خطیب مشرق حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ

 

ولادت باسعادت : خطیب مشرق حضرت علامہ مولانا مشتاق احمد نظامی بن عارف حسن صدر الدین عرف گھاسی بابا (علیہ الرحمہ ) ۱۵؍اگست ۱۹۲۲ء کو موضع سرائے غنی تحصیل بھولپور ضلع الٰہ آباد میں پیدا ہوئے۔ یہ موضع مردم خیز علاقہ ہے۔ جہاں اب بھی مولانا مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ کاپختہ مکان آم کا باغ اور آراضی ہے۔ لیکن اب سکونت شہر الٰہ آباد محلہ دائرہ شاہ اجمل میں ہے۔

تعلیم وتربیت: حضرت مولانا مشتاق احمد علیہ الرحمہ نے اولاد تعلیم قرآن کریم اور ابتدائی مروجہ تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد والد ماجد حضرت صدر الدین گھاسی بابا علیہ الرحمہ نے سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی بارگاہ میں مولانا مشتاق احمد نظامی کی حاضری دلائی، اور علوم عربیہ کی تحصیل کے لیے آستانہ خواجہ غریب نواز پر مت مانی۔ یہ حاضری رجب المرجب ۱۳ہجری  کو ہوئی اور شوال المکرم۱۳ہجری میں رئیس اعظم اڑیسیہ مجاہد ملت حضرت مولانا حبیب الرحمٰن اشرفی  علیہ الرحمہ(مرید و خلیفہ حضور اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی قدس سرہ النورانی) کی خدمت میں پیش کردیا۔

آپ علیہ الرحمہ  نے درس نظامی کی کتابیں مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں پڑھیں، ابھی درس نظامی کی تحصیل کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ ۱۹۴۴ء میں الٰہ آباد بورڈ سے عالم کا امتحان دیا جس میں فرسٹ ڈویژن پاس ہوئے۔ ۱۹۴۵ء میں منشی کا امتحان دیا اور ۱۹۴۶ء میں فاضل ادب کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔

فراغت: آپ علیہ الرحمہ  درس نظامی کے ساتھ ۱۹۴۷ء میں کامل کے امتحان میں کامیاب ہوئے اور اسی سال سند فراغت بھی حاصل فرمائی۔

اساتذۂ کرام:

۱۔ مجاہد ملت حضرت مولانا حبیب الرحمٰن اڑیسوی علیہ الرحمہ

۲۔ حضرت مولانا قاری عبدالرب ازہری جیبی دین نگر پور ضلع مراد آباد

۳۔ حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی جیبی شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ سہسرام (بہار)

۴۔ حضرت مولانا سید عبدالقدوس جیبی بھدر کی اُڑیسیہ

۵۔ حضرت مولانا محمد عمر الٰہ آبادی

۶۔ مولانا حکیم محمد احسن بہاری

تدریسی زندگی: آپ علیہ الرحمہ  ۱۹۴۶ء میں فراغت سے ایک سال پہلے ہی الٰہ آباد کی قدیم درسگاہ مدرسہ مصباح العلوم میں مدرس مقرر ہوئے۔ مولوی، عالم وغیرہ کی اعلیٰ کتابیں مولانا مشتاق احمد نظامی کے زیر درس ہیں۔ الٰہ آباد کی مرکزی درسگاہ جامعہ حبیبیہ میں آپ نے ایک سال کے لگ بھگ تدریسی خدمات انجام دیں۔ کتابوں کے اسباق زیادہ ہونے کے سبب مدرسہ میں طلبہ رہ جاتے تھے تو مولانا مشتاق احمد نظامی رضوی اپنے دولت کدے پر طلبہ کو درس دیتے تھے کچھ عرسہ کے لیے مدرسہ عالیہ فاروقیہ بنارس میں صدر المدرسین کے عہدے پر فائز ہوئے۔ چند مہینوں کے بعد مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد کے اصرار پر مولانا مشتاق احمد نظامی نے مدرسہ سبحانیہ کی مسند درس وتدریس کو زینت بخشی اور تین برس سے زیادہ تدریسی خدمات انجام دیں۔

بیعت وخلافت: آپ علیہ الرحمہ  مجاہدملت  مولانا حبیب الرحمٰن علیہ الرحمہ سے بیعت وارادت رکھتے ہیں اور حضرت مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے آپ کو اجازت وخلافت سے بھی نوازا ہے، علاوہ ازیں حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نےج میع سلاسل کی اجازت عطا فرمائی۔

تبلیغی پروگرام: آپ علیہ الرحمہ  جہاں کہنہ مشق مدرس، کامیاب مقرر، مصنف و محقق اور بے بدل مناظر ہیں، وہیں سیاح بھی ہیں۔ وہ بستر جو ہمیشہ کھلا رہتا تھا اب و ہی بستر ہمیشہ بند ھا جارہتا ہے، اب زندگی صبح کہیں، شام کہیں گزرتی ہے۔ ۱۹۴۶ء ہی سے آپ علیہ الرحمہ  کی جلسوں اور کانفرنسوں میں شرکت ہونے لگی تھی۔ لیکن پروگراموں کی ہما ہمی میں درس و تدریس کا سلسلہ بہت کم جاری رہتا ہے۔آپ علیہ الرحمہ  کے اندر متعدد خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ فن خطابت کے شہسوار اور میدان صحافت کے تاجدار، رزمگاہ مناظرہ میں بادلوں کی گھن گرج، اور بجلیوں کی تڑپ، متعدد مناظروں میں شرکت کی، اور جس سے بھی پنجہ آزمائی کی اس کی کلائی توڑدی، اور خود مظفر منصور ہوئے۔

تحریکوں میں شرکت: جب آل انڈیا تبلیغ سیرت قائم ہوئی اور آپ علیہ الرحمہ  اس کے جوائنٹ سکریٹری منتخب ہوئے تو اس کے لیےجو بے مثال قربانیاں پیش کیں وہ فراموش نہیں کی جاسکتیں۔ مولانا مشتاق احمد نظامی کو آل انڈیا مسلم متحدہ محاذ کے آرگنائز سکریٹری اور آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کا جنرل سکریٹری بھی منتخب کیا گیا۔ مولانا مشتاق احمد نظامی نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے نہایت خوش اسلوبی اور متعددی سے نہ صرف نبھایا بلکہ ناقابل فراموش قربانیاں بھی دیں۔

