حضرت خواجہ محمد عبید اللہ ملتانی علیہ الرحمہ (پیر خاصے والے)



اسمِ گرامی: خواجہ عبید اللہ ۔

 لقب: مظہر کلماتِ حق ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:مولانا عبید اللہ بن مولانا محمد قدرۃ اللہ بن مولانا محمد صالح بن مولانا محمد داؤد بن مولانا یار محمد بن مولانا گل محمد بن مولانا محمد عبدالقدوس بن مولانا محمد عبد الحق بن مولانا خدا بخش بن مولانا محمد عبد الغفور (رحمہم اللہ تعالیٰ) ـ (سردلبراں:47) ـ

قبلہ مفتی محمد عبد الشکور ملتانی نقل فرماتے ہیں کہ: حضرت خواجہ عبید اللہ فرمایا کرتے تھے: میری قوم " فقیر " اور اس کے ساتھ " قادری " کا اضافہ صرف اور صرف حضرت محبوبِ سجانی، شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ سے محبت اور ان سے نسبت قائم کرنے کی وجہ سے کرتا ہوں " ۔ (ایضاً)

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت 1219ہجری ، مطابق 1804ء کو " مدینۃ الاولیاء ملتان " میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:بچپن ہی میں آپ حفظِ کلام اللہ شریف سے مشرف ہوئے، پھر ابتدائی علوم اپنے پدرِ بزرگوار سے حاصل فرمائے ۔ پدرِ بزرگوار کے انتقال کے بعد آپ ملتان شریف ہی میں " درس والی مسجد " واقع دولت گیٹ میں فنافی الرسول حضرت مولانا خواجہ خدا بخش صاحب ملتانی ثم الخیر پوری کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوکر تحصیل علم کرنے لگے، پھر جب ملتان شریف پر سکھوں کا غلبہ ہوا تو آپ کے استادِ محترم خیر پور شریف ہجرت فرما گئے اور آپ کو ابھی علمِ حدیث و دیگر چند علوم میں کمال حاصل کرنا باقی تھا، چنانچہ آپ احمد پور میں حضرت خواجہ گل محمداحمد پوری علیہ الرحمہ کی خدمتِ با برکت میں حاضر ہوئے اور کچھ عرصہ تک ان سے علمِ حدیث پڑھتے رہے ۔ یہاں آپ نے کچھ دن حضرت مولانا علی مردان اویسی رحمہ اللہ سے بھی استفادہ فرمایا ۔

بیعت و خلافت:سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں محبوب اللہ حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم الخیر پوری کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو ئے اور خلافت سے مشرف ہو ئے ۔ آپ کو سلاسلِ اربعہ میں خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ لیکن زیادہ انس سلسلۂ عالیہ چشتیہ سے تھا اور اسی میں بیعت کرتے تھے ۔
سیرت و خصائص:فانی فی اللہ، باقی باللہ، عمدۃ الاصفیاء، زبدۃ الاتقیاء، سلطان الاولیاء، مجمع البحرین، مرجع الفریقین، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، قطب الواصلین، سند الکاملین، رئیس المتوکلین حضرت خواجہ عبید اللہ ملتانی چشتی قادری علیہ الرحمہ  ۔

آپ علیہ الرحمہ  کے آباؤ اجداد سب علماء، صلحاء اور مقتدائے زمانہ گزرے ہیں، ۔ آپ کے آباء و اجداد کے فضل و کمال کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ بڑے بڑے علماء و صلحاء اپنی مجالس میں ان کے فضائل بیان فرمایا کرتے تھے ۔ سلسلۂ اویسیہ کے با کرامت بزرگ جناب صاحب السیر حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی ملتان تشریف لائے تو آپ کے والدِ بزرگوار نے ان کی دعوت کا اہتمام کیا اور اپنے نو مولود فرزند دِلبند کو اٹھا کر بغرض دُعا حضرت صاحب السّیر کی خدمت میں لے جا کر ان کے دامن مبارک میں ان کی نظر فیض اثر کے سامنے رکھ دیا ۔

اس پر حضرت صاحب السّیر علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا: " مولانا قدرۃ اللہ مبارک ہو! یہ بچہ بہت سعاد ت مند ہے ۔ اس کی مبارک پیشانی سےعلم و فضل کا جو نور درخشاں دیکھتا ہوں ۔ اس کا اثر انشاء اللہ العزیز سات پشتوں تک رہے گا " ۔ (آپ کی یہ بات حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی چنانچہ آج آپ کی ساتویں پشت ہماری نگاہوں کے سامنے ہے، اور حسبِ سابق علم کا فیضان جاری وساری ہے جس سے تشنگانِ علوم سیراب ہو رہے ہیں اور امید ہے یہ سلسلہ آگے بھی جاری و ساری رہے گا، اور میں نے اس خانوادے سے بڑھ کر کوئی متقی و پرہیزگار نہیں دیکھا ۔ تونسوی غفرلہ) ـ

آپ علیہ الرحمہ  حضرت خواجہ خدا بخش خیر پوری علیہ الرحمہ  کے محبوب اور خلیفۂ اعظم تھے ۔ آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔ ہندوستان میں فتنۂ وہابیت کے آنے کے بعد، اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ سے پہلے بر صغیر میں جس نے عقائدِ اہلسنت کے تحفظ و دفاع اور وہابیوں کے خلاف سب سے زیادہ کتب تصنیف فرمائی ہیں، وہ آپ کی ذات گرامی ہے ۔

معمولاتِ مبارکہ:آپ کے معمولات میں سے تھا کہ آپ اپنے اوقات کی بڑی حفاظت فرماتے تھے ۔ فضول کاموں، فارغ رہنے، اور فارغ رہنے والوں کو بالکل پسند نہ فرماتے ۔ آپ نے اپنے اوقات کو تقسیم کیا ہوا تھا، مثلاً درس و تدریس کا وقت، ورد و وظائف، تلاوتِ کلام اللہ شریف، تلقین و ارشاد اور تصنیف و تالیف کا وقت، ایک کام کے وقت میں دوسرا کام نہ فرماتے ۔ سونے سے پہلے آپ کے معمولاتِ شریفہ میں سورۃ الم سجدہ، سورۃ الدخان، اور سورۃ الملک کی تلاوت بھی منقول ہے ۔

یہ بھی آپ کی مستقل عادت تھی کہ نذرانہ دینے والے سے اس کا ذریعۂ معاش دریافت فرماتے، اگر اس کی آمدنی حلال سے ہوتی، بد مذہب اور سود خور نہ ہوتا تو پھر قرض کی بابت سوال فرماتے، اگر وہ مقروض ہوتا تو اس کی بھی نذر قبول نہ فرماتے بلکہ بعض دفعہ خود اس کی امداد فرماتے اور دعائے خیر فرما کر اسے ادئیگی قرض کی سخت تنبیہ فرماتے کہ مجھے دینے سے بہتر ہے کہ قرض کا بوجھ اپنے سر سے اتارو ۔ اسی طرح جس مال میں یتیم کا حق ہوتا وہ بھی قبول نہ فرماتے ۔ اسی طرح ہمسایوں اور رشتہ داروں کے حقوق کے بارے میں بھی سوال فرماتے اگر ان میں کوئی مستحقِ امداد و حاجت مند ہوتا تو پہلے اس کی امداد کا حکم فرما کر ارشاد فرماتے ـ

حق گوئی:ایک مرتبہ ملتان کے ایک مشہور نواب ایک ھمیانی میں رقم حضور اعلیٰ کی خدمت میں لائے ۔ آپ اس وقت چار پائی پر آرام فرما تھے ۔ انہوں نے وہ ھمیانی آپ کی پائنتی کی طرف رکھ کر نذر قبول کرنے کی درخواست کی ۔ آپ نے بلا تأمل اس ھمیانی کو پاؤں مبارک سے ٹھو کر مار کر نیچے گرا دیا اور فرمایا : " غریبوں پر ظلم اور انگریز حکام کی خوشامد سے جو مال تمہیں حاصل ہوا وہ تمہارے لئے بھی حرام اور میرے لئے بھی حرام ہے، خود بھی حرام کھاتے ہو اور مجھے بھی حرام کھلاتے ہو، میں اس میں سے ذرہ بھر بھی قبول نہیں کروں گا ۔ " یہ سن کر وہ شرمندہ ہوا، اور چلا گیا ۔

