شیخ اعظم حضرت سید اظہار اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ

ولادت اور ابتدائی زندگی:شیخ اعظم حضرت علامہ الحاج سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کی ولادت 6 محرم 1355ہجری  بمطابق 1935ء کو ہوئی۔ آپ علیہ الرحمہ  کے دادا محبوب ربانی  اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی  علیہ الرحمۃ نے ولادت سے قبل بشارت دی تھی کہ ان کے پوتے سے سلسلۂ اشرفیہ کا خوب خوب اظہار ہوگا، اور اسی بنیاد پر آپ علیہ الرحمہ  کا نام "اظہار اشرف” رکھا گیا۔ یہ بشارت آپ علیہ الرحمہ  نے اس وقت دی تھی جبکہ آپ علیہ الرحمہ  مدینہ منورہ میں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالکل سامنے تھے۔

آپ علیہ الرحمہ  کی تربیت خاندانی روایت کے مطابق انتہائی پاکیزہ اور تقدس بھرے ماحول میں ہوئی۔ جب آپ علیہ الرحمہ  کی عمر چار سال چار ماہ چار دن کی ہوئی تو بسم اللہ خوانی کی رسم نہایت اہتمام کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں آپ علیہ الرحمہ  کے والد گرامی حضرت سرکار کلاں، نانا حضرت سید مصطفیٰ اشرف، اور پھوپھا حضرت محدث اعظم ہند علیہم الرحمہ نے شرکت فرمائی۔

تعلیم و سندِ فراغت:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ کی تعلیم کا آغاز ایک عظیم روحانی اور علمی ماحول میں ہوا۔ آپ علیہ الرحمہ  نے درس نظامی کی تکمیل 1377ہجری  بمطابق 1975ء میں الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور سے کی اور سند فضیلت حاصل کی۔ آپ علیہ الرحمہ  کی شخصیت میں علمی فہم، فقہی بصیرت، اور روحانیت کی گہرائی بدرجۂ اتم موجود تھی، جس نے آپ علیہ الرحمہ  کو میدان علم و عمل کا شہسوار اور روحانیت و تصوف کا تاجدار بنایا۔

تدریسی خدمات:فراغت کے بعد حضرت اظہار اشرف علیہ الرحمہ نے فی سبیل اللہ تدریس کا آغاز کیا۔ آپ علیہ الرحمہ  نے 1377ہجری  تا 1381ہجری  بمطابق 1957ء تا 1961ء جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں بلا معاوضہ تدریسی خدمات انجام دیں، جہاں آپ علیہ الرحمہ  نے ہزاروں طلبہ کو علم و حکمت کے زیور سے آراستہ کیا۔

بیعت و ارادت: حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ 1378ہجری  بمطابق 1958ء میں آپ علیہ الرحمہ نے والد گرامی حضرت سید شاہ مختار اشرف اشرفی سرکار کلاں کے دست اقدس پر بیعت ہوئے۔ بیعت و ارادت کی بدولت آپ علیہ الرحمہ  کے اندر روحانیت و معرفت کے چراغ روشن ہوئے، جو بعد میں سلسلۂ اشرفیہ کی سربراہی اور فروغ کا ذریعہ بنے۔

نکاح اور عائلی زندگی:آپ علیہ الرحمہ  کا نکاح 1379ہجری  بمطابق 1959ء میں سیدہ نزہت فاطمہ علیہا الرحمہ کے ساتھ ہوا۔ نکاح کے بعد آپ علیہ الرحمہ  نے آپ علیہ الرحمہ نے پہلے تبلیغی و دعوتی دورے کا آغاز کیا، جو مالیگاؤں میں دس روزہ محرم شریف کے پروگرام کے سلسلے میں تھا۔

اہم تعمیری کارنامے:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی میں بے شمار تعمیری کارنامے انجام دیے، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:

جامع اشرف کی بنیاد 1399ہجری  بمطابق 1978ء میں رکھی گئی۔

مسجد اعلیٰ حضرت اشرفی کا قیام 1410ہجری  بمطابق 1989ء میں عمل میں آیا۔

مختار اشرف لائبریری 1416ہجری  بمطابق 1995ء میں قائم کی گئی۔

اشرف حسین میوزیم 1416ہجری  بمطابق 1996ء میں قائم ہوا۔

اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ  کے روضے کی تعمیر 1422ہجری  بمطابق 2001ء میں مکمل ہوئی۔

1425ہجری /2004 میں آپ علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں الاشرف اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا۔

1433ہجری /2012ء میں جامع اشرف کے جدید ہاسٹل کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

سیمانچل اور ضلع اتر دیناج پور میں آپ علیہ الرحمہ  نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی میں کثیر دینی و تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی جس کے بیان کے لئے صفحات درکار ہیں۔

آپ علیہ الرحمہ  نے نہ صرف ہندوستان بلکہ بنگلہ دیش میں بھی دینی درسگاہ "مدرسہ اشرفیہ اظہار العلوم” کی بنیاد رکھی، جو سلسلہ اشرفیہ اور سنیت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

آپ علیہ الرحمہ  کے قائم کردہ تمام علمی ادارے آج بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں اور دین اسلام اور علوم اسلامیہ کی اشاعت و تدریس و تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مذہبی صحافت میں کردار:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ نے مذہبی صحافت کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ علیہ الرحمہ  کی سرپرستی میں 1418ہجری  بمطابق 1997ء سے تا دم وفات ماہنامہ "الاشرف” کراچی سے شائع ہوتا رہا۔ اسی طرح، مجلہ "غوث العالم” کا اجرا بھی آپ علیہ الرحمہ  کی سرپرستی میں 1420ہجری  بمطابق 1999ء میں ہوا، جس نے مذہبی صحافت میں ایک طویل عرصے تک نمایاں کردار ادا کیا۔

حج و زیارت:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے کئی بار حج و زیارت کی سعادت سے بھی نوازا۔ آپ علیہ الرحمہ  نے پہلا حج 1387ہجری  بمطابق 1976ء میں کیا اور آخری سفر حج 1424ہجری  بمطابق 2003ء میں فرمایا۔ اسی طرح 1401ہجری  بمطابق 1980ء میں کربلائے معلیٰ، نجف اشرف، کاظمین، بغداد شریف اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت بھی کی۔

