حضرت ابولقاسم امام قشیری علیہ الرحمہ

 

اسمِ گرامیعبدالکریم

 کنیت: ابو القاسم

 القابزین الاسلام، استاذ الصوفیاء، شیخ الجماعۃ، مقدمۃ الطائفہ، صاحبِ رسالہ قشیریہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:ابو القاسم عبد الکریم قشیری بن ہوازن بن عبد الملک بن طلحہ بن محمد نیشاپوری ۔ قبیلۂ قشیر کی نسبت سے قشیری کہلاتے ہیں ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت ماہِ ربیع الاول 376ھ /مطابق جولائی 986ء کو بمقام " استواء " مضافاتِ نیشاپور میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:آپ نے علم کے لئے کئی بلادِ اسلامیہ کا سفر کیا اور متعدد مشاہیرِ اسلام سے اخذ ِعلم کیا ۔ جن ابوالحسین بن بشران ، ابن الفضل بغدادی، ابو محمد کوفی، ابو نعیم، ابو القاسم بن حبیب قاضی، ابو بکر طوسی ۔ مشہور محدث امام ابو بکر بیہقی اور امام الحرمین جوینی کی صحبت میں رہے، اور ان کی معیت میں حج کی سعادت بھی حاصل کی، اسی طرح تصوف اور اخلاق کے متعدد شیوخ ہیں ۔

بیعت و خلافت:آپ حضرت شیخ ابو علی دقاق علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خرقۂ خلافت سے مشرف کیے گئے ۔

سیرت و خصائص:زین الاسلام ،حجۃ الاسلام ، شیخ الاسلام ، امام الاولیاء ، استاذ الصوفیاء ، رئیس العرفاء شیخ ابو القاسم عبد الکریم قشیری علیہ الرحمہ ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے سب سے بڑے فقیہ، صوفی، عابد، زاہد، متکلم، اور متشرع تھے ۔ تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ماہرِ کامل تھے ۔ جامعِ شریعت و طریقت تھے ۔ ظاہری و باطنی علوم میں " مرج البحرین " تھے ۔

تصنیفات:آپ کی بہت تصانیف ہیں ۔ ان میں سے زیادہ مشہور " رسالہ قشیریہ " اور " لطائف الاشارات فی التفسیر " ہیں ۔

داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ نے آپ علیہ الرحمہ سے علمی و روحانی استفادہ فرمایا ہے ۔ اس لحاظ سے داتا صاحب آپ کے شاگرد ہیں ۔

داتا صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:متأخرین صوفیہ کے امام، الاستاذ، زین الاسلام، شیخ ابو القاسم حضرت عبد الکریم بن ہواز قشیری رحنمۃ اللہ علیہ ۔ اپنے زمانے کے بدیع المثال لوگوں میں سے تھے ۔ مرتبے میں رفیع المثال، اور منازلِ سلوک میں علو الحال تھے ۔ ان کی بزرگی کا زمانہ معترف ہے ۔ ان کے فضائل بے شمار ہیں ۔ ہر علم میں ان کے لطائف بے حد و بے حساب ہیں ۔ تصانیف بہت زیادہ ہیں ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کے حال و قال کو حشو و زوائد سے محفوظ فرما دیا تھا ۔ (کشف المحجوب ، ص:328)

خطیب بغدادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:آپ ثقہ، واعظ، نکتہ داں، مذہبِ اشاعرہ کے اصول، اور مذہبِ شافعی کے فروع میں مہارت رکھتے تھے ۔

ابن الصلاح علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:حدیث، تفسیر، فقہ، اصول، ادب، صرف، نحو، شعر، تصوف، اور شریعت و حقیقت کے جامع تھے ۔

ابو اسحاق الصیرفینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:میں نے آپ جیسا صاحبِ علم و فن، جامع شریعت و طریقت نہیں دیکھا ۔

تاریخِ وصال:آپ علیہ الرحمہ کا وصال بروز اتوار 16 ربیع الثانی 465ہجری / مطابق 29 دسمبر 1072ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار نیشاپور میں ہے ۔(ماخذ و مراجع:کشف المحجوب ، طبقات الشافعیہ ۔ وفیات الاعیان)


حضرت خواجہ ابو محمد چشتی علیہ الرحمہ


آپ بڑے بلند مرتبہ بزرگ اور عظیم الشان درویش تھے۔ آپ کا لقب ناصح الدین ہے۔ آپ اپنے والد ماجد حضرت خواجہ ابو احمد چشتی علیہ الرحمہ  کے مرید و خلیفہ تھے۔

سیر الاولیاء میں لکھا ہے کہ آپ ذوق و شوق اور غایت مجاہدہ کی وجہ سے نماز معکوس ادا کرتے تھے۔ آپ کے گھر میں ایک کنواں تھا جس میں لٹک کر آپ یہ نماز ادا کرتے تھے۔

آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ چار ماہ حمل کے بعد آپ اندر سے کملہ طیبہ کی آواز سنتی تھیں۔ ایک دن میں اس کےو الد کے ساتھ بیٹھی تھی۔ انہوں نے میرے حمل کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا السلام علیکم یا ولی اللہ وخلیفتی (السلام علیکم ولی اللہ اور میرے خلیفہ) بطن مادر سے کچھ آواز آئی۔ لیکن معلوم نہ ہوسکا کہ کیا آواز ہے۔

آپ کی والدہ نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ نے اس کو السلام علیکم تو کہہ دیا لیکن معلوم نہیں وہ لڑکی ہے یا لڑکا۔ آپ نے فرمایا کی مجھے اللہ تعالیٰ بشارد دی ہے اور میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہے نیز لوح محفوظ پر بھی میں نے لکھا دیکھا ہے کہ میرےہاں ایک مادرز ادولی اللہ پیدا ہوگا۔ سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ جس رات حضرت اقدس پیدا ہوئے شب عاشورہ تھی والد بزرگوار نے خواب میں دیکھا کہ سرور کائنات ﷺ کی زیارت ہوئی ہے اور آپ فرمارہے ہیں کہ اے ابو احمد تجھے مبارک ہو تمہارے گھر لڑکا پیدا ہوا۔ اس کا نام میرے نام پر رکھنا اور اس کو میرا سلام کہنا۔جب آپ خواب سے بیدار ہوئے تو دیکھا کہ بچہ پیدا ہوا ہے۔ بچہ ابھی پانی میں نہلایا جارہا تھا کہ آپ نے سات مرتبہ کلمہ طیّبہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھا۔ حضرت خواجہ ابو احمد نے تجدید وضو کر کے بچے کو السلام علیکم کہا بچے نے جواب دیا،وعلیکم السلام اے ہمارے شیخ اور بیان فرمائیے وہ خواب جو آج رات آپ نے دیکھا ہے یہ سن کر بچے نے سرزمین پر رکھ دیا اور سجدہ کیا حضرت شیخ نے بھی سجدہ کیا اور دعا کی کہ الٰہی اس بچے کو ولی کامل بنا۔ آواز آئی کہ اے ابو احمد میں نے تمہاری دعا قبول کی ہے اور تمہارے اس بچہ کو اپنا مقبول بنایا ہے۔ اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب شب عاشورہ کو آپ کا تولد ہوا تو دوسرے دن یعنی عاشورہ کے دن آپ نے والد کا دودھ نہ پیا۔
والدہ نے حضرت خواجہ ابو احمد سے شکایت کی تو فرمایا کہ تیرا بیٹا ولی مادرزاد ہے۔ انبیاء اور اولیاء کی متابعت کر رہا ہے اور یوم عاشورہ کا احترام کر رہا ہے۔ چنانچہ اسی طرح ہوا۔ جب آفتاب غروب ہوا تو آپ نے دودھ پینا شروع کیا۔ ایک دن والدہ ماجدہ آپ کو دودھ پلارہی تھیں۔ عین دودھ پیتے وقت آپ بہت ہنسے یہ دیکھ کر ان کی والدہ کو تعجب ہوا اور حضرت خواجہ ابو احمد سے عرض کیا۔ آپ نے فرمایا کہ شیطان بچے کو رلانے کے لیے آیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا۔ کہ شیطان کو دور بھگا دو اور لعنت ملامت کرو۔ جب پیشمان ہوکر بھاگا تو بچے کو ہنسی آ گئی۔

اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت خواجہ محمد چشتی کی والدہ فرماتی ہیں کہ جس روز آپ پیدا ہوئے اسی روز سے ڈھائی سال تک آپ پنجگانہ ن ماز کے وقت آنکھیں آسمان کی طرف کر کے لا تعداد بار لا الہٰ الا اللہ کہتے تھے۔ اور آپ کے چہرہ مبارک پر ایسا نور چھا جاتا تھا کہ جس سے تمام گھر روشن ہوجاتا تھا اورچراغ کی ضرورت نہیں رہتی تھی ار روشنی اس قدر ہوتی تھی کہ اگر سوئی بھی گر جائے آپ کے نور جبیں سے مل جاتی تھی۔ سیر الاقطاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب آپ ڈھائی سال کے ہوئے دودھ کم پیتے تھے۔ والدہ نے حضرت خواجہ ابو احمد کی خدمت میں شکایت کی تو فرمایا کہ ابو محمد درویش ہے اور کم کھانا کمال درویشی ہے شروع ہی سے کم کھانے کی عادت ڈال رہا ہے۔

جب آپ چار سال اور چار ماہ کے ہوئے تو آپ کو مدرسہ بھیجا گیا۔ ناگاہ آپ کی تختی پر یہ الفاظ ظاہر ہوئے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم علم القرآں رب یسر ولا تعسر رب زدنی علماء وفہما وتمم بالخیر (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اے رب فہم قرآن آسان کر مشکل نہ کر اور میرے علم و فہم میں برکت دے اور خاتمہ بالخیر فرما)چنانچہ تھوڑے عرصہ میں آپ نے قرآن پڑھ لیا۔ علوم دینی حاصل کیے اور کمال کو پہنچے۔ چودہ سال کی عمر سے آپ نے خلوت اختیار کی۔ اس وقت سے آپ کی زبان سے جو کچھ نکلا پورا ہوا۔

خلیفہ وقت اور ساری خلقت اسی وقت سے آپ کی بے حد معتقد ہوگئے اور جو شخص مراد لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ کامیاب ہوتا تھا۔ آپ تیس سال تک باوضو رہے اور جو کافر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا مسلمان ہوجاتا تھا چنانچہ شہر چشت میں کوئی کافر باقی نہ رہا۔

مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ جو شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا عرش سے تحت الثرےٰ تک اس پر منکشف ہو جاتا تھا اور ولی کامل بن جاتا تھا۔

والد کا وصال اور سجادگی:جب آپ کی عمر چوبیس سال ہوئی تو والد ماجد کا وصال ہوگیا۔ آپ ان کے قائم مقام ہوئے اور مسند خلافت پر متمکن ہوئے اور لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہونے لگے۔ آپ بارہ سال تک اپنے حجرہ میں مشغول رہے۔ سات دن کے بعد ایک خرما کے دانہ سے افطار کرتے تھے کہتے ہیں کہ ایک دن ایام طفلی میں راستے میں خواجہ خضر سے ملاقات ہوئی۔ خضر نے فرمایا کہ اے ابو محمد مبارک ہو مجھے حضرت رب العزت سے حکم ملا ہے کہ آپ کو ظاہری و باطنی تعلیم دوں آپ نے خضر علیہ السلام کے قدم چوم کر کہا کہ اے خواجہ جو حکم ہو فرمائیں چنانچہ خضر علیہ السلام نے آپ کو اسم اعظم بتایا تو اسی وقت علوم واسرار منکشف ہوگئے وہاں سے واپس گھر کو چلے گئے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا تختی دکھاؤ آج تم نے کیا پڑھا ہے۔ آپ نے فرمایا اما جان! میں نے جو کچھ پڑھا ہے تختی میں ہیں سما سکتا۔ اس کے بعد والدہ نے قرآن مجید ان کے سامنے رکھا تو فرمایا کہ اماں جان! قرآن اپنے پاس رکھو میں زبانی پڑہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے تھوڑی دیر میں تمام قرآن پڑھ لیا۔ یہ دیکھ کر والدہ کو تعجب ہوا اور شکر ادا کیا۔اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دن خواجہ ابو احمد سماع سن رہے تھے اور قوال سُر کے ساتھ اشعار پڑھ رہے تھے اور آپ وجد میں تھے کہ یکا یک آپ کی نظر فیض اثر خواجہ ابو محمد پر پڑی اور سماع میں شام ہونے کا حکم خواجہ ابو محمد مست و مدہوش ہوکر سماع میں شامل ہوئے دیر تک ذوق وشوق کی حالت میں بیٹھنے کے بعد بے ہوش ہوکر گر گئے۔ حضرت خواجہ ابو محمد سات دن تک سماع سنتے تھے نماز کے وقت سماع بند کر کے آپ نماز پڑھ لیتے تھے اور پھر سماع شروع ہوجاتا تھا۔ان سات ایام میں حضرت خواجہ ابو محمد اسی طرح بے ہوش پڑے رہے یہ دیکھ کر آپ نے قوالوں سے فرمایا کہ سماع بند کرو تاکہ خواجہ ابو محمد ہوش میں آجائے جب قوالوں نے سماع بند کیا تو کچھ دیر کے بعد آپ نے انکھیں کھولیں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے اور فرمایا قولوا، قولوا (کہو کہو) چنانچہ عالم غیب سے ایسے نغمات کی آواز آنے لگی کہ کبھی کسی نے نہیں سنی تھی کہ اور ہر شخص نے اچھی طرح سنی۔ اس پر حضرت خواجہ ابو محمد پر وجد طاری ہوا اور تین دن متواتروہی آواز آتی رہی اور آپ سماع میں مشغول رہے جب ہوش میں آئے تو اپنےو الس ماجد کے قدموں پر گر گئے اور فرمایا کہ مخدوم فن جو فتح یاب سماع میں حاصل ہوئی۔

