اشرف الصوفیاء سیداشرف حسین اشرفی کچھوچھوی علیہ الرحمہ

 


اسم گرامی:آپ کا اسم شریف: سید اشرف حسین؛ ہے، آپ کے والد ماجد حضرت سید سعادت علی ابن سید قلندر بخش قدس سرہ ہیں۔ آپ مخدوم الآفاق حضرت سید عبد الرزاق نورالعین اشرفی الجیلانی قدس سرہ کے نبیرہ ہیں۔ آپ کے نانا تاج الاولیاء، حضرت سید شاہ نیاز اشرف اشرفی الجیلانی قدس سرہ تھے۔

ولادت با سعادت:حضرت سید اشرف حسین قدس سرہ کی ولادت با سعادت بروز دوشنبہ ۱۲ / جمادی الثانی ۱۲۶۰ھ کو کچھوچھہ شریف میں ہوئی، یہ امجد علی شاہ اودھ کا عہد تھا۔

لقب: اشرف الصوفیاء

شجرہ نسب:حضرت سید اشرف حسین ابن سید سعادت علی ابن سید قلندر علی بخش ابن سید تراب علی ابن سید نواز اشرف ابن سید محمد غوث ابن سید جمال الدین ابن سید عزیز الرحمن ابن سید محمد عثمان ابن سید شاہ ابوالفتح زندہ پیر ابن سید محمد ابن سید محمد اشرف ابن سید حسن سرکار کلاں ابن مخدوم الآفاق حضرت سید عبد الرزاق نورالعین اشرفی الجیلانی قدس سرہ سجادہ نشین۔

تعلیم و تربیت: اشرف الصوفیاء حضرت سید اشرف حسین علیہ الرحمہ  نے علوم ظاہری کی تکمیل اپنے والد ماجد اور اپنے نانا حضرت تاج الاولیاء سید شاہ نیاز اشرف قدس سرہ کے زیر سایہ حضرت مولانا محمود عافی کی خدمت میں رہ کر وطن میں تکمیل فرمائی، آپ نے علم فقہ، تفسیر، حدیث، صرف و نحو و دیگر علوم پر کامل دسترس حاصل فرمایا۔

بیعت و خلافت: اشرف الصوفیاء حضرت سید اشرف حسین اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ  نے اپنے یگانہ روزگار نانا تاج الاولیاء حضرت سید شاہ نیاز اشرف قدس سرہ کے دست مبارک پر بیعت کی اور علومِ تصوف و راہِ سلوک کی تعلیم حاصل کی۔

حضرت تاج الاولیاء سید نیاز اشرف قدس سرہ کی عنایت و توجہ خاص سے حضرت اشرف الاولیاء سید شاہ اشرف حسین قدس سرہ مقامات عالیہ پر فائز ہوئے، اور خاندانی خلافت و اجازت سے بھی نوازا۔ (مخدوم الاولیاء) اور اشرف الاولیاء کے تایا (بڑے ابو) مخدوم المشائخ حضرت سید شاہ منصب علی قدس سرہ نے آخر عمر میں اپنی کبر سنی اور کمزوری و دیگر امراض میں مبتلا ہونے کے سبب اپنے برادر زادہ حضرت اشرف الاولیاء حضرت مولانا سید شاہ اشرف حسین اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ  کو ۱۲۸۵ھ میں اپنا جانشین مقرر فرمایا، اور سرکار کلاں کی سجادہ نشینی کا منصب تفویض فرمایا، اور خلافت نامہ بھی تحریر فرمایا۔ (مخدوم الاولیاء)اور تیسری خلافت و اجازت آپ کو امین الاولیاء حضرت شاہ امین الدین احمد فردوسی قدس سرہ سجادہ نشین مخدوم بہار نے سلسلہ فردوسیہ و سلسلہ ابو العلائیہ کی عطا فرمائی اور توجہ عینی سے سرفراز فرمایا۔ جس کا مکمل تذکرہ مخدوم الاولیاء درج ہے۔

توجہ عینی وخلافت ابوالعلائیہ:

صاحب مخدوم الاولیاء اور صحائف اشرفی جلد دوم میں محبوبِ ربانی اعلیٰ حضرت اشرفی میاں قدس سرہ نے نقل فرمایا کہ سیدی و مولائی اشرف الاولیاء حضرت سید شاہ اشرف حسین قدس سرہ کو جب عالمِ روحانی میں حضرت محبوبِ یزدانی غوث العالم سے اشارہ حصولِ ارشاد و تعلیم سلسلہ ابوالعلائیہ ہوا، آپ کو کسی قدر تامل ہوا تو جہ نظری کا طریقہ خاندانِ اشرفیہ میں نہیں ہے، اتنے میں دیکھا کہ حضرت محبوبِ یزدانی نے ادیسیہ طور سے آپ سے بیعت لی اور توجہ نظری فرمائی، اس کے بعد حضرت مخدومی نے بہار شریف میں حضرت مرشد الانام اور مرجعِ خاص و عام امین الاولیاء حضرت مولانا سید امین الدین احمد فردوسی ابو العلائی قدس سرہ سے جا کر تعلیم وتربیت خاندانِ ابو العلائی بطور خاص حاصل کی، سلسلہ فردوسیہ، قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، ابوالعلائیہ میں عام طور سے خلافت و ارشاد حاصل کیا۔حضرت اشرف الصوفیاء نے سلسلہ ابوالعلائیہ کا اجرا بھی جاری رکھا، اور اہل سعادت کو اس سلسلے کی اجازت بھی مرحمت فرماتے تھے۔ (صحائف اشرفی دوم)