روحانی کمالات:ایک مرتبہ کسی انگریز افسر کی بکھی چلانے والا ملازم آپ علیہ الرحمہ کا غلام تھا ۔ ایک دن پریشانی کے عالم میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے پوچھا میاں! آج کیوں پریشان ہو؟ عرض کی حضور! میرا افسر کہتا ہے جو مجھے اللہ تبارک و تعالیٰ کی زیارت کرائےگا اسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کروں گا ۔ آپ نے فرمایا: اسے لے آؤ، چنانچہ وہ لے آیا تو حاضر ہونے پر آپ نے اس کی طرف انگلی مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہی شخص ہے جو اپنے اسلام کو حق تعالیٰ جل شانہ کی زیارت سے مشروط کرتا ہے؟ تو آپ کے محض اشارہ فرمانے پر ہی وہ بے خود ہو کر لوٹ پوٹ ہونے لگا، کافی دیر بعد جب ہوش میں آیا تو فوراً آپ کی قدموں میں گرکر مشرف بہ اسلام ہو گیا ۔

تاریخِ وصال:آپ کا وصال 6 جمادی الاول، 1305ہجری ، مطابق 20 جنوری 1888ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار، نزد سول ہسپتال ملتان میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:عباد الرحمن ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ سرد لبراں ۔

 

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقار الدین قادری علیہ الرحمہ


 

اسمِ گرامی: مفتی محمد وقارالدین۔لقب: فقیہ العصر،مفتیِ اعظم پاکستان، وقارالملت والدین۔والد کا اسم گرامی: حافظ حمید الدین علیہ الرحمہ ۔

حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے آباؤ اجداد زراعت سے وابستہ اور زمیندار تھے۔مذہب کے اعتبار سے سب صوم و صلوٰۃ کے پابند ،اور عقیدتاً سنی تھے۔آپ کے والد اور چچا حافظ قرآن تھے۔اسی طرح آپ کے خاندان میں حفاظِ کرام کافی تعداد میں تھے۔ (حیات وقار الملت:4)

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت با سعادت بروز جمعۃ المبارک،14/صفر المظفر 1333ھ مطابق یکم جنوری/1915ء کو قصبہ’’کھمریہ‘‘ضلع پیلی بھیت (انڈیا) میں ہوئی۔(ایضا: 4)

تحصیلِ علم:اسکول کی ابتدائی تعلیم چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ پانچویں کلاس میں بریلی شریف کے اسکول میں داخلہ لیا۔ پانچویں کلاس کا امتحان ہوا تو ضلع بھر میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور انعام بھی ملا ۔ آپ کے بے حد اصرار پر آپ کے والد صاحب نے آپ کو پیلی بھیت میں مدرسہ ’’آستانہ شیریہ ‘‘ میں دینی تعلیم کیلئے داخل کروایا۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ میں ایک مولانا حبیب الرحمن تھے جو کہ حضرت مولانا مفتی وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے اور دوسرے مولانا عبدالحق تھے جن کو اکثر کتابوں کی عبارات زبانی یاد تھیں ۔ چار سال اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ ایک روز آپ کے استاد محترم مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو مشورہ دیا کہ مزید تعلیم کیلئے بریلی شریف چلے جائیں ، چنانچہ مولانا حبیب الرحمن علیہ الرحمہ نے آپ کو خانقاہ رضویہ بریلی شریف کے مدرسہ ’’جامعہ رضویہ منظر الاسلام ‘‘ میں داخلہ دلوایا۔ وہیں آپ نے صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی،محدث اعظم پاکستان مولانا سر دار احمد، شیخ الحدیث علامہ تقدس علی خان رضوی ، مولانا سردار علی خان رضوی ، مولانا احسان الہی وغیرہ اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی۔جب مفتی امجد علی اعظمی بریلی شریف سے’’دادوں‘‘چلے گئے تو آپ صدر الشریعہ کی خدمت میں دادوں حاضر ہو گئے اور مزید تین سال تک وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1938ء میں دورہ حدیث شریف مکمل کیا اور اسی سال دستار بندی ہوئی۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ: 1008)

حضرت مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ کو اللہ جل شانہ نے قوت حافظہ کی نعمت عطاء فرمائی تھی۔جو بات ایک بار پڑھ لیتے وہ ذہن میں نقش ہوجاتی۔کتبِ فقہ کی عبارات اور اختلاف آئمہ سب ذہن میں محفوظ تھا۔آپ نے خود بیان کیا کہ: ’’صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی﷫فرماتےتھے، کہ اساتذہ سےپوچھا کرو ،آج اگر شرم کروگے تو پھر کب سیکھوگے۔اس لیے کلاس میں سب سےزیادہ سوالات میں ہی کرتاتھا۔بعض دوسرے ساتھی جو صدرالشریعہ کے رعب کی وجہ سے گھبراتےتھے،وہ بھی مجھے کہتےتھے کہ میرا سوال حضرت سےپوچھو،چنانچہ میں پوچھ لیا کرتاتھا‘‘۔(مقدمہ وقارالفتاویٰ جلد اول)

ساری رات مطالعہ کرنا: حضرت مولانا مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ اکثر پوری پوری رات مطالعے میں گزار دیتےتھے۔بخاری شریف پڑھنے کےلیے’’عینی‘‘ کا مطالعہ کرنا اپنے اوپر لازم کرلیا تھا۔روزانہ بخاری شریف کے آٹھ صفحات پڑھنے ہوتے تھے،اور بخاری کے ایک صفحہ کی تشریح عینی کے کئی صفحات بن جاتے ہیں۔آپ کی محنت اور صلاحیت کی بناء پر فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں تدریس کےلئے منتخب کیا گیا۔

بیعت و خلافت:آپ بعد فراغت ِ تحصیلِ علم حجۃ الاسلام حضرت علامہ مولانا حامد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور ان کے چھوٹے بھائی مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی مصطفی رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے خلافت سے نوازا۔

سیرت و خصائص:جامع المنقول والمعقول،حاوی الفروع والاصول، فقیہ العصر،مفتیِ اعظم پاکستان،وقار الملت والدین حضرت علامہ مولانا مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ۔مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ علماء اہل سنت میں ایک علمی مقام رکھتے ہیں،آپ رحمۃ اللہ علیہ کی تدریسی، تصنیفی،قومی و ملی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہتمام علوم و فنون پر کامل مہارت رکھتےتھے۔بالخصوص فقہ میں تو فقیہ العصر اور اپنے وقت کے مفتیِ اعظم پاکستان تھے۔یہ سب کچھ آپ کی زمانۂ طالب علمی کی محنت،اور خداد صلاحیت، اور حضرت صدرالشریعہ ﷫ کی تربیت و محنت کی بدولت تھا۔دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف، کے پرنور ماحول میں طلباء کی ایسی ہی تربیت ہوا کرتی تھی،کہ ان کو دین و مسلک اور ملک و ملت کا درد ملتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس دار العلوم کے فیض یافتگان کی فہرست پر نظر کریں کہ ایک ایک طالب علم یہاں سے ایسا منور ہوا، کہ اس نے پھر ایک جہان کو منور کردیا۔مفتی صاحب علیہ الرحمہ بھی منظر اسلام کے خوشہ چیں تھے۔یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت،اور ملک وملت کی خدمت میں گزری۔