شعری و اشاعتی خدمات:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ نہ صرف ایک عظیم عالم، مہتمم و منتظم، داعی، صوفی، پیر اور خطیب تھے، بلکہ آپ علیہ الرحمہ  ایک کہنہ مشق مقبول شاعر بھی تھے۔ آپ علیہ الرحمہ  کا شعری مجموعہ "اظہار عقیدت” پہلی بار 1423ہجری  بمطابق 2002ء اور دوسری بار 1428ہجری  بمطابق 2007ء میں شائع ہوا۔ آپ علیہ الرحمہ  کی شاعری میں عشقِ رسول اور اہل بیت کی محبت کا رنگ نمایاں ہے۔ آپ علیہ الرحمہ  نے اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کے مجموعۂ کلام "تحائف اشرفی” پر تضمین کی صورت میں "اظہار سخن” کی بھی اشاعت فرمائی، جو تصوف و روحانیت میں آپ علیہ الرحمہ  کی گیرائی و گہرائی اور عقیدت کا مظہر ہے۔ آپ علیہ الرحمہ  نے فارسی زبان میں غوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی علیہ الرحمہ  کے ترجمۂ قرآن کا اردو ترجمہ "اظہار البیان” کے نام سے بھی شائع کیا۔

سجادہ نشینی:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ 21 شعبان 1417ہجری  بمطابق 2 جنوری 1997ء کو والد گرامی سرکار کلاں حضرت مفتی سید شاہ مختار اشرف اشرفی علیہ الرحمۃ کے وصال کے بعد خانقاہ اشرفیہ سرکار کلاں کے سجادہ نشین بنے۔ آپ علیہ الرحمہ  نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی کے آخری لمحہ تک کو خانقاہ کی ترقی و توسیع میں صرف کیا۔

خراجِ تحسین:آپ علیہ الرحمہ  کی علمی و دینی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ماہنامہ غوث العالم نے 2007ء میں آپ علیہ الرحمہ  پر خصوصی شمارہ ’’معارف شیخ اعظم‘‘ شائع کیا، جس میں آپ علیہ الرحمہ  کی زندگی اور خدمات کو سراہا گیا۔

آخری خطاب:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی کا آخری خطاب 15 دسمبر 2012ء کو بہار کے علاقے باڑی، بائسی، ضلع پورنیہ میں فرمایا۔

اوصاف:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ ایک صاف دل اور نیک سیرت انسان تھے۔ ان کی زندگی عفو و درگذر، بڑوں کی تعظیم، اور چھوٹوں پر شفقت سے عبارت تھی۔ وہ خاموش طبع تھے، لیکن ہمیشہ عمل اور کوشش میں مصروف رہتے تھے۔ حاجت مندوں کی مدد کرنا، ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کرنا، مہمان نوازی اور خوش اخلاقی ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔

وصال پرملال: علم و عمل کا یہ روشن چراغ اور شریعت و طریقت کا یہ مہر درخشاں 29 ربیع الاول 1433ہجری  بمطابق 22 فروری 2012ء کو بدھ کے روز ممبئی کے اسماعیلیہ اسپتال میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ آپ علیہ الرحمہ  کی کی نماز جنازہ خلف اکبر قائد ملت حضرت مولانا سید شاہ محمد محمود اشرف اشرفی جیلانی، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف، نے پڑھائی اور تدفین یکم ربیع الآخر 1433ہجری  بمطابق 24 فروری 2012ء بروز جمعہ کچھوچھہ شریف میں ہوئی۔

 ( بشکریہ: محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، مغربی بنگال) 

امین شریعت حضرت علامہ رفاقت حسین اشرفی علیہ الرحمہ


نام ونسب: امین شریعت حضرت علامہ شاہ رفاقت حسین اشرفی مظفر پوری علیہ الرحمہ کا اسمِ گرامی مولانا رفاقت حسین کانپوری تھا۔اور آپ کا نسبی تعلق مشہور بزرگ حضرت سید شاہ جلال الدین جڑھوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔

سلسلہ نسب: آپ علیہ الرحمہ کا سلسلہ ٔ نسب یوں ہے: حضرت قبلہ رفاقت حسین بن مولوی شاہ عبد الرزاق بن شاہ حسین بخش بن خدا بخش بن میر شاہ تراب علی بن حضرت شاہ جلال الدین علیہم الرحمۃ ۔

القاب و خطابات:مفتیٔ اعظم کانپور،امین شریعت،برہان الاصفیاء،سلطان المتکلمین  ،مناظر اہل سنت

تاریخِ ولادت:مفتی رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ 1324 ھ میں بھوانی، ضلع مظفر پور، ہندستان میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم: آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم مرچا اسکول میں درجہ چار تک تعلیم پائی، بعدہ قریب کی بستی عارض پور کے مولوی طاہر حسین مرحوم سے فارسی گلستاں بوستاں تک پڑھی۔بعد مدرسہ عزیزییہ بہار شریف میں داخل ہوئے حضرت مولانا شاہ حبیب الرحمٰن بہاری مرحوم سے شرح وقایہ شروع کی۔ دار العلوم کے اساتذہ حضرت صدر الشریعہ مولانا حکیم امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ، مولانا حکیم سید عبد الحئی افغانی علیہ الرحمہ، مولانا مفتی متقدمین کی کتابوں کا درس لیا۔اس کے علاوہ دیگر مدارس میں مختلف علوم وفنون حاصل کئے۔

بیعت وخلاف: آپ علیہ الرحمہ  محبوب ربانی شیخ المشائخ اعلی حضرت سیدحسین اشرف اشرفی میاں  کچھوچھوی علیہ الرحمہ کے مرید ہوئے۔تمام سلاسل کی اجازت مرحمت ہوئی اور شجرۂ مبارکہ کی پشت پردست مبارک سے سلسلہ عالیہ قادریہ منوریہ تحریر فرماکر اجازت دی۔

