اسمِ ذات "اللہ" یا اللہ کی فضیلت

 

اسمِ ذات "اللہ" (یا اللہ) تمام اسماءِ حسنیٰ کا سرچشمہ، سلطان اور بالاتفاق اسمِ اعظم ہے۔ قرآن، حدیث، فقہ اور تصوف کی تمام اہم کتب میں اس اسمِ مبارک کی بے شمار فضائل اور باطنی برکات بیان کی گئی ہیں۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں فضیلت:

تمام اسماء کا مرجع: قرآن کریم میں ارشاد ہے:وَلِلّٰہِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا (اور اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں، پس اس کو انہی ناموں سے پکارو۔)سورہ الاعراف 180)

آیتِ کریمہ میں تمام صفاتی ناموں (الرحمن، الرحیم، الخالق) کو لفظ "اللہ" کی طرف منسوب کیا گیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تمام ناموں کی اصل ہے۔

کثیر ائمہ و محدثین کے نزدیک "اللہ" ہی اسمِ اعظم ہے۔ سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی کی صحیح روایات میں آتا ہے کہ جب ایک صحابی نے ان الفاظ سے دعا کی:"اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، ‌لَا ‌إِلٰهَ ‌إِلَّا ‌أَنْتَ ‌الْمَنَّانُ، بَدِيْعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ"تو حضوراکرم ﷺ نے فرمایا: "اس نے اللہ کے اس اسمِ اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب بھی اس کے ذریعے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے۔"(سنن ابی داود از امام ابو داودعلیہ الرحمہ رقم الحدیث: ۱۴۹۵/ جامع الترمذی ازامام ترمذی علیہ الرحمہ رقم الحدیث: ۳۵۴۴)

اسمِ ذات "اللہ" کی خاص لغوی و روحانی خصوصیات:

امام فخر الدین الرازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس اسمِ مبارک کی عجیب خصوصیت یہ ہے کہ اس کا کوئی حرف بھی کم کر دیا جائے تو بھی معنیٰ ذاتِ الٰہی ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

اصل: اللہ

الف ہٹا دیں: لِلّٰہ (اللہ کے لیے)

پہلا لام ہٹا دیں: لَہٗ (اسی کے لیے)

دوسرا لام بھی ہٹا دیں: ہُو (وہی ذات)

(بحوالہ: تفسیرِ کبیر جلد 1، صفحہ 85)

شرکت سے پاک:دنیا کا کوئی انسان یا معبودِ باطل کبھی اس نام "اللہ" سے موسوم نہیں ہو سکا اور نہ ہی کسی کو یہ نام رکھنے کی اجازت دی گئی۔

محبوب سبحانی غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ :

آپ علیہ الرحمہ کے نزدیک اسمِ ذات "اللہ" تمام اسماءِ حسنیٰ کا مرجع اور بندے کو خالق سے جوڑنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

مزیدآپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "جب بندہ تمام ظاہری سہاروں سے مایوس ہو کر، کامل حضورِ قلب اور عاجزی کے ساتھ 'یا اللہ' پکارتا ہے، تو غیب سے اس کی دستگیری کی جاتی ہے اور اس کے لیے معرفت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔"(الفتوح الغیب" مقالہ 54"اور "غنیۃ الطالبین" جلد 2، صفحہ 248)

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ:

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اسم "اللہ" تمام اسماء کا سلطان اور حاکم ہے۔ جو شخص اس نام کی مداومت کرتا ہے اس پر تجلیاتِ الٰہیہ کے انوار نازل ہوتے ہیں۔(الفتوحات المکیہ جلد 2، صفحہ 120 ) مزیدآپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یا اللہ" کا ذکر عالمِ ملکوت اور عالمِ جبروت کا جامع ہے، اس نام میں تمام حقائقِ کونیہ کی اصل موجود ہے۔( انشاء الدوائر صفحہ 45 – 47)

 خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ :

آپ علیہ الرحمہ کے نزدیک "یا اللہ" کا ورد طالبِ حق کے لیے دل کی زنگ آلودگی دور کرنے کا بنیادی نسخہ ہے۔

آپ نے فرمایا:"ذاکر جب صدقِ دل سے 'یا اللہ' کہتا ہے، تو عرشِ الٰہی پر اس کے ذکر کی گونج ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 'لبیک یا عبدی' ترجمہ: میں حاضر ہوں اے میرے بندے۔" ("دلیل العارفین" از خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ)

 حجۃ الاسلام امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی علیہ الرحمہ:

یا اللہ" کا ذکر دل کے تمام وسوسوں اور نفسانی بیماریوں کا علاج ہے، جب ذاکر خلوصِ قلب کے ساتھ اس کا ورد کرتا ہے تو اس کا باطن انوار سے بھر جاتا ہے۔ (احیاء علوم الدین جلد 1، صفحہ 294 )

حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ:

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ سالکینِ طریقت کے لیے "یا اللہ" اور "ہُو" کا ذکر لطائفِ روحی کو بیدار کرنے کے لیے سب سے مؤثر اور قوی ترین ذکر ہے۔(عوارف المعارف ، باب 41صفحہ 284 )

محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ :

آپ نے نے اسمِ ذات کے ورد کو روح کی غذا اور قربِ الٰہی کا مستحکم ترین راستہ قرار دیا ہے۔آپ علیہ الرحمہ کے مشہور ملفوظات "فوائد الفؤاد" (جمع کردہ: خواجہ امیر حسن سجزی علیہ الرحمہ ) میں آتا ہے کہ آپ نے ذکرِ الٰہی بالخصوص اسمِ ذات کی مداومت پر زور دیتے ہوئے فرمایا:

"دل کی صفائی اور اطمینان کا دارومدار 'اللہ' کے ذکر پر ہے۔ جب تک زبان اور دل اسمِ ذات کے ذکر سے تر رہتے ہیں، شیطان اور نفس کا غلبہ ممکن نہیں رہتا۔"مزیدآپ فرماتے تھے کہ سالک کو چاہیے کہ اپنے ہر نفس (سانس) کو ذکرِ الٰہی بالخصوص اسمِ "اللہ" یا "ہُو" کے ساتھ مقید رکھے، کیونکہ جو سانس بغیر ذکر کے نکلتی ہے وہ ضائع اور مردہ ہے۔( فوائد الفؤاداز خواجہ امیر حسن سجزی علیہ الرحمہ جلد 3، مجلس 5 صفحہ 142 – 144)

غوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ:

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"اسمِ 'اللہ' تمام صفاتی ناموں کا حاکم ہے۔ اذکار میں اسمِ ذات کا ورد سالک کے لطائف (روحی و قلبی مراکزی نقاط) کو سب سے جلد بیدار اور روشن کرتا ہے۔" مزید آپ علیہ الرحمہ نے سلسلۂ چشتیہ و سہروردیہ کے اشغال کے ضمن میں بیان فرمایا کہ "یا اللہ" اور "ہُو" کی ضربیں لگانے سے ذاکر کا دل "تجلیِ ذاتی" کا مظہر بنتا ہے اور اس کا باطن انوارِ الٰہیہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ (لطائفِ اشرفی جمع کردہ شیخ الاسلام حضرت نظام یمنی علیہ الرحمہ لطیفہ ۵ و ۶ - بیانِ اذکار و اشغال/ مکتوباتِ اشرفی مکتوب 28 باب بیانِ حقیقتِ اسمِ ذات و صفات، صفحہ 84)

حضرت سیدنا علامہ قرطبی المالکی علیہ الرحمہ :

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اسمِ ذات "اللہ" اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا نام ہے اور یہی اسمِ اعظم ہے کیونکہ اس نام کے ساتھ تمام صفات کو جوڑا جاتا ہے۔(الجامع لأحکام القرآن جلد 1، صفحہ 102 - 104 )

امام ابو العباس احمد بن علی البونی علیہ الرحمہ :

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں "یا اللہ" کے ذکر کی روحانی خاصیت یہ ہے کہ اس کے مداوم کو مستجاب الدعوات بنا دیا جاتا ہے اور مشکلات آسان ہوتی ہیں۔(شمس المعارف الکبریٰ فصل فی خواص اسم الله الأعظم صفحہ 48 - 52 ) مزید آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جو شخص طہارت اور خلوص کے ساتھ اسمِ ذات کا ورد کرتا ہے، اس کے حواس میں قوی روحانی طاقت اور نورانیت پیدا ہوتی ہے۔(منبع اصول الحکمۃصفحہ 112 – 114)

 حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ :

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اسمِ "اللہ" کا ذکر روح کو ترقی دیتا ہے اور نفسِ امارہ کو اطمینان و سکون کی حالت (نفسِ مطمئنہ) میں لاتا ہے۔ (تفسیرِ مظہری تفسیر سورۃ الفاتحہ جلد 1، صفحہ 18 )

امام جلال الدین السیوطی الشافعی علیہ الرحمہ :

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ روایات اور آثارِ صحابہ و تابعین کی روشنی میں لفظ "اللہ" تمام اسماء کا سرچشمہ ہے اور اس سے بڑا کوئی نام نہیں۔( الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور باب: دار الفکر، جلد 1، صفحہ 24 – 26)

شیخ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ :

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اسمِ ذات "اللہ" کا ذکر تمام اذکار کا خلاصہ ہے، کیونکہ یہ اسم صاحبِ نام (ذاتِ باری تعالیٰ) سے بلا واسطہ تعلق قائم کرتا ہے۔(مکتوباتِ امامِ ربانی باب: دفتر اول، مکتوب 97 صفحہ 198 - 200) مزید آپ فرماتے ہیں کہ باطنی لطائف کی صفائی اور کمالاتِ ولایت کے حصول کے لیے "اللہ" کا ذکر سب سے قوی اکسیر ہے۔ (مکتوباتِ امامِ ربانی باب: دفتر دوم، مکتوب 42 (صفحہ 112)

 حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ :

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ "یا اللہ" پکارنے میں بندے کا اعترافِ عجز اور باری تعالیٰ کی ہمہ گیر صفات کا احاطہ شامل ہے، اس لیے یہ دعا کے قبول ہونے کے لیے سب سے قوی وسیلہ ہے۔(اشعۃ اللمعات فی شرح المشکاۃ جلد 2، صفحہ 410 )

بزرگانِ دین اور ائمۂ سلوک کی معتبر کتب میں اسمِ ذات "یا اللہ" کے ذکر، اشغال اور وظیفہ کرنے کے کئی خاص طریقے اور ضوابط بیان کیے گئے ہیں۔ ذیل میں صوفیائے کرام کے مستند ذرائع، کتب کے نام، ابواب اور صفحات کے حوالے کے ساتھ وظیفہ کرنے کے طریقے درج ہیں:

قادری طریقہ:

ہر نماز کے بعد یا رات کے آخری حصے (وقتِ سحر) میں اول و آخر درود شریف پڑھیں۔

66 مرتبہ (حسابِ ابجد کے مطابق اسمِ "اللہ" کا عدد 66 ہے) یا 1000 مرتبہ "یا اللہ" کا ورد صدقِ دل سے کریں۔

ورد کے بعد عجز و انکساری کے ساتھ اپنی حاجت یا دل کی صفائی کے لیے دعا مانگیں۔

تاثیر و فائدے: بندہ مخلوق سے منقطع ہو کر خالق سے جڑ جاتا ہے اور دعا کی قبولیت کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔(غنیۃ الطالبین از سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ باب: فی ذکر أسماء الله الحسنى جلد 2، صفحہ 248 دار الکتب العلمیہ بیروت)

نقشبندی و چشتی طریقہ:

باوضو،قبلہ رو بیٹھ کر آنکھیں بند کر لیں اور تمام دنیوی خیالات کو دل سے نکال دیں۔

دل میں تصور کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور میرا دل "اللہ" "اللہ" کہہ رہا ہے۔

زبان یا دل سے "اللہ" کی ضرب لطیفۂ قلب (سینے کی بائیں جانب) پر لگائیں۔

تاثیر و فائدے: اس طریقے سے نفسِ امارہ کی سرکشی ختم ہوتی ہے اور باطن میں اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے۔(ارشاد الطالبین از قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ بیانِ اذکار و اشغالِ سلوک صفحہ 64 – 66 مطبع مجتبائی دہلی)

اشرفی و سہروردی طریقہ:

خلوت (تنہائی) اور طہارت کا اہتمام کریں۔

"یا اللہ" اور "ہُو" کے ذکر کو سانس کے ساتھ ملا کر پڑھیں۔

سانس اندر لے جاتے وقت دل میں "یا اللہ" کا تصور کریں اور سانس باہر نکالتے وقت "ہُو" کی ضرب لگائیں۔

تاثیر و فائدے: باطنی مراکزی نقاط (لطائف) روشن ہوتے ہیں اور تجلیِ ذاتی کا انکشاف ہوتا ہے۔ (لطائفِ اشرفی ازغوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ فی بیان الاذکار والاشغال جلد 1، لطیفہ 5 صفحہ 162 مکتبہ سمنانی کچھوچھہ شریف )

شاذلی و بونی طریقہ:

جمعہ کے دن نمازِ جمعہ سے قبل یا صبح کی نماز کے بعد طہارتِ کاملہ کے ساتھ بیٹھیں۔

1000 مرتبہ "یا اللہ یا ہُو" کا ورد کریں۔

ورد کے دوران دل کو اسمِ ذات کے انوار پر مرکوز رکھیں۔

تاثیر و فائدے: ذاکر کا دل ہیبت اور نورانیت سے بھر جاتا ہے، اور مشکلات و پریشانیوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔

کتاب: شمس المعارف الکبریٰ از شیخ احمد بن علی البونی فصل: فی خواص اسم الله الأعظم صفحہ 48 تا 52 المكتبة الشعبية)

 وظیفہ کے عمومی آداب اور مشائخ کی ہدایات:

طہارت و پاکیزگی: جسم، لباس اور جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے۔

حلال روزی: ذکر میں تاثیر کے لیے لقمهٔ حلال شرطِ اول ہے۔

مداومت (باقاعدگی): وظیفہ کو ناغہ کیے بغیر ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ پر کرنے سے باطنی اثرات جلد ظاہر ہوتے ہیں۔

سورۂ ناس کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال


سورۂ ناس قرآن پاک کی 114ویں اور آخری سورت ہے، جو 30ویں پاره میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے (بعض مفسرین کے نزدیک مدنی ہے) اور اس میں 6 آیات اور 1 رکوع ہے۔یہ سورت اور اس سے پہلے والی سورت (سورۂ فلق) دونوں کو مشترکہ طور پر "معوذتین" کہا جاتا ہے۔ اس سورت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کو انسانوں کے رب، بادشاہ اور معبود (تینوں صفات) کے واسطے سے پناہ مانگی گئی ہے: وسوسہ ڈالنے والے (خناس) کے شر سے، جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے، خواہ وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

پناہ مانگنے کے لیے بہترین سورت:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم نے وہ آیات نہیں دیکھیں جو آج رات نازل ہوئی ہیں، جن کی مثل کوئی آیات نہیں دیکھی گئیں؟

 وہ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ہیں۔"(صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، حدیث: 814/تفسیر صراط الجنان از مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 869 )

 صبح و شام کی پناہ اور کفایت:

حضرت عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ" اور معوذتین (فلق اور ناس) کو صبح اور شام کے وقت تین تین بار پڑھ لیا کرو، یہ تمہیں ہر چیز سے (آفات و بلایا سے) کفایت کریں گی۔"(جامع ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث: 3575/بہارِ شریعت (علامہ مفتی امجد علی اعظمی)، حصہ 16، فضائلِ قرآن، صفحہ 248)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:

بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے نقل ہے کہ دل میں آنے والے برے خیالات، شکوک و شبہات (وسواس) اور ذہنی دباؤ کے خاتمہ کے لیے یہ عمل انتہائی مجرب ہے:جو شخص شیطانی وسوسوں یا وہم کی بیماری کا شکار ہو، وہ ہر نماز کے بعد یا جب بھی وسوسہ آئے 7 مرتبہ سورۂ ناس پڑھ کر اپنے سینے پر دم کرے یا پانی پر دم کر کے پیے۔ انشاء اللہ وسوسے اور ذہنی انتشار ختم ہو جائیں گے۔

(شمعِ شبستانِ رضا از مولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ دفعِ وسواس، صفحہ 177/تفسیر روح البیان از (علامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ زیرِ سورۂ ناس)

رات کو سوتے وقت حفاظتی حصار (سنتِ مبارکہ)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب بھی ہر رات بستر پر تشریف لاتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر دم فرماتے، اور پھر اپنے مبارک ہاتھوں کو جہاں تک جسم تک پہنچ سکتے پھیرتے (پہلے سر اور چہرے پر، پھر باقی جسم پر)۔ آپ ﷺ یہ عمل تین بار دہراتے تھے۔ بزرگانِ دین کا بھی یہ دائمی معمول رہا ہے، جس کی برکت سے رات بھر جنات اور شیاطین کے شر سے حفاظت رہتی ہے۔(صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن / کتاب الدعوات، حدیث: 5017/اعمالِ رضا ازمولانا حسن رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ ، باب ادعیہ و اورادِ نوم)

 جناتی اثرات، آسیب اور نظرِ بد کا علاج:

صوفیائے کرام سے منقول ہے کہ اگر کسی پر جناتی اثرات، آسیب یا نظرِ بد کا شبہ ہو، تو اس مریض پر 41 مرتبہ سورۂ ناس (مع اول و آخر 11 بار درود شریف) پڑھ کر دم کیا جائے، تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام شیطانی اثرات زائل ہو جاتے ہیں۔(جواہرِ خمسہ از حضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ )

﴿ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱) مَلِكِ النَّاسِۙ(۲) اِلٰهِ النَّاسِۙ(۳) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِﭪ(۴) الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵) مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠(۶)

سورۃ الفلق کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال

 

سورۂ فلق قرآن پاک کی 113ویں سورت ہے، جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے (بعض مفسرین کے نزدیک مدنی ہے) اور اس میں 5 آیات اور 1 رکوع ہے۔یہ سورت اور اس کے بعد والی سورت (سورۂ ناس) دونوں کو مشترکہ طور پر "معوذتین" (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) کہا جاتا ہے۔ اس سورت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے: تمام مخلوقات کے شر سے، اندھیری رات کے شر سے، جادوگروں (گرہوں میں پھونکنے والیوں) کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے۔

بے نظیر اور بے مثال سورتیں (معوذتین)

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "کیا تم نے وہ آیات نہیں دیکھیں جو آج رات نازل ہوئی ہیں، جن کی مثل کوئی آیات نہیں دیکھی گئیں؟

 وہ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ہیں۔"(صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، حدیث: 814/تفسیر صراط الجنان از مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 869 )

 جادو اور نظرِ بد کا علاج:

حدیث مبارک / واقعہ: جب نبی کریم ﷺ پر ایک یہودی (لبید بن اعصم) نے جادو کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں (معوذتین) نازل فرمائیں، جن کی آیات پڑھنے سے جادو کے تمام گرہیں کھل گئیں اور آپ ﷺ بالکل صحت یاب ہو گئے۔(تفسیر ابن کثیر (مترجم علمائے اہلسنت)، زیرِ سورۂ فلق/تفسیر خزائن العرفان از صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ فلق/تفسیرِ نعیمی از مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی  علیہ الرحمہ ، جلد 30، زیرِ سورۂ فلق)

 تمام برائیوں سے کفایت کرنے والی:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "صبح اور شام 3, 3 بار سورۂ اخلاص اور معوذتین (فلق و ناس) پڑھ لیا کرو، یہ تمہیں ہر برائی سے کفایت کریں گی۔"(جامع ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث: 3575/بہارِ شریعت ازعلامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ، حصہ 16، فضائلِ قرآن، صفحہ 248)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف

بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے نقل ہے کہ حاسدوں کی حسد، جادو اور نظرِ بد کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے یہ عمل نہایت مجرب ہے:جس شخص پر نظرِ بد ہو یا جادو کے اثرات معلوم ہوتے ہوں، اس پر 41 مرتبہ سورۂ فلق (مع اول و آخر 11 بار درود شریف) پڑھ کر پانی پر دم کر کے پلایا جائے اور اس کے جسم پر دم کیا جائے، بفضلِ الٰہی جادو اور نظر کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔(شمعِ شبستانِ رضا از مولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ دفعِ جادو و نظرِ بد، صفحہ 173/تفسیر روح البیان از (علامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ زیرِ سورۂ فلق)

رات کو سوتے وقت کا حصار:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر رات بستر پر تشریف لاتے تو سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر اپنی ہتھیلیوں پر دم فرماتے اور سر، چہرے اور جسم کے جتنے حصے پر ممکن ہوتا ہاتھ پھیرتے۔ بزرگانِ دین کا بھی یہی روزمرہ کا معمول رہا ہے، جس سے رات بھر شیاطین، سانپ، بچھو اور حشراتِ الارض سے حفاظت رہتی ہے۔(صحیح بخاری / اعمالِ رضاازمولانا حسن رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ ، باب ادعیہ و اورادِ نوم)

 بچوں کی حفاظت اور بیماروں کے لیے دم:

طریقہ: صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ چھوٹے بچوں کو بیماری، رونے اور نظرِ بد سے بچانے کے لیے روزانہ صبح و شام 3 مرتبہ سورۂ فلق اور 3 مرتبہ سورۂ ناس پڑھ کر بچوں پر دم کرنا چاہئے۔(جواہرِ خمسہ از حضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ )

﴿ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ(۱) مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ(۲) وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ(۳) وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ(۴) وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠(۵)


سورہ احد کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال

 

سورۂ احد سے مراد قرآن پاک کی 112ویں سورت "سورۃ الاخلاص" (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ) ہے، جسے سورۂ احد یا سورۂ توحید بھی کہا جاتا ہے۔ یہ 30ویں پارے میں واقع ہے، اس میں 4 آیات اور 1 رکوع ہے۔اس سورت مبارکہ کا بنیادی موضوع اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں وحدانیت (توحیدِ باری تعالیٰ) کو بیان کرنا ہے کہ اللہ ایک ہے، بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔

ایک تہائی قرآن (ثلثِ قرآن) کے برابر:

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ ایک رات میں تہائی (1/3) قرآن پڑھ لے؟

" صحابہ کرام نے عرض کیا: "تہائی قرآن کیسے پڑھا جا سکتا ہے؟

" آپ ﷺ نے فرمایا: "قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" تہائی قرآن کے برابر ہے۔(صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قل هو الله أحد، حدیث: 5015/تفسیر صراط الجنان از مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 863 )

 جنت کے محل کی بشارت:

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص 10 مرتبہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیتا ہے۔"(مسند امام احمد بن حنبل، حدیث: 15652/بہارِ شریعت ازعلامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ، حصہ 16، فضائلِ قرآن، صفحہ 247)

 اللہ تعالیٰ کی محبت کا حصول:

ایک صحابی ہر رکعت کے آخر میں سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے سبب پوچھا تو انہوں نے کہا: "مجھے اس سورت سے محبت ہے کیونکہ اس میں الرحمن کی صفت بیان ہوئی ہے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "اس سورت سے تمہاری محبت تمہیں جنت میں داخل کر دے گی/اللہ تم سے محبت فرماتا ہے۔" (صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث: 7375/تفسیر خزائن العرفان از صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ اخلاص)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف

بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے نقل ہے کہ فقر و محتاجی کو دور کرنے کے لیے یہ عمل انتہائی اکسیر ہے:جب بھی اپنے گھر میں داخل ہوں تو گھر والوں کو سلام کریں (اگر گھر خالی ہو تو السلام علینا وعلى عباد الله الصالحين کہیں)، اس کے بعد 1 بار سورۂ اخلاص (احد) تلاوت کریں۔

برکت: اس عمل کی برکت سے گھر سے فقر و فاقہ دور ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ رزق میں اتنی وسعت عطا فرماتا ہے کہ پڑوسیوں تک کو فائدہ پہنچتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر / تفسیر قرطبی، زیرِ سورۂ اخلاص/شمعِ شبستانِ رضا از مولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ وسعتِ رزق، صفحہ 170)

مغفرت اور گناہوں کی معافی کا چلہ:

بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ جو شخص ہر روز فجر کی نماز کے بعد 100 مرتبہ سورۂ اخلاص تلاوت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے 50 سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے (بشرطیکہ حقوق العباد اور کبائر سے پرہیز کرے)۔(اعمالِ رضا از مولانا حسن رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ باب اورادِ مغفرت۔

 تمام آفتوں، جادو اور بیماریوں سے حفاظتی حصار:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر رات سوتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو جمع فرما کر سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر دم فرماتے اور مبارک ہاتھوں کو اپنے تمام جسم پر پھیرتے تھے۔ بزرگانِ دین کا بھی یہ دائمی معمول رہا ہے۔(بہارِ شریعت ازعلامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ، حصہ 16 )

﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲) لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)


سورۃ الکافرون کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال


 

قرآن پاک کی 109ویں سورت ہے، جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس میں 6 آیات اور 1 رکوع ہے۔ اس سورت کو "سورۃ الاخلاص" (شرک سے بیزاری اور توحید کو خالص کرنے والی سورت) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سورت اسلام اور کفر کے درمیان واضح خطِ امتیاز کھینچتی ہے اور توحید پر قائم رہنے کا درس دیتی ہے۔

چوتھائی قرآن (ربع قرآن) کے برابر:

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: " قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ " (سورۂ الکافرون) چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔)جامع ترمذی، کتاب فضائل القرآن، حدیث/ 2893 تفسیر صراط الجنان از مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 851 (

 شرک سے بیزاری اور نجات:

حضرت فروہ بن نوفل رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: "یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: " قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ پڑھ کر سویا کرو، کیونکہ یہ شرک سے بیزاری کا پروانہ ہے۔)سنن ابوداؤد، کتاب الأدب، حدیث/ 5055 بہارِ شریعت ازعلامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ، حصہ 16، فضائلِ قرآن، صفحہ 247۔

﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱) لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ(۲) وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ(۳) وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ(۴) وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ(۵) لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠(۶)