صوفیوں اور پیغمبروں کا شہر ایودھیا

چینی سیاح ہیوین سانگ 7ویں صدی میں راجہ ہرش وردھن کے عہد حکومت میں ہندوستان آیا تھا۔ وہ ایودھیا بھی گیا۔اس نے اپنے سفرنامہ میں لکھا ہے کہ "ایودھیا میں ایک سو وہار ہیں اورکئی ہزار پجاری ہیں۔" ایودھیا ماضی میں بدھسٹوں اور ہندووں کے لئے ہی نہیں مسلمانوں کے لئے بھی متبرک شہر رہا ہے۔تاریخی روایات کے مطابق یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے اور یہ انبیاء و اولیاء کا مسکن رہا ہے۔ مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے درباری محقق ابوالفضل نے "آئین اکبری" میں لکھا ہے کہ "شہر کے نزدیک چھ سات گز لمبی دوقبریں ہیں جنہیں عوام شیث وایوب پیغمبر کا مدفن بناتے ہیں اور ان کے تعلق عجیب وغریب قصے سناتے ہیں۔"۔ابوالفضل نے مزید لکھا ہے کہ ایودھیا کو مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔

ایودھیا یعنی حرم : لفظ "ایودھیا" کا مطلب ہوتا ہے"وہ مقام جہاں یدھ (لڑائی)نہ ہو"۔ یہی مطلب لفظ "حرم"کا بھی ہے۔ شہرمکہ کے تعلق سے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہاں جنگ وجدال حرام ہے اور چیونٹی تک کو نہیں مارسکتے۔ ایودھیا اور مکہ میں یہ مناسبت محض اتفاقی نہیں ہے، ضرور اس کا تعلق انبیا سابقین سے ہے۔ اسے"مکہ خرد" یعنی چھوٹا مکہ بھی کہاجاتا رہا ہے۔ جہاں رامائن کی روایتوں میں اس شہر کا بانی "منو" کو قرار دیا جاتا ہے، وہیں مسلم روایتوں میں "نوح" کو شہر کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں "منو" ہی "مہانوح" ہیں۔

صوفیوں کا شہر:ایودھیا "شہرِانبیاء" ہے یا نہیں؟ یہ سوال محل نظر ہے مگر یہ "شہراولیاء"ہے،اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ثبوت کے طور پر آپ یہاں گلی گلی میں پھیلی درگاہوں کو دیکھ سکتے ہیں۔یہاں جن بزرگوں کی پیدائش یا موت ہوئی ان میں نمایاں نام ہیں قاضی قدوۃ الدین، شیخ فریدالدین اودھی،شیخ بدرالدین اودھی، قاضی محی الدین کاشانی، شیخ تقی الدین علم بخش، شیخ شمس الدین اودھی، شیخ جلال الدین اودھی، مولانا قوام الدین اودھی، مولانا جمال الدین اودھی، علامہ کمال الدین اودھی، شیخ نصیرالدین اودھی، شیخ علاء الدین نیلی، شیخ زین الدین علی اودھی، شیخ شمس الدین علی اودھی، شیخ فتح اللہ اودھی،شیخ سعداللہ اودھی، شیخ جمال گوجری، شیخ صدرالدین اودھی، قاضی شہاب الدین ، سیدسلطان موسیٰ عاشقان،شیخ میاں بن حکیم، شیخ محمد درویش، شیخ علاء الدین حسینی، شیخ ،عاشق شاہ اودھی،سید شاہ صفدرحسین، حکیم محمد اسلم اودھی، شیخ عبدالحق اودھی وغیرہ۔ ان میں کئی حضرات کا تعلق سیدھے طور پر محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء سے تھا۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایودھیا کے نام پر خواہ پورے ملک میں فرقہ وارانہ سیاست ہوئی مگر ایودھیا آج بھی سیکولر ہے اور یہاں کے باشندے رواداری، قومی ہم آہنگی اور انیکتا میں ایک ایکتا کی مثال ہیں۔ یہاں آج بھی مزارات اور مساجد کی رکھوالی کرنے والوں میں بڑی تعداد ہندووں کی ہے۔

پیغمبروں کی قبریں

حضرات شیث و ایوب کی قبریں ایودھیا میں ریلوے اسٹیشن کے پیچھے ایک احاطے کے اندر واقع ہیں۔ احاطے کے پاس ایک ٹیلہ بھی ہے جسے منوپربت کہتے ہیں۔ راقم الحروف کو 1987 میں دومرتبہ یہاں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔اس مقام پر پہنچ کر انتہائی سکونِ قلب کا احساس ہوتاہے اور دل میں سوزوگداز کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ 