دارالعلوم غریب نواز الٰہ آباد آپ علیہ الرحمہ  کی علمی یادگار ہے۔ بہت سے ادارے جو نصف صدی کی کوشش کے باوجود نہ کر سکتے۔ سات آٹھ برس کی قلیل مدت میں اس سے کہیں زیادہ کر کے دکھادیا۔ اس وقت رضا لائبریری ادارہ تحقیقات اور دالمصنفین کا باضابطہ قیام مولانا مشتاق احمد نظامی کی کوششوں کے اصل نشانے پر ہے۔ مسلم پرسنل لاء کانفرنس منعقدہ بمبئی والٰہ آباد میں شرکت کے لیے جان توڑ کوشش کی گئی۔ ہر چند کہ جزوی طور پر مقصدیت کا اشتراک ہے۔ لیکن مولانا مشتاق احمد نظامی نے عملاً اشتراک وتعاون کو گوارہ نہ کیا۔ تاکہ عوام کہیں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ اور اسلاف کی شیشہ پگھلائی دیوار میں شگاگ نہ آجائے۔

تصانیف: ۱۹۶۶ء میں مولانا مشتاق احمد نظامی نے ماہنامہ پاسبان الٰہ آباد کا اجرا کیا۔ کچھ دنوں کے لیے اس کا آفس بمبئی منتقل کردیا۔ عرصۂ دراز تک ماہنامہ پاسبان سنیت کی زمین پر بادل بن کر چھایا رہا۔ جب تک آپ علیہ الرحمہ  کا قلمی تعاون پاسبان کو حاصل رہا س کا ہر شمارہ علم وادب اور تاریخ کی دستاویز ہوتا۔ ماہنامہ پاسبان نے مجدد نمبر اور امام احمد رضا نمبر بھی شائع کیے۔ مجدد نمبر میں آپ علیہ الرحمہ  کا ادارا یہ اتنا مقبول ہوا کہ متعدد مصنفین نے اسے من وعن شائع کیا۔ مندرجہ ذیل تصانیف عوام وخواص سے خراج عقیدت حاصل کرچکی ہے۔

۱۔ خون کے آنسو، (جلد اول) ۔

۲۔ خون کے آنسو (جلد دوم) (جس سے ایوانِ دیوبند میں زلزلہ آگیا)

۳۔ جماعت اسلامی کا شیش محل (مودودی جماعت کے رد میں ایک سلجھی ہوئی علمی معلوماتی کتاب ہے)

۴۔ ہند کے راجہ (حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت و سوانح)

۵۔ مجرم کون؟ اس میں سوال کے پردے میں اصل مجرم کا چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔

۶۔ کربلا کا مسافر (خلافت معاویہ ویزید جیسی رسوائے زمانہ کتاب کا علمی تحقیقی اور سنجیدہ جواب)

۷۔ دیندار کے بے نقابل چہرے (صدیق دیندار چندر لبشو یشور کے خانہ ساز دھرم کی یہ کتاب برہنہ تصویر ہے)

۸۔ نسیم رحمت (تین حصے) مکاتیب اسلامیہ کا نصاب تعلیم ہے۔

۹۔ فردوس ادب (چارحصے) (یہ بھی مکاتیب اسلامیہ کا نصاب تعلیم ہے)

۱۰۔ منارۂ ہدایت (شریعت ی اجہالت ‘‘کی قابل مواخذہ عبارات کا علمی تجزیہ)

۱۱۔ تنویر الایمان فی فضائل شعبان (فضائل شعبان سے متعلق احادیث کا مجموعہ)

۱۲۔ قہر آسمانی برفتنۂ حقانی (پالن حقانی کے رد میں بہترین کتاب)

۱۳۔ وہابیوں دیوبندیوں کی پہچان (علماء دیوبند کے گندے عقائد کو مستند کتبوں کے حوالوں سے عوام کے کورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔)

۱۴۔تبلیغی جماعت کے ڈھول کا پول

۱۵۔ دیوبندی بولتے ہیں مگر سمجھتے نہیں

۱۶۔ تقلید شخصی

۱۷۔ دیوبند کی خانہ تلاشی

۱۸۔ خطبات نظامی (مولانا نظامی کے مقالات کا مجموعہ)

۱۹۔ دیوبند کا دنیا دین

۲۰۔ عقائد اہلسنت

۲۱۔ انکشافات

چند تلامذہ:آپ علیہ الرحمہ  سے اکتساب فیض کرنے والوں کے مشہور اسماء ۔

۱۔ مولانا نور الدین نظامی پرنسپل مدرسہ عالیہ رام پور

۲۔ حافظ قاری نعمت اللہ غازی پوری ثم الٰہ آبادی

۳۔ مولانا عبدالحمید مراد آبادی

۴۔ مولانا انوار احمد نظامی ناظم دارالعلوم غریب نواز الٰہ آباد

۵۔ عالی جناب محمد ابو ذر مانی سابق انسپکٹر مدارسِ عربیہ وفارسیہ اتر پردیش

وصال پر ملال : پاسبان ملت، خطیب مشرق حضرت علامہ مولانا مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ  کا وصال 8 ربیع الثانی 1410 ہجری دن ساڑھےگیارہ بجے ہوا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون


شیخ الاسلام حضرت عبداللہ انصاری ہروی علیہ الرحمہ

 

اسم گرامی: عبداللہ ۔ 

کنیت: ابو اسماعیل ۔ 

القابات: شیخ الاسلام، شیخ السالکین، پیرِ ہرات ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:خواجہ عبداللہ انصاری بن ابو منصور بلخی بن جعفربن ابو معاذ بن محمدبن احمد بن جعفر بن ابو منصور تابعی بن ابو ایوب انصاری ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ

تاریخِ ولادت:آپ علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 2 شعبان المعظم 396 ہجری، مطابق مئی 1006ء کو " ہرات " (افغانستان) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:آپ نے ابتدائی تعلیم اور فقہ وغیرہ یحیٰ بن عمار الشیبانی سے حاصل کیے، اس کے بعد علم کے لئے طوس، بسطام، اور بغداد کا سفر کیا، بغداد میں شیخ ابو محمد خلال البغدادی سے استفادہ کیا ۔ علم التصوف شیخ ابو سعید ابو الخیر سے حاصل کیا ۔ آپ کا حافظہ بہت تیز تھا، جو چیز ایک مرتبہ نظر سے گزر جاتی پھر کبھی نہ بھولتی ۔

آپ فرماتے ہیں: مجھے کھانا کھانے کی فرصت نہیں ملتی تھی، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ عشاء کی نماز کے احادیث لکھنے بیٹھتا اور صبح ہو جاتی تھی، کبھی میری والدہ روٹی کے لقمے توڑ کر میرے منہ میں ڈالتی اور میں لکھتا رہتا ۔آپ کو تیس ہزار احادیث یاد تھیں ۔

بیعت و خلافت:آپ حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی علیہ الرحمہ کی صحبت میں رہے ۔ شیخ ابو عاصم جو کہ آپ کے رشتے دار تھے، ان سے بیعت ہوئے ۔