سیرت وخصائص: برہان الاصفیاء سلطان المتکلمین،شرف الاسلام والمسلمین حضرت مولانا الحاج شاہ رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ چلتی پھرتی دینی درس گاہ تھے۔ آپ زمانۂ طالب علمی میں جس طرح دوسرے طلباء سے ممتاز تھے اسی طرح خداداد تدریسی صلاحیت نے آپ کو ایک منفرد مقام عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ  آپ کو اپنی معیت میں بریلی لائے،مدرسہ منظر اسلام میں درس و تدریس کا عہدہ سپرد کیا۔ایک سال بعد مدرسہ محمدیہ جائس ضلع رائے بریلی کے صدر مدرس ہوکر تشریف لے گئے،کچھ عرصہ بعد مدرسہ محمدیہ سے علیحدگی اختیار کرلی،بعدہٗ محلہ قضیانہ میں قیام کر کے مطب کے ساتھ درس دیتے رہے۔ لکھنؤ میں شیعت کا زورتیزی سے پھیل رہا تھا، سب وشتم کا بازار گرم تھا حضرت قبلہ نے رو افض کا ردبلیغ فرمایا،جس سے اُن کا زور ٹوٹ گیا۔چند سال جامع مسجد سلطانپور کے خطیب رہے، یہاں مولوی امین نصیر آبادی کی سُنیت دشمن سرگمیوں کے انسداد کےلیے گوشش فرمائی،یہاں سے عقیدت مندانِ جائسی کی درخواست پر چندے جائس قیام فرماکر وطن مراجعت فرمائی،قضاء الٰہی شدید بیمار ہوکر صاحب فراش ہوگئے،بارے خدا نے صحت عطا فرمائی۔وطن میں طبابت کا مشغلہ رہا۔ تین سال بعد پھر جائس تشریف لے گئے،تقریباً سترہ برس بعد مدرسہ احسن المدارس کانپور کے مفتئ اعظم کا منصب رفیع سپرد کیا۔آپ کانپور سے بار ادہ حج وزارت روانہ ہوئے، مکہ معظمہ میں الگ قیام جماعت کے سبب قاضی نجدی سے گفتگو ہوئی،آپ کامیاب اور وہ خائب و خاسر ہوا۔بعدہٗ دربار نبوی میں میں حاضری دی،حضرت قطب مدینہ منورہ مولانا شاہ محمد ضیاء الدین قادری اشرفی  علیہ الرحمہ  نے سند حدیث اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کی اجازت مرحمت فرمائی۔

قیادت و سرپرستی:جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی شریف ،ادارۂ شریعہ بہار پٹنہ ،آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء ممبئی ،مدرسہ احسن المدارس قدیم کانپور۔

تصنیفی خدمات:تفسیر سوره بقره ،شرح ترمذی شریف،الحقيقۃ المحمديہ،مجموعہ فتاویٰ،فوائد حامدیہ،امتناع النظیر،طریقہ حنفیہ،عورت کی نماز ،قرآن اور ابلیس،کشکول رفاقتی،شیعی مذہب،قادیانی کذاب،الیاسی جماعت،حقیقت جماعت اسلامی،عرس کی شرعی حیثیت

تاریخ وصال: آپ رحمۃ اللہ علیہ 3 ربیع الثانی 1403 ہجری /بمطابق جنوری 19833 ء کو وصال ہوا۔

(ماخذ : تذکرۂ علماء اہلسنت بحوالہ انجمن ضیاء طیبہ و دیگرمضامین سے مآخوذ) 

حضرت شیخ المشائخ الحاج شاہ محمد تیغ علی قادری مجددی آبادانی مظفر پوری علیہ الرحمہ

ولادت باسعادت : حضرت شیخ المشائخ الحاج شاہ محمد تیغ علی قادری مجددی آبادانی مظفر پوری علیہ الرحمہ

1300ہجری میں قصبہ گوریارہ، ضلع مظفر پور (بہار، بھارت) میں پیدا ہوئے۔کم سنی ہی سے آپ کے شب وروز لہوولعب سے پاک اور غیر معمولی گذرتے تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ عہد طفلی میں پیش آنے والے کئی غیر معمولی واقعات کی راویہ ہیں۔ غرض کہ عہد شعور کی آمد سے قبل ہی آپ کی ولایت کے چرچے ہونے لگے تھے۔ ابتدائی علم کے حصول کے بعد جن اساتذہ کی صحبت میں آپ علیہ الرحمہ نے علوم درسیہ حاصل فرمایا، ان میں حضرت مولانا شاہ سبحان علی علیہ الرحمہ کا نام سب سے اہم ہے۔ بعدہ مدرسہ عالیہ کلکتہ میں داخل ہوکر طلب علم فرمایا۔ اسی دوران مردان خدا کے دیدار اور ان کی خدمت کا شرف حاصل کرنے کا شوق اُبھرا۔ چنانچہ حضرت مولانا شاہ سمیع احمد مونگیری قادری آبادانی علیہ الرحمہ کا چرچا سن کر کمال شوق کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوئے۔ حضرت مولانا سمیع احمد علیہ الرحمہ ، حضرت حافظ شاہ فرید الدین آروی قادری آبادانی علیہ الرحمہ کے مرید ومجاز تھے۔ آپ کا وطن خان پور ضلع مونگیر تھا ۔ اس زمانہ میں آپ کا قیام بڑی پاڑہ کلکتہ میں تھا۔

حضرت شاہ محمد تیغ علی علیہ الرحمہ کو حضرت مولانا سمیع احمد مونگیری علیہ الرحمہ کے دیدار و حصول نیاز سے قلبی اطمینان حاصل ہوا۔ یہاں تک کہ انہیں کے دست حق پرست پر سلسلۂ قادریہ مجددیہ آبادانیہ میں بیعت ہوگئے۔ روزانہ اپنی قیام گاہ سے چلتے اور چار میل کی دوری طےکر کے اپنے پیر دستگیر کی خدمت میں باریاب ہوتے اوربھرپور استفادہ فرماتے ۔اور ریاضات و مجاہدات میں کافی محنت اور لگن کے ساتھ مصروف رہتے، لیکن تکمیل سے قبل ہی حضرت مولانا سمیع احمد کو اپنے وطن مونگیر کو لوٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خلیفۂ اعظم حضرت مولا علی لال گنجوی کے سپرد آپ کو فرمایا۔ حضرت تیغ علی حضرت مولا علی لال گنجوی کی نگہداشت میں 14 سال تک مصروف ریاضات وعبادات رہے یہاں تک کہ 20/ جمادی الآخر 1341 ھ کو خان پور ضلع مونگیر میں حضرت مولانا سمیع احمد مونگیری کے آستانہ پر حضرت مولاعلی لال گنجوی نے آپ کو سندِ خلافت واجازت سے نوازا۔

