حضرت شیخ اسدالدین معروف کرخی علیہ الرحمہ


 

اسم گرامی :آپ علیہ الرحمہ کا اسم گرامی اسد الدین المعروف تھا جبکہ آپ علیہ الرحمہ معروف کرخی کے نام سے مشہور ہوئے آپ علیہ الرحمہ کے والد ماجد کا نام فیروز تھا۔ آپ علیہ الرحمہ کے والدین پارسی مذہب کے پیروکار تھے۔

تعلیم و تربیت :  آپ علیہ الرحمہ اہل بیت اطہار میں سے آٹھویں امام حضرت سیدنا امام علی رضا رضی بن  حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہماکے تربیت یافتہ تھے۔

بیعت و خلافت:  ۱۹ شوال ۱۲۸ہجری  بروزچہار شنبہ عصر کے وقت جلیل القدر تبع تابعی ، عظیم محدث اور بلند پایہ صوفی حضرت خواجہ داود طائی علیہ الرحمہ سے بغداد میں آپ نے خلافت حاصل کی اوراس کے بعد ۱۹۷ ہجری میں بروز جمعہ مشہد میں امام موسیٰ علی رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ    سے خلافت حاصل کی۔

آپ علیہ الرحمہ خود فرماتے ہیں کہ میرے والدین نے مجھے ایک عیسائی معلم کے پاس بٹھا دیا اس معلم نے سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ تمہارے گھر میں کتنے افراد ہیں جس پر میں نے بتایا کہ میرے گھر تین افراد ہیں اس پر استاد نے کہا کہ عیسیٰ تین خداؤں میں تیسرا خدا ہے۔

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں عالم کفر میں بھی میری غیرت نے یہ گوارہ نہ کیا کہ ایک سے سوا دوسرے کو پکاروں اس لئے میں نے انکار کردیا۔ اس پر معلم نے مجھے مارنا شروع کر دیا وہ جتنی شدت سے مجھے مارتا میں اتنی ہی جرات سے انکار کرتا آخر کار اس نے تنگ آ کر میرے والدین سے کہا کہ اس کو قید کر دو میں تین روز تک قید رہا ہر روز ایک روٹی ملتی تھی مگر میں اس کو چھوتا تک نہیں تھا جب مجھے قید سے نکالا گیا تو میں گھر سے بھاگ گیا کیونکہ میں والدین کا اکیلا ہی لڑکا تھا اس لئے میری جدائی سے انہیں سخت صدمہ ہوا پیغام بھیجا کہ واپس لوٹ آؤ جس مذہب کو چاہتے ہو اختیار کرلو ہم بھی تمہارے ساتھ اپنا دین تبدیل کرلیں گے۔ چنانچہ میں حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے دست حق پر مسلمان ہو گیا پھر جب میں گھر پہنچا والدین بھی ایمان کی دولت سے مالا مال ہو گئے

آپ علیہ الرحمہ نے تعلیم و تربیت حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ سے مکمل کی اس کے علاوہ حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے بھی بھر پور علم حاصل کیا اس کے علاوہ علم طریقت حضرت حبیب راعی علیہ الرحمہ سے حاصل کیا۔

آپ علیہ الرحمہ اذان اس شان سے پڑھتے تھے کہ خوف سے رونگٹے اور داڑھی کے بال کھڑے ہوجاتے تھے اور ایسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے آپ علیہ الرحمہ ابھی گر پڑیں گے بار بار رات کو آپ علیہ الرحمہ کی مسجد سے گریہ زاری کی آوازیں آتی رہتی۔

حضرت سری سقطی  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مجھے جو کچھ بھی ملا ہے وہ حضرت معروف کرخی علیہ الرحمہ کی بدولت ملا ہے حضرت عبد الوہاب علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ میں نے آپ علیہ الرحمہ سے بڑا تارک الدنیا اس جہان میں کسی کو نہ دیکھا آپ علیہ الرحمہ کے تصرف کا یہ عالم ہے کہ آپ علیہ الرحمہ کا مزار اقدس قضائے حاجات کے لئے تریاق مانا جاتا ہے۔

آپ علیہ الرحمہ ہر وقت با وضو رہتے تھے ایک دن آپ  علیہ الرحمہ کا وضو ساقط ہو گیا تو آپ علیہ الرحمہ نے فوراً تیمم کا اہتمام کر لیا لوگوں نے عرض کی کہ حضرت دریائے دجلہ پاس ہی ہے تیمم کی کیا ضرورت ہے اس پر حضرت معروف کرخی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اگر دجلہ تک پہنچتے پہنچتے موت آ گئی تو میری موت ناپاکی کی حالت میں ہوگی۔

آپ علیہ الرحمہ دنیا سے متنفر اور بے زار تھے ہر وقت یاد الٰہی میں مشغول رہتے تھے حضرت داتا گنج بخش  علیہ الرحمہ نے کشف المجوب میں لکھا ہے کہ آپ  علیہ الرحمہ کے مناقب و فضائل کی کوئی حد نہیں ہے علوم میں آپ علیہ الرحمہ قوم کے مقتدا اور سردار ہیں

ایک دفعہ آپ علیہ الرحمہ دریائے دجلہ کے کنارے کپڑے اور قرآن شریف رکھ کر غسل کر رہے تھے کہ ایک ضعیفہ آئی اور آپ  علیہ الرحمہ کے سامان کو اٹھا کر لے گئی آپ  علیہ الرحمہ نے اس کا پیچھا کیا اور ایک جگہ روک کر کہا کہ میں تمہارا بھائی معروف کرخی ہوں کیا تمہارا کوئی لڑکا بھائی یا شوہر ہے جو قرآن شریف پڑھے۔

اس نے کہا نہیں اس پر آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا قرآن شریف مجھے دے دو اور کپڑے لے لو میں نے دنیا و آخرت میں ہر جگہ تمہیں معاف کیا یہ سن کر ضعیفہ کو اتنی شرم آئی کہ اس نے توبہ کی پھر آپ علیہ الرحمہ کی دعا سے وہ ولیہ اور متقیہ ہو گئی۔

حضرت سری سقطی علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے عید کے دن آپ علیہ الرحمہ کو کھجوریں چنتے ہوئے دیکھا تو میں نے پوچھا حضور کیا کر رہے ہیں آپ  علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ میں نے اس لڑکے کو روتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھاکہ تم کیوں رو رہے ہو اس بچے نے جواب دیا کہ آج عید کا دن ہے اور میں یتیم ہوں سب لوگ نئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اس لئے میں یہ کھجوریں چن رہا ہوں ان کو بیچ کر میں اس لڑکے کو اخروٹ لے دوں تاکہ یہ کھیلے اور کھیل میں مشغول ہونے کی وجہ سے اپنا درد بھول جائے۔

حضرت سری سقطی علیہ الرحمہ نے عرض کی کہ حضرت میں اس کام کو انجام دے دیتا ہوں آپ علیہ الرحمہ بے فکر رہیں چنانچہ میں اس بچے کو لیکر کپڑے کی دکان پر گیا اس کو نئے کپڑے خرید کر پہنا دئیے اس کے بعد حضرت سری سقطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس کام کے بعد میرے دل میں ایک نور پیدا ہوا اور میری حالت کچھ اور ہی ہو گئی۔

