اسم
گرامی : آپ علیہ الرحمہ کا اسم گرامی علی احمد آپ کے والد محترم کا اسم
گرامی حضرت سید عبداللہ علیہ الرحمہ اور دادا جان حضرت سید فتح اللہ علیہ الرحمہ آپ
کا تعلق سید گھرانے سے تھا والد محترم سے سید النسب تھے اور والدہ محترمہ سے
فاروقی النسب آپ کی والدہ محترمہ حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کی
ہمشیرہ تھیں۔
شجرہ نسب:آپ
علیہ الرحمہ مستند روایت کے مطابق حضرت
سرکار غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے ہیں۔ شجرۂ نسب یہ ہے:سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید
عبدالرحیم بن سید عبدالوہاب بن غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی۔ والدہ ماجدہ کی طرف سے آپ فاروقی ہیں حضرت گنج شکرعلیہ
الرحمہ کے حقیقی بھانجے اور داماد بھی
ہیں۔
لقب و خطابات:
آپ علیہ الرحمہ کا لقب علاؤالدین ہے آپ کے خطابات مخدوم اور
صابر ہیں ۔منقول ہے کہ آپ کے ماموں حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ
نے آپ کو صابر کے خطاب سے نوازا ۔
ولادت
باسعادت : آپ کی ولادت 19 ربیع الاول شریف 592ہجری
کو ہرات افغانستان میں ہوئی۔منقول ہے کہ آپ کی ولادت سے قبل آپ کی والدہ محترمہ کے
خواب میں حضرت سرور کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور
فرمایا ہونے والے بچے کا نام احمد رکھنا ایک رات کے بعد حضرت سیدنا علی المرتضی
کرم اللہ وجہہ خواب میں تشریف لائے اور آپ کی والدہ کو ہدایت کی کہ اس بچے کا نام
علی رکھنا اس لئے آپ کا اسم مبارک علی احمد رکھا گیا ۔
منقول ہے کہ آپ علیہ
الرحمہ جب چار سال کے ہوئے تو گفتگو شروع کر دی پہلا لفظ جو زبان حق سے صادر ہوا
وہ تھا لا موجود الاللہ یعنی اللہ کے سوائے کوئی موجود نہیں ۔
منقول ہے کہ بچپن میں ایک
دفعہ آپ علیہ الرحمہ پر ایسا وقت آیا کہ آپ نے رات کو چار پائی پر سونا بھی ترک کر
دیا دن کو جنگلوں میں چلے جاتے اور وہاں یاد الہی کرتے اور تمام تمام رات عبادت
میں گذار دیتے کئی روز گوشہ تنہائی میں بسر کرتے کسی کو اپنے پاس تک نہ آنے دیتے
اور نہ کچھ کھاتے نہ کچھ پیتے تھے جب بھوک کا زیادہ غلبہ ہوتا تو اپنی والدہ سے
کوئی چیز کھانے کےلئے طلب کرتے تھے
آپ علیہ الرحمہ کی عمر
مبارک جب پانچ سال ہوئی تو شفیق والد محترم کا وصال ہوگیا ۔
آپ علیہ الرحمہ نے سات
سال کی عمر میں باقاعدہ نماز پڑھنا شروع کی جو نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا
فرماتے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم ہرات میں حاصل کی سب سے پہلے قرآن مجید پڑھا بعد
میں عربی اور فارسی پڑھنا شروع کی اور تھوڑے عرصہ میں عربی اور فارسی کی تعلیم
مکمل کر لی ۔
جب آپ علیہ الرحمہ نے
ابتدائی تعلیم کی تکمیل کی تو آپ علیہ الرحمہ کی والدہ محترمہ نے آپ کو مزید تعلیم
حاصل کرانے کےلئے اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ سے
رجوع کیا۔
منقول ہے کہ 601ہجری کو آپ اجودھن (پاکپتن شریف) تشریف لائے ۔جب آپ علیہ
الرحمہ کی عمر مبارک گیارہ سال ہوئی تو 25 شوال بروز جمعرات بعد نماز عصر 603ھ کو
اپنے حقیقی ماموں حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کے دست اقدس پہ
مرید ہوئے ۔اور انہی سے ہی خرقہ خلافت حاصل کیا ۔کچھ عرصہ تک آپ علیہ الرحمہ کی
والدہ صاحبہ اجودھن (پاکپتن) شریف میں رہیں پھر اپنے وطن جانے کا ارادہ کیا تو
اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کو عرض کی بھائی میرا بیٹا
علی احمد کھانے پینے میں خیال نہیں کرتا آپ نے اس کا بھرپور خیال رکھنا ہے۔
حضرت بابا فریدالدین
مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے جب سنا تو فرمایا علی احمد کو بلایا جائے جب آپ حاضر
ہوئے تو حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے فرمایا آج سے لنگر کے
تمام انتظامات تمہارے سپرد کرتے ہیں یہ سن کر آپ کی والدہ صاحبہ اطمینان میں آ
گئیں اور اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کا شکریہ ادا
کیا اور اجودھن (پاکپتن) شریف سے رخصت ہوگئیں ۔
آپ علیہ الرحمہ روزانہ لنگر شریف تقسیم کرتے مگر خود کچھ نہ
کھاتے لنگر شریف تقسیم کرنے کے بعد اپنے حجرے میں تشریف لے جاتے خوب عبادت کرتے
اگر بھوک کا غلبہ آتا تو جنگل میں تشریف لے جاتے جنگل میں پتوں وغیرہ سے گذارا
کرتے اور عبادت میں مشغول ہوجاتے ۔
کئی سالوں کے بعد آپ علیہ
الرحمہ کی والدہ صاحبہ اجودھن (پاکپتن) شریف تشریف لائیں آپ علیہ الرحمہ کی جسامت
انتہائی دبلا پتلا دیکھ کر بہت پریشان ہوئیں اور اپنے بھائی حضرت بابا فریدالدین
مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کو عرض کی میرا بیٹا بہت کمزور ہو چکا ہے۔
حضرت بابا فریدالدین
مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ حضرت مخدوم علی احمد صاحب کو بلایا اور حضرت علاؤالدین
علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا تو آپ علیہ الرحمہ نے جواب دیا آپ
نے تقسیم لنگر ہی کا مجھے حکم دیا تھا یہ کب فرمایا تھا کہ اس میں سے کھا بھی لینا
یہ جواب سن کر ماموں پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ علیہ الرحمہ نے شفقت سے
فرمایا '' علاؤالدین صابر است '' اور اسی وقت سینے سے لگا کر خدا جانے کیا کیا عطا
فر ما دیا اس کے علاوہ بھی آپ علیہ الرحمہ کے مجاہدے اور کرامتیں اس درجہ شدید صبر
آزما تھیں کہ انہیں سن کر حیرت ہوتی ہے کثرت مجاہدہ اور فاقوں سے آپ کی طبیعت میں
بہت ہی قہر و جلال پیدا کر دیا تھا۔
ایک دن آپ علیہ الرحمہ کی والدہ نے حضرت با با فرید الدین
مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کوآپ علیہ الرحمہ کی بیٹی سے علاؤالدین صابر کلیری علیہ الرحمہ کی شادی کی بات کی توبا
با فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ علاؤالدین صابر کلیری علیہ الرحمہ کو شادی اور بیوی کا ہوش
نہیں ہے لیکن بہن نہیں مانیں اور بھائی سے رشتے پر اصرار کرتی رہیں آخر با با فرید
علیہ الرحمہ نے بہن کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنی بیٹی خدیجہ بیگم کے ساتھ
حضرت علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ کا نکاح پڑھا دیا آپ علیہ الرحمہ
نے دلہن کو اپنے حجرہ میں دیکھا تودریافت کیاتم کون ہو؟
خدیجہ بیگم نے جواب دیا :آپ
کی بیوی ہوں ۔
آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا
:جب ہم خدا کے ہو چکے تو پھر ہمیں غیر کی کیا ضرورت رہی اور جب آپ علیہ الرحمہ نے
نظر ڈالی تو دلہن کے جسم میں آگ لگ گئی صبح کو ماں آئی تو بہو کو راکھ دیکھ کر غصے
میں کہا کہ میں تمہارے ماموں کو کیا جواب دونگی انہیں بھی فورا بخار آگیا اور کچھ
روز بعد وصال فرماگئیں۔
اس کے بعد آپ علیہ الرحمہ
جو حجرے میں داخل ہوئے تو پورے نو سال اندر ہی رہے اور باہر نہیں نکلے نہ کچھ کھا
یا پیا نو برس کے بعد حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ جب حضرت