سجادہ نشینی سرکارِ کلاں: اشرف الصوفیاء علیہ الرحمہ  کے تایا (بڑے ابو) مخدوم المشائخ حضرت سید شاہ منصب علی قدس سرہ نے آخر عمر میں اپنی کبر سنی اور کمزوری و دیگر امراض میں مبتلا ہونے کے سبب اپنے برادر زادہ حضرت اشرف الاولیاء حضرت مولانا سید شاہ اشرف حسین اشرفی الجیلانی قدس سرہ کو ۲۹/ محرم الحرام ۱۲۸۵ھ میں اپنا جانشین مقرر فرمایا، اور سرکار کلاں کی سجادہ نشینی کا منصب تفویض فرمایا، اور خلافت نامہ بھی تحریر فرمایا۔ سرکار کلاں کی اولادوں میں سے ممتاز بزرگ حضرت سید شاہ غفور اشرف اشرفی الجیلانی قدس سرہ نے اپنی محققانہ تصنیف تحائف اشرفیہ میں اس سند کو نقل فرمایا ہے۔ (مخدوم الاولیاء)

خرقہ علائی کی واپسی:شیخ المشائخ حضرت سید شاہ نذار اشرف قدس سرہ سجادہ نشین کے وصال کے بعد ان کی اہلیہ محترمہ مخدومہ بی بی اللہ رکھی اپنے میکے جائس شریف چلی گئیں، اور وہ خرقہ مبارک جو حضرت مخدوم علاء الدین گنج نبات چشتی پنڈوی قدس سرہ کا تھا اور انہوں نے حضرت محبوبِ یزدانی غوث العالم حضرت مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کو عطا فرمائی تھی اور انہوں نے وہ خرقہ مبارک حضرت سید شاہ حسن سرکار کلاں ابن نورالعین کو عطا فرمایا تھا، مخالفین کے خوف سے ساتھ لے گئیں، مخدومہ بی بی اللہ رکھی حضرت سید شاہ عطا اشرف صاحب جائسی کی صاحبزادی تھیں، اور ان کے بھائی سید شاہ مراد اشرف ابن عطا اشرف تھے، بی بی اللہ رکھی نے وہ مبارک خرقہ اپنے بھائی شاہ مراد اشرف کو دے دیا۔ حضرت سید شاہ مراد اشرف کی اہلیہ حضرت سید شاہ غفور اشرف کی پھوپھی تھیں، ان کے پوتے حضرت سید شاہ رفیع الدین صاحب عالی مرتبت بزرگ اور سجادہ نشین جائس تھے، ان سے حضرت سید شاہ سعادت علی اور اشرف الاولیاء حضرت سید شاہ اشرف حسین دونوں کو سلسلہ کی خلافت واجازت حاصل تھی، حضرت اشرف الاولیاء نے اس خرقہ مبارک کو حضرت سید شاہ رفیع الدین جائسی سے حاصل کر کے ۲۸ / محرم الحرام ۱۲۹۷ھ مطابق ۱۲ / جنوری ۱۸۸۰ء میں اپنے مرید وخلیفہ اور چھوٹے بھائی مخدوم الاولیاء اعلیٰ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کو پہنایا۔ (مخدوم الاولیاء ۵۵)

نکاح واولاد:اشرف الاولیاء علیہ الرحمہ  کا نکاح اول حضرت سید شاہ امداد اشرف صالح پور ضلع بستی کی دختر نیک سیرت سے ہوا، ان سے ایک فرزند حضرت مولانا سید شاہ جعفر اشرف قدس سرہ اور ایک صاحبزادی کی ولادت ہوئی، ان بی بی صاحبہ کا وصال ۱۲۷۷ھ میں ہوا، حکیم ربیع الاول ۱۲۷۳ھ کے روز نامچہ میں ہے کہ آپ نے ۲۵ / صفر کو کہا کہ ہم اس ماہ میں نہ جائیں گے، لہذا آپ نے یکم ربیع الاول ۱۲۷۳ھ کو علی الصبح رحلت فرمائی، نمازِ جنازہ آپ کے زِندار ہمدم حضرت سید شاہ جعفر اشرف نے پڑھائی، خاندان کے سبھی افراد جنازہ میں شریک تھے۔

دوسرے نکاح سے دو صاحبزادی اور چند فرزندگان کی ولادت ہوئی، چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا سید شاہ مظفر حسین صاحب کچھوچھوی کے علاوہ سب انتقال کر گئے۔ جو بڑے کریم بااخلاق بزرگ تھے، ان سے دینی ملی بڑے بڑے کارنامے انجام پائے۔ (مخدوم الاولیاء)

تفویضِ سجادگی:حضرت اشرف الصوفیاء علیہ الرحمہ  نے اپنے چھوٹے بھائی مخدوم الاولیاء محبوبِ ربانی اعلیٰ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی (اشرفی میاں) قدس سرہ کو بیعت فرما کر اپنی خلافت واجازت عطا فرمائی اور آستانہ حضور غوث العالم وسرکار کلاں کی سجادہ نشینی عطا فرمائی، وہ سجادہ نشینی سرکار کلاں کی اب تک آپ ہی کی اولادوں میں چلی آ رہی ہے۔

