امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی صاحب سنن کبریٰ علیہ الرحمہ


اسم گرامی : آپ کا نام احمد

کنیت : ابو بکر

نسب نامہ یہ ہے احمد بن حسین بن علی بن عبد اللہ بن موسیٰ۔آپ شعبان المعظم 384ہجری  میں بیہق میں پیدا ہوئے۔ (کتاب لانساب، جز:2، ص:413)

بیہق نیشاپور کے مضا فات میں 60 میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔بڑا زرخیز نہایت آباد اور وسیع مقام ہے۔شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ بیہق چند گاؤں کا نام ہے جو با ہم متصل اور نیشا پور سے 30 کوس کے فاصلہ پر واقع ہے ان دیہاتوں میں سب سے بڑا گاؤں خسرو جرد ہے۔ (بستان المحدثین، ص:51)امام ابوبکر ان مقامات کی نسبت سے بیہقی، خسر و جردی اور نیشا پوری کہلاتے ہیں لیکن ان کی مشہور نسبت بیہقی ہے۔

تحصیل علم: امام بیہقی علیہ الرحمہ بچپن ہی سے حدیث مبارکہ کے علم کی تحصیل و تکمیل اور اس کی جمع و تحریر میں مشغول ہوگئے تھے آپ نے اکتساب علم کے لئے متعدد و مقامات اور علمی مراکز کا سفر بھی کیا۔پہلے بیہق سے نیشا پورتشریف لے گئے پھر خراسان کے اکابر علماء و محدثین سے استفادہ کرنے کے بعد آپ نے عراق، جبال اور حجاز کے مختلف اہم شہروں بغداد، مکہ اور کوفہ وغیرہ کا سفر کیا۔فقہ کی تعلیم و تحصیل مشہور فقیہہ ابو سہل صعلوکی اور ابو الفتح ناصر سے کی تھی۔

اساتذہ کرام : آپ کو اپنے اساتذہ میں ابو الحسن محمد بن حسین علوی اور ابو عبد اللہ حاکم سے زیادہ استفادہ کا موقع ملا خصوصا آپ امام حاکم کے جلیل القدر تلامذہ میں شمار کیے جاتے ہیں آپ نے علم حدیث سب سے زیادہ انہی سے حاصل کیا کیونکہ امام حاکم اپنے وقت کے بہت بڑے محدث تھے اور نیشاپور میں علم حدیث میں ان کا سب سے اونچا مقام تھا اس لئے آپ کو عرصہ دراز تک ان کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ا ن کے علاوہ جن آئمہ سے آپ نے اکتسابِ علم کیا وہ درج ذیل ہیں: ’’ابو طاہر زیادی، عبد اللہ بن یوسف، یحیٰ بن ابراہیم مزکی، ہلال بن محمد جفار، محمد بن فضل قطان، علی بن محمد، ابو علی بن شاذ ان اور ابو القاسم زید بن ابی ہاشم علوی‘‘۔(طبقات الفقہاء الشافعیہ، جز:1، ص:333)

تلامذہ:آپ سے بے شمار علماء نے اکتسابِ علم کیا ان میں سے بعض مشہور حضرات یہ ہیں: ’’ابو الحسن عبید اللہ بن محمداور آپ کے بیٹے اسماعیل بن احمد، ابو عبد اللہ فرادی، ابو القاسم شحامی، محمد بن اسماعیل فا رسی، عبد الجبا ر بن عبد الوہاب، عبد الجبار بن محمد خواری‘‘۔(تذکرۃ الحفاظ، جز:3، ص:221)

حفظ و ثقاہت اور حدیث میں درجہ: امام بیہقی علیہ الرحمہ کے حفظ و ضبط اور ثقاہت و اتقان پر آئمہ فن اور محدثین کا اتفاق ہے۔ابو الحسن عبد الغافر فارسی کا بیان ہے کہ وہ اپنے زمانہ میں حفظ میں یکتا اور اپنے تمام معاصرین میں ضبط و اتقان میں یگانہ تھے حافظ ذہبی نے ان کو حافظہ میں قوی بتایا ہے۔ ابن ناصر الدین فرماتے ہیں کہ وہ ثقہ اور قابل اعتماد تھے۔ اہل سیر اور ارباب تذکرہ نے ان کو ’’الحافظ الکبیر المشہور ‘‘کے لقب سے موسوم کیا ہے۔