درس و تدریس:بعد فراغت منظر الاسلام بریلی شریف میں مدرس مقرر ہوئے اور ساتھ ہی ناظم تعلیمات کا عہدہ بھی سونپا گیا۔ اس طرح آپ تقریبا دس سال تک خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 1954ء کو دارالعلوم احمد یہ سنیہ چٹا گانگ ( بنگال ) میں آپ کو ناظم تعلیمات مقرر کیا گیا۔ وہیں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اسلام و سنیت کی اشاعت فرماتے رہے۔ مشرقی پاکستان ( بنگلہ دیش) کے حالات زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے 22/ مارچ 1971ء کو پاکستان تشریف لائے ۔ اور اسی سال کراچی میں اہل سنت و جماعت کی مرکزی درسگاہ دارالعلوم امجد یہ میں ناظم تعلیمات مقرر ہوئے۔ درس و تدریس کے ساتھ دارالافتاء کی ذمہ داری بھی آپ کے ذمہ تھی۔ آپ آخر تک دارالعلوم امجد یہ سے وابستہ رہے اور تدریسی و فتاویٰ کی خدمات سر انجام دیتے رہے۔فنِ تدریس میں آپ کو کمال حاصل تھا،تدریس میں عمر گزر گئی تھی لیکن پھر بھی دوسرے دن پڑھایا جانے والا سبق رات کو مطالعہ کرکے آرام فرماتےتھے۔دوران ِ سبق خود ہی سوال بناکر اس کاجواب دیتےکیونکہ آج کل کا طالب علم سوال کرنے گھبراتا ہے۔آپ کی ذات میں علم کےساتھ عمل اور فتویٰ کے ساتھ تقویٰ موجود تھا۔علم و تقویٰ میں آپ کا مقام بہت بلند تھا۔آپ ظاہر و باطن میں اللہ جل شانہ سے ڈرنے والےتھے۔آپ کے معاصرین تقویٰ و پرہیزگاری میں آپ کی شخصیت کو بطورِ مثال پیش کرتےتھے۔(مقدمہ وقار الفتاویٰ جلد اول :27)

اشاعتِ مَسلک:بنگال میں اہل سنت و جماعت کی خوب اشاعت کی ، عوامِ اہلِ سنت کو بیدار کیا، ہندو پاک سے بڑے بڑے علماء کو مدعو کر کے بڑی کانفرنسوں کا اہتمام کیا، عقائد اہل سنت کو علمی دلائل سے جلسوں میں پیش کیا اور مذاہب باطلہ کا کھل کر رد کیا۔ اس طرح عوام اہل سنت میں کتب بنیی کا شوق پیدا ہوا اس لئے وہ ہندوستان سے علماء اہل سنت کی کتابیں منگوانے لگے ، ڈھاکہ کے ایک مولاناصاحب نے اس تحریک سے متاثر ہو کر مفتی احمد یار خان نعیمی کی بعض کتابوں کا بنگال میں ترجمہ کیا اور وہ کتب چھپ کر عام ہوئیں ۔ دوسری طرف تدریس کے ذریعہ علماء تیار کر کے بنگال کو دیئے۔

مناظرہ: ضلع بریلی میں ایک تحصیل ’’میتھر‘‘ہے ۔اس تحصیل میں ’’ٹانڈہ‘‘ نام سےایک گاؤں ہے۔وہاں کی سنی عوام نے آکر حضرت قبلہ مفتی اعظم ہند ﷫ سے کہا کہ غیر مقلد ہمیں بہت پریشان کرتےہیں۔لہذ ا آپ کسی عالم کو بھیج دیجیے جو ان کو علمی اعتبار سے جواب دے سکے۔حضرت مفتی اعظم ہند نےمولانا مفتی وقارالدین﷫ کو حکم فرمایا کہ جائیں اور غیر مقلدین سے گفتگو کریں۔چنانچہ وہاں آپ تشریف لےگئے اللہ جل شانہ نے آپ کو فتحِ مبین عطاء فرمائی۔جب واپس آئے تو حضرت مفتیِ اعظم ہند ﷫ نے معززین شہر اور علماء کی ایک پروقار تقریب منعقد فرمائی،اور آپ کو اپنا جبہ اور دستار عطاء کی۔اس کے علاوہ اور بھی کئی مناظرےکیے،ہرجگہ کامیابی ملی۔(مقدمہ وقارالفتاویٰ جلد اول)

تصنیف و تالیف:مدرسہ کے انتظام و انصرام، درس و تدریس کی بے پنا ہ مصروفیات کی بناپر آپ کو تحریری کام کرنے کا موقع بہت کم ملا۔ ترجمانِ اہلسنت کراچی میں درسِ قرآن و درس ِحدیث کے عنوان میں چند مضامین شائع ہوئے۔ 1۔ وقار الفتاویٰ 3 جلدیں ۔مواعظِ وقارالملت۔ (ماخوذ از۔ انوار علمائے اہل سنت سندھ)

تاریخِ وصال:20/ربیع الاول 1413ھ مطابق 19/ستمبر1993ء،بروز ہفتہ بوقت نماز فجرواصل باللہ ہوئے۔آپ کو دار العلوم امجدیہ عالمگیر روڈ کراچی میں حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

 

حضرت مولانا مفتی محمد رضا علی خان بریلوی علیہ الرحمہ


 

اسمِ گرامی: حضرت مولانا رضا علی خان ۔ 

لقب: امام العلماء، قدوۃ الصلحاء ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:امام العلماء حضرت مولانا رضا علی خان بن حافظ محمد کاظم علی خان بن جناب محمد اعظم خان بن جناب محمد سعادت یارخان بن جناب محمد سعید اللہ خان بن عبدالرحمن بن یوسف خان قندھاری بن دولت خان بن داؤد خان۔(علیہم الرحمہ)

تاریخِ ولادت: آپ 1224ہجری  کوپیداہوئے۔

تحصیلِ علم: آپ علیہ الرحمہ نے مولانا خلیل الرحمن علیہ الرحمہ سے "ٹونک"(راجستھان ،ہند)تمام علومِ نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی۔آپ علیہ الرحمہ 1245 ہجری  کو سندِ فراغ حاصل فرمائی۔آپ تمام علوم کے جامع تھے۔بالخصوص فقہ وتصوف میں مرجعِ خاص وعام تھے۔

سیرت وخصائص:قدوۃالواصلین،زبدۃ الکاملین،رئیس المتوکلین ومتصوفین، قطب الوقت،امام العلماء،سندالاتقیاء حضرت علامہ مولانا رضاعلی خان علیہ الرحمہ ۔خصوصاً نسبت کلام، سبقت سلام، زہد و قناعت، علم و تواضع، تجرید و تفرید آپ کی خصوصیات سے تھے۔ آپ کے اوصاف وکمالات شمارسےباہر ہیں۔آپ جیدعالمِ دین اور ولیِ کامل کےساتھ ساتھ پرتاثیر خطیب بھی تھے۔ آپ کےبیان سے متأثرہوکر بہت سے فساق وفجار تائب ہوکر لوٹتے تھے۔

کمالات:حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خاں صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، حضرت مولانا رضا علی خاں صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے کمالات و کرامات میں بیان فرماتے تھے :کہ حضرت کا گزر ایک روز"کوچۂ سیتارام "کی طرف سے ہوا۔ ہنود کے تہوار" ہولی "کا زمانہ تھا۔ ایک ہندوانی بازاری طوائف نے اپنے بالا خانہ سے حضرت پر رنگ چھوڑ دیا۔ یہ کیفیت شارع عام(سڑک) پر ایک جوشیلے مسلمان نے دیکھتے ہی، بالا خانہ پر جا کر تشدد کرنا چاہا، مگر حضور نے اُسے روکا اور فرمایا۔ بھائی! کیوں اس پر تشدد کرتے ہو؟ اس نے مجھ پر رنگ ڈالا ہے خدا اسے رنگ دے گا۔ یہ فرمانا تھا کہ وہ طوائف بے تابا نہ قدموں پر آکر گر پڑی، اور معافی مانگی، اور اسی وقت مشرف با اسلام ہوگئی۔ حضرت نے وہیں اس نوجوان کے ساتھ اس کا عقد (نکاح)کر دیا۔

اسی طرح 1857انگریز کے غدر کے زمانہ میں ان کے ظلم وستم سے بچنے کیلئےبہت سے مسلمان شہر چھوڑکر دیہاتوں کی طرف چلے گئے،اور بہت سے اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلتے تھے۔لیکن حضرت کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔باجماعت نماز اداکرتے تھے۔ایک دن حضرت مسجد میں تشریف فرماتھے کہ ادھر سے گوروں (انگریزوں) کا گزر ہوا۔ خیال ہوا کہ شاید مسجد میں کوئی شخص ہو تو اس کو پکڑ کرماریں پیٹیں۔(اس وقت مسلمانوں پر ایسے ظلم ہواکرتے تھے) انگریز مسجد میں گھسے، ادھر ادھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا۔ کہنے لگے کہ مسجد میں کوئی نہیں ہے۔ حالانکہ حضرت مسجد میں ہی تشریف فرماتھے۔اللہ تعالیٰ نے گوروں کو اندھاکردیا تھا کہ حضرت کو دیکھنے سے معذور رہے۔یہ کرامت حضرت کی اس معجزۂ صادقہ نبویہ ﷺ کی تصدیق ہے کہ شب ہجرت کفار کے درمیان میں سے حضور ﷺ تشریف لے گئے۔لیکن کفار کونظر نہ آئے۔

مجاہدِ جنگ آزدی: آپ اپنے وقت جید عالمِ دین ومفتی وصوفیِ باصفاء کےساتھ ساتھ "جلیل القدرمجاہد"بھی تھے۔ آپ جنگِ آزدی کے عظیم راہنماء تھے۔آپ تمام عمر انگریز سامراجیت کے خلاف برسرِ پیکار رہے۔"لارڈہسٹنگ"آپ کےنام سے کانپتاتھا۔"جنرل ہڈسن"نے آپ کے سرکی قیمت "پانچ سو روپے"مقرر کررکھی تھی۔لیکن گیدڑ انگریز رسول اللہ ﷺ کے شیر کاکچھ نہ بگاڑسکا۔انگریز نے آپ کی جائیداد ضبط کرلی،لیکن دنیا کے کتوں کوکیا معلوم؟

ان نفوسِ قدسیہ کےہاں تودنیاکی حیثیت مردارکی سی ہے۔

حضرت علامہ مولانا محمد حسن صاحب علمیؔ (مصنف خطبہ"علمیہ")جن کا خطبہ پاک ہند میں ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔ شہر تو شہر، دیہات تک مساجد میں وہی خطبہ پڑھا جاتا ہے۔ وہ حضرت ہی کے شاگرد و مرید تھے، اور یہ خطبہ آپ کی نظر انور سےگزرا ہوا ہے۔ اور آج تک جو" خطبۂ علمی" چھپتا ہے اس کے اخیر مصنف کی یہ عبارت ضرور ہوتی ہے۔"اس مؤلف عاصی محمد حسن علمیؔ کو امیدواری جناب باری عَزَّاِسْمُہٗ سے یہ ہے کہ اپنے فضل عمیم اور طفیل رسول کریم ملقب بہ "اِنَّکَ عَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ" کے ہم سب مومنین کو بعفو جرائم و عصیان اور فیضان تو توفیق و احسان کے عزت بخشے۔ اور ہمارے مرشدو مولیٰ، عالم علم ربانی، مقبول بارگاہ سبحانی، مخزن اسرار معقول و منقول، کاشف استار فروع و اصول، مطلع العلوم، مجمع الفہوم، عالم باعمل، فاضل بے بدل، منبع الاخلاق، منھل الاشفاق، مصدر احسان، مظہر امتنان، مولانا و مخدومنا، لوذعیِ زمان، مولوی رضا علی خان کو بیچ دونوں جہان کے رحمت خاصہ میں اپنے رکھ کر اقصیٰ مراتب قبولیت کو پہنچائے۔ آمین یارب العلمین

وصال پرملال : آپ علیہ الرحمہ  کا وصال 2 جمادی الاول 1286ہجری ، مطابق اگست 1869ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بریلی شریف میں ہے ۔

(ماخذ و مراجع:حیاتِ اعلیٰ حضرت ۔ حیات مولانا نقی علی خان )

حضرت مولانا حکیم عابدعلی کوثر خیر آبادی علیہ الرحمہ

 

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت 1271ہجری ،میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم وتربیت گھر پر ہوئی،اورختمِ قرآن کےموقع پر فاتحۂ فراغ حضرت مولانا عبد الحئی فرنگی محلی سے پڑھا۔ابتدائی دینیات کی کتب پڑھنے کے بعدعلمِ طب کاشوق ہواتو اس وقت کے حاذق طبیب حکیم محمد رشید گوپاموی، اور حکیم رضا حسین لکھنوی سے طب پڑھی۔

بیعت وخلافت: حضرت سید حاجی وارث علی شاہ قدس سرہ کے مرید تھے۔

سیرت وخصائص: طبیبِ حاذق،حکیمِ اعلیٰ حضرت،حضرت مولانا حکیم عابدعلی کوثرخیرآبادی علیہ الرحمہ ۔آپ اپنے وقت کے جیداور ممتاز حکماء میں سے ایک تھے۔ آپ کی حذاقت مسلم تھی۔نبض دیکھتے ہی فوراًتشخیص کرلیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کےہاتھ میں شفاء رکھی تھی، صرف چند ادویہ سے علاج کرتے تھے،مریض شفاء یاب ہوجاتا تھا۔آپ مسلمہ حذاقت ومہارت کی بدولت ریاست ٹونک میں شاہی طبیب بھی رہے۔

حکمت کےعلاوہ شاعری کا ذوق بھی رکھتے تھے۔شاعری میں "کوثر"تخلص تھا۔حضرت امیرمینائی سےخاص تعلق تھا۔انہی سے اصلاح لیاکرتے تھے۔آپ صحیح العقیدہ ،صاحب التقوٰی سنی مسلمان تھے۔علماء سے بہت محبت کرتے تھے۔یہی وجہ ہےکہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کی علالت میں بحیثیت صحیح العقیدہ طبیب آپ کومنتخب کیاگیاتھا۔نامورعلماءِکرام کوعلاج معالجہ کےلئےکسی ماہراورسنی معالج کاانتخاب کرنا چاہئے۔یہاں اس حوالے ایک واقعہ نقل کرناچاہتاہوں۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے فتاویٰ رضویہ میں امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ کاواقعہ نقل فرمایا ہے۔فرماتے ہیں:"کافرطبیب سے علاج کرانا بالخصوص علمائے وعظمائے دین کے لئے زیادہ خطرے کا مؤیدہے۔ امام مارزی رحمہ اللہ تعالٰی کا واقعہ ہے علیل ہوئے ایک یہودی معالج تھا۔اس کی دوائی سےاچھے ہوجاتے ،پھرمرض عود کرتا (لوَٹ آتا)کئی بار یوہیں ہوا۔ آخر اسے تنہائی میں بلاکر دریافت فرمایا ۔(کیا وجہ ہے کہ صحیح ہوجاتاہوں ،پھراچانک بیماری لوٹ آتی ہے)اس نے کہا: اگر آپ سچ پوچھتے ہیں، تو ہمارے نزدیک اس سے زیادہ کوئی کارِ ثواب نہیں کہ آپ جیسے امام کو مسلمانوں کے ہاتھ سے کھو دوں۔امام رزای نے اسے دفع فرمایا۔ مولی تعالٰی نے آپ کوشفا بخشی۔ پھر امام نے طب کی طرف متوجہ فرمائی اور اس میں تصانیف کیں اور طلبہ کو حاذق اطباء کردیا اور مسلمانوں کو ممانعت فرمادی کہ کافر طبیب سے کبھی علاج نہ کرائیں۔یہود کے مثل مشرکین ہیں کہ قرآن عظیم نے دونوں کو ایک ساتھ مسلمانوں کا سب سے سخت تر دشمن بتایا اورفرمایا"لایألونکم خبالا "(وہ کافر تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے۔) یہ تو عام کفار کے لئے فرمایا۔یہودی وعیسائی وغیرہ تو نص کی روسے سخت دشمن ہیں"۔

تاریخِ وصال: اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وصال کے دوماہ بعدبروزپیر،2/جمادی الاول1340ہجری ،کوآپ بھی راہی ِ ملک بقاء ہوئے۔

(ماخذومراجع: تذکرہ علمائے اہلسنت۔فتاویٰ رضویہ،جلد21)

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین قادری اشرفی مرادآبادی علیہ الرحمہ

 

ولاوت باسعادت :آپ کی ولادت 21 صفر المظفر 1300 ہجری بمطابق یکم جنوری 1883ء بروز پیر کو اس خاک دان گیتی شہر مراد آباد یوپی جلوہ فگن ہوئے۔

تاریخی نام:غلام مصطفیٰ رکھا گیا

مشہور نام: سید محمد نعیم الدین کے نام سے مشہور ہوئے

القابات : صدر الافاضل فخر الاماثل استاد العلما مفسر اعظم فقیہ اعظم وغيرہ

روحانی شیخ: شیخ المشائخ  عارف حق آگاہ ہم شبیہ غوث الثقلین حاجی الحرمین نوردیدۂ حسنین حضور سیدنا سندنا مرشدنا ملجانا ماوانا اعلی حضرت سرکار سید شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی المعروف اعلی حضرت اشرفی میاں نور اللہ مرقدہ وغيرہ

