقبول و متعارف ہے، اس کے علاوہ آپ نے باطل فرقوں کی سرکوبی اور عوام الناس کو اسلامی تعلیمات و راہ راست کی شناخت کرانے کے لیے متعدد کتب تصنیف فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں: (۱) فتاوی اجملیہ 4/ جلدیں، (۲) رد شہاب ثاقب بر وہابی خائب، (۳) رد سیف یمانی در جوف لکھنوی و تھانی، (۴)اجمل المقال لعارف رویت الہلال، (۵) عطر الکلام فی استحسان المولد والقیام، (۶) تحائف حنفیہ بر سوالات وہابیہ (۷) فوٹو کا جواز در حق عازمان سفر حجاز، (۸) اجمل الکلام فی عدم القرات خلف الامام، (۹) افضل الانبیاء والمرسلين (۱۰) فیصلہ حق و باطل، (۱۱) طوفان نجدیت وسبع آداب زیارت، (۱۲) بارش سنگی در قفائے دربھنگی، (۱۳) قول فیصل (۱۴) اجمل الارشاد فی اصل حرف الضاد ( ۱۵) کاشف سنیت و ہابیت (۱۶) سرمایۂ واعظین (۱۷) ریاض الشہدا منظوم (۱۸) نظام شریعت اول، دوم (۱۹) اسلامی تعلیم اول، دوم (۲۰) مذہب اسلام (۲۱) اجمل السیر في عمر سید البشر (۲۲) مضامین اجمل العلما (۲۳) نعتیہ دیوان حضرت اجمل العلما۔

کئی سال کی مسلسل علالت کے بعد اکسٹھ برس کی عمر میں ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۸۳ہجری  مطابق ۱۸ ستمبر ۱۹۶۳ء کو بروز چہار شنبہ ۱۲؍بج کر ۴۵ منٹ پر دارِ فنا سے دار بقا کی راہ لی، مرقد سنبھل میں ہے۔


ابوالفتح حضرت شیخ مجدالدین بغدادی علیہ الرحمہ


 

اسمِ گرامی: مجد الدین ۔

 آپ علیہ الرحمہ کاتصحیح  اسم گرامی: مجَدُ الدّین ہے ۔ نہ کہ مجدد الدین ۔

 کنیت: ابو سعید ۔

 لقب: ابو الفتح ۔ بغداد کی نسبت سے بغدادی کہلاتے ہیں ۔

پیر و مرشد: آپ  علیہ الرحمہ مشہور صوفی بزرگ حضرت  شیخ نجم الدین کبریٰ کے مریدِ خاص اور خلیفہ ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:ابو الفتح مجد الدین شرف بن مؤید بن ابی الفتح بغدادی ۔ علیہم الرحمہ

تاریخِ ولادت:آپ علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت 554ہجری  / مطابق 1159ء کو بغداد میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:آپ علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ کے والدِ گرامی اور والدہ محترمہ اپنے وقت کے تعلیم یافتہ انسان تھے ۔ والد اور والدہ دونوں طبیب تھے ۔ بغداد میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ ان کی مہارت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب شاہِ خوارزم نے خلیفہ بغداد سے اپنے علاج کے لئے کوئی طبیب مانگا، تو انہوں نے آپ کے والد کو بھیج دیا ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت والدین کے زیر سایہ ہوئی ۔ پھر بغداد کے صاحبانِ علم سے تحصیلِ علم کیا ۔ آپ علیہ الرحمہ کا شمار اس وقت کے کاملین میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:امام الاولیاء حضرت شیخ نجم الدین کبری علیہ الرحمہ  کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے ممتاز ہوئے ۔

سیرت و خصائص:سید الاولیاء، شیخ الاصفیاء، مجاہدِ کبیر، ولیِ کامل، واعظِ اسلام، حضرت شیخ مجد الدین بغدادی علیہ الرحمہ  ۔آپ علیہ الرحمہ کا شمار اکابر اولیاءِ کرام میں ہوتا ہے ۔ آپ علیہ الرحمہ بہت خوب صورت تھے ۔ جب شیخ نجم الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے ان کو وضو کے پانی بھرنے کی خدمت میں مشغول رکھا ۔ ان کی والدہ نے سنا وہ طبیبہ تھیں ۔ شیخ بھی (روحانی و جسمانی) طبیب تھے ۔