تکمیل طریقت کے بعد 1349 ہجری ہی میں آپ نے سفر سیاحت کے لئے کمر باندھا اور سب سے پہلے آرہ میں اپنے دادا پیر حضرت حافظ شاہ فریدالدین کے مزار پر حاضر ہوئے ۔اور وہیں حضرت حافظ شاہ محمد صاحب (سجادہ نشین حضرت فریدالدین) نے بھی سلسلۂ قادریہ مجددیہ آبادانیہ فریدیہ کی اجازت آپ کو عطا فرمائی۔ وہاں سے روانہ ہوکر آپ پھلواری شریف میں واقع خانقاہ مجیبیہ پہنچے اور حضرت شاہ مجیب اللہ قادری کے آستانۂ پُر انوار پر شرف حاضری حاصل کیا اور دور روز خانقاہ میں قیام پذیر رہے۔ اسی دوران 28/ رجب المرجب 1349 ھ کو زیب سجادہ حضرت مولانا شاہ محی الدین قادری مجیبی پھلواروی نے آپ کو خرقۂ خلافت سے نوازا اور سلسلۂ قادریہ وارثیہ وعمادیہ جنیدیہ وسلسلۂ چشتیہ نظامیہ اورصابریہ قلندریہ کی اجازت مرحمت فرمائی۔ وہاں سے رخصت ہوکرا پنے وطن گوریارہ پہنچے اور یہیں حضرت شاہ فرید الدین آروی کے خلیفہ ومجاز حضرت حکیم شاہ جلال الدین جڑہوی علیہ الرحمہ کی خدمت کا موقع ملا۔ حصول نیاز کے بعد حاصل کردہ خلافت نامے ان کی خدمت میں پیش کردیئے۔ حضرت حکیم صاحب نے بھی اپنے شیخ سے حاصل کردہ آبادانیہ سلاسل کی اجازت مرحمت فرمائی اور دعاؤں سے نوازا۔ حضرت شاہ محمد تیغ علی قدس سرہ کی خانقاہ میں مریدوں کو حضرت حکیم شاہ جلال الدین جڑہوی کے واسطے والا ہی شجرہ زیادہ تر دیا جاتا ہے اور یہی واسطہ زیادہ رائج ہے۔

گوریارہ سے حضرت تیغ علی علیہ الرحمہ نے قصبہ سرکانہی میں ہجرت فرمائی ۔ یہیں آپ کی مرضی کے مطابق ایک خانقاہ کی تعمیر عمل میں آئی جو خانقاہ آبادانیہ کے نام سے مشہورو معروف ہے۔ خانقاہ کی تعمیر کے بعد حضرت کی دور بین نگاہوں نے ایک اشد ضرورت کی طرف توجہ فرمائی،یعنی 1326 ھ میں خودا پنے ہاتھوں سے یہاں ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی۔ مدرسہ وخانقاہ کے ساتھ ساتھ آپ کا وجود مسعود غرض کہ ایک ایسا خزانہ سرکارنہی شریف کے غیر معروف قصبے میں جمع ہوگیا کہ اس کی شہرت خوشبو و فاصلوں کو پیچھے چھوڑتی ہوئی دور دور تک پھیل گئی اور طالبان شریعت و طریقت کے ساتھ ساتھ صوفی باصفا کو دیکھنے کے لئے ترس رہی آنکھیں بھی سرکانہی کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ ایک عالم سیراب ہوا۔

چودہویں صدی ہجری میں حضرت شاہ محمد تیغ علی قادری علیہ الرحمہ کی ذات والا صفات متقدمین صوفیا کی یاد تازہ کراتی ہے۔ لاگ لپٹ ’ریاو تصنع‘ جاہ وحشم اور طمطراق سے کوسوں دور سادگی، عاجزی، انکساری اور فروتنی کا دھنی یہ فقیر اپنی مثال آپ تھا۔ ہر ہر قدم پر سنت نبویﷺ کی پیروی کا التزام فرماتے۔ آپ کا اخلاق دوسروں کو فوراً گرویدہ بنا لیتا۔ عفو و درگذر کا مادہ آپ کے اندر بدرجہ اتم موجود تھا۔ کبھی کسی کو زیادہ دیر معتوب نہ فرماتے۔ اگر کسی سے ناراض ہوجاتے تو صرف اتنا فرماتے، بابو تونے یہ کیا کیا؟

 یہ کہنے کے بعد اس کو آزردہ نہ ہونے دیتے۔ روزانہ دس بجے دن کو غسل سے فارغ ہوکر بالالتزام قرآن پاک کی تلاوت فرماتے اور اسرارومعانی سے حاضرین کو ان کے حسب استعداد نوازتے۔ دعا فرماتے تو اکثر وبیشتر یہ شعر زبان مبارک پر ہوتا:

راستی موجب رضائے خداست

کس نہ دیدم کہ گم شد ازرہ راست

نعت پاک ذوق وشوق کے ساتھ سنتے اور وجد فرماتے۔ مولانا رومؔ، چراغ دہلوی، خسروؔ،امداد ہدفؔ اور فاضل بریلوی کے اشعار آپ کے پسندیدہ تھے۔

1327 ھ میں آپ نے حرمین شرفین کے حج کا بھی شرف حاصل کیا۔ اس مبارک سفر میں کافی لوگ آپ سے فیضیاب ہوئے۔ آپ کا حلقۂ مریدین و معتقدین کافی وسیع تھا۔ بہاروبنگال میں بطور خصوص آپ کے مریدین کثیر تعداد میں ہیں۔ ان میں خلفا، علما وفضلا کی تعداد کثیر ہے۔