سیرت و خصائص:شیخ الاسلام، شیخ السالکین امام العلماء والمحدثین، حامی سنت ماحی بدعت، ناصر ملت حضرت شیخ عبد اللہ انصاری علیہ الرحمہ ۔

آپ علیہ الرحمہ تمام علوم کے جامع تھے ۔ حدیث ،تفسیر ، فقہ، لغت، وغیرہ کے ماہرِ کامل تھے ۔ اس وقت کے تمام مشائخ آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔مقبولِ عام و خاص اور محسودِ زمانہ تھے ۔

 مولانا عبد الرحمن جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "جب کہیں مطلقاً "شیخ الاسلام" لکھا ہوا ہو، تو اس سے مراد آپ کی ذات ہوتی ہے"۔

حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں:میں بچپن میں شیخ ابو عاصم کے ہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ ان کی زوجہ محترمہ ضعیفہ اور وقت کی ولیہ تھیں ۔ کہنے لگیں : میرے شیخ حضرت خضر علیہ السلام نے اس بچے کو دیکھا اور مجھ سے پوچھنے لگے یہ کون ہیں؟ (حالانکہ وہ خود جانتے تھے یہ کون ہیں) میں نے کہا! یہ عبد اللہ انصاری ہیں، اور میرے شوہر سے پڑھنے آتے ہیں ۔حضرت خضر فرمانے لگے: "ایک دن یہ بچہ وقت کا امام ہوگا، اور مشرق سے مغرب تک اس کا شہرہ ہوگا"۔

آپ علیہ الرحمہ  ہی فرماتے ہیں:جو محنت میں نے حدیثِ مصطفیٰ ﷺ کے لئے کی ہے، شاید کسی نے کی ہو ۔ ایک مرتبہ مضافاتِ نیشا پور میں تھاکہ زبردست بارش ہونے لگی ۔ کئی میل تک رکوع کی حالت میں چلتا رہا، تاکہ میری کتب گیلی نہ ہو جائیں ۔ میں نے علم اللہ جل شانہ کی رضا اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کے لئے حاصل کیا ۔ ہر مسئلے پر کئی احادیث بیان کر سکتا ہوں ۔مزیدآپ علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں:
میں نے تین ہزار اساتذہ سے علم حاصل کیا ۔ الحمدللہ! ان میں سے کوئی ایک بھی " بدمذہب " نہیں تھا ۔ سب کے سب" اہل سنت و جماعت" سے تعلق رکھتے تھے ۔ (نفحات الانس: 305) ۔

 نتیجہ: اس میں ان لوگوں کے لئے سبق ہے، جواس چیز کا خیال نہیں رکھتے، حدیث میں تو یہ آیا ہے کہ "ان ھذ العلم دین فانظروا عمن تأخذونہ" یعنی یہ علمِ دین ہے ۔غور کرو! کہ تم دین کس سے لے رہےہو ۔ ہم دودھ، اور دوائی تو معتبر آدمی سے حاصل کرتے ہیں، لیکن علمِ دین کے لئے کوئی شرائط نہیں ہیں، آج گمراہی اور بد عقیدگی کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہے، کہ جس نے اسلام اور قرآن کے نام پر بلایا اس کے پیچھے چل پڑے، یہ نہ دیکھا کہ بلانے والے کا عقیدہ کیا ہے؟

آپ علیہ الرحمہ نے ساری زندگی دینِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ۔ دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر قلوب و اذہان کو منور کرتے تھے ۔ بدعتوں کو ختم کرکے سنتوں کو عام کیا ۔ آپ خلافِ شریعت کاموں پر شاہانِ وقت کو بھی معاف نہیں کرتے تھے ۔ نذرانے بہت کم لیتے تھے، اگر کوئی اصرار کرتا تو لے کر اسی وقت فقراء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔ انتہائی سادہ غذا ولباس استعمال کرتے، نمود و نمائش سے دور تک واسطہ نہیں تھا ۔

مشہور تصانیف:آپ علیہ الرحمہ نے عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں نثر اور نظم کی صورت میں شاہکار کتابیں چھوڑیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

مناجات نامہ: فارسی نثر میں آپ کی دعاؤں اور مناجات کا یہ مجموعہ اپنی فصاحت و بلاغت اور دل نشین انداز کی وجہ سے بے حد مقبول ہے۔

منازل السائرین: تصوف اور سلوک کی راہوں پر عربی زبان میں لکھی گئی ایک معرکتہ الآرا کتاب۔

تفسیر کشف الاسرار: اگرچہ اس کی موجودہ ترتیب بعد کے علماء (جیسے میبدی) نے کی، لیکن اس کی بنیادی اساس خواجہ عبداللہ انصاری کے تفسیری دروس پر ہے۔

طبقات الصوفیہ: صوفیائے کرام کے احوال و مقامات پر ایک اہم دستاویزی کتاب۔

حضرت خواجہ عبداللہ انصاری ہروی علیہ الرحمہ (پیرِ ہرات) کے اقوال معرفت، حکمت، عاجزی اور تصوف کا نچوڑ ہیں۔ آپ کے اقوال انسان کے باطن کی اصلاح اور خدا سے سچا تعلق جوڑنے میں رہنمائی کرتے ہیں۔آپ کے چند مشہور اور ایمان افروز اقوال درج ذیل ہیں:

معرفت اور الہیٰ محبت کے بارے میں:

خدا کی تلاش: "اگر تو خدا کو تلاش کرنا چاہتا ہے، تو اسے اپنے دل میں ڈھونڈ، کیونکہ وہ مٹی کے گھروں (کعبہ و مساجد) میں نہیں، بلکہ مومن کے دل میں رہتا ہے۔"

عشقِ حقیقی: "الہیٰ! اس شخص نے کیا پایا جس نے تجھے کھو دیا؟ اور اس نے کیا کھویا جس نے تجھے پا لیا؟"

پروردگار کا کرم: "یا رب! اگر تو مجھے دوزخ میں بھی ڈالے گا، تو میں وہاں بھی پکاروں گا کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔"

انسانی رویوں اور اخلاقیات پر:

حقیقی بزرگی کیا ہے؟: "ہوا میں اڑنا کوئی کمال نہیں، کیونکہ یہ کام مکھی بھی کر لیتی ہے۔ پانی پر چلنا کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ یہ کام تنکا بھی کر لیتا ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ تم کسی کا دل نہ دکھاؤ اور کسی کی امید نہ توڑو۔"

انسان کی حقیقت: "تو مٹی سے بنا ہے، اس لیے اپنی مٹی (عاجزی) کو نہ بھول۔ جب تو تکبر کرتا ہے، تو گویا تو اپنے اصل سے بغاوت کرتا ہے۔"