ان کی والدہ نے کسی کو شیخ کے پاس بھیجا کہ فرزند مجد الدین ایک نازک آدمی ہے یہ کام اس سے مشکل ہوگا ۔ اگر آپ فرمائیں ۔ تو میں دس غلام ترکی بھیج دیتی ہوں کہ وہ پانی کی خدمت کریں گے ۔ آپ اس کو کسی دوسری خدمت پر مقرر فرمائیں ۔ شیخ نے فرمایا کہ اس سے جا کر کہہ دو کہ یہ تمہاری عجیب بات ہے ۔ تم تو علمِ طب پڑھی ہوئی ہو ۔ تم خوب جانتی ہو کہ اگر تمہارے بیٹے کو صفراوی تپ ہو تو میں اس کی دوا ترکی غلام کو دوں، تو تیرا بیٹا کیسے تندرست ہوگا ۔ مقصدیہ تھا کہ ہم اس کی روحانی تربیت کر رہے ہیں ۔ ان کی نزاکت ختم کرکے انہیں مجاہد بنانا ہے ۔

خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت:شیخ رکن الدین علاؤ الدولہ سمنانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ شیخ مجد الدین نے فرمایا: میں بغداد سے شام کو جا رہا تھا، تا کہ وہاں سے روم جاؤں ۔ جب موصل تک پہنچا تو ایک رات جامع مسجد میں گزاری ۔ جب میں سو گیا تو دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے وہاں نہیں جاتے ہو کہ فائدہ حاصل کرو ۔ میں نے دیکھا تو ایک جماعت حلقہ مار کر بیٹھی ہوئی تھی ۔ ایک شخص ان کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ۔ جن کا نور ان کے سر سے آسمان تک پہنچا ہوا تھا وہ باتیں کر رہے تھے، اور سب سن رہے تھے ۔میں نے کہا یہ حضرت کون ہیں ۔ لوگوں نے کہا: کہ یہ حضرت محمد مصطفٰی ﷺ ہیں ۔ آگے بڑھا اور سلام عرض کیا: آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا، اور مجھے حلقہ میں جگہ دی ۔جب میں بیٹھ گیا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ!  آپ بو علی سینا کے حق میں کیا فرماتے ہیں؟

 آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ شخص ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے بوجود علم کے گمراہ کر دیا ۔

پھر میں نے عرض کی: آپ شہاب الدین مقتول کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ۔

آپﷺ فرمایا: وہ اسی کے تابع ہے ۔

اس کے بعد میں نے علمائے اسلام کی بارے پوچھنا شروع کیا ۔ میں نے عرض کیا: ما تقول فی حق حجۃ الاسلام محمد الغزالی ـ یعنی: حجۃ الاسلام امام غزالی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

 فرمایا : وہ ایک ایسا شخص ہے جو کہ اپنے مقصود تک پہنچ گیا ہے ۔

پھر میں نے عرض کیا: ما تقول فی حق امام الحرمین ۔ یعنی: آپ امام الحرمین کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

آپ ﷺ فرمایا : وہ ایسا شخص ہے جس نے میرے دین کی حمایت کی ہے ۔

پھر میں نے عرض کیا: ما نقول فی حق ابی الحسن الاشعری ۔ یعنی: امام ابو الحسن اشعری علیہ الرحمہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں: آپ نے فرمایا: انا قلت و قولی صدق الایمان یمان و الحکمۃ یمانیۃ ۔ یعنی: میں پہلے ہی فرما چکا ہوں، اور میری بات سچی ہے کہ ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت یمانی ہے ۔

اس کے بعد ایک شخص نے جو میرے نزدیک بیٹھا ہوا تھا ۔ مجھے کہا: کہ یہ سوالات کیوں کرتے ہو ۔ دعا کے لیے درخواست کرو کہ جس سے تمھارا فائدہ ہو ۔