وصال پرملال: اس عظیم اور مثالی کردار والی شخصیت نے تقریباً 78 سال کی عمر میں 29/ ربیع الاول 1378 ہجری بمطابق 14 اکتوبر 1958عیسوی کو جب کہ ماہ ربیع الآخر کا چاند نظر آیا اس دار فانی سے کوچ فرمایا۔ خانقاہ آبادانیہ سرکانہی شریف ضلع مظفر پور سے متصل مقبرہ میں اپنی والدہ ماجدہ اور اہلیہ صاحبہ کے ساتھ آپ کا بارونق مزار مرجع خلائق ہے۔

قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف علیہ الرحمہ


 نام و نسب: نام ، یعقوب۔

 کنیت : ابو یوسف۔

لقب: قاضی القضاۃ ۔

ولادت باسعادت:  ۱۱۳ ہجری  / ۷۳۱ ء علوم و معا رف کے شہر کوفہ میں ہوئی ۔

تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے فقہ کو پسند کیا ، پہلے حضرت عبد الرحمن بن ابی یعلی علیہ الرحمہ کی شاگردی اختیار کی ،پھر حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حلقہ ٔ درس میں آئے اور مستقل طور پر انہیں سے وابستہ ہو گئے ۔والدین نہایت غریب تھے جو آپکی تعلیم کو جاری نہیں رکھنا چاہتے تھے، جب حضرت امام اعظم کو حالات کا علم ہوا توانہوں نے نہ صرف آپ کے تعلیمی مصارف بلکہ تمام گھر والوں کے اخراجات کی کفالت اپنے ذمہ لے لی۔ حضرت امام ابو یوسف فرمایا کر تے تھے، مجھے امام اعظم سے اپنی ضروریات بیان کرنے کی کبھی حاجت نہیں ہوئی ۔ وقتا فو قتا خود ہی اتنا روپیہ بھیجتے رہتے تھے کہ میں فکر معاش سے بالکل آزاد ہو گیا ۔

قوت حافظہ اور علم و فضل :۔آپ ذہانت کے بحر ذخار تھے، آپکی ذہانت و فطانت بڑے بڑے فضلائے روزگار کے دلوں میں گھر کر گئی تھی ۔

حضرت سیدنا ملا احمد  جیون علیہ الرحمہ  صاحب نو ر الانوار فرماتے ہیں :۔ قاضی القضاۃ  حضرت امام ابو یوسف علیہ الرحمہ کو بیس ہزار موضوع احادیث یا د تھیں ،پھر صحیح احادیث کے بارے میں تجھے کیا گمان ہے ۔

حاظ ابن عبد البر لکھتے ہیں :۔آپ علیہ الرحمہ  محدثین کے پاس حاضر ہو تے تو ایک ایک جلسہ میں پچاس پچاس اور ساٹھ ساٹھ حدیثیں سن کر یاد کر لیتے تھے۔

امام یحیی ابن معین ، امام احمد بن حنبل، اور شیخ علی بن المدینی علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں :۔امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ  کے شاگردوں میں آپ کا ہم سر نہ تھا۔

طلیحہ ابن محمد کہتے ہیں :۔وہ اپنے زمانہ کے سب سے بڑی فقیہ تھے، کوئی ان سے بڑھ کر نہ تھا ۔

داؤد بن رشد کا قول ہے:۔امام ابو حنیفہ نے صرف یہ ہی ایک شاگرد پیدا کیا ہو تا تو انکے فخر کے لئے کا فی تھا۔

آپ علیہ الرحمہ  کو نہ صرف نقد حدیث پر عبور حاصل تھا بلکہ تفسیر، مغازی، تاریخ عرب، نعت ، ادب، اور علم کلام وغیرہ علوم و فنون میں بھی کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ یہ ہی وہ فطری ذہانت تھی جس نے چند سال میں آپ کو سارے ہم عصروں میں ممتاز کر دیا تھا اور علماء وقت آپکے تبحر علمی اور جلالت فقہی کے قائل تھے۔ خود امام اعظم آپ کی بڑے قدر و منزلت فرماتے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے شاگردوں میں سب سے زیادہ جس نے علم حاصل کیا وہ ابو یوسف ہیں۔

قاضی القضاۃ:۔۱۶۶ہجری  /۷۸۳ء میں آپ جب بغداد تشریف لائے تو خلیفہ محمد المہدیبن منصور نے آپ علیہ الرحمہ  کو بصرہ کا قاضی مقرر کر دیا ۔ہادی بن مہدی بن منصور کے زمانہ میں بھی آپ اسی عہدہ پر فائز رہے ۔ جب ہارون الرشید نے۱۹۳ ھ /۸۰۸ء میں عنان حکومت سنبھالی تواس نے آپ کو تمام سلطنت عباسیہ کا قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) مقرر کر دیا۔

مو جودہ زمانے کے تصور کے مطابق یہ عہدہ محض عدالت عالیہ کے حاکم اعلی کا نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ وزیر قانون کے فرائض بھی اس میں شامل تھے۔ اور سلطنت کے تمام داخلی و خارجی معاملات میں قانونی رہنمائی کرنا بھی آپ کا کام تھا۔ مملکت اسلامیہ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کہ یہ منصب قائم ہوا۔ اس سے پہلے کوئی شخص خلافت راشدہ، اموی یا عباسی سلطنتوں میں اس عہدہ پر فائز نہ ہوا۔ بلکہ زمانہ مابعد میں بھی بجز قاضی داؤد کے اور کسی کویہ عہدہ تفویض نہ ہوا۔

عبادت و ریاضت:۔آپ عہدہ قضا اور علمی مشاغل کے باوجود عبادت و ریاضت میں بھی بلند مقام رکھتے تھے، آپ خود فرمایا کر تے تھے کہ میں امام اعظم کی خدمت میں انتیس سال رہا اور میری صبح کی نماز با جماعت فوت نہیں ہوئی ۔

بشیر بن ولید کا بیان ہے کہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ  کے زہد و ورع اور عبادت و تقوی کا یہ عالم تھا کہ زمانہ قضا ء و وزارت میں بھی دو سو رکعتیں نوافل ادا کر تے۔