خاموشی اور عیب جوئی: "دوسروں کے عیبوں پر نظر رکھنے سے بہتر ہے کہ تو اپنے عیبوں کو دیکھے۔ جو شخص اپنے عیبوں سے واقف ہو جاتا ہے، اسے دوسروں کے عیب نظر نہیں آتے۔"

دنیا اور آخرت کی حقیقت:

دنیا کی بے ثباتی: "دنیا ایک ایسے سائے کی مانند ہے جو تمہارا پیچھا کرتا ہے اگر تم اس سے بھاگو، اور اگر تم اس کے پیچھے بھاگو گے تو وہ تمہارے ہاتھ نہیں آئے گی۔"

حقیقی دولت: "مال کی کثرت کا نام فلاح نہیں، بلکہ دل کے غنی (بے نیاز) ہونے کا نام اصل فلاح ہے۔"

مناجات نامہ سے چند خوبصورت جملے:

"الہیٰ! تو نے اپنے دوستوں کو کیا دیا کہ جنہوں نے انہیں پہچان لیا، انہوں نے تجھے پا لیا، اور جنہوں نے تجھے پا لیا، انہوں نے سب کچھ پا لیا۔"

"یا اللہ! جب تک میں زندہ ہوں، مجھے اپنی یاد میں مشغول رکھ، اور جب میرا وقت آئے، تو مجھے اپنے دیدار سے محروم نہ کرنا۔"

الہی، تُو عارفوں کے لیے موجود ہے، مشتاقوں کے دل کی آرزو ہے، مداحوں کی زبان پر رواں ہے، میں تجھے کیوں نہ پکاروں جب کہ تُو پکارنے والوں کی آواز کو سننے والا ہے، میں تیری ستائش کیوں نہ کروں جب کہ تُو بندوں کے دلوں کو شاد کرنے والا ہے، میں تجھے کیوں نہ جانوں جب کہ تُو اس دنیا سے ہے، میں تجھے کیوں نہ دوست رکھوں جب کہ تُو آرامِ جاں ہے۔(مناجات نامہ، مناجات نمبر 352، صفحہ نمبر 120، 121، خواجہ عبداللہ انصاری ہروی، اشاعت: 2019ء، نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد)

وصال پر ملال: آپ علیہ الرحمہ  کا وصال 9 ربیع الثانی 481ہجری، مطابق جولائی 1088ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار " ہرات " (افغانستان) میں مرجعِ خلائق ہے ۔(ماخذ و مراجع:نفحات الانس ۔ خزینۃ الاصفیاء )

حضرت شیخ عبدالملک عرف امان پانی پتی علیہ الرحمہ

 

اسمِ گرامی:آپ کا نام عبد الملک  اورلقب: امان اللہ تھا ۔ لیکن عام طور پر لوگ امان کے لقب سے زیادہ یاد کرتے تھے ۔

تحصیلِ علم:شیخ امان اللہ پانی پتی شیخ مودود لاری علیہ الرحمہ کے شاگرد تھے ۔ ان اور کثیر علماء سے اکتسابِ فیض کیا ۔

بیعت و خلافت:آپ علیہ الرحمہ شیخ محمد حسن علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔ اکثر سلسلوں سے تعلق رکھتے تھے اور مسلک قادریہ میں دو واسطوں سے نعمت اللہ شاہ ولی تک پہنچتے ہیں تمام مسلکوں میں سے مسلک قادریہ آپ پر غالب تھا ۔

سیرت و خصائص:حضرت شیخ عبد الملک امان اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ ایک صوفی اور توحید پرست عالم تھے اور شیخ ابن عربی کے متعبین میں سے تھے ۔ جماعت صوفیا میں بُلند مرتبہ رکھتے تھے، مسئلہ توحید کی تقریر میں ماہر تھے توحید کی باتیں صاف صاف بیان کرتے اور کہتے تھے کہ آج اگر عدل و انصاف موجود ہوتا تو میں توحید کو برسرِ منبر اس طرح وضاحت سے بیان کرتا کہ اس میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ رہتی، نیز فرمایا کرتے تھے کہ ابتداً مجھے صرف دو دلیلیں یاد تھیں لیکن اب اللہ کے فضل سے سولہ دلیلیں یاد ہیں ۔

شیخ امان علیہ الرحمہ  نے علم تصوف و توحید میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک کتاب " اثبات الاحدیث " ہے جس میں اللہ کے حاکم علی الاطلاق ہونے اور کائنات کے حقائق کو علم الیقین کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے کہ گویا آنکھوں دیکھا ہو اور علم کے مطابق کامل ذوق کو کلمات محققین و اہل توحید کے موافق تحریر کیا ہے ۔مولانا عبد الرحمٰن جامی علیہ الرحمہ کی کتاب " لوائح " کی کافی مبسوط تفصیلی شرح لکھی ہے جس کے اول میں نہایت جامع اور مفید ایک مقدمہ لکھا ہے ۔ تہذیب اخلاق و عادات میں بلند مقام رکھتے تھے ۔ فرمایا کرتے تھے کہ درویشی میرے نزدیک دو چیزوں میں ہے، ایک خوش اخلاقی اور دوسری محبتِ اہلِ بیت ۔ اور محبت کا کامل درجہ یہ ہے کہ محبوب کے متعلقین سے بھی محبت کی جائے ۔ اللہ سے کمالِ محبت کی نشانی یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کی علامت یہ ہے کہ آپ کے اہلِ بیت سے محبت ہو ۔

تصوف میں مشربِ ملامتیہ رکھتے تھے ۔ آپ کی مجلس و صحبت میں دنیا کی باتیں کسی کی غیبت اور بے ہودہ گفتگو نہیں ہوتی تھی ۔ اکثر اوقات اشاعتِ علوم اور ذکرِ حق میں بسر کرتے تھے اور تصوف کی کتابوں سے مانوس تھے ۔ ان کے پڑھانے میں ہمیشہ مشغول رہتے تھے اور فرماتے تھے: اے اللہ! ہم کو صوفیا کے اقوال و افعال سے بہرہ ور کر۔ نیز فرمایا کرتے تھے کہ علمِ تصوف کا قول عین حال ہے اور کہتے کہ ہر ایک کو کسی خاص چیز کی رغبت ہوتی ہے اور مجھے کتبِ تصوف کی رغبت ہے ۔