اس کے بعد میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی دعا سکھلائیے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اللھم تب علی حتی اتوب و اعصمنی حتی لا اعود وحبب الی الطاعات و کرہ الی الخطیآت ۔ یعنی: اے پروردگار میری طرف نظرِ رحمت فرما یہاں تک کہ میں توبہ کروں، اور مجھ کو بچا لے ۔ یہاں تک کہ پھر گناہ نہ کروں ۔ مجھے عبادت کی محبت اور گناہوں کی کراہت دے ۔اس کے بعد مجھ سے حضور ﷺ نے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو ۔ میں نے عرض کیا روم کی طرف ۔ فرمایا: الروم ما دخلہ المعصوم ۔ یعنی: روم میں معصوم داخل نہیں ہوتا ۔جب میں اس خواب سے بیدار ہوا ۔ وہاں ایک بالا خانہ تھا ۔ جس میں مولانا موفق الدین کواشی رہتے تھے ۔ اور آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے ۔ میں نے ان کی زیارت کی ۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے بتایا ۔ پوچھا کہاں سے آئے ہو ۔ میں نے کہا: بغداد ۔ پوچھا اب کہاں جاؤ گے؟ میں نے کہا ۔ روم ۔ کہا روم کی طرف جاتے ہو ۔ میں نے کہا: ہاں ۔ کہا: الروم ما دخلہ المعصوم ۔ جب انہوں نے یہ کلمہ کہا، تو میں تعجب کرنے لگا ۔ میں نے کہا شاید آپ کل کی مجلس میں موجود تھے ۔ کہا: دعنی دعنی یعنی: اس بات کو رہنے دو، اور میں واپس آ گیا ۔

علمی و ادبی خدمات: آپ علیہ الرحمہ  علم و تصوف کا بلند مقام رکھتے تھے اور عربی و فارسی دونوں زبانوں میں تصنیفات لکھیں۔

تحفۃ البررۃ فی المسائل العشرۃ: یہ تصوف کے مسائل پر عربی زبان میں لکھی گئی آپ کی سب سے مشہور کتاب ہے۔

رسالہ فی السفر: سلوک اور روحانی سفر کے آداب پر فارسی زبان میں لکھی گئی ایک اہم کتاب۔

شاعری: آپ اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے اور آپ کی صوفیانہ رباعیات اور دیوان بھی یادگار ہیں

نامور تلامذہ اور شاگرد: آپ علیہ الرحمہ  کے فیض سے کئی بڑے اولیاء اور شعراء نے تربیت حاصل کی، جن میں یہ نام سرِفہرست ہیں:

شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ

حضرت نجم الدین رازی علیہ الرحمہ

حضرت شیخ رضی الدین علی لالہ علیہ الرحمہ

مرشد کی پیشگوئی اور "بیضۂ بط" (بطخ کے انڈے) کا واقعہ: ریاض العارفین میں منقول ہے کہ ایک بار شیخ مجدالدین بغدادی  علیہ الرحمہ پر روحانی کیفیات اور حال کا شدید غلبہ (سکر) ہوا۔ اس وجدانی کیفیت میں انہوں نے اپنے کچھ ساتھیوں کے سامنے ایک جملہ کہا:"ہم بطخ کے انڈے کی طرح تھے جو دریا کے کنارے پڑا ہو۔ ہمارے شیخ (حضرت نجم الدین کبریٰ علیہ الرحمہ ) وہ پرندے تھے جنہوں نے ہمیں اپنے پروں کے نیچے لیا یہاں تک کہ ہم انڈے سے باہر آ گئے۔ لیکن چونکہ ہم بطخ کے بچے تھے، اس لیے ہم (معرفت کے) سمندر میں اتر گئے جبکہ ہمارے شیخ ساحل پر ہی رہ گئے۔"جب ان کے مرشد شیخ نجم الدین کبریٰ رحمۃ اللہ علیہ تک یہ بات پہنچی، تو وہ جلال میں آ گئے، کیونکہ مرید نے غیر ارادی طور پر خود کو مرشد سے آگے بڑھا ہوا ظاہر کر دیا تھا۔ شیخ نے جلال میں فرما دیا: "فی دریا میراد!" (یعنی: یہ دریا میں ہی مرے گا)۔