حفظ و ضبط کی طرح معرفتِ حدیث میں بھی عدیم المثال تھے احادیث کے علل اور اسقام کی تمیز میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے حدیث اور اس کے متعلقات میں اس درجہ عبور ہونے کی بناء پر ان کا شمار نامور محدثین اور اکابرین میں ہوتا ہے علامہ ابن عساکر نے ان کو ’’شیخ السنہ‘‘ اور ابن عمادنے’’شیخِ خراسان‘‘ لکھاہے:

’’ظہیر الدین بیہقی لکھتے ہیں کہ فن حدیث میں ان کا کوئی ہمسر اور ثانی نہ تھا۔ان کے زمانہ میں خراسان کے اندر کسی کو ان کی مرضی و سند کے بغیر کوئی حدیث بیان کرنے یا اس میں کسی قسم کا تصرف کرنے کی مجال نہ تھی وہ ایک روز اپنے استاد امام حاکم کی مجلس میں جہاں متعدد علماء و اصحاب فضل و کمال موجود تھے حاضر ہوئے امام حاکم نے ایک حدیث بیان کرتے ہوئے اس کےکسی راوی کا نام ترک کر دیا  امام بیہقی علیہ الرحمہ نے فوراً اعتراض کیا امام حاکم کو غصہ آگیا لیکن جب اصل سے مقابلہ کیا گیا تو  امام بیہقی علیہ الرحمہ کی بات درست نکلی‘‘۔ (تاریخ بیہق، جز:1، ص:345)

گو کہ حدیث کے علاوہ دوسرے فنون میں بھی ان کو دسترس حاصل تھی تاہم فن حدیث میں ان کو زیادہ نمایاں مقام حاصل تھا اسی لیے علامہ ابن خلکان فرماتے ہیں: ’’ان پر علم حدیث خاص طور پر غالب تھا اور وہ اسی کے ساتھ مشہور ہوگئے‘‘۔(وفیات الاعیان، جز:1، ص:76)

یہ عجیب اتفاق ہے کہ نہ تو  امام بیہقی علیہ الرحمہ کے شیوخ کی تعداد اور محدثین کے مقابلہ میں زیادہ تھی اور نہ ہی حدیث کی اہم اور بلند پایہ کتب ان کی نظر سے گزری تھیں لیکن اس کے باوجود اس فن میں یکتائے زمانہ تھے اور ان سے بے شمار حدیثیں مروی ہیں نیز اس فن میں ان سے متعدد بے نظیر کتابیں بھی یادگار ہیں۔آپ کے شیوخ کی تعداد تقریباً 100ہے اور یہ تعداد در حقیقت بیہقی کے علوم و کمالات کے اعتبار سے زیادہ نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کاموں میں خاص برکت عطا کی تھی گو کہ آپ کو متعدد کتب حدیث کے سماع کا شرف حاصل تھا تاہم وہ بعض اہم کتب کے استفادہ سے محروم بھی رہ گئے تھے۔علامہ ذہبی ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’ان کے پاس سنن نسائی، جامع الترمذی اور ابن ماجہ جیسی اہم کتب حدیث نہیں تھیں‘‘۔ (تذکرۃ الحفاط، جز:3، ص:219)

شاہ عبد العزیز صاحب دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں باوجود اس تبحر علمی اور علو اسناد کے  امام بیہقی علیہ الرحمہ کے پاس سنن نسائی جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ نہیں تھیں اس لئے ان تینوں پر جیسی اطلاع ہونی چاہیے تھی ان کو نہیں تھی مگر حق تعالیٰ نے ان کے علم میں غیر معمولی برکت اور فہم میں نہایت بصیرت عطا کی تھی۔ ان کی یاد گار ایسی عجب تصنیفات ہیں جو ان سے پہلے کے لوگ نہیں لکھ سکے تھے‘‘۔ (بستان المحدثین، جز:3، ص:220)

اعترافِ کمالات: امام بیہقی علیہ الرحمہ کے گو ناگوں کمالات نے ان کی ذات کو مسلمانوں کے امام و مقتدیٰ اور اصحابِ علم و فن کا مرجع بنا دیا تھا تمام ارباب سیر و تذکرہ نے ان کی امامت فن کا اعتراف کیا ہے۔  امام بیہقی علیہ الرحمہ کے علم و فضل اور مقبولیت کا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب وہ علوم کی تحصیل سے فارغ ہو کر اپنے وطن بیہق میں درس اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہوئے تو بڑے بڑے آئمہ فن اور نامور اصحاب کمال نے ان سے نیشا پور تشریف لانے کی فرمائش کی تاکہ اس مرکزی مقام میں لوگوں کو ان سے استفادہ میں سہولت اور ان کی کتابوں کے سماع کا زیادہ موقع ملے لوگوں کے اس طلب و خواہش کو دیکھ کر آپ ناحیہ سے 441ھ میں نیشا پور پہنچے وہاں کے شائقین نے امام صاحب کے شایانِ شان استقبال کیا اور جب مجلس درس آراستہ کی گئی تو اس میں نامور اصحابِ کمال شریک ہو کر آپ کی کتابوں کا سماع کرتے اور آپ سے استفادہ کرتے تھے اور آپ کے لئے دعائے خیر و برکت کرتے تھے یہ تمام لوگ آپ کے ذوق علم اور کثرت استحضار کے معترف تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ، جز:3، ص:220)

علامہ سبکی فرماتے ہیں: ’’ امام بیہقی علیہ الرحمہ مسلمانوں کے آئمہ ھداۃ اور دین متین کے داعیوں میں تھے‘‘۔(طبقات الشافعیہ الکبری، جز:4، ص:8)

وہ علم و فضل کا پہاڑ اور اپنے پورے دور میں عدیم المثال یکتائے روزگار، میدان علم کے شہ سوار، حازق الفن محدث تھے۔امام حاکم کے اجل تلامذہ میں ہونے کے باوجود بعض حیثیتوں سے ان سے فائق و برتر سمجھے جاتے تھے۔امام ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں فرماتے ہیں: ’’وہ امام حاکم کے بڑے اصحاب میں سے تھے تاہم بعض علوم میں ان سے فائق ہوتے گئے‘‘۔(تذکرۃ الحفاظ، جز:3، ص:220)

فقہ اور فقہی مسلک: امام بیہقی علیہ الرحمہ جس طرح علم حدیث میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے اسی طرح فقہ و اصول میں بھی پورا ادراک رکھتے تھے فقیہ جلیل اور اصولی ان کے نام کا جز بن گیا تھا ان کی تصنیفات حدیث میں گوناگوں فقہی معلومات و مسائل موجود ہیں اسی لئے ان کوعلم حدیث و فقہ کا جامع کہا جاتا ہے ابو سعد سمعانی فرماتے ہیں: ’’آپ علم حدیث اور فقہ کے جامع تھے‘‘۔(طبقات الفقہاء و الشافعیہ، جز:1، ص:333)

مسلک کے اعتبار سے آپ شافعی المذہب تھے ان کو اس مسلک سے غیر معمولی شغف تھا اس کی نشر و اشاعت اور تہذیب و تنقیح میں انہوں نے اہم اور نمایاں کارنامے انجام دیے اس مسلک کو ان کی ذات سے بڑا فائدہ پہنچا۔یہی وجہ ہے کہ امام ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں امام الحرمین ابو المعالی کا قول نقل فرماتے ہیں:

’’ امام بیہقی علیہ الرحمہ کے علاوہ کوئی ایسا شافعی المذہب نہیں ہے جس پر امام شافعی کے احسانات نہ ہوں لیکن  امام بیہقی علیہ الرحمہ کا خود امام شافعی پر احسان ہے کیوں کہ ان کی تصانیف سے ان کے مذہب و مسلک کی بڑی تائید و اشاعت ہوئی ہے وہ تمام شوافع میں اس مذہب کے اصول و فروع کی حمایت میں نہایت پیش پیش رہے‘‘۔ (تذکرۃ الحفاظ، جز:3، ص:220)

زہد و ورع: امام بیہقی علیہ الرحمہ زہد و ورع میں بھی ممتاز تھے۔ تذکرہ نگاروں نے ان کو دین دار، صاحب ورع، زاہد اور عفیف وغیرہ لکھا ہے حج بیت اللہ سے بھی مشرف ہوئے تھے ان کے متعلق یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ وفات سے 30 سال پہلے انہوں نے مسلسل روزے رکھنا شروع کر دیے تھے آپ کے عادات و خصائل نہایت پاکیزہ تھے۔ عفت و قناعت ان کی سیرت کا اہم جو ہر تھی وہ اوصاف و اخلاق میں سلف صالحین اور علمائے ربانیین کے نقش قدم پر تھے علامہ ابن عبد الغافر فرماتے ہیں : ’’ امام بیہقی علیہ الرحمہ علمائے سلف کی طرح معمولی اور تھوڑی چیز پر قانع اور زہد و ورع میں ممتاز تھے‘‘۔(ایضاً)

تصنیفات: امام بیہقی علیہ الرحمہ مایہ ناز مصنف تھے ان کے فضل و کمال کا سب سے بڑا ثبوت ان کی تصانیف ہیں جو ایک ہزار جز کے بقدر ہوں گی ان کے علمی کاموں میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت دی تھی اس لئے ان کی تصانیف کی تعداد زیادہ ہے۔ مؤرخین فرماتے ہیں کہ ان کی تمام تصنیفات نہایت جامع، پر مغز، بے نظیر اور عدیم المثال ہیں۔  امام بیہقی علیہ الرحمہ کا شمار ان علمائے اسلام میں ہوتا ہے جن کی کتابوں سے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا ہے کتب صحاح کی شہرت و علو منزلت کے بعد جن محدثین کی تصنیفات کو عالم اسلام میں بقائے دوام حاصل ہوا اور جن کی علمی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ان میں امام الحدیث و شیخ السنہ ابو بکر بیہقی بھی ہیں ان کا شمار ان آئمہ حفاظ میں ہوتا ہے جن کے متعلق حافظ ابن صلاح فرماتے ہیں کہ انہوں نے عمدہ اور مفید کتابیں لکھی ہیں۔آپ نے جو شہرہ آفاق کتابیں تصنیف فرمائیں وہ درج ذیل ہیں :

·      کتاب الاسماء و الصفات

·      کتاب المعتقد

·      کتاب البعث

·      کتاب الترغیب و الترہیب

·      کتاب الدعوات

·      کتاب الزہد

·      کتاب الخلافیات

·      کتاب نصوص الشافعی

·      دلائل النبوۃ:اس کتاب مستطاب میں امام بیہقیؒ نے رسولِ پاک (ﷺ) کے معجزات ، فضائل اور دلائل نبوت کو نہایت عمدگی سے جمع کیا ہے ، میلاد ، اسما و صفات اور حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلوں کا احاطہ کیا ہے۔ امام تاج الدین سبکی اور حافظ ابن کثیر سمیت کثیر آئمہ و علماء نے اس کتاب کو سیرت پاک میں سر چشمۂ کتب کا درجہ دیا ہے۔

·      کتاب الآداب

·      کتاب فضائل الاوقات

·      کتاب الرؤیہ

·      کتاب مناقب الشافعی

·      کتاب فضائل الصحابہ

·      کتاب المدخل:یہ دراصل کتاب السنن الکبیر کا مقدمہ ہے۔اسی لئے اس کا پورا نام المدخل الی السنن ہے اس میں  امام بیہقی علیہ الرحمہ نے فن حدیث کے نکات اور ضروری اصولی مباحث کی تشریح کی ہے تاکہ سنن سے استفادہ کرنے والوں کو سہولت ہو۔ یہ مقدمہ بعض حیثیتوں سے خود ایک مستقل کتا ب ہے جو کئی ابواب پر مشتمل ہے۔

·      کتاب الاربعین: یہ اخلاق سے متعلق سو حدیثوں کا مجموعہ اور چالیس ابواب پر مرتب کی گئی ہے۔

شعب الایمان: اس کتاب کا پورا نام الجامع المصنف فی شعب الایمان ہے یہ  امام بیہقی علیہ الرحمہ کی مفید اور مشہور کتاب ہے جو2 جلدوں اور 170 ابواب پر مشتمل ہے۔ اس میں امام صاحب نے صحیحین وغیرہ کی مشہور حدیث الایمان بضغ و سبعون شعبہ کے مطابق ایمان کے 70 شعبوں کی تفصیل تحریر کی ہے نیز ہر شعبہ کے متعلق دوسری روایتیں اور قرآنی آیتیں بھی اشتہاد میں پیش کر کے ان کی شرح و توضیح کی ہے۔

کتاب معرفۃ السنن و الاآثار: یہ  امام بیہقی علیہ الرحمہ کی معرکۃ الآراء کتاب ہے اس کے شروع میں حدیث و سنت کی اہمیت روایت و اسناد میں احتیاط اور بعض ضروری فنی مباحث، اجماع، اجتہاد، قیاس، عام و خاص ، امر و نہی اور ناسخ و منسوخ وغیرہ کی نوعیت، امام شافعی کے حالات و کمالات اور اجتہادی مرتبہ پر لطیف بحث کی گئی ہے۔اس کے بعد فقہی ابواب کی ترتیب پر احکام و مسائل سے متعلق روایات جمع کی گئی ہیں۔

کتاب السنن:  امام بیہقی علیہ الرحمہ کی سنن میں دو کتابیں ایک سنن الکبیر یا سنن کبریٰ اور دوسری السنن الصغیر یا سنن صغریٰ کے نام سے موسوم ہیں۔ یہ احکامی احادیث پر مشتمل ہیں جن کو فقہی ابواب پر مرتب کیا گیا ہے۔

سنن الکبریٰ:یہ  امام بیہقی علیہ الرحمہ کی مایہ ناز اور شہرہ آفاق تصنیف ہے۔ اس کی عظمت اور اہمیت اس سے ظاہر ہے کہ صحاح ستہ کے بعد جن کتابوں کو غیر معمولی شہرت نصیب ہوئی ان میں یہ بھی ہے۔ حافظ ابن صلاح نے صحاح ستہ کے بعد کی عمدہ اور پر منفعت اور علامہ سیوطی نے معتبر و مستند کتابوں میں اس کو شمار کیا ہے۔ آپ کے استاد امام عبد اللہ بن یوسف نہ صرف اس کا نسخہ حاصل کر کے بڑے شوق سے ملاحظہ فرمایا بلکہ اپنی مسرت اور اطمینان کا اظہار فرمایا۔  امام بیہقی علیہ الرحمہ نے اس کی ترتیب و تالیف اور متون و اسناد کی صحت وجودت میں بڑی احتیاط اور نہایت چھان بین سے کام لیا۔

وصال پر ملال:آپ علیہ الرحمہ  کا وصال 74 سال کی عمر میں 10 جمادی الاولیٰ 458ہجری کو نیشا پور میں ہوا آپ کی نعش مبارک وہاں سے بیہق لائی گئی اور یہیں سپرد خاک کیے گئے۔ (وفیات الاعیان، جز:1، ص:76)

امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد المعروف ابنِ ابی الدنیا علیہ الرحمہ


نام و نسب:آپ کا نام عبد الله بن محمد بن عبيد بن سفيان ابن ابی الدنيا قرشی اموی ۔ کنیت: ابو بکر ۔ اور آپ ابنِ ابی الدنیا کے نام سے مشہور ہیں ۔

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادتِ باسعادت 208ہجری  میں بغداد میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:آپ کے مشائخ میں احمد دورقی، علی بن جعد جوہری، زُہیر بن حرب، ابو عبید قاسم بن سلام، داود بن رشید خورازمی، محمد بن سعد کاتبِ واقدی، امام بخاری اور امام ابو داؤد وغیرہ ہیں جن سے فنِ حدیث کی تعلیم پائی ۔

سیرت و خصائص:شیخ الوقت، امام الائمہ، فقیہ العصر، شیخ الحدیث، حافظ الحدیث ابو بکر عبد اللہ بن محمد المعروف ابنِ ابی الدنیا مشہور حفاظِ احادیث میں سے تھے ۔ ابن ابی الدنیا شہزادگانِ خلفائے عباسیہ کے اَتالیق رہے ۔

خلیفہ معتضد باللہ کی تربیت بھی ان ہی کی اَتالیقی میں ہوئی ۔ حافظ ذہبی نے " تذکرۃ الحفاظ " میں ان کا ترجمہ ان لفظوں میں شروع کیا ہے:: ابنِ ابی الدنیا محدث، عالم اور سچے راویوں سے ہیں ۔اور حافظ جمال الدین مزّی کے " تہذیب الکمال " میں یہ الفاظ ہیں: ابنِ ابی الدنیا احادیث کے حافظ، کتبِ مشہورہ کے مصنف اور خلفاء کے اولاد کی تربیت فرماتے تھے ۔

ابنِ ابی حاتم کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد کی معیت میں ان سے حدیثیں لکھی ہیں اور والد نے ان کو صدوق کہا ہے ۔ آپ ایسی صلاحیت کے حامل شخص تھے ایک بندے کو آپ جب چاہیں رولا دیں اور جب چاہیں ہنسا دیں ۔ اسی ادا سے متاثر ہو کر خلیفہ نے آپ کو اپنی بیٹوں کی تربیت کے لئے رکھا ۔
علمی حیثیت: آپ بڑے پایہ کے محدث اور راویِ حدیث تھے۔ آپ کی رقیق القلوب، زہد، ورع اور اخلاقیات پر لکھی گئی کتب بہت مشہور ہیں۔

اساتذہ کرام: آپ نے امام بخاری، امام ابو داؤد، اور احمد بن محمد الدورقی جیسے عظیم محدثین سے علم حاصل کیا۔

تلامذہ: امام ابن ماجہ اور دیگر نامور علماء نے آپ سے روایت کی ہے۔

تصنیفات: آپ نے تقریباً 164 یادگار کتابیں تحریر کیں، جن میں رقیق القلوب موضوعات، اخلاص، شکر اور موت کی یاد جیسے موضوعات شامل ہیں۔

تاریخِ وصال:آپ علیہ الرحمہ کا وصال 10 جمادی الاول 281 ہجری  / بمطابق جولائی 894ء میں ہوا ۔

ماخذ و مراجع: سیر اعلام النبلاء ۔

حضرت الشیخ امام جلال الدین السیوطی الشافعی علیہ الرحمہ

نام ونسب اور سکونت: محقق علی الاطلاق حضرت علامہ امام جلال الدین سیوطی کا نام نامی اسم گرامی عبد الرحمن ہے اور آپ کا لقب ”جلال الدین“ اور کنیت ابو الفضل ہے۔ آپ کا پورا نسب اس طرح ہے: عبد الرحمن جلال الدین بن ابی بکر محمد کمال الدین بن سابق الدین بن عثمان فخر الدین بن محمد ناظر الدین بن سیف الدین خضر بن ابی الصلاح ایوب نجم الدین بن محمد ناصر الدین بن شیخ ہمام الدین سیوطی۔

” سیوط“ کی طرف منسوب ہیں، جس کو” اسیوط “ بھی کہتے ہیں۔