ایک شخص کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا ابو محفوظ معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میرے لئے دعا فرمائی اور میں واپس گھر آ گیا ۔ دوسرے دن پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کے چہرہ پر نشان بنا ہوا ہے جیسے کوئی چوٹ لگی ہو ۔کسی نے آپ سے پوچھا : "اے ابو محفوظ! ہم کل آپ کے پاس سارا دن رہے ، آپ کے چہرہ پر کوئی نشان نہ تھا ، یہ کیا نشان ہے اور کیسے ہوا؟" آپ نے فرمایا : "اپنے مطلب کی بات کرو اسے چھوڑ یہ تمہارے مطلب کا سوال نہیں ہے ۔" اس شخص نے عرض کیا ، آپ کو اپنے معبود کی قسم ! آپ اس بارے میں کچھ بتائیں! اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا : " میں نے گزشتہ رات یہاں نماز ادا کی اور خواہش ہوئی کہ بیت اللہ کا طواف کر لوں پس میں مکہ شریف چلا گیا ، طواف کیا پھر زمزم کی طرف چل پڑا، تاکہ اس کا پانی بھی پی لوں تومیں دروازہ پر پھسل گیا ، گرنے کی وجہ سے میرے چہرہ پر جو تم دیکھ رہے ہو چوٹ آ گئی ۔ (جامع کرامات اولیاء ،ج ٢،ص٤٩)

حضرت سیدنا ابوعباس مؤَدِبْ علیہ الرحمہ  سے منقول ہے، ”میرے ایک ہاشمی پڑوسی کے معاشی حالات ٹھیک نہ تھے انہوں نے اپنا ایک واقعہ کچھ اس طر ح سنایا: ” ہمارے ہاں بچے کی ولادت ہوئی توگھر میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جو اپنی زوجہ کو کھلاتا۔ اس دکھیاری نے مجھ سے کہا : میرے سرتاج! آپ میری حالت وکیفیت سے خوب واقف ہیں، اس وقت مجھے غذا کی اشد ضرورت ہے تاکہ میری کمزوری دور ہو ، اب میں مزید صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ۔خدا را! کچھ کیجئے۔ اپنی زوجہ کی یہ حالت دیکھ کر میں بے تا ب ہوگیا اور عشاء کی نماز کے بعد ایک دُکان دار کے پاس گیا۔ میں غلہ وغیرہ اسی سے خریدتا تھا ، مجھ پر اس کا کچھ قرض بھی تھا۔ میں نے اسے اپنے گھر کی حالت بتائی اور کچھ سامانِ خورد ونوش (یعنی کھانے پینے کا سامان )طلب کیا او رکہا کہ میں جلد ہی اس کی قیمت ادا کردو ں گا۔

لیکن اس نے صاف انکار کر دیا۔ میں ایک دوسرے دکاندار کے پاس گیا اور اپنی حالت سے آگا ہ کر کے کچھ چیزیں طلب کیں۔ اس نے بھی انکار کردیا ۔ الغر ض! جس جس سے بھی امید تھی میں اس کے پاس گیا لیکن کسی نے میری مدد نہ کی۔ میں بہت رنجید ہ ہوا اور سوچنے لگا کہ اب کس کے پاس جاؤں ، کس سے اپنی حاجت طلب کرو ں۔ پھر میں دریائے دجلہ کی طرف چلا گیا ، میں نے ایک ملاح کو دیکھا جو اپنی کشتی میں بیٹھاہوا مسافروں کا انتظار کر رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے آواز لگائی: ”میں فلاں فلاں علاقے کی سواریاں بٹھاتا ہوں اگر کوئی مسافر ہے تو آ جائے۔”میں اس کی طر ف گیا تو وہ کشتی کنارے پر لے آیا، میں کشتی میں سوار ہوا اور ہماری کشتی دریائے دجلہ کا سینہ چیر تی ہوئی آگے بڑھنے لگی ۔

ملاح نے مجھ سے پوچھا :” تم کہاں جانا چاہتے ہو ؟

” میں نے کہا: ”کچھ معلوم نہیں ۔

” ملاح نے متعجب ہو کر کہا: ”تجھ جیسا عجیب شخص میں نے نہیں دیکھا تم اتنی رات گئے میرے ساتھ کشتی میں بیٹھے ہو اور تمہیں معلوم ہی نہیں کہ کہا ں جانا ہے؟

” ملاح کی یہ با ت سن کر میں نے اسے اپنی حالت سے آگا ہ کیا تو وہ ہمدرد انہ لہجے میں بولا: میرے بھائی! غم نہ کرو، میں فلاں علاقے میں رہتا ہوں، جہاں تک ہو سکامیں تمہاری پریشانی حل کرنے کی کوشش کروں گا ۔ پھر اس نے ایک جگہ کشتی روکی اور مجھے دریائے دجلہ کے کنارے واقع ایک مسجد میں لے گیا اور کہا: ” میرے بھائی! اس مسجد میں حضرت سیدنا معروف کرخی علیہ الرحمہ  دن رات عبادت میں مشغول رہتے ہیں ، تم وضو کر کے مسجد میں چلے جاؤاوراللہ تعالیٰ کے اس نیک بندے سے دعا کراؤ،  ان شاء اللہ ضرور کوئی راہ نکل آئے گی۔”میں وضو کر کے مسجد میں داخل ہو ا تو دیکھا کہ حضرت سیدنا معروف کرخی علیہ الرحمہ  محراب میں نماز ادا فرما رہے ہیں ۔ میں نے بھی دورکعت ادا کیں اور سلام کرکے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قریب بیٹھ گیا ۔ فراغت کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سلام کا جواب دیا اور کہا :”اللہ تم پررحم فرمائے! تم کون ہو ؟” میں نے اپنا واقعہ کہہ سنایا ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بڑی توجہ سے میری بات سنی پھر نماز کے لئے کھڑے ہوگئے۔ باہر موسم خراب ہونے لگا، بارش زورپکڑتی جارہی تھی۔ میں بہت گھبرایا اور سوچنے لگا کہ میں اپنے گھر سے کتنا دور آ گیا ہوں، بارش بڑھتی ہی جارہی ہے، نہ جانے گھر والے کس حال میں ہوں گے۔ میں اس شدید بارش میں اپنے گھر کیسے پہنچو ں گا ۔ میں انہیں خیالات میں گم تھا کہ اچانک مسجد سے باہر کسی جانور کی آواز سنائی دی ، ایک سوار اپنی سواری سے اُترکر مسجد میں داخل ہوا اور حضرت سیدنا معروف کرخی علیہ الرحمہ  کے قریب آکر بیٹھ گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نماز سے فراغت کے بعد اس سے پوچھا: ”مَنْ اَنْتَ رَحِمَکَ اللہُ ؟ یعنی اللہ تم پر رحم کرے ،تم کون ہو؟”اس نے کہا :” حضور! میں فلاں شخص کا قاصد ہوں، انہوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ” میں چادراوڑھ کر سو رہا تھا ، میں نے اپنے آپ کو اچھی حالت میں دیکھا او راپنے اوپر ایسی رحمت کی بر سات دیکھی ہے کہ اس پراللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ، میں اپ کی بارگاہ میں کچھ نذرانہ پیش کر رہا ہوں، اسے قبول فرماکر مجھ پر احسان فرمائیں، آپ جسے مستحق پائیں اسے یہ رقم عطا فرما دیں ۔”قاصد کا پیغام سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ” یہ ساری رقم اس ہاشمی شہزادے کی خدمت میں پیش کر دو ۔” قاصد نے کہا: ” حضور! یہ پانچ سو (500) دینار ہیں۔” فرمایا: ”ہاں! یہ سب اسے دے دو۔” قاصد نے ساری رقم مجھے دے دی۔ میں نے تمام رقم اپنی چادرمیں رکھی، حضرت سیدنا معروف کرخی علیہ الرحمہ  کا شکر یہ ادا کیا اور اسی وقت گھر کی طرف چل دیا، بارش میں بِھیگتا گرتا پڑتا اپنے علاقے میں پہنچا ،سیدھا دُکان دار کے پاس گیااور کہا:” یہ دیکھو !یہ پانچ سو(500)دینار ہیں، اللہ نے اپنے رزق کے خزانوں میں سے مجھے عطا فرمائے ہیں۔ تمہارا جتنا مجھ پر قرض ہے وہ لے لو اور مجھے کھانے کا سامان دے دو۔ دکاندار نے کہا:”کل تک یہ رقم اپنے پاس ہی رکھو ،جو چیزیں تمہیں چاہیں وہ لے جا ؤ ۔ پھر اس نے شہد ، شکر ، تِلوں کا تیل، چاول چربی اور بہت سی کھانے کی اشیاء مجھے دیتے ہوئے کہا: ”آپ یہ تمام چیزیں اپنے گھر لے جائیں۔”میں نے کہا: ” اتنا سارا سامان میں کیسے اٹھاؤں گا۔” کہا:” میں آپ کی مدد کروں گا۔”کچھ سامان اس نے اُٹھایا کچھ میں نے پھر ہم دونوں گھر کی طرف چل دیئے۔ گھر پہنچے تو دیکھا کہ دروازہ کھلا ہوا تھاکیونکہ میری زوجہ اتنی کمزور ہوگئی تھی کہ دروازہ بند کرنے کی طاقت بھی نہ تھی۔ مجھے دیکھ کر شکوہ کرتے ہوئے بولی:” اس نازک حالت میں مجھے چھوڑ کر کہا ں چلے گئے تھے؟