جب شیخ مجدالدین بغدادی کا یہ وجدانی غلبہ دور ہوا، تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ فوراً مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے، معافی مانگی اور گریہ و زاری کی۔ مرشد کا دل پسیج گیا، انہوں نے معاف تو کر دیا لیکن فرمایا: "تم نے اپنا ایمان تو سلامت بچا لیا، لیکن اپنا سر (جان) سپرد کر دیا"۔ یعنی جو زبان سے نکل چکا تھا، وہ تقدیر کا حصہ بن گیا اور یہ پیشگوئی بعد میں سچ ثابت ہوئی۔

خوارزم شاہ کی ناراضگی اور شہادت کا واقعہ: شیخ مجدالدین بغدادی کی شہادت کا واقعہ تاریخِ اسلام کا ایک انتہائی حساس موڑ مانا جاتا ہے، جس کے بعد خوارزم شاہی سلطنت زوال کا شکار ہوئی۔ سلطان محمد خوارزم شاہ کی والدہ، ترکان خاتون، ریاست کے معاملات میں بہت زیادہ بااثر اور طاقتور خاتون تھیں۔ وہ صوفیاء اور اولیاء کی بہت زیادہ عزت کرتی تھیں اور شیخ مجدالدین بغدادی کی مجالس میں اکثر شریک ہوتی تھیں۔ دربار کے حاسدین اور وزراء، جو صوفیاء کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے جلتے تھے، انہوں نے سلطان محمد خوارزم شاہ کے کان بھرنے شروع کر دیے۔ انہوں نے سلطان کو جھوٹی رپورٹس دیں اور یہ تہمت لگائی کہ شیخ مجدالدین بغدادی نے ترکان خاتون سے خفیہ نکاح کر لیا ہے یا ان کے مراسم حد سے بڑھ گئے ہیں۔

سلطان محمد خوارزم شاہ ایک رات شدید غصے اور شراب کے نشے میں تھا۔ حاسدین نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور سلطان سے شیخ کے قتل کا پروانہ حاصل کر لیا۔ سلطان کے سپاہیوں نے رات کے اندھیرے میں حضرت شیخ مجدالدین بغدادی کو گرفتار کیا اور سلطان کے حکم پر انہیں دریائے جیحون (یا دجلہ) میں غرق کر کے شہید کر دیا۔ یوں مرشد کی وہ بات سچ ثابت ہوئی کہ وہ دریا میں ڈوب کر شہید ہوں گے۔

شہادت کے بعد کا اثر:  جب صبح سلطان کا نشہ اترا اور اسے معلوم ہوا کہ اس نے کتنے بڑے ولی اللہ کو قتل کروا دیا ہے، تو وہ شدید پشیمان ہوا۔ وہ قاصد کے ذریعے اپنے گناہ کا کفارہ اور خون بہا لے کر شیخ کے مرشد حضرت نجم الدین کبریٰ  علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور معافی کا خواستگار ہوا۔

حضرت نجم الدین کبریٰ علیہ الرحمہ نے خون بہا لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا:"مجدالدین کا خون بہا یہ پوری سلطنت بھی نہیں ہو سکتی۔ اس کا خون بہا تمہارا سر ہے اور عنقریب چنگیز خان کی شکل میں خدا کا عذاب آئے گا جس میں لاکھوں سر قلم ہوں گے!"

تاریخ گواہ ہے کہ اس واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد خوارزم شاہی سلطنت پر تاتاریوں (منگولوں) کا ہولناک حملہ ہوا، جس نے پوری سلطنت کو تہس نہس کر دیا اور سلطان محمد خوارزم شاہ کو جان بچا کر ایک جزیرے میں پناہ لینی پڑی جہاں وہ کسمپرسی کی حالت میں مرا۔

وصال پر ملال:شیخ مجد الدین بغدادی علیہ الرحمہ  کو 23 ربیع الثانی607ہجری، اور بعض کے نزدیک 610ہجری، کو شہید کیا گیا ۔ اسی طرح آپ علیہ الرحمہ کے مدفن کے بارے میں بھی اختلاف ہے ۔صحیح قول کے مطابق نیشا پور میں حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ علیہ الرحمہ کے مزار میں آرام فرما ہیں ۔(ماخذ و مراجع:خزینۃ الاصفیاء ۔ نفحات الانس ۔ ضیائے ربیع الثانی )