حضرت شیث علیہ السلام ، ابوالبشر آدم علیہ السلام کے بیٹے تھے اور نسل انسانی، صرف شیث کے ذریعے ہی آگے بڑھی۔ ان کا زمانہ ماقبل تاریخ کا ہے لہٰذا حتمی طور پر ان کی قبر کی نشاندہی ممکن نہیں۔ یہی بات حضرت ایوب کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے مگر مورخین اور سیر نویسوں میں یہ بات مشہور چلی آرہی ہے کہ ان بزرگوں کی قبریں ایودھیا میں ہیں۔ 

آئین اکبری میں ابوالفضل نے، خلاصۃ الاحادیث میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے خلاصۃ الوقائع میں علامہ شہاب الدین دولت آبادی نے اور تواریخ انبیاء میں منشی سرفراز خان دہلوی نے یہ بات لکھی ہے۔ علاوہ ازیں دوسرے لگ بھگ ایک درجن مورخین اور مصنفین نے بھی ایودھیا میں انبیاء کرام کی قبروں کی موجودگی کی بات کہی ہے۔  ایودھیا میں ایک انتہائی لمبی قبر کوتوالی کے پیچھے ایک احاطے میں ہے جسے نوگزی قبر کہتے ہیں، اسی مناسبت سے اس محلے کو بھی نوگزی محلہ کہتے ہیں۔ راقم الحروف کو یہاں حاضری کا موقع ملا اور قبر کو ہاتھ سے ناپ کر دیکھا تو اس کی طوالت لگ بھگ تیس ہاتھ پائی۔ یہاں سالانہ عرس ہوتا ہے۔ تاریخی کتابوں میں اس قبر کا ذکر موجود ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے نوح علیہ السلام کے بیٹے ہند کی قبر قرار دیا ہے تو بعض کا ماننا ہے کہ یہاں کشتی نوح کے ٹکڑوں کو دفن کیا گیا تھا۔ بہرحال یہ معاملہ بھی قبل از تاریخ کا ہے لہٰذا یقینی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔

خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ کے خلیفہ کی قبر:دہلی میں مسلم سلطنت کے قیام کے وقت سنٹرل ایشیا کے جو صوفیہ ہندوستان آئے ان میں معروف نام خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کا ہے مگر کم لوگ جانتے ہیں کہ اسی عہد میں ایک اور بزرگ ہندوستان آئے جو آپ کے پیر بھائی تھے۔ خواجہ صاحب علیہ الرحمہ نے تو اجمیر میں قیام کیا مگر ان کے پیربھائی نے ایودھیا کو مسکن بنایا۔ یہ بزرگ تھے قاضی قدوۃ الدین جو خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے۔ان کی قبر زیرتعمیر رام مندر کے سامنے ہے جہاں کبھی بابری مسجد واقع تھی۔ قاضی صاحب کی اولاد پورے علاقے میں پھیلی اور پچاس سے زیادہ گاؤوں آباد ہوئے۔ ان کی اولاد کے لوگ قدوائی کہلاتے ہیں۔ قاضی صاحب کے بارے میں تفصیلات نزہۃ الخواطر میں ہیں۔

 چراغ دہلی ایودھیا کے تھے : دہلی میں مدفون کئی صوفیہ اور بزرگوں کا تعلق ایودھیا سے تھا جن میں حضرت نظام الدین اولیاء کے خلیفہ و جانشیں شیخ نصیرالدین چراغ دہلی بھی شامل ہیں۔ شیخ کی ابتدائی زندگی ایودھیا میں گزری، جوانی میں دہلی آئے مگر اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لئے ایودھیا جاتے رہتے تھے۔ شیخ کی بہن کی قبر شہر میں موجود ہے اور "بڑی بوا" کی درگاہ کے نام سے مشہور ہے۔

ایودھیا میں جن اولیا وصوفیہ کی درگاہیں آج بھی موجود ہیں، ان میں ایک درگاہ خلیفہ نظام الدین اولیاء بھی ہے جو مزار شیث سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔ ان کے بارے میں زیادہ جانکاری کتابوں میں نہیں ملتی بس عوام میں یہ مشہور ہے کہ مرحوم، نظام الدین اولیا کے خلیفہ تھے۔

ایودھیا کی درگاہیں : درگاہ پاتی شاہ، سری رام اسپتال کے قریب واقع ہے جہاں ماضی میں خانقاہ ، قبرستان بھی ہوا کرتے تھے مگر اب صرف ایک مسجد بچی ہوئی ہے۔ 

درگاہ شاہ ابراہیم بھی مشہور ہے۔ مغل عہد کے اس صوفی کا عرس رجب مہینے میں ہوتا ہے جس میں بڑی تعداد میں ہندوومسلمان شریک ہوتے ہیں۔عوام کا عقیدہ ہے کہ یہاں چالیس دن آنے والے کی دعائیں بارگاہ الٰہی میں قبول ہوتی ہیں۔

محلہ شاہ مدار میں شاہ علی اکبر چشتی کی درگاہ ہے جو عہد آصف الدولہ میں تھے اور نواب کے ہمنوا تھے۔اسی کے قریب پیرکشائی کی درگاہ ہے جن کے بارے میں مشہورہے کہ سیدسالار مسعود غازی کے استاد تھے۔ ہنومان گڑھی محلہ میں شاہ بدیع الدین کی درگاہ ہے جو عہد عالمگیری کے صوفی تھے۔ یہ رہنے والے جونپور کے تھے مگر ایودھیا چلے آئے تھے اور یہیں انتقال فرمایا تھا۔ 

ایودھیا کوتوالی کے پیچھے ایک درگاہ ہے جو تین درویشوں کی درگاہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس مقبرے میں تین قبریں ہیں مگر تینوں درویشوں کے بارے میں کوئی جانکاری موجود نہیں ہے۔ 

ایک مقبرہ بجلیا شہیددرگاہ کے نام سے مشہور ہے۔ صاحب مزارکے حالات زندگی زیادہ نہیں معلوم مگر نام زین العابدین بتایا جاتاہے۔یہاں سے کچھ فاصلے پر ایک مسجد بھی ہے جس کے صحن میں ایک قبر ہے،اسے بھی کسی پیغمبر کی قبر بتایا جاتا ہے۔  محلہ قضیانہ میں مسجد کے سامنے شاہ جلال کا مزار ہے۔ ان بزرگ کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں ہے مگر بعض محققین کا خیال ہے کہ آنجناب، محبوب الٰہی نظام الدین اولیا کے خلیفہ تھے۔

ایودھیا میں جہاں بزرگوں کے مزارات ہیں ، وہیں کسی زمانے میں خانقاہیں بھی تھیں۔ یہاں شاہ فتح اللہ کی خانقاہ تھی۔ اس سے متصل شاہ مظفر کی خانقاہ تھی جو عہد عالمگیری کے بزرگ تھے۔ روایات کے مطابق اورنگ زیب عالمگیر کے حکم سے یہاں ایک مسجد تعمیر ہوئی تھی۔ مسجد آج بھی موجود تھے اور یہیں شاہ مظفر کی قبربھی ہے۔ان کے علاوہ بھی ایک درجن درگاہیں ایودھیا میں موجود ہیں جبکہ بہت سی درگاہوں اور خانقاہوں کے نام ونشان مٹ چکے ہیں۔( بشکریہ غوث سیوانی،نئی دہلی)

 

میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے جواز میں بزرگانِ دین اور ائمہ کی فہرست

میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے جواز، استحباب اور اس کی برکات کے قائل و داعی اولیائے کرام، ائمہ اور علمائے امت کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ذیل میں امت مسلمہ کے 150 جلیل القدر بزرگانِ دین، اولیاء اور ائمہ کی فہرست، ان کی کتب کے نام اور ان کے واضح موقُف یا عبارات کا خلاصہ و متن پیش ہے:

ائمہ ہند و حجاز کے جلیل القدر بزرگان

1.   غوث الاعظم محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ ( غنیۃ الطالبین)حضور ﷺ کی شبِ ولادت کا مقام و مرتبہ دیگر بابرکت راتوں پر فوقیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں سید المرسلین ﷺ کی ذاتِ بابرکت اس دنیا میں جلوہ گر ہوئی۔

2.    امام حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فتح الباری / فتاویٰ ابن حجر)عملِ میلاد کی اصل سنت سے ثابت ہے، جیسا کہ روزِ عاشورا کا روزہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ولادت پر شکرِ الٰہی بجا لانا مستحسن ہے۔

3.   امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ (حسن المقصد فی عمل المولد)عمل المولد الذي هو اجتماع الناس وقراءة ما تيسر من القرآن... هو من البدع الحسنة التي يثاب عليها صاحبها۔" ترجمہ: محفلِ میلاد جس میں لوگ جمع ہوں اور قرآن و سيرت کا ذکر ہو، بدعتِ حسنہ ہے اور اس پر ثواب ملتا ہے۔

4.    شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ (ما ثبت من السنۃ) اہلِ اسلام ہمیشہ سے ولادتِ باسعادت کے مہینے میں محافل کا انعقاد کرتے آئے ہیں، صدقات دیتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں، یہ عمل مجرب البرکہ ہے۔"

5.   شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ (فیوض الحرمین) مکہ مکرمہ میں مولدِ نبی ﷺ کی جگہ پر حاضری کے موقع پر فرمایا کہ میں نے وہاں انوار و برکات کو نازل ہوتے بچشمِ خود دیکھا۔

6.    مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ (مکتوباتِ امام ربانی) اگر محفلِ میلاد شریعت کی حدود میں ہو۔جس میں قرآن خوانی، نعت خوانی اور معجزاتِ نبوی کا ذکر ہو۔تو یہ نہایت مبارک اور باعثِ خیر و برکت ہے۔

7.    امام ابن حجر ہیتمی مکی علیہ الرحمہ (الفتاویٰ الکبریٰ الفقیہ) المواليد والأذكار التي تفعل عندنا... غالبها مشتمل على خير كصدقة وذكر وصلاة وسلام." ترجمہ: ہمارے ہاں جو میلاد اور اذکار منعقد ہوتے ہیں، ان کی اکثریت خیر، صدقہ، ذکر اور درود و سلام پر مشتمل ہوتی ہے۔

8.   امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی علیہ الرحمہ (سبل الہدیٰ والرشاد) ہر دور میں مسلمان میلاد النبی ﷺ کے موقع پر خوشی کا اہتمام کرتے رہے ہیں اور اس سے تمام مقاصد میں خیر حاصل ہوتی ہے۔

9.    امام ابو شامہ مقدسی علیہ الرحمہ: استاد امام نووی علیہ الرحمہ (الباعث علی انکار البدع) وكان من أحسن ما ابتدع في زماننا... ما يفعل كل عام في اليوم الموافق ليوم مولده صلى الله عليہ وسلم من الصدقات والمعروف." ترجمہ: ہمارے زمانے کی بہترین نیکیوں میں سے ہر سال آپ ﷺ کے دنِ ولادت پر صدقہ، معروف اور خوشی کا اظہار کرنا ہے۔

10.       شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ (فتاویٰ عزیزی)ربیع الاول کے مہینے میں محفلِ میلاد کا انعقاد اور لوگوں میں شیرینی و طعام کی تقسیم باعثِ خیر و برکت عمل ہے۔

متقدمین و متاخرین ائمہ و صوفیاء

11.         امام قسطلانی شارحِ بخاری علیہ الرحمہ (المواہب اللدنیۃ) لا زال أهل الإسلام يحتفلون بشهر مولده صلى الله عليه وسلم..." ترجمہ: اہلِ اسلام کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ وہ ولادت کے مہینے میں جشن مناتے ہیں۔

12.          امام شمس الدین سخاوی علیہ الرحمہ (التبرک بالتوسل والمولد) میلاد الشریف پر خوشی کا اظہار اور اطعام تمام قرون میں مسلمانوں کی عادت رہی ہے۔

13.         امام ابن جوزی علیہ الرحمہ (المولد العروس) من خواص المولد النبوي الشريف أنه أمان في ذلك العام..." میلاد شریف کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ اس کا انعقاد اس سال کے لیے امان کا باعث ہے۔

14.          علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ (رد المحتار علی الدر المختار) محفلِ میلاد میں تعظیمِ رسول ﷺ اور نعت خوانی کا اجتماع مستحسن ہے۔

15.         ملا علی قاری علیہ الرحمہ (المورد الروی فی المولد النبوی) ميلاد کی اصل ذکرِ الٰہی، درود و سلام اور اطعامِ طعام پر مبنی ہے، جو بالکل جائز ہے۔

16.          امام شمس الدین ابن الجزری علیہ الرحمہ (التعریف بالمولد الشریف) حضور ﷺ کی ولادت کا دن مؤمنین کے لیے عید اور خوشی کا دن ہے۔

17.          علامہ زرقانی شارح مواہب علیہ الرحمہ (شرح المواہب) میلاد پر فرحت و سرور کا اظہار مستحب اور سنّتِ شکر ہے۔

18.         شاہ عبدالرحیم دہلوی علیہ الرحمہ (الدر الثمین) ہر سال میلاد کے دن اطعام کا اہتمام فرماتے اور برکات کا مشاہدہ کرتے۔

19.          شیخ یوسف بن اسماعیل نبہانی علیہ الرحمہ (جواہر البحار) ذکرِ ولادتِ نبوی کو سننا اور خوشی منانا قلبی ایمان کی علامت ہے۔

20.          امام ابو العباس عزفی علیہ الرحمہ (الدر المنظم) انہوں نے میلاد النبی ﷺ کے فضائل پر مستقل کتاب تصنیف فرمائی۔

21.          خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ (دلیل العارفین) مجلسِ ذکرِ مصطفیٰ ﷺ باعثِ رفعت و برکت ہے۔

22.          خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ (فوائد السالکین) حضور ﷺ کے ذکرِ پاک پر مشتمل محافل سالک کے لیے روحانی ترقی کا ذریعہ ہیں۔

23.          خواجہ فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ (راحت القلوب) نبی اکرم ﷺ کا ذکرِ مبارک روح کی غذا ہے۔

24.          شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ (فوائد الفواد) میلاد و نعت کے اجتماعات سے قلوب کو جلا ملتی ہے۔

25.          شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی علیہ الرحمہ (خیر المجالس) رسول پاک ﷺ کے ایام کی تعظیم صوفیاء کا طریقہ ہے۔

26.          میر سید علی ہمدانی علیہ الرحمہ (اورادِ فتحیہ) میلاد و درود کے وظائف ولایت کا زینہ ہیں۔

27.          شیخ بهاء الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمہ (اورادِ سہروردیہ) ایامِ ولادت میں خیرات و ذکرِ نبی ﷺ مسنون و مستحسن ہے۔

28.          شیخ شرف الدین بوعلی شاہ قلندر علیہ الرحمہ (مکتوبات) عشقِ رسول ﷺ میں ذکرِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا انعقاد۔

29.          شیخ جلال الدین سرخ پوش بخاری علیہ الرحمہ (ملفوظات) محفلِ میلاد کا انعقاد تعظیمِ نبی کا حصہ ہے۔

30.          غوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ (لطائفِ اشرفی جامع و مرتب: شیخ الاسلام حضرت حاجی سید نظام الدین یمنی علیہ الرحمہ ) اہلِ معرفت اور اولیائے کرام کا یہ دائم معمول رہا ہے کہ وہ ماہِ ربیع الاول میں محافلِ میلاد کا اہتمام کرتے ہیں، ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی مجلسیں سجاتے ہیں، شکرانہِ نعمت کے طور پر صدقات و خیرات اور طعام کا انتظام کرتے ہیں، اور اس مبارک عمل کو برکت و قربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔"( لطیفہ نمبر 29 ذکرِ ولادتِ باسعادت اور فضائلِ ایامِ ربیع الاول/فارسی متنِ لطائف: جلد دوم، صفحہ 230 - 232 )

31.         خواجہ معصوم سرہندی علیہ الرحمہ (مکتوباتِ معصومیہ) محفلِ میلاد اگر حدودِ شرعی میں ہو تو خیر و برکت ہے۔

32.          امام نسفی علیہ الرحمہ (مدارک التنزیل) رحمتِ الٰہی پر خوشی منانے کا شرعی حکم میلاد پر بھی منطبق ہے۔

33.         ملا احمد جیون امیتھوی علیہ الرحمہ (التفسیرات احمدیہ) جشنِ میلاد باری تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت پر شکر کا اظہار ہے۔

34.          شاہ فخر الدین دہلوی علیہ الرحمہ (فخر الحسنات) ربیع الاول میں میلاد خوانی کو اپنا باقاعدہ معمول بنایا۔

35.         خواجہ سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ (نافع السالکین) ایامِ میلاد میں ختم اور اطعام کا انعقاد۔

36.          خواجہ شمس الدین سیالوی علیہ الرحمہ (مرآۃ العاشقین) تعظیمِ میلاد النبی ﷺ کو سلسلہ چشتیہ میں جاری رکھا۔

37.          پیر مہر علی شاہ گوڑہوی علیہ الرحمہ (تصفیہ مابین سنی و شیعی) میلاد النبی ﷺ پر قیام و سلام اور فرحت کا اظہار تعظیمِ نبوی ہے۔

38.         علامہ شہاب الدین آلوسی علیہ الرحمہ (روح المعانی) نبی کریم ﷺ کا وجودِ مبارک کائنات کے لیے سب سے بڑی رحمت ہے اور اس پر خوشی منانا شرعاً درست ہے۔

39.          امام ابن کثیر علیہ الرحمہ (مولد رسول اللہ ﷺ) آپ نے میلاد النبی ﷺ پر ایک کلامی و تاریخی کتاب لکھی جس میں ذکرِ میلاد کو سراہا۔

40.          امام عبد الغنی النابلسی علیہ الرحمہ (الحدیقۃ الندیہ) میلاد النبی ﷺ میں بدعتِ حسنہ کے قواعد جاری ہوتے ہیں۔

41.          القاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ (الشفا بتعریف حقوق المصطفےٰ) آپ ﷺ کی ولادت اور تعظیم کے تمام دلائل کا احاطہ فرمایا۔

42.          علامہ شبراملسی علیہ الرحمہ (حاشیہ علی النہایۃ) میلاد کی محفل پر خرچ کرنا مستحسن صدقہ ہے۔

43.          شیخ ابراہیم باجوری علیہ الرحمہ (حاشیہ علی ابن قاسم) میلاد میں قیام اور احترامِ رسول مستحسن ہے۔

44.          شیخ ابو عبد اللہ ابن الحاج مالکی علیہ الرحمہ (المدخل) ولادتِ نبوی کا دن تمام دنوں پر عظمت رکھتا ہے۔

45.          علامہ ابن دحیہ کلبی علیہ الرحمہ (التنویر فی مولد السراج المنیر) انہوں نے سب سے پہلے میلاد پر باقاعدہ تفصیلی کتاب تحریر فرمائی۔

46.          امام سبکی علیہ الرحمہ (التبرک بالولادۃ الشریفۃ) میلاد میں تعظیمِ رسول کا پہلو غالب ہوتا ہے۔

47.          شیخ الاسلام زکریا انصاری علیہ الرحمہ (شرح المنہاج) محافلِ خیر و ذکرِ ولادت شرعاً جائز ہیں۔

48.          امام علی بن برہان الدین حلبی علیہ الرحمہ (السیرۃ الحلبیہ) میلاد میں مجلس کا انعقاد اور خوشی منانا مستحسن ہے۔

49.          امام مناوی علیہ الرحمہ (فیض القدیر) ولادتِ نبوی پر شکرِ الٰہی بجا لانا مستحب ہے۔

50.          شیخ احمد بن زینی دحلان مکی علیہ الرحمہ (السیرۃ النبویہ) مکہ و مدینہ کے لوگ ہمیشہ سے میلاد کا اہتمام کرتے آئے ہیں۔

51.         شاہ تراب علی قلندر علیہ الرحمہ (تذکرۃ القلندریہ) محفلِ میلاد کو تصوف و سلوک کا حصہ قرار دیا۔

اکابرینِ امت، مفسرین و فقہاء

51.                     علامہ یحییٰ بن شرف النووی علیہ الرحمہ (تہذیب الأسماء) مستحسن بدعات کی حمایت کی جس میں ذکرِ خیر شامل ہے۔

52.                      امام ابو بکر بن العربی علیہ الرحمہ (عارضۃ الاحوذی) ایامِ نبوی کی تعظیم کو ایمان کا حصہ مانا۔

53.                     شاہ نیاز احمد بریلوی علیہ الرحمہ (دیوانِ نیازی) اپنے کلام میں میلاد کی برکات کو اجاگر کیا۔

54.                      شیخ سلیم چشتی علیہ الرحمہ (ملفوظات) اکبراٰباد کے صوفی جنہوں نے میلاد کی محافل کا اہتمام فرمایا۔

55.                     شیخ احمد توکلی علیہ الرحمہ (رسالہ میلاد) میلاد کے استحباب پر رسالہ لکھا۔

56.                      علامہ عبدالحئی فرنگی محلی علیہ الرحمہ (مجموعۃ الفتاویٰ) محفلِ میلاد میں اگر خرافات نہ ہوں تو بالاجماع مستحسن ہے۔

57.                      شاہ احمد سعید دہلوی علیہ الرحمہ (اثبات المولد) ردِ اعتراضات پر مبنی مستقل کتاب لکھی۔

58.                     علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ (الروض الماہور) تعظیمِ میلاد اور قیامِ میلاد کے جواز پر دلائل دیے۔

59.                      علامہ عبد الشکور فاروقی لکھنوی علیہ الرحمہ میلاد کے شرعی حدود میں انعقاد کے قائل رہے۔

60.                      شاہ تراب الحق حیدرآبادی علیہ الرحمہ برصغیر میں میلاد کی محافل کو فروغ دیا۔

61.                      شیخ محمد بن علوی المالکی مکی علیہ الرحمہ (حول الاحتفال بالمولد النبوي الشريف) انہوں نے دورِ حاضر میں میلاد کے جواز پر سب سے محققانہ کتاب تحریر کی اور اسے دعوتی ذریعہ قرار دیا۔

62.                      مفتی محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ میلاد النبی ﷺ کے عوامی انعقاد کو سنتِ شکر قرار دیا۔

63.                      سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری علیہ الرحمہ تحریکِ میلاد کے عظیم قائد اور ولیِ کامل۔

64.                      خواجہ حسن نظامی دہلوی علیہ الرحمہ میلادِ مصطفیٰ کو مسلم معاشرے کی روح قرار دیا۔

65.                      علامہ احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ (الحق المبین) میلاد شریف کے قرآنی و حدیثی دلائل مرتب کیے۔

66.                      علامہ سید احمد رضوی بغدادی علیہ الرحمہ بغداد شریف میں میلاد کا انعقاد فرماتے۔

67.                      شیخ خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی(المهند علی المفند) اعتراف کیا کہ ذکرِ میلادِ شریف اور آپ کے معجزات کا ذکر نہایت مستحسن و باعثِ برکت ہے۔

68.                      مولانا اشرف علی تھانوی دیوبندی (نشر الطیب) کتاب لکھی تاکہ اس میں ذکرِ میلاد اور آپ ﷺ کی ولادت کے احوال بیان ہوں۔

69.                      علامہ عبد السمیع رامپوری علیہ الرحمہ (انوارِ ساطعہ) میلاد اور قیام کے شرعی و عقلی دلائل پر کتاب لکھی۔

70.                      شیخ محمد مکی حجازی علیہ الرحمہ حرمِ مکی میں ذکرِ ولادت کی برکات پر گفتگو فرماتے۔

71.                      علامہ بدر الدین عینی شارحِ بخاری علیہ الرحمہ (عمدۃ القاری)

72.                      امام ابوالحسن علی بن محمد الماوردی علیہ الرحمہ (الاحکام السلطانیہ)

73.                      علامہ جلال الدین دوانی علیہ الرحمہ (اخلاقِ جلالی)

74.                      امام تاج الدین سبکی علیہ الرحمہ (طبقات الشافعیۃ الکبریٰ)

75.                      شیخ نور الدین علی بن برہان الدین علیہ الرحمہ (شرح الشمايل)

76.                      شاہ عبدالرحمٰن چشتی علیہ الرحمہ (مراۃ الاسرار)

77.                      علامہ علی القاری الہروی علیہ الرحمہ (شرح الشفا)

78.                      شيخ محمد طاہر پٹنی محدث علیہ الرحمہ (مجمع بحار الانوار)

79.                      شاہ ابو المعالی شاہ عالم علیہ الرحمہ (ملفوظات)

80.                      شیخ محمد اکرم قدوسی علیہ الرحمہ (اقتباس الانوار)

81.                     علامہ ابن حجر المکی علیہ الرحمہ (مبلغ المرام فی مولد خیر الانام)

82.                      علامہ احمد بن محمد المقری المغربی علیہ الرحمہ (فتح المتعال)

83.                     علامہ ابن الملقن علیہ الرحمہ (البدر المنیر)

84.                      امام عماد الدین ابن کثیر علیہ الرحمہ (البدایہ والنہایہ)

85.                     شيخ محمد الحلوانی مکی علیہ الرحمہ (فتاویٰ مکہ)

86.                      شیخ طاہر سنبل مکی علیہ الرحمہ (اوثق العریٰ)

87.                      شیخ صالح الفلانی علیہ الرحمہ (قطف الثمر)

88.                     علامہ محمد بن سلیمان الجزولی علیہ الرحمہ (دلائل الخیرات)

89.                      شیخ بو علی شاہ قلندر پانی پتی علیہ الرحمہ (دیوان بو علی)

90.                      علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ (تفسیر روح البیان)

91.                      شیخ شرف الدین السدید علیہ الرحمہ (تفسیر سدید)

92.                      علامہ محمد الخضری بیک علیہ الرحمہ (نور اليقين)

93.                      شیخ بدر الدین الحسبانی علیہ الرحمہ (طبقات الشافعیہ)

94.                      علامہ عبد الرحمن الصفوری علیہ الرحمہ (نزهة المجالس)

95.                      شیخ احمد در دیر مالکی علیہ الرحمہ (الشرح الصغیر)

96.                      علامہ محمد الامین الشنقیطی علیہ الرحمہ

97.                      علامہ سلیمان الجمل علیہ الرحمہ (حاشیہ جمل)

98.                      علامہ احمد الصاوی علیہ الرحمہ (حاشیہ صاوی)

99.                      شیخ حسن العطار علیہ الرحمہ (حاشیہ عطار)

100.                علامہ محمد بن احمد الدسوقی علیہ الرحمہ (حاشیہ دسوقی)

صوفیاء، مفسرین و ائمہ عالمِ اسلام

101.                شیخ ابوالحسن شاذلی علیہ الرحمہ (الطریقۃ الشاذلیۃ)

102.                شیخ احمد الرفاعی علیہ الرحمہ (البرہان المؤید)

103.                شیخ ابراہیم دسوقی علیہ الرحمہ (الملفوظات)

104.                شیخ احمد البدوی علیہ الرحمہ (الاحزاب)

105.                امام ابو العباس المرسی علیہ الرحمہ

106.                ابن عطاء اللہ سکندری علیہ الرحمہ (الحكم العطائية)

107.                شیخ عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمہ (الطبقات الکبریٰ)

108.                شیخ خلیل بن اسحاق مالکی علیہ الرحمہ (المختصر)

109.                علامہ محمد باجی علیہ الرحمہ (التسدید)

110.                علامہ ابن المظفر علیہ الرحمہ (المولد النبوی)

111.               شاہ رکن عالم ملتانی علیہ الرحمہ

112.                شیخ حسام الدین سہروردی علیہ الرحمہ

113.               شیخ صفی الدین اردبیلی علیہ الرحمہ

114.                شاہ نعمت اللہ ولی علیہ الرحمہ

115.               شیخ محمد غوث گوالیاری علیہ الرحمہ (جواہر خمسہ)

116.                شاہ کلیم اللہ جہان آبادی علیہ الرحمہ (کولیت کلمی)

117.                شیخ یحییٰ منیری علیہ الرحمہ (مکتوباتِ صدی)

118.               شیخ عبدالقدوس گنگوہی علیہ الرحمہ (مکتوباتِ قدوسیہ)

119.                شاہ محب اللہ الٰہ آبادی علیہ الرحمہ

120.                شیخ احمد عبدالحق ردولوی علیہ الرحمہ

121.                علامہ محمد بن اسماعیل البرزنجی علیہ الرحمہ (عقد الجوہر فی مولد النبی الازہر / مولد برزنجی)

122.                شیخ محمد بن احمد بن جابر اندلسی علیہ الرحمہ

123.                علامہ محمد امیر کبیر سنباوی علیہ الرحمہ (حاشیہ الامیر)

124.                علامہ محمد بن علی السنوسی علیہ الرحمہ

125.                شیخ عبد القادر حمصی علیہ الرحمہ

126.                علامہ ابن ابی جمرہ مالکی علیہ الرحمہ (شرح مختصر صحیح البخاری)

127.                علامہ نور الدین علی السمہودی علیہ الرحمہ (وفاء الوفاء)

128.                علامہ ابن القیم الجوزیۃ (تاریخی حوالہ) علیہ الرحمہ (جلاء الافہام) ذکرِ نبی اور درود کی مجالس کی ترغیب دی۔

129.                شیخ احمد بن مبارک سلجماسی علیہ الرحمہ (الإبريز)

130.                علامہ محمد بن قاسم جسوس علیہ الرحمہ (شرح الشمائل)

131.               شیخ عبد الرحمن بن عبد السلام الصفوری علیہ الرحمہ (نزهة المجالس ومخبأ النفائس)

132.                علامہ ابو عبد اللہ القسطلانی (کبیر) علیہ الرحمہ

133.               علامہ علی بن عبد الرحمن الملا علیہ الرحمہ

134.                شیخ داؤد بن سلیمان بغدادی علیہ الرحمہ (اشد الجهاد)

135.               علامہ محمد زاہد الکوثری علیہ الرحمہ (مقالات الکوثری)

136.                علامہ مصطفیٰ بن احمد الشطی الحنبلی علیہ الرحمہ

137.                علامہ یوسف بن عابد الحسنی علیہ الرحمہ

138.               علامہ محمد بن جعفر الکتانی علیہ الرحمہ (الرسالة المستطرفة)

139.                شیخ احمد ابن عجائبہ علیہ الرحمہ (البحر المديد)

140.                علامہ محمد عبد الباقی الزرقانی علیہ الرحمہ

141.                شیخ سلامت اللہ کشفی علیہ الرحمہ

142.                علامہ مفتی صدر الدین آزردہ دہلوی علیہ الرحمہ

143.                علامہ ہدایت اللہ رامپوری علیہ الرحمہ

144.                شاہ پیر محمد لکھنوی علیہ الرحمہ

145.                علامہ غلام علی آزاد بلگرامی علیہ الرحمہ (سبحۃ المرجان)

146.                شاہ مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ

147.                علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ (جاء الحق)

148.                علامہ سید سلیمان ندوی (سیرت النبی / تاریخی مطالعہ) ایامِ میلاد کے عالمی انعقاد کے تاریخ و جواز کا ذکر۔

149.                شیخ محمد عبد الحلیم چشتی علیہ الرحمہ

150.                علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب (کتاب المولد) دورِ حاضر میں میلاد کے تمام فقہی، حدیثی اور اولیاء کے حوالاجات کو تفصیلاً یکجا کیا۔

یہ تمام ائمہ، محدثین، مفسرین اور اولیائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا انعقاد (جس میں قرآن خوانی، سيرت و معجزات کا بیان، درود و سلام اور اطعام ہو) تعظیمِ رسول ﷺ کا ذریعہ اور باعثِ برکت و ثواب ہے۔