 بھوک اورکمزوری سے میری حالت خراب ہو گئی ہے۔میں نے کہا:” اللہ کے فضل وکرم سے ہماری پریشانی دور ہوگئی، یہ دیکھو! گھی ، چربی ، شکر ، تیل اور بہت سی کھانے کی اشیاء کثیر مقدار میں ہمارے گھر میں موجود ہیں۔ یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئی ،اس کی تکلیف جاتی رہی ۔ میں نے اسے دیناروں کے بارے میں نہ بتایا اس خوف سے کہ کہیں خوشی سے ہلاک نہ ہوجائے۔ پھر کھانا تیار ہوا سب نے کھا نا کھاکر خدائے بزرگ وبَر تر کا شکر ادا کیا۔صبح میں نے اپنی زوجہ کو وہ دینار دکھائے او رسارا قصہ سنایا۔ وہ بہت خوش ہوئی اور اس غیبی امداد پراللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی۔ پھر ہم نے کاشت کے لئے کچھ زمین خرید لی تاکہ اس سے حاصل شدہ آمدنی کے ذریعے ہمارے اخراجات پورے ہوتے رہیں۔ اس طر ح کچھ ہی عرصہ بعد حضرت سیدنا معروف کرخی علیہ الرحمہ  کی برکت سے اللہ  نے ہماری تنگدستی ومفلسی دور فرمادی اور اب ہم بفضلہ تعالیٰ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

وصال مبارک: آپ اس دار فانی سے ۲۲۰ ہجری کو رخصت ہوئے آپ علیہ الرحمہ کے وصال کے وقت ایک عجیب واقعہ ظہور پذیر ہوا جب آپ علیہ الرحمہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو تمام لوگوں نے دعویٰ کیا کہ ہم آپ علیہ الرحمہ کا جنازہ اٹھائیں گے جس میں یہودی پارسی اور مسلمان سب شامل تھے۔

آپ علیہ الرحمہ کے خادم نے کہا کہ مجھے حضرت معروف کرخی علیہ الرحمہ نے وصیت کی تھی کہ جو قوم میرا جنازہ زمین سے اٹھائے گی وہی میری تجہیز و تکفین کرے گی چنانچہ سب سے پہلے یہودیوں نے کوشش کی پھر پارسیوں نے کوشش کی لیکن کوئی بھی جنازے کو اٹھا نہ سکا۔ آخرمیں مسلمانوں نے جنازے کو اٹھایا اور آپ علیہ الرحمہ کو سپرد خاک کر دیا آپ علیہ الرحمہ کا مزار اقدس بغداد شریف میں ہے۔

اسلامی تعلیمات:    آپ کے اقوال اسلامی تعلیمات اور دینی حکمتوں سے بھرپور مطالب ومعانی پر مشتمل ہیں ،درسِ عبرت اور سبق آموزی کے لیے چند اقوال پیش خدمت ہیں :

·       دولت کے بھوکے کو کبھی حقیقی راحت نہیں مل سکتی ۔

·       بغیر عمل جنت کی آرزو گناہ ہے ، بغیر ادائے سنت امید ِشفاعت رکھنا محض غرور اور دھوکا ہے اوربغیر فرماںبرداری کے امیدوار ِرحمت ہونا محض جہالت اور حماقت ہے ۔

·       حق تعالیٰ جب کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو حسن ِ عمل کا دروازہ اُس پر کھول دیتا ہے ۔

·       آپ سے پوچھا گیا کہ مصائب ِ دنیا کی کیا دَوا ہے ؟ فرمایا : خلق سے دور اور خُلق سے نزدیک رہنا۔حب ِ دنیا ترک کردو۔ کیوں کہ اگر دنیا کی ذرا سی چیز بھی تمہارے دِل میں ہوگی تو سجدہ کرنے میں بھی تم اس کو فراموش نہ کرسکوگے۔
(مصادر: حلیۃُ الاولیاء، صفۃ الصفوۃ ، کشف المحجوب ، مناقب معروف کرخی علامہ ابن الجوزی)

 

 

 

 

حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ


 

حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ ،آپ چوتھے امام ہیں ۔آپ کی کنیت ابو محمد تھی، کہتے ہیں کہ ابو الحسن اور ابو بکر بھی تھی ۔آپ (رضی اللہ عنہ )  کا لقب سجاد اور زین العابدین تھا۔ (لطائف اشرفی /شیخ الاسلام حضرت نظام یمنی علیہ الرحمہ)

القابات: آپ کے القاب بے شمارہیں جن میں زین العابدین ، سید الساجدین ، ذوالغناث، اور سجاد وعابد زیادہ مشہورہیں ۔(مطالب السؤال صفحہ 261، شواہدالنبوت 309، نورالابصار 2/43، الفرع النامی / نواب صدیق حسن بھوپالی صفحہ 18،سیر اعلام النبلاء، ج 4/ 386؛ ذہبی، تہذیب الکمال، ج 13/ 236)

کنیت : آپ  کی کنیات "ابو الحسن"، "ابو الحسین"، "ابو محمد" اور "ابو عبد اللہ" ہیں۔ ( سیر اعلام النبلاء، ج4/386، الجرح و التعدیل، ج 6/ 178)

امام زین العابدین کی ولادت کے متعلق پیشن گوئی :امام زین العابدین کی پیدائش سے پہلے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا تھا کہ میرے بیٹے حسین کے گھر ایک بیٹا زین العابدین ہوگا چنانچہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ابو زبیر نے کہا کہ ہم جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ(74 ہجری)  کے پاس تھے مجھے وہاں علی بن حسین (امام زین العابدین) تشریف لائے تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے پس آپ کے پاس امام حسین آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا سر اور منہ چوما اور اپنے سینے سے لگایا پھر اپنے پاس بٹھایا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے اس بیٹے (حسین) کے ہاں اللہ بیٹا دے گا جس کا نام علی ہوگا۔ قیامت کے دن حاملین عرش فرشتوں سے ایک فرشتہ آواز دے گا کہ سیدالعابدین کھڑا ہوتو (زین العابدین) کھڑا ہوگا۔(البدایہ والنہایہ 9/106)اس سے ثابت ہوا کہ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ  کے پیدا ہونے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا تھا کہ کہ امام حسین کا بیٹا بھی ہوگا زین العابدین بھی ہوگا اس کا قیامت کے دن لقب سید العابدین ہوگا۔ (امام رین العابدین رضی اللہ عنہ صفحہ 57)