وصال: اشرف الصوفیاء حضرت سید شاہ اشرف حسین قدس سرہ نے تقریباً ۸۷ سال کی بڑی عمر پائی، صحت عموماً ہمیشہ معتدل رہی، آخری ایام قدرے علالت میں گزرے، آپ کا وصال ۲۵ / محرم ۱۳۴۷ہجری کو کچھوچھہ شریف میں ہوا، مزار مبارک آستانہ غوث العالم کے احاطے میں مرجعِ انوار و خلائق ہے۔( کتاب: انوار اشرفی صفحہ 537 تا 540 بشکریہ عمر ارشدی حفظہ اللہ )

 

حضرت مولانا عبدالرحمن جامی نقشبندی علیہ الرحمہ

 

مولانا عماد الدین نور الدین عبد الرحمٰن جامی عموماً مولانا عبد الرحمٰن جامی اور عبد الرحمٰن نور الدین محمد دشتی کے نام سے افغانستان کے مشہور و معروف صوفی شاعر اور مؤرخ تھے۔آپ علیہ الرحمہ کا عرصہ حیات 1414ء سے 1492ء تک محیط ہے۔ آپ اپنے زمانہ میں علمائے اسلام اور صوفیائے اسلام کی صف اول میں شمار کیے جاتے تھے۔ اسلامی صوفی ازم میں آپ کا رتبہ مقام عالیت کو پہنچا ہوا ہے۔ آپ نے صنف شاعری میں کئی اہم کتب تصنیف فرمائیں جن میں تصوف اور روحانیت کا درس دیتے ہوئے مولانا جامی علیہ الرحمہ کی شخصیت مزید اُبھرتی ہوئی ہمارے سامنے آتی ہے۔

ولادت باسعادت: مولانا جامی علیہ الرحمہ  کی ولادت بروز بدھ 23 شعبان المعظم 817ھ مطابق 7 نومبر، 1414ء کو بوقت عشاء جام کے موضع خرجرد میں ہوئی جو اب افغانستان کے صوبہ غور میں واقع ہے۔ جام ایک گاؤں ہے جو افغانستان کے صوبہ غور میں چشت کے شمال میں ہری رُود کے بائیں کنارے کے معاون تگاؤ گنبذ کے کنارے آباد ہے۔

والدین:  مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  کے والد احمد بن محمد دشتی تھی۔ وہ اولاً اصفہان کے قریہ دشت میں رہا کرتے تھے، بعد ازاں جام آ گئے۔ مولانا محمد (مولاناجامی کے جد امجد) کے عقد میں امام محمد بن حسن شیبانی کی اولاد سے ایک صاحبزادی تھیں، جن کے بطن سے مولانا جامی علیہ الرحمہ کے والد احمد بن محمد پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ کا اسم گرامی معلوم نہیں ہو سکا مگر اِتنا پتہ چلتا ہے کہ 878ہجری تک وہ بقیدِ حیات تھیں، کیونکہ اُن کی حالت ضعیفی کی بنا پر مولانا جامی علیہ الرحمہ تبریز میں قیام نہیں کرسکے تھے اور واپس  ہرات آ گئے تھے۔ غالباً طویل العمری میں اُن کا اِنتقال ہرات میں ہوا۔

تحصیل علم: مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  کی ابتدائی تعلیم کے متعلق صفی الدین علی نے اپنی تصنیف رشحات عین الحیات میں بہت معلومات تحریر کی ہے، اُن کے مدرسین، اُساتذہ، کسبِ علم کے لیے کیے گئے سفر اور مولانا جامی علیہ الرحمہ کے نبوغ و اِستعداد پر تفصیل سے جائزہ لکھا ہے۔ صفی الدین علی کتاب رشحات عین الحیات میں یوں لکھتے ہیں کہ:جب وہ چھوٹی عمر میں اپنے والد محترم کے ساتھ ہرات آئے تو مدرسہ نظامیہ میں ٹھہرے۔ وہاں علومِ عربی کے ماہر جنید اُصولی کے درس میں داخل ہو گئے، جن کی اِس فن میں شہرت بڑی دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ کو مختصر تلخیص پڑھنے کا شوق ہوا۔ جن جامی اِس درس میں داخل ہوئے تو بعض طلبہ شرح مفتاح اور مطول پڑھ رہے تھے۔ جامی اگرچہ ابھی شرعی حدِ بلوغت کو نہیں پہنچے تھے لیکن خود میں وہ کتب سمجھنے کی اِستعداد پاتے تھے، لہٰذا وہ بھی مطول اور حاشیہ مطول پڑھنے لگے۔ پھر مولانا خواجہ علی سمرقندی کے حلقہ درس میں داخل ہو گئے جو مدققِ روزگار اور حضرت سید شریف جرجانی کے نامورشاگرد تھے اور طریقہ مطالعہ (تدریس) میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے۔ لیکن جامی 40 دن میں ہی اُن سے مستغنی ہو گئے اور مولانا شہاب الدین محمد جاجرمی کے حلقہ درس میں چلے گئے جو اپنے وقت کے بہترین باحث (مناظر) تھے اور اُن کا سلسلہ تلمذ حضرت مولانا سعد الدین تفتازانی تک ملتا تھا۔ جامی فرمایا کرتے تھے:ہم جو چند روز اُن کے درس میں گئے تو اُن سے دو کارآمد باتیں سنیں، ایک یہ کہ کتاب تلویح پڑھاتے وقت وہ مولانا زادہ خطائی کے اعتراضات کا رَد کرتے۔ پہلے دن جب انھوں نے اُن (یعنی مولانا زادہ خطائی) کا اعتراض دور کرنے کے لیے دو تین مقدمات بیان کیے تو ہم نے انھیں جھٹلا دیا۔ دوسری نشست میں انھوں نے بڑے غوروخوض کے بعد جواب دیا، جو قدرے منطقی تھا۔ دوسری بات فن بیان میں انھیں تلخیص مطول سے قدرے اِختلاف تھا، گو وہ بنیادی طور پر اِس کی کوئی زیادہ تردید نہیں کرتے تھے اور صرف کتاب کی عبارت اور الفاظ پر اَڑے ہوئے تھے، تاہم اُن کی توجیہ میں کچھ وزن تھا۔

مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  اِس کے بعد سمرقند مین محققۃ روزگار قاضی زادہ روم کے مدرسہ میں چلے گئے، پہلی ہی ملاقات میں جامی کی اُن سے بحث چل نکلی، جو طول پکڑ گئی۔ آخر کار قاضی زادہ روم کو جامی کی بات سے اِتفاق کرنا پڑا۔ مرزا الغ بیگ کے ہاں عہدہ صدارت پر فائز ایک متبحر عالم دین مولانا فتح اللہ تبریزی بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی اِس مجلس مباحثہ میں موجود تھے، قاضی زادہ روم نے سمرقند میں اپنے مدرسہ میں مجلس کا اہتمام کیا۔ دنیا کے سبھی اکابر و افاضل وہاں موجود تھے۔ قاضی زادہ روم اِس مجلس میں زیادہ تر صاحبِ اِستعداد اور خوش طبع لوگوں کا ذکر کرتے رہے۔ مولانا عبد الرحمٰن جامی کے بارے میں یوں فرمایا: جب سے سمرقند آباد ہوا ہے، جدتِ طبع اور قوتِ تصرف میں جام کے اِس نوجوان کے پائے کا کوئی شخص دریائے آمویہ عبور کرکے اِدھر نہیں آیا۔ (دریائے آمویہ موجودہ آمو دریا کا پرانا نام ہے، یہ وسط ایشیا کا سب سے بڑا دریا ہے اور دریائے جیحوں بھی کہلاتا ہے۔

قاضی روم کے شاگرد مولانا ابو یوسف سمرقندی کا بیان ہے کہ جب حضرت مولانا عبد الرحمٰن جامی علیہ الرحمہ  سمرقند آئے تو اِتفاق سے فنِ ہیئت میں ایک کتاب کی شرح پڑھنے لگے۔ قاضی روم نے اُس کتاب کے حواشی پر سالہا سال سے کچھ تعلیقات لکھ رکھی تھیں، جامی روزانہ ہر نشست میں اُن میں سے ایک دو کی اِصلاح کر دیا کرتے۔ قاضی روم اِس کام پر جامی کے بے حد شکر گزار ہوئے۔ چنانچہ وہ اپنی شرح ملخص چغمینی بھی اُٹھا لائے اور مولانا جامی علیہ الرحمہ کو دکھائی۔ جامی نے اُس کتاب میں وہ تصرفات بھی کیے جو قاضی روم کے وہم و گماں میں بھی نہ تھے۔

اساتذہ کرام: اِن مذکورہ بالا واقعات میں جن شخصیات کا ذکر آیا، وہ مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  کے اُساتذہ کرام ہیں۔ اِن کا مختصراً ذکر یوں ہے:

شہاب الدین محمد جاجرمی علیہ الرحمہ:   یہ مولانا شمس الدین محمد جاجرمی علیہ الرحمہ  سے الگ ایک شخصیت ہیں۔

عثمان بن عبد اللہ خطائی حنفی معروف بہ مولانا زادہ خطائی نظام الدین علیہ الرحمہ:    علم اصول وبیان کے عالم تھے، انھوں نے علامہ سعد الدین تفتازانی کی کتب پر حواشی لکھے۔ 

قاضی زادہ روم صلاح الدین موسیٰ بن احمدعلیہ الرحمہ:    قاضی محمودی کے نواسے تھے اور سلطان مراد عثمانی کے عہد حکومت میں 761ہجری  تا 792ہجری تک بروسہ کے قاضہ بھی رہے۔ 

مولانا فتح اللہ تبریزی علیہ الرحمہ:    علوم معقول و منقول میں ماہر تھے۔ مدتوں سلطان سعید کی ملازمت میں رہے۔ درس و تدریس سے بھی رابستہ رہے۔

آپ علیہ الرحمہ  کے روحانی پیشوا: مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  نے اپنے عہد کی نامور روحانی شخصیات سے اکتسابِ فیض حاصل کیا جن میں قابل ذکر یہ شخصیات ہیں:

حضرت مخدوم سعد الدین کاشغری علیہ الرحمہ : اِن سے مولانا جامی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ  نے سمرقند میں ملاقات کی ۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار آپ کے سلسلہ طریقت میں خلیفہ تھے۔