اگر کوئی شخص سو سال تک ریاضت ومجاہدہ کرے تو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا۔ جو ایک مجلس سماع میں حاصل ہوا ہے۔ خواجہ ابو محمدﷺ نے فرمایا اے ابو محمدﷺ سماع ایک سر بستہ راز ہے جسے سر بستہ رکھنا چاہئے کیونکہ عوام بچارے اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ اگر میں یہ راز بیان کردوں تو ساری خلقت سماع میں مبتلا ہوئے۔ اور خد اسے اس نعمت کے سوا کچھ نہ طلب کریں۔

شہزادہ کا حاضر خدمت ہونا: اس کتاب میں یہ بھی لکھاہے کہ ایک دن خواجہ ابو محمد قدس سرہٗ دریائے دجلہ کے کنارے پر بیٹھے کپڑا سی رہے تھے۔ اس اثناء میں بادشاہ کا لڑکا گھوڑے پر سوار ہوکر آیا اور اترک کرآپ کے سامنے سر زمین پر رکھا۔ اور با ادب ہوکر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت رسالت پناہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر کسی بادشاہ کے ملک میں ایک بیوہ عورت رات کو بھوکی رہ گئی تو قیامت کے دن اس بادشاہ کا دامن پکڑیگی۔ جب تجھے حق تعالیٰ نے ملک اور بادشاہت عطا کی ہے تو خبردار ملک کے فقیر اور مساکین سے تم غفلت نہ کرنا اور نہ قیامت کے دن شرمندگی حاصل ہوگی۔ جب آپ نے نصیحت ختم کی تو شہزادے نے کچھ نقد جنس حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کی حضرت اقدس نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ملک زادہ ہمارے خواجگان میں سے کسی نے بھی اس چیز کو قبول نہیں فرمایا۔

میں بھی قبول نہیں کرتا ہماری دولت فقر ملک سلیمان سے بھی بڑھ کر ہے جب شہزادے نے بہت اصرار کیا تو آپ نےفرمایا کہ اے شاہزادہ حق تعالیٰ نے اپنے گیب کے خزانے اپنے بندوں کیلئے کھول دیئے ہیں۔ تمہارے عطیات کی ضرورت نہیں ہے۔ جب اسکا اصرار اور الھاج حد سے بڑھ گیا تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ الٰہی جو کچھ آپ اپنے بندوں کو دکھاتے ہو اس کو بھی دکھاؤ۔ یہ کہنا تھا کہ دریائے دجلہ کی مچھلیاں ایک ایک دینار منہ میں لے کر نکل آئیں۔ یہ دیکھ کر شہزادہ حیرت زدہ ہوا اور حضرت اقدس کے پاؤں میں رکھ دیا۔ کچھ دیر بعد رخصت طلب کی اور چلا گیا لیکن حضرت اقدس نے اس سے کچھ نہ فرمایا ۔

فتح سومنات میں حضرت اقدس کا ہاتھ: اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب سلطان محمود غزنوی بن سبکتگین سومنات پر حملہ آور ہوا تو حضرت خواجہ ابو محمد کو حکم ہوا کہ آپ بھی اس کی طرف توجہ کر کے مدد کریں۔ چنانچہ ستر سال کی عمر میں درویشوں سمیت اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے نفس نفیس کے ساتھ وہاں پہنچ کر مشرکین کے ساتھ جہاد کیا۔ اور ایک دن کافروں نے اس زور سے حملہ کیا کہ لشکر اسلام کو ایک جنگل میں پناہ لینی پڑی۔ حضرت اقدس کا چشت میں ایک مرید وخلیفہ تھا۔ جس کا نام محمد کاکو تھا اور چکی چلاتا تھا۔ آپ نے اُسے آواز سے کر فرمایا کہ کاکو فوراً پہنچ جاؤ۔ کاکو نے فوراً وہاں پہنچ کر ایسا حملہ کیا کہ لشکر اسلام کو فتح حاصل ہوگئی۔ عین اُسی وقت محمد کا کوچت میں لوگوں نے دیکھا کہ چکی کا پاٹھ اٹھا اٹھاکر دیوار پر مارتا تھا۔ اور جوش وخروش کی وجہ سے اس کے منہ سےجھاگ نکل رہی تھی۔ جب لوگوں نے اسکا سبب پوچھا تو یہی ماجرا بیان کیا آخر جب سلطان محمود غزنوی نے فتح سومنات کے وقت حضرت خواجہ کی ظاہری وباطنی امداد اپنی آنکھوں سے دیکھی تو معتقد ہوا حاضر خدمت ہوکر قدموں میں گر گیا۔ اور بیوت ہوا ۔

صاحب مراۃ الاسرار نے حضرت خواجہ ابو محمد کے ہاتھ پر فتح سومنات کا واقعہ یوں بیان کیا ہے۔ کہ جب سلطان محمود غزنوی نے لشکر کشی کر کے حاکم سندھ وپنجاب راجہ جیپال پر حملہ کیا تو بہت سی لڑائیوں کے بعد اُسے شکست دی اور قید کرلیا۔ اور ۴۰۷ھ میں قنوج تک کے علاقے فتح کرلیے۔ بیشمار قلعے اور بت خانے توڑ ڈالے راجہ جیپال کو کو شکست دینے کے بعد قنوج میں اس وقت سات ایسے مضبوط قلعے فتح کیے جو آسمان سے باتیں کرتے تھے۔ اور ہزاروں بتوں کو توڑ کر خاک میں ملایا۔

ان فتوحات میں اُس نے بے حد زر و مال اور قیدی جمع کیے ان عمارتوں میں سے بعض چالیس ہزار اور پچاس ہزار سال پرانی تھیں۔ جب وہ ان کو ویران کر رہا تھا تو سومنات کے باشندوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ چونکہ ان چیزوں سے سومنات کا بت ناراض تھا اس لیے ختم ہورہی ہیں۔ ور نہ بت لشکر اسلام کو تباہ نہ کردیتا۔ یہ سنکر سلطان نے عہد کرلیا کہ اب سومنات کے بت خانہ کو ختم کروں گا تاکہ ان لوگوں کا یہ اعتقاد جھوٹا ثابت ہو۔

فتح سومنات:چنانچہ اس نے ۴۱۶ہجری  نہر والہ اور گجرات کی طرف شکر کشی کی سومنات کے بت کو انہوں نے دریا کے کنارے پر واقع ایک مندر میں رکھا ہوا تھا اور اہل ہند چاند گرہن کی رات کو بیت کی زیارت کو آتے تھے اور ایک لاکھ کے قریب بیچاری گردنواح میں جمع ہوجاتے تھے۔ بت خانہ کے خرچ کے لیے دس ہزار آباد گاؤں وقف تھے۔ اور وہاں اس قدر زروجواہرات جمع ہوچکے تھے کہ اس کا عشر عشیر بھی کسی بادشاہ کے خزانے میں نہ ہوگا۔