تلامذہ:۔ آپ کے شا گردوں میں محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ  ، شفیق بن ابراہیم بلخی علیہ الرحمہ  ، امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ  ،بشر بن الولید کندی علیہ الرحمہ  ، محمد بن سماعہ علیہ الرحمہ  ، معلی بن منصور علیہ الرحمہ  ، بشر بن غیاث علیہ الرحمہ  ، علی بن جعدہ علیہ الرحمہ  ، یحیی بن معین علیہ الرحمہ  ، احمد بن منیع علیہ الرحمہ  ، امام اسد بن فرات علیہ الرحمہ، امام وکیع بن جراح علیہ الرحمہ ، امام ابو حفص کبیر بخاری علیہ الرحمہ ، وغیرہ محدثین کبار و فقہائے کرام آفتاب و ماہتاب کی طرح درخشاںو تاباں نظر آتے ہیں۔

تصیف و تالیف: حضرت امام ابو یوسف علیہ الرحمہ اسلامی تاریخ کے ان مایہ ناز محدثین اور فقہاء میں سے ہیں جنہوں نے علم کو صرف زبانی روایت تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے تحریری اور کتابی شکل میں محفوظ کیا۔ آپ کو فقہ حنفی کا پہلا باقاعدہ مصنف تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے خود کتب بہت کم لکھیں، ان کی فقہ کو مدون کرنے اور کتابی شکل دینے کا اصل کام امام ابو یوسف ہی نے شروع کیا۔آپ علیہ الرحمہ کی تصنیفی و تالیفی خدمات کا دائرہ فقہ، حدیث، معیشت، اور بین الاقوامی قوانین (سیر) تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ کی اہم ترین تصنیفات درج ذیل ہیں:

کتاب الخراج: یہ آپ علیہ الرحمہ کی سب سے مشہور اور معرکتہ الآراء تصنیف ہے۔ یہ کتاب عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی خصوصی درخواست اور سوالات کے جواب میں لکھی گئی تھی۔ خلیفہ اسلامی سلطنت کے مالیاتی اور معاشی نظام کو شریعت کے مطابق چلانا چاہتا تھا۔ یہ کتاب اسلامی نظامِ معیشت اور پبلک فائنانس (عوامی مالیات) پر دنیا کی پہلی باقاعدہ دستاویز ہے۔ اس میں ٹیکس، زکوٰۃ، خراج، زمینوں کی آباد کاری، زراعت، پانی کے مسائل، اور قیدیوں کے حقوق جیسے اہم معاشی و ریاستی امور پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

کتاب الآثار: یہ علمِ حدیث اور فقہ کے امتزاج کی ایک بہترین اور مستند کتاب ہے۔اس کتاب میں امام ابو یوسف علیہ الرحمہ نے اپنے استاد امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے واسطے سے مرویات، احادیثِ نبوی اور صحابہ و تابعین کے آثار و فتاویٰ کو جمع کیا ہے۔ یہ کتاب فقہ حنفی کے دلائل کا بنیادی ماخذ سمجھی جاتی ہے۔

کتاب اختلافِ ابن ابی لیلیٰ و ابی حنیفہ:کوفہ کے مشہور قاضی ابن ابی لیلیٰ علیہ الرحمہ اور حضرت سیدنا امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے درمیان جن فقہی مسائل میں اختلاف تھا، امام ابو یوسف علیہ الرحمہ نے اس کتاب میں ان کا موازنہ کیا ہے۔چونکہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ نے قاضی ابن ابی لیلیٰ سے بھی علم حاصل کیا تھا، اس لیے انہوں نے دونوں ائمہ کے دلائل کو بڑی غیر جانبداری کے ساتھ پیش کیا ہے اور آخر میں امام اعظم علیہ الرحمہ کے موقف کی تائید کی ہے۔

کتاب الرد علیٰ سیر الاوزاعی:یہ کتاب بین الاقوامی قوانین اور جنگ و امن کے اسلامی اصولوں پر مبنی ہے۔شام کے عظیم فقیہ امام اوزاعی علیہ الرحمہ نے امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے بعض ان نظریات سے اختلاف کیا تھا جو جنگی قوانین اور غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں تھے۔ امام ابو یوسف نے اس کتاب میں امام اوزاعی کے اعتراضات کا علمی اور مدلل جواب دیا ہے۔

کتاب الامالی :یہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ کی وہ علمی مجالس ہیں جو انہوں نے اپنے شاگردوں کو املا (ڈکٹیٹ) کروائیں۔ ان میں مختلف پیچیدہ فقہی مسائل کے حل اور ان کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔

دیگر تصنیفات: مورخین اور تذکرہ نویسوں کے مطابق امام ابو یوسف نے دسیوں دیگر رسائل اور کتب بھی لکھیں جو وقت کے ساتھ ناپید ہو گئیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

کتاب الجوامع: فقہی اصولوں کا مجموعہ۔

کتاب الادب القاضی: قاضیوں اور عدالت کے آداب و ضوابط پر مبنی کتاب۔

کتاب الصلاۃ و کتاب الزکوٰۃ: عبادات کے احکام پر الگ الگ رسائل۔

 وصال پرملال:۔ ۵؍ ربیع الاول ۱۸۷ ہجری  جمعرات کے روز ظہر کے وقت بغداد شریف میں علم و عرفان کا یہ آفتاب غروب ہو گیا۔ مزار شریف احاطۂ حضرت امام موسی کاظم رضی اللہ عنہ  کے شمالی گوشہ میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ (بحوالہ : انوار امام اعظم۔ مصنفہ مولانا محمد منشا تابش قصوری ودیگر کتابوں سے مآخوذ)

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (حصہ اول)

 


  بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ  (1)

اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ

ترجمہ: دین خیر خواہی کا نام ہے۔ (شرح السنۃ از امام بغوی  علیہ الرحمہ جلد 13، صفحہ 118 / شرح صحیح مسلم از امام نووی علیہ الرحمہ جلد 2، صفحہ 36)

Roman Urdu:  (1)  

اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ

Tarjuma: Deen Khair Khwahi Ka Naam Hai. (Sharhus-Sunnah Az Imam Baghawi Alaihir Rahmah, Jild 13, Page 118 / Sharh Sahih Muslim Az Imam Nawawi Alaihir Rahmah, Jild 2, Page 36)

