حضرت سیدنا خواجہ حبیب عجمی علیہ الرحمہ

 

آپ کا اصل نام :حبیب

 کنیت: ابو محمداور آپ کا تعلق فارس (ایران) سے تھا، اسی وجہ سے آپ کو "عجمی" یا "فارسی" کہا جاتا ہے۔

بیعت و خلافت: آپ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کے مرید اور مایہ ناز خلیفہ تھے۔

مستجاب الدعوات: آپ بہت بڑے عابد، زاہد اور مستجاب الدعاء (جن کی دعا فوراً قبول ہو) بزرگ تھے۔ آپ سے کثیر کرامات منسوب ہیں۔

حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی علیہ الرحمہ کی زندگی میں توبہ کا واقعہ تصوف کی تاریخ میں بہت مشہور اور عبرت ناک ہے۔ آپ کی توبہ کے حوالے سے تذکرہ نویسوں نے ایک تفصیلی واقعہ نقل کیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

توبہ کا پس منظر:توبہ سے پہلے آپ بصریٰ (عراق) کے ایک بہت بڑے سود خور اور مالدار تاجر تھے۔ آپ کا معمول تھا کہ روزانہ قرض داروں کے پاس جاتے اور ان سے سود وصول کرتے۔ اگر کوئی سود کی رقم نہ دے پاتا، تو آپ اس سے روزانہ کا جرمانہ یا ہرجانہ وصول کرتے تاکہ آپ کا اس دن کا وقت اور محنت ضائع نہ ہو۔

توبہ کا محرک: تین اہم واقعات: ایک دن آپ ایک مقروض کے گھر سود کی رقم لینے گئے۔ وہاں جو واقعات پیش آئے، انہوں نے آپ کے دل کی دنیا بدل دی،جب آپ مقروض کے گھر پہنچے، تو معلوم ہوا کہ وہ گھر پر نہیں ہے۔ اس کی بیوی نے کہا کہ ہمارے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ نے کہا کہ پھر مجھے کچھ نہ کچھ تو دینا ہی پڑے گا، ورنہ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ اس خاتون نے مجبور ہو کر بتایا کہ ہمارے گھر میں صرف ایک ذبح شدہ جانور کی گردن کا گوشت پڑا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ آپ نے وہی گوشت کا ٹکڑا سود کے عوض لے لیا اور گھر آ کر اپنی بیوی کو اسے پکانے کو کہا۔ جب ہانڈی چولہے پر چڑھی اور ابلنے لگی، تو اس میں سے گوشت کے بجائے خون آلود پانی ابلنے لگا اور ہانڈی سیاہ ہو گئی۔ یہ دیکھ کر آپ کے دل میں پہلا جھٹکا لگا۔

اسی دوران ایک سائل (فقیر) نے آپ کے دروازے پر دستک دی اور کھانے کا سوال کیا۔ آپ نے اسے جھڑک کر بھگا دیا اور کہا کہ اگر تمہیں یہ کھانا دے دیا تو ہم کیا کھائیں گے؟ اس واقعے نے بھی آپ کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔

اگلے دن جب آپ دوبارہ گلی سے گزر رہے تھے، تو کچھ بچے گلی میں کھیل رہے تھے۔ آپ کو دیکھ کر ایک بچے نے دوسرے سے کہا: "بھاگو! یہاں سے ہٹ جاؤ، سود خور حبیب آ رہا ہے، کہیں اس کی نحوست کا اثر ہم پر نہ پڑ جائے یا اس کے پاؤں کی اڑتی ہوئی دھول ہمیں نہ لگ جائے کہ ہم بھی نافرمان بن جائیں۔"

حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضری بچوں کے ان الفاظ نے حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ کے دل پر تیر کا کام کیا۔ آپ سخت نادم اور شرمسار ہوئے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ اسی وقت اس دور کے عظیم امام اور صوفی حضرت خواجہ حسن بصری علیہ الرحمہ کی مجلس کی طرف روانہ ہوئے۔

جب آپ مجلس میں پہنچے، تو رو رو کر اپنے گناہوں کا اعتراف کیا اور اللہ کے حضور سچی توبہ کی۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ نے آپ کو تسلی دی اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی ہدایت فرمائی۔

توبہ کے بعد کا طرزِ عمل: جب آپ مجلس سے واپس لوٹ رہے تھے، تو وہی بچے دوبارہ کھیل رہے تھے۔ آپ کو دیکھ کر اس بار بچوں نے ایک دوسرے سے کہا: "راستہ چھوڑ دو، دیکھو! اب حبیب تائب (توبہ کرنے والا) آ رہا ہے، کہیں ہمارے گناہوں کا غبار ان پر نہ پڑ جائے۔"

گھر پہنچ کر آپ نے درج ذیل اہم اقدامات کیے:

مال کی واپسی: آپ نے منادی (اعلان) کروا دی کہ جس کسی کا مجھ پر حق ہے یا جس سے میں نے سود لیا ہے، وہ آ کر اپنا مال لے جائے۔ چنانچہ لوگ آئے اور آپ نے سب کا مال واپس کر دیا۔

سب کچھ صدقہ کر دیا: یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ بچا، وہ بھی آپ نے اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا۔ جب پہننے کے لیے لباس بھی نہ رہا، تو آپ نے ایک ٹاٹ کا لباس بنا کر پہنا۔

عبادت گزاری: آپ نے فرات کے کنارے ایک جھونپڑی (صومعہ) بنائی اور دن رات اللہ کی عبادت، ریاضت اور تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو گئے۔

حضرت سیدنا حبیب عجمی کے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی، آپ کی زوجہ محترمہ گندھا ہوا آٹا رکھ کر پڑوس سے آگ لینے گئی تھیں تا کہ روٹی پکائیں۔ آپ نے وہی آٹا اٹھا کر سائل کو دے دیا، جب وہ آگ لے کر آئیں تو آٹا ندا رد (یعنی غائب) آپ نے فرمایا: اسے روٹی پکانے کے لیے لے گئے ہیں، بہت پوچھا تو آپ نے خیرات کر دینے کا واقعہ بتایا وہ بولیں: سبحان اللہ عزوجل ! یہ تو اچھی بات ہے مگر ہمیں بھی تو کچھ کھانے کے لئے درکار ہے! اتنے میں ایک شَخص ایک بڑی لگن بھر کر گوشت اور روٹی لے آیا۔ آپ نے فرمایا: دیکھو تمہیں کس قدر جلد لوٹا دیا گیا، گویا روٹی بھی پکا دی اور گوشت کا سالن مزید بھیج دیا!