ہر وقت دو ہزار زنار پہنے ہوئے پجاری اس بت کی پوجا میں مصرور رہتے تھے۔ وہاں دو سومن وزنی سونے کا ایک زنجیر آویزاں تھا۔ نیز وہاں تین ہزار سر منڈے پجاری، تین ہزار گانے بجانے والے اور پانج رقص کرنے والی لڑکیاں بت خانہ کی ملازمت میں رہتے تھے۔ اگر چہ دریائے گنگا سومنات سے سے اُسے دھونے کے لیے ہر روز دریائے گنگا سے پانی لایا جاتا تھا۔ غرضیکہ جب سلطان دور دراز مسافت طے کرتا ہوا وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ دریا کے کنارے پر ایک بہت مضبوط قلعہ ہے اور لوگ شہر سے باہر نکل کر مسلمانوں کا مذاق اڑارہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا معبود مسلمانوں کے لشکر کو تباہ وبرباد کردے گا۔ سلطان نے قلعہ پر حملہ کیا اور کافی جد و جہد کے بعد اس فتح کرلیا۔

یہ دیکھ کر ہندو لوگوں نے بھاگ پر بت خانہ میں پناہ لینا شروع کیا۔ بت سے بغلگیر ہوکر رورہے تھے اور باہر نکل نکل کر مسلمانوں سےلڑ رہے تھے اور جان دے رہے تھے۔ اس روز پچاس ہزار سے زائد ہندو مارے گئے۔ اور باقی کشتیوں میں بیٹھ بھاگ گئے۔ جس مندر میں بت بڑا تھا اس کا طول و عرض بہت زیادہ تھا اور پچاس ساٹھ لعل و زمرد سے مرضع ستون چھت کو اٹھائے ہوئے۔ بت پتھر سے تراش کیا گیا تھا اس کی لمبائی پانچ گز تھ ی یعنی تین گز ظاہر تھا اور دو گز زمین میں گڑھا ہوا تھا۔ سلطان نے خود بت کے اندر داخل ہوکر گزر سے بت کو توڑا اور اٹھواکر غزنی لے لیا اور جامع مسجد سے باہر دروازہ پر پھینک دیا۔ اس مہم میں سلطان کو بے انداز دولت ملی جو وہاں جمع تھی۔ سومنات سے مراد دوارکہ ہے جو اس زمانے میں نہر وانہ کا ایک بہت بڑا شہر تھا۔ وہ بت کش کی صورت پر بنایا گیا تھا اور پتھر سے کشیدہ تھا۔

مزید فتوحات:اس کے بعد سلطان محمود غزنوی کے بیٹے سلطان مسعود نے بنارس تک کا علاقہ فتح کرلیا۔ اور سلطان کے بھانجے سالار مسعود نے سترکھ، بھرائچ اور شمال کی جانب دامن کوہ تک کے علاقے فتح کیے۔ سلطان محمود کے بعد تیرہ بادشاہ یکے بعد دیگر ہندوستان کی سر زمین میں حکمران رہے قلعہ لاہور بھی اُن کے تصرف میں تھا حتیٰ کہ سلطان شہاب الدین غوری نے حملہ کر کے قلعہ لاہور فتح کیا اور اپنے آدمی تعینات کیے۔ آخر ۵۸۳ھ کو سلاطین غزنویہ کا دور ختم ہو گیا ۔

اس وجہ سے تمام مؤرخین نے ہندوستان کی فتح اول سلطان محمود غزنوی کے نام سے منسوب کی ہے اور فتح ثانی حضرت خواجہ بزرگ خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن سنجری اجمیری رضی اللہ ٰ عنہ کی برکت سے سلطان شہاب الدین غوری کو جو سلطان معز الدین سام کے نام سے معروف تھا نصیب ہوئی۔

سلطان شہاب الدین محمد غوری نے والئ ہند رائے پتھورا کو ختم کرنے قطب الدین ایبک کو اپنا جانشین مقرر کیا اور خود غزنی کی طرف چلا گیا۔ حضرت خواجہ بزرگ کی برکت سے اس روز سے آج تک ملک ہندوستان میں کوئی ہندو وحکمران نہیں ہوا۔ پس آپنے دیکھ لیا کہ ہندوستان کی پہلی اور دوسری فتح خواجگان چشت علیہم الرحمہ کے ذریعے سلطان محمود غزنوی اور سلطان شہاب الدین غوری کو حاصل ہوئی اس کی وجہ یہ ہے کہ خواجگان چشت ہی کا در اصل اس ملک تصرف ہے اور جب تک دینا باقی ہے یہ تصرف بھی قائم رہے گا۔

سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت اقدس نے چھپن سال کی عمر تک شادی نہ کی۔ آپ کی ہمشیرہ جو نہایت ہی صالحہ اور متقیہ تھیں آپ کی خدمت گزاری کیا کرتی تھیں آپ چرخہ کات کر گزر اوقات کرتی تھیں اور بھائی کو بھی کھلاتی تھیں۔ بہن کی عمر چالیس سال ہوگئی تھی لیکن بھائی کی خدمت گاری کی وجہ سے شادی نہیں کرتی تھیں۔

حضرت اقدس اکثر اپنی ہمشیرہ سے فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے بطن سے ایک بیٹا پیدا ہوگ جو قطب الاقطاب ہوگا اور یہ بات شادی کے بغیر نا ممکن ہے۔ لیکن ہمشیرہ صاحبہ ہر گز راضی نہیں ہوتی تھیں اور عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔ حتیٰکہ ایک رات حضرت اقدس نے اپنے والد حضرت کواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہٗ کو خواب میں یہ فرماتے ہوئے دیکھا کہ اے ابو محمد تم نے جو کچھ اپنی ہمشیرہ کے حق میں کہا ہے صحیح ہے تمہاری ولایت میں فلاں مقام پر ایک صحیح النسب سید زادہ رہتا ہے جس کا نام محمد سمعان ہے وہ بہت متقی و پرہیزگار ہے اُسے فوراً بلاکر اپنی ہمشیرہ کا عقدِ نکاح اس سےکرو۔

انکی ہمشیرہ صاحبہ کو بھی اپنے والد ماجد کی طرف سے اسی قسم کا اشارہ ہوا جس کی وجہ سے وہ راضی ہوگئیں۔ حضرت اقدس نے فوراً کسی آدمی کو بھیج کر یہ رقعہ لکھ دیا کہ اگر ایک پاؤں میں جوتا ہے اور ایک میں ابھی نہیں پہنا تو دوسرا جوتا پہننے سے قبل یہاں پہنچو۔ جب قاصد وہاں پہنچا تو دیکھا کہ محمد سمعان اپنے گھر کے دروازہ پر بیٹھا ہے اور ایک پاؤں میں جوتا ہے دوسرا پاؤں خالی ہے اس عالی نسب سید زادہ نے جب خط پڑھا تو تعمیل حکم میں اُسی حالت میں اٹھ کر روانہ خدمت ہوا اور دوسرے پاؤں کو اسی طرح ننگا رہنے دیا۔ جب حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچا تو آپ اس کی یہ حالت دیکھ بہت خوش ہوئے اور اُسی وقت ہمشیرہ کا عقد کردیا۔ کچھ عرصے کے بعد ان کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوا جن کا نام ابو یوسف رکھا گیا۔