 

 بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (2)

  اَلْاِيْمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ شُعْبَةً

ترجمہ: ایمان کی ستر سے کچھ زائد شاخیں ہیں۔ (شعب الايمان از امام بیہقی علیہ الرحمہ جلد 1 صفحہ 46)

Roman Urdu:  (2)

  اَلْاِيْمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ شُعْبَةً

Tarjuma: Iman Ki Sattar Se Kuch Zaid Shakhain (Branches) Hain. (Shu'ab-Ul-Eeman Az Imam Baihaqi Alaihir Rahmah, Jild 1, Page 46)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (3)

  اَلطُّهُوْرُ شَطْرُ الْإِيْمَانِ

ترجمہ: پاکی اور صفائی نصف ایمان ہے۔ (الاربعین النوویۃ از امام یحییٰ بن شرف نووی  علیہ الرحمہ الحدیث 23)

Roman Urdu:  ﷺ (3)

  اَلطُّهُوْرُ شَطْرُ الْإِيْمَانِ

Tarjuma: Paaki Aur Safaai Nisf (Aadha) Iman Hai.( Al Arba'een-An-Nawawiyyah Az Imam Yahya Bin Sharaf Nawawi Alaihir Rahmah, Al-Hadith: 23)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (4)

  اَلصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّيْنِ

ترجمہ: نماز دین کا ستون ہے۔ (احیاء علوم الدین از امام غزالی علیہ الرحمہ جلد 1، صفحہ 147)

Roman Urdu:  ﷺ (4)

  اَلصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّيْنِ

Tarjuma: Namaz Deen Ka Sutoon Hai. (Ahyaul-Uloom-al-Deen Az Imam Ghazali Alaihir Rahmah, Jild 1, Page 147)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (5)

  اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَيَدِهٖ

ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (جامع العلوم والحكم از ابن رجب حنبلی علیہ الرحمہ جلد 1، صفحہ 220)

Roman Urdu:  ﷺ (5)

  اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَيَدِهٖ

Tarjuma: Musalman Wo Hai Jis Ki Zaban Aur Hath Se Doosre Musalman Mahfooz Rahein.(Jami'-Ul-'Uloom Wal-Hikam Az Ibn Rajab Hanbali Alaihir Rahmah, Jild 1, Page  220)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (6)

  اَلْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ

ترجمہ: مومن مومن کا آئینہ ہے۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائداز حافظ نور الدین ہیثمی علیہ الرحمہ  جلد 8، صفحہ 88)

Roman Urdu:  ﷺ (6)

  اَلْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ

Tarjuma: Momin Momin Ka Aaina Hai. (Majma'-Uz-Zawaid Wa Manba'-Ul-Fawaid Az Hafiz Nooruddin Haithami Alaihir Rahmah, Jild 8, Page 88)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (7)

  إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ

ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (عمدة القاری شرح صحیح البخاری از علامہ بدر الدین عینی جلد 1تحت حدیث 1)

Roman Urdu:  ﷺ (7)

  إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ

Tarjuma: A'maal Ka Daromadar Niyyaton Par Hai. (UmdatUl-Qari Sharh Sahih Al-Bukhari Az Allama Badruddin 'Ayni, Jild 1)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (8)

اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ

ترجمہ: نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے۔ (ریاض الصالحین از امام نووی  علیہ الرحمہ ، حدیث 621)

Roman Urdu:  ﷺ (8)

اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ

Tarjuma: Neki Acche Akhlaq Ka Naam Hai.(RiyadUs-Saliheen Az Imam Nawawi Alaihir Rahmah, Al-Hadith: 621)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (9)

  لاَ تَغْضَبْ

ترجمہ: غصہ نہ کرو۔

(فتح الباری شرح صحیح البخاری از ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ جلد 10، صفحہ 520)

Roman Urdu:  (9)

  لاَ تَغْضَبْ

Tarjuma: Gussa Na Karo. (FathUl-Bari Sharh Sahih Al-Bukhari Az Ibn Hajar Asqalani Alaihir Rahmah, Jild 10, Page 520)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (10)

  اَلْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ

ترجمہ: جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔ (الجامع الصغیر از امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ الحدیث 3642)

Roman Urdu:  (10)

  اَلْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ

Tarjuma: Jannat Maon Ke Qadmon Ke Neeche Hai.(Al-Jami'-Us-Sagheer Az Imam Jalaluddin Suyooti Alaihir Rahmah, Al-Hadith: 3642)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (11)

  رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ

ترجمہ: رب کی رضا والد کی رضا میں ہے۔(البر والصلۃ از  علامہ ابن الجوزی علیہ الرحمہ صفحہ 82)

Roman Urdu (11)

  رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ

Tarjuma: Rab Ki Riza Walid Ki Raza Mein Hai. (Al-Birr Wal-Silah Az Allama Ibn Al-Jawzi Alaihir Rahmah, Page 82)

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (12)

  خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهٗ

ترجمہ: تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔

فیض القدیر شرح الجامع الصغیر از علامہ مناوی علیہ الرحمہ (جلد 3، صفحہ 618)

 

Roman Urdu (12)

  خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهٗ

 Tarjuma: Tum Mein Behtareen Woh Hai Jo Quran Seekhe Aur Sikhaye. (Faydul Qadeer Sharh Al-Jami' Al-Saghir Az Allama Munawi Alaihir Rahmah, Vol 3, Page 618)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (13)

  اَلدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهٖ

ترجمہ: نیکی کی راہ دکھانے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔

(مرقاة المفاتیح شرح مشكاة المصابیح از ملا علی قاری علیہ الرحمہ جلد 1، صفحہ 282)

Roman Urdu (13)

  اَلدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهٖ

 Tarjuma: Neki Ki Rah Dikhane Wala Neki Karne Wale Ki Tarah Hai. (Mirqatul Mafatih Sharh Mishkat Al-Masabih Az Mulla Ali Qari Alaihir Rahmah, Vol 1, Page 282)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ(14)

اَلْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهٗ

ترجمہ: عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔(محاسبۃ النفس از ابن ابی الدنیا علیہ الرحمہ صفحہ 22)

Roman Urdu (14)

اَلْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهٗ

Tarjuma: Aqalmand Woh Hai Jo Apne Nafs Ka Muhasba Kare.  (Muhasabat Al-Nafs Az Ibn Abi Al-Dunya Alaihir Rahmah, Page 22)

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (15)

  مَنْ لاَ يَرْحَمْ لاَ يُرْحَمْ

ترجمہ: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ (مشكاة المصابیح از علامہ خطیب تبریزی علیہ الرحمہ حدیث 4947)

 

Roman Urdu (15)

 مَنْ لاَ يَرْحَمْ لاَ يُرْحَمْ

Tarjuma: Jo Raham Nahi Karta Us Par Raham Nahi Kiya Jata.  (Mishkat Al-Masabih Az Allama Khatib Tabrizi Alaihir Rahmah, Al-Hadith: 4947)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (16)

  اِتَّقِ اللّٰہَ حَيْثُمَا كُنْتَ

ترجمہ: تم جہاں بھی ہو اللہ سے ڈرو۔ (الاربعین النوویۃ از امام نووی علیہ الرحمہ حدیث 18)

Roman Urdu (16)

  اِتَّقِ اللّٰہَ حَيْثُمَا كُنْتَ

Tarjuma: Tum Jahan Bhi Ho Allah Se Daro.  (Al-Arba'in Al-Nawawiyyah Az Imam Nawawi Alaihir Rahmah, Al-Hadith: 18)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (17)

سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ

ترجمہ: قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے۔ (مقاصد حسنہ از امام سخاوی علیہ الرحمہ صفحہ 388)

Roman Urdu (17)

 سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ

Tarjuma: Qaum Ka Sardar Un Ka Khadim Hota Hai. (Maqasid Hasanah Az Imam Sakhawi Alaihir Rahmah, Page 388)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (18)

  اَلْحَيَاءُ مِنَ الْإِيْمَانِ

ترجمہ: حیا ایمان کا حصہ ہے۔ (مكارم الاخلاق از امام ابن ابی الدنیا علیہ الرحمہ صفحہ 43)

 

Roman Urdu (18)

 اَلْحَيَاءُ مِنَ الْإِيْمَانِ

Tarjuma: Haya Emaan Ka Hissa Hai.  (Makarim Al-Akhlaq Az Imam Ibn Abi Al-Dunya Alaihir Rahmah, Page 43)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (19)

  اَلْقَنَاعَةُ كَنْزٌ لَّايَفْنَى

ترجمہ: قناعت ایسا خزانہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ (کشف الخفاء ومزیل الالباس از علامہ اسماعیل عجلونی علیہ الرحمہ جلد 2، صفحہ 132)

Roman Urdu (19)

 اَلْقَنَاعَةُ كَنْزٌ لَّايَفْنَى

Tarjuma: Qana'at Aisa Khazana Hai Jo Khatam Nahi Hota.  (Kashf Al-Khafa Wa Muzil Al-Ilbas Az Allama Ismail Ajluni Alaihir Rahmah, Vol 2, Page 132)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (20)

اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَهٗ

ترجمہ: گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ (فتاویٰ رضویہ از اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ  جلد 21، صفحہ 140)

 

Roman Urdu (20)

اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَهٗ

Tarjuma: Gunah Se Taubah Karne Wala Aisa Hai Jaise Us Ne Gunah Kiya Hi Na Ho. (Fatawa Razawiyyah Az A'la Hazrat Imam Ahmad Raza Khan Barelvi Alaihir Rahmah, Vol 21, Page 140)

 

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (21)

  مَنْ صَمَتَ نَجَا

ترجمہ: جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔)الصمت وآداب اللسان از امام ابن ابی الدنیا علیہ الرحمہ صفحہ 45)

 

Roman Urdu: 21

  مَنْ صَمَتَ نَجَا

Tarjuma: Jo Khamosh Raha Us Ne Najaat Pai.(Al-Samt Wa AadabUl Lisan Az Imam Ibn Abi Dunya Alaihir Rahmah, Page  45)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (22)

  اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى

ترجمہ: دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔(ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری از علامہ قسطلانی  علیہ الرحمہ جلد 3، صفحہ 48)

 

Roman Urdu (22)

  اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى

Tarjuma: Dene Wala Haath Lene Wale Haath Se Behtar Hai. (IrshadUs Sari Li-Sharh Sahih Al-Bukhari Az Allama Qastallani Alaihir Rahmah, Jild 3, Page 48)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (23)

  تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيْكَ صَدَقَةٌ

ترجمہ: اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔(الترغیب والترہیب از امام منذیری علیہ الرحمہ جلد 3، صفحہ 153)

Roman Urdu (23)

  تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيْكَ صَدَقَةٌ

Tarjuma: Apne Bhai Ke Samne Muskurana Bhi Sadaqah Hai. (Al-Targheeb Wat-Tarheeb Az Imam Munziri Alaihir Rahmah, Jild 3, Page 153)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (24)

  لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ

ترجمہ: رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(الزواجر عن اقتراف الکبائر از ابن حجر ہیتمی علیہ الرحمہ جلد 2، صفحہ 120)

Roman Urdu (24)

  لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ

Tarjuma: Rishta Todne Wala Jannat Mein Dakhil Nahi Hoga. (Al-Zawajir 'An Iqtiraful-Kaba-ir Az Ibn Hajar Haitami Alaihir Rahmah, Jild 2, Page 120)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (25)

  اَلْمُؤْمِنُ لاَ يَلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ وَّاحِدٍ مَرَّتَيْنِ

ترجمہ: مومن ایک سوراخ سے دو بار ڈسا نہیں جاتا۔(عمدة القاری شرح صحیح البخاری ازامام بدر الدین عینی علیہ الرحمہ جلد 22، صفحہ 228)

Roman Urdu (25)

  اَلْمُؤْمِنُ لاَ يَلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ وَّاحِدٍ مَرَّتَيْنِ

Tarjuma: Momin Ek Surakh Se Do Baar Dasa Nahi Jata. (UmdatUl-Qari Sharh Sahih Al-Bukhari Az Imam Badruddin 'Ayni Alaihir Rahmah, Jild 22, Page 228)