ایک دن حبیب عجمی کی بیوی نے تنگدستی اور فقر و فاقہ کی شکایت کی اور مشورہ دیا کہ وہ گوشہ نشینی کی بجائے کچھ کمائے، حبیب نے کہا: فکر نہ کرو میں صبح سے مزدوری پر جاؤں گا۔ اور تمہارے لیے بہت کچھ کما کر لاؤں گا۔ دوسرے روز بھی ایک کونے میں جاکر سارا دن یاد الٰہی میں گزار دیا۔ رات کو بیوی نے مزدوری طلب کی، تو آپ نے بتایا کہ آج جس کی مزدوری کی ہے اس نے نقد نہیں دیا فکر نہ کرو کل لاؤں گا وہ ایسی ذات ہے کہ بے طلب مزدوری ادا کر دیا کرتا ہے۔

مجھے روزانہ طلب سے شرم محسوس ہوتی ہے۔ اب میں دس دن کے بعد مزدوری طلب کروں گا۔ عورت نے بڑی تکلیف سے دس دن نکالے دسویں دن حبیب گھر کو آ رہے تھے دل میں شرما رہے تھے آج بھی خالی ہاتھ ہوں۔ بچوں کے لیے کیا لے کر گھر جاؤں۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے حبیب کے گھر ایک شخص کو بھیجا جو ایک بوری آٹا اور ایک بھنی ہوئی بکری حبیب کی بیوی کو دے آیا۔ ایک اور شخص گھی اور شہد پہنچا آیا اور ایک اور شخص تیس ہزار دینارکی تھیلی دے کر کہنے لگا آپ کے خاوند جس شخص کے گھر مزدوری کرتے ہیں۔ اس نے ساری چیزیں بھیجی ہیں۔ اب حبیب کو کہہ دیں کہ اگر وہ زیادہ محنت سے کام کرے گا تو اسے زیادہ مزدوری دی جائے گی۔

رات کے وقت حبیب شرم سار خالی ہاتھ گھر لوٹے اور اپنی بیوی کو جواب دینے کو کوئی بہانہ سمجھ میں نہ آ رہا تھا گھر سے مزے دار کھانے کی خوشبو آئی بیوی خوش خوش سامنے آئی کہ جس شخص کے پاس کام کرتے ہو وہ تو بڑا سخی ہے یہ چیزیں اور اتنی رقم پہنچا کر کہہ گیا ہے کہ اور محنت کرو زیادہ مزدوری ملے گی۔یہ سنتے ہی حبیب عجمی کے آنکھوں سے آنسوں رواں ہو گئے ۔

آپ علیہ الرحمہ چونکہ نسلاً عجمی (ایرانی) تھے، اس لیے آپ علیہ الرحمہ عربی زبان روانی سے نہیں بول پاتے تھے اور قرآنِ پاک کے الفاظ صحیح مخارج سے ادا نہیں کر پاتے تھے۔ ایک شام حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ ان کے حجرے کے پاس سے گزرے۔ حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی نماز میں مصروف تھے۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ نے ان کی قرأت سنی تو مخارج درست نہ ہونے کی وجہ سے ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے بجائے الگ نماز پڑھ لی۔ اسی رات حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کو خواب میں دیدارِ الٰہی ہوا تو انہوں نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: "اے پروردگار! تیری رضا کس چیز میں ہے؟" ارشاد ہوا: "اے حسن! تم نے میری رضا پا لی ہوتی، اگر تم حبیب عجمی کے پیچھے نماز پڑھ لیتے۔ تم نے صرف زبان کی درستی کو دیکھا، جبکہ ہم ان کے دل کے خلوص اور سچائی کو دیکھ رہے تھے"۔صبح حضرت حسن بصری، حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ کے پاس آئے اور عقیدت کا اظہار کیا۔ جب کسی نے حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ سے پوچھا کہ آپ کی زبان تو عجمی ہے پھر آپ قرآن سن کر اتنا کیوں روتے ہیں؟

 تو انہوں نے خوبصورت جواب دیا: "میری زبان عجمی ہے تو کیا ہوا، میرا دل تو عربی ہے

حجاج بن یوسف کے سپاہیوں سے حفاظت :ایک مرتبہ وقت کا ظالم گورنر حجاج بن یوسف، حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کی گرفتاری کے لیے ان کے پیچھے پڑ گیا۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی کے حجرے میں تشریف لائے اور پناہ لی۔ تھوڑی ہی دیر میں حجاج کے مسلح سپاہی وہاں پہنچ گئے اور حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ سے پوچھا: "کیا حسن بصری یہاں آئے ہیں؟"

حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ نے جھوٹ کا سہارا لینے کے بجائے بالکل سچ کہہ دیا: "ہاں، وہ اندر میرے حجرے میں ہی بیٹھے ہیں"۔ سپاہی فوراً حجرے کے اندر داخل ہوئے، انہوں نے ہر جگہ تلاشی لی لیکن اللہ کے حکم سے انہیں حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ نظر ہی نہ آئے۔ وہ غصے میں باہر نکلے اور حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ سے بولے: "تم جیسے بزرگ ہو کر ہم سے مذاق کرتے ہو؟

 وہاں تو کوئی نہیں ہے" اور وہ چلے گئے۔سپاہیوں کے جانے کے بعد حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ باہر آئے اور فرمایا: "حبیب! تم نے تو مجھے پکڑوا ہی دیا تھا!" حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی نے عرض کی: "استادِ محترم! آپ میری سچائی کی برکت سے ہی بچے ہیں، اگر میں جھوٹ بول دیتا تو ہم دونوں پکڑ لیے جاتے۔

پوستین (عبا) کی چوکیداری کا واقعہ: ایک دن حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی نے اپنی پوستین (چمڑے یا اون کا بنا ہوا اوور کوٹ) بصرہ کے ایک چوراہے پر رکھ دی اور خود کچھ فاصلے پر وضو کرنے چلے گئے۔ وہاں سے حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کا گزر ہوا، انہوں نے پوستین پہچان لی اور سوچا کہ یہاں چور بہت ہیں، کوئی حبیب کی عبا نہ چرا لے۔ چنانچہ وہ خود وہاں کھڑے ہو کر اس کی نگرانی کرنے لگے۔ جب حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ وضو کر کے واپس آئے تو دیکھا کہ استادِ محترم چوکیداری کر رہے ہیں۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ نے ہلکے سے عتاب کے ساتھ پوچھا: "حبیب! تم یہ قیمتی چیز یہاں کس کے بھروسے پر چھوڑ گئے تھے؟

“حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ نے مسکرا کر بڑا عارفانہ جواب دیا: "عالی جاہ! میں اسے اس ذات کے بھروسے پر چھوڑ کر گیا تھا جس نے آپ جیسے عظیم امام کو اس کی چوکیداری پر مامور فرما دیا!

مہمان نوازی اور توکل کا واقعہ: ایک مرتبہ حضرت حسن بصری، حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی کے گھر تشریف فرما تھے اور کھانا کھا رہے تھے کہ اتنے میں دروازے پر ایک سائل (فقیر) نے آواز دی۔ حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی نے توکل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کے سامنے سے سارا کھانا اٹھایا اور سائل کو دے دیا۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ نے صوفیانہ تربیت کے انداز میں فرمایا: "حبیب! آپ آدابِ ضیافت (مہمان کے آداب) سے واقف نہیں، آپ کو چاہیے تھا کہ کچھ کھانا سائل کو دیتے اور کچھ مہمان کے لیے رہنے دیتے"۔ حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ خاموش رہے۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک شخص ایک بڑا تھال سر پر اٹھائے اندر داخل ہوا، جس میں بہترین لذیذ کھانے، حلوہ اور نقدی موجود تھی۔ حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ نے وہ کھانا حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کے سامنے رکھا اور عرض کی: "استادِ محترم! آپ علم کے پہاڑ ہیں لیکن توکل میں تھوڑے کچے ہیں، آپ علمِ ظاہر کے مطابق سوچ رہے تھے اور میں نے توکلِ باطن کے سودے پر عمل کیا تھا"۔

وصال پر ملال:  ہشام بن عبد الملک کے عہد میں 3 ربیع الآخر 156 ہجری بمطابق یکم مارچ 773 عیسوی میں وصال ہوا اور بصرہ میں مدفون ہوئے ۔ (روض الریاحین) 

ام المؤمنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اﷲ عنہا

 

اسمِ گرامی: سیدہ زینب بنتِ خزیمہ رضی اللہ عنھا ۔ 

لقب: ام المؤمنین، ام المساکین ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:زینب بنت خزیمہ بن عبد اللہ بن عمربن عبدمناف بن ہلال بن عامربن صعصۃ بن معاویہ بن بکر بن ھوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان ۔

شرفِ ام المؤمنین:پہلے ان کا نکاح حضرت عبد ﷲ بن جحش رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے ہوا تھا مگر جب وہ جنگ احد میں شہید ہو گئے تو 3ھ میں حضور اکرم ﷺ نے ان سے نکاح فرما لیا ۔

سیرت و خصائص:ام المومنین سیدہ حضرت زینب بنتِ خزیمہ رضی اللہ عنھا ۔ آپ زمانہ جاہلیت میں ہی غرباء اور مساکین کو بکثرت کھانا کھلایا کرتی تھیں اس لئے ان کا لقب "" ام المساکین "" (مسکینوں کی ماں) مشہورہوگیا۔
آپﷺ کی ازواج مطہرات میں سے دو بیویوں کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آنحضور ﷺ کی حیات طیبہ میں فوت ہوئیں اور آپ نے خود ان کا جنازہ پڑھایا اور انہیں دفن کیا ۔ باقی ازواج مطہرات آپ کی رحلت کے وقت زندہ تھیں اور آپ کے بعد کم یا زیادہ عرصہ انہیں حیات عارضی کے ماہ و سال نصیب ہوئے ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھاجو آپ کی پہلی زوجہ مطہرہ تھیں، مکہ میں ہجرت سے قبل داغ مفارقت دے گئیں ۔ ان کا غم آنحضور ﷺ زندگی بھر فراموش نہ کر سکے ۔ دوسری زوجہ مطہرہ جو آپ کی حیاتِ ظاہری میں موت سے ہمکنار ہوئیں، ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنھا تھیں ۔