عارف باللہ علامہ نورالدین عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ نےروضۃ الصفا اور حبیب السیرکے حوالے سے مرآۃ الاسرارصفحہ 207پر اورعلامہ غلام رسول نقشبندی جماعتی علیہ الرحمہ نے علامہ زمخشری (المتوفیٰ 538 ہجری)کی کتاب ربیع الابرار حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمر بن الخطاب  رضی اللہ عنہ (المتوفیٰ 23 ہجری)  کے دور خلافت میں جب ملک فارس سے مال غنیمت آیا تو اس مال غنیمت میں فارس کے بادشاہ یزدجردخسروپرویز کی تین بیٹیاں بھی گرفتار ہو کر آئیں۔ جب قیدیوں کو فروخت کیا گیا تو حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کو بھی فروخت کرنے کو کہا۔ ۔حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ ان کا تعلق شاہی خاندان سے ہے تو ان سے وہ معاملہ نہیں کیا جانا چاہئے جو دوسرے دوسرے عام قیدیوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے تو حضرت عمرفاروق اعظم  نے کہا کہ  توپھر کیا صورتحال ہونی چاہیے تو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کہا کہ ان کی قیمت بتائی جائے جب قیمت بتائی  گئی تو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم  نے تمام قیمت ادا کردی پھر مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ایک شہزادی کو محمد بن ابوبکر(المتوفیٰ 38 ہجری) کے ساتھ منسوب کیا جن سے قاسم الفقیہ  (المتوفیٰ 101 ہجری) پیدا ہوئےاور دوسری شہزادی کو عبداللہ بن عمر(المتوفیٰ 73 ہجری)  کےساتھ منسوب کیا جن سے  سالم بن عبداللہ پیدا ہوئے اور تیسری شہزادی حضرت شہر بانو کو امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ منسوب کیا جن کے بطن سے حضرت امام زین العابدین پیدا ہوئے ۔(شذرات الذہب 1/106، وفیات الاعیان صفحہ 267، البدایہ والنہایہ 1/9، امام زین العابدین رضی اللہ عنہ صفحہ 55)

عبادت و ریاضت: علامہ طبرسی  لکھتے ہیں کہ آپ کو عبادت گزاری میں امتیاز کامل حاصل تھا، رات بھر جاگنے کی وجہ سے آپ کا سارا بدن زرد رہاکرتا تھا اور خوف خدا میں روتے روتے آپ کی آنکھیں پھول جایا کرتی تھیں اور نماز میں کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سو جایا کرتے تھے۔ (اعلام الوریٰ 153) اور پیشانی پرگھٹے رہا کرتے تھے۔ اور آپ کی ناک کا سرا زخمی رہا کرتا تھا۔ (تذکرۃا لخواص،صفحہ۳۲۴،دمعہ ساکبہ 439) بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ایک رات دن میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ (صواعق المحرقہ 662)علامہ شیخ صبان  مالکی لکھتے ہیں کہ جب آپ وضو کے لیے بیٹھتے تھے تب ہی سے کانپنے لگتے تھے اور جب تیز  ہوا چلتی تھی تو آپ خوف خدا سے لاغر ہوجانے کی وجہ سے گر کر بیہوش ہوجایا کرتے تھے۔حضرت امام علی بن حسین رضی اﷲ عنہما حج کے لئے احرام باندھنے کے بعد جب سواری پر بیٹھے تو خوف سے ان کا رنگ زرد پڑ گیا اور ایسا لرزہ طاری ہوا کہ زبان سے لبیک تک نہ نکل سکا، لوگوں نے کہا، آپ لبیک کیوں نہیں کہتے، فرمایا ڈر لگتا ہے ایسا نہ ہو کہ میں لبیک کہوں اور ادھر کہیں سے جواب ملے لالبیک، تیری حاضری قبول نہیں، لوگوں نے کہا مگر لبیک کہنا تو ضروری ہے، لوگوں کے اصرار پر کہا، مگر جیسے ہی زبان سے لبیک نکلا بیہوش ہو کر سواری سے گر پڑے اور حج کے دن تک یہی کیفیت طاری رہی۔(سیر اعلام النبلاء، 5 / 336، تہذیب التہذیب، 7 / 306) (اسعاف الراغبین برحاشیہ نورالابصار صفحہ 200)

ایک روز آپ(رضی اللہ عنہ )  اپنے مکان میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آگ لگ گئی۔ ہر چند کہ آگ لگنے کی پکار کی گئی لیکن آپ(رضی اللہ عنہ )  نے سجدے سے سر نہیں اٹھایا۔  جب آگ بجھ گئی تو  لوگوں نےآپ (رضی اللہ عنہ ) سے دریافت کیا کہ آپ(رضی اللہ عنہ )  کو کس بات نے آگ سے  بے پرواہ کر دیا، فرمایا، آتشِ آخرت کے خیال نے۔(لطائف اشرفی /شیخ الاسلام حضرت نظام یمنی علیہ الرحمہ)

عادات و کرامات : آپ کے خوارقِ عادات و کرامات بہت سے ہیں۔ایک روز آپ(رضی اللہ عنہ )  اپنے اصحاب کے ساتھ  جنگل میں بیٹھے تھے کہ ایک ہرن آپ رضی اللہ عنہ  کے سامنے آیا اور ہاتھ پیر پٹخنے  لگا۔  حاضرین نے دریافت کیا اے ابن رسول الله! یہ کیا کہتا ہے، فرمایا یہ کہہ رہا ہے کے فلاں قریشی نے گزشتہ روز میرے بچے کو پکڑ لیا ہے اور کل سے اسے دودھ نہیں دیا۔  بعضے اصحاب کو اس بات پر یقین نہیں آیا، آپ (رضی اللہ عنہ ) نے ایک شخص کو بھیجا کہ اسے لے کر آئیں۔  جب وہ آیا تو اسے سارا ماجرا سنایا۔ اس نے کہا کہ ہرن سچ کہتا ہے (ہرن کا بچہ میں نے پکڑا ہے) آپ (رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا کہ بچہ ہرن کو دے دو تاکہ وہ اسے دودھ پلائے۔  اس کے بعد وہ واپس تیرے حوالے کر دے گی۔  (ہرن نے) وعدہ پورا کیا تو آپ (رضی اللہ عنہ ) نے قریشی سے کہا کہ بچہ ہرن کو بخش دو۔ اس نے بچہ ہرن کو دے دیا۔ (شواہد النبوت صفحہ  313  / عارف باللہ علامہ عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ)

فقرا ئےمدینہ کی کفالت: حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ  بدنی عبادات کے ساتھ ساتھ مالی عبادات کا بھی غیر معمولی اہتمام کیا کرتے تھے، وہ انتہائی درجے کے سخی اور خیر کے کاموں میں خرچ کرنے والے تھے ،: علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ فقرا مدینہ کے سوگھروں کی  کفالت فرماتے تھے اور سارا سامان ان کے گھر پہنچایا کرتے تھے۔ ان میں بہت زیادہ ایسے گھرانے تھے جنہیں آپ یہ بھی نہیں معلوم ہونے دیتے تھے کہ یہ سامان خوردونوش رات کو کون دے جاتا ہے۔ آپ کا اصول یہ تھا کہ بوریاں پشت پر لاد کر گھروں میں روٹی اور آٹا وغیرہ پہنچاتے تھے اور یہ سلسلہ تاحیات جاری رہا ۔بعض معززین کا کہنا ہے کہ ہم نےاہل مدینہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ امام زین العابدین  رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ہم خفیہ غذائی رسد سے محروم نہیں ہوئے۔ (حلیۃ الاولیاء،ج3/160،مطالب السؤال صفحہ265،نورالابصارصفحہ126)

