شیخ الاسلام حافظ الحدیث امام محمد بن ابو بکر ابو موسیٰ مدینی علیہ الرحمہ

 

آپ کا نام: محمد بن ابو بكر بن عمر بن ابو عيسٰی احمد بن عمر مدینی ۔ کنیت: ابو موسٰی ۔ لقب: شیخ الاسلام تھا ۔

تاریخِ ولادت:امام ابو موسٰی مدینی علیہ الرحمہ کی ولادتِ باسعادت ذی القعدہ 501ھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:امام ابو موسٰی مدینی علیہ الرحمہ نے جلیل القدر علماء سے اکتسابِ علم کیا جن میں آپ کے والدِ ماجد ، ابو سعد محمد بن محمد، ابو منصور محمد بن عبد اللہ اور ان کے علاوہ کثیر علماء سے کے علم سے مستفیض ہوئے ۔ اور تین سو مشائخ سے زیادہ آپ نے احادیث روایت کی ۔

سیرت و خصائص:شیخ الاسلام، حافظ الاحادیث، امام الوقت امام ابو موسٰی محمد بن ابو بکر مدینی علیہ الرحمہ زاہد، متورع، عابد، ولیٔ کامل عالمِ باعمل اور اپنے وقت کے چمکتے ہوئے سورج تھے ۔ آپ قرآنِ پاک کو اس کی روایات و شانِ نزول کے ساتھ پڑھتے تھے ۔

علم اتنے جد و جہد سے حاصل کیا کہ تمام علوم و فنون کے ماہر و امام ہو گئے ۔ قدر و منزلت کے باوجود آپ میں تواضع و انکساری اتنی زیادہ تھی کہ بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی پڑھاتے تھے ۔ بچوں کے لئے تختی پر قرآنِ پاک کی آیت لکھ کر اسے یاد کرواتے ۔ اور آپ کے ساتھ جو چلتا اسے آپ منع کرتے ۔ آپ کسی سے کوئی شئی قبول نہیں کرتے بلکہ آپ کے پاس جو ہوتا وہ بیچ کر اس سے جو نفع حاصل ہوتا اسے خرچ کرتے ۔

ایک شخص نے مرتے وقت آپ کے لئے کچھ مال کی وصیت کی آپ نے اسے رد فرما دیا اور قبول نہیں کیا ۔ آپ کے دور میں جتنے علماء، فقہاء، تھے امام ابو موسٰی مدینی سب پر فائق اور سب کے امام تھے ۔

اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک شخص نے خواب دیکھا کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے دنیا سے ظاہری پردہ فرمایا، بیدار ہو کر معبر کے پاس گئے اس نے کہا کہ ایسا خواب اسی وقت دیکھا جاتا ہے جب امامِ وقت کا انتقال ہونے والا ہو کیونکہ ایسا خواب امام شافعی، امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ ما وغیرہ ائمہ کے وصال کے وقت دیکھا گیا، کہتے ہیں ابھی شام ہوئی ہی تھی کہ امام ابو موسٰی مدینی کی وفات کی خبر آ گئی ۔

مشہور اساتذہ: امام ابو موسیٰ مدینی نے بغداد، اصفہان اور دیگر علمی مراکز کے کبار شیوخ سے سماعِ حدیث کیا۔ ان کے ممتاز اساتذہ میں شامل ہیں:

ابو علی الحداد (حسن بن احمد اصفہانی): یہ امام ابو موسیٰ مدینی کے سب سے اہم اور خاص شیوخ میں سے ہیں، جن سے انہوں نے کثیر روایات لیں۔

ابو القاسم اسماعیل بن محمد اصفہانی: جو "قوام السنۃ" کے لقب سے مشہور ہیں اور عظیم محدث و مفسر تھے۔

ابو منصور مروان بن علی طنطالی

سعید بن ابی رجاء صیرفی

ابو القاسم بن الحصين (بغداد کے مشہور محدث)

علمی مقام اور تصانیف: امام ابو موسیٰ مدینی علیہ الرحمہ  نے علم حدیث، اسماء الرجال (راویوں کے احوال) اور تاریخ پر گراں قدر کام کیا۔ ان کی چند مشہور تصانیف درج ذیل ہیں:

تتمۃ معرفۃ الصحابۃ: یہ کتاب صحابہ کرام کے احوال پر امام ابن مندہ کی کتاب کا استدراک اور تکملہ ہے۔

المجموع المغيث في غريب الحدیث: حدیث کے مشکل اور غریب الفاظ کی تشریح پر ایک بہترین کتاب ہے۔

كتاب الوظائف: عبادات اور وظائف کے موضوع پر۔

اللطائف فی معرفۃ لِطائف المعارف: علمی اور حدیثی نکات پر مشتمل مجموعہ

امام ابو موسیٰ مدینی علیہ الرحمہ نے اپنے وقت کے نامور علما اور محدثین سے علم حاصل کیا، اور پھر ان سے فیض پانے والوں میں بھی بڑے بڑے ائمہ شامل ہوئے۔ ان کے مشہور اساتذہ اور شاگردوں کی فہرست درج ذیل ہے:

مشہور شاگرد :ان کی علمی جلالت کا یہ عالم تھا کہ ان کے دور کے بڑے بڑے حفاظِ حدیث اور فقہا نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ ان کے نامور شاگردوں میں شامل ہیں:

امام ابن الاثیر الجزری: مشہور تاریخ دان اور مصنف (صاحبِ کتاب "اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ")۔ انہوں نے صحابہ کرام کے احوال پر لکھی گئی امام ابو موسیٰ مدینی کی کتابوں سے بہت زیادہ استفادہ کیا۔

امام عبد الغنی المقدسی: عظیم حافظِ حدیث اور کتاب "الکمال فی اسماء الرجال" کے مصنف۔

ابو موسیٰ بن عبد الغنی: حافظ عبد الغنی المقدسی کے صاحبزادے اور محدث۔

ابو الفتوح داؤد بن عمر اصفہانی(اسلامی تاریخ کے ایک نامور محدث، راوی)

ابو رشید غزال(محدث اور راوی حدیث)

امام ابو موسیٰ مدینی اپنے آخری وقت تک درس و تدریس اور احادیث کی املا کروانے میں مشغول رہے، اور ان کی علمی مجلسوں میں دور دور سے طالبانِ علم شریک ہوتے تھے۔

تاریخِ وصال:شیخ الاسلام امام ابو موسیٰ مدینی علیہ الرحمہ کا وصال 9 جمادی الاول 581 ہجری/ بمطابق اگست 1185ء میں ہوا ۔

(ماخذ و مراجع:سیر اعلام النبلاء ۔ تذکرۃ الحفاظ )

سراج الاصفیاء حضرت مولانا شاہ محمد سلامت اللہ رامپوری علیہ الرحمہ

 

اسمِ گرامی:آپ علیہ الرحمہ کا اسمِ گرامی محمد سلامت اللہ رامپوری تھا ۔

تحصیلِ علم: سراج الاصفیاء حضرت علامہ مفتی حافظ ابو الذکاء شاہ محمد سلامت اللہ محدث رامپوری علیہ رحمۃ اللہ القوی اعظم گڑھ کے ساکن، رامپور آکر حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین مجددی علیہ الرحمہ کے حلقۂ درس میں شریک ہو کر تکمیل علوم کی تکمیل کی ـ

بیعت و خلافت:سراج الاصفیاء تحصیلِ باطن کے لیے اپنے استادحضرت مولانا شاہ ارشاد حسین مجددی سے مرید ہوئے اور اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے ۔

سیرت و خصائص:سراج الاصفیاء حضرت علامہ مولانا شاہ محمد سلامت اللہ رامپوری علیہ الرحمہ نہایت قانع، متورع، متوکل، برگزیدہ، صاحبِ اوقات تھے ۔ حضرت مولانا خواجہ احمد قادری علیہ الرحمہ کے مدرسہ میں مدرس تھے ۔ پندرہ روپیے تنخواہ تھی، مشاہرہ کی وصولی کایہ طریقہ تھا کہ رومال بھیج دیتے، خواجہ صاحب روپے گوشۂ رومال میں باندھ دیتے، تو آپ ویسے ہی گھر لاکر اہلیہ کے حوالے فرما دیتے ۔ ہمیشہ بے تکیہ اور بستر کے سوتے، بازار سے سودا خود لاتے، دوکاندار سامان اچھا دے یا خراب اس کی مرضی پہ موقوف تھا، کبھی شکایت نہ کی، غذا جو اور باجرے کی روٹی تھی ۔ اہل محلہ کی دستگیری فرماتے، غرباء سے خاص تعلق وربط رکھتے، امراء سے دور ہوتے ۔ نواب حامد علی خاں ملاقات کے آرزو مند رہے، مگر آپ نے ملاقات نہ فرمائی ۔ ڈاڑھی منڈانے والوں سے مصافحہ اور سلام نہیں کرتے تھے ۔ مدرسہ کے علاوہ گھر پر بھی درس دیتے تھے ۔

تصنیفات:آپ علیہ‌الرحمہ صاحبِ تصانیفِ کثیرہ تھے۔

  • شعائر اللہ (فضائل و مسائل پر مشتمل)
  • فضائل تبرکات نبوی ﷺ
  • ابصار فی جواب الاستفسار
  • احکام الملۃ الحقہ فی تفسیق قاطع اللحیۃ
  • سخاوت الشرافت فی کشف اسرار الجہر والمخافت
  • ارشاد المنطق
  • گیارہویں شریف

تاریخِ وصال:سراج الاصفیاء شاہ محمد سلامت اللہ رامپوری علیہ الرحمہ نے 8 جمادی الاولیٰ 1338ہجری / بمطابق جنوری 1920ء میں عالم بالا کا سفر اختیار کیا ۔ پیر و مرشد کے حظیرے میں مرقد و مدفن ہے ۔


حضرت مولانا خواجہ غلام فخر الدین چشتی علیہ الرحمہ

 

اسمِ گرامی: خواجہ غلام فخر الدین علیہ الرحمہ  ۔ 

والد کا اسمِ گرامی: حضرت خواجہ خدا بخش چشتی نظامی بن قاضی محمد عاقل (خلیفہ حضرت قبلۂ عالم علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت 1234ہجری ، مطابق 1818ء کو ہوئی ۔

تحصیلِ علم:آپ کی ظاہری و باطنی تربیت و تعلیم اپنے والدِ گرامی کے ہاتھوں ہوئی ۔ والد گرامی نے آپ کی تربیت و تعلیم پر خصوصی توجہ دے کر آپ کو علم و عرفان کا وہ نگینہ بنا دیا کہ خانقاہ چاچڑاں شریف ہو یا کوٹ مٹھن شریف یا شیدانی شریف کا دربارِ گوہر بار ، آپ پورے خانوادے میں نمایاں اور افضل نظر آتے تھے ۔ حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ نے آپ سے کسبِ علوم کیا تھا ۔

بیعت و خلافت:آپ اپنے والدِ گرامی حضرت خواجہ خدابخش علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے، والد ِ ماجد نے راہ سلوک کی منازل طے کرانے کے بعد آپ کو اپنی حیات مبارکہ میں ہی خرقہ خلافت سے سرفراز فرما کر صاحب ِارشاد کردیا تھا ۔

سیرت و خصائص:پیشوائے ارباب ِطریقت و شریعت، عالم علومِ ربانی ، طائر ہوائے لامکانی، سائر عمان سبحانی، مرشدِ لاثانی حضرت مولانا خواجہ غلام فخر الدین چشتی نظامی علیہ الرحمہ  ۔آپ علیہ الرحمہ بہت بڑے عالم تھے ۔ آپ کی عظمت وفضیلت کے لئے اتناہی کافی ہے کہ آپ حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ  کے استاذ اور پیر و مرشد ہیں ۔ آپ انتہا درجہ کے عابد و زاہد، متقی و پرہیز گار اور شریعت و طریقت کے پابند بزرگ تھے ۔ پوری زندگی میں صرف تین نمازیں فوت ہوئیں جن کی قضا وصال سے قبل ہی ادا کر دی تھی ۔

آپ اپنے اسلاف کی زندگی کا عملی نمونہ ارو اپنے خواجگان کے طریقہ پر سختی سے پابند تھے۔ پوری زندگی میں کوئی کام خلاف شرع سرزد نہ ہونے دیا اور نہ کسی کو خلاف شریعت کام کرنے دیتے تھے۔ آپ اکثر فرماتے تھے کہ تصوف کی بنیاد ہی شریعت ہے۔ جب بنیاد ہی کمزور ہوگی تو عمارت کیسے مضبوط رہے گی ۔ ہمارے تمام بزرگان دین نے شریعت کی سیڑھی سے ہی طریقت کی منزل کو حاصل کیا ہے۔آپ نے اپنے شیخ کامل کے طریقہ کے مطابق زندگی، اصول اور عبادت و ریاضت اور خانقاہی نظام کو چلایا ۔ حتیٰ کہ ہر شعبۂ زندگی میں شریعت کے متبع تھے ۔

آپ کی عظمت اہل حق کی نظر میں:آپ کے مرید و خلیفہ اور برادرِ اصغر حضرت خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ ہمارے شیخ اکبر خواجۂ بزرگ بلند مقام کے حامل ہیں۔ ان کے متعلق حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمۃ کے سجادہ نشین خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :کہ "دراصل مشائخ ِ چشتیہ اور پیرانِ طریقت کے سجادۂ مشیخیت پر خواجہ فخر الدین قدس سرہ متمکن ہیں نہ ہم اورنہ دوسرا کوئی"۔

تاریخِ وصال:آپ کا وصال 5 جمادی الاول 1288ہجری ، مطابق ماہِ جولائی1871ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار کوٹ مٹھن شریف میں مرجع ِخاص و عام ہے۔ جہاں آج بھی اہل دل حضرات حاضری دے کر آپ کے نورانی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے ہیں ۔

(ماخذ و مراجع:انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ج:4 )


حضرت خواجہ محمد عبید اللہ ملتانی علیہ الرحمہ (پیر خاصے والے)



اسمِ گرامی: خواجہ عبید اللہ ۔

 لقب: مظہر کلماتِ حق ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:مولانا عبید اللہ بن مولانا محمد قدرۃ اللہ بن مولانا محمد صالح بن مولانا محمد داؤد بن مولانا یار محمد بن مولانا گل محمد بن مولانا محمد عبدالقدوس بن مولانا محمد عبد الحق بن مولانا خدا بخش بن مولانا محمد عبد الغفور (رحمہم اللہ تعالیٰ) ـ (سردلبراں:47) ـ

قبلہ مفتی محمد عبد الشکور ملتانی نقل فرماتے ہیں کہ: حضرت خواجہ عبید اللہ فرمایا کرتے تھے: میری قوم " فقیر " اور اس کے ساتھ " قادری " کا اضافہ صرف اور صرف حضرت محبوبِ سجانی، شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ سے محبت اور ان سے نسبت قائم کرنے کی وجہ سے کرتا ہوں " ۔ (ایضاً)

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت 1219ہجری ، مطابق 1804ء کو " مدینۃ الاولیاء ملتان " میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:بچپن ہی میں آپ حفظِ کلام اللہ شریف سے مشرف ہوئے، پھر ابتدائی علوم اپنے پدرِ بزرگوار سے حاصل فرمائے ۔ پدرِ بزرگوار کے انتقال کے بعد آپ ملتان شریف ہی میں " درس والی مسجد " واقع دولت گیٹ میں فنافی الرسول حضرت مولانا خواجہ خدا بخش صاحب ملتانی ثم الخیر پوری کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوکر تحصیل علم کرنے لگے، پھر جب ملتان شریف پر سکھوں کا غلبہ ہوا تو آپ کے استادِ محترم خیر پور شریف ہجرت فرما گئے اور آپ کو ابھی علمِ حدیث و دیگر چند علوم میں کمال حاصل کرنا باقی تھا، چنانچہ آپ احمد پور میں حضرت خواجہ گل محمداحمد پوری علیہ الرحمہ کی خدمتِ با برکت میں حاضر ہوئے اور کچھ عرصہ تک ان سے علمِ حدیث پڑھتے رہے ۔ یہاں آپ نے کچھ دن حضرت مولانا علی مردان اویسی رحمہ اللہ سے بھی استفادہ فرمایا ۔

بیعت و خلافت:سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں محبوب اللہ حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم الخیر پوری کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو ئے اور خلافت سے مشرف ہو ئے ۔ آپ کو سلاسلِ اربعہ میں خلافت و اجازت حاصل تھی ۔ لیکن زیادہ انس سلسلۂ عالیہ چشتیہ سے تھا اور اسی میں بیعت کرتے تھے ۔
سیرت و خصائص:فانی فی اللہ، باقی باللہ، عمدۃ الاصفیاء، زبدۃ الاتقیاء، سلطان الاولیاء، مجمع البحرین، مرجع الفریقین، جامع کمالاتِ علمیہ و عملیہ، غیظ المنافقین، مہلک الوہابیین، قطب الواصلین، سند الکاملین، رئیس المتوکلین حضرت خواجہ عبید اللہ ملتانی چشتی قادری علیہ الرحمہ  ۔

آپ علیہ الرحمہ  کے آباؤ اجداد سب علماء، صلحاء اور مقتدائے زمانہ گزرے ہیں، ۔ آپ کے آباء و اجداد کے فضل و کمال کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ بڑے بڑے علماء و صلحاء اپنی مجالس میں ان کے فضائل بیان فرمایا کرتے تھے ۔ سلسلۂ اویسیہ کے با کرامت بزرگ جناب صاحب السیر حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی ملتان تشریف لائے تو آپ کے والدِ بزرگوار نے ان کی دعوت کا اہتمام کیا اور اپنے نو مولود فرزند دِلبند کو اٹھا کر بغرض دُعا حضرت صاحب السّیر کی خدمت میں لے جا کر ان کے دامن مبارک میں ان کی نظر فیض اثر کے سامنے رکھ دیا ۔

اس پر حضرت صاحب السّیر علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا: " مولانا قدرۃ اللہ مبارک ہو! یہ بچہ بہت سعاد ت مند ہے ۔ اس کی مبارک پیشانی سےعلم و فضل کا جو نور درخشاں دیکھتا ہوں ۔ اس کا اثر انشاء اللہ العزیز سات پشتوں تک رہے گا " ۔ (آپ کی یہ بات حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی چنانچہ آج آپ کی ساتویں پشت ہماری نگاہوں کے سامنے ہے، اور حسبِ سابق علم کا فیضان جاری وساری ہے جس سے تشنگانِ علوم سیراب ہو رہے ہیں اور امید ہے یہ سلسلہ آگے بھی جاری و ساری رہے گا، اور میں نے اس خانوادے سے بڑھ کر کوئی متقی و پرہیزگار نہیں دیکھا ۔ تونسوی غفرلہ) ـ

آپ علیہ الرحمہ  حضرت خواجہ خدا بخش خیر پوری علیہ الرحمہ  کے محبوب اور خلیفۂ اعظم تھے ۔ آپ کا شمار اس وقت کے جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔ ہندوستان میں فتنۂ وہابیت کے آنے کے بعد، اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ سے پہلے بر صغیر میں جس نے عقائدِ اہلسنت کے تحفظ و دفاع اور وہابیوں کے خلاف سب سے زیادہ کتب تصنیف فرمائی ہیں، وہ آپ کی ذات گرامی ہے ۔

معمولاتِ مبارکہ:آپ کے معمولات میں سے تھا کہ آپ اپنے اوقات کی بڑی حفاظت فرماتے تھے ۔ فضول کاموں، فارغ رہنے، اور فارغ رہنے والوں کو بالکل پسند نہ فرماتے ۔ آپ نے اپنے اوقات کو تقسیم کیا ہوا تھا، مثلاً درس و تدریس کا وقت، ورد و وظائف، تلاوتِ کلام اللہ شریف، تلقین و ارشاد اور تصنیف و تالیف کا وقت، ایک کام کے وقت میں دوسرا کام نہ فرماتے ۔ سونے سے پہلے آپ کے معمولاتِ شریفہ میں سورۃ الم سجدہ، سورۃ الدخان، اور سورۃ الملک کی تلاوت بھی منقول ہے ۔

یہ بھی آپ کی مستقل عادت تھی کہ نذرانہ دینے والے سے اس کا ذریعۂ معاش دریافت فرماتے، اگر اس کی آمدنی حلال سے ہوتی، بد مذہب اور سود خور نہ ہوتا تو پھر قرض کی بابت سوال فرماتے، اگر وہ مقروض ہوتا تو اس کی بھی نذر قبول نہ فرماتے بلکہ بعض دفعہ خود اس کی امداد فرماتے اور دعائے خیر فرما کر اسے ادئیگی قرض کی سخت تنبیہ فرماتے کہ مجھے دینے سے بہتر ہے کہ قرض کا بوجھ اپنے سر سے اتارو ۔ اسی طرح جس مال میں یتیم کا حق ہوتا وہ بھی قبول نہ فرماتے ۔ اسی طرح ہمسایوں اور رشتہ داروں کے حقوق کے بارے میں بھی سوال فرماتے اگر ان میں کوئی مستحقِ امداد و حاجت مند ہوتا تو پہلے اس کی امداد کا حکم فرما کر ارشاد فرماتے ـ

حق گوئی:ایک مرتبہ ملتان کے ایک مشہور نواب ایک ھمیانی میں رقم حضور اعلیٰ کی خدمت میں لائے ۔ آپ اس وقت چار پائی پر آرام فرما تھے ۔ انہوں نے وہ ھمیانی آپ کی پائنتی کی طرف رکھ کر نذر قبول کرنے کی درخواست کی ۔ آپ نے بلا تأمل اس ھمیانی کو پاؤں مبارک سے ٹھو کر مار کر نیچے گرا دیا اور فرمایا : " غریبوں پر ظلم اور انگریز حکام کی خوشامد سے جو مال تمہیں حاصل ہوا وہ تمہارے لئے بھی حرام اور میرے لئے بھی حرام ہے، خود بھی حرام کھاتے ہو اور مجھے بھی حرام کھلاتے ہو، میں اس میں سے ذرہ بھر بھی قبول نہیں کروں گا ۔ " یہ سن کر وہ شرمندہ ہوا، اور چلا گیا ۔

روحانی کمالات:ایک مرتبہ کسی انگریز افسر کی بکھی چلانے والا ملازم آپ علیہ الرحمہ کا غلام تھا ۔ ایک دن پریشانی کے عالم میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے پوچھا میاں! آج کیوں پریشان ہو؟ عرض کی حضور! میرا افسر کہتا ہے جو مجھے اللہ تبارک و تعالیٰ کی زیارت کرائےگا اسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کروں گا ۔ آپ نے فرمایا: اسے لے آؤ، چنانچہ وہ لے آیا تو حاضر ہونے پر آپ نے اس کی طرف انگلی مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہی شخص ہے جو اپنے اسلام کو حق تعالیٰ جل شانہ کی زیارت سے مشروط کرتا ہے؟ تو آپ کے محض اشارہ فرمانے پر ہی وہ بے خود ہو کر لوٹ پوٹ ہونے لگا، کافی دیر بعد جب ہوش میں آیا تو فوراً آپ کی قدموں میں گرکر مشرف بہ اسلام ہو گیا ۔

تاریخِ وصال:آپ کا وصال 6 جمادی الاول، 1305ہجری ، مطابق 20 جنوری 1888ء کو ہوا ۔ مزار پر انوار، نزد سول ہسپتال ملتان میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:عباد الرحمن ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ سرد لبراں ۔

 

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقار الدین قادری علیہ الرحمہ


 

اسمِ گرامی: مفتی محمد وقارالدین۔لقب: فقیہ العصر،مفتیِ اعظم پاکستان، وقارالملت والدین۔والد کا اسم گرامی: حافظ حمید الدین علیہ الرحمہ ۔

حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے آباؤ اجداد زراعت سے وابستہ اور زمیندار تھے۔مذہب کے اعتبار سے سب صوم و صلوٰۃ کے پابند ،اور عقیدتاً سنی تھے۔آپ کے والد اور چچا حافظ قرآن تھے۔اسی طرح آپ کے خاندان میں حفاظِ کرام کافی تعداد میں تھے۔ (حیات وقار الملت:4)

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت با سعادت بروز جمعۃ المبارک،14/صفر المظفر 1333ھ مطابق یکم جنوری/1915ء کو قصبہ’’کھمریہ‘‘ضلع پیلی بھیت (انڈیا) میں ہوئی۔(ایضا: 4)

تحصیلِ علم:اسکول کی ابتدائی تعلیم چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ پانچویں کلاس میں بریلی شریف کے اسکول میں داخلہ لیا۔ پانچویں کلاس کا امتحان ہوا تو ضلع بھر میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور انعام بھی ملا ۔ آپ کے بے حد اصرار پر آپ کے والد صاحب نے آپ کو پیلی بھیت میں مدرسہ ’’آستانہ شیریہ ‘‘ میں دینی تعلیم کیلئے داخل کروایا۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ میں ایک مولانا حبیب الرحمن تھے جو کہ حضرت مولانا مفتی وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے اور دوسرے مولانا عبدالحق تھے جن کو اکثر کتابوں کی عبارات زبانی یاد تھیں ۔ چار سال اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ ایک روز آپ کے استاد محترم مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو مشورہ دیا کہ مزید تعلیم کیلئے بریلی شریف چلے جائیں ، چنانچہ مولانا حبیب الرحمن علیہ الرحمہ نے آپ کو خانقاہ رضویہ بریلی شریف کے مدرسہ ’’جامعہ رضویہ منظر الاسلام ‘‘ میں داخلہ دلوایا۔ وہیں آپ نے صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی،محدث اعظم پاکستان مولانا سر دار احمد، شیخ الحدیث علامہ تقدس علی خان رضوی ، مولانا سردار علی خان رضوی ، مولانا احسان الہی وغیرہ اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی۔جب مفتی امجد علی اعظمی بریلی شریف سے’’دادوں‘‘چلے گئے تو آپ صدر الشریعہ کی خدمت میں دادوں حاضر ہو گئے اور مزید تین سال تک وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1938ء میں دورہ حدیث شریف مکمل کیا اور اسی سال دستار بندی ہوئی۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ: 1008)

حضرت مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ کو اللہ جل شانہ نے قوت حافظہ کی نعمت عطاء فرمائی تھی۔جو بات ایک بار پڑھ لیتے وہ ذہن میں نقش ہوجاتی۔کتبِ فقہ کی عبارات اور اختلاف آئمہ سب ذہن میں محفوظ تھا۔آپ نے خود بیان کیا کہ: ’’صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی﷫فرماتےتھے، کہ اساتذہ سےپوچھا کرو ،آج اگر شرم کروگے تو پھر کب سیکھوگے۔اس لیے کلاس میں سب سےزیادہ سوالات میں ہی کرتاتھا۔بعض دوسرے ساتھی جو صدرالشریعہ کے رعب کی وجہ سے گھبراتےتھے،وہ بھی مجھے کہتےتھے کہ میرا سوال حضرت سےپوچھو،چنانچہ میں پوچھ لیا کرتاتھا‘‘۔(مقدمہ وقارالفتاویٰ جلد اول)

ساری رات مطالعہ کرنا: حضرت مولانا مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ اکثر پوری پوری رات مطالعے میں گزار دیتےتھے۔بخاری شریف پڑھنے کےلیے’’عینی‘‘ کا مطالعہ کرنا اپنے اوپر لازم کرلیا تھا۔روزانہ بخاری شریف کے آٹھ صفحات پڑھنے ہوتے تھے،اور بخاری کے ایک صفحہ کی تشریح عینی کے کئی صفحات بن جاتے ہیں۔آپ کی محنت اور صلاحیت کی بناء پر فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں تدریس کےلئے منتخب کیا گیا۔

بیعت و خلافت:آپ بعد فراغت ِ تحصیلِ علم حجۃ الاسلام حضرت علامہ مولانا حامد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور ان کے چھوٹے بھائی مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی مصطفی رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے خلافت سے نوازا۔

سیرت و خصائص:جامع المنقول والمعقول،حاوی الفروع والاصول، فقیہ العصر،مفتیِ اعظم پاکستان،وقار الملت والدین حضرت علامہ مولانا مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ۔مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ علماء اہل سنت میں ایک علمی مقام رکھتے ہیں،آپ رحمۃ اللہ علیہ کی تدریسی، تصنیفی،قومی و ملی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہتمام علوم و فنون پر کامل مہارت رکھتےتھے۔بالخصوص فقہ میں تو فقیہ العصر اور اپنے وقت کے مفتیِ اعظم پاکستان تھے۔یہ سب کچھ آپ کی زمانۂ طالب علمی کی محنت،اور خداد صلاحیت، اور حضرت صدرالشریعہ ﷫ کی تربیت و محنت کی بدولت تھا۔دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف، کے پرنور ماحول میں طلباء کی ایسی ہی تربیت ہوا کرتی تھی،کہ ان کو دین و مسلک اور ملک و ملت کا درد ملتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس دار العلوم کے فیض یافتگان کی فہرست پر نظر کریں کہ ایک ایک طالب علم یہاں سے ایسا منور ہوا، کہ اس نے پھر ایک جہان کو منور کردیا۔مفتی صاحب علیہ الرحمہ بھی منظر اسلام کے خوشہ چیں تھے۔یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت،اور ملک وملت کی خدمت میں گزری۔

درس و تدریس:بعد فراغت منظر الاسلام بریلی شریف میں مدرس مقرر ہوئے اور ساتھ ہی ناظم تعلیمات کا عہدہ بھی سونپا گیا۔ اس طرح آپ تقریبا دس سال تک خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 1954ء کو دارالعلوم احمد یہ سنیہ چٹا گانگ ( بنگال ) میں آپ کو ناظم تعلیمات مقرر کیا گیا۔ وہیں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اسلام و سنیت کی اشاعت فرماتے رہے۔ مشرقی پاکستان ( بنگلہ دیش) کے حالات زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے 22/ مارچ 1971ء کو پاکستان تشریف لائے ۔ اور اسی سال کراچی میں اہل سنت و جماعت کی مرکزی درسگاہ دارالعلوم امجد یہ میں ناظم تعلیمات مقرر ہوئے۔ درس و تدریس کے ساتھ دارالافتاء کی ذمہ داری بھی آپ کے ذمہ تھی۔ آپ آخر تک دارالعلوم امجد یہ سے وابستہ رہے اور تدریسی و فتاویٰ کی خدمات سر انجام دیتے رہے۔فنِ تدریس میں آپ کو کمال حاصل تھا،تدریس میں عمر گزر گئی تھی لیکن پھر بھی دوسرے دن پڑھایا جانے والا سبق رات کو مطالعہ کرکے آرام فرماتےتھے۔دوران ِ سبق خود ہی سوال بناکر اس کاجواب دیتےکیونکہ آج کل کا طالب علم سوال کرنے گھبراتا ہے۔آپ کی ذات میں علم کےساتھ عمل اور فتویٰ کے ساتھ تقویٰ موجود تھا۔علم و تقویٰ میں آپ کا مقام بہت بلند تھا۔آپ ظاہر و باطن میں اللہ جل شانہ سے ڈرنے والےتھے۔آپ کے معاصرین تقویٰ و پرہیزگاری میں آپ کی شخصیت کو بطورِ مثال پیش کرتےتھے۔(مقدمہ وقار الفتاویٰ جلد اول :27)

اشاعتِ مَسلک:بنگال میں اہل سنت و جماعت کی خوب اشاعت کی ، عوامِ اہلِ سنت کو بیدار کیا، ہندو پاک سے بڑے بڑے علماء کو مدعو کر کے بڑی کانفرنسوں کا اہتمام کیا، عقائد اہل سنت کو علمی دلائل سے جلسوں میں پیش کیا اور مذاہب باطلہ کا کھل کر رد کیا۔ اس طرح عوام اہل سنت میں کتب بنیی کا شوق پیدا ہوا اس لئے وہ ہندوستان سے علماء اہل سنت کی کتابیں منگوانے لگے ، ڈھاکہ کے ایک مولاناصاحب نے اس تحریک سے متاثر ہو کر مفتی احمد یار خان نعیمی کی بعض کتابوں کا بنگال میں ترجمہ کیا اور وہ کتب چھپ کر عام ہوئیں ۔ دوسری طرف تدریس کے ذریعہ علماء تیار کر کے بنگال کو دیئے۔

مناظرہ: ضلع بریلی میں ایک تحصیل ’’میتھر‘‘ہے ۔اس تحصیل میں ’’ٹانڈہ‘‘ نام سےایک گاؤں ہے۔وہاں کی سنی عوام نے آکر حضرت قبلہ مفتی اعظم ہند ﷫ سے کہا کہ غیر مقلد ہمیں بہت پریشان کرتےہیں۔لہذ ا آپ کسی عالم کو بھیج دیجیے جو ان کو علمی اعتبار سے جواب دے سکے۔حضرت مفتی اعظم ہند نےمولانا مفتی وقارالدین﷫ کو حکم فرمایا کہ جائیں اور غیر مقلدین سے گفتگو کریں۔چنانچہ وہاں آپ تشریف لےگئے اللہ جل شانہ نے آپ کو فتحِ مبین عطاء فرمائی۔جب واپس آئے تو حضرت مفتیِ اعظم ہند ﷫ نے معززین شہر اور علماء کی ایک پروقار تقریب منعقد فرمائی،اور آپ کو اپنا جبہ اور دستار عطاء کی۔اس کے علاوہ اور بھی کئی مناظرےکیے،ہرجگہ کامیابی ملی۔(مقدمہ وقارالفتاویٰ جلد اول)

تصنیف و تالیف:مدرسہ کے انتظام و انصرام، درس و تدریس کی بے پنا ہ مصروفیات کی بناپر آپ کو تحریری کام کرنے کا موقع بہت کم ملا۔ ترجمانِ اہلسنت کراچی میں درسِ قرآن و درس ِحدیث کے عنوان میں چند مضامین شائع ہوئے۔ 1۔ وقار الفتاویٰ 3 جلدیں ۔مواعظِ وقارالملت۔ (ماخوذ از۔ انوار علمائے اہل سنت سندھ)

تاریخِ وصال:20/ربیع الاول 1413ھ مطابق 19/ستمبر1993ء،بروز ہفتہ بوقت نماز فجرواصل باللہ ہوئے۔آپ کو دار العلوم امجدیہ عالمگیر روڈ کراچی میں حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

 

حضرت مولانا مفتی محمد رضا علی خان بریلوی علیہ الرحمہ


 

اسمِ گرامی: حضرت مولانا رضا علی خان ۔ 

لقب: امام العلماء، قدوۃ الصلحاء ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:امام العلماء حضرت مولانا رضا علی خان بن حافظ محمد کاظم علی خان بن جناب محمد اعظم خان بن جناب محمد سعادت یارخان بن جناب محمد سعید اللہ خان بن عبدالرحمن بن یوسف خان قندھاری بن دولت خان بن داؤد خان۔(علیہم الرحمہ)

تاریخِ ولادت: آپ 1224ہجری  کوپیداہوئے۔

تحصیلِ علم: آپ علیہ الرحمہ نے مولانا خلیل الرحمن علیہ الرحمہ سے "ٹونک"(راجستھان ،ہند)تمام علومِ نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل وتکمیل فرمائی۔آپ علیہ الرحمہ 1245 ہجری  کو سندِ فراغ حاصل فرمائی۔آپ تمام علوم کے جامع تھے۔بالخصوص فقہ وتصوف میں مرجعِ خاص وعام تھے۔

سیرت وخصائص:قدوۃالواصلین،زبدۃ الکاملین،رئیس المتوکلین ومتصوفین، قطب الوقت،امام العلماء،سندالاتقیاء حضرت علامہ مولانا رضاعلی خان علیہ الرحمہ ۔خصوصاً نسبت کلام، سبقت سلام، زہد و قناعت، علم و تواضع، تجرید و تفرید آپ کی خصوصیات سے تھے۔ آپ کے اوصاف وکمالات شمارسےباہر ہیں۔آپ جیدعالمِ دین اور ولیِ کامل کےساتھ ساتھ پرتاثیر خطیب بھی تھے۔ آپ کےبیان سے متأثرہوکر بہت سے فساق وفجار تائب ہوکر لوٹتے تھے۔

کمالات:حضرت حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خاں صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، حضرت مولانا رضا علی خاں صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے کمالات و کرامات میں بیان فرماتے تھے :کہ حضرت کا گزر ایک روز"کوچۂ سیتارام "کی طرف سے ہوا۔ ہنود کے تہوار" ہولی "کا زمانہ تھا۔ ایک ہندوانی بازاری طوائف نے اپنے بالا خانہ سے حضرت پر رنگ چھوڑ دیا۔ یہ کیفیت شارع عام(سڑک) پر ایک جوشیلے مسلمان نے دیکھتے ہی، بالا خانہ پر جا کر تشدد کرنا چاہا، مگر حضور نے اُسے روکا اور فرمایا۔ بھائی! کیوں اس پر تشدد کرتے ہو؟ اس نے مجھ پر رنگ ڈالا ہے خدا اسے رنگ دے گا۔ یہ فرمانا تھا کہ وہ طوائف بے تابا نہ قدموں پر آکر گر پڑی، اور معافی مانگی، اور اسی وقت مشرف با اسلام ہوگئی۔ حضرت نے وہیں اس نوجوان کے ساتھ اس کا عقد (نکاح)کر دیا۔

اسی طرح 1857انگریز کے غدر کے زمانہ میں ان کے ظلم وستم سے بچنے کیلئےبہت سے مسلمان شہر چھوڑکر دیہاتوں کی طرف چلے گئے،اور بہت سے اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلتے تھے۔لیکن حضرت کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔باجماعت نماز اداکرتے تھے۔ایک دن حضرت مسجد میں تشریف فرماتھے کہ ادھر سے گوروں (انگریزوں) کا گزر ہوا۔ خیال ہوا کہ شاید مسجد میں کوئی شخص ہو تو اس کو پکڑ کرماریں پیٹیں۔(اس وقت مسلمانوں پر ایسے ظلم ہواکرتے تھے) انگریز مسجد میں گھسے، ادھر ادھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا۔ کہنے لگے کہ مسجد میں کوئی نہیں ہے۔ حالانکہ حضرت مسجد میں ہی تشریف فرماتھے۔اللہ تعالیٰ نے گوروں کو اندھاکردیا تھا کہ حضرت کو دیکھنے سے معذور رہے۔یہ کرامت حضرت کی اس معجزۂ صادقہ نبویہ ﷺ کی تصدیق ہے کہ شب ہجرت کفار کے درمیان میں سے حضور ﷺ تشریف لے گئے۔لیکن کفار کونظر نہ آئے۔

مجاہدِ جنگ آزدی: آپ اپنے وقت جید عالمِ دین ومفتی وصوفیِ باصفاء کےساتھ ساتھ "جلیل القدرمجاہد"بھی تھے۔ آپ جنگِ آزدی کے عظیم راہنماء تھے۔آپ تمام عمر انگریز سامراجیت کے خلاف برسرِ پیکار رہے۔"لارڈہسٹنگ"آپ کےنام سے کانپتاتھا۔"جنرل ہڈسن"نے آپ کے سرکی قیمت "پانچ سو روپے"مقرر کررکھی تھی۔لیکن گیدڑ انگریز رسول اللہ ﷺ کے شیر کاکچھ نہ بگاڑسکا۔انگریز نے آپ کی جائیداد ضبط کرلی،لیکن دنیا کے کتوں کوکیا معلوم؟

ان نفوسِ قدسیہ کےہاں تودنیاکی حیثیت مردارکی سی ہے۔

حضرت علامہ مولانا محمد حسن صاحب علمیؔ (مصنف خطبہ"علمیہ")جن کا خطبہ پاک ہند میں ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔ شہر تو شہر، دیہات تک مساجد میں وہی خطبہ پڑھا جاتا ہے۔ وہ حضرت ہی کے شاگرد و مرید تھے، اور یہ خطبہ آپ کی نظر انور سےگزرا ہوا ہے۔ اور آج تک جو" خطبۂ علمی" چھپتا ہے اس کے اخیر مصنف کی یہ عبارت ضرور ہوتی ہے۔"اس مؤلف عاصی محمد حسن علمیؔ کو امیدواری جناب باری عَزَّاِسْمُہٗ سے یہ ہے کہ اپنے فضل عمیم اور طفیل رسول کریم ملقب بہ "اِنَّکَ عَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ" کے ہم سب مومنین کو بعفو جرائم و عصیان اور فیضان تو توفیق و احسان کے عزت بخشے۔ اور ہمارے مرشدو مولیٰ، عالم علم ربانی، مقبول بارگاہ سبحانی، مخزن اسرار معقول و منقول، کاشف استار فروع و اصول، مطلع العلوم، مجمع الفہوم، عالم باعمل، فاضل بے بدل، منبع الاخلاق، منھل الاشفاق، مصدر احسان، مظہر امتنان، مولانا و مخدومنا، لوذعیِ زمان، مولوی رضا علی خان کو بیچ دونوں جہان کے رحمت خاصہ میں اپنے رکھ کر اقصیٰ مراتب قبولیت کو پہنچائے۔ آمین یارب العلمین

وصال پرملال : آپ علیہ الرحمہ  کا وصال 2 جمادی الاول 1286ہجری ، مطابق اگست 1869ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار بریلی شریف میں ہے ۔

(ماخذ و مراجع:حیاتِ اعلیٰ حضرت ۔ حیات مولانا نقی علی خان )