ام المؤمنین حضرت زینب رضی اللہ عنھا قریش کی معزز خاتون تھیں ۔ اتنی فیاض اور فراخدل کہ ہمیشہ فقرا اورمساکین ان کی مدد اور خیرات سے فیض یاب ہوتے رہتے تھے ۔ امہات المومنین میں سے ان کوشرف حاصل ہوا کہ تاریخ نے انکی فیاضی اور غریب پروری کی وجہ سے انہیں " ام المساکین " کے لقب سےاپنے صفحات میں محفوظ کر لیا ۔ ان کا سلسلہ نسب بھی آنحضور ﷺ سے چند پشت اوپر جا ملتا ہے ۔

جنگ احد میں 70 صحابۂ کرام شہید ہوئے تھے ۔ مدینہ کی بہت سی جوان عورتیں بیوہ اور بہت سے معصوم بچے یتیم ہو گئے ۔ مدینہ پر غم کی چادر تنی ہوئی تھی مگر صحابہ و صحابیات کا کمال ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا ۔

حضرت عبد اللہ بن جحش کی اہلیہ حضرت زینب بنت خزیمہ اپنے محبوب شوہر کی شہادت پر انتہائی غمزدہ تھیں ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے مگر زبان پر انا للہ وا نا الیہ راجعون تھا ۔

جنگِ احد کے بعد آنحضور ﷺ نے تمام شہدا کے گھروں میں جا کر ان کے لواحقین کو تسلیاں دیں ۔ حضرت زینب کے غم کو آنحضور ﷺ محسوس کیا کرتے تھے ۔ عدت کے ایام گزرنے کے بعد آپ نے حضرت زینب بنت خزیمہ کو نکاح کا پیغام دیا ۔ آپ کے پیش نظر یہی تھا کہ ان کی سرپرستی کی جائے ۔ حضرت زینب نے آنحضور ﷺ کا پیغام بخوشی قبول کیا ۔ یوں 3ہجری میں حضرت زینب حرم نبوی میں داخل ہوئیں ۔

وصال پر ملال: حضور پاک ﷺ کی زوجیّت میں آنے کے فقط تین ماہ بعد، 03 ربیع الثّانی 04ہجری کو 30 برس کی عمر میں وصال فرمایا۔امہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہنا میں سے صرف آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔آپ کی تدفین جنّت البقیع میں دیگر ازواجِ مطہّرات کے پہلو میں کی گئی۔ (ماخذ و مراجع:سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ۔ امہات المؤمنین ۔ زرقانی )

شیخ المحدثین حضرت محمد وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ

 

کشورِ ہند میں درسِ حدیث کی مقدس محفلیں سجانے والی محترم و مکرم ہستیوںمیں ایک نمایاں نام شیخ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کا بھی ہے ۔ آپ کا اسمِ گرامی وصی احمد بن مولانا محمد طیب بن مولانا محمد قاسم بن مولانا محمد طاہر ہے۔ اور مشہور لقب" شیخ المحدثین" ہے۔

حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کا نسبی تعلق حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے صاحب زادے محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ اس لحاظ سے آپ "حنفی علوی" ہیں۔ آپ کے جد اعلیٰ مولانا قاسم بن شیخ طاہر جو مدینۂ منورہ کے باشندے تھے اپنے اہل و عیال کے ساتھ سولہویں صدی عیسوی کے ربع آخر میں شاہِ جہاں کے زمانے میں ہندوستان تشریف لائے اور سورت کی بندرگاہ سے راندیر پہنچے۔حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کے خاندان کے افراد دو حصوں میں منقسم ہوکر ایک راندیر ہی میں سکونت پذیر ہوگیا جب کہ دوسرے افراد شاہی فوج میں ملازمت اختیار کرکے عنایت خاں بن قاسم کی سرپرستی میں بنگال جاکر مقیم ہوگئے۔

حضرت مولاناوصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کے جد اعلیٰ مولانا محمدقاسم نے راندیر(سورت) میں تعلیم و تربیت کاسلسلہ شروع کیا اور تدریسی و تبلیغی سرگرمیاں انجام دینے لگے ۔اس زمانے میں سورت ایک مشہور تجارتی مرکز اور بندرگاہ تھی، لہٰذا اہل و عیال کی پرورش و پرداخت کے لیے آپ نے اسی قصبے میں کپڑوں کی تجارت شروع کی ۔یہیں آپ  علیہ الرحمہ نے1252ھ/1836ءکوآنکھ کھولی۔

ابتدائی تعلیم و تربیت:شیخ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کا خانوادہ مدینۃ العلم سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے نسبی تعلق رکھتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے بزرگوں میں علمی وجاہت بدرجۂ اتم پائی جاتی تھی۔ آپ کے دادا مولانامحمد قاسم اپنے عہد کے بڑے متبحر عالم و فاضل اور متقی و پرہیزگار بزرگ تھے۔ اور والدِ ماجد مولانا محمد طیب کا شمار بھی اپنے عصر کے ممتاز اور یگانۂ روزگار علما میں ہوتا تھا۔ چناں چہ حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کو علم کا شوق اور ذہانت و فطانت ورثہ میں ملی تھی۔ منزلِ ہوش میں قدم رکھتے ہی آپ علم کی تحصیل کی طرف متوجہ ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے والدِگرامی مولانا محمد طیب سورتی سے حاصل کی۔