محمد بن اسحاق فرماتے ہیں: کچھ لوگ مدینۃ المنورہ کے نواح میں زندگی بسر کرتے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کے اخراجات کہاں سے پورے کیے جاتے ہیں، علی ابن الحسین رضی اللہ عنہ کی وفات کے ساتھ ہی انہيں راتوں کو ملنے والی غذائی امداد کا سلسلہ منقطع ہوا۔( سیر اعلام النبلاء، 4/ 393)

محدث ابو نعیم احمد بن عبد اللہ الاصفہانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: بعض لوگ آپ(علیہ السلام)  کو بخیل سمجھتے تھے لیکن جب دنیا سے رحلت کرگئے تو سمجھ گئے کہ ایک سو خاندانوں کی کفالت کرتے رہے تھے۔ (حلیۃ الاولیاء 3 / 136؛ طبقات 5 / 164صفۃ الصفوة ج 2 / 54)

مزید آپ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں  کہ جب کوئی سائل آپ(علیہ السلام) کے پاس آتا تو آپ فرماتے تھےآفرین ہے اس شخص پر جو میرا سفر خرچ آخرت میں منتقل کررہا ہے"۔ ( حلیۃ الاولیاء 3 / 136)

محمدابن سعد بغدادی  روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی محتاج آپ (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوتا تو آپ فرماتے: "صدقہ سائل تک پہنچنے سے پہلے اللہ تک پہنچ جاتا ہے"۔ (طبقات الکبریٰ 5/ 160)

ایک سال آپ(علیہ السلام) نے حج کا ارادہ کیا تو آپ کی بہن سکینہ بنت حسین رضی اللہ عنہا  نے ایک ہزار درہم کا سفر خرچ تیار کیا اور جب آپ مقام حرہ پر پہنچے تو وہ سفر خرچ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا  تو آپ رضی اللہ عنہ  نے وہ محتاجوں کے درمیان بانٹ دیا۔( صفۃ الصفوة 2 /54)

علامہ کمال الدین دمیری لکھتے ہیں کہ ایک شامی شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کوگالیاں دے رہاتھا، آپ  (علیہ السلام) نے فرمایا بھائی تم مسافرمعلوم ہوتے ہو، اچھا میرے ساتھ چلو، میرے یہاں قیام کرو اورجوحاجت رکھتے ہوبتاؤتاکہ میں پوری کروں وہ شرمندہ ہوکرچلاگیا۔ (حیواة الحیوان جلد ۱ / ۱۲۱)

سفر حج اور آپکی عزت واحترام:آپ (علیہ السلام) اپنے زمانے کے بہت ہی جلیل القدراور عالی مرتبت لوگوں میں سے تھے ، لوگ آپ کی بہت زیادہ قدروعزت، اکرام وتکریم کیا کرتے تھے، مشہور واقعہ ہے، جسے علامہ جمال الدین مزی، ابو نعیم اصفہانی ،علامہ شمس الدین ذہبی علیہ الرحمہ اور علامہ محدث احمد بن حجر مکی  وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ ہشام بن عبدالملک اپنے زمانہ خلافت سے قبل ایک دفعہ حج کے لیے گئے ، بیت الله شریف کے طواف کے دوران حجر اسود کا استلام کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اژدھام کی وجہ سے نہیں کر پائے۔

اتنے میں حضرت علی بن حسین تشریف لائے، ایک چادر او رتہہ بندباندھے ہوئے، انتہائی خوب صورت چہرے والے، بہترین خوش بو والے، ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشتانی پر) سجدے کا نشان تھا، طواف شروع کیا او رجب حجر اسود کے قریب پہنچے تو لوگ ان کی ہیبت او رجلالت شان کی وجہ سے پیچھے ہٹے اور آپ نے اطمینان کے ساتھ استلام کیا، ہشام کو یہ بات اچھی نہیں لگی ، اہل شام میں سے کسی نے کہا یہ کون ہے کہ جس کی ہیبت اور جلال نے لوگوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا؟

 ہشام یہ سوچ کر کہ کہیں اہل شام ان کی طرف مائل نہ ہو جائیں ، کہا میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہیں؟

مشہور شاعر فرزدق قریب ہی کھڑا تھا، اس نے کہا میں انہیں جانتا ہوں ۔ اس پر اس شامی نے کہا اے ابو فراس! یہ کون ہیں؟  اس وقت فرزدق نے حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ کی تعریف میں بہت سارے اشعار کہے تھے، ان میں سے چند یہ ہیں۔

ھوالذي تعرف البطحاء وطأتہ والبیت یعرفہ والحل والحرم

      ھذا ابن فاطمة إن کنت جاھلہ بجدّہ انبیاء الله قد ختموا

ترجمہ: یہ وہ شخص ہے جس کے چلنے کو بطحاء، بیت الله، حل اور حرم بھی جانتے ہیں، یہ حضرت فاطمہ کے فرزند ہیں اگرچہ تم تجاہل سے کام لے رہے ہو، انہی کے دادا ( محمد صلی الله علیہ وسلم) کے ذریعہ انبیا کا سلسلہ ختم کیا گیا ہے۔

ہشام بن عبدالملک کو غصہ آیا اس نے فرزدق کو قید کرنے کا حکم دیا ان کو مکہ ومدینہ کے درمیان ” عسفان“ نامی جگہ میں مقید کر دیا گیا، حضرت علی بن حسین کو پتہ چلا تو انہوں نے فرزدق کے پاس بارہ ہزار دینار بھیجے او رکہا ابو فراس! اگر ہمارے پاس اس سے زیادہ ہوتے تو ہم وہ بھی بھجوادیتے،  فرزدق نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ اے رسول الله کے فرزند !میں نے جو کہا الله او راس کے رسول کی خاطر کہا ہے او رمیں اس پر کچھ کمانا نہیں چاہتا،  حضرت امام زین العابدین  رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر واپس بھجوا دیا کہ تمہارے اوپر جو میرا حق ہے اس کا واسطہ ہے کہ تم انہیں قبول کرلو، بے شک الله تیرے دل کے حال او رنیت کو جانتے ہیں۔ تو انہوں نے تعمیل ارشادمیں اسے قبول کر لیا۔( الصواعق محرقہ صفحہ666،شجرۃ الاشراف صفحہ 223، روض الریاحین حکایۃ 17صفحہ 222، البدایہ والنہایہ 12/492، تاریخ دمشق 41/400)

ایک روایت میں کہ ہشام کے والد عبدالملک بن مروان نے مدح و تعریف سے بھرا ہوا فرزدق کا یہ قصیدہ سنا تو اس نے فرزدق سے کہا کہ کیا تو رافضی (شیعہ) ہے؟

فرزدق نے جواباً کہا اگر آل رسول سے محبت کا نام ہی رافضیت ہے تو پھر میں رافضی ہوں ۔

 عبدالملک نے اسے حکماً کہا تم میری تعریف میں بھی اسی طرح کے اشعار کہو جس طرح تم نے علی بن حسین کی شان میں کہے ہیں ۔ اور بیت المال سے جو بھی تمہیں وظیفہ ملا کرتا ہے وہ میں دگنا کردوں گا۔