مخدوم علیہ الرحمہ کے حجرے میں صبح کے وقت گئے تو دیکھا کہ آپ استغراق کے عالم میں
بے حس و حرکت بیٹھے ہیں آپ کے کان میں سات مرتبہ الا اللہ بلندآواز سے کہا توہوش
میں آ گئے اور مرشد کو سامنے دیکھ کر قدم چومے اور آداب بجا لائے حضرت با با فرید
الدین مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ نے آپ کو با ہر لا کر خرقہ خلافت عطا کیا اور سند
لکھی اور اسم اعظم کی تعلیم دی۔
حضرت با با فرید الدین
مسعود گنج شکرعلیہ الرحمہ نے آپ علیہ الرحمہ کو دہلی کے لئے متعین کیا اور فر ما
یا پہلے ہانسی جا کر اپنے بھائی جمال سے اس پر مہر ثبت کرا لینا جب آپ علیہ الرحمہ
سند لے کر ہانسی پہنچے تو حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ نے نہایت محبت
اور احترام سے آپ کی مہمان نوازی فرمائی اور پیر روشن ضمیر با با فرید الدین
مسعودگنج شکر علیہ الرحمہ کے حالات صحت اور معلومات کی متعلق گفتگو کرتے رہے اسی
دوران مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہو نے کے بعد حضرت مخدوم صابر
کلیری علیہ الرحمہ نے دہلی کی خلافت کے لئے حضرت با با فرید الدین مسعود گنج شکرعلیہ
الرحمہ کی سند خلافت حضرت جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ کو پیش کی اور فر ما یا
کہ آپ اس پر مہر ثبت کر دیجئے اسی وقت چراغ گل ہو گیا تو جمال الدین ہانسوی علیہ
الرحمہ نے فر ما یا بھائی چراغ گل ہو گیا ہے۔ صبح مہر ثبت کردونگا لیکن آپ علیہ
الرحمہ نے فر ما یا نہیں دوسرا چراغ منگوا کر اسی وقت مہر لگا دیجئے جمال الدین
ہانسوی نے دوسرا چراغ منگوایا ابھی آپ مہر لگوانا ہی چاہتے تھے کہ دوسرا چراغ بھی
گل ہو گیا اب آپ صبح مہر لگوا لینا۔
اسی وقت آپ علیہ الرحمہ نے اپنی انگلی پر دم کیا تو انگلی
روشن ہو گئی آپ نے جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ سے فرمایا اب آپ مہر ثبت کر
دیجئے حضرت جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ نے یہ رنگ دیکھاتو حضرت علاؤالدین صابر
کلیری علیہ الرحمہ کی سند چاک کر دی اور فرما یا تمہارے دم مارنے کی تاب دہلی میں کہاں
تم تو ایک دم مارتے ہی دہلی کو جلا کر خاک کر دو گے جواباً حضرت مخدوم علاؤالدین
صابر کلیری علیہ الرحمہ نے حالت جلال میں فر ما یا کہ آپ نے میری سند خلافت چاک کی
ہے میں نے آپ کا سلسلہ چاک کردیا اور اجودھن جا کر حضرت با با فرید الدین مسعود
گنج شکرعلیہ الرحمہ کو ساری تفصیل گوش گزار کی۔
حضرت با با فرید الدین
مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے دوسری سند لکھ کر فر ما یا میں کلیر شریف کاعلاقہ
تمہارے سپرد کر تا ہوں وہاں تکبرو غرور اور گمراہی کا ایک طوفان عظیم بر پا ہے
وہاں پہنچ کر خلق خدا کو ہدایت کرو اور اسلام کو تقویت پہنچاؤ۔ کلیر اس عہد میں
عظیم الشان با رونق شہر تھا امیر کلیر نے آپ کو شاہ ولایت تسلیم کر لیا مگر قاضی
شہر نے ور غلایا کہ یہ جادو گرہے آپ علیہ الرحمہ نے سن کر فر ما یا اس طرح آج رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس فقیر عاصی کے حق میں تازہ ہو ئی ہے یہ فر ما کر
وہاں سے واپس چلے آئے۔
آپ علیہ الرحمہ نے حضرت
با با فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کو خط ارسال کیا یہاں تو میں اطمینان
قلب نماز اول کے ثواب سے بھی محروم ہو گیا ہوں حضرت با با فرید الدین علیہ الرحمہ نے
صبر کی تلقین فرمائی لیکن علماء و امراء کے غرور و تکبر کاوہی حال رہا آپ علیہ
الرحمہ نے مرشدحق کو خط بھیجا حضرت با با فرید علیہ الرحمہ نے آپ کو لکھا کہ شہر
کلیر تمہاری بکری ہے تمہیں اختیار ہے خواہ اس کا دودھ پیو یا اس کا گوشت کھاؤیہ
جواب پا کر آپ علیہ الرحمہ جمعہ کے روز جامع مسجد میں گئے امراء شہر نے آپ علیہ
الرحمہ کو مسجد سے نکال دیا آپ علیہ الرحمہ نے غضب ناک ہو کر فرما یا ظالمو! تم
اللہ کے گھر میں بھی امتیازات پیدا کرتے ہو اور یہاں بھی بندہ بن کر نہیں آتے ہو
لیکن کسی نے پرواہ نہیں کی آخر امام نے جب خطبہ ختم کیا تو آپ علیہ الرحمہ نے جلا
ل میں آ کر مسجد کو مخاطب کیا اور فر ما یا کہ اب تو بھی سجدہ کر لے یہ فر ماتے ہی
عظیم الشان مسجد فورا ہی زمین بوس ہو گئی اہل کلیر گھبرائے ہوئے آپ علیہ الرحمہ کے
پاس آئے تو آپ علیہ الرحمہ نے فر ما یا میں تو اللہ سے ویرانی کلیر کی دعا مانگ
چکا ہوں اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔
بہت سے افراد تو جامع
مسجد میں دب کر ہلاک ہو گئے اس کے بعد شہر میں طاعون پھیل گیا جس نے تمام شہر کو
ویران کر دیا ہزاروں مر گئے اور جو بچے وہ جنگلوں اور پہاڑوں پر بھاگ گئے آپ نور
العارفین حضرت با با فرید مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کے جانشین تھے اور صابری
سلسلہ آپ ہی سے جاری ہے حضرت شیخ علاؤالدین علی احمد صابر علیہ الرحمہ کو سماع کا
بہت ذوق تھا اور وہ اکثر سے سنا کر تے تھے یہاں تک کہ آپ علیہ الرحمہ کاوصال بھی
عین حالت سماع ہی میں ہوا آپ میں جذبہ الہی حد سے زیادہ تھا زبان مبارک سے جو بھی
نکل جاتا وہ پورا ہو جاتا دنیا اور دنیا والوں سے انہیں کوئی غرض نہ تھی ان سے وہ
دور بھاگتے تھے اور ہمیشہ ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے۔
ایک مرتبہ حضرت شیخ نظام
الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے مریدوں میں سے ایک شخص حضرت علاؤالدین علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ کی خدمت میں
حاضر ہوا اور بو لا کہ آپ نے حضرت شیخ شمس الدین ترک پانی پتی علیہ الرحمہ کے
علاوہ کس کو اپنا مرید اور خلیفہ نہیں بنا یا اور میرے پیر و مرشد حضرت شیخ نظام
الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے آسمان پر ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ اپنے مرید
بنائے ہیں آپ علیہ الرحمہ نے جواب دیا کہ میرا شمس (علیہ الرحمہ ) ہی کافی ہے جو
اللہ کے فضل سے سارے ستاروں پر غالب ہے وہ شخص خاموش رہا اور دہلی آ کر اس نے حضرت
شیخ المشائخ علیہ الرحمہ سے یہ واقعہ بیان کیاحضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ نے
فرمایا کہ تم نے حضرت (علیہ الرحمہ )کو کیوں رنجیدہ کیا آئندہ ایسی حرکت نہیں ہو
نی چاہئے بے شک انہوں نے جو کچھ فرمایا صحیح ہے وہ مقرب بارگاہ ربانی ہیں۔
منقول ہے کہ حضرت بابا
فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے آپ کو شہر کلیر شریف کا شاہ ولایت مقرر
فرما کر اپنے دست مبارک سے ایک حکم نامہ تحریر فرمایا حضرت بابا صاحب نے 15
ذوالحجہ 652ہجری علیم اللہ ابدال کی معیت
میں جانب کلیر روانہ فرمایا ۔کلیر شریف پہنچ کر آپ نے اسلام کی خوب تبلیغ فرمائی ۔
آپ علیہ الرحمہ کا وصال 13 ربیع الاول شریف 690ہجری
بروز پنجشنبہ کو ہوا بعض روایات 694 ہجری
کی بھی مرقوم ہیں ۔آپ کا مزار اقدس کلیر شریف انڈیا میں ہے ۔
( تذکرہ حضرت علی احمد صابر علیہ الرحمہ /
تذکرہ اولیائے پاک و ہند / تذکرہ جلیل)
.jpg)