ہجرت:ابھی سلسلۂ تعلیم کی تکمیل بھی نہ ہوسکی تھی کہ1857ء کی تحریکِ آزادی شروع ہوگئی۔ حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کا خانوادہ انگریز دشمنی میں مشہور تھا اور انگریزوں کے خلاف آپ کے خاندان کے افراد نے بھی جنگِ آزادی میں بھر پور حصہ لیا جس میں مولانا محمد طیب سُورتی کے دو صاحبزادے اور دیگر رشتہ دار شہید ہوئے۔آپ کی دکان جلاکر خاکستر کردی گئی اور مکانات پر انگریزوں نے قبضہ جمالیا ۔شیخ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کےوالدین اور بھائی مولانا عبد اللطیف اور دیگر اہلِ خانہ بغداد ہجرت کرگئے اور وہاں تین سال تک رہنے کے بعد حجازِ مقدّس حاضر ہوئے۔ جہاں فریضۂ حج کی ادایگی اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دی بعدہٗ جب ہندوستان کے حالات سازگار ہوئے توواپس ہندوستان کی طرف رُخ کیا راستے  میں والد گرامی انتقال فرماگئے اور راندیر پہنچنے کے بعد والدۂ محترمہ بھی وفات پاگئیں ۔

اعلیٰ تعلیم کا حصول:ان پے درپے حادثات نے حضرت وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کے دل پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آپ نے اپنے چھوٹے بھائی مولانا عبد اللطیف کو ساتھ لیا اور راندیر سے اعلیٰ دینی تعلیم کی تحصیل کے لیے دہلی کی طرف کوچ کیا اور مسجد فتح پوری دہلی میں قیام کیا۔ اُس وقت مسجد فتح پوری میں حضرت مفتی محمد مسعود محدث دہلوی درس و تدریس میں مصروف تھے۔اُن کے ہی مشورے پر مدر سۂ حُسین بخش ، دہلی میں داخلہ لیا اور علما و فضلاسے صرف و نحو، تفسیر و تراجم اور دیگر قرآنی علوم حاصل کیے اور ایک سال بعد مدرسۂ فیض عام کانپور میں داخلہ لیا۔بعدہٗ وہاں سے علی گڑھ گئے جہاں مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مفتی صاحب سے خوب خوب اکتسابِ فیض کیا اور اپنی زنبیلِ حیات میں علم وفضل کے خزینے یکجا کیے اور 1868ء میں اس دور کے جملہ علومِ عقلیہ و نقلیہ، فقہ و تفسیراور حدیث و اصولِ حدیث کی تکمیل کرلی ۔ علی گڑھ میں آپ نے مولانا محمد علی کان پوری مونگیری سے بھی درس لیا ۔

بیعت و خلافت:اویسِ دوراں حضرت مولاناشاہ فضل رحمٰن گنج مراد آبادی  علیہ الرحمہ متوفی1313ھ سے دورانِ تعلیم بیعت ہوئے اور تکمیلِ ریاضت کے بعد خلافت سے سر فراز ہوئے۔ اِسی دوران اعلیٰ حضر ت عظیم البرکت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ سے بھی گہرے تعلقات استوار ہوئے جس کا تذکرہ آگے کیا جائے گا۔

دورۂ حدیث:چوں کہ آپ کو علمِ حدیث سے خصوصی لگاو اور شغف تھا اس لیے اُس میں مزید پختگی کی غرض سے استاذِ محترم مولانالطف اللہ علی گڑھی اور پیر و مرشد حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی  علیہ الرحمہ کی ایما پر اُس زمانے کے مشہور محدث مولانا احمد علی سہارن پوری متوفی 1297ھ کے حلقۂ درس میں شامل ہوئے ۔ جہاں حضرت مولانا سید پیرمہر علی شاہ گولڑوی اور حضرت مولانا دیدار علی شاہ محدث الوری علیہم الرحمہ جیسی عظیم ہستیاں آپ کی ہم درس ہوئیں۔علم و فضل میں یگانہ استاذ اور ذی فہم و ذی علم رفیقانِ درس کی صحبت نے حضرت وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کواتنا نکھارا اور سنوارا کہ آگے چل کر آپ "شیخ المحدثین" کے لقب سے مشہور ہوئے۔

حضرت وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کے تذکرہ نگاروں کے مطابق محدث سہارن پوری مولانا علی احمد صاحب جو اپنے زمانے میں تشنگانِ علومِ نبویہ کے لیے ایک سمندر کا درجہ رکھتے تھے ۔ حضرت محدث سورتی پر خاص لطف و عنایت فرمایا کرتے تھے جس کا سبب آپ کی بے پناہ ذہانت و فطانت ، قوتِ حافظہ اور تحصیل علم کا ذوق و شوق تھا۔ دوسری وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ حضرت محدث سورتی کے پیر و مرشد حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی  علیہ الرحمہ اور محدث سہارن پوری دونوں ہی خانوادۂ ولی اللہی سے فیض یافتہ تھے اور مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی ، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے خاص تلامذہ میں سے تھے۔ محدث سہارن پوری کے دل میں آپ کے لیے بے پناہ عقیدت و محبت تھی ، لہٰذا آپ کے ذریعے روانہ کیے گئے مرید حضرت وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ پر آپ خصوصی التفات فرمایا کرتے تھے۔

تعلیم طب:اُس زمانے کی روایت کے مطابق حضرت وصی احمد محدث سورتی نے مقدور بھر علم طب بھی حاصل کیا ۔شروع میں آپ نے لکھنؤ جھوائی ٹولہ کے معروف حکیم عبدالعزیز متوفی1329ھ کی کتابوں سے استفادہ کیا اور بذریعہ خط و کتابت معلومات حاصل کرتے رہے۔ حکیم صاحب نے آپ علیہ الرحمہ کی رغبت کا اندازہ لگایا تو لکھنؤ طلب کرلیا جہاں آپ علیہ الرحمہ نے تقریباًچھ ماہ حکیم صاحب کے نائب کی حیثیت سے ان کے مطب میں خدمات انجام دیں اور سند حاصل کرکے واپس کانپور آگئے۔
اساتذہ کرام:

حضرت مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی علیہ الرحمہ

حضرت مولانا احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ

حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی علیہ الرحمہ

حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری علیہ الرحمہ

حضرت مولانا محمد علی مونگیری علیہ الرحمہ

آغازِتدریس:شیخ المحدثین حضرت وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ سہارن پور سے تکمیل درسِ حدیث کے بعد اپنے پیر ومرشد حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی  علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ۔ ان کے یہاں رہ کر علومِ باطنی سے بہرہ ور ہوئے۔ مجاہدہ و ریاضت، تزکیۂ نفس اور تصوف و معرفت کی عظیم دولت حاصل کی۔ کچھ عرصہ بعد مرشدِ گرامی نے اپنی خلافت و اجازت سے نوازا اور علم حدیث کی ترویج و اشاعت کا حکم فرمایا۔چناں چہ مرشدِ برحق کے ایما و اشارہ پر آپ کان پور تشریف لائے ۔جہاں استاذِ محترم مولانا احمد حسن کان پوری کے پاس قیام کیا۔ مولانا نے اپنے اس تلمیذِ خاص کے ساتھ اپنی چھوٹی سالی کا بیاہ فرمادیا ، اور مدرسۂ فیض عام کان پور میں محدث کے عہدے پر متمکن کیا ۔ حضرت وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ نے چند سال اس مدرسہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دئیے اور تشنگانِ علومِ حدیث کی سیرابی کا کام انجا م دیا۔ وہاں سے کچھ عرصہ فرنگی محل لکھنو میں بھی درس و تدریس کی محفل سجائی۔

مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت :شیخ المحدثین حضرت وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کی سسرال پیلی بھیت میں تھی۔ بایں سبب اکثر آپ وہاں جایا کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی  علیہ الرحمہ کے مریدین کی ایک اچھی خاصی تعداد پیلی بھیت میں موجود تھی۔ وہاں کے علمااور عوام و خواص کی خواہش تھی کہ حضرت محدث سورتی پیلی بھیت تشریف لائیں اور علمِ حدیث کے تشنگان کی پیاس بجھائیں۔ چناں چہ مولاناحکیم خلیل الرحمٰن خاں کی درخواست پر پیر و مرشد حضرت شیخ گنج مرادآبادی علیہ الرحمہ نے محدث سورتی کو پیلی بھیت جاکر درسِ حدیث کا حکم دیا اور حکیم خلیل الرحمٰن نے نواب حافظ رحمت خاں کی تعمیر کردہ مسجد میں مدرسہ حافظیہ قائم کیا جس میں محدث سورتی علیہ الرحمہ نے درسِ حدیث کا آغاز فرمایا ۔ علم و فضل کا دریا جب جوش پر ہوا تو دور دراز سے جوق در جوق طلبہ آنے لگے ۔ طلبہ کی تعداد کافی ہوگئی تو مسجد کے سامنے ایک وسیع زمین خرید کر حضرت محدث سورتی نے "مدرسۃ الحدیث، پیلی بھیت" تعمیر کرایا ۔ جس کا سنگِ بنیاد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ نے فرمایا اور اِس موقع پر تین گھنٹے علم حدیث پر تقریر فرمائی۔

مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت میں حضرت وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ نے اپنی وفات 1334ھ تک پورے عزم و استقلال اور خلوص و للہیت کے ساتھ درسِ حدیث کی نورانی و عرفانی محفلیں آراستہ فرمائیں۔ آپ کے مخلصانہ طریقۂ تدریس اور محدثانہ بصیرت کا ڈنکا ملک کے گوشے گوشے میں بجنے لگادور دراز سے علمِ حدیث کے پیاسے اس چشمۂ جاری کے پاس جمع ہونے لگے اور آپ کے علمی فیوض و برکات سے مالامال ہوکر دین و سنیت کی ترویج و اشاعت اور ایمان وعقیدے کی حفاطت کا کام انجام دینے لگے۔

شیخ المحدثین حضرت وصی احمد محدث سورتی علومِ اسلامیہ پر بڑی عمیق نگاہ رکھتے تھے ۔ فقہ و تفسیر، منطق و فلسفہ وغیرہ جملہ علومِ عقلیہ و نقلیہ کی بیک وقت تدریس میں آپ کو مہارت حاصل تھی ۔ لیکن ان کا خاص موضوع "فنِ حدیث" تھا۔ انھوں نے مکمل چالیس سال تک درسِ حدیث میں گذارے ۔ بے شمار احادیث اسناد کے ساتھ ان کو ازبر تھیں۔ صبح سے ظہر تک اور ظہر سے رات تک درس دیتے تھے ۔ انھوں نے بے وضو کبھی کسی کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ ہی اس کا درس دیا۔ دورانِ درس نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نامِ مبارک کو ادا کرنے کے بعد قدرے توقف فرماتے تھے۔ آقاے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاں بھی اسمِ گرامی آتا بڑی محبت و الفت کا ساتھ درود و سلام کا نذرانہ پیش فرماتے ۔

علمِ حدیث کی تدریس میں مولانا احمد علی محدث سہارن پوری آپ کو اپنا جانشین کہا کرتے تھے۔ علامہ ہدایت اللہ خاں رام پوری (متوفی 1336ھ) امام احمد رضا بریلوی، مولانا عبدالوہاب فرنگی محلی علی گڑھی، مولانا احمد حسن کان پوری اور مولانا شاہ فضل رحمٰن قدس سرہم فنِ حدیث میں ان کی مہارتِ تامہ اور وسعتِ نظری کے معترف بلکہ مدّاح تھے۔ یہاں تک کہ اول الذکر اور آخری تین بزرگ اپنے تلامذہ کو دورۂ حدیث کے لیے انھیں کے پاس بھیجا کرتے تھے۔