 فرزدق نے آل بیت کی محبت میں ڈوب کر عجب جواب دیا اور نہایت جرآت سے کہا "عبدالملک! پہلے ان کے باپ جیسا تو باپ لے آ اور ان کی ماں جیسی ماں لے آ، پھر میں اس جیسا قصیدہ تیری شان میں کہوں گا۔ اور مجھ سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے تجھے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے حیا نہیں آتی ۔ میرا نام وظیفہ والے رجسٹر سے مٹانا  ہے تو مٹا دے" اس پر عبدالملک نے غصہ میں آکر اس کا وظیفہ ختم کردیا"۔ (گلدستہ اہلبیت/مولانا طارق جمیل صفحہ 383)

 حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا علمی مقام و مرتبہ: حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ نے کبار صحابہ کرام وتابعین عظام سے کسب فیض کیا چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد امام حسین رضی اللہ عنہ  اور اپنے چچا امام حسن رضی اللہ عنہ اور اپنے دادا پاک حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں نیز ابن عباس، عبیداللہ بن  ابورافع ،سعید بن مسیب ،ابو ہریرہ ( رضوان اللہ علیہم اجمعین) اور امہات المؤمنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ، حضرت ام سلمہ، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہن سے بھی روایت کرتے ہیں اور امام زین العابدین رضی اللہ عنہ  سے روایت کرنے والے بے شمار لوگ ہیں جن میں مشہور درج ذیل ہیں: محمد بن مسلم زہری، طاؤس بن کیسان، ابو سلمہ بن عبد الرحمن، ابو الزناد عاصم بن عمر بن قتادہ، عاصم بن عبیداللہ بن عامر بن عمر بن خطاب، قعقاع بن حکیم، زید بن اسلم، یحی بن سعید انصاری، ہشام بن عروہ، عمرو بن دینار، حکم بن عینیہ، ہشام بن عروہ، ابوحازم، محمد بن فرات تمیمی،  امام ابوجعفرمحمد باقر، عمربن علی بن حسین،  امام زیدبن علی بن حسین ، عبداللہ بن علی حسین  (رضی اللہ تعالی عنہما) وغیرہ۔ امام زین العابدین کے شاگردوں میں سے محمد بن مسلم زہری محدثین میں بہت اہم مقام رکھتے ہیں۔

سب سے پہلے حدیث کی تدوین کرنے والے مجھے ابو بکر محمد بن مسلم بن شہاب زہری مدنی ہیں جنہوں نے یہ کام کےپہلی صدی ہجری کے آخری دور میں عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے کیا تھا جیساکہ حلیۃ الاولیاء  (ابونعیم ) میں سلیمان بن داؤد سے مروی ہے کہ سب سے پہلے جس نے حدیث کی تدوین کی، وہ ابن زہری ہیں اور خود ابن شہاب زہری کا بیان ہے کہ اس علم کو میرے مدون کرنے سے پہلے کسی نے مدون نہیں کیا تھا۔

زہری کا اصل نام امام ابوبکر محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ ابن شہاب زہری مدنی شامی تھا ۔ آپ تابعی ، فقیہہ اور محدث تھے ۔ اکیاون ہجری میں پیدا ہوکر 124 ہجری میں وفات پائے۔مدینۃ المنورہ کے نامی محدثون اور فقیہوں میں سےتھے۔(تاریخ اسلام 5/79) امام مالک اور امام اوزاعی ان کے شاگرد تھےاور سفیان بن عینیہ کہتے ہیں کہ محدث زہری سے زیادہ اچھی حدیث کوئی نہیں بیان کر سکتا۔

امام احمدبن حنبل علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں اچھی سند زہری کی ہے اور امام نسائی علیہ الرحمہ نے کہا کہ زہری کی سند جو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سےہے وہ تمام سندوں سے صحیح ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو مقام حدیث میں ایک امتیازی حیثیت حاصل تھی اسی لیے تمام محدثین کے نزدیک آپ کی سند تمام اسناد سے صحیح ہے نیز امام زین العابدین جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں تو حدیث ان کے گھر کی ہوئی لہٰذا ہاں آپ کے محدث ہونے میں شک نہیں ہے۔ (البدایہ والنہایہ صفحہ 9/342، شرح ننجۃ الفکر صفحہ 58)

شیخ ولی الدین خطیب ( المتوفی 740ہجری) لکھتے ہیں کہ  امام زین العابدین بہت بڑے عالم اور تابعی تھے۔ (اکمال فی اسماء الرجال صفحہ611، امام زین العابدین رضی اللہ عنہ غلام رسول نقشبندی علیہ الرحمہ59)

ابن عساکر  شافعی علیہ الرحمہ  آپ کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے آپ کی شان مبارک میں اس طرح لب کھولتے ہیں:امام زین العابدین ثقہ اور امین تھے۔آپ بہت زیادہ حدیث بیان فرماتے تھے اور بہت بلند و بالا درجۂ کمال پر فائز تھے۔)تاریخ دمشق 36/142)

امام  شمس الدین ذہبی کا بیان ہے ’’آپ عجیب وغریب جلالت کے مالک تھے وہ اپنے شرف ، علم ،  سیادت للٰہیت اور کمال عقل کی بنا پر امامت عظمیٰ کے صحیح معنوں میں اہل تھے اور خدا کی قسم یہ آپ ہی کا حق تھا۔)سیراعلام النبلاء 4/240)

محدث  ابونعیم اصفہانی علیہ الرحمہ فرماتےہیں کہ علی ابن الحسین ابن علی عباد ت گذاروں کی زینت اور خدا سے مکمل طور پر وابستہ ہوجانے والوں کے درمیان ایک منارہ کی حیثیت رکھتے تھے ۔ آ پ عبادت گذار،وعدہ کو وفا کرنے والے ،سخی اور منتخب روزگار تھے۔)حلیۃ الاولیاء 3/133)

عمادالدین ادریس قرشی کا بیان ہے کہ امام زین العابدین اہلبیت ر سول میں امام حسن اور امام حسین کے بعد سب سے افضل اور اشرف تھے۔سب سے زیادہ زاہد،پرہیزگار اور عباد ت گذار تھے۔)عیون الاخباروفنون الآثار،صفحہ۱۴۴)

ابن تیمیہ کا بیان ہے کہ علی ابن الحسین تابعین کے بزرگوں اورعلم و دیانت کے اعتبارسے ان کے سرداروں میں سے تھے۔ آپ کا خضوع و خشوع ،لوگوں کی نگاہوں سے چھپا کرصدقہ دینا اور اس جیسے نہ جانے کتنے اہم فضائل لوگوں کے درمیان مشہور ہیں۔(منہاج السنۃ،2/123)

امام شافعی علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ بے شک علی ابن الحسین اہل مدینہ میں سب سے بڑے فقیہ تھے۔)رسائل الجاحظ،صفحہ۱۰۶)

سبط ابن جوزی کا بیان ہے کہ امام زین العابدین  ابوالائمہ تھے، آپ کی کنیت ابوالحسن تھی اور آپ کو زین العابدین کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔پیغمبر اسلام ﷺنے آپ کو سید العابدین ،سجاد، ذوالثفنات ، زکی اور ان جیسے بہت سے دوسرے ناموں سے یاد کیا تھا۔ثفنات اونٹ کے جسم کے ان حصوں کو کہا جاتاہے جو بیٹھتے وقت زمین پر ٹکتے ہیں اور ان پر گھٹے پڑ جاتے ہیں ۔سجدوں کی کثرت سے آپ (علیہ السلام) کے اعضاء سجدہ پراسی طرح گھٹے پڑ جایا کرتے تھے۔)تذکرۃا لخواص،صفحہ۳۲۴)

علامہ دمیری (المتوفی 808 ہجری) اور ابن خلکان (المتوفیٰ 681ہجری ) لکھتے ہیں کہ امام زین الدین رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرنے میں نہایت معتمد علیہ اور صادق الراویہ تھے۔ آپ بہت بڑے عالم اور فقیہ اور اہل بیت رسول میں  بے مثل تھے۔ ( حیاۃ الحیوان 1/121، تاریخ ابن خلکان 1/320)

امام زہری کہتے ہیں کہ مارایت فقہ منہ میں آپ سے زیادہ کوئی فقیہ نہیں دیکھا۔ ( نبراس حاشیہ 2/517 شذرات الذہب صفحہ 105)

تمام محققین و محدثین لکھتے ہیں کہ تمام سندوں سے صحیح سند زہری کی امام زین العابدین سے ہے  چنانچہ ابوبکر بن شیبہ (المتوفی 235 ہجری) فرماتے ہیں کہ اصح الاسانید کلھا الزھری عن علی بن الحسین عن ابیہ عن جدہ  کہ تمام سندوں سے صحیح سند وہ ہے جو (ابن شہاب الدین) زہری امام زین العابدین سے وہ اپنے والد امام حسین سے وہ حضرت علی سے روایت کریں۔(البدایہ والنہایہ صفحہ 9/342، شرح ننجۃ الفکر صفحہ 58) اس سے ظاہر ہے کہ احادیث رسول میں جتنی اسناد ہیں تمام اسناد سے صحیح سند امام زین العابدین کی ہے۔

سوال:  سدرۃ الذہب میں ہے کہ محدث زہری کہتے ہیں کہ امام زین العابدین سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں ہے لیکن وہ قلیل الحدیث ہیں یعنی ان سے یہ احادیث مروی کم ہیں اب سوال یہ ہے کہ اگر امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی سند تمام سندوں سے اچھی ہے تو پھر ان سے حدیث کم کی مروی  ہے ؟

 جواب: سدرۃ الذہب کی یہ روایت علامہ ابن سعد (المتوفی 230 ہجری) کی روایت مقابلہ نہیں کر سکتی ابن سعد طبقات  میں فرماتے ہیں کہ امام زین العابدین کثیرالحدیث ہیں چنانچہ ابن کثیر، علامہ ابن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ امام زین العابدین  کان ثقۃ مامونا کثیر الحدیث عالیا رفیعا ورعا کہ آپ  امین، کثرالحدیث، عالی مرتبت اور پرہیزگار تھے۔ (البدایہ والنہایہ 104، طبقات ابن سعد 5/222، تہذیب التہذیب 7/305)

نیز شذرات الذہب کی روایت یا اس کی مثل جس سے قلیل الحدیث ہونا   ثابت ہوتا  ہے عقل و نقل کے خلاف ہے  کیونکہ کہ جہاں تک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے وہ امام زین العابدین کے گھر کی چیز ہے کیونکہ امام زین العابدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے امام حسین کے بیٹے ہیں جتنا علم حضورﷺ کی حدیث کا حضورﷺ کی اولاد کو ہے اور کسی کو نہیں ہوسکتا اسی لئے آپ کی سند کو صحیح قرار دیا گیا ہے اور ابن سعد نے بھی اسے امام زین العابدین کو کثیر الحدیث کہا ہے کہ جب امام زین العابدین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں تو آپ سے زیادہ آپ کے زمانے میں دوسرے کسی شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا علم نہیں ہو سکتا۔ محدث زہری کے پاس جو حدیث رسول کے علم کی فراوانی تھی وہ بھی اس وجہ سےکہ محدث زہری امام زین العابدین کے شاگردتھے۔ نیزحدیث کے ترتیب و تدوین کا جہاں تک تعلق ہے اس کی ابتداء محدث زہری سے ہوئی۔ چنانچہ علامہ ابن عبدالبر(المتوفی 463 ہجری) جامع بیان العلم میں لکھتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز کے کہنے پر سب سے پہلے جس نے حدیث کی تدوین اور اسے لکھا ہے وہ شہاب زہری ہیں۔ خود زہری کا بیان ہے کہ اس علم میرے مدون کرنے سے پہلے کسی نے نہیں کیا اور جس زمانے میں زہری تدوین حدیث کا سلسلہ کیا تھا وہ ظاہر ہے کی اموی حکومت کا دور تھا چنانچہ  زہری نے کے عبدالملک بن مروان،  ولید بن عبدالملک، سلیمان، عمربن عبدالعزیز، یزید بن عبدالملک اور ہشام بن عبدالملک کے ساتھ اچھے خاصے تعلق تھے۔ ادھر دوسری طرف امام زین العابدین رضی اللہ عنہ واقعہ کربلا کے بعد الگ تھلگ ہوگئے تھے۔ آپ کے پاس لوگ آنے سے حکومت وقت کی وجہ سے بھی گھبراتے تھے۔ محدث زہری کی آمدورفت بھی اسی وجہ سے تھی کہ وہ حکومت وقت کے بادشاہوں کے ساتھ اپنے عقلمندی کی وجہ سے تعلق بحال رکھے ہوئے تھے لہذا امام زین العابدین کے پاس بھی آتے رہتے اور دوسرے لوگ تو حکومت وقت سے خائف تھے کہ اگر ہم امام زین العابدین کے پاس گئے تو ہم بھی زیر عتاب ہو جائیں گے۔

یہ زیادہ ممکن ہےکہ  اس وجہ سے محدثین نے برملا طور پر امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے روایات کم کا ذکر کی ہوں ورنہ جہاں تک ذخیرہ  حدیث کا تعلق ہے وہ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ   کے پاس جتنا تھا اتنا اور کسی کے پاس نہیں تھا، اسی وجہ سے علامہ ابن سعد کہتے ہیں کہ امام زین العابدین  کثیر الحدیث تھے، یعنی آپ کے  حدیث رسول کا ذخیرہ بے شمار تھا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ محدثین وقت نے امام زین العابدین سے روایات حکومت وقت کے خوف کی وجہ سے کم ذکر کی ہوں۔  چنانچہ علماء نے اموی اورعباسی حکومت کر کرتوت ذکر کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ بعض محققین نے کہا ہے کہ ترک المحدثین لفظ الال عند الصلوۃ علی خاتمہ الارسال لغلبۃ الامریہ والعباسیہ لا نھم یمنعون عن ذالک بک یسبرن وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون کہ الصلوٰۃ  پڑھتے وقت محدثین نے خاتم الرسل کی اولاد کو چھوڑ دیا کیونکہ حکومت امویہ اور عباسیہ  کا غلبہ تھا یہ  دونوں حکومتیں آل  (اولاد نبی ) پر درود پڑھنے سے روکتی تھیں بلکہ سب شتم (گالی گلوچ) کرتی تھیں۔ اب جاننا چاہتے ہیں  ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ (نبراس حاشیہ 1/10)

جب یہ لوگ آل رسول  پر درود پڑھنے سے روکتے تھے کہ صرف یہ پڑھو"صلی اللہ علیہ وسلم" اور آل کو  چھوڑ دو تو لوگوں کو آلِ رسول کے پاس جانے سے بھی رکھتے تھے۔ محدث زہری  چونکہ زیادہ سمجھدار تھے لہذا حکومت کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات تھے وہ انکو امام زین العابدین کے پاس حدیث حاصل کرنے کے لیے جانے سے نہ روکتے تھے۔ چونکہ زہری امام زین العابدین کے پاس آتے جاتے اور حدیث رسول حاصل کرتے رہتے اور اور حدیث بایں وجہ  ان کی سند  امام زین العابدین سے تمام سندوں سے صحیح ہے اور ان کی مروی احادیث امام زین العابدین سے تمام حدیثوں سے صحیح ہیں۔   جب امام زین العابدین سے مروی تمام احادیث صحیح ہیں اور ان کی سند تمام سندوں سے صحیح ہے تو ظاہر ہے کہ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کثیرالحدیث تھے اور امام زین العابدین سے روایات کے  کم ہونے وجہ صرف یہ ہےکہ  لوگ حکومت سے وقت کے خوف کی وجہ سے امام زین العابدین سے کم روایتیں کرتے تھے۔

