حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ


حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ  پاک و ہند کے وہ مشہور اور معروف ولی کامل ہیں جنہوں نے خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ  اور قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ  کی لگائی گئی دین کی لو کو پورے خطے میں پھیلایا اور آج آپ کی انہی روحانی تجلییوں کی وجہ سے ہند جگمگا رہا ہے۔ آپ چشتی سلسلے کے ولی ہیں اور آپ نواز علیہ الرحمہ  کا مزار پاکپتن ،پاکستان میں تجلیات الہی کا مرکز و محور ہے۔

آپ علیہ الرحمہ  کی ابتدائی زندگی :آپ علیہ الرحمہ  569ہجری  (1174ء )کو ملتان کے قریب کہوت وال میں پیدا ہوئے تھے ۔ آپ کا والد گرامی کا نام مولانا جمال الدین سلیمان علیہ الرحمہ  تھا جو کہا جاتا ہے کابل کے بادشاہ فرخ شاہ کی اولاد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ بی بی قاسمہ خاتون  یا قرسم خاتون مولانا خجندی کی بیٹی تھی۔

آپ علیہ الرحمہ  کا لقب:کہا جاتا ہے آپ کو فرید الدین لقب حضرت فرید الدین عطار علیہ الرحمہ  کی طرف سے ملا ، بابا آپ کو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ  کہتے تھے۔ مسعود آپ کا اصل نام تھا۔

گنج شکر لقب کی وجہ:گنج شکر لقب کے مطلق بہت سے واقعات ملتے ہیں پہلا واقعہ یہ کہ ایک دن دہلی میں تیز بارش تھی اور آپ کو اپنے پیر بختیار کاکی سے ملنے کا اشتیاق ہوا ، آپ کو سات دن سے روزہ بھی تھا ، راستے میں کیچڑ ہونے کی وجہ سے آپ نیچے گرے تو تھوڑی کیچڑ آپ کی منہ میں آ گری ، لیکن حیران کن طور پر وہ شکر ہوگئی ۔

دوسرا واقعہ اس طرح ہے ایک دن ایک شخص اونٹوں پر شکر لادے جارہا تھا ، آپ نے اس سے پوچھا یہ کیا چیز ہے اس نے کہا یہ نمک ہے ، آپ نے کہا اچھا نمک ہی ہوگا، وہ شخص جب منزل پر پہنچا اور بوریاں کھولیں تو دیکھا شکر نمک میں تبدیل ہوچکی تھی ۔ وہ واپس آپ کے پاس آیا اور معافی مانگی ، آپ نے اس پھر پوچھا اچھا تو اونٹوں پر کیا تھا ، اس نے کہا شکر تھی آپ نے کہا اچھا جاؤ شکر ہی ہوگی ، دوبارہ جب اس نے بوریاں کھولیں تو شکر واپس آچکی تھی۔ان واقعات کی وجہ سے لوگ آپ کو گنج شکر کہہ کر پکارنے لگے اور یہی لقب آج بھی آپکا مشہور ہے ۔

آپ علیہ الرحمہ  کی تعلیم و تربیت :آپ علیہ الرحمہ  کو نوعمری سے تعلیم سے خاصا لگاؤ تھا۔آپکی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، اور زیادہ علم حاصل کرنے کیلئے کہوت وال( اپنے شہر) سے ملتان آگئے ۔ اور یہاں دین کی تعلیم سیکھنا شروع کردی۔ آپ کافی زہین اور تابعدار شاگرد تھے اور تھوڑے ہی عرصے میں آپ نے دین کی تعلیم ، عربی، حفظ قرآن میں عبور حاصل کرلیا اور بعد میں قندھار چلے گئےاور وہاں ظاہری تعلیم میں کمال حاصل کیا۔

خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ  سے ملاقات :جب خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ  ہندوستان تشریف لائے تھے تو راستے میں ملتان کچھ دیر قیام کیا تھا ۔ وہاں حضرت فرید الدین بھی بختیار کاکی علیہ الرحمہ  سے ملنے چلے گئے ، ان سے متاثر ہو کر آپ نے ان سے کہا میں بھی آپ کے ساتھ دہلی چلوں گا ، لیکن بختیار کاکی علیہ الرحمہ  نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ "پہلے ظاہری علم حاصل کرو ،اس کے بعد میرے پاس آنا ،بے علم درویش شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے"۔ اس کے بعد کاکی وہاں سے دہلی کی طرف روانہ ہوگئے اور آپ ملتان میں تعلیم حاصل کرنے میں انتہائی محنت کرنے لگے اور پھر کچھ عرصے بعد ایک بہت بڑے عالم دین بھی بن گئے۔

اسلامی ممالک کی سیر و سیاحت :ملتان میں ظاہری تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ بھی آپ کی تعلیم کی تشنگی پوری نہیں ہوئی لہٰذا آپ ملتان سے قندھار جا پہنچے اور وہاں 5 برس تک حصولِ تعلیم میں مصروف رہے ۔ اس کے بعد آپ مختلف اسلامی ممالک کی سیر کو نکل پڑے اور مختلف اولیاء کرام سے ملاقاتیں کرنے لگے ۔ آپ نے چند بڑے مشائخ و اولیاء شہاب الدین سہروردی ، شیخ سیف الدین خضری ، شیخ سعید الدین حموی، شجخ وحد الدین کرمائی، شیخ فرید الدین عطار نیشا پوری، شیخ بہاؤدین زکریا ملتانی سے ملاقات اور فیض بھی لیا ۔

دہلی میں آمد:ظاہری میں تکمیل حاصل کرنے اور اسلامی ممالک کی سیر و سیاحت کے بعد جب اپ اپنے وطن ملتان واپس ائے تو فورا دہلی کی طرف روانہ ہو گئے، وہاں حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ  کی بارگاہ میں حاضری دی اور وہاں آپ نے ایک حجرہ لیا ،اور  رہنے لگے ۔ خواجہ بختیار سے باطنی علم اور فیوض حاصل کرنے لگے ، غرض تھوڑے عرصے میں آپ نے باطنی کمال حاصل کر لیا ۔ بختیار کاکی سے آپ کو خاص مصلے اور عصا بھی عطا ہوا۔ آپکے پیر بختیار کاکی نے آپ سے کہا تھا میں تمھاری یہ امانت حمید ناگوری کو سپرد کر دوں گا ،جب تم میری قبر پر پانچویں روز ہانسی سے آؤ گے تو وہ یہ امانت پیران تم تک پہنچا دیں گے۔ لہذا جب آپ  ہانسوی سے دہلی بختیار کاکی کے وصال کے بعد آئے تو انہوں نے وہ امانت آپ کے سپرد کر دی ۔

پاکپتن میں آمد:آپ علیہ الرحمہ  ہانسی سے سکونت ترک کر کے اجودھن جو آج کل پاکپتن کے نام سے مشہور ہے ، یہاں آگئے ۔یہاں کا قاضی آپ کا سخت مخالف تھا ۔ اس کی مخالفت نے آپ کا کچھ نہ بگاڑا ،آپ برابر رشد و ہدایت فرماتے رہے ۔ قاضی نے مختلف بہانوں سے مولوی کے ذریعے آپ پر فتوے اور خلاف مقدمہ درج کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اس وقت اولیاء کرام کی عزت واحترام ہونے کی وجہ سے مولویوں نے اس کام میں مدد نہ کی۔ یوں وہ اپنے شیطانی  ارادوں میں ناکام رہا۔

سلطان بلبن کی بیٹی سے شادی: الفحان جو بعد میں سلطان غیاث الدین بلبن کے نام سے مشہور ہوا کو آپ ہی نے تخت و تاج کا مژدہ سنایا تھا اور آپکی یہ خبر جب سچی ہوئی اور وہ بادشاہ بنا تو اس نے اپنی بیٹی بیبی نہریزہ کی آپ سے شادی کی۔

ازدواج و اولاد :آپ نے چار شادیاں کی ۔آپ کی پہلی شادی بیبی نہریزہ ، دوسری بیبی کلثوم ، تیسری بی بی شارہ سے ہوئی اور چوتھی بی بی سکر سے ۔ آپ علیہ الرحمہ  کے پانچ بیٹے اور تین لڑکیاں تھی ، بیٹوں کے نام خواجہ نصیرالدین نصر اللہ ، شیخ شہاب الدین ، شیخ بدر الدین سلیمان ، شیخ نظام الدین اور شیخ یعقوب ہیں ۔ بیٹیوں کے نام بی بی مستورہ ، بیبی شریفہ اور بیبی فاطمہ ہیں۔

عبادت و ریاضت: آپ علیہ الرحمہ  کو عبادت و ریاضت میں بہت لطف آتا ، لہذا آپ اکثر اوقات عبادت میں مصروف رہتے ۔ آپ خواجہ بختیار کی بارگاہ میں بھی دو ، دو ہفتوں تک مصروف عبادت ہونے کی وجہ سے نہ آسکتے۔ دہلی میں آپ کے حجرے کے باہر لوگ آنا شروع ہوگئے اورایک ہجوم سا رہنے لگا ۔ لوگوں کے اس غیر معمولی رجوعات سے آپ غیر معمولی گھبرائے اور قصبہ ہانسی چلے گئے۔

حالات زندگی : آپ علیہ الرحمہ  کے گھر میں عموماً فاقہ رہتا تھا ۔ آپ اکثر روزے سے رہتے ، شربت کے پیالے سے جس میں منقی ہوتا اس سے روزہ افتار کرتے ، دو روغنی روٹیاں آپ کے پاس ہوتی ان میں ایک خود کھاتے دوسرے لوگوں میں بانٹ دیتے۔ آپ کے پاس صرف ایک چھوٹا سا کمبل ہوتا ، دن کے وقت بچھا دیتے اور رات میں اس پر سوجاتے ۔توکل کا یہ عالم تھا جو کچھ آتا خرچ کر دیتے ۔آپ عالم دین بھی تھے ، فصاحت و بلاغت میں بے مثال تھے ۔

بابا فرید کی تصانیف : آپ علیہ الرحمہ  شاعر بھی تھے،  آپ نے ایک مشہور کتاب " فوائد السالکین" بھی لکھی جس میں اپنے مرشد کے ملفوظات جمع کیئے ۔ موجود وجود ، رسالہ گفتار ،اور الہی نامہ بھی آپ کی تصانیف بتائی جاتی ہیں ۔ایک دفعہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی نے آپکو خط لکھا اور کہامیان مادشما عشق بازی است (ہمارے اور تمھارے عشق بازی ہے)

آپ علیہ الرحمہ  نے اس کا جواب یوں لکھ کر بھیجا  "میان ماد شما عشق ہست اور بازی نیست" (یعنی ہمارے تمھارے درمیان عشق ہے اور بازی نہیں)

آپ علیہ الرحمہ  کا وصال: آپ علیہ الرحمہ  یا حی یا قیوم کہتے ہوئے 5 محرم الحرام 670ہجری  کو اس جہان سے کوچ کر گئے ، بعض مورخین نے آپ کا۔ وصال 664ھ میں لکھا ہے ۔ آپ کا مزار پاکپتن شریف میں فیوض و برکات کا سر چشمہ ہے جہاں ہر روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ حاضری دے کر اپنے من کی حاجتیں پوری کرتیں ہیں۔

آپ علیہ الرحمہ  کی روحانی اولاد اور خلفاء : فرید بابا نہایت کثیر الاولاد تھے ، چنانچہ آپ علیہ الرحمہ  کی اولاد صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ دہلی ، یوپی اور صوبہ بہار اور ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی ۔ خواجہ نظام الدین اولیاء کے جتنے بھی پیر زادے ہیں وہ آپ ہی کی دختری اولاد میں سے ہیں۔آپ کے خلفاء بھی کئی ہوئے جن میں بڑے بڑے نام حضرت قطب جمال الدین ہانسوی ، حضرت نظام الدین اولیاء ،اور تیسرے حضرت مخدوم علاؤ الدین صابر کلیری جو آپ کے رشتے میں بھانجے بھی ہیں۔حضرت نظام الدین نے آپ کی مزار پر حاضری بھی دی تھی ، آپ کا روزہ بھی حضرت نظام الدین محبوب الہی نے بنوایا ، اور بابا فرید کے جنتی دروازہ کے بارے میں کہا " جو اس میں داخل ہو گیا ، اس نے امن پایا" ۔( بشکریہ   :   کریم  پاشاہ سہروردی قادری حفظہ اللہ)


Fazail e Madina Sharif

 

قرآن کریم میں مدینہ منورہ کے نام

جاہلیت کے دور میں اس شہر کو ’یثرب‘ کہا جاتا تھا، تاہم قرآن وحدیث میں اِس عظیم شہر کے کچھ اور نام بھی ذکر کئے گئے ہیں:المدینۃ: اللہ تعالیٰ نے اس مبارک شہر کا یہ نام خود قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے:”مدینہ والوں اور ان کے گرد و پیش کے دیہاتیوں کو یہ نہ چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان زیادہ پیاری سمجھیں، یہ اس لیے کہ انہیں اللہ کی راہ میں نہ پیاس لگتی ہے، نہ تکلیف، نہ بھوک، اور نہ وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کو غصہ دلائے، اور نہ دشمن پر کوئی قابو پاتے ہیں، مگر ان کے لیے ایک ایک کام کے بدلے نیک عمل لکھا جاتا ہے، بیشک اللہ نیکوکاروں کا ثواب ضائع نہیں کرتا۔"(سورہ التوبہ 9:120)

 

مدینۃ المنورہ کا نام طابۃ  بھی ہے

مدینہ منورہ کا یہ نام بھی خود اللہ تعالیٰ نے رکھا۔ جیسا کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابۃ رکھا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:1385)

 

مدینہ منورہ کا نام طیبہ بھی  ہے

 مدینہ منورہ کا یہ نام خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا۔ جیسا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بے شک وہ (یعنی مدینہ منورہ) طیبہ (یعنی پاک) ہے اور وہ ناپاک کو اس طرح چھانٹ دیتا ہے جیسا کہ بھٹی چاندی کے زنگ کو چھانٹ دیتی ہے۔‘‘ (صحیح البخاری :1884،صحیح مسلم:1384)

 

مدینہ منورہ کا نام الدار بھی  ہے


الدار: مدینہ منورہ کو اس نام سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

ترجمہ: کنزالایمان:اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنالیا دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے گئے اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دئیے گئے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ اُنہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں ۔  (سورہ الحشر: 09)

اس آیت ِ کریمہ میں مدینہ منورہ کو (الدار) کہا گیا ہے اور اس میں مدینہ والوں کے فضائل بھی بیان کئے گئے ہیں کہ جنہوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کے مدینہ منورہ پہنچنے پر خوشی کا اظہار کیا اور انھیں اپنے گلے سے لگا لیا اور ان کی آباد کاری کے ليے ان سے اتنا تعاون کیا کہ انھیں اپنی جائیداد، گھر بار اور نخلستانوں میں شریک کر لیا اور انہوں نے ایثار وقربانی کی یادگار مثالیں قائم کیں۔


مدینہ منورہ کو مضبوط زرہ بھی کہا گیا ہے

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں ایک مضبوط زرہ میں ہوں ۔ تو میں نے زرہ کی تعبیر مدینہ سے کی۔‘‘(مسند احمد بن حنبل الحدیث:2445)


نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ سے محبت

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے شہر (مدینہ منورہ) سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ہم مدینہ منورہ میں آئے تو اس میں وبا پھیلی ہوئی تھی جس سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کی بیماری کو دیکھا تو دعا کرتے ہوئے فرمایا:"اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت ڈال دے جیسا کہ ہم مکہ سے محبت کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اے اللہ! ہمارے صاع اور مد میں برکت دے اور اس (مدینہ منورہ) کو ہمارے ليے صحت افزا مقام بنا اور اس کی بیماریوں کو جحفہ کی طرف منتقل کر دے۔‘‘ (صحیح البخاری :1889،صحیح مسلم:1376)

 

مدینہ منورہ کی دیواریں

حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس لوٹتے اور مدینہ منورہ کی دیواریں نظر آتیں تو اس سے محبت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو تیز کر دیتے۔  (صحیح البخاری:1802 و 1886)


 انصارِ مدینہ سے رسول اللہ ﷺ کی محبت

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک انصاری خاتون اپنا ایک بچہ ليے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گفتگو کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو۔‘‘(صحیح البخاری :3786)

 

خندق کے دن انصارِ مدینہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خندق کے دن انصارِ مدینہ یوں کہتے تھے:ہم وہ ہیں جنہوں نے جہاد پر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اور ہم جب تک زندہ رہیں گے اسی عہد پر قائم رہیں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں جواب دیتے ہوئے یوں ارشاد فرماتے:"اے اللہ! کوئی زندگی نہیں سوائے آخرت کی زندگی کے، لہٰذا تو انصار اور مہاجرین کی عزت افزائی فرما۔‘‘(صحیح البخاری:3795،3796 ،صحیح مسلم:1805)

 

انصار مدینہ نے ناراضگی

حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ فتح ِ مکہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کا مال تقسیم کیا اور اس پر انصار مدینہ نے ناراضگی کا اظہار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ لوگ اپنے گھروں میں غنیمت کا مال لے جائیں اور تم اپنے گھروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاؤ۔ (یاد رکھو) اگر تمام لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں جائیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں جائیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں جاؤں گا۔‘‘(صحیح البخاری: 3778،صحیح مسلم: 1059)


انصار مدینہ سے محبت

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’انصار سے محبت صرف مومن ہی کر سکتا ہے اور ان سے بغض رکھنے والا منافق ہی ہوسکتا ہے اور جو ان سے محبت کرے گا ﷲ اس سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا ﷲ اس سے بغض رکھے گا۔‘‘ (صحیح البخاری الحدیث :3783،صحیح مسلم، الحدیث: 75)


مدینہ منورہ کی حرمت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرمت والا اور قابلِ احترام شہر قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’بے شک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا اور مکہ والوں کے حق میں دعا کی اور میں مدینہ کو حرمت والا قرار دیتا ہوں جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا اور میں نے اہلِ مدینہ کے ناپ تول کے پیمانوں (صاع اور مد) میں اُس برکت سے دوگنا زیادہ برکت کی دعا کی ہے جس کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے اہلِ مکہ کے ليے کی تھی۔‘‘

نتیجہ: اس حدیث سے جہاں مدینہ منورہ کی حرمت ثابت ہوتی ہے وہاں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ مدینہ منورہ میں مکہ مکرمہ سے دو گنا زیادہ برکت ہے۔ (صحیح البخاری :2129، صحیح مسلم:1360)

 

مدینہ منورہ حرمت والا شہر

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا اور میں مدینہ منورہ کو حرمت والا قرار دیتا ہوں اور اس کے حرم کی حدود سیاہ پتھروں والے دو میدانوں کے درمیان ہے، لہٰذا اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ ہی اس میں شکار کیا جائے۔‘‘ (صحیح مسلم :1362)

 


نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ کیليے دعائے برکت

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے اللہ! مدینہ منورہ میں مکہ مکرمہ کی بہ نسبت دوگنی برکت دے۔‘‘(صحیح البخاری:1885،صحیح مسلم:1369)

 

مدینۃ المنورہ کے لئے دعا بزبان احمد مجتبیٰ علیہ السلام

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب پہلا پھل لایا جاتا تو آپ فرماتے: ’’اے اللہ! ہمارے مدینہ میں برکت دے اور ہمارے پھلوں، ہمارے صاع اور مد میں برکت دے۔ ایک برکت کے ساتھ دوسری برکت (دوگنی برکت) دے۔‘‘(صحیح مسلم:1373)


مدینہ منورہ میں رہائش رکھنے کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مدینہ ان کے ليے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے۔ جو شخص اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ پر اس سے بہتر شخص لے آتا ہے اور جو شخص تنگ حالی کے باوجود اس میں ٹکا رہتا ہے میں روزِقیامت اس کیليے شفاعت کرونگا‘‘ یا فرمایا: ’’اس کے حق میں گواہی دونگا۔‘‘ (صحیح مسلم:1363)

 


مدینہ منورہ میں موت آنے کی فضیلت

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو آدمی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ اس کی موت مدینہ منورہ میں آئے تو وہ ایسا ضرور کرے، کیونکہ میں مدینہ منورہ میں مرنے والے انسان کیليے شفاعت کروں گا۔‘‘ (امام احمد بن حنبل ، الترمذی : ۳۹۱۷)

 

مدینہ منورہ میں موت آنے کی دعا

اگر کوئی شخص اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ اپنی موت آنے تک مدینہ منورہ میں ہی رہے تو وہ ایسا ضرور کرے کیونکہ مدینہ منورہ میں موت آنے کی وجہ سے روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی شفاعت نصیب ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ دعا کیا کرتے تھے: ’’اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت نصیب فرمانا اور مجھے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں موت دینا۔‘‘(صحیح البخاری:1890)

 

مدینہ منورہ میں ایمان کا سکڑنا

قیامت کے قریب ایمان سکڑ کر مدینہ منورہ میں ہی رہ جائے گا۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک ایمان مدینہ کی طرف سکڑ جائے گا جیسا کہ ایک سانپ اپنی بل کی طرف سکڑ جاتا ہے۔‘‘(صحیح البخاری :1876،صحیح مسلم:147)

 

مدینہ منورہ لوگوں کی چھانٹی کرے گا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’مجھے ایک بستی (کی طرف ہجرت کرنے) کا حکم دیا گیا ہے جو دیگر بستیوں کو کھا جائے گی۔ (یعنی اس بستی سے جو فوج جائے گی وہ دوسری بستیوں کو فتح کرے گی۔) لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ وہ مدینہ ہے اور وہ لوگوں کی اس طرح چھانٹی کرے گا جیسا کہ ایک بھٹی لوہے کا زنگ چھانٹ کر الگ کردیتی ہے۔‘‘ (صحیح البخاری :1871،صحیح مسلم:1382)

 

مدینہ المنورہ  بھٹی کی مانند

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اسلام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، پھر دوسرے دن آیا تو اسے بخار ہو چکا تھا۔ اس نے کہا: میری بیعت مجھے واپس کر دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا۔ اس نے تین مرتبہ یہی مطالبہ کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ انکار کرتے رہے چنانچہ وہ مدینہ کو چھوڑ کر چلا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مدینہ بھٹی کی مانند ہے، یہ ناپاک کو الگ کر کے پاکیزہ کو چھانٹ دیتا ہے۔‘‘اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ مدینہ میں صرف وہی لوگ رہیں گے جو خالص ایمان والے ہونگے اور وہ لوگ جن کے ایمان خالص نہیں ہونگے وہ مدینہ سے نکل جائیں گے۔ (صحیح البخاری :1883، صحیح مسلم:1383)


یوم الخلاص کو یاد کرو!

حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے، ان کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے اہلِ مدینہ! تم یوم الخلاص کو یاد کرو۔‘‘

 انہوں نے کہا: یوم الخلاص کیا ہے؟

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دجال آئے گا یہاں تک کہ وہ ذباب میں اترے گا، پھر مدینہ منورہ کا ہر مشرک مرد اور ہرمشرک عورت، ہر کافر مرد اور ہر کافر عورت، ہر منافق مرد اور ہر منافق عورت اور ہر فاسق مرد اور ہر فاسق عورت، سب کے سب اس سے جا ملیں گے اور صرف مومن بچ جائیں گے۔ تو وہی دن یوم الخلاص ہوگا۔‘‘ (الطبرانی فی الأوسط برقم:2186)


اہلِ مدینہ سے برائی کا ارادہ کرنے والوں کیليے شدید وعید

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جو شخص اہلِ مدینہ کے بارے میں براارادہ کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے۔‘‘  (صحیح البخاری :1877،صحیح مسلم:1387واللفظ لمسلم)


مدینہ منورہ کی کھجور کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے پھلوں میں برکت کی دعا فرمائی اور اس کے پھلوں میں کھجور بھی شامل ہے۔ مزید برآں حضرت سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو آدمی صبح کے وقت (مدینہ منورہ) میں دو سیاہ پتھروں والے میدانوں کے درمیان والی کھجوروں سے سات عدد کھجوریں کھائے، اسے شام ہونے تک کوئی زہر نقصان نہیں پہنچا سکتا۔‘‘ (صحیح مسلم:2047)

 

 

مدینہ کی عجوہ کھجور

مدینہ کی عجوہ کھجور کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص صبح کے وقت سات عدد عجوہ کھجوریں کھائے اسے اس دن زہر اور جادو کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ (صحیح البخاری :5445،صحیح مسلم: 2047)



مدینہ منورہ میں شرارت آمیز حرکت پر شدید وعید

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جو آدمی اس میں (یعنی مدینہ منورہ میں) شرارت کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس سے نہ کوئی فرض قبول کرے گا اور نہ نفل۔ (اس کا ایک معنی یہ بھی کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے نہ توبہ قبول کرے گا اور نہ فدیہ۔)‘‘ (صحیح البخاری :1867، صحیح مسلم:1366)


طاعون اور دجال سے مدینہ منورہ کی حفاظت

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مسیحِ دجال کا رعب ودبدبہ مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوگا، اس دن اس کے سات دروازے ہونگے اور ہر دروازے پر دو فرشتے نگرانی کر رہے ہونگے۔‘‘(صحیح البخاری :1879)

 

مدینہ منورہ کے دروازوں پر فرشتے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مدینہ منورہ کے دروازوں پر فرشتے مقرر ہیں، اس میں طاعون کی بیماری نہیں آسکتی اور دجال داخل نہیں ہوسکے گا۔‘‘(صحیح البخاری :1880)

مکہ اور مدینہ کے علاوہ دجال کا ہر جگہ داخلہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’دجال ہر شہر میں جائے گا سوائے مکہ اور مدینہ کے، ان دونوں شہروں کے ہر دروازے پر فرشتے صفیں بنائے ہوئے ان کی نگرانی کر رہے ہونگے، پھر مدینہ اپنے رہنے والوں کے ساتھ تین مرتبہ کانپے گا جس سے اللہ تعالیٰ ہر کافر ومنافق کو اس سے نکال دے گا۔‘‘(صحیح البخاری :1881)


مدینہ منورہ میں سب سے اہم جگہ مسجد نبوی

مدینہ منورہ میں سب سے اہم جگہ مسجد نبوی ہے اور یہ وہ مسجد ہے جس کی زمین خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدی اور اس کی بنیاد بھی خود آپ ہی نے اپنے مبارک ہاتھوں سے رکھی اور یہی وہ مسجد ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: 

ترجمہ: کنزالایمان تو کیا جس نے اپنی بنیاد رکھی اللہ سے ڈر اور اس کی رضا پر وہ بھلا یا وہ جس نے اپنی نیو چنی ایک گراؤ گڑھے کے کنارے تو وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں ڈھے پڑا اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا۔(التوبہ 9:108)

اگرچہ اس میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ اس مسجد سے مراد کون سی مسجد ہے، بعض نے اس سے مسجد نبوی اور بعض نے مسجد قباء مراد لی ہے لیکن صحیح مسلم کی ایک حدیث‘ جسے حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہی ہے۔ (صحیح مسلم،کتاب الحج ،الحدیث :1398)

 

ثواب کی نیت سے صرف تین مساجد کی طرف سفر

مسجد نبوی ان تین مساجد میں سے ہے جن کی طرف ثواب کی نیت سے سفر کرنا مشروع ہےجیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’ثواب کی نیت سے صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے اور وہ ہیں: مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری یہ مسجد۔‘‘(صحیح البخاری :1188،صحیح مسلم :1397)

 


مسجد نبوی میں ایک نماز کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مساجد میں ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہےسوائے مسجد حرام کے۔‘‘ (صحیح البخاری :1190، صحیح مسلم:1394)


جنت کے باغوں میں سے ایک باغ

حضرت عبد اللہ بن زید المازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو قطعۂ زمین میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔"(صحیح البخاری :1195، صحیح مسلم:1190)

 

مسجد قباء کی فضیلت

مسجد قبا وہ مسجد ہے جس کی بنیاد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے موقعہ پر رکھی تھی اور اس میں نماز بھی پڑھی تھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے کو اس مسجد میں آتے، پیدل چل کر یا سواری پر اور اس میں دو رکعات ادا فرماتے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ (صحیح البخاری :1191 و1194،صحیح مسلم :1399)اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت یوں بیان فرمائی: ’’جس شخص نے اپنے گھر میں وضو کیا، پھر مسجد قباء میں آیا اور اس میں نماز پڑھی تو اسے عمرہ کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ :1412)