تعلیم و تربیت: آپ آٹھ سال کی عمر میں حفظ قراٰن پاک کی سعادت سے سرفراز ہوۓ بتداٸی تعلم اپنے والد  بزگوار حضرت مولانا سید معین نزھت قادری قدس سرہ سے حاصل کی ۔

درس نظامی کی تعلیم مولانا شاہ فضل احمد امروہی اور قطب وقت حضرت مولانا شاہ گل محمد قادری علیہما رحمۃ اللہ الہادی سے حاصل کی۔ 19سال کی عمر میں درس نظامی سے فراغت حاصل کی اور ایک سال فتویٰ نویسی کی مشق فرمائی اور تمام علوم و فنون میں مہارت تامہ حاصل کرکے سلطان العلوم و الفنون کہلائے۔

آپ والد بزگوار حضرت مولانا سید محمد معین الدین نزہت ؔ مرادآبادی علیہ الرحمہ نے درج ذیل شعر سے دستار فضیلت کا سال استخراج فرمایا ؎

ہے میرے پسر کو طلباء پر وہ فضیلت

سیاروں میں رکھتا ہے جو مریخ فضیلت

نزہتؔ نعیم الدین کو یہ کہہ کے سنادے

دستار فضیلت کی ہے تاریخ "فضیلت"

اعلیٰ حضرت  فاضل بریلوی علیہ الرحمہ سے تعلق: 20سال کی عمر میں پہلی کتاب علم  غیب نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم پرتالیف فرمائی جس کا نام "الْکلمۃ الْعلْیا لاعْلاء علْم الْمصْطفٰی"ہے۔ جب یہ کتاب امام اہل سنت اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں پیش کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ما شآء اللٰہ بڑی عمدہ نفیس کتاب ہے۔ یہ نوعمری اور اوراتنے احسن دلائل کے ساتھ اتنی بلند کتاب مصنف کے ہونہار ہونے پر دال ہے پھر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں پہلی بار حاضری کا شرف ملا۔ اس کے بعد آپ کی یہ حالت ہوگئی کہ ہر ہرپیر اور جمعرات کولازمی اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت کی بارگاہ میں حاضری دیتے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ پر بہت اعتماد فرماتے اور اہم امور میں آپ سے مشورہ فرماتے تھے۔ اعلیٰ حضرت کے ترجمۂ قراٰن بنام” کنزالایمان“ پر آپ نے تفسیری حاشیہ خزائن العرفان تحریر فرمایا۔ جو سابقہ معتمد تفاسیر کا خلاصہ و نچوڑ اور مشہور زمانہ ہر خاص و عام ہے۔

پیر  مرشدکی تلاش: صدر الافاضل علیہ رحمۃ پیر کی جستجو میں ’’ پیلی بھیت شریف قطب پیلی بھیت حضرت حاجی شاہ جی محمد شیر میاں نقشبندی مجددی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت شاہ جی محمد شیر میاں  علیہ الرحمہ نے بڑی محبت و کرم سے پیش آئے اور اس سے پہلے کہ صدر الافاضل کچھ کہتے شاہ جی میاں علیہ الرحمہ نے اپنے انداز میں فرمایا مولانا مراد آباد میں مولانا سیدمحمد گل قادری علیہ الرحمہ بڑی اچھی صورت میں ہیں ، میں مراد آباد جاتا ہوں تو ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں ، آپ جس ارادے سے آئے ہیں آپ کا حصہ وہیں ہے۔ چنانچہ صدر الافاضل علیہ الرحمہ مراد آباد واپس آئے تو حضرت مولاناسید محمد گل قادری علیہ الرحمہ نے دیکھتے ہی ارشادفرمایا : ’’شاہ جی !میاں صاحب کے ہاں ہو آئے، اچھا !پرسوں جمعہ ہے، نماز فجر کے بعد آئیے تو آپ کا جو حصہ ہے، عطا کیا جائے گا۔ ‘‘ تیسرے روز جمعہ کو بعد نماز فجر حصرت مولانا شاہ محمد گل علیہ رحمۃ نے قادری سلسلے میں بیعت فرمایااور جو حصہ تھا عطا کیا۔

دو شہزادوں کی ولادت: حضرت حاجی شاہ جی محمد شیر میاں نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ نے چلتے وقت دعا دی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ  کو دشمنان دین پر فتح مند رکھے اور دو بچے عطا فرمائے، مراد آباد آنے کے بعد ایک ہفتہ گزرا تھا کہ آپ کے یہاں دو فرزندپیدا ہوئے۔

شرف بیعت اور اجازت و خلافت: آپ نے اپنے استاد مکرم مولانا شاہ گل محمد قادری علیہ الرحمہ سے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں شرف بیعت حاصل کی اجازت و خلافت سے نوازے گئے، لیکن حضرت مولانا حافظ محمد گل قادری علیہ الرحمہ نے بیعت کے بعد آپ کو قطب دوراں، شیخ المشائخ، ہم شبیہ غوث اعظم اعلی حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی سجادہ نشین درگاہ مخدوم اشرف سمنانی  علیہ الرحمہ کے سپرد کردیا، حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ نے آپ سے روحانی اکتساب فیض کیا اور آپ سے بھی تمغۂ خلافت و اجازت حاصل کیا، حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہ کی اجازت سے صدرالافاضل علیہ الرحمہ نے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ سے بھی خلافت و اجازت حاصل کی۔

شان تدریس: صدْر الافاضل علیہ رحمۃ اللٰہ العادل نے ۱۳۲۸ ھ میں مراد آباد میں مدرسہ انجمن اہل سنت و جماعت کی بنیاد رکھی جس میں معقولات و منقولات کی تعلیم کا اعلیٰ پیمانے پر انتظام کیا گیا۔ ۱۳۵۲ ھ میں حضرت صدْر الافاضل کے اسم گرامی ’’نعیم الدین‘‘ کی نسبت سے اس کا نام جامعہ نعیمیہ رکھا گیا۔ صدْر الافاضل کو اللٰہ تعالٰی نے بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا ۔ آپ بیک وقت بہترین مقرر، باعمل مبلغ، منجھے ہوئے مفتی اور پر اثر مصنف و مفسر و محقق محدث سیاست داں ہونے کے ساتھ ساتھ قابل ترین مدرس بھی تھے ۔ علم حدیث میں تو آپ مشہور خاص و عام تھے ۔بڑے بڑے علماء کرام اس بات کا اعتراف کیا کرتے تھے کہ جس طرح حدیث کی تعلیم آپ دیتے ہیں ا ن کے کانوں نے کبھی اور کہیں اس کی سماعت نہیں کی۔اس جامعیت سے مختصر الفاظ بیان فرماتے تھے کہ مفہوم ذہن کی گہرائیوں میں اتر جاتا تھا۔فنون عقْلیہ کی کتابوں کی پر مغْز مدلل تقاریر زبانی کیا کرتے تھے ۔درْس کے وقت اپنے سامنے فنون عقلیہ کی کتاب۔نہ رکھتے تھے ۔جب طلبہ عبارت پڑھ چکتے اور آپ کتاب پر تقریر فرماتے توایسا گمان ہوتا تھا کہ شاید صدْر الافاضل ہی اس کتاب کے مصنف ہیں جو کتاب کی گہرائیوں اور عبارت کے رموزواسرار کی وضاحت فرما رہے ہیں ۔علْم التوقیت جسے علم ہیْئت بھی کہتے ہیں اس میں آپ کو خدادادمہارت حاصل تھی ۔آپ نے متعدد کرۂ فلکی تیار کرائے جس میں سبعہ ثوابت(یعنی سات آسمانوں ) اور سیارگان کو کرہ میں چاندی کے نقطوں سے واضح فرمایا۔جب آپ علم ہیْئتکی تعلیم دیتے تھے تو وہ کرہ سامنے رکھ کرطلبہ کو گویا آسمان کی سیر کرادیتے تھے۔تدریس میں آپ کی بے مثال مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بر صغیر ھند و پاک میں بالواسطہ یا بلا واسطہ بیشتر صدر الافاضل ہی کے شاگرد ہیں

آپ کے مشہور تلامذہ:

آپ کے علمی اور روحانی خوان نعمت سے واسطہ بالواسطہ مستفیض و مستنیر ہونے والوں کے اسما ٕ فہرست سے جنت نگاہ بناتے چلیں تاکہ ان کی قصر عظمت کو خراج عقيدت پیش کرتے وقت ہماری عقیدت و احترام کو بادب با ملاحظہ ہوشیار کی منزل سعادت مل جائے۔

(1)  حضرت علامہ سیدابوالبرکات احمدقادری نعیمی علیہ الرحمہ بانی دارالعلوم حزب الاحناف مرکز الاولیاء لاہور

(2) مفسرقرآن علامہ سیدابوالحسنات محمداحمد اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ مرکزالاولیاء لاہور

(3)،تاج العلماء مفتی محمدعمر اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ باب المدینہ کراچی

(4)حکیم الامت مفتی احمدیار اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ گجرات

(5) فقیہ اعظم مفتی محمدنور اللٰہ اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ بصیرپوراوکاڑہ

(6) فقیہ اسلام مفتی سیدغلام معین الدین اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ مرکزالاولیاء لاہور

(7)مناظر اسلام مفتی محمدحسین اشرفی نعیمی سنبھلی علیہ الرحمہ بانی جامعہ نعیمیہ مرکزالاولیاء لاہور

(8) مولاناغلام قادراشرفی نعیمی علیہ الرحمہ

 (9)عمدة المحققین مفتی محمد حبیب اللٰہ نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ شیخ الحدیث جامعہ نعیمیہ مرادآباد

(10)غزالئ زماں حضرت علامہ سید سعید احمد کاظمی نعیمی علیہ الرحمہ

(11) مخدوم المشائخ حضرت علامہ سید شاہ محمد مختار اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ ۔

(12)امام النحو مفتی غلام جیلانی اشرفی نعیمی میرٹھی علیہ الرحمہ

(13)حافظ ملت مولانا عبدالعزیز اشرفی نعیمی مرادآبادی علیہ الرحمہ

(14)ضیاء امت علامہ پیر کرم شاہ نعیمی الازہری علیہ الرحمہ سابق چیف جسٹس پاکستان۔

(15) مبلغ اسلام مفتی نذیر الاکرم اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ

(16) مفتی اعظم راجستھان علامہ اشفاق حسین صاحب نعیمی علیہ الرحمہ

(17)یادگار اسلاف علامہ محمد اطہر اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ

(18) شمس العلماء قاضی شمس الدین نعیمی جونپوری علیہ الرحمہ

(19)مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن اشرفی نعیمی اڑیسوی علیہ الرحمہ

(20)اجمل العلماء مفتی اجمل حسین نعیمی رضوی سنبھلی علیہ الرحمہ

(21)صاحب تسہیل المصادر ناصح فاسق و و فاجر مفتی عبد الرشید اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ فتح پور

تصنیف وتالیف:حضرت سیدنا صدْر الافاضل علیہ نے بے پناہ دینی و ملی مصروفیات کے باوجود تصنیف و تالیف کا بڑا ذخیرہ یادگار چھوڑا ۔آپ نے ۱۳۴۳ھ بمطابق 1924ء میں مرادآبادسے ماہنامہ ’’السواد الْاعْظم ‘‘جاری فرمایاجس میں مسلمانوں کی خوب تربیت فرمائی ، آپ کی یادگارکتب یہ ہیں

(1) تفسیر خزائن العرفان

 (2)نعیم البیان فی تفسیر القرآن

(3)الکلمۃ العلیا لاعلاء علم المصطفیٰ

(4)اطیب البیان در رد تقویۃ الایمان

(5)اسواط العذاب علی قوامع القباب

(6)آداب الاخیار فی تعظم الآثار

(7)سوانح کربلا

(8)سیرت صحابہ رضی اللٰہ تعالٰی عنہم

(9)التحقیقات لدفع التلبیسات

 (10)ارشاد الانام فی محفل لمولود والقیام

(11)کتاب العقائد

(12)زاد الحرمین

(13)الموالات

(14)گلبن غریب نواز

(15)شرح شرح مائۃ عامل

 (16)پراچین کال

(17)شرح بخاری (نامکمل غیر مطبوع)

(18)شرح قطبی (نامکمل غیر مطبوع)

(19)ریاض نعیم (مجموعہ کلام)

(20)کشف الحجاب عن مسائل ایصال ثواب

(21)فرائد النور فی جرائد القبور

(22)حق کی پہچان

(23)مقالات صدر الافاضل

(24)رسائل صدرالافاضل

(25)فتاوی صدر الافاضل

(26)اسلام اور ہندوستان

(27)حاشیہ بخاری

شعر و سخن : اللہ تعالیٰ نے حضرت صدْر الافاضل شعر گوئی کا بڑا پاکیزہ ذوق بخشا تھا۔ عربی، فارسی اور اردو میں بڑی روانی سے شعر کہتے تھے، بلند و بالاتخیلات کو اس عمدگی اور خوبی سے ادا کرتے کہ سننے والا جھوم جھوم جائے، لیکن آپ سرمایۂ شاعری حمد ونعت ، منْقبت اور نصیحت آموز اشعار مشتمل ہے آپ کی شاعری کے مجموعے کا نام ’’ریاض النعیم‘‘ ہے۔ فکر آخرت سے معمور چند اشعار ملاحظہ ہو ں ۔

فصاحت سے کہتے ہیں موئے سفید کہ ہشیار ہو، اب سحر ہوگئی

خودی سے گزر، چل خدا کی طرف کہ عمر گرامی، بسر ہوگئی

 

غم و خون دل کھاتے پیتے رہے غریبوں کی اچھی گزر ہوگئی

نعیمؔ                             خطا کار مغفور                                               ہو                                  جو                                                                 شاہ                                                      جہاں                     کی نظر                                                 ہوگئی

ایک نعت شریف کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

دیکھئے سیمائے انور، دیکھئے رخ کی بہار مہر تاباں دیکھئے، ماہ درخشاں دیکھئے

دیکھئے وہ عارض اور وہ زلْف مشکیں دیکھئے صبح روشن دیکھئے ، شام غریباں دیکھئے

 

جلوہ فرما ہیں جبین پاک میں                      آیات حق مصحف رخ دیکھئے                      تفسیر قرآں دیکھئے

یہ نعیم ؔزار کیسا ہجْر میں بے تاب ہے دیکھئے اس کی طرف، اے شاہ شاہاں دیکھئے

نعیمی دار الافتا: صدْر الافاضل اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود دارالافتاء بھی بڑی خوبی اور باقاعدگی کے ساتھ چلاتے، ہندا وربیرون ہندنیز مراد آباد کے اطراف و اکناف سے بے شمار اسْتفْتا اور اسْتفْسارات آتے اور تمام جوابات آپ خود عنایت فرماتے۔ بفضلہ تعالٰی فقہی جزْئیاتاس قدر مسْتحْضر تھے کہ جوابات لکھنے کے لیے کتبْہائے فقْہ کی طرف مراجعت کی ضرورت بہت ہی کم پیش آتی۔ شہزادۂ صدْر الافاضل حضرت علامہ سید اخْتصاص الدین علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ میراث وفرائض کے فتوے کثرت سے آتے مگر حضرت کو جواب لکھنے کے لیے کتاب دیکھتے ہوئے نہیں دیکھا آج تو ایک بطْن دو بطْن چار بطْن کے فتوے اگر دار الافتاء میں آجائیں تو گھنٹوں کتابیں دیکھی جاتی ہیں تب کہیں جاکر فتوے کا جواب لکھا جاتا ہے مگر حضرت صدْر الافاضل کا یہ حال تھا کہ بیس بیس اکیس اکیس بطون کے فتوے بھی دار الافتاء میں آگئے مگر حضرت بغیر کتاب دیکھے جواب تحریر فرما دیتے تھے البتہ انگلیوں پر کچھ شمار کرتے ضرور دیکھا جاتا اور آپ کے فتوے کے اسْترداد کی کبھی نوبت نہیں آئی ۔

خوش نویسی: صدْر الافاضل کی خطاطی ایسی عمدہ اور قواعد کے مطابق تھی کہ سینکڑوں خوش نویس اس فن میں آپکے شاگرد ہیں ۔ مزید برآں آپ خطاطی کے ساتوں طرز تحریر میں بے مثال کمال رکھتے تھے

کنزالایمان‘‘ کی پہلی اشاعت: اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مولاناشاہ امام احمد رضا کے شہرۂ آفاق ترجمۂ قراٰن ’’ کنزالایمان ‘‘ کی اولین اشاعت کا سہرا بھی صدْر الافاضل کے سر ہے ۔ کنزالایمان کی اولین، عمدہ اور خوبصورت طباعت کے لئے صدْر الافاضل نے جامعہ نعیمہ مراد آباد میں ذاتی پریس لگوایا۔جس میں کام کرنے والے سارے افرادخوش عقیدہ مسلمان تھے جو باوضو ہو کرکنزالایمان کی کتابت سے لے کر جلد سازی تک کے تمام مراحل بڑے انہماک اور عقیدت سے طے کرتے تھے۔ اس سارے عمل کی نگرانی صدْر الافاضل خود کرتے تھے۔آج دنیا میں جوکنزالایمان دستیاب ہے یہ وہی ’’ کنزالایمان ‘‘ہے جسے صدْر الافاض نے شائع کرایا تھا۔پھر آپ نے کنزالایمان پر تفسیری حاشیہ بنام’’ خزائن الْعرْفان فیْ تفْْسیْر الْقرْاٰن‘‘لکھا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے پہلا مکمل حاشیہ ہے اور اس کی مقبولیت کا اندازہ صرف اس ایک بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ آج کنزالایمان اور خزائن العرفان دونوں لازم وملزوم ہیں

فن مناظرہ: صدر الافاضل کو مناظر ہ میں ایسا درک و کمال حاصل تھا کہ جب بھی کسی سے مناظرہ ہوا اللہ ﷻ نے فتح و نصرت کا تمغہ آپ کو ہی عطا فرمایا دشمن ہر گام پر مغلوب ہی رہا آپ مناظر ہ کو منٹوں میں سر کر لیتے تھے کوٸی بھی عساٸی پادری رافضی آریہ خارجی قادیانی وہابی دیوبندی زیادہ دیر آپکے سامنے ٹہر ہی نہیں سکتا تھا بلکہ شکست خوردہ ہو کر ذلت سے دم دبا کر بھاگتا تھا یا نام سن کر ہی مقام مناظر تک پہونچتا ہی نہ تھا جب بھی ضرورت مناظرہ کرنے کی پیش آٸی اعلی حضرت کی نظر آپ ہی پر مرکوز ہوٸی فورا آپنے صدرالافاضل ہی کو اسکی سرکوبی کے لئے بھیجا ۔

حضور صدرالافاضل کی انوکھی کرامت:: حضور صدرالافاضل سید نعیم الدین مرادآبادی رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ کے ایک بچپن کے دوست محمد حسین صاحب تھے، ایک مرتبہ محمد حسین صاحب نے آپ رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ سے عرض کی:

حضور میری شادی کو بارہ 12 برس ہوگیے ہیں مگر اب تک کوئی اولاد نہیں ہے - اتنا سننے کے بعد حضور صدرالافاضل رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ کی پیشانی پر ایک چمک پیدا ہوئی اور فرمایا : کہ میاں! کلیر شریف جاؤ، وہاں تم کو اولاد کی بشارت دی جائے گی - محمد حسین صاحب کلیر شریف روانہ ہوگئے - کئی روز تک صابر پاک کے مقدس دربار میں حاضری دیتے رہے اور حضرت مخدوم صابر پاک کلیری رضیﷲ عنہ سے عرض کرتے رہے کہ حضور مجھ کو آپ کے دربار میں مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی نے بھیجا ہے - سرکار کرم فرمائیے اور ﷲ سے دعا کیجئے کہ قادر مطلق مجھے اولاد سے سر فراز فرمائے۔

ایک روز آستانئہ پاک سے قریب فرش پر سو رہے تھے کہ سرکار صابر پاک رضیﷲ عنہ خواب میں تشریف لائے اور فرمایا: کہ تمہارے لیے اولاد کا تحفہ مولانا نعیم الدین کے پاس ہے جاکے لے لو - اتنا سننے کے بعد آپ خوشی کے عالم میں بیدار ہوئے اور مرادآباد حضور صدرالافاضل رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں تشریف لے آئے - ابھی محمد حسین صاحب نے کلیر شریف کے تعلق سے کچھ کہا بھی نہیں تھا کہ حضور صدرالافاضل نے وہ ساری باتیں جو صابر پاک (رضیﷲ عنہ) نے محمد حسین صاحب کو حالت خواب میں بتائی تھیں بیان فرمادیں، گویا کہ خواب محمد حسین صاحب نے نہیں بلکہ حضور صدرالافاضل نے دیکھا ہو - حضرت نے مسکراتے ہوئے فرمایا :

میں آپ کو اولاد ہونے کی بشارت دیتا ہوں اتنا سننا تھا کہ محمد حسین صاحب خوشی سے جھومنے لگے اور بولے :

حضور ہونے والے بچے کا نام بھی بتادیں - حضرت نے تبسم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بچے کا اصلی نام محمد اور پکارنے کے لیے فضیل رکھنا - جب نو 9 ماہ گزرے تو محمد حسین صاحب کے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا اس کو بارگاہ صدرالافاضل میں لایا گیا آپ نے اس کا اصلی نام محمد اور پکارنے کے لیے فضیل نام رکھا - محمد حسین صاحب نے کہا :

حضور دوسرا بچہ کب ہوگا؟

آپ رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : دو سال بعد -

چنانچہ ایسا ہی ہوا، دو سال کے بعد جب دوسرا بچہ ہوا تو محمد حسین صاحب نے عرض کی : حضور! تیسرا بچہ کب ہوگا؟

آپ رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: دو سال بعد - چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب محمد حسین صاحب کے تین بیٹے ہوگئے تو انہوں نے حضور صدرالافاضل کی بارگاہ میں عرض کی کہ حضور ایک بیٹی کے لیے دعا فرمائیں - آپ رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ نے دعا کی اور ارشاد فرمایا کہ دو سال بعد بیٹی ہوگی اس کا نام

کنیز فاطمہ رکھنا - چنانچہ

ایسا ہی ہوا اور اس بچی کا نام کنیز فاطمہ رکھا گیا -

قربان جائیے حضور صدرالافاضل رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ کی نگاہ عنایت پر جو مصطفی صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کے غلام ہو کر محمد حسین صاحب کو ﷲ عزوجل کے حکم سے اولاد سے نواز تے ہیں - جب مصطفیٰ صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم کے غلام سید نعیم الدین کی شان کا یہ عالم ہے تو رسول خدا صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شان کا عالم کیا ہوگا -

کیا ہی خوب کہا ہے :

جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہان زمانہ کی جھولی

محتاج کا جب یہ عالم ہے مختار کا عالم کیا ہوگا-

حضور صدرالافاضل سخاوت کے بادشاہ تھے:

حضور صدرالافاضل سید نعیم الدین اشرفی مرادآبادی علیہ الرحمہ اپنے جد امجد صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم کے خلق عظیم کے مظہر تھے، مصاحبین پر پروانہ وارنثار ہونے کا جزبہ رکھتے تھے، تلامذہ سے والہانہ محبت رکھتے تھے، آپ کی خدمت عالیہ میں دیگر مقامات سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بغرض استفادہ بکثرت علماء کرام آتے تھے، اس دوران ان سب کی کفالت آپ فرماتے اور ان کو کافی انعام واکرام سے نوازتے تھے - چنانچہ

اس سلسلہ میں حضرت علامہ مفتی یونس صاحب نعیمی اشرفی (ناظم جامعہ نعیمیہ لاہور پاکستان) ارشاد فرماتے ہیں:

میں نے نو 9 سال جامعہ نعیمیہ مرادآباد میں رہ کر کبھی کسی سائل کو حضور صدرالافاضل بارگاہ سے خالی ہاتھ جاتے نہ دیکھا بلکہ میری آنکھوں نے ایسا بھی دیکھا کہ سائلوں کو آپ نے اپنے بدن کے کپڑے تک دے دیے - اور متعدد غربا، مساکین، بیواؤں اور یتیموں کو آپ کے در دولت سے پلتا دیکھا، ہر غریب ومسکین کو سہارا دینا آپ کا مشغلہ تھا اور جس کو آپ نے سہارا دے دیا وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا

بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں صدر الافاضل:

حضرت سیدنا صدْر الافاضل علیہ الرحمہ کی وفات سے قبل حضرت مولانا مفتی سیدغلام معین الدین اشرفی نعیمی علیہ الرحمہ نے ایک ایمان افروز خواب دیکھا کہ ایک نہایت عالی شان بقْعۂ نور کمرہ ہے، چاروں طرف قالین پر گاؤ تکیے لگے ہوئے ہیں ، ایک طرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللٰہ تعالٰی عنہ رونق افروز ہیں ، ایک طرف حضرت سیدنا عثمان ذوالنورین، ایک طرف حضرت سیدنا مولیٰ علی مشکلکشا علی مرتضٰی کرم اللٰہ تعالٰی وجہہ الکریم ایک طرف حضرت سیدنا ابوہریرہ اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللٰہ تعالٰی عنہم تکیہ لگائے رونق افروز ہیں ، آخر میں ایک کونے پر ایک نشست خالی ہے، کمرے کے دروازہ پر حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللٰہ تعالٰی عنہ کسی کے انتظار میں کھڑے ہیں کہ ایک طرف سے سفید عمامہ باندھے سفید ململ کی اچکن پہنے حضرت صدْر الافاضل مولاناسید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللٰہ الہادی آرہے ہیں ۔ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : تمہاری نشست اندر خالی ہے۔ آپ نے عرض کی : میرے لیے یہی بڑی سعادت ہے کہ جوتیوں میں جگہ مل جائے ، مگر حضرت سیدنافاروق اعظم رضی اللٰہ تعالٰی عنہ ہاتھ پکڑ کر اندر لےآپ اندر یہ کہہ کر اندر داخل ہوگئے : ’’ الْامْرفوْق الْادب ( یعنی حکم ادب پر فوقیت رکھتا ہے )۔اس خالی نشست میں آپ کو لے جا کر بٹھایا گیا، آپ ابھی پورے بیٹھے بھی نہیں تھے کہ میری آنکھ کسی وجہ سے کھل گئی۔ صبح میں نے حضرت صدْر الافاضل کے سامنے اپنا خواب بیان کیا، جسے سن کر حضرت کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل آئے، فرمایا : ’’میرا انتظار ہے، اب میں جارہا ہوں ، یہی اس کی تعبیر ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ نے اپنی غیر منقولہ جائیداد کو اپنے چاروں صاحبزادوں کو منتقل فرمایا۔ منقولہ جائیداد کو تقسیم کیا، صرف آٹھ سو روپیہ اپنے تجہیز و تکفین اور علاج وغیرہ کے لیے باقی رکھا

مدینے کا مسافر ہند سے پہنچا مدینے میں

حکیم الْامت مفتی احمد یار نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ حج بیت اللٰہ پر تشریف لے گئے ۔ جب آپ مدینۂ منورہ میں جب سرکار دو عالم صلی اللٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے دربار گہربار میں حاضر ہوئے تو سنہری جالیوں کے قریب دیکھا کہ حضرت صدْر الافاضل علیہ الرحمہ بھی مجمع میں موجود ہیں ۔ملاقات کی ہمت نہ ہوئی کیونکہ باادب لوگ تو وہاں بات چیت نہیں کر تے ۔صلوٰۃ و سلام سے فارغ ہونے کے بعد باہر تلاش کیا مگر ملاقات نہ ہوئی

قطب مدینہ مولانا ضیا ء الدین مدنی علیہ الرحمہ کے دربار فیض آثار پر حاضر ہوئے کہ عرب و عجم کے تمام علمائے حق اور مشائخ کرام حرمیْن طیبینْکی حاضری کے دوران آپ کی زیارت کے لئے ضرور حاضر ہوتے تھے۔ وہاں بھی حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ کے متعلقْ کوئی معلومات حاصل نہ ہوئیں ۔حیران تھے کہ صدر الافاضل علیہ رحمۃ اللٰہ العادل اگر تشریف لائے ہیں تو کہاں گئے؟ دریں اثنا مراد آباد(بھارت) سے تار علامہ ضیا ٕ الدین مدنی کے آستان عرْش نشان پر آیا کہ فلاں دن فلاں وقت حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین صاحب رحْمۃ اللہ تعالٰی علیْہ کامراد آباد میں وصال ہو گیا ہے ۔مفسرشہیر حکیم الْامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ نے جب وقت ملایا تو وہی وقت تھا جس وقت سنہری جالیوں کے قریب صدر الافاضل علیہ الرحمہ نظر آئے تھے ، فورا سمجھ گئے کہ جیسے ہی انْتقال فرمایا، بارگاہ رسالت صلی اللٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم میں صلوٰۃوسلام کے لئے حاضر ہوگئے۔ ؎

مدینے کا مسافر ہند سے پہنچا مدینے میں

قدم رکھنے کی نوبت بھی نہ آئی تھی سفینے میں

وفات حسرت آیات : معین العلما حضرت علامہ سید شاہ غلام معین الدین نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور صدرالافاضل (رحمتہﷲ تعالیٰ علیہ) نے وصال سے چند منٹ پہلے مرید کرنے کا سلسلہ بند کیا اور کچھ وقفہ کے لیے خاموش ہوگیے، پھر اس کے بعد چشم پاک کھولی آپ کے لبوں پر مسکراہٹ تھی، معلوم ہوتا تھا جیسا کہ آپ کے سامنے نبی اکرم نور مجسم سرور عالم صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوں بلند آواز سے کلمئہ طیبہ کا ورد کر رہے تھے، پیشانی مبارک پر بے حد پسینہ آرہا تھا، (امام بخاری علیہ الرحمہ کے وصال کے وقت بھی پسینہ نکل رہا تھا - اسلاف کرام ارشاد فرماتے ہیں کہ بوقت وصال پسینہ آنا خاتمہ بالخیر کی علامت ہے) پھر آپ نے وصال سے کچھ لمحے قبل از خود قبلہ رخ ہوکر اپنے دستہائے پاک اور قد مہائے ناز کو سیدھا کر لیا تھا اور آواز دھیرے دھیرے مدھم ہوتی چلی گئی، جب شہزادگان نے کان لگا کر سنا تو آپ کی زبان مبارک پر کلمہ طیبہ جاری تھا، پھر اس کے بعد آپ کے سینہ مبارک پر نور کی ایک لہر چمکی اور علم وعمل کا یہ جبل استقامت، زہد وتقوی کا سیل رواں اہل سنت کا تاجدار، علم وفضل کا گوہر، آبدار حقیقت ومعرفت کا شہسوار، ملت اسلامیہ کا غمخوار، اعدائے اسلام کے لیے تیز تر تلوار، ہم شبہ غوث اعظم سید شاہ علی حیسن اشرفی میاں علیہ الرحمہ سے اکتساب فیض کرنے والا سواد اعظم کا ناظر اور امت رسولﷲ صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ناصح، شریعت وطریقت کا آفتاب 18 ذی الحجہ 1367ھ مطابق 23 اکتوبر 1948ء بروز جمعہ 12 بج کر کچھ منٹ پر تمام محبین کو داغ مفارقت دے کر ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا - انا للہ وانا الیہ راجعون

مزار پر انوار: جامعہ نعیمیہ (مراد آباد)کی مسجد کے بائیں گوشے میں آپ کی آخری آرام گاہ مرجع خلاٸق ہے ۔

عرس مبارک: ہر سال16/17/ 18 ذی الحجہ کو آپ کا عرس مبارک بڑے تزک و احتشام بہت دھوم دھام سے منایا جاتا ہے - کثیر تعداد میں عوام وخواص حاضر ہوکر آپ فیض حاصل کرتے ہیں۔

ماخذ و مراجع:فتاوی صدر الافاضل ،رسائل صدر الافاضل ،حیات صدر الافاضل ،تذکرہ صدر الافاضل ،سوانح صدر الافاضل ،تاریخ اسلام کی عظیم شخصيت صدر الافاضل ،کرامت صدر الافاضل

(بشکریہ محمد قاسم القادری نعیمی اشرفی چشتی غفرلہ اللہ القوی شیش گڑھ بریلی شریف خادم غوثیہ دار الافتا صدیقی مارکیٹ کاشی پور اتراکھنڈ رابطہ 9927726506)