ادھر حضرت اقدس خود بھی پچاس ساٹھ سال کی عمر میں متاہل ہوئے لیکن کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔ چنانچہ انہوں نےاپنے بھانجے خواجہ ابو یوسف کی بیٹے کی طرح پرورش فرمائی اور ظاہری و باطنی تربیت دے کر مقام قرب و درویشی تک پہنچادیا۔ اور خلافت عطا فرمائی۔ حضرت اقدس نے ان کو ناصر الدین کا لقب عطا فرمایا اور قطب الاقطاب کے مرتبہ پر پہنچادیا۔

نفحات الانس (مصنفہ مولانا جامی) میں لکھا ہے کہ خواجہ ابو محمد کا ایک مرید تھا جس کانام استاد مردان تھا۔ وہ قصبہ سبحان کا رہنے والا تھا اور عرصہ دراز تک حضرت اقدس کے لیے ڈھیلے اور وضو کے پانی کا انتظام کرتا رہا۔ ایک دن آپ نے اُسے وطن واپس جانے کا حکم دیا تو وہ رونے لگا اور کہنے لگا کہ میرے اندر طاقت جدائی نہیں ہے آپ نے ازراہ کرم فرمایا کہ جس وقت تجھے میرے ملنے کی خواہش ہو یہ ظاہری حجابات اور مسافت حائل نہ ہوگی۔ اور گھر بیٹے بیٹھے مجھے دیکھ لیا۔ کروگے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ وہ ہمیشہ کہتا رہتا تھا کہ میں سنجان سے چشت کو دیکھتا ہوں۔

مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ جب یہ حکایت میرے کانوں تک پہنچی تو مجھے بہت دشوار بعید از قیاس معلوم ہوئی۔ جب میں دوسری مرتبہ ۱۰۶۵ھ میں اجمیر شریف حاضر ہوا اور حضرت خواجہ معین الدین اجمیر قدس سرہٗ کی زیارت سے مشرف ہوا تو حس طرح استاد مردان نے حضرت خواجہ ابو محمد سے درخواست کی تھی اس نیاز مند نے بھی غایت شوق کی وجہ سے گستاخی کی اور حضرت خواجہ بزرگ کی خدمت میں یہی درخواست کی۔

حضرت خواجہ قدس سرہٗ نےکمال شفقت سے میری درخواست قبول کرلی۔ اس کے بعد جس وقت حضرت خواجہ بزرگ قدس سرہٗ کی زیارت کا شوق دامنگیر ہوتا ہے گھر بیٹھے ہوئے پورے شہر اجمیر اور روضۂ اقدس کی بےحجاب زیارت ہوجاتی ہے۔ اس نعمت کا شکر کس زبان سے کیا جا سکتا ہے ۔

الحمدللہ ! کہ ہمارے مشائخ کا تصرف حیات وممات میں برابر ہے۔ راقم الحروف (مصنف اقتباس الانوار) کا خیال ہے کہ یہ جو صاحب مراۃ الاسرار نے اپنے کمالات اور پختہ عقائد کے باوجود لکھا ہے کہ مجھے مندرجہ بالا کرامت بعید از قیاس اور دشوار معلوم ہوئی یہ بات کیسے مشکل ہو سکت ہے جبکہ مشائخ عظام کی توجہ کا یہ کمال ہےکہ مشکل سے مشکل کام بھی ان کی ادنےٰ توجہ سے آسان ہوجاتے ہیں جیسا کہ حضرت خواجہ ابو محمد چشتی نے کردکھایا۔

در اصل بات یہ ہے کہ سالک کی نظر سے مکان وزمان کی قیود کا اٹھ جانا عالم جبروت کا خاصہ ہے کیونکہ اس مقام پر سالک کی سمع و بصرو دیگر صفات تقیدات سے بالاتر ہو کر اطلاق کا رنگ اختیار کرلیتی ہیں اور قریب وبعید اشیاء کا دیکھنا اور سننا اُن کے لیے یکساں ہوجاتا ہےاور مقام جبروت تو خواجگان کی ابتدائی صحبت میں حاصل ہوجاتا ہے۔ اس لیے صاحب مراۃ الاسرار کے لیے حضرت خواجہ ابو محمد چشتی کی اس کرامت کو بعید تصور کرنا صحیح نہیں ہے۔ آپ کے کمالات اس قدر ہیں کہ اس مختصر کتاب میں بیان نہیں ہوسکتے۔
خلفائے کرام: سیر الاقطاب کے مطابق حضرت اقدس کے تین خلفاء تھے۔

 ناصر الدین حضرت خواجہ  ابو یوسف چشتی،محمد کاکو اور استاد مردان

وصال پرملال: آپ علیہ الرحمہ  کا وصال چار ماہ ربیع الثانی ۴۲۱ہجری اور دوسری روایت کے مطابق ۴۱۱ہجری کو سلطان محمود بن سبکتگین کے عہد حکومت ہوا۔ آپ کی عمر ستر سال تھی۔ (اقتباس الانوار)

حضرت شیخ عبد الکبیر پانی پتی علیہ الرحمہ

 


اسم گرامیشیخ عبد الکبیر ۔

 لقببالا پیر، چشتی صابری، پانی پت شہر کی نسبت سے ’’ پانی پتی ‘‘ کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب:حضرت شیخ عبد الکبیر بن قطب العالم شیخ عبد القدوس گنگوہی بن شیخ اسماعیل بن شیخ صفی الدین ۔ آپ کے جد امجد شیخ صفی الدین غوث العالم محبوب یزدانی حضرت میر سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کچھوچھہ شریف )کے مرید تھے ۔

آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر منتہی ہوتا ہے ۔
تحصیل علم:آپ علوم ظاہری و باطنی میں کامل و اکمل تھے ۔

بیعت و خلافت:آپ قطب العالم حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی کے مرید و خلیفہ مجاز ہیں ۔

سیرت و خصائص:عارف باللہ ، واصل باللہ ، شیخ الوقت ، شہزادہ قطب العالم ، عارف کبیر ، حضرت شیخ عبد الکبیر پانی پتی علیہ الرحمہ ۔ آپ قطب العالم حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی کے فرزند ارجمند تھے ۔ سیرت و کردار میں اپنے والد گرامی قدر کے قدم بقدم تھے ۔آپ زہد و تقویٰ عبادت و ریاضت میں درجہ کمال رکھتے تھے ۔ سخاوت آپ میں بدرجہ اتم موجود تھی ۔ شجاعت میں بے مثال تھے ۔ ذوق میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے ۔ کثرت سے سماع سنتے تھے ۔ آپ سے بے شمار کرامات کا صدور ہوا ۔ بلکہ آپ کا باوجود سراپا کرامت تھا ۔

بادشاہ خدمت اقدس میں:ایک دن سلطان سکندر بن بہلول اپنے دو وزیروں کے ہمراہ آپ کا امتحان لینے کی غرض سے آپ کی خانقاہ معلیٰ میں حاضر ہوا ۔ ان تینوں نے اپنے دل میں اپنی اپنی مرضی کی تین چیزیں کھانے کی سوچ لیں تھیں، اور پھر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر حضرت شیخ عبد الکبیر عارف کامل ہوئے تو ہماری دلی خواہش پوری کریں گے ۔ وگرنہ ہم سمجھیں گے یہ عارف نہیں ہیں، بس دوکانداری قائم کی ہوئی ہے ۔

جب یہ تینوں خانقاہ میں پہنچے تو حضرت شیخ کبیر نے ہرن کے گوشت کے سموسے سلطان سکندر کے سامنے اور میاں بڈھا کے سامنے یخنی کا پیالہ اور ملک محمد کے سامنے حلوے کی پلیٹ رکھ دی ۔ ان تینوں کی خواہش بھی یہی تھی ۔ یہ دیکھ کر تینوں حیران ہوئے تو حضرت شیخ کبیر نے فرمایا کہ گھبرانے اور حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو دنیا داروں کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دیتا ۔ ان سے جو چیز طلب کی جاتی ہے، وہ خود ہی بند و بست فرما دیتا ہے، اور تمام معاملات کا وہی نگہبان و کار ساز ہے ۔
تاریخ وصال:آپ علیہ الرحمہ کا وصال باکمال 26 ربیع الثانی 947 ہجری کو ہوا ۔ مزار پُر انوار دہلی انڈیا میں مرجع خاص و عام ہے ۔(ماخذ و مراجع:خزینۃ الاصفیاء ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام)

 

امام عبد الغنی بن اسماعیل نابلسی دمشقی حنفی علیہ الرحمہ

 

آپ علیہ الرحمہ ملک شام سے تعلق رکھنے والے عالمِ کبیر، مایہ ناز فقیہ، صوفی باصفا اور کثیر التصانیف مصنف تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کا شمار اپنے دور میں سلطنت عثمانیہ کی ممتاز ترین علمی اور روحانی شخصیات میں ہوتا تھا۔ اسلامی دنیا، خصوصاً برصغیر پاک و ہند کے علماء (جیسے امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ ) آپ کے علمی تبحر اور فتاویٰ کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ولادت باسعادت: آپ علیہ الرحمہ کی ولادت 10 ذی الحجہ 1050ہجری کو دمشق (شام) میں ہوئی۔

خاندان: آپ کا خاندان اصلاً فلسطین کے شہر نابلس سے تعلق رکھتا تھا، اسی لیے آپ "نابلسی" کہلاتے ہیں۔ آپ کے والد اسماعیل نابلسی بھی فقہ حنفی کے ایک بڑے عالم اور مصنف تھے۔

علمی و فقہی مقام: آپ علیہ الرحمہ فقہی مسائل میں امام ابو حنیفہ کے مقلد (حنفی) تھے اور فقہ حنفی کی باریکیوں پر گہری نظر رکھتے تھے۔

تدریس و افتاء: آپ علیہ الرحمہ نے محض 20 سال کی عمر سے ہی جامع اموی (دمشق) میں تدریس اور فتاویٰ نویسی کا آغاز کر دیا تھا۔

سلاسلِ تصوف: آپ صوفی باصفا تھے اور آپ کو سلسلہ قادریہ اور سلسلہ نقشبندیہ دونوں سے نسبت حاصل تھی۔ آپ علیہ الرحمہ شیخِ اکبر محی الدین ابن العربی قد س سرہ النورانی کے افکار (خصوصاً وحدت الوجود) کے بڑے حامی اور شارح مانے جاتے تھے۔

مشہور تصانیف: امام نابلسی علیہ الرحمہ نے مختلف اسلامی علوم (تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، اور شاعری) پر 250 سے زائد کتب و رسائل تحریر کیے۔ ان کی چند مشہور ترین کتابیں یہ ہیں:

الحديقۃ النديۃ شرح الطريقۃ المحمديۃ: یہ امام برکوی کی کتاب کی مشہور شرح ہے، جس پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نے عربی میں حواشی بھی لکھے ہیں۔

تعطير الأنام في تعبير المنام: یہ خوابوں کی تعبیر پر لکھی گئی اسلامی تاریخ کی سب سے مستند اور مقبول ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔

نہایۃ المراد شرح ہدیۃ ابن العماد: فقہ حنفی کے مسائل پر اہم کتاب۔

سفرنامے: آپ علیہ الرھمہ نے مصر، حجاز (مکہ و مدینہ)، یروشلم (بیت المقدس) اور طرابلس کے سفرنامے بھی لکھے جو اس دور کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔

حضرت امام عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ میرے نزدیک وہ شخص سراسر جاہل ہے جو بعض گمراہ فرقوں کی طرح یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ’’روحیں عارضی ہیں اور موت کے سبب وہ ایسے زائل ہوجاتی ہیں جیسے مردے سے حرکات و سکنات زائل ہوجاتی ہیں‘‘ اور وہ گمراہ فرقے یہ سمجھتے ہیں کہ جب اولیاء اﷲ رحمہم اﷲ انتقال کرجاتے ہیں تو وہ مٹی ہوجاتے ہیں اور زمین کی مٹی کے ساتھ مل کر ان کی روحیں بھی ختم ہوجاتی ہیں لہذا ان کی قبروں کی کوئی تعظیم نہیں۔ اس وجہ سے یہ لوگ ان کی توہین و تحقیر کرتے ہیں اور ان کی زیارت، ان سے برکت حاصل کرنے والوں پر اعتراض کرتے ہیں۔

حضرت امام عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ ایک دن میں حضرت سیدنا ارسلان دمشقی علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار کی زیارت کے لئے جارہا تھا تو میں نے خود اپنے کانوں سے ایک شخص کو یہ کہتے سنا ’’تم ان مٹی کے ڈھیروں پر کیوں جاتے ہو؟ یہ تو سراسر بے وقوفی ہے‘‘ اس کی بات سنکر مجھے انتہائی تعجب ہوا۔ میں نے دل میں کہا ’’کوئی مسلمان ایسی بات نہیں کہہ سکتا‘‘ (کشف النور عن اصحاب القبور، امام عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ، ص 103، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

 وصال پرملال: آپ علیہ الرحمہ نے 90 برس سے زائد کی عمر پائی اور 24 شعبان 1143ہجری (1731ء) کو دمشق میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزار مبارک آج بھی دمشق میں مرجع خلائق ہے۔


قاضی القضاۃحضرت سعد بن شمس الدین نابلسی علیہ الرحمہ

 

ولادت باسعادت:منگل کے روز ۱۷ رجب ۷۶۸ھ کو پیدا ہوئے ۔

سلسلہ نسب : قاضی القضاۃ سعد بن شمس الدین محمد بن عبداللہ بن سعد بن ابی بکر ویری نابلسی علیہم الرحمہ
نام کنیت لقب اور وطن:ابو السعادات کنیت اور سعد الدین لقب تھا ۔ اصل میں شہر دیر کے جو شہر نابلس کے پاس واقع ہے، رہنے والے تھے چنانچہ اسی لیے ابن الدیری کے نام سے معروف تھے مگر اخیر کو قاہرہ میں آکر مقیم ہوئے ـ

برے ذکی اور ذی حافظہ تھے، پہلے اپنے والد سے علم پڑھنا شروع کیا اور قرآن کو حفظ کر کے بہت سی کتابیں ۱۲ روز کے عرصہ میں حفظ کیں پھر کمال سریحی اور حمید الدین اور علاء بن نقیب اور شمس بن خطیب شافعی سے استفادہ کیا اور شمس قونوی صاحب ورد البحار اور حافظ الدین صاحب فتاویٰ بزازیہ کی صحبت کی اور برہان ابراہیم بن زین عبد الرحیم بن جماعہ سے روایت احادیث کی سندلی یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے امام علامہ اور فقیہ فہامہ ہوئے استحضار مسائل مذہیبہ اور سریع ادراک اور حافظ میں بے نظیر تھے، علمی مباحثہ و مذاکرہ کا نہایت شوق تھا ۔

علم تفسیر خصوصاً فہم معانی تنزیل میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور متن حدیث اس قدر یاد رکھتے تھے کہ جس کا بیان نہیں ہو سکتا تھا ۔ آپ کے والد ماجد فقہ وغیرہ میں آپ کو اپنے اوپر مقدم سمجھنے لگے اور آپ کا زکر خیر یہاں تک زمانہ میں مشہور ہوا کہ شاہ رخ بن تیمر بادشاہ ہندوستان نے سرور بار آپ کا حال قاصد ظاہر چقمق سے دریافت کیا،مدت تک تدریس و افتاء میں مشغول رہے، ۸۴۳ھ میں مصر کی دار القضاء حنفیہ کے متولی ہوئے، حج بھی آپ نے کئی دفعہ کیے چنانچہ پہلا حج ۸۰۱ھ میں کیا ۔ آپ سے قاضی محمد بن محمد بن شحنہ نے اخذ کیا ۔

اساتذہ و تلامذہ: قاضی القضاۃ حضرت سعد بن شمس الدین نابلسی علیہ الرحمہ کے اساتذہ اور تلامذہ (شاگردوں) کے بارے میں تاریخی کتب اور تذکرہ نگاروں کے ہاں بہت زیادہ تفصیلی نام انفرادی طور پر مشہور نہیں ہیں، کیونکہ ان کی شہرت کا بڑا حصہ ان کے منصبِ قضا (چیف جسٹس) اور دمشق و نابلس کے خطے میں ان کی عدالتی و فقہی خدمات سے وابستہ ہے۔تاہم، ان کے معاصرین، اساتذہ اور شاگردوں کے دائرے کے حوالے سے درج ذیل باتیں اہم ہیں:

اساتذہ (شیوخ)آپ نے آٹھویں صدی ہجری کے وسط میں نابلس، فلسطین اور خاص طور پر دمشق (شام) کے نامور شافعی شیوخ اور فقہاء سے علمِ دین، حدیث اور فقہ شافعی کی تعلیم حاصل کی۔ دمشق اس دور میں علم کا بہت بڑا مرکز تھا جہاں جلیل القدر ائمہ تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

تلامذہ (شاگرد)قاضی القضاۃ کے عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے ان کی مجالسِ درس اور عدالتی حلقوں سے کثیر تعداد میں فقہاء اور طلبہ نے استفادہ کیا۔ ان کے شاگردوں میں دمشق اور نابلس کے مقامی قاضی، مفتی اور شافعی مسلک کے وہ فقہاء شامل رہے جنہوں نے بعد میں بلادِ شام و فلسطین میں قضا اور تدریس کے فرائض سنبھالے۔

فقہی مسلک : آپ رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق فقہ شافعی سے تھا۔ وہ اپنے دور کے ممتاز شافعی عالم اور فقیہ تھے۔نابلس اور دمشق (شام) کے خطے میں اس دور میں فقہ شافعی اور فقہ حنبل کے بڑے مراکز موجود تھے، اور آپ علیہ الرحمہ نے شافعی مسلک کے اصول و ضوابط کے مطابق عدالتی امور سرانجام دیئے اور قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کے منصب پر فائز رہ کر طویل عرصے تک شریعتِ اسلامیہ کی خدمت کی۔

امام شمس الدین سخاوی علیہ الرحمہ نے آپ کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ میں نے آپ سے بہت کچھ آپ سے بہت کچھ پڑھا اور فوائد و نظم کو لکھا، چونکہ آپ کو باوجود کثرت اطلاع کے تصنیف و تالیف کا چنداں شوق نہ تھا، اس لیے تصنیفات آپ سے کم ظہور میں آئی اور جو آئی ہے وہ حسبِ ذیل ہے:شروح عقائد نسفی جس کو زین قاسم حنفی نے آپ سے پڑھا، کواکب النیرات فی وصول ثواب الطاعات الی الاموات، السہام المارقہ فی کبد الزنادقہ، رسالۃ الجس بالتہمۃ، رسالہ ہل تنام الملائکہ ام لا، رسالہ ہل منع الشعر مخصوص بالنبی ام عام لجمیع الانبیاء تکملہ شرح ہدایہ سروجی سات جلد میں ۔ منظومہ نعمانیہ، یہ کتاب نظم میں ہے اور اس عجیب و غریب فوائد بیان ہوئے ہیں ۔

وصال پرملال: آپ علیہ الرحمہ کی 9 ربیع الآخر 867ہجری کو مصر میں ہوئی، ’’ قبلۂ خلق ‘‘ تاریخ وفات ہے ۔( حدائق الحنفیہ )


حضرت خواجہ غلام فرید چشتی فاروقی علیہ الرحمہ

 

اسمِ گرامی: حضرت خواجہ غلام فرید ۔ القابملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:قدوۃ العاشقین حضرت خواجہ غلام فرید بن حضرت خواجہ خدا بخش بن حضرت خواجہ احمد علی بن حضرت قاضی محمد عاقل (خلیفہ حضرت قبلہ عالم مہاروی) بن مخدوم محمد شریف بن مخدوم یعقوب بن مخدوم نور محمد ۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:آپ علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت بروز منگل 26 ذیقعدہ 1261ھ، مطابق 25 نومبر 1845ء کو " چاچڑاں شریف " میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:آپ علیہ الرحمہ نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اسی دوران آپ کے والد ماجد کا وصال ہو گیا ۔ ظاہری و باطنی علوم و معارف اپنے بڑے بھائی حضرت خواجہ فخر جہاں غلام فخر الدین رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر جید علماء سے حاصل کئے اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔

بیعت و خلافت:آپ علیہ الرحمہ اپنے برادرِ اکبر حضرت خواجہ فخر جہاں قدس سرہ سے بیعت ہوئے، اور ان کے وصال کے بعد سجادہ نشین منتخب ہوئے ۔

سیرت و خصائص:ملک الشعراء، فردِ فرید، قادر الکلام، شاعرِ ہفت زبان، غزالیِ گلستانِ الوہیت، رازیِ گلشنِ نبوت، بحرِ معرفت و شریعت، قدوۃ العاشقین، زبدۃ العارفین، رئیس الموحدین حضرت خواجہ غلام فرید چشتی نظامی فاروقی علیہ الرحمہ ۔

حضرت خواجہ صاحب ایک ہمہ جہت اور عبقری شخصیت کے مالک تھے ۔ ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ خواجہ صاحب کے وصال کے بعد اس خطے میں ایسی نامور، جامع اور مؤثر شخصیت پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ خواجہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سرائیکی زبان کے ملک الشعراء تھے ۔ آپ کے وجد آفریں کلام میں بلا کا سوز ہے ۔ آپ کی کافیاں آج بھی اثر آفرینی میں جواب نہیں رکھتیں ۔ عوام و خواص کے لئے کیف و سرور کا خزینہ اور عشق و عرفان کا سر چشمہ ہیں ۔

اسی لئے ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا:"جس قوم میں خواجہ فرید اور اس کی شاعری موجود ہے، اس قوم میں عشق و محبت کا موجود نہ ہونا تعجب انگیز ہے " ۔ چونکہ آپ مسئلہ وحدۃ الوجود کے بہت بڑے حامی تھے، اس لئے آپ کے کلام میں اس مسئلہ کی نمایاں ترجمانی پائی جاتی ہے ۔ آپ نے اردو ، فارسی ، سندھی ، اور سرائیکی وغیرہ زبانوں اظہار خیال کیا ہے ۔ آپ کے مطبوعہ دیوان کے مطالعہ سے قدرتِ بیان، جودتِ طبع اور بلندی ِتخیل کا پتہ چلتا ہے ۔ آپ شریعت مطہرہ اور سنت مبارکہ پر سختی سے کار بند تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے، رسوم بد کو ختم کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ۔ اپنے زمانہ کی عورتوں اور مردوں کے نا زیبا افعال پر سخت نا پسندید گی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:" عورتیں غیر مردوں کے سامنے اوڑھنی کندھے پر ڈال کر جلوہ گر ہوتی ہیں اور اسے باعثِ فخر سمجھتی ہیں، شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی بُری رسمیں پیدا ہو گئی ہیں مثلاً مرد عورتیں حلقہ باندھ کر رقص کرتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں، اور حلقہ کے درمیان نقارہ بجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور کئی ممنوع اور مہلک امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ ناہنجار کافروں کے کاموں کو مسلمانوں نے اپنا رکھا ہے اگر انہیں منع کیا جائے تو کہتے ہیں جس کام پر ہمارے باپ دادا تھے ہمیں وہی کافی ہے"۔

جود و سخا کی کوئی انتہا نہ تھی، دور و نزدیک کے کثیر التعداد غرباء و مساکین کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے ۔ بہت سے یتیم اور بیوہ عورتیں آپ کے زیر سایہ خوشحالی سے زندگی گزارتے، کبھی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کرتے ۔ آپ نے سجادۂ فقر پر فائز ہونے کے باوجود علوم باطنی کے علاوہ علومِ ظاہری کا درس بھی جاری رکھا، خاص طور پر حدیث شریف اور تصوف کی کتب کا درس ہمیشہ جاری رہتا ۔ بڑے بڑے علماء حاضر ِخدمت رہتے لیکن جب آپ کسی مسئلہ پر اظہار خیال فرماتے اور تائید میں عقلی نقلی دلائل کے انبار لگاتے تو انہیں اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرنا پڑتا ۔ آپ کے تبحرِ علمی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا محمد شاکر ڈیروی صاحب علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور مدرس تھے، انھیں بھی خواجہ صاحب سے اکتسابِ علم کا موقع ملا ۔ ایک دن کسی دوست نے پوچھا مولانا! اب تک کتنا علم حاصل کیا؟ مولانا کہنے لگے: جس وقت حضرت نےلا الہ الا للہ " کی تشریح فرمائی، تو میں نے اپنے آپ کو طفلِ مکتب سمجھا، اور ابھی اسی کلمۂ پاک کی توضیح ختم نہیں ہوئی ۔ (انسائیکلوپیڈیا ، ج:4، ص:233) ـ

شوال 1302ھ / 1885ءمیں جب مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمہ نے " براہین قاطعہ " کی بعض عبارات پر گرفت کی اور مولوی خلیل احمد انبیٹھوی سے ان عبارات پر مناظرہ کیا تو اس مجلس کے جج نواب آف بہاول پور نواب محمد صادق عباسی کے پیر و مرشد حضرت خواجہ صاحب ہی تھے ۔ آپ نے فیصلہ دیا تھا کہ " متنازعہ فیہا عبارات وہابیت کی ترجمانی کرتی ہیں اور مسلکِ اہلِ سنت کے خلاف ہیں " ۔ آپ کے فیصلے کی بناء پر مولوی انبیٹھوی کو گستاخانہ عبارات کی وجہ سے ریاست بہاولپور نکال دیا گیا تھا ۔ (تقدیس الوکیل) ـ

حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ کے مریدین و معتقد ین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ عوام و خواص آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مستفیض ہوتے ۔ بڑے بڑے نواب و امراء آپ کی نسبت ارادت اور خدمت کواپنے لئے باعثِ فخر سمجھتے ۔آپ کے درس ِتوحید و ہدایت سے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد مستفید ہوئے اور متعدد حضرات منازل سلوک طے کر کے صاحبِ کمال ہوئے ۔ خلافت عطا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیتے ، فرماتے تھے :جب تک کل منازلِ سلوک طے نہ ہو جائیں شیخ کو لازم ہے کہ مرید کو خرقہ ٔخلافت نہ دے ۔حضرت خواجہ صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ سے والہانہ محبت تھی، بلکہ آپ " فنافی الرسول ﷺ " کے مقام پر فائز تھے ۔ آپ نے اپنے کلام میں اس کا جا بجا اظہار فرمایا ہے ۔

آپ علیہ الرحمہ نے اردو، سرائیکی, پنجابی, عربی، فارسی، پوربی، سندھی اور ہندی میں شاعری بھی کی ہے۔ آپ نے کافی کی صنف میں ایسی باکمال شاعری کی ہے کہ بلاشبہ ان کی شاعری دنیا کے عظیم ترین ادب کا اثاثہ ہے, آپکا کلام دیوان فرید کے نام سے مشہور ہے.

وصال پرملال: آپ علیہ الرحمہ کا وصال 7 ربیع الثانی 1319ہجری، مطابق جولائی 1901ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار " کوٹ مٹھن شریف " (ڈیرہ غازی خان ڈویژن) میں مرجع خلائق ہے ۔(ماخذ و مراجع:خواجہ غلام فرید ۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام )