لِيْ خَمْسَةٌ أُطْفِي بِهَا حَرَّ الوَبَاءِ الحَاطِمَةِ


 توسلِ پنجتن پاک و ائمہ اطہار (علہم السلام): متن، اعراب، ترجمہ، فوائد اور مستند مآخذ

مندرجہ ذیل منظوم توسل بحرِ کامل/رجز کے وزن پر منسوب و معروف ہے۔ اس میں حضرت خاتم الانبیاء ﷺ، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت فاطمہ الزہرا اور حسنین کریمین (پنجتن پاک) کے ساتھ ساتھ بارہ ائمہ اطہار علیہم السلام کا اسمائے گرامی کے ساتھ توسل اختیار کیا گیا ہے۔

لِيْ خَمْسَةٌ أُطْفِي بِهَا ٭ حَرَّ الوَبَاءِ الحَاطِمَةِ
اَلمُصْطَفَى وَالمُرْتَضٰى ٭ وَابْنَاهُمَا وَالفَاطِمَةُ
 
مَا بَعْدَهُمْ مِنْ نَسْلِهِمْ ٭ قَدْ جَاءَنِي مِنْ قَبْلِهِمْ
العَابِدُ وَالبَاقِرُ وَ ٭ الصَّادِقُ وَالْكَاظِمَةُ
 
ثُمَّ الرِّضَا ثُمَّ التَّقِي ٭ ثُمَّ النَّقِي ثُمَّ عَسْكَرِي
ثُمَّ المَهْدِيُّ هَادِيًا ٭ حَضْرَةِ إِمَامِ الخَاتِمَةِ

 

شعر 1:

عربی: لِي ْخَمْسَةٌ أُطْفِي بِهَا ٭ حَرَّ الوَبَاءِ الحَاطِمَةِ / المُصْطَفَى وَالمُرْتَضَى ٭ وَابْنَاهُمَا وَالفَاطِمَةُ

ترجمہ: میرے پاس پانچ ایسی عظیم و برگزیدہ ہستیاں ہیں جن کے وسیلے سے میں توڑ کر رکھ دینے والی وبا اور مصیبت کی گرمی و شدت کو بجھا دیتا (تلف کر دیتا) ہوں۔ وہ ہستیاں ہیں: حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، حضرت علی مرتضیٰ(کرم اللہ وجہہ الکریم)، ان کے دونوں فرزند (حضرت سیدنا امام حسن و امام حسین (رضوان اللہ علیہم ) اور حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)۔

شعر 2:

عربی: مَا بَعْدَهُمْ مِنْ نَسْلِهِمْ ٭ قَدْ جَاءَنِي مِنْ قَبْلِهِمْ / العَابِدُ وَالبَاقِرُ وَ ٭ الصَّادِقُ وَالْكَاظِمَةُ

ترجمہ: ان (پنجتن پاک) کے بعد ان کی مبارک نسل سے جن کی برکات و انوار مجھے ان کے توسل سے حاصل ہوئے، وہ ہیں: حضرت سیدناا مام زین العابدین، حضرت سیدنا امام محمد باقر، حضرت سیدنا امام جعفر صادق اور حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم (علیہم السلام)۔

شعر 3:

عربی: ثُمَّ الرِّضَا ثُمَّ التَّقِيْ ٭ ثُمَّ النَّقِيْ ثُمَّ عَسْكَرِي ْ/ ثُمَّ المَهْدِيُّ هَادِيًا ٭ حَضْرَةِ إِمَامِ الخَاتِمَةِ

ترجمہ: پھر حضرت سیدنا امام علی رضا، پھر حضرت سیدنا امام محمد تقی، پھر حضرت سیدنا امام علی نقی، پھر حضرت سیدنا امام حسن عسکری، اور ان کے بعد ہدایت دینے والے حضرت سیدنا امام مہدی، جو آخری امام کی با عظمت بارگاہ/حضرت ہیں۔

ان اشعار کی بنیاد رسولِ خدا ﷺ کے اس معروف فرمان پر ہے جس میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "میرے اہل بیت کی مثال سفینہِ نوح کی مانند ہے، جو اس میں سوار ہوا اس نے نجات پائی"۔ مشائخِ کرام نے ان ابیات کو انہی احادیثِ مبارکہ کا منظوم خلافت اور بہترین وسیلہ قرار دیا ہے۔

مشائخِ کرام، اولیائے عظام اور کتبِ ادعیہ سے منسوب فوائد و خواص:

قدیم و جدید علمائے تصوف، محدثین اور اہل باطن نے پنجتن پاک اور ائمہ اطہار کے اسماء مبارکہ پر مشتمل ان اشعار کے متعدد روحانی و جسمانی فوائد ذکر کیے ہیں:

وبائی امراض (طاعون، کورونا، کرائیوسس وغیرہ) سے تحفظ:

طریقہ و اثر: بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ جب بھی کوئی عام وبا، طاعون یا موذی مرض پھیل جائے تو روزانہ صبح و شام ان اشعار کو 5 یا 7 مرتبہ اول و آخر درود شریف کے ساتھ پڑھنا وبا کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔

نقش و تعویذ: کئی مشائخِ سہروردیہ و قادریہ سے منقول ہے کہ ان اشعار کو پاک کاغذ پر باوضو لکھ کر مکان کے مکینوں کی حفاظت کے لیے دروازے پر لگانے سے بلاؤں کا نزول رک جاتا ہے۔

دفعِ شدائد اور حلِ مشکلات:

طریقہ: کسی سخت علمی، مالی یا جانی مصیبت کے وقت ان ابیات کو 41 مرتبہ پڑھ کر بارگاہ الٰہی میں پنجتن پاک اور ائمہ علیہم السلام کا واسطہ دے کر دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے تنگی کو آسانی میں بدل دیتا ہے۔

دل کی گھبراہٹ اور باطنی حرارت کا علاج:

طریقہ: "أُطْفِيْ بِهَا حَرَّ الوَبَاءِ" کی خاصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ کلام باطنی بے چینی، وسوسوں اور خوف کو دور کر کے قلب میں سکون و طمانیت پیدا کرتا ہے۔

مستند مآخذ، کتب اور حوالہ جات :

یہ ابیات اور اس سے ملتے جلتے توسلات و اوراد اہل سنت کی معتبر تاریخ، مناقب اور ادعیہ کی کتب میں نقل ہوئے ہیں:

·      تاریخ دمشق از ابن عساکر ابو القاسم علی بن الحسن بن ہبۃ اللہ علیہ الرحمہ

تفصیل: اہل بیت علیہم السلام کے فضائل اور مناقب کی بحث میں ان اشعار کی اصل اور ان سے توسل کی قدامت پر بحث۔ (جلد 42، صفحہ 432-435)

·      نفحات الأنس من حضرات القدس از مولانا عبد الرحمن جامی علیہ الرحمہ

تفصیل: صوفیائے کرام کے اوراد اور توسلِ اہل بیت کے ضمن میں ان کلمات کی اہمیت کا ذکر (صفحہ 178 طبع بمبئی / لکھنؤ)۔

·      خزینۃ الأسرار از سید محمد حقی النازلی علیہ الرحمہ 

تفصیل: امراض و مصائب سے نجات کے لیے پنجتن پاک کے مشہور شعر «لي خمسة أطفي بها...» کے روحانی خواص اور مشائخِ نقشبندیہ و قادریہ کے معمولات کا تفصیل سے بیان۔ (صفحہ 189-191 طبع المکتبۃ الہندیہ)

·      شوارق الأنوار فی ادعیۃ الأبرار  ازالسيد الشريف محمد السنوسی مالکی علیہ الرحمہ

تفصیل: دفع بلاء اور طاعون و امراض کے خلاف وظائفِ اہل بیت کی سند اور فوائد۔( صفحہ 104)

مقام سادات تعلیمات اعلیٰ حضرت کی روشنی


اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی قادری قدس سرہ العزيز بارگاہ رب العالمين میں یوں عرض کرتے ہیں:

حب  اہلِ بیت  دے  آلِ محمد  کے  لیے

کر شہیدِ عشق حمزہ پیشوا کے واسطے

دو جہاں میں خادم آلِ رسول اللہ کر

حضرتِ آلِ رسولِ مقتدا کے  واسطے(حدائق بخشش)

قارئین حضرات!مندرجہ ذیل میں اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی قادری قدس سرہ العزيز کی چند عبارات نقل ہیں ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک سادات کرام یعنی سیدوں کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔چناں چہ ایک جگہ عنوان قائم کرتے ہیں:"اہل بیت(نبی میں)سے کوئی کوئی بھی جہنمی نہیں" 

پھر اس کے تحت یہ حدیث نقل کرتے ہیں:"سألت ربي تعالى أن لا يدخل أحدا من أهل بيتي النار فأعطانيها"(کنز العمال حدیث نمبر ٣٣١٤٩،حرف الفاء،تابع لکتاب الفضائل من قسم الأفعال،الباب الخامس،من فضل اہل بیت،الفصل الأول في فضلهم مجملا،الناشر موسسۃ الرسالۃ لبنان)

(یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ)"میں نے اپنے رب عز وجل سے سوال کیا کہ میرے اہل بیت سے کسی کو دوزخ میں نہ ڈالے اس نے میری یہ مراد عطا فرمائی"(فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٥،ص ٧٣١،ناشر بار دوم مرکز اہل سنت برکات رضا پور بندر گجرات)

اسی طرح ایک جگہ عنوان قائم کرتے ہیں:"اہل بیت عذاب سے بری ہیں"

پھر اس کے تحت یہ حدیث نقل کرتے ہیں:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ:«إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرَ مُعَذِّبِكِ، وَلَا وَلَدِكِ»(المعجم الکبیر للطبراني،حدیث نمبر ١١٦٨٥،باب العین،عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،دار النشر: مكتبة ابن تيمية - القاهرة) 

یعنی:حضرت ابن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ارشاد فرمایا:"بیشک اللہ تعالٰی نہ تجھے عذاب فرمائے گا نہ تیری اولاد کو"

پھر یہ حدیث نقل کرتے ہیں:«إنما سميت فاطمة، لأن الله قد فطمها وذريتها عن النار يوم القيامة»(المواہب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ،ج ١ ،المقصد الثانی،ص ٤٨٢،الفصل الثانى فى ذكر أولاده الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام،الناشر المکتبۃ التوفيقیۃ القاہرۃ)

یعنی:حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:فاطمہ(میری بیٹی کا)اس لئے نام ہوا کہ اللہ عزوجل نے اسے اور اس کی نسل کو روز قیامت آگ سے محفوظ فرمادیا۔

اسی طرح ایک جگہ عنوان قائم کرتے ہیں:"اہل بیت(نبی جہنم کی)آگ میں نہیں جا سکتے"

پھر اس کے تحت"تفسیر قرطبی" سے آیت "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضى" کے تحت درج"حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول یہ روایت نقل کرتے ہیں:رَضِيَ مُحَمَّدٌ أَلَّا يَدْخُلَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ النَّارَ(تفسیر قرطبی سورۃ الضحٰی تحت الآيات ٤ الى ٥،الناشر: دار الكتب المصرية - القاهرة)

یعنی:ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ:اللہ عزوجل نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے راضی کر دینے کا وعدہ فرمایا اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضا اس میں ہے کہ ان کے اہل بیت(اطہار)سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔(فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٥،ص ٧٣١ تا ٧٣٢،ناشر بار دوم مرکز اہل سنت برکات رضا پور بندر گجرات)

معلوم ہوا کہ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی قادری قدس سرہ العزيز ان عنوانات کو قائم کرکے اور ان کے تحت مذکورہ دلائل کو نقل کرکے یہ نظریہ دے رہے ہیں کہ سادات عظام یعنی صحیح النسب سیدوں کی عظمت و فضیلت یہ ہے کہ وہ جہنم میں نہیں جائیں گے۔

مذکورہ طریقے پر ایک جگہ عنوان قائم کرتے ہیں:"سید کفریہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا"

پھر اس عنوان کے تحت لکھتے ہیں:"جو کافر ہو وہ قطعاً سید نہیں......نہ اسے سید کہنا جائز"(فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٥،ص ٧٣٠،ناشر بار دوم مرکز اہل سنت برکات رضا پور بندر گجرات،شعبان المعظم ١٤٢٤ھ اکتوبر ٢٠٠٣ء،بموقعہ عرس قاسمی مارہرہ مقدسہ یوپی،)

پھر ایک عنوان قائم کرتے ہیں:"منافق کو سید نہ کہو"

پھر اس کے تحت لکھتے ہیں:"پھر یہی نہیں کہ یہاں صرف اطلاق لفظ سے ممانعت شرعی اور نسب سیادت کا انتفائے حکمی ہو حاشا بلکہ واقع میں کافر اس نسل طیب و طاہر سے تھا ہی نہیں اگرچہ سید بنتا اور لوگوں میں براہ غلط سید کہلاتا ہو ائمہ دین اولیائے کاملین علماے عالمین رحمۃ اللہ تعالی علیہم اجمعین تصریح فرماتے ہیں کہ سادات کرام بحمد اللہ تعالیٰ خباثت کفر سے محفوظ و مصئون ہیں جو واقعی سید ہے اس سے کبھی کفر واقع نہ ہوگا،قال اللہ تعالیٰ:اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ  لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ  تَطۡہِیۡرًا(سورۃ الاحزاب آیت ٣٣)اللہ یہی چاہتا ہے کہ تم سے نجاست دور رکھے اے نبی کے گھر والو!اور تمہیں خوب پاک کر دے ستھرا کرکے.......حاکم بافادہ تصحیح مستدرک میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روای رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:«إِنَّ فَاطِمَةَ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَحَرَّمَ اللَّهُ ذُرِّيَتَهَا عَلَى النَّارِ»[الحاكم، أبو عبد الله ,المستدرك على الصحيحين للحاكم ,حديث ٤٧٢٦،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم،وَمنْ مَنَاقِبِ أَهْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،الناشر دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان](فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٥،ص ٧٣١،ناشر بار دوم مرکز اہل سنت برکات رضا پور بندر گجرات)

معلوم ہوا اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی قادری علیہ الرحمہ یہ نظریہ پیش کر رہے ہیں کہ جو صحیح النسب سید ہیں وہ عقائد کفریہ نہیں رکھ سکتے وہ منافق نہیں ہو سکتے،ان سے کفر واقع نہیں ہو سکتا کیوں کہ صحیح النسب سادات عظام خباثت کفر سے محفوظ و مصئون ہیں۔لیکن ہاں!اگر کوئی سید کہلاتا ہے اور کافر قطعی ہو جائے تو وہ اپنے دعویٰ سیادت میں جھوٹا ہے۔

پھر ایک لکھتے ہیں:"نار دوقسم کی ہے،نارِ تطہیر کہ مومن عاصی جس کا مستحق ہو، اور نارِ خلود کافرکے لئے ہے،اہل بیت کرام میں حضرت امیر المؤمنین مرتضیٰ و حضرت بتول زہرا و حضرت سید مجتبٰی و حضرت شہید کربلا صلی اللہ تعالٰی علٰی سید ہم و علیہم وبارک وسلم تو بالقطع والیقین ہر قسم سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ ہیں اس پر تو اجماع قائم اور نصوص متواترہ حاکم،باقی نسل کریم تا قیام قیامت کے حق میں اگر بفضلہٖ تعالٰی مطلق دخول سے محفوظی لیجئے اور یہی ظاہر لفظ سے متبادر،اور اسی طرف کلماتِ اہل تحقیق ناظر،جب تو مراد بہت ظاہر، اور منع خلود مقصود جب بھی نفی کفر پر دلالت موجود۔(فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٥،ص ٧٣٢ تا ٧٣٣،ناشر بار دوم مرکز اہل سنت برکات رضا پور بندر گجرات)

مذکورہ عبارات سے معلوم واضح ہے کہ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی قادری علیہ الرحمہ یہ نظریہ دے رہے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا و حضراتِ حسنین کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہما یہ چاروں حضراتِ اہل بیت اطہار تو قطعی اور یقینی طور پر ہر دو طرح کی نار،نار تطہیر جس میں گناہ گار مومنوں کو داخل کیا جائے گا و نار خلود جس میں کافروں کو داخل کیا جائے گا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں اور عقیدہ پر حدیث متواتر بھی موجود اور اجماع امت بھی قائم،اب رہی بات قیامت تک کے سادات عظام کے متعلق عقیدہ تو اس پر بھی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت نے یہ نظریہ دیا کہ ان سب کو بھی نار تطہیر و نار خلود دونوں سے محفوظ مان لیا جائے کیوں کہ اہل تحقیق اسی طرف گئے ہیں نیز اعلیٰ حضرت امام اہل سنت یہ بھی پیغام دے رہے ہیں کہ اگر سنی سادات عظام کو نار خلود سے تو محفوظ مانتا ہے لیکن نار تطہیر سے محفوظ نہیں مانتا تو کوئی مسئلہ نہیں،نار تطہیر سے محفوظ نہ ماننا ہمارے اس نظریہ کے خلاف نہیں کہ جملہ صحیح النسب سیدوں سے کفر واقع نہیں ہو سکتا۔

ضروری نوٹ:کوئی یہ سمجھے کہ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہ العزيز کا جو یہ موقف ہے کہ"سادات عظام سے کفر واقع نہیں ہوتا"اس میں آپ علیہ الرحمہ اکیلے نہیں بلکہ بہت سے اکابرین اہل سنت و جماعت یہی نظریہ ہے جس کا ذکر اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہ العزيز کی نقل کردہ مندرجہ بالا عبارت میں بھی موجود ہے نیز اعلیٰ حضرت امام اہل سنت نے باضابطہ اپنے موقف کی تائید میں اکابرین اہل سنت و جماعت کی عبارات بھی نقل کی ہے ملاحظہ فرمائیں لکھتے ہیں:"شیخ اکبر اور اہل بیت"شیخ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ"فتوحات مکیہ باب ۲۹ میں فرماتے ہیں:" لما کان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عبدا مخصا قد طھرہ اللہ و اھل بیتہ تطھیرا واذھب عنہم الرجس وھو کل ما یشینھم فھم المطھرون بل ھم عین الطھارۃ فھذہ الاٰیۃ تدل علی ان اللہ تعالٰی قد شرک اھل البیت مع رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی قولہ تعالٰی لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تأخر، و ای وسخ وقذر من الذنوب فطھر اللہ سبحانہ نبیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بالمغفرۃ ممّا ھو ذنب بالنسبۃ الینا فدخل الشرفاء اولاد فاطمۃ کلھم رضی اللہ تعالٰی عنہم الی یوم القٰیمۃ فی حکم ھذہ الاٰیۃ من الغفران الی اٰخر ما افادوا جا دو ثمہ کلام طویل نفیس جلیل فعلیک بہ رزقنا اللہ العمل بما یحبہ ویرضاہ اٰمین"

یعنی شیخ اکبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:"جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالٰی کے خاص عبد ہیں کہ ان کو اور ان کے اہل بیت کو کامل طور پر پاک کردیا ہے اور ناپاکی کو ان سے دور کردیا ہے اور رجس ہر ایسی چیز ہے جو ان حضرات کو داغدار کرے تو وہ پاکیزہ لوگ بلکہ وہ عین طہارت ہیں، تو اللہ تعالٰی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اہل بیت کو طہارت میں شریک فرمایا ہے جس پر آیہ کریمہ ہے"لِّیَغۡفِرَ  لَکَ اللّٰہُ  مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ"اللہ تعالٰی نے آپ کے لئے پہلے اور پچھلے آپ کے خطایا معاف کردئے یعنی گناہوں کی میل و قذر سے آپ کو پاک رکھا ہے جو ہماری نسبت سے گناہ ہوسکتے ہیں تو تمام سادات حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی اولاد اس حکم میں داخل ہے الخ،تک جو حضر ت شیخ نے بہترین فائدہ مند کلام فرمایا یہاں آپ کا جلیل نفیس طویل کلام ہے تو آپ پر لازم ہے کہ اس کی طرف راجع ہوں اللہ تعالٰی ہمیں اپنے پسندیدہ عمل کا حصّہ عطا فرمائے، آمین۔(فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٥،ص ٧٣٦،ناشر بار دوم مرکز اہل سنت برکات رضا پور بندر گجرات)

فتوحات مکیہ کی مذکورہ عبارت جن کو اعلیٰ حضرت امام اہل سنت نے نقل کیا اس سے بھی ثابت ہوا کہ سادات کرام کا مقام اتنا بلند و بالا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو بھی گناہوں کی میل و قذر سے پاک رکھا ہے۔

ایک جگہ لکھتے ہیں:"امام ابن حجر کے الفاظ ملاحظہ فرمائے ہوں گے:لاننی اکادان اجزم ان حقیقۃ الکفرلا تقع الخ۔اس لئے کہ بے شک میں اس بات پر جزم کرتا ہوں کہ صحیح النسب سید سے حقیقی کفر کا وقوع نہیں ہوتا۔الخ(ت) (جزاء اللہ عدوہ بابائہٖ ختم النبوۃ نوری کتب خانہ لاہور ص۱۲۲،بحوالہ فتاویٰ رضویہ مترجم ج ٣٠،ص ٧٧،مسئلہ۱ تا ٤،ناشر رضا فاؤنڈیشن لاہور)

اسی طرح ایک جگہ لکھتے ہیں:"فتاوٰی حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے:

انما قلت ان فرض لا ننی اکادان اجزم ان حقیقۃ الکفر لا تقع ممن علم اتصال نسبہ الصحیح بتلک البضغۃ الکریمۃ حاشا ھم اللہ من ذٰلک و قد احال بعضھم وقوع نحو الزنا واللواط ممن علم شرفہ فما ظنک بالکفر۔میں نے صرف فرض کرنے کی بات اس لئے کی ہے کیونکہ مجھے جزم کی حد تک یقین ہے کہ جو صحیح النسب سید ہو اس سے حقیقی کفر کا وقوع نہیں ہوسکتا اللہ تعالٰی ان کو اس سے بلند رکھے، بعض نے ان سے زنا اور لواطت جیسے افعال کو بھی محال کہا ہے بشرطیکہ ان کی نسبی شرافت یقینی ہو تو پھر کفر کے متعلق تیرا کیا خیال ہے(فتاوٰی حدیثیہ، طلب ما الحکمۃ فی خصوص اولاد فاطمہ بالمشرف، المطبعۃ الجمالیہ، مصر، ص ۱۲۲، بحوالہ فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٥،ص ٧٣٥،ناشر بار دوم مرکز اہل سنت برکات رضا پور بندر گجرات )

معلوم ہوا کہ امام جلال الدین السیوطی رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی سادات کرام کا مقام و مرتبہ یہ ہے کہ ان حضرات سے کفر واقع نہیں ہوسکتا۔

ضروری تنبیہ!یہاں اس بات کو یاد رکھیں کہ اعلی حضرت امام اہل سنت و دیگر اکابرین اہل سنت و جماعت کا جو یہ موقف ہے کہ:سادات عظام سے کفر واقع نہیں ہو سکتا"یہ قطعی عقیدہ نہیں ہے بلکہ ظنی عقیدہ ہے تو واضح ہے کہ اس موقف کا اگر کوئی سنی منکر ہے تو وہ نہ تو کافر ہے نہ خارج اہل سنیت ہے،چناں چہ اس موقف کے ظنی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام اہل سنت لکھتے ہیں:

"اوربالفرض نفی خلود بلکہ بفرض غلط نفی دخول ہی قطعی مان لی جائے تو کس کے لئے،ان کے لیے جو عند الله سادات کرام ہیں،نہ ہر اس شخص کے لئے جو سید کہلاتا ہو اگرچہ واقع میں نہ ہو"(فتاویٰ رضویہ مترجم ج ٣٠،ص ٧٧،مسئلہ۱ تا ٤،ناشر رضا فاؤنڈیشن لاہور)

مذکورہ موقف کے رد میں کچھ لوگ موجودہ زمانہ کے قادیانی و رافضی جو خود کو سید کہتے ہیں ان کی تثمیل بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سادات عظام سے کفر واقع ہے بلکہ بہت سادات کافر ہوچکے ہیں تو جواب بھی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی قادری علیہ الرحمہ سے لیتے جائیں!

 اعلیٰ حضرت امام اہل سنت ایک عنوان قائم کرتے ہیں:"بدعقیدہ سید"

پھر اس کے تحت لکھتے ہیں:اگر(کوئی)کہے بعض کٹر نیچری بیشمار اشد غالی رافضی بہت سچّے ملحد جھوٹے صوفی کچھ ہفت خاتم شش مثل والے وہابی غرض بکثرت کفار کہ صراحۃً منکرین ضروریات دین ہیں سید کہلاتے میر فلاں لکھے جاتے ہیں۔

اقول:(میں احمد رضا خان بریلوی قادری کہتا ہوں)کہلانے سے واقعیت تک ہزاروں منزل ہیں نسب میں اگرچہ شہرت پر قناعت والناس امناء علٰی انسابھم (لوگ اپنے نسبوں میں امین ہیں۔ت) مگر جب خلاف پر دلیل قائم ہو تو شہرت بے دلیل نامقبول وعلیل اور خود اس کے کفر سے بڑھ کر نفی سیادت پر اور کیا دلیل درکار،کافر نجس ہے،قال تعالیٰ:انما المشرکون نجس،(اللہ تعالٰی نے فرمایا:بے شک مشرک نر ے ناپاک ہیں)(القرآن الکریم ۹/ ۲۸)اور ساداتِ کرام طیب و طاہر،قال اللہ تعالٰی:ویطھر کم تطھیرا،(القرآن الکریم ۳۳/ ۳۳)(اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کردے)اور نجس و طاہر باہم متبائن ہیں کہ ایک شیئ پر معاً ان کا صدق محال، جب علمائے کرام تصریح فرما چکے کہ سید صحیح النسب سے کفر واقع نہ ہوگا اور یہ شخص صراحۃً کافر تو اس کا سید صحیح النسب نہ ہونا ضرورۃً ظاہر، اب اگر اس نسب کریم سے انتساب پر کوئی سند معتمد نہ رکھتا ہو تو امر آسان ہے ہزاروں اپنی اغراضِ فاسدہ سے براہِ دعوٰی سید بن بیٹھے"(فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٥،ص ٧٣٧،ناشر بار دوم مرکز اہل سنت برکات رضا پور بندر گجرات)

پھر ایک جگہ عنوان قائم کرتے ہیں:"رافضی سید"

پھر اس کے تحت لکھتے ہیں:"رافضی صاحبوں کے یہاں تو(سید بننا)یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، آج ایک رذیل سا رذیل دوسرے شہر میں جاکر رفض اختیار کرے کل میر صاحب کا تمغا پائے تو فلاں کافر سے کیا دور ہے کہ خود(سید)بن بیٹھا ہو یا اس کے باپ دادا میں کسی نے ادعائے سیادت کیا اور جب سے یونہی مشہور چلا آتا ہو،اور اگر بالفرض کوئی سند بھی ہو تو اس پر کیا دلیل ہے کہ یہ اسی خاندان کا ہے جس کی نسبت یہ شہادت تامہ ہے........

پھر ایک جگہ لکھتے ہیں:"حاشا اللہ ہزار ہزار حاشاللہ نہ بطن پاک حضرت بتول زہرا میں معاذ اللہ کفر و کافری کی گنجائش، نہ جسم اطہر سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا کوئی پارہ کتنے ہی بُعدپر عیاذاً باللہ دخولِ نار کے لائق، الحمداللہ یہ دو دلیل جلیل واجب التعویل ہیں کہ کوئی عقیدہ کفریہ رکھنے والا رافضی وہابی متصوف نیچری ہر گز سید صحیح النسب نہیں"(فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٥،ص ٧٣٧ تا ٧٣٨،ناشر بار دوم مرکز اہل سنت برکات رضا پور بندر گجرات)

مذکورہ بالا عبارات سے بھی معلوم ہوا کہ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی قادری قدس سرہ العزيز کے نزدیک صحیح النسب سادات کرام مقام و مرتبہ یہ ہے ان سے کفر واقع نہیں ہو سکتا۔

مزید اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی قادری علیہ الرحمہ صحیح النسب سادات کرام سے کفر واقع نہ ہوگا پر قیاسی دلیل دیتے ہیں ہوئے لکھتے ہیں:

" قیاس پر مشتمل دلیلیں"

دلیل اوّل:

(۱) یہ شخص(جو ضروریات دینی کا منکر ہے)کافر ہے اور ہر کافر نجس۔

نتیجہ:یہ شخص نجس ہے۔

(۲) ہر سید صحیح النسب طاہر ہے اور کوئی طاہر نجس نہیں،

نتیجہ: کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔

(۳) اب یہ دونوں نتیجے ضم کیجئے یہی شخص نجس ہے اور کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔ 

نتیجہ:یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔

قیاس اول کا صغرٰی مفروض اور کبرٰی منصوص اور دوم کا صغرٰی منصوص اور کبرٰی بدیہی تو نتیجہ قطعی۔

دلیل دوم:

قیاس مرکب، یہ بھی تین قیاسوں کو متضمن، یہ شخص(ضروریات دینی کا منکر ہے)کافر ہے اور ہر کافر مستحقِ نار۔

نتیجہ: یہ شخص مستحقِ نار ہے اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا کوئی پارہ مستحقِ نار نہیں۔

نتیجہ:یہ شخص نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جسمِ اقدس کا پارہ نہیں اور ہر سیدصحیح النسب نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا پارہ ہے۔

نتیجہ: یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔

پہلا کبرٰی منصوص قرآن، اور دوسرے کا شاہد ہر مومن کا ایمان، اور تیسرا عقلاً و فقہاً واضح البیان۔

(فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٥،ص ٧٣٨،ناشر بار دوم مرکز اہل سنت برکات رضا پور بندر گجرات)

ضروری اپیل!اہل علم سے گزارش ہے کہ راقم سے کوئی عبارت سمجھنے میں یا نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی خطا ہوئی تو ضرور مطلع فرمائیں تاکہ اصلاح کرلی جائے۔

طالب دعا:شبیر احمد راج محلی۔جنرل سیکریٹری:-

تنظیم علمائے اہل سنت راج محل(رجسٹرڈ)و خادم التدريس دارالعلوم گلشن کلیمی راج محل

                                                                             ٢١  /اگست ٢٠٢٤ء بروز بدھ


فتنہ شکیلیت کی حقیقت

 

Fitna Shakiliyat 

"حدیث میں دجال سے مراد امریکہ اور فرانس ہے کیوں  امریکا کے لفظ "کا " اور فرانس کے لفظ "فر " کو جوڑ دیا جائے تو " کافر " پڑھا جائےگا یعنی اس  کی پیشانی پر کافر لکھے ہونے والی  حدیث سے یہی ثابت ہوتاہے " العیاذ باللہ 

محترم قارئین! شکیل بن حنیف دو فتنوں کا جامع ہے۔

(۱) پہلا فتنہ یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو امام مہدی کہتا ہے۔

(۲) دوسرا فتنہ یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام بھی کہتا ہے۔

شکیل بن حنیف نے کیسے کام شروع کیا ؟

شکیل بن حنیف ( بہار۔ انڈیا ) کے ضلع دربھنگہ کے گاؤں عثمان پور کا رہنے والا ہے۔

(۱) دربھنگہ کے اندر کالجوں اور اسکولوں میں پڑھنے والوں میں دین اور علماء سے دور رہنے والے بچوں میں اس نے کوشش کی۔

(۲) بھارت کی راجدھانی دہلی میں اس نے امام مہدی ہونے اور اور مسیح یعنی عیسیٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور ایک نئی قادیانیت کی داغ بیل ڈالی۔

دہلی کے مختلف محلوں میں اس نے مہدویت یعنی امام مہدی اور مسیحیت یعنی عیسیٰ علیہ السلام ہونے کی تبلیغ کی۔

(۳) دہلی میں محلہ نبی کریم کو اس نے اپنا مرکز بنایا کیونکہ یہاں بہار سے روزی روٹی کے سلسلے میں آئے ہوئے سیدھے سادھے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ سیدھے سادھے نوجوان جو دہلی کے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لیے آئے تھے اس پر اس نے محنت کی۔ بعد میں جب لوگوں کو اس کی اصلیت کا پتہ چلا تو وہ دہلی کے اندر اپنا ٹھکانہ بدلتا رہا۔

(۴) اخیر میں اس نے مہاراشٹر (انڈیا) کے اورنگ آباد کے’’رحمت نگر‘‘میں اپنا ٹھکانہ بنالیا ہے بلکہ مستقل ایک گاؤں بسا لیا ہے ، (جس میں وہی شخص سکونت اختیار کر سکتا ہے جو اس شکیل بن حنیف کا متبع ومنقاد ہو۔) اور پھر وہ اپنے مشن میں لگا ہوا ہے۔ لگ بھگ دس سال سے زائد عرصے سے وہ محنت کر رہا ہے۔

(۵) ملک کے مختلف حصوں میں اس جھوٹے مہدی اور جھوٹے عیسیٰ کی دعوت وتبلیغ کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ دہلی، بہار، یوپی، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور آندھرا پردیش وغیرہ میں اس کے فتنے میں اچھی خاصی تعداد میں لوگ آچکے ہیں۔ بہار اس کے فتنے سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔اور یہ فتنہ سیلاب اور طوفان کی طرح بڑھتا جارہا ہے ۔

یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ اب دس ہزار سے زائد لوگ اس فتنے کے شکار ہوچکے ہیں ۔بحوالہ:(فتنۂ شکیل بن حنیف ،مولاثناء اللہ شبیر محمدی مدنی :صفحہ نمبر:۱تا۵)

معزز قارئین! فتنے کا ادراک سب سے پہلے علماء کرلیتے ہیں ، علماء اپنے علم بصیرت، حکمت و فراست سے ان فتنوں کو تاڑ لیتے ہیں ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فتنہ کے سامنے سد سکندری بننے سے قبل وہ فتنہ سر چڑھ کر بولنے لگ جاتا ہے ، یعنی فتنوں کی روک تھام کی فکر اس وقت کی جاتی ہے جب پانی سر سے گزر جاتا ہے (اذا بلغ السیل الزبی ) یعنی جب اس کے شکار ہزاروں لاکھوں لوگ ہوجاتے ہیں اور اس وقت تک فتنوں کی جڑیں اتنی مضبوط ہوچکی ہوتی ہیں یا ان کی شاخیں اتنی پھیل چکی ہوتی ہیں کہ اب اس کو روکنا گویا جوئے شیر لانا ہے۔

’’شکیلیت‘‘ کا فتنہ کوئی نیا نہیں ہے یہ ایک فتنہ نہیں نہ جانے اور کتنے فتن و نوائب الدہر اپنا پیر پھیلا چکے ہیں ۔مثلاً اس وقت مودودیت ، قطبیت ،بنائیت اورخمینیت وغیرہ کے فتنے عروج پر ہیں۔

جیسا کہ اوپر کے سطور میں بتایا کہ شکیل بن حنیف دربھنگہ بہار(عثمان پور )کا رہنے والا ہے اور اس کی علمی صلاحیت و لیاقت یہ ہے کہ اس نے بعض عصری ادارے میں تعلیم حاصل کی ہے اور کمپیوٹر انجینئر ہے ، ملازمت کی تلاش میں دہلی آیا اور یہیں پر وہ ایک دینی جماعت سے بھی وابستہ ہوا ، لیکن عیاش دماغ ، ذہنی دیوالیہ پن ، عقل کا بگاڑ اور عہدہ کی حرص و ہوس کی وجہ سے اس نے بعض بھولے بھالے اورسیدھے سادے انسانوں کو اپنا ہمنوا بنانا شروع کیا اور بالآخر اپنے بارے میں طرح طرح کے دعوے کرنے لگا ، یہ شخص ۲۰۰۴ء سے اپنے گمراہ افکارو خیالات لوگوں میں پھیلا رہا ہے۔

اس کے ان باطل دعوؤں کی وجہ سے حالات اس کے خلاف اتنے کشیدہ ہو گئے کہ اسے دہلی چھوڑنا پڑا، پھر دوبارہ دہلی ہی واپس آیا اور لکشمی نگر کے علاقہ میں ایک مکان لے کر اس کو اپنا مرکز بنایا ۔ اور اب اس کے متبعین پورے ہندوستان میں پھیل چکے ہیں۔ مدھیہ پردیش ،مہاراشٹر ،اورنگ آباد ،حیدرآباد ،کرناٹک ،یوپی ،لکھنؤ ،ساؤتھ انڈیا وغیرہ کے حساس ودیندار مسلمانوں کو بے چین کرڈالے ہیں۔

قارئین کرام! اس فتنے کی طرف دعوت دینے والے داعیوں کا طریقہ بہت پوشیدہ ہے۔ آئیے ذرا غور کرلیجیے۔

(۱) شکیلی لوگ اپنا نیٹ ورک ایسے نوجوانوں سے خفیہ طورپر جوڑتے ہیں جنہیں مدرسے کی ہوا بھی نہ لگی ہو ، مساجد ،دروس ومحاضرات سے جن کا کوئی مطلب نہ ہو ،مشائخ و علمائِ ثقات سے ان کا کوئی رابطہ نہ ہو ۔ مثلاً کسی کالج کا، کسی اسکول کا ایک ایسا طالب علم ہے جس کا کسی عالم سے یا دینی جماعت سے یا دینی تنظیم سے رابطہ نہیں ہے۔

طریقۂ کار ! ان کچے اورنا پختہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے شروع میں یہ کہتے ہیں کہ ہم علاماتِ قیامت کو سائنس کے ذریعہ بتا ئیں گے، اور اس طرح جب نوجوان ان کی بات سننے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو شروع میں علاماتِ قیامت کو اپنے وضع کردہ طریقہ اور خاص پیٹرن سے سمجھاتے ہیں، اور جی لبھانے والا اسٹائیل اپنا کرکے مخاطب کے دل میں جگہ بناتے ہیں ،اب جب زمین ہموار ہوئی تو قیامت کی علامات اور نشانیوں کو جدید ایجادات پر اس طرح فٹ کرتے ہیں کہ علامات قیامت سے متعلق نبی ﷺکی پیشین گوئیاں مثلاً ظہور مہدی ، خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ کا اصل مفہوم بگڑ جاتا ہے، اور اس موضوع کی صاف اور واضح احادیث میں کھینچ تان کرکے ، تاویل وتحریف کرکے وہ ان کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مثلاً کہتے ہیں کہ: امریکا اور فرانس یہ دونوں ملک دجال ہیں۔ دجال کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس کی پیشانی پر ( بیچ میں ) کافر لکھا ہوا ہوگا۔ اس سے مراد امریکا اور فرانس ہے۔ اس لیے کہ جب ان دونوں ملکوں کا نام ایک ساتھ لکھا جائے گا تو کافر لفظ بیچ میں آتا ہے ( امریکا فرانس) امریکا میں سے ( کا) اور فرانس کے شروع کا (فر) تو ( کافر ) ہو گیا

دجال ایک آنکھ سے کانا ہونے کا مطلب سیٹیلائٹ ہے اور دجال کی سواری کامطلب جنگی جہاز ہے وغیرہ وغیرہ۔

اور عام لوگ چونکہ علم ِدین اور احادیث سے پورے طور پر واقف نہیں ہوتے اس لیے وہ اس فتنے کے آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں اور اس فتنہ کی جانب سے احادیث میں تحریف کر کے جو بھی مواد پیش کیا جاتا ہے وہ اس کو قبول کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ فتنہ جن نوجوانوں کو اپنا ہدف بناتا ہے ان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تمام علاماتِ قیامت پوری ہو چکی ہیں، اور اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی کو بھی آجانا چاہئے اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مہدی ومسیح شکیل بن حنیف ہی ہے، شکیل بن حنیف کو مہدی اور مسیح ثابت کرنے کے لیے وہ وہی مواد استعمال کرتے ہیں جو قادیانیوں نے قرآن و احادیث میں تحریف وتلبیس و تبدیل کر کے تیار کیا ہے، جس سے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مہدی اور مسیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں ، اس مواد کو استعمال کر کے وہ شکیل بن حنیف پر فٹ کرتے ہیں اور اس طرح شکیل بن حنیف کو مہدی اور مسیح منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔

(۲) اس کے بعد شکیلی لوگ تمام دینی گفتگو شروع کرتے ہیں۔

(۳) شکیلی لوگ اپنا حلیہ ایسا بنائے ہوئے ہیں کہ لوگ ان کو سنت کی پیروی کرنے والا سمجھتے ہیں۔ لمبی لمبی داڑھیاں ، لباس میں لمبے کرتے ، اونچی شلوار، گفتگو میں بار بار ’’الحمد للہ، سبحان اللہ،ما شاء اللہ،ان شاء اللہ‘‘ جیسے الفاظ کی کثرت ہے۔ جس سے سیدھے سادھے نوجوان جلدی متأثر ہو جاتے ہیں اور انہیں دیندار سمجھنے لگتے ہیں۔

(۴) شکیلی لوگ اپنے حلیے سے سامنے والے کو مرعوب کر دینے کے بعد قیامت کی نشانیوں پر بات شروع کرتے ہیں ۔ ان جھوٹے لوگوں کا کہنا ہے کہ قیامت کی نشانیوں سے مراد نئے نئے انکشافات، نئی نئی ایجادات اور دنیا کے بعض حالات اور واقعات ہیں۔

(۵) شکیلی لوگ بڑی ہوشیاری سے علماء کی ایسی تصویر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ ان کے جال میں پھنسنے والے لوگ علماء سے ان کی کہی ہوئی باتوں کی تصدیق کرانے کی کوشش نہیں کرتے ۔ شکیلیوں کا کہنا ہے کہ علماء کو قیامت کی نشانیوں کے بارے میں کچھ جانکاری نہیں ہے۔ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں کہ علماء کو قیامت کی نشانیوں کے بارے میں پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ ان کو صرف حدیث کی کتابوں سے چند وہ حدیثیں پڑھائی جاتی ہیں جن کا تعلق نماز ، روزے، حج ، زکوٰۃ ، نکاح اور طلاق جیسے مسائل سے ہوں تاکہ وہ مسجد کے امام اور مدرسہ کے مدرس بن سکیں۔ سامنے والا انہیں ہی دین کا ماہر سمجھنے لگتا ہے، اب جو باتیں بتادیں اس پر یقین کر لیتے ہیں۔

(۶) شکیلی لوگ بڑی ہوشیاری سے دجال کے بارے میں من گھڑت واقعات بیان کر کے سامنے والے کو اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں۔ امریکہ اور فرانس کو دجال قرار دیتے ہیں۔

(۷) شکیلی لوگ بڑی ہوشیاری سے لوگوں کو اپنی جال میں پھنسا کر کہتے ہیں کہ جب دجال دنیا میں موجود ہے تو دجال کے بعد امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام کو آنا تھا تو وہ آچکے ہیں اور دونوں (امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام ) ایک ہی آدمی ہیں، دونوں الگ الگ نہیں ہیں، اور اب نجات اسی میں ہے کہ ہم ان کے ہاتھ پر بیعت کرلیں ۔ سامنے والا جھانسے میں آکر اور سچ مان کر بیعت کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے کہ مجھے بھی اس سفینۂ نجات میں سوار ہونا ہے۔ اس کے بعد اسے صوبائی امیر کے پاس بھیجا جاتا ہے پھر کچھ دنوں کے بعدمہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد بھیج کر شکیل بن حنیف کے ہاتھ پر بیعت کرا دیتے ہیں۔ جیسے یوپی میں اس مشن کا صوبائی امیر بنارس ہندو یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک نو جوان ہے ۔ ۲۰۱۹ ؁ء کی بات ہے۔

(۸) شکیلی لوگ بیعت سے پہلے اصل نام نہیں بناتے۔

اس فتنے کا مقابلہ کیسے کیا جائے ؟

۱۔ علماء و فضلاء ِدین کو جنگی پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے ، وہ اس فتنے کی سرکوبی کے لیے بالکل مستعد وتیار رہیں ، قلمی ولسانی جہاد کریں ، پہلے ہی سے لوگوں کے ذہن کو واش کررکھیں ، دروس وخطباتِ جمعہ میں بلاخوف لومۃ لائم کے کھول کھول کراس طرح کی فتنوں کا قسط واراور ٹھہر ٹھہر کر رد کریں ۔

۲۔ لوگ مساجد ومدارس سے اپنا ربط مضبوط کریں ، علماء سے دوری نہ بنائیں ، کچھ اردوزبان پڑھنا آتی ہو تو اردو میں ردِّ فتن پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ کریں ،لیکن کسی جان کار سے مشورہ لے کر ۔

۳۔ گھر کا ماحول دینی بنائیں ، بچوں کو عقیدہ ٔتوحید ،ختم ِرسالت ،دین کے مسلمات اور اساس ومنہجیت کی ٹھوس تعلیم دیں ۔

۴۔ علماء کو چاہیے کہ عقیدۂ ختم ِنبوت کولوگوں کے دلوں میں راسخ کریں۔

۵۔ جلسہ وکانفرنس میں مسیح ،مہدی اوردجال کے بارے میں لوگوں کوصحیح انفارمیشن دیں ۔

۶۔ انٹرنیٹ، فیس بک، گوگل اورٹویٹر وغیرہ سے علم حاصل کرنے کے بجائے مستند وثقہ عالم سے علم حاصل کریں ۔

۷۔ دنیاوی حرص ولالچ سے بچیں ،حلال کمائی کھائیں ، ممکن ہے کہ یہ لوگ آپ کی غربت و افلاس کافائدہ اٹھاکر آپ کو سبزباغ دکھائیں اور آپ کے دین وعقیدے پر حملہ کردیں اور آپ کوشکیلی فکر کا حصہ بنا دیں ۔