اگر کوئی طلب گارِ حق آپ کے پاس آتا تو اس سے فرماتے کچھ پڑھو کیونکہ ہمارا طریقہ یہی ہے اسی وجہ سے لوگوں کا ہجوم آپ کے پاس نہیں ہوتا تھا آپ کی کوئی علیحدہ خانقاہ نہیں تھی ۔ طالبوں کو عِشق صورت سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس میں مبتلا ہونے سے مبتدی کا کام رک جاتا ہے، اپنی آسائش اور خواب کے لیے کوئی چیز اپنے پاس نہ رکھتے تھے، زمین پر لیٹتے تھے اور غذا تھوڑی کھاتے تھے اور ہر حالت میں فقیروں کو سلوک کی تعلیم دیتے تھے ۔

تاریخِ وصال:حضرت شیخ امان اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ نے 12 ربیع الثانی 997 ہجری / بمطابق فروری 1589 عیسوی کو آپ نے انتقال فرمایا ۔ (ماخذ و مراجعاخبار الاخیار)


حضرت سید الانبیاء رحمۃ للعالمین سیدنا محمد مصطفی ﷺ

 



حضور امامُ الاولیاء، سرورِ انبیاء، باعثِ ایجاد عالم، فخر موجودات، محبوب رب العالمین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، منبع فیض انبیاء و مرسلین، معدن علوم اولین و آخرین، واسطہ ہر فضل و کمال، مظہر ہر حسن و جمال اور خلیفہ مطلق و نائب کل حضرت باری تعالیٰ جل جلالہ کے ہیں ۔

اوّل تخلیق:اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ ﷺ کے نور کو پیدا کیا ۔ پھر اسی نور کو واسطہ خلقِ عالم ٹھہرایا ۔ عالم ارواح ہی میں اس نور کو خلعتِ نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ اسی عالم میں دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی روحوں سے عہد لیا گیا کہ اگر وہ حضور اقدس ﷺ کے زمانہ کو پائیں تو ان پر ضرور ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں ۔ جیسا کہ وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِینَ الآیہ میں مذکور ہے ۔ اسی واسطے تمام انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو حضور ﷺ کی آمد کی بشارت دیتے رہے ہیں ۔

نورِ مصطفیٰ ﷺ کی منتقلی:جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو اپنے حبیب پاک ﷺ کا نور ان کی پشت مبارک میں بطور ودیعت رکھا ۔ حضرت آدم علیہ السلام سے وہ نور حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رحم پاک میں منتقل ہوا ۔ پھر حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضرت شیث علیہ السلام کی پشت میں منتقل ہوا ۔ اس طرح یہ نور انور پاک پشتوں سے پاک رحموں کی طرف منتقل ہوتا ہوا حضور اکرم ﷺ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالہٰ عنہ کی پشت مبارک میں منتقل ہوا ۔ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں منتقل ہوا ۔

برکاتِ نورِ مصطفیٰ ﷺ:اسی نور کی برکت سے حضرت آدم علیہ السلام مسجودِ ملائکہ بنے ۔ اور اسی نور کے وسیلہ سے ان کی توبہ قبول ہوئی ۔ اسی نور کی برکت سے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی غرق ہونے سے بچی ۔ اسی نور کی برکت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آتشِ نمرود گلزار ہو گئی ۔ اسی نور کی برکت سے حضرت ایوب علیہ السلام کی مصیبت دور ہو گئی ۔ اور اسی نور کی برکت سے حضرات انبیائے سابقین علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی عنایات بغایت ہوئیں ۔ حضور ﷺ اپنی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن مبارک میں ہی تھے کہ آپ کے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالہٰ عنہ نے انتقال فرمایا ۔

ولادتِ مصطفیٰ ﷺ:حضور اقدس ﷺ کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے ۔ مگر قول مشہور یہی ہے کہ واقعہ ’’ اصحابِ فیل ‘‘ سے پچپن روز بعد ١٢ ربیع الاول بمطابق ٢٠ اپریل ٥٧١ عیسوی ولادت باسعادت کی تاریخ ہے ۔ اہل مکہ کا بھی اسی پر عمل ہے کہ وہ لوگ بارہویں ربیع الاول ہی کو کاشانۂ نبوت کی زیارت کے لیے جاتے ہیں، اور وہاں میلاد شریف کی محفلیں منعقد کرتے ہیں ۔ (مدارج النبوۃ، جلد ٢ صفحہ ١٤)

 تاریخ عالم میں یہ وہ نرالا اور عظمت والا دن ہے کہ اسی روز عالم ہستی کے ایجاد کا باعث ، گردش لیل ونہار کا مطلوب، خلق آدم کا رمز ، کشتی نوح کی حفاظت کا راز، بانیِ کعبہ کی دعا ، ابن مریم کی بشارت کا ظہور ہوا ۔ کائنات کے وجود کے الجھے ہوئے گیسوؤں کو سنوارنے والا ، تمام جہان کے بگڑے نظاموں کو سدھارنے والا یعنی ؎

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی برلانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ماوٰی، ضعیفو ں کا ملجا

یتیموں کا والی، غلاموں کا مولیٰ

سندالاصفیا ء ، اشرف الانبیاء ، احمد مجتبیٰ، حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ وجود کائنات میں رونق افروز ہوئے تو پاکیزہ بدن ، ناف بریدہ، ختنہ کئے ہوئے ، خوشبو میں بسے ہوئے، بحالت سجدہ ، مکہ مکرمہ کی مقدس سر زمین میں اپنے والد ماجد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان کے اندر پیدا ہوئے ، باپ کہاں تھے جو بلائے جاتے اور اپنے نو نہال کو دیکھ کر نہال ہوتے ، وہ تو پہلے ہی وفات پا چکے تھے ۔ دادا بلائے گئے جو اس وقت طواف کعبہ میں مشغول تھے ۔ یہ خوشخبری سن کر دادا ’’ حضرت عبد المطلب ‘‘ خوش خوش حرم کعبہ سے اپنے گھر آئے اور والہانہ جوشِ محبت میں اپنے پوتے کو کلیجے سے لگایا ۔ پھر کعبہ میں لے جا کر خیرو برکت کی دعا مانگی اور ’’ محمد (ﷺ) ‘‘ نام رکھا ۔ آپ کے چچا ابو لہب کے پاس لونڈی ’’ ثویبہ ‘‘ خوشی میں دوڑتی ہوئی گئی ۔ اور ’’ابو لہب ‘‘ کو بھتیجا پیدا ہونے کی خوش خبری دی تو اس نے اس خوشی میں شہادت کی انگلی کا اشارہ سے ثویبہ کو آزاد کر دیا ۔ جس کا ثمرہ ابو لہب کو یہ ملا کہ اس کی موت کے بعد اس کے گھر والوں نے اس کو خواب میں دیکھا اور حال پوچھا تو اس نے اپنی انگلی اٹھا کر یہ کہا کہ’’تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعد مجھے کچھ کھانے پینے کو نہیں ملا بجز اس کے کہ ثویبہ کو آزاد کرنے کے سبب سے اس انگلی کے ذریعہ کچھ پانی پلا دیا جاتا ہوں ‘‘ (بخاری جلد ٢، باب و امہاتکم التی ارضعنکم) ۔