خواجہ محمد پارسا علیہ الرحمہ: اِن کو بچپن میں مولانا جامی علیہ الرحمہ نے دیکھا۔

مولانا فخر الدین لورستانی علیہ الرحمہ: اِن کو بچپن میں مولانا جامی علیہ الرحمہ نے دیکھا۔

حضرت شیخ بہاءُ الدین عمر قدس چغارگی علیہ الرحمہ: اِن سے بھی بکثرت ملاقات رہی۔ چغارہ ہرات کے قریب ہری رود دریا کے کنارے واقع ہے۔ وہیں پیدا ہوئے اور اِسی نسبت سے چغارگی کہلائے۔  اِن کا سلسلہ طریقت حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی علیہ الرحمہ سے ملتا ہے۔ حکومتی حلقوں میں اِن کا بہت اثر و رسوخ تھا۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ جب تک ہرات میں مقیم رہے، ہفتے میں دو تین بار شیخ سے ملنے جایا کرتے تھے۔

خواجہ محمد ب رہان الدین ابو نصر پارسا علیہ الرحمہ: مولانا جامی علیہ الرحمہ اکثر اِن کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔

خواجہ شمس الدین محمد کوسوئی علیہ الرحمہ: یہ حضرت خواجہ سعد الدین کاشغری علیہ الرحمہ کے بھی استاد تھے اور مولانا جامی علیہ الرحمہ خود اِن کی خدمت میں آیا کرتے تھے۔

مولانا جلال الدین ابو یزید پورانی علیہ الرحمہ: مولانا جامی علیہ الرحمہ اِن کے قریہ پوران میں جاکر اِن کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، نفحات الانس میں مولانا جامی علیہ الرحمہ نے اِن کی خشیتِ الٰہی بیان کی ہے۔ ۔ ہرات کے مشرقی سمت میں واقع ایک گاؤں پوران میں پیدا ہوئے تھے، اِسی نسبت سے پورانی کہلائے۔

مولانا شمس الدین محمد اسد علیہ الرحمہ: ان کے ہاں بھی مولانا جامی علیہ الرحمہ کی بہت آمدورفت رہا کرتی تھی۔ مقامِ تصور و تخیلات میں اوجِ کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ کا بیان ہے کہ اُن کی مقام جمع تک رسائی ممکن ہوتی تھی۔ ہرات کے ایک علاقہ گازرگاہ میں مدفون ہوئے۔

حضرت خواجہ عبید اللہ اَحرار علیہ الرحمہ: ملا علی بن حسین کاشفی علیہ الرحمہ  نے رشحات عین الحیات میں مولانا جامی علیہ الرحمہ کے مرشد حضرت خواجہ عبید اللہ احرار یعنی حضرت ناصر الدین عبید اللہ المعروف بہ خواجہ احرار کا مفصل تذکرہ کیا ہے۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ اور اِن کے مابین قلبی و روحانی تعلق قائم تھا اور یہ تعلق مولانا جامی علیہ الرحمہ کی نثری اور منظومی تصانیف میں نظر بھی آتا ہے۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار سے مولانا جامی علیہ الرحمہ کی خط کتابت ملاقات سے قبل بہت تھی لیکن ملاقات غالباً 872ھ/ 1467ء میں بمقام ہرات میں ہوئی جب حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ ہرات کے تیموری حکمران ابو سعید مرزا کی درخواست پر چوتھی مرتبہ ہرات آئے تھے۔ تب مولانا جامی علیہ الرحمہ کی عمر 55 سال ہو چکی تھی اور حضرت خواجہ عبید اللہ احرار تقریباً 66/67 سال کے تھے۔ اِس ملاقات کے بعد حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ 23 سال تک بقیدِ حیات رہے۔ اِن کا سلسلہ نقشبندیہ سے 19 واسطوں سے ہوتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک جا پہنچتا ہے۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کی ولادت ماہِ رمضان 806ھ/مارچ/اپریل 1404ء میں ہوئی ۔

اکتسابِ علم میں شغف: مولانا جامی علیہ الرحمہ کی علم میں جستجو کے ملکہ، اِنہماک اور تحصیل علم میں شغف کو جو کمال حاصل ہوا، شاید وہ نویں صدی ہجری کے کسی عالم دین یا فقیہ کو حاصل ہوا ہو۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ کے شاگردِ عزیز ملا عبد الغفور لاری لکھتے ہیں کہ "فقیر (عبد الغفور لاری) کو آنحضرت علیہ الرحمۃ والرضوان (مولانا جامی) کے آستانِ رفیع الشان پر پہنچنے سے پہلے تردد تھا کہ جو مرتبہ شعر (گوئی) کی بدولت انھیں حاصل ہے، وہ گہرے تفکر اور دقیق تامل کے بغیر میسر نہیں آ سکتا اور یہ امر مرتبہ کمال کے منافی اور جمعیتِ خاطر کے خلاف ہے۔ لیکن جب میں اُن کی خدمت میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ کوئی شغل بلکہ حوادثِ زمانہ میں سے کوئی واقعہ یا حادثہ بھی اُن کے ظاہری و باطنی اَشغال کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا اور وہ اپنی کیفیت میں کسی تبدیلی کے بغیر اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ وہ اپنا بہترین وقت بلا تکلف و زحمتِ درس (روحانی) دینے میں صرف کرتے۔

تصانیف: ادب (بحر نثر) میں مولانا جامی علیہ الرحمہ کی مستقل تصانیف جو شائع ہو چکی ہیں۔

بہارستان یا روضۃ الاخیار: یہ تصنیف فارسی زبان میں نثر اور نظم یکجائی بحر میں ہے جو گلستان سعدی کے طرز پر لکھی گئی ہے۔

شرح دیباچہ مرقع : فارسی زبان میں بحر نثر میں ہے۔

 منشآت جامیفارسی زبان میں بحر نثر میں ہے۔ برصغیر میں یہ مجموعہ مکاتیب انشائے جامی اور رقعات جامی کے نام سے کئی بار شائع ہوا ہے۔ کلکتہ سے پہلی بار 1226ہجری  میں فارسی زبان میں شائع ہوا۔نظم و نثر کی تصانیف 49 ہیں۔ نظم میں سات مثنویاں ہفت اورنگ سلسلۃ الذہب، سلامان وابسال، تحفۃ الاحرار، صحبۃ الابرار، یوسف زلیخا، لیلی مجنوں، فرد نامۂ سکندری اور غزلوں کے تین مجموعے آپ کی یادگار ہیں۔ نثر میں گیارہ کتابیں تصنیف کیں۔سلاطین وقت جیسے سلطان ابو سعید گرگانی، سلطان حسین مرزا، میر علی شیرنوائی، اوزون حسن، آق قیونلو، سلطان یعقوب، سلطان محمد فاتح اور سلطان بایزید دوم مولانا جامی علیہ الرحمہ کی بڑی عزت کرتے تھے۔

علامہ جامی علیہ الرحمہ  کا عشق رسول ﷺ: آپ علیہ الرحمہ سچے عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔آپ نے جس والہانہ انداز سے بارگاہ رسالت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ہدیۂ نعت پیش کیا ہے ، اس بات کا اندازہ آپ علیہ الرحمہ کے اشعار سے کیا جاسکتا ہے ۔آپ رحمۃ اﷲ علیہ کا نعتیہ کلام اگرچہ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔لیکن نثر میں بھی آپ نے اپنے عشق و محبت کا اظہار کیا ہے ۔ سیرت رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کی جامع کتاب ’’شواہدۃ النبوۃ‘‘ ہے ، جس کا ہر لفظ ہر ہر حرف اور ہر ہر جملہ آپ کے عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا عکاس ہے ۔ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت جس چیز سے ہو اس سے محبت کی جاےچناں چہ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کا ذکر خیر بھی دل نشیں انداز میں کیا جاے ۔ اہل بیت ِاطہار علیہم السلام سے بطورِ خاص محبت کا اظہار آپ کی کتاب ’’بارہ امام‘‘ سے بھی ہوتا ہے۔علامہ منشا تابش قصوری لکھتے ہیں: حضرت شاہ محمد ہاشم رحمۃ اﷲ علیہ ’’جامع الشواہد‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ماہ ربیع الاوّل کی ایک پر کیف اور نورانی رات میں امام العاشقین حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی قدس سرہ السامی نے ایک روح پرور اور ایمان افروز خواب دیکھا کہ محراب النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قریب حبیب کبریا جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جلوہ افروز ہیں، ذکر و اذکار اور حمد ونعت کا سلسلہ جاری ہے ۔حضرت جامی رحمۃ اﷲ علیہ بھی چند نعتیہ اشعار پیش کرتے ہیں، جنہیں سرکار ابد قرار صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم منظور فرماتے ہیں۔ جب آنکھ کھلی تو جامی رحمۃ اﷲ علیہ پر وجد و سرور کی کیفیت طاری تھی ،عالم جذب میں فرمانے لگے ’’وہ نورانی رخ زیبا جو چاند سے زیادہ حسین اور روشن ہے ، جب جبینِ مقدس سے ، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے موئے مبارک کو ہٹایا تو سراج منیر کی تجلیاں نمودار ہونی لگیں‘‘۔اس کے بعد جب جامی رحمۃ اﷲ علیہ کا اپنے وطن آنا ہوا تو بے تابی کے عالم میں پکارنے لگے:

نسیما جانب بطحا گزر کن     

ز احوالم محمد را خبر کن

ببر ایں جان مشتاقم در آنجا

فدائے روضۂ خیر البشر کن

توئی سلطان عالم یا محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم

ز روئے لطف سوئے من نظر کن

مشرف گرچہ شد جامی

زلطفش خدایا ایں کرم بار دگر کن

جامی رحمۃ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ہفتہ بھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ انہیں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پھر زیارت سے مشرف فرمایا۔ (اغثنی یا رسول اﷲ ،صفحہ 17,18)۔نیز حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی رحمۃ اﷲ علیہ وہ عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں جن کو بارگاہ رسالت میں شرف قبولیت حاصل ہے۔ایک نعت شریف لکھنے کے بعد جب حج کے لیے تشریف لے گئے تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہوکر اس نعت پاک کو حضور پاک کے سامنے پیش کریں گے ۔چناں چہ حج بیت اللہ شریف کے لیے تشریف لے گئے اورحج سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ کی حاضری کا ارادہ کیا تو امیر مکہ کو خواب میں نبی کریم رؤوف الرحیم کی زیارت نصیب ہوئی ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ امیر مدینہ تم سوئے ہوئے ہو جاگو اور اس شخص کو یعنی حضرت عبدالرحمن جامی کو مدینہ طیبہ کی جانب آنے سے روکو ۔ چناں چہ گورنر مدینہ نے تمام سرحدوں پر پہرے لگادیئے ۔حضرت عبدالرحمن جامی بڑے پائے کے عاشق رسولﷺ تھے ۔ ان کے دل پر عشق نبی کریمﷺ اس قدر غالب تھا کہ چھپ کر مدینہ طیبہ کی جانب چل پڑے ۔ترکی سے آنے والے قافلے کو اپنے ساتھ لے جانے کو کہا پہلے تو قافلے نے انکار کردیا لیکن پھر چند سکوں کے عوض انہیں مدینہ پاک ساتھ لے جانے پر رضا مند ہوگئے اورعبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ کو ایک اونٹ پر موجود صندوق میں بند کردیا ۔جب یہ اونٹوں کاقافلہ جو کہ ترکی سے مدینہ کی جانب رواں دواں تھا جب مدینہ پاک کی سرحد پر پہنچا تو سکیورٹی پر مامور پہرہ داروں نے اس قافلے کو روک لیا اور اسے چیک کیا جانے لگا ۔قافلے والوں نے بڑی منتیں کیں کہ ہمارے قافلے کو جانے دیا جائے لیکن انہوں نے انکار کردیا اورکہا کہ جب تک آپ لوگ اپنے اونٹوں پر لدے سامان کی مکمل چیکنگ نہیں کرواتے گورنر مدینہ نے مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے منع کیا ہے ۔بیسیوں اونٹوں کی چیکنگ کے بعد ایک اونٹ کو جب بٹھایا گیا اور اس پر لدے ایک صندوق کو کھولا تو اس میں سے جناب عبدالرحمن جامی چھپے ہوئے نکال لیے اورانہیں واپس عراق کی طرف ڈھکیل دیا گیا۔حضرت عبدالرحمن جامی رحمہ اللہ علیہ بڑے غمگین ہوئے اور رونے لگے ۔ پھر دوبارہ عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ  نے مدینہ کا قصد کیا اورایک بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ چل پڑے ، موصل سے یہ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ طائف کی طرف رواں دواں تھا علامہ جامی نے اس قافلے والے سے اجازت طلب کی کہ میں آپ کی ان بھیڑ بکریوں کی ساتھ حفاظت کروں گا آپ مجھے بھی ساتھ لے چلیں ۔وہ قافلہ راضی ہوگیا اور علامہ جامی علیہ الرحمہ  کو اپنے ساتھ لے آیا جب مدینہ کے قریب سرحد پر پہنچے تو آپ نے ایک بھیڑ کی کھال پہن کر سرحد کے دروازے سے مدینہ پاک میں داخل ہو رہے تھے کہ اچانک ایک نقاب پوش گھڑ سوار نے آپ کو پکڑ لیا اور لے کر گورنر کی سپرد کردیا اورگورنر نے انہیں قیدخانے میں ڈال دیا ۔اسی رات گورنر مدینہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اورفرمایا کہ تم نے جامی کو قید میں کیوں ڈالا وہ کوئی مجرم نہیں ہے اسے فوراً رہا کرو کیوں کہ وہ صرف عاشق رسول ﷺ ہے ۔اگر عبدالرحمن جامی مدینہ پاک میں داخل ہوگیا تو مجھے قانون قدرت کو توڑ کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے روضہ انور سے باہر آنا پڑے گا ۔ایک اور روایت کے مطابق عبدالرحمن جامی اس وفد کے لیڈر تھے جو کئی دن کی مسافت کے بعد روضہ رسول ﷺ پہ حاضری دینے کے لیے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ ان کا نام امام عبدالرحمٰن جامی علیہ الرحمہ تھا۔ جن کا نام آج بھی تاریخ میں عشق رسول ﷺ کے حوالے سے زندہ ہے۔انہوں نے مدینہ سے باہر چند میل کے فاصلے پہ پڑا ڈالا۔ وہ سارا دن ادھر ہی رہے۔ قافلے والوں نے دیکھا کہ ایک گھڑ سوار ان کی طرف آ رہا ہے، گھڑ سوار ان کے درمیان میں پہنچا اور قافلے والوں سے پوچھا کہ تم میں سے جامی کون ہے؟

لوگوں نے امام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ امام عبدالرحمن جامی ہیں اور یہ ہمارے قافلے کے لیڈر ہیں اور گھڑ سوار جامی علیہ الرحمہ کی طرف مڑ گیا اور السلام علیکم کہا۔

جامی علیہ الرحمہ  نے فرمایا وعلیکم السلام! آپ کون ہیں ؟

 کہاں سے آئے ہیں؟

اور کس لیے آئے ہیں؟

 اس آنے والے گھڑ سوار (جو کہ شکل و صورت سے ایک صوفی معلوم ہوتا تھا)۔ نے کہا کہ میں مدینہ سے آیا ہوں۔

یہ الفاظ سننا تھے کہ حضرت جامی علیہ الرحمہ  نے اپنی پگڑی اتار کر اس گھڑ سوار آدمی کے قدموں میں رکھ دی اور فرمایا کہ میں ان قدموں پہ قربان جو میرے محبوب نبی پاکﷺ کے مقدس شہر سے آ رہے ہیں۔ جامی علیہ الرحمہ نے اپنی بات جاری رکھی اور پوچھا کہ آپ یہاں کس مقصد سے تشریف لائے ہیں؟

آدمی کچھ دیر کے لیے خاموش رہا پھر جواب دیا کہ جامی علیہ الرحمہ  مجھ سے وعدہ کرو جو کچھ میں تمہیں بتاوں گا تم اسے دل تھام کے سنو گے! جامی علیہ الرحمہ نے آہستہ آواز سے فرمایا کہ ٹھیک ہے۔ آدمی نے اپنی بات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تمہارے پاس نبی آخر زماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے۔

جامی علیہ الرحمہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے فرمایا کہ میرے آقا ﷺ نے کیا فرمایا ہے!

