اسمِ ذات
"اللہ" (یا اللہ) تمام اسماءِ حسنیٰ کا
سرچشمہ، سلطان اور بالاتفاق اسمِ اعظم ہے۔ قرآن، حدیث، فقہ اور تصوف کی تمام اہم
کتب میں اس اسمِ مبارک کی بے شمار فضائل اور باطنی برکات بیان کی گئی ہیں۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں فضیلت:
تمام اسماء کا مرجع: قرآن
کریم میں ارشاد ہے:وَلِلّٰہِ
الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا
(اور اللہ ہی کے
لیے اچھے اچھے نام ہیں، پس اس کو انہی ناموں سے پکارو۔)سورہ
الاعراف 180)
آیتِ کریمہ میں تمام صفاتی ناموں (الرحمن، الرحیم،
الخالق) کو لفظ "اللہ" کی طرف منسوب کیا گیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ
یہ تمام ناموں کی اصل ہے۔
کثیر ائمہ و محدثین کے نزدیک "اللہ" ہی اسمِ
اعظم ہے۔ سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی کی صحیح روایات میں آتا ہے کہ جب ایک صحابی
نے ان الفاظ سے دعا کی:"اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ
لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ، بَدِيْعُ
السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا
قَيُّومُ"تو حضوراکرم ﷺ نے فرمایا: "اس نے اللہ کے اس اسمِ
اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب بھی اس کے ذریعے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا
ہے۔"(سنن
ابی داود از امام ابو داودعلیہ الرحمہ رقم الحدیث:
۱۴۹۵/ جامع الترمذی ازامام ترمذی علیہ الرحمہ
رقم الحدیث: ۳۵۴۴)
اسمِ ذات "اللہ" کی خاص لغوی و
روحانی خصوصیات:
امام فخر الدین الرازی علیہ
الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس اسمِ مبارک کی عجیب خصوصیت یہ ہے کہ اس کا کوئی حرف بھی
کم کر دیا جائے تو بھی معنیٰ ذاتِ الٰہی ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
اصل:
اللہ
الف ہٹا دیں: لِلّٰہ (اللہ کے لیے)
پہلا لام ہٹا دیں: لَہٗ (اسی کے لیے)
دوسرا لام بھی ہٹا دیں: ہُو (وہی ذات)
(بحوالہ: تفسیرِ کبیر جلد 1، صفحہ 85)
شرکت سے پاک:دنیا
کا کوئی انسان یا معبودِ باطل کبھی اس نام "اللہ" سے موسوم نہیں ہو سکا
اور نہ ہی کسی کو یہ نام رکھنے کی اجازت دی گئی۔
محبوب سبحانی غوث الاعظم سیدنا
شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ :
آپ
علیہ الرحمہ کے نزدیک اسمِ ذات "اللہ" تمام اسماءِ حسنیٰ کا مرجع اور
بندے کو خالق سے جوڑنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
مزیدآپ
علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "جب بندہ تمام ظاہری سہاروں سے مایوس ہو کر، کامل
حضورِ قلب اور عاجزی کے ساتھ 'یا اللہ' پکارتا ہے، تو غیب سے اس کی دستگیری کی
جاتی ہے اور اس کے لیے معرفت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔"(الفتوح
الغیب" مقالہ 54"اور "غنیۃ الطالبین" جلد 2، صفحہ 248)
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی
علیہ الرحمہ:
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اسم "اللہ" تمام اسماء
کا سلطان اور حاکم ہے۔ جو شخص اس نام کی مداومت کرتا ہے اس پر تجلیاتِ الٰہیہ کے
انوار نازل ہوتے ہیں۔(الفتوحات المکیہ جلد 2، صفحہ 120 ) مزیدآپ علیہ الرحمہ
فرماتے ہیں کہ یا اللہ" کا ذکر عالمِ ملکوت اور عالمِ جبروت کا جامع ہے، اس
نام میں تمام حقائقِ کونیہ کی اصل موجود ہے۔( انشاء الدوائر صفحہ
45 – 47)
خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری
علیہ الرحمہ :
آپ
علیہ الرحمہ کے نزدیک "یا اللہ" کا ورد طالبِ حق کے لیے دل کی زنگ
آلودگی دور کرنے کا بنیادی نسخہ ہے۔
آپ نے فرمایا:"ذاکر جب صدقِ
دل سے 'یا اللہ' کہتا ہے، تو عرشِ الٰہی پر اس کے ذکر کی گونج ہوتی ہے اور اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے: 'لبیک یا عبدی' ترجمہ: میں حاضر ہوں اے میرے بندے۔" ("دلیل
العارفین" از خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ)
حجۃ الاسلام امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی
علیہ الرحمہ:
یا
اللہ" کا ذکر دل کے تمام وسوسوں اور نفسانی بیماریوں کا علاج ہے، جب ذاکر
خلوصِ قلب کے ساتھ اس کا ورد کرتا ہے تو اس کا باطن انوار سے بھر جاتا ہے۔ (احیاء
علوم الدین جلد
1، صفحہ 294 )
حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ
الرحمہ:
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ سالکینِ
طریقت کے لیے "یا اللہ" اور "ہُو" کا ذکر لطائفِ روحی کو
بیدار کرنے کے لیے سب سے مؤثر اور قوی ترین ذکر ہے۔(عوارف المعارف ، باب 41صفحہ
284 )
محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین
اولیاء علیہ الرحمہ :
آپ
نے نے اسمِ ذات کے ورد کو روح کی غذا اور قربِ الٰہی کا مستحکم ترین راستہ قرار
دیا ہے۔آپ علیہ الرحمہ کے مشہور ملفوظات "فوائد الفؤاد" (جمع کردہ:
خواجہ امیر حسن سجزی علیہ الرحمہ ) میں آتا ہے کہ آپ نے ذکرِ الٰہی بالخصوص اسمِ
ذات کی مداومت پر زور دیتے ہوئے فرمایا:
"دل کی صفائی اور اطمینان
کا دارومدار 'اللہ' کے ذکر پر ہے۔ جب تک زبان اور دل اسمِ ذات کے ذکر سے تر رہتے
ہیں، شیطان اور نفس کا غلبہ ممکن نہیں رہتا۔"مزیدآپ فرماتے تھے کہ سالک کو
چاہیے کہ اپنے ہر نفس (سانس) کو ذکرِ الٰہی بالخصوص اسمِ "اللہ" یا
"ہُو" کے ساتھ مقید رکھے، کیونکہ جو سانس بغیر ذکر کے نکلتی ہے وہ ضائع
اور مردہ ہے۔( فوائد الفؤاداز خواجہ امیر حسن سجزی علیہ الرحمہ جلد 3، مجلس 5 صفحہ 142 – 144)
غوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید
مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ:
آپ
علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"اسمِ 'اللہ' تمام صفاتی ناموں کا حاکم ہے۔ اذکار میں اسمِ
ذات کا ورد سالک کے لطائف (روحی و قلبی مراکزی نقاط) کو سب سے جلد بیدار اور روشن
کرتا ہے۔" مزید آپ علیہ الرحمہ نے سلسلۂ چشتیہ و سہروردیہ
کے اشغال کے ضمن میں بیان فرمایا کہ "یا اللہ" اور "ہُو" کی
ضربیں لگانے سے ذاکر کا دل "تجلیِ ذاتی" کا مظہر بنتا ہے اور اس کا باطن
انوارِ الٰہیہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ (لطائفِ اشرفی جمع کردہ شیخ الاسلام حضرت نظام
یمنی علیہ الرحمہ لطیفہ ۵ و ۶ - بیانِ اذکار و اشغال/ مکتوباتِ اشرفی مکتوب 28 باب
بیانِ حقیقتِ اسمِ ذات و صفات، صفحہ 84)
حضرت سیدنا علامہ قرطبی المالکی علیہ
الرحمہ :
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اسمِ
ذات "اللہ" اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا نام ہے اور یہی اسمِ اعظم ہے
کیونکہ اس نام کے ساتھ تمام صفات کو جوڑا جاتا ہے۔(الجامع لأحکام القرآن جلد 1،
صفحہ 102 - 104 )
امام ابو العباس احمد بن علی
البونی علیہ الرحمہ :
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں "یا
اللہ" کے ذکر کی روحانی خاصیت یہ ہے کہ اس کے مداوم کو مستجاب الدعوات بنا
دیا جاتا ہے اور مشکلات آسان ہوتی ہیں۔(شمس المعارف الکبریٰ فصل فی خواص اسم الله
الأعظم صفحہ 48 - 52 ) مزید آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جو شخص طہارت اور خلوص
کے ساتھ اسمِ ذات کا ورد کرتا ہے، اس کے حواس میں قوی روحانی طاقت اور نورانیت
پیدا ہوتی ہے۔(منبع اصول الحکمۃصفحہ 112 – 114)
حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ :
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اسمِ
"اللہ" کا ذکر روح کو ترقی دیتا ہے اور نفسِ امارہ کو اطمینان و سکون کی
حالت (نفسِ مطمئنہ) میں لاتا ہے۔ (تفسیرِ مظہری تفسیر سورۃ الفاتحہ جلد 1، صفحہ 18
)
امام جلال الدین السیوطی الشافعی
علیہ الرحمہ :
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ روایات
اور آثارِ صحابہ و تابعین کی روشنی میں لفظ "اللہ" تمام اسماء کا سرچشمہ
ہے اور اس سے بڑا کوئی نام نہیں۔( الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور باب: دار
الفکر، جلد 1، صفحہ 24 – 26)
شیخ مجدد الف ثانی شیخ احمد
سرہندی علیہ الرحمہ :
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اسمِ
ذات "اللہ" کا ذکر تمام اذکار کا خلاصہ ہے، کیونکہ یہ اسم صاحبِ نام
(ذاتِ باری تعالیٰ) سے بلا واسطہ تعلق قائم کرتا ہے۔(مکتوباتِ امامِ ربانی باب:
دفتر اول، مکتوب 97 صفحہ 198 - 200) مزید آپ فرماتے ہیں کہ باطنی لطائف کی صفائی
اور کمالاتِ ولایت کے حصول کے لیے "اللہ" کا ذکر سب سے قوی اکسیر ہے۔ (مکتوباتِ
امامِ ربانی باب: دفتر دوم، مکتوب 42 (صفحہ 112)
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ :
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ "یا
اللہ" پکارنے میں بندے کا اعترافِ عجز اور باری تعالیٰ کی ہمہ گیر صفات کا
احاطہ شامل ہے، اس لیے یہ دعا کے قبول ہونے کے لیے سب سے قوی وسیلہ ہے۔(اشعۃ
اللمعات فی شرح المشکاۃ جلد 2، صفحہ 410 )
بزرگانِ دین اور ائمۂ سلوک کی
معتبر کتب میں اسمِ ذات "یا اللہ" کے ذکر، اشغال اور وظیفہ کرنے کے کئی خاص طریقے اور ضوابط بیان کیے
گئے ہیں۔ ذیل میں صوفیائے کرام کے مستند ذرائع، کتب کے نام، ابواب اور صفحات کے
حوالے کے ساتھ وظیفہ کرنے کے طریقے درج ہیں:
قادری طریقہ:
ہر نماز کے بعد یا رات کے آخری
حصے (وقتِ سحر) میں اول و آخر درود شریف پڑھیں۔
66
مرتبہ (حسابِ ابجد کے مطابق اسمِ
"اللہ" کا عدد 66 ہے) یا 1000 مرتبہ
"یا اللہ" کا ورد صدقِ دل سے کریں۔
ورد کے بعد عجز و انکساری کے ساتھ اپنی حاجت یا دل کی صفائی کے لیے
دعا مانگیں۔
تاثیر
و فائدے: بندہ
مخلوق سے منقطع ہو کر خالق سے جڑ جاتا ہے اور دعا کی قبولیت کے اسباب پیدا ہوتے
ہیں۔(غنیۃ الطالبین از سیدنا
شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ باب: فی
ذکر أسماء الله الحسنى جلد 2، صفحہ 248 دار الکتب العلمیہ بیروت)
نقشبندی و چشتی طریقہ:
باوضو،قبلہ
رو بیٹھ کر آنکھیں بند کر لیں اور تمام دنیوی خیالات کو دل سے نکال دیں۔
دل میں تصور کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور میرا دل
"اللہ" "اللہ" کہہ رہا ہے۔
زبان یا دل سے "اللہ" کی ضرب لطیفۂ قلب (سینے کی بائیں
جانب) پر لگائیں۔
تاثیر و فائدے: اس طریقے سے نفسِ امارہ کی سرکشی
ختم ہوتی ہے اور باطن میں اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے۔(ارشاد الطالبین از قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ
الرحمہ بیانِ اذکار و اشغالِ سلوک صفحہ 64 – 66 مطبع مجتبائی دہلی)
اشرفی و سہروردی طریقہ:
خلوت
(تنہائی) اور طہارت کا اہتمام کریں۔
"یا
اللہ" اور "ہُو" کے ذکر کو سانس کے ساتھ ملا کر پڑھیں۔
سانس اندر لے جاتے وقت دل میں "یا اللہ" کا تصور کریں اور
سانس باہر نکالتے وقت "ہُو" کی ضرب لگائیں۔
تاثیر
و فائدے: باطنی
مراکزی نقاط (لطائف) روشن ہوتے ہیں اور تجلیِ ذاتی کا انکشاف ہوتا ہے۔ (لطائفِ
اشرفی ازغوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ
فی بیان الاذکار والاشغال جلد 1، لطیفہ 5 صفحہ 162 مکتبہ سمنانی کچھوچھہ شریف )
شاذلی و بونی طریقہ:
جمعہ
کے دن نمازِ جمعہ سے قبل یا صبح کی نماز کے بعد طہارتِ کاملہ کے ساتھ بیٹھیں۔
1000 مرتبہ
"یا اللہ یا ہُو" کا ورد کریں۔
ورد کے دوران دل کو اسمِ ذات کے انوار پر مرکوز رکھیں۔
تاثیر
و فائدے: ذاکر
کا دل ہیبت اور نورانیت سے بھر جاتا ہے، اور مشکلات و پریشانیوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔
کتاب: شمس المعارف الکبریٰ از شیخ
احمد بن علی البونی فصل: فی
خواص اسم الله الأعظم صفحہ 48 تا 52 المكتبة الشعبية)
وظیفہ کے عمومی آداب اور مشائخ کی ہدایات:
طہارت
و پاکیزگی: جسم،
لباس اور جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے۔
حلال
روزی: ذکر
میں تاثیر کے لیے لقمهٔ حلال شرطِ اول ہے۔
مداومت (باقاعدگی): وظیفہ کو ناغہ کیے بغیر ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ پر کرنے سے باطنی اثرات جلد ظاہر ہوتے ہیں۔