سورۂ زلزال کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال

 

سورۂ زلزال (یا سورۃ الزلزلہ) قرآن پاک کی 99ویں سورت ہے، جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ اس میں 8 آیات اور 1 رکوع ہے۔یہ سورت قیامت کے دن زمین کے شدید زلزلے، انسان کے اچھے و برے اعمال کے ظاہر ہونے، اور ذرّہ برابر نیکی یا بدی کا بدلہ ملنے کے واضح بیان پر مشتمل ہے۔

آدھے قرآن (نصفِ قرآن) کے برابر:

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "سورۂ زلزال نصف (آدھے) قرآن کے برابر ہے۔"(جامع ترمذی، کتاب فضائل القرآن، حدیث 2894/تفسیر صراط الجنان از مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 809 )

 جامع سورت:

ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں عرض کیا: "یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی جامع سورت پڑھا دیجیے جو مختصر بھی ہو اور کامل بھی۔" آپ ﷺ نے اسے سورۂ زلزال تلاوت فرمانے کا حکم دیا۔(سنن ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، حدیث 1399/تفسیر خزائن العرفان از صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ زلزال)

  رکعت میں تلاوت کا ثواب:

جو شخص ہر رات 2 رکعت نفل میں سورۂ زلزال پڑھتا ہے، اسے گویا آدھا قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے اور شیطان کے شر سے حفاظت حاصل ہوتی ہے۔(تفسیرِ نعیمی از مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی  علیہ الرحمہ ، جلد 30، زیرِ سورۂ زلزال /اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ ازشیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کتاب فضائل القرآن)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:

بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے نقل ہے کہ مکان، دکان یا مال کی حفاظت کے لیے یہ عمل انتہائی مجرب ہے:جو شخص 4 مرتبہ سورۂ زلزال (جو کہ مکمل قرآن پاک کے برابر ثواب رکھتی ہے) پڑھ کر گھر کے چاروں کونوں کی طرف دم کرتا ہے یا مال پر دم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے چوری، ڈاکے، آگ اور ناگہانی آفات سے محفوظ رکھتا ہے۔(شمعِ شبستانِ رضا از مولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ حفاظتِ مال و مکان، صفحہ 160/تفسیر روح البیان از (علامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ زیرِ سورۂ زلزال)

دشمن کے شر، سحر اور خوف سے نجات:

طریقہ: اگر دشمن کا شدید خوف ہو یا جادو و آسیب کے اثرات معلوم ہوتے ہوں، تو فجر اور عشاء کی نماز کے بعد 7 مرتبہ سورۂ زلزال اول و آخر 11 بار درود شریف کے ساتھ پڑھنے سے تمام باطنی و ظاہری خطرات دور ہوتے ہیں۔(اعمالِ رضا از مولانا حسن رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ باب دفعِ سحر و دشمن۔

 زلزلے اور ناگہانی آفات سے امان:

بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ زمینی و آسمانی آفات سے امان کے لیے روزانہ بعدِ نمازِ فجر 1 بار اس سورت کو پڑھ کر اپنے اوپر دم کرنے کی پابندی رکھنی چاہیے۔(جواہرِ خمسہ از حضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ )

﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳) یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ(۴) بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ(۵) یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ﳔ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶) فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)


سورۂ قدر کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال

سورۂ قدر قرآن پاک کی 97ویں سورت ہے، جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے (بعض مفسرین کے نزدیک مدنی ہے) اور اس میں 5 آیات اور 1 رکوع ہے۔اس سورت مبارکہ کا بنیادی موضوع شبِ قدر (لیلت القدر) کی عظمت و فضیلت اور اس میں قرآنِ مجید کے نزول کا بیان ہے۔ اس رات کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔

قرآن پاک کے ایک تہائی (ثلثِ قرآن) کے برابر:

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "سورۂ قدر قرآن مجید کے ایک تہائی (1/3) حصے کے برابر ہے۔"