آدمی نے کہا کہ نبی پاک نے آپ کو مدینہ شریف آنے سے اور ملاقات سے منع فرمایا ہے۔

 یہ الفاظ جامی علیہ الرحمہ کے دل پر تیر کی طرح لگے اور آپ کا سر چکرانا شروع ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے۔ان کے ساتھی یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے کہ ان کے امام گزر گئے ہیں۔ لیکن کچھ گھنٹوں بعد آپ کو ہوش آ گیا ۔ آدمی ابھی ادھر ہی تھا۔ جامی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ مجھے بتا کہ کیوں میرے آقا ﷺ نے مجھے مدینہ شریف داخل ہونے سے روکا ہے!۔

میں نے کیا گناہ کیا ہے کہ میرے آقا ﷺ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں!

آدمی نے جواب دیا کہ آقا ﷺ آپ سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ تو آپ سے بے حد راضی ہیں۔تو پھر کیوں میرے آقا ﷺ نے مجھے مدینہ آنے سے روکا ۔

 آدمی بولا کہ آقا ﷺ نے فرما یا ہے کہ جامی سے کہو کہ اگر وہ میرے لیے اپنے دل میں اتنی محبت لے کر مدینہ آیا تو یہ میرے لیے لازم ہو جائے گا کہ میں روضہ سے نکل کر خود استقبال کروں اور اس سے مصافحہ کروں۔ اس لیے جامی سے کہو کہ وہ مدینہ شریف میں داخل نہ ہو میں خود اس سے ملوں گا۔جامی سے کہو کہ ادھر نہ آئے اور نہ مجھ سے ملے میں خود اس سے ملاقات کروں گا۔ یوں جامی دربار رسالت پہ حاضری دئیے بغیر حاضری کی خواہش اپنے دل میں لیے روتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔قارئین جانتے وہ کلام کون سا ہے جس کے متعلق یہ واقعہ پیش آیا وہ مشہور زمانہ کلام یہ ہے

تنم فرسودہ جاں پارہ زِہجراں یا رسول اللہ

میرا جسم ناکارہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے آپ کی جدائی میں،اے اللہ کے پیارے نبی!

دِلم پژ مردہ آوارہ زِعصیاں یارسول اللہ

میرا دل بھٹک رہا اور دل کا پھول مرجھا چکا ہے گناہوں کہ بوجھ سے،اے اللہ کے پیارے نبی!

چوں سوئے من گزر آرِی منِ مِسکیں زِ ناداری

کبھی خواب میں اپنا جلوہ دکھا دیں اس عاجِز مِسکین اور غریب نادار سائل کو

فِدائے نقشِ نعلینت کنم جاں یا رسول اللہ

( تو میں پھر آپ کے(جوتی کے)نقشِ پا پر فدا ہو جاں گا۔اے اللہ کے پیارے نبی !

زِکردہ خویش حیرانم سِیاہ شد روز عِصیانم

میں نے جو کچھ کیا ہے بہت حیران ہوں روزِحساب میرا اعمال نامہ گناہوں کی بہتات سے سیاہ ہوگا

پشیمانم پشیمانم پشِیماں یا رسول اللہ

میں انتہائی پشیماں اور سخت شرمندہ ہوں پشیمان ہی پشیمان ہوں،اے اللہ کے پیارے نبی!

زِجامِ حبِ تومستم بہ زنجیرِ تو دِل بستم۔۔

آپ کی محبت میں،میں مست ہوں آپ کے عشق کی زنجیر سے میرا دل بندھا ہوا ہے

نمی گویم کہ من ھستم سخن داں یا رسول اللہ

میں عاجز اور مِسکین کوئی دعوی نہیں کرتا کہ میں ایک بہت بڑا شاعرہوں،اے اللہ کے پیارے نبی

چوں بازوئے شفاعت را کشائی بر گناہ گاراں

جب روزِ قیامت آپ اپنی شفاعت کا بازو لمبا کرکے گناہ گاروں کے سر پر پھیلا دیں گے

مکن محرومِ جامی را درا آں یا رسول اللہ

اس روز اِس عاجز جامی کو محروم نہ رکھیے گا اس جان جوکھوں کی نازک گھڑی میں،اے اللہ کے پیارے نبی!

وصال مبارک:  مولانا جامی علیہ الرحمہ کی وفات بروز جمعہ 18 محرم الحرام 898ہجری مطابق 14 نومبر 1492ء کو ہرات میں میں بوقت اذانِ جمعہ ہوئی۔ ہرات اب افغانستان کے صوبہ ہرات کا دار الحکومت ہے۔