معروف تلامذہ:علمِ حدیث کے اس چشمۂ شیریں سے اپنی پیاس بجھانے والے حضرات کی تعداد بہت ہے اور قطعی تعداد معلوم کرنا تونہایت مشکل ، ذیل میں اہم اور مقتدر تلامذہ کے اسماے گرامی نشانِ خاطر فرمائیں اور اس فہرست میں شامل شخصیات کے ناموں اور کاموں سے استاذِ مکرم شیخ المحدثین حضرت وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کی عظمت و رفعت کا اندازہ لگائیں:

صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی  علیہ الرحمہ

محدث اعظم ہند حضرت مولانا سید محمد اشرفی کچھو چھوی  علیہ الرحمہ

ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری  علیہ الرحمہ

پروفیسر مولانا سید محمد سلیمان اشرف بہاری  علیہ الرحمہ

قطبِ مدینہ مولانا شاہ ضیاء الدین احمد مدنی  اشرفی علیہ الرحمہ

حضرت مولانا عبدا لحٰ پیلی بھیتی  علیہ الرحمہ

حضرت مولانا محمد شفیع بیسلپوری  علیہ الرحمہ

مولانا عزیز الحسن پھپو ندوی  علیہ الرحمہ

سید خادم حسین محدث علی پوری  علیہ الرحمہ

حضرت علامہ قاری غلام محی الدین شیر وی علیہ الرحمہ

مولانا فضلِ حق رحمانی علیہ الرحمہ

مولانا نثار احمد کانپوری  علیہ الرحمہ

مولانا عبدالعزیز خان محدث بجنوری  علیہ الرحمہ

مولانا عبد القدیر میاں پیلی بھیتی  علیہ الرحمہ

مولانا حافظ محمد احسن کانپوری

مولانا مصباح الحسن پھپوندوی  علیہ الرحمہ

مولانا حافظ محمد اسماعیل محمود آبادی  علیہ الرحمہ

مولانا مشتاق احمد کانپوری  علیہ الرحمہ

مفتی عبد القادر لاہوری  علیہ الرحمہ

مولانا محمد قمر علی ہزاروی  علیہ الرحمہ

مولانا امداد حسین رامپوری  علیہ الرحمہ

مولانا عبد السلام گھوسی  علیہ الرحمہ

قاضی عبد الوحید عظیم آبادی  علیہ الرحمہ

ابوالمساکین مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی  علیہ الرحمہ

قاضی خلیل الدین حسن حافظ پیلی بھیتی علیہ الرحمہ

مولانا حبیب الرحمن خان پیلی بھیتی  علیہ الرحمہ

مولانا عبدالحق کر گہنوی  علیہ الرحمہ

مولانا عبدالحق محدث پیلی بھیتی  علیہ الرحمہ

مولانا حافظ یعقوب علی خان  علیہ الرحمہ

مولانا حکیم عبدالجبار خان  علیہ الرحمہ

اولاد امجاد: شیخ المحدثین حضرت وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کے ایک صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں تھیں۔ صاحبزادے سلطان الواعظین مولانا عبد الاحد محدث پیلی بھیتی  علیہ الرحمہ کو اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ  سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔ آپ کے وعظ میں جادو کی تاثیر تھی ۔زورِ خطابت سے خوش ہوکر اعلیٰ حضرت نےآپ کو " سلطان الواعظین"کا خطاب مرحمت فرمایا۔1313ہجری میں آپ نے اعلیٰ حضرت کی معیت میں حج بھی کیا۔ امام احمد رضا بریلوی نے اپنی مشہور نظم الاستمدادکے ایک شعر میں اپنے اِس عزیز کا یوں ذکربھی فرمایا :

اِک اِک وعظِ عبدالاحد پر

کیسے نتھنے پھلاتے یہ ہیں

تصانیف:حضرت محدث سورتی نے درس و تدریس کے ساتھ ساتھ دینِ متین کی تائید و حمایت اور سنیت کی ترویج و اشاعت کے لیے اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود علمی و تحقیقی تصانیف بھی قلم بند فرمائیں ۔۲۵سے زائد کتبِ حدیث وفقہ کی شرح لکھی۔آپ کی تصانیف میں سے چند کے اسما ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

حاشیہ مدارک حاشیہ بیضاوی (قلمی)

حاشیہ جلالین(قلمی) تعلیقات سنن نسائی

حاشیہ شرح معانی الآثار شرح سنن ابی داؤد (قلمی)

تعلیقات شروح اربعہ ترمذی شریف التعلیق المجلیٰ لما فی منیۃالمصلّی

جامع الشواہد شرح مشکوٰۃ المصابیح(قلمی)

حاشیہ شافعیہ انفع الشواہد

تعلیقات شرح ملا حسن حاشیہ میبذی

الدرّۃ فی عقد الایدی تحت السرّۃ کشف الغمامۃ عن سنیتہ العمامہ

امام بقالی اور مکتوب اعلیٰ حضرت وغیرہ۔

امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ سے مراسم : شیخ المحدثین حضرت وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ کے دل میں امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ کی بے پناہ عقیدت و محبت رچی بسی ہوئی تھی۔ آپ اکثر و بیشتر دوران درس بڑے خلوص و احترام کے ساتھ امام احمد رضا کا ذکرِ جمیل فرمایا کرتے تھے۔ چناں چہ اس ضمن میں حضور محدثِ اعظم ہند کچھوچھوی علیہ الرحمہ کے ان جملوں کو یہاں پیش کرنا غیر مناسب نہ ہوگا، جن سے امام احمد رضا کے تئیں حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ کا والہانہ جذبۂ محبت ٹپکتا ہے :
"
میرے استادفن حدیث کے امام(حضرت وصی احمد محدث سورتی) کو بیعت حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی سے تھی مگر حضرت کی زبان پر پیر ومرشد کا ذکر میرے سامنے کبھی نہ آیا اور اعلیٰ حضرت کے بکثرت تذکرے محویت کے ساتھ فرماتے رہتے ۔ اس وقت تک بریلی حاضر نہ ہوا تھا۔ اس انداز کو دیکھ کر میں نے ایک دن عرض کیا کہ:" آپ سے آپ کے پیرومرشد کا تذکرہ نہیں سنتا اور اعلیٰ حضرت کاآپ خطبہ پڑھتے رہتے ہیں ۔" فرمایاکہ :"جب میں نے پیر و مرشد سے بیعت کی تھی بایں معنی مسلمان تھا کہ میرا سارا خاندان مسلمان سمجھا جاتا تھا، مگر جب اعلیٰ حضرت سے ملنے لگا تو مجھ کو ایمان کی حلاوت مل گئی۔ اب میرا ایمان رسمی نہیںہے۔بلکہ بعونہٖ تعالیٰ حقیقی ہے جس نے حقیقی ایمان بخشا اس کی یاد سے اپنےدل کو تسکین دیتا رہتا ہوں۔" حضرت کا اندازِ بیان اور اس وقت چشمِ پُرنم۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ واقعی ولی را ولی می شناسد اور عالم را عالم می داند ۔ میں نےعرض کیاکہ:" علم الحدیث میں کیا وہ آپ کے برابر ہیں ۔" فرمایا کہ:" ہرگز نہیں۔" پھر فرمایا کہ:" شہزادہ صاحب !آپ کچھ سمجھے کہ ہرگز نہیں کا کیا مطلب ہے ؟ سنیے !اعلیٰ حضرت اس فن میں امیرالمؤمنین فی الحدیث ہیں کہ سالہا سال تک صرف اس میں تلمذ کروں تو بھی ان کا پاسنگ نہ ٹھہروں ۔"(ماہ نامہ المیزان ، بمبئی، امام احمد رضا نمبر ، اپریل، مئی ، جون 1976ء ص247)

استادِ مکرم کاامام احمد رضا سے متعلق اسی الفت و محبت کے جذبے نے مہمیز کیا تو حضرت محدث اعظم ہند کچھوچھوی علیہ الرحمہ نے بریلی کا قصد فرمایا اور اعلیٰ حضرت سے ایسا متاثر ہوئے کہ تاعمر مسلکِ رضا کے فروغ واستحکام کواپنا نصب العین بنا لیا۔ لکھتے ہیں :"حضرت محدث صاحب قبلہ کے اسی قسم کے ارشادات نے میرے دل کو بریلی کی طرف کھینچا اور بالآخر آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اعلیٰ حضرت کیا ہیں؟ اس کا اندازہ بڑے سے بڑا مبصر بھی نہیں کرسکتا۔"(ایضاً)

اخلاق و عادات :شیخ المحدثین حضرت وصی احمد محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ" حنفی علوی "تھے۔ حضرت مولاے کائنات علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے نسبی رشتہ تھا۔ یہی سبب ہے کہ آپ کے اندر خوف و خشیت الٰہی اور دین پر ثابت قدمی کا جوہر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آپ اخلاق و کردا ر کے بلند مرتبے پر فائز تھے۔ آپ عمل صالح اور حُسنِ کردار کے حسین و جمیل پیکر تھے۔ اُن کی زندگی اَسلافِ کرام کا بہترین نمونہ تھی۔ علمِ دین بالخصوص علمِ حدیث کی ترویج و اشاعت اور اتباعِ سنت آپ کو محبوب ترین مشغلہ تھا۔ عبادت و ریاضت میں اکثر اوقات بسر ہوتے ۔ہمیشہ باوضو رہتے کبھی کسی کتاب کو بے وضو ہاتھ نہیں لگایا۔ لباس اور غذاسادہ استعمال کرتے ،بڑے خلیق اور منکسرالمزاج ، اخلاص و ایثار اور سادگی کا مجسمہ تھے۔ آپ کی ایک ایک اداسے سنتِ مصطفیٰ علیۃ التحیۃ والثناء کی اتباع جھلکتی تھی۔علماے حق اور ساداتِ کرام کی بے پناہ عزت و تکریم فرمایا کرتے تھے۔ہاں! دشمنانِ دین کے لیے شمشیرِ برہنہ تھے۔ بڑے سخی اور فیاض تھے اپنے شاگردوں کی مالی امداد و اعانت بھی کیا کرتے تھے۔ غرض یہ کہ علم حدیث کی گراں قدردولت سے مالامال شیخ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی  علیہ الرحمہ اللہ رب العزت جل جلالہٗ کےمحبوب اولیا میں سے تھے۔

وصال  پرملال: 8جمادی الاخریٰ 1334ھ بمطابق 12 اپریل1916ء بروز بدھ کو علم حدیث کے اس جبل شامخ نے اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ فرمایا۔ آپ کی نمازِ جنازہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامدرضا خاں  علیہ الرحمہ نے پڑھائی۔ مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت کے سامنے مسجد کے احاطہ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی نے قرآن حکیم کی آیتِ کریمہ یطاف علیھم بانیۃ من فضہ واکواب سے تاریخِ وفات1334ہجری  نکالی اور فرمایا کہ اگر اس میں واو شامل کردیا جائے تو میری تاریخ ہوجائے گی۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا چھ سال بعد 1340ہجری  میں اعلیٰ حضرت امام احمدرضا بریلوی نے وصال فرمایا۔ (الاستمداد، تذکرۂ محدث سورتی، ماہ نامہ المیزان اما م احمدرضا نمبر ، تذکرۂ علماے اہل سنت، محدثین عظام حیات و خدمات، خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضاجلد دوم،کلیاتِ مکاتیب رضاجلد دوم)