(شعب الایمان (امام بیہقی)، باب فضائل القرآن/تفسیر صراط الجنان از مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 796 )

 گناہوں کی مغفرت اور نورانیت:

جو شخص اس سورت کو کثرت سے پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور اسے قیامت کے دن صدیقین اور شہداء کا ثواب عطا فرمایا جاتا ہے۔(تفسیر خزائن العرفان از صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ قدر/تفسیرِ نعیمی از مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی  علیہ الرحمہ ، جلد 30، زیرِ سورۂ قدر)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:

بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے نقل ہے کہ تنگیِ رزق اور قرض کے بوجھ سے نجات کے لیے یہ عمل نہایت اکسیر ہے:جو شخص روزانہ فجر اور عشاء کے بعد 11 بار سورۂ قدر (مع اول و آخر 11 بار درود شریف) پڑھنے کا معمول بناتا ہے، اللہ تعالیٰ غیب سے اس کے رزق میں برکت اور بے نیازی عطا فرماتا ہے۔(شمعِ شبستانِ رضا از مولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ وسعتِ رزق، صفحہ 156/تفسیر روح البیان از علامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ زیرِ سورۂ قدر)

وضو کے بعد کی فضیلت کا عمل:

طریقہ: بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ جو شخص ہر وضو کے بعد آسمان کی طرف منہ کر کے 1 بار سورۂ قدر پڑھے تو وہ صدیقین میں سے لکھا جاتا ہے، اور جو 3 بار پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا حساب انبیاء کے ساتھ فرمائے گا۔(بہارِ شریعت ازعلامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ، جلد 1، حصہ 2 صفحہ 308)

 بینائی کی حفاظت اور قوتِ بصارت:

صوفیائے کرام سے منقول ہے کہ وضو کے بعد سورۂ قدر پڑھ کر انگشتِ شہادت (شہادت کی انگلی) پر دم کر کے آنکھوں پر پھیرنے سے انسان کی بینائی کبھی کمزور نہیں ہوتی اور آنکھوں کی بیماریاں دور رہتی ہیں۔(اعمالِ رضا ازمولانا حسن رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ )

﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ(۱) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ(۲) لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﳔ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ(۳) تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْۚ-مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ(۴) سَلٰمٌ ﱡ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠(۵)

سورۂ تین کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال

 

سورۂ الم نشرح (یا سورۂ انشراح) قرآن پاک کی 94ویں سورت ہے، جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس میں 8 آیات اور 1 رکوع ہے۔ اس سورت مبارکہ کا بنیادی مقصد رسول اللہ ﷺ کے قلبِ مبارک کو فراخی (شرحِ صدر) عطا کرنے، آپ کے ذکر کو بلند کرنے، اور سختی کے بعد آسانی کی عظیم بشارت دینا ہے۔

شرحِ صدر اور غم و فکر سے خلاص:اس سورت کے نزول کا مقصد رسول اللہ ﷺ کے سینۂ مبارک کو کھولنا اور آپ کے تمام غموں اور بوجھ کو دور فرمانا ہے۔ جو بندہ اس کی تلاوت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو نورِ ایمان اور اطمینانِ قلب سے بھر دیتا ہے۔(تفسیر صراط الجنان از مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 779 /تفسیر خزائن العرفان از صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ الم نشرح)

 ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی:

آیت مبارکہ " فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ(۵) اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ(۶) (بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے، بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے) کی تفسير میں صحابہ و تابعین سے منقول ہے کہ ایک سختی (العُسْرًا) کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دو آسانیاں (یُسرًا) رکھیں، لہٰذا کبھی کوئی مشکل آسانی پر غالب نہیں آ سکتی۔(تفسیرِ نعیمی از مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی  علیہ الرحمہ ، جلد 30، زیرِ سورۂ الم نشرح/اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ ازشیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کتاب الصلاۃ)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:

بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے نقل ہے کہ دل کے امراض، سینے کے بوجھ اور سانس کی تنگی کے لیے یہ عمل بے حد مفید ہے:

طریقہ: جو شخص دل کے امراض، سینے کی تنگی یا وہم کا شکار ہو، وہ ہر روز فجر کی نماز کے بعد 21 مرتبہ سورۂ الم نشرح پڑھ کر اپنے سینے پر دم کرے یا پانی پر دم کر کے پیے۔(شمعِ شبستانِ رضا از مولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ شفا، صفحہ 151/تفسیر روح البیان از علامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ زیرِ سورۂ الم نشرح)

رزق میں برکت اور تنگی سے فوری نجات:

طریقہ: بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ جو شخص ہر نماز (بالخصوص فجر اور عشاء) کے بعد 7 مرتبہ سورۂ الم نشرح پڑھنے کی پابندی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی روزی میں برکت عطا فرماتا ہے، اس کا سینہ کشادہ کرتا ہے اور اس کی بے روزگاری و تنگی کو آسانی میں بدل دیتا ہے۔(اعمالِ رضا از مولانا حسن رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ باب وسعتِ رزق و کشائش)

 حفظِ قرآن اور ذہنی بیداری (قوتِ حافظہ):

طریقہ: صوفیائے کرام سے منقول ہے کہ جن بچوں کا حافظہ کمزور ہو یا پڑھے لکھے میں دل نہ لگتا ہو، ان کے لیے روزانہ 11 بار سورۂ الم نشرح پڑھ کر پانی دم کر کے پلایا جائے اور پیشانی پر دم کیا جائے، تو بفضلِ الٰہی ذہن روشن ہوتا ہے۔(جواہرِ خمسہ از حضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ )

﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ(۱) وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ(۲) الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ(۳) وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴) فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ(۵) اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ(۶) فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ(۷) وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠(۸)


سورۂ والضحٰی کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال


 

سورۂ والضحٰی قرآن پاک کی 93ویں سورت ہے، جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس میں 11 آیات اور 1 رکوع ہے۔یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب چند ایام کے لیے وحی کا سلسلہ رک گیا تھا اور کفارِ مکہ نے طعنہ دینا شروع کیا تھا (نعوذ باللہ) کہ معاذ اللہ رب نے اپنے نبی کو چھوڑ دیا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے چاشت کے وقت اور رات کی قسم کھا کر اپنے حبیب ﷺ کو تسلی دی اور بے شمار بشارتیں عطا فرمائیں۔

رضائے الٰہی اور شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ کی ضمانت:

حدیث مبارک / اس سورت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى" (اور عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے)۔ علمائے امت فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں رسول اللہ ﷺ کے حق میں یہ سب سے زیادہ امید افزا آیت ہے، کیونکہ حضور ﷺ اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ان کا آخری امتی بھی بخشا نہ جائے۔(تفسیر صراط الجنان از مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 772 /تفسیر خزائن العرفان از صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ والضحٰی)

 پریشانی، غم اور مایوسی سے نجات:

نبی اکرم ﷺ پر جب بھی کوئی غم یا پریشانی کا وقت آتا یا وحی کا انتظار ہوتا، تو یہ سورت مبارکہ دل کو سکون اور اطمینان عطا فرماتی۔ قاریِ قرآن کے لیے یہ سورت افسردگی اور ذہنی دباؤ کے لیے باعثِ شفا ہے۔(تفسیرِ نعیمی از مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی  علیہ الرحمہ ، جلد 30، زیرِ سورۂ والضحٰی/اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ ازشیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کتاب الصلاۃ)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف

بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے نقل ہے کہ اگر کوئی عزیز، خادم بھاگ گیا ہو یا کوئی قیمتی چیز گم ہو گئی ہو:طریقہ: 7 مرتبہ سورۂ والضحٰی پڑھ کر گم شدہ چیز کا نام لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کریں۔ انشاء اللہ گم شدہ چیز یا شخص واپس لوٹ آئے گا یا اس کا پتہ چل جائے گا۔(شمعِ شبستانِ رضا از مولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ برائے گم شدہ چیز، صفحہ 149/تفسیر روح البیان از علامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ زیرِ سورۂ والضحٰی)

ذہنی پریشانی، وسواس اور افسردگی  کا علاج:

طریقہ: بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ جو شخص دل کی گھبراہٹ، خوف، یا ناامیدی کا شکار ہو، وہ روزانہ چاشت (الضحٰی) کے وقت 2 رکعت نفل ادا کرے اور اس کے بعد 21 مرتبہ سورۂ والضحٰی پڑھنے کا معمول بنائے، اللہ کے فضل سے دل کو غیر معمولی سکون اور سرور حاصل ہوگا۔(اعمالِ رضا از مولانا حسن رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ باب رفعِ پریشانی و صدمات)

 معاشی تنگی اور بے روزگاری کا خاتمہ:اگر روزگار نہ مل رہا ہو یا کاروبار بند ہو گیا ہو، تو اول و آخر 11 بار درود شریف کے ساتھ روزانہ فجر کی نماز کے بعد 9 مرتبہ سورۂ والضحٰی تلاوت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ غیب سے روزی اور کامیابی کا سبب پیدا فرمائے گا۔(جواہرِ خمسہ ازحضرت غوثِ گوالیاری  علیہ الرحمہ)

 ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 وَ الضُّحٰىۙ(۱) وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ(۲) مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ(۳) وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ(۴) وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ(۵) اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪(۶) وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) وَ وَجَدَكَ عَآىٕلًا فَاَغْنٰىؕ(۸) فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ(۹) وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ(۱۰) وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱)

سورۂ فجر کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال


سورۂ فجر قرآن پاک کی 89ویں سورت ہے، جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس میں 30 آیات اور 1 رکوع ہے۔ سورت کے آغاز میں فجر (پو پھٹنے)، دس راتوں (ذی الحجہ کی ابتدائی راتوں)، جفت اور طاق کی قسمیں کھا کر انسان کو متوجہ کیا گیا ہے۔ اس میں قومِ عاد، ثُمود اور فرعون کی ہلاکت و عبرت کا ذکر ہے اور آخر میں نفسِ مطمئنہ (مطمئن روح) کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔

ذی الحجہ کی دس راتوں کی فضیلت:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت وَلَیَالٍ عَشْرٍ (اور دس راتوں کی قسم) سے مراد ذی الحجہ کی پہلی ۱۰ راتیں ہیں، جن میں عبادت کا ثواب دیگر ایام سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔)تفسیر صراط الجنان ازمفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ )، جلد 10، صفحہ 734 /تفسیر خزائن العرفان ازصدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی)، زیرِ سورۂ فجر)

 باقاعدہ تلاوت پر نور اور مغفرت:

نبی اکرم ﷺ اور بزرگانِ دین سے منقول ہے کہ جو شخص ذی الحجہ کے ایام میں یا عام حالات میں سورۂ فجر کی تلاوت کا اہتمام کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے نور پیدا فرمائے گا اور اس کے گناہوں کی بخشش فرمائے گا۔(تفسیرِ نعیمی ازمفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ ، جلد 30، زیرِ سورۂ فجر/اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ ازشیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ )

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:

بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے نقل ہے کہ سکرَاتِ موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی اور سکونِ قلب کے لیے یہ عمل اکسیر ہے:جو شخص روزانہ فجر کی نماز کے بعد سورۂ فجر کی آخری آیات " یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ(۲۷) ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ(۲۸)..." (آیت 27 تا 30) 7 مرتبہ پڑھ کر اپنے سینے پر دم کرنے کا معمول بناتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے مرتے وقت ایمان پر ثابت قدمی اور سکونِ روح عطا فرماتا ہے۔(شمعِ شبستانِ رضا ازمولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ خاتمہ بالخیر، صفحہ 145/تفسیر روح البیان ازعلامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ فجر)

ظالم کے شر اور فتنوں سے حفاظت:

اگر کوئی شخص کسی ظالم کے ظلم، فتنوں یا ناگہانی حادثات میں گھرا ہوا ہو، تو وہ روزانہ سورۂ فجر 1 بار (مع اول و آخر 11 بار درود شریف) پڑھے۔ اللہ کے فضل سے وہ دشمن کے شر اور ہر قسم کی بلا سے محفوظ رہے گا۔(اعمالِ رضا از مولانا حسن رضا خان علیہ الرحمہ باب اورادِ دفعِ ظالم)

 اولادِ نرینہ اور حفاظتِ حمل:

صوفیائے کرام سے منقول ہے کہ اگر دورانِ حمل عورت یا شوہر سورۂ فجر پڑھ کر پانی پر دم کر کے پلائے، تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حمل محفوظ رہتا ہے اور صالح اولاد عطا ہوتی ہے۔(جواہرِ خمسہ ازحضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ )

﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 وَ الْفَجْرِۙ(۱) وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ(۲) وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ(۳) وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ(۴) هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ(۵) اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍﭪ(۶) اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِﭪ(۷) الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِﭪ(۸) وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِﭪ(۹) وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِﭪ(۱۰) الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِﭪ(۱۱) فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَﭪ(۱۲) فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ(۱۳) اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ(۱۴) فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ ﳔ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ(۱۵) وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ ﳔ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ(۱۶) كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ(۱۷) وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ(۱۸) وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ(۱۹) وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ(۲۰) كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ(۲۱) وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ(۲۲) وَ جِایْٓءَ یَوْمَىٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ ﳔ یَوْمَىٕذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ(۲۳) یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ(۲۴) فَیَوْمَىٕذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ(۲۵) وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ(۲۶) یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ(۲۷) ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ(۲۸) فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ(۲۹) وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠(۳۰)

سورۂ اعلیٰ کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال

 

سورۂ اعلیٰ قرآن پاک کی 87ویں سورت ہے، جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس میں 19 آیات اور 1 رکوع ہے۔ "اعلیٰ" کے معنی "سب سے بلند" کے ہیں، اور اس کا نام پہلی ہی آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (اپنے رب کے نام کی پاکی بیان کرو جو سب سے بلند ہے) سے ماخوذ ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، مخلوقات کی تخلیق اور ہدایت، تزکیۂ نفس، اور دنیا کے مقابلے میں آخرت کی برتری کو بیان کیا گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی محبوب ترین سورتوں میں سے ایک:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورۂ اعلیٰ کو بہت پسند فرماتے اور اس سے محبت رکھتے تھے۔(مسند امام احمد بن حنبل، مسند علی بن ابی طالب، حدیث 742 /تفسیر صراط الجنان ازمفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 691 )

 نمازِ جمعہ، عیدین اور وتر میں تلاوتِ مسنون:رسول اللہ ﷺ نمازِ جمعہ، عیدین (عید الفطر و عید الاضحیٰ) اور نمازِ وتر کی پہلی رکعت میں بالعموم سورۂ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۂ غاشیہ (یا سورۂ کافرون) تلاوت فرمایا کرتے تھے۔(صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، حدیث 878)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

 سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ(۱) الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰىﭪ(۲) وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰىﭪ(۳) وَ الَّذِیْۤ اَخْرَ جَ الْمَرْعٰىﭪ(۴) فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ(۵) سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ(۶) اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ-اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ(۷) وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ(۸) فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ(۹) سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ(۱۰) وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ(۱۱) الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ(۱۲) ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ(۱۳) قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴) وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ(۱۵)بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ(۱۶) وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ(۱۷) اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ(۱۸) صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠(۱۹)


سورۂ مزمل کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال

 

سورۂ مزمل قرآن پاک کی 73ویں سورت ہے، جو 29ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے (اس کی آخری آیت کو بعض مفسرین مدنی قرار دیتے ہیں) اور اس میں 20 آیات اور 2 رکوع ہیں۔ اس سورت کا بنیادی موضوع قیامِ اللیل (رات کو عبادت)، تلاوتِ قرآن کو ترتیل (ٹھہر ٹھہر کر) سے پڑھنا، صبر، اور اللہ تعالیٰ پر توکل ہے۔

دنیا و آخرت کی سختیوں سے نجات:نبی اکرم ﷺ اور بزرگانِ دین سے منقول ہے کہ جو شخص سورۂ مزمل کی پابندی کے ساتھ تلاوت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے دنیا اور آخرت کی تمام تنگیاں اور مشقتیں دور فرماتا ہے اور اسے ہر قسم کی پریشانی سے امان دیتا ہے۔(تفسیر صراط الجنان ازمفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 438 /تفسیر خزائن العرفان ازصدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ مزمل)

 زیارتِ نبی ﷺ کا ذریعہ:علمائے اہلسنت اور صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ سورۂ مزمل شریف کا کثرت سے ورد اور بالخصوص خواب میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی زیارتِ با برکت کا بہترین ذریعہ ہے۔(تفسیرِ نعیمی ازمفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ ، جلد 29، زیرِ سورۂ مزمل/اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ ازشیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ ، کتاب الصلاۃ باب قیام اللیل)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے رزق کی تنگی اور فقر و فاقہ دور کرنے کے لیے یہ عمل نہایت مجرب منقول ہے۔طریقہ: روزانہ فجر کی نماز کے بعد یا عشاء کے بعد 11 بار سورۂ مزمل (مع اول و آخر 11 بار درود شریف) پڑھنے کا معمول بنا لیں۔ اگر 11 بار نہ ہو سکے تو روزانہ 1 بار کی پابندی کریں۔ انشاء اللہ رزق میں بے پناہ برکت ہوگی اور کسی کا محتاج نہیں ہونا پڑے گا۔(شمعِ شبستانِ رضا ازمولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ سورۂ مزمل، صفحہ 122/جواہرِ خمسہ ازحضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ ، باب خواصِ سورۂ مزمل)

ہر قسم کی حاجت اور حلِ مشکلات (عملِ چلہ):طریقہ: اگر کوئی انتہائی کٹھن مسئلہ یا حاجت درپیش ہو، تو بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ 41 دن تک روزانہ 41 مرتبہ سورۂ مزمل پڑھ کر دعا کریں۔ اس عمل سے کیسی ہی سخت مشکل کیوں نہ ہو، اللہ کے فضل و کرم سے حل ہو جاتی ہے۔(اعمالِ رضا ازمولانا حسن رضا خان علیہ الرحمہ ، باب قضائے حاجات و دفعِ بلایا)

 میاں بیوی میں محبت اور گھریلو ناچاقی کا خاتمہ:طریقہ: اگر گھر میں جھگڑا ہو یا میاں بیوی کے درمیان ناچاقی ہو، تو 41 مرتبہ سورۂ مزمل پڑھ کر کسی مٹھائی یا پینے کی چیز پر دم کر کے کھلایا/پلایا جائے، تو آپس میں الفت و محبت پیدا ہوتی ہے۔(مخزنِ اوفیٰ / تفسیر روح البیان ازعلامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ مزمل)

 

﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱) قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۲) نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ(۳) اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ(۴) اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا(۵) اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ(۶) اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ(۷) وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ(۸) رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا(۹) وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا(۱۰) وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا(۱۱) اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ(۱۲) وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ(۱۳) یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا(۱۴) اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا ﳔ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ(۱۵) فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا(۱۶) فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖﰳ(۱۷) السَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖؕ-كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا(۱۸) اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌۚ-فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠(۱۹)اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآىٕفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَؕ-وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَؕ-عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِؕ-عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰىۙ-وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِۙ-وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ﳲ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُۙ-وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًاؕ-وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًاؕ-وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۲۰)