اس موقع پر حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے ایک بہت ہی فکر انگیز اور بصیرت افروز بات تحریر فرمائی ہے جو اہل محبت کے لیے نہایت ہی لذت بخش ہے آپ لکھتے ہیں:اس جگہ میلاد کرنے والوں کے لیے ایک سند ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کی شب ولادت میں خوشی مناتے ہیں اور اپنا مال خرچ کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ جب ابو لہب کو جو کافر تھا اور اس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا ۔ آنحضرت ﷺ کی ولادت پر خوشی منانے اور باندی کا دودھ خرچ کرنے پر جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا آنحضرت ﷺ محبت میں سرشار ہوکر خوشی مناتا ہے اور اپنا مال خرچ کرتا ہے ۔ (مدارج النبوۃ جلد٢، صفحہ  ١٩)

حلیۂ مصطفیٰ ﷺ:عاشقِ صادق حضرت شاہ ابو المعالی قادری کرمانی اہوری رحمۃ اللہ علیہ حضور اکرم ﷺ کے حلیہ مبارک کی تعریف میں یوں فرماتے ہیں:حضور اکرم ﷺکا رنگ گندمی سرخ یا سفید ملا ہوا تھا ۔ فراخ پیشانی، باریک ابرو، کشادہ دندان، سیاہ چشم، حیا دار ملیح نظر والی بلند ناک، بھرے ہوئے لمبے بازو، سر و قد (یعنی سیدھا جیسے مناسب ہوتا ہے) اور گنجان ریش مبارک، باریک بال، تنگ دہان تھا ۔

آپ کے بدن مبارک پر بال نہیں تھے مگر سینۂ اقدس کے خط سے ناف تک اور آپ کی نازنین صورت تمام صورتوں سے احسن ہے، آپ کا حسن چاند کے حسن سے بڑھ کر اور آپ کا نور، نورِ خورشید سے افضل ۔ آپ کا کلام روح القدس کا کلام اور آپ کی گفتگو رازِ شریعت اور آپ کا حال حقیقت کی صورت ہے ۔ آپ کا علم، علمِ یقین اور آپ کی زبان خدا کا ذکر کرنے والی زبان ہے ۔ آپ کادل معرفت کا چشمہ، آپ کی ذات انوارِ حق کا کرشمہ، آپ کا دین تمام دنیا کے مذہبوں سے بلند اور آپ کی ملّت تمام ملّتوں سے برگزیدہ ہے ۔ آپ کا خلقِ عظیم اخلاقِ حسنہ کا نچوڑ، آپ کا عمل خدا کا حکم، آپ کا کام اللہ کی عبادت، آپ کا جسم مخلوق میں خیر و سعادت اور آپ کا اسمِ گرامی ’’ خیر الانام ‘‘ ہے صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین ۔

نسب پاک مصطفیٰ ﷺ:حضور اقدس ﷺ کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے ۔ حضرت محمد ﷺ ، بن عبداللہ ، بن عبد المطلب، بن ہاشم، بن عبدمناف، بن قصی، بن کلاب ، بن کعب ، بن لوی، بن غالب، بن فہر، بن مالک، بن نضر، بن کنانہ، بن خزیمہ، بن مدرکہ ، بن الیاس، بن مضر،بن نزار، بن معد، بن عدنان ۔ (بخاری جلد 1،ص باب مبعث النبی ﷺ) ـ

والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت محمد ﷺ بن آمنہ ، بنت وہب، بن عبد مناف، بن زہرہ، بن کلاب ، بن مرہ ۔

حضور علیہ السلام کے والدین کا نسب نامہ ’’ کلاب بن مرہ ‘‘ پر مل جاتا ہے اور آگے چل کر دونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں ’’ عدنان ‘‘ تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مورخین ثابت ہے ۔ اس کے بعد ناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے اور حضور ﷺ جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو ’’ عدنان ‘‘  تک ہی ذکر فرماتے تھے ۔ (کرمانی بحوالہ حاشیہ بخاری جلد ١ صفحہ ٥٤٣)

مگر اس پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ ’’ عدنان ‘‘ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ارجمند ہیں ۔

خاندانی شرافت:حضور اکرم ﷺ کا خاندان نسب و نجابت اور شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے اشرف و اعلیٰ ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ آپ کے بدترین دشمن کفار مکہ بھی کبھی اس کا انکار نہ کرسکے چنانچہ حضرت ابو سفیان نے جب انہوں نے اسلام قبول نہ فرمایا تھا ۔ بادشاہِ روم ہر قل کے بھر ے دربار میں اس حقیقیت کا اقرار کیا کہ حضورﷺ ہم سب میں عالی خاندان والے ہیں۔(بخاری ، جلد ١ ، صفحہ ٤)

حالانکہ اس وقت وہ آپ (ﷺ) کے بد ترین دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ اگر ذرا بھی کوئی گنجائش ملے تو آپ کی ذات پاک پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں میں وقار گرا دیں ۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ‘‘ کنانہ ’’ کو برگزیدہ بنایا ۔ اور ‘‘بنی ہاشم ’’ میں سے مجھ کو چن لیا ۔ (مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین ﷺ )

بہر حال یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ؎

لہ النسب العالی فلیس کمثلہ

حسیب نسیب منعم متکرم

یعنی حضور انور ﷺ کا خاندان اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ کوئی بھی جسب و نسب والا، اور نعمت و بزرگی والا آپ کے مثل نہیں ہے ۔

بچپن کے واقعات:سب سے پہلے آپ ﷺ کو آپ کی والدہ ماجدہ نے کچھ دن دودھ پلایا ۔ پھر آپ نے چند روز ابو لہب کی آزاد کی ہوئی لونڈی ثویبہ کا دودھ پیا ۔ بعد ازاں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کو اپنے قبیلے بنی سعد میں لے گئیں ۔ وہیں پہلی بار حضور کا شق صدر ہوا ۔ دوسرا شق صدر دس برس کی عمر شریف میں اور تیسرا غارِ حراء میں بعثت کے وقت اور چوتھا شبِ معراج میں ہوا ۔ جب آپ ﷺ کی عمر شریف چھ سال کی ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا انتقال فرما گئیں ۔ اور آپ کے دادا جناب عبد المطلب آپ کی پرورش کے کفیل ہوئے ۔ جب آٹھ سال کے ہوئے تو جناب عبد المطلب نے بھی وفات پائی ۔ پھر حضور اپنے چچا جناب ابو طالب کے ہاں پرورش پاتے رہے ۔ بارہ سال کی عمر شریف میں آپ جناب ابو طالب کے ساتھ ملک شام کو تشریف لے گئے ۔ اس سفر میں بحیرہ راہب نے آپ کو دیکھ کر کہا کہ یہ رسول رب العالمین ہیں ۔ چودہ سال کی عمر میں آپ ﷺ نے اپنے چچاؤں کے ساتھ حربِِ فجّار میں شرکت فرمائی ۔ پچیس سال کی عمر شریف میں آپ ﷺ حضرت خدیجہ کی طرف سے بغرض تجارت شام کو تشریف لے گئے ۔ اس سفر میں نسطور راہب نے آپ کی نسبت کہا کہ یہ آخر الانبیاء ہیں ۔ اس سفر سے واپسی کے قریباً تین ماہ بعد حضور ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہو گیا ۔ جب آپ کی عمر مبارک 35 سال کی ہوئی تو قریش نے عمارتِ کعبہ کو ازسرِ نو بنایا ۔ اس تعمیر میں حضور ﷺ بھی شریک تھے ۔ اور اپنے چچا حضرت عباس کے ساتھ کندھے پر پتھر اٹھاکر لا رہے تھے ۔

خفیہ دعوتِ اسلام:جب عمر مبارک چالیس سال کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو (اظہارِ) اعلانِ نبوت کا حکم دیا ۔ چنانچہ آپ ﷺ خفیہ طور پر چند لوگوں کو دعوت اسلام دینے لگے ۔ اس دعوت پر کئی مرد و زن آپ پر ایمان لائے ۔ چنانچہ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ۔ لڑکوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، عورتوں میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ۔ آزاد کیے ہوئے غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور غلاموں میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں ۔

اعلانِیہ دعوت اسلام:خفیہ دعوت کے تین سال بعد اعلانیہ دعوتِ اسلام  کا حکم آیا ۔ تبلیغ علی الاعلان پر قریش برا فروختہ ہوگئے اور آپ ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو اذیت دیتے رہے ۔ نبوت کے پانچویں سال حضور ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم میں سے جو چاہیں ہجرت کرکے حبشہ چلے جائیں ۔ چنانچہ پہلے پہل گیارہ مردوں اور چار عورتوں نے ہجرت کی ۔ نبوت کے چھٹے سال حضرت امیرحمزہ رضی اللہ عنہ ایمان لائے اور ان کے تین دن بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی مشرف باسلام ہوئے ۔ اسلام کی ترقی پر قریش مسلمانوں کو اور ایذا ئیں دینے لگے ۔ اس لیے ۸۳ مرد اور ۱۸ عورتوں نے دوسری بار حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔ قریش نے نجاشی کے پاس اپنے بھیجے کہ مہاجرین کو واپس کر دو ۔ مگر وہ سفیر بے نیل و مرام واپس آئے ۔ اس لیے قریش نے اب بالاتفاق یہ قرار دیا کہ (حضرت) محمد ﷺ کو اعلانیہ قتل کر دیا جائے ۔ بنو ہاشم و بنو مطلب حضور ﷺ کو بغرضِ حفاظت شعبِ ابی طالب میں لے گئے ۔ اس پر قریش نے بنو ہاشم و بنو مطلب سے مقاطعہ کردیا تاکہ تنگ آکر حضور ﷺ کو ان کے حوالہ کر دیں ۔ اور اس بارے میں ایک تحریری معاہدہ لکھ کر خانہ کعبہ کی چھت میں لٹکا دیا ۔ قریش نے نہایت سختی سےا س معاہدہ کی پابندی کی ۔ تین سال کے بعد حضور ﷺ نے خبر دی کہ اس معاہدہ کو دیمک چاٹ گئی ہے اور سوائے اللہ کے نام کے کچھ نہیں چھوڑا ۔ جب معاہدہ کو دیکھا گیا تو حضور ﷺ کا ارشاد صحیح نکلا ۔ مگر مخالفین بجائے روبراہ ہونے کے اور درپے ایذا ہو گئے ۔ ماہ رمضان ۱۰ نبوی میں جناب ابو طالب کا انتقال ہوگیا اور اس کے تین دن بعد سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے بھی انتقال فرمایا ۔ حضور ﷺ نے پریشانی کی حالت میں طائف کا سفر کیا ۔ مگر اشرافِ ثقیف نے آپ کی دعوت کا بری طرح سے جواب دیا۔ اور واپسی پر اس قدر پتھر برسائے کہ نعلین شریفین خون سے آلودہ ہو گئیں ۔

واقعہ معراج:آپ ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ ہر سال موسم حج میں تمام قبائل عرب کو جو مکہ اور نواح مکہ میں موجود ہوتے دعوت اسلام دیا کرتے تھے اور میلوں میں بھی اسی غرض سے تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ نبوت کے گیارہویں سال آپ ﷺ نے حسبِ عادت منیٰ میں عقبہ کے نزدیک جہاں اب مسجد عقبہ ہے ۔ قبیلہ خزرج کے چھ آدمیوں کو دعوت اسلام دی ۔ وہ مسلمان ہو گئے ۔ انہوں نے مدینہ میں اپنے بھائیوں کو اسلام کی دعوت دی ۔ اس لیے آئندہ سال بارہ مرد ایامِ حج میں مکہ آئے اور حضور ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی ۔ بقولِ مشہور اسی سال ماہ رجب کی ستائیسویں رات حضور ﷺ کو حالتِ بیداری میں جسد شریف کے ساتھ معراج عطا ہوا اور پانچ نمازیں فرض ہوئیں ۔ نبوت کے تیرہویں سال انصار میں سے ٧٣مرد اور عورتوں نے حضور ﷺ کی بیعت کی ۔

ہجرتِ مدینۃ المنورہ:قریش کی ایذاء رسانی سے اب مسلمانوں کا قیام مکہ میں دشوار ہو گیا ۔ اس لیے حضور ﷺ کی اجازت سے صحابہ کرام متفرق طور پر رفتہ رفتہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئے ۔ اور مکہ میں حضور ﷺ کے علاوہ حضرات ابو بکر، علی رضی اللہ عنہما اور کچھ بیمار و غیرہ رہ گئے ۔قریش نے جب دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کے مددگار مکہ سے باہر مدینہ میں بھی ہوگئے ہیں ۔ تو وہ ڈرے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ بھی وہاں چلے جائیں اور اپنے مددگاروں کو ساتھ لے کر مکہ پر حملہ آور ہوں ۔ اس لیے انہوں نے دار الندوہ میں جمع ہو کر شیخ نجدی کے مشورہ سے یہ قرار دیا کہ رات کو حضور ﷺ کو قتل کر دیا جائے ۔ حضور کو بذریعہ وحی خبر ہوگئی ۔ کفار نے حسب قرار داد رات ہوتے ہی حضور ﷺ کے دولت خانہ کو گھیر لیا ۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر چھوڑا اور ایک مشت خاک لے کر سورہ یٰسین شریف کی شروع کی آیات پڑھ کر کفار پر پھینک دی ۔ کفار کو کچھ نظر نہ آیا اور آپ وہاں سے نکل کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔ تین رات غار ثور میں رہے ۔ قدید کے قریب سراقہ بن مالک آپ کے تعاقب میں آیا ۔ آپ کی دعاء سے اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا ۔ اور وہ معافی مانگ کر واپس چلا آیا ۔ قدید ہی میں حضور ﷺ کا گزر اُم معبد کے خیمہ پر ہوا ۔
مسجد قباء کی بنیاد:رسول اللہ ﷺ قباء میں 12 ربیع الاول دو شنبہ کے دن پہنچے ۔ یہی اسلامی تاریخ کی ابتداء بنی ۔ آپ نے بستی قباء میں مسجدِ قباء کی بنیاد رکھی ۔ جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے ۔ مدینہ میں آپ ﷺ کی تشریف آوری سے مسلمانوں کو جو خوشی ہوئی وہ بیان نہیں ہو سکتی ۔ آپ ﷺ نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر قیام فرمایا ۔ اسی سال مسجد نبوی ۔ ازواج مطہرات کے لیے حجرے اور مہاجرین کے لیے مکانات بن کر تیار ہو گئے ۔ اذان مشروع ہو گئی ۔ حضور ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان مواخات قائم فرمائی ۔

غزوات کا آغاز:ہجرت کے دوسرے سال قبلۂ نماز بجائے بیت المقدس کے کعبہ شریف ہو گیا ۔ رمضان کے روزے فرض ہو گئے ۔ اور غزوات و سرایا کا آغاز ہوا ۔ غزوات تعداد میں ٢٧ ہیں اور سرایا ٤٧۔ بڑے بڑے غزوات جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے سات ہیں ۔ بدر، احد، خندق، خیبر، فتح مکہ، حنین، تبوک۔ جن غزوات میں حضور اقدس ﷺ نے قتال فرمایا وہ یہ ہیں ۔ بدر ، احد، خندق، مصطلق، خیبر، فتح مکہ، حنین، طائف۔ غزوات میں سب سے اخیر غزوہ تبوک ماہ رجب ٩ہجری  میں تھا ۔

حکمرانوں کے نام خطوط:ہجرت کے ساتویں سال کے شروع میں آنحضرت ﷺ نے والیانِ ملک (قیصر و کسریٰ و نجاشی وغیرہ) کے نام دعوت اسلام کے خطوط روانہ فرمائے ۔ اور ٩ہجری میں غزوہ تبوک سے واپسی پر مسجد ضرار جو منافقین نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے بنائی تھی آپ کے حکم سے جلادی گئی ۔

سالِ وفود:اسی سال وفود ِعرب ، دربارِ رسالت ﷺ میں اس کثرت سے حاضر ہوئے کہ اسے سالِ وفود کہا جاتا ہے ۔ یہ وفود بالعموم نعمتِ ایمان سے مالا مال ہوکر واپس گئے ۔ ١٠ہجری میں بھی وفود عرب خدمت اقدس میں حاضر ہوتے رہے ۔ اہل یمن و ملوک حمیرا ایمان لائے ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے آخری حج کیا جسے حجۃ الوداع کہتے ہیں ۔

وصالِ مبارک:حضور اکرم  ﷺ کی بعثت کے وقت تمام دنیا بالخصوص عرب پر حد سے زیادہ جہالت و گمراہی چھائی ہوئی تھی ۔ ان کی اخلاقی و مذہبی پستی حد غایت کو پہنچی ہوئی تھی ۔ موافق و مخالف سب کو معلوم ہے کہ حضور ﷺ امی تھے ۔ امیوں میں آپ ﷺ نے پرورش پائی ۔ کسی سے تعلّم و تلمّذ نہ کیا اور نہ لکھنا پڑھنا سیکھا ۔ مگر آپ ﷺ نے بتعلیم الٰہی اپنے اصحاب کرام کو وہ تعلیم روحانی دی کہ وہ معارف ربانی کے عارف اور اسرار فرقانی کے ماہر بن گئے ۔ جس کسی نے دولت ایمان سے سرفراز ہو کر کچھ وقت بھی شرف ملازمت حاصل کر لیا ۔ وہی عالم ربانی، اور عارفِ یزدانی بن گیا ۔ آپ کی صحبت میں صحابہ کرام میں سے ہر ایک کو نسبت خاصہ اور قوت قدسیہ مبدأ فیاض سے عطا ہو گئی ۔ قصہ کوتاہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام کو اسلام و ایمان اور احسان سے مالا مال کرکے اور سچے دین کے ظاہری و باطنی علوم سکھاکر ماہ ربیع الاول ۱۱ہجری  میں دو شنبہ کے دن الرفیق الاعلیٰ پکارتے ہوئے اعلیٰ علیین قرب العالمین میں تشریف لے گئے ۔ علیہ وعلیٰ الہ واصحابہ افضل الصلوات واکمل التحیات ۔ مگر حضور سراپا نور رحمۃ للعالمین ﷺ حیات ہیں ۔ قیامت تک حضور ﷺ کی امت مرحومہ کو حضور سے وہی فیضان بواسطہ خواص امت علمائے کرام و صوفیہ عظام پہنچتا رہے گا جو حضور ﷺ کی ظاہری زندگی میں پہنچتا تھا ۔ حضور ﷺ کی امت میں وقتاً فوقتاً اولیاء، و صلحاء پیدا ہوتے رہیں گے ۔ اور ان اولیائے کرام کے ذریعے حضور ختم المرسلین رحمۃ اللعالمین ﷺ کی نبوت کی تصدیق ہوتی رہے گی ۔

ارشاداتِ عالیہ:حضور اکرم  ﷺ کے ارشادات قدسیہ کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے متعلق آپ ﷺ کے ارشادات قدسیہ نہ پائے جاتے ہوں ۔

اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی اٰل سیدنا و مولانا محمد و اصحاب سیدنا و مولانا محمد اھل بیت سیدنا و مولانا محمد و ازواج سیدنا و مولانا محمد و ذریۃ سیدنا و مولانا محمد و اتباع سیدنا و مولانا محمد و بارک وسلم ۔

(ماخوذ از: سیرت سیدالانبیاء /سیرت ِمصطفیٰ/سیرت النبی ﷺ/ہادی عالمﷺ و دیگرکتب سے ماخذ )