 آپ سے کم روایات ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ امام زین العابدین قلیل الحدیث تھے بلکہ امام زین العابدین کثیر الحدیث تھے۔ بہرصورت ثابت ہوا کہ امام زین العابدین اہل بیت رسول بہت بڑے عالم جلیل القدر تابعی،  کثیر الحدیث اور آپ کی سند تمام اسناد سے صحیح تر اور آپ سے مروی احادیث تمام احادیث سے زیادہ صحیح ہیں۔(امام زین العابدین علیہ السلام/ مفتی غلام رسول جماعتی نقشبندی علیہ الرحمہ صفحہ 59)

امام زین العابدین  علیہ السلا م کا غم و فراق: حافظ ابن کثیرعلیہ الرحمہ  لکھتے ہیں کہ ایک آدمی نے امام زین العابدین کو کہا کہ آپ ہر وقت غم ناک ہی رہتے ہیں اور آپ کے آنسو کبھی خشک نہیں ہوتے؟

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو جواب دیا کہ حضرت یعقوب رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت یوسف رضی اللہ عنہ گم ہوئے تھے (فوت نہیں ہوئے تھے) حضرت یعقوب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں ان کے غم و فراق میں رو رو کر سفید ہوگئیں تھیں۔ میں تو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے گھر کے اٹھارہ افراد دشمن کے ہاتھوں ذبح ہوتے ہوئے دیکھے ہیں میں کیسے غمناک نہ ہوں اور کیسے نہ روؤں  وہ تم دیکھتے نہیں  ان کے غم کی وجہ سے میرے دل کے ٹکڑے ہو رہے ہیں۔  (البدایہ والنہایہ 9/107)

حضرت سید علی  بن عثمان المعروف داتا علی ہجویری گنج بخش   قد س سرہ النورانی لکھتے ہیں کہ جب میدان کربلا  میں حسین بن علی  کو فرزندوں سمیت شہید کر دیا گیا تو سوائے امام زین العابدین کے مستورات کا کوئی پرسان حال نہیں تھا وہ بھی بیمار تھے حضرت حسین ان کو علی اصغر کہا کرتے تھے جب مستورات کو اونٹوں پر برہنہ (ننگے) سر دمشق میں لے کر آئے تاکہ یزید بن معاویہ کے سامنے پیش کریں تو اسی اثنا میں کسی نے کہا اے علی (زین العابدین) اور اہلبیت رحمت عالمین!  تمہاری صبح کیسی ہے امام زین العابدین نے فرمایا ہماری صبح قوم کے ہاتھوں میں ایسی ہے جیسے قوم موسی کی صبح فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھوں میں تھی، ان کے مردوں کو قتل کیا جاتا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھا جاتا تھا، ہمارے لیے صبح و شام کی تفریق ختم ہو چکی ہے یہ ہماری مصیبت کی حقیقت ہے۔     (کشف المحجوب صفحہ 146)

شہادت: 65  ہجری میں مروان بن حکم مر گیا اس کے بعد اس کا بیٹا عبد الملک بادشاہ بنا یہ بہت عقلمند تھا اس کی سیاست بہت سخت تھی اس نے حجاج بن یوسف ثقفی جیسے ظالم حاکم کو لوگوں پر مسلط کیا اور 71 ہجری میں عبدالملک کا مقابلہ امیر عراق مصعب بن زبیر سے ہوا جس میں مصعب بن زبیر مادے گئے پھر 73 ہجری میں عبدالملک نے حجاج بن یوسف کو عبداللہ بن زبیر کے مقابلے کے لیے روانہ کیا، عبداللہ بن زبیر مکہ میں تھے، عراق اور حجاز والوں نے ان کو اپنا بادشاہ مقرر کرلیا لیکن عبداللہ بن زبیر چونکہ سخی نہ تھے لہذا وہ حکومت میں کامیاب نہ ہوسکے حجاج بن یوسف نے مکہ کا محاصرہ کرلیا اور کعبہ شریف پر پتھر برسائے اور عبداللہ بن زبیر کے ساتھی ان کو چھوڑنے لگے آخرکار یہ حجاج بن یوسف کی فوجوں سے لڑتے لڑتے قتل ہوگئے حجاج بن یوسف نے ان کے قتل کی خوشخبری عبدالملک کے پاس بھیج دی۔ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو ظلم کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دی ہوئی تھی لہذا اس نے کوئی جرم و ظلم نہیں چھوڑا جس کا ارتکاب نہ کیا ہو، بلا وجہ لوگوں کا قتل کیا، صحابہ کرام کی توہین کی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گلے میں رسیاں ڈال کر ان کو ذلیل کیا، لوگوں کو بلا گناہ جیل میں ڈال دیا اور حجاج بن یوسف نے عبدالملک کے حکم سے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر کے آپ کے ہاتھ پاؤں میں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا دیں اس نے جتنے ظلم و جرم کیے ان تمام کا براہِ راست ذمہ دار عبدالملک بن مروان ہے جب عبدالملک بیمار ہوا تو اس نے کہا کہ مجھے کسی اونچی جگہ پر بٹھا دو، جب بٹھایا گیا جہاں اس نے تازہ سانس لی پھر کہنے لگا اے دنیا تو کتنی اچھی ہے تیری طویل زندگی بھی دراصل مختصرہے اور تیرا بہت کچھ دیا ہوا بھی تھوڑا ہے بیشک ہم تیرے متعلق دھوکے میں رہے۔

چھیاسی ہجری میں اس کی موت ہوئی اور اس کے بیٹے ولید نے جنازے کی نماز پڑھائی۔ اس کے بعد ولید بن عبد الملک بادشاہ بنا۔ حضرت سیدنا امام زین العابدین اگر چہ گوشہ نشینی کی زندگی بسر فرمارہے تھے  لیکن آپ کے روحانی اقتدار کی وجہ سے بادشاہ وقت ولید بن عبدالملک نے آپ  کو زہر دے دیا۔ علامہ شبلنجی ،علامہ ابن حجر مکی،علامہ ابن صباغ مالکی، علامہ سبط ابن جوزی تحریرفرماتے ہیں کہ ”وان الذی سمہ الولیدبن عبدالملک“ جس نے آپ کوزہردے کر شہیدکیا،وہ ولیدبن عبدالملک خلیفہ وقت ہے۔ ( صواعق المحرقہ 662، البدایہ والنہایہ 9/113، نورالابصار 249)

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام زین العابدین کی وفات 94 ہجری ہے ، ابن صباغ مالکی نے لکھا ہے کہ آپ کی کل عمر شریف ستاون سال تھی اور وفات کا دن اٹھارہ محرم ہے بعض نے کہا کہ 25 محرم ہے۔

عارف باللہ حضرت عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کی شہادت کے بعدآپ کاناقہ(مادہ شتر/اونٹنی)  قبرپرنالہ وفریادکرتاہوا تین روزمیں مرگیااور شہادت کے وقت آپ کی عمر ۵۷ سال کی تھی۔( شواہد النبوت  صفحہ309 )

آپ کی نماز جنارہ حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا جہاں امام حسن رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیاتھا چنانچہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کی قبر کے نزدیک امام زین العابدین بن امام حسین اور امام جعفر صادق بن امام محمد باقر کی قبریں ہے  حقیقت میں تمام آئمہ ایک ہی مقبرہ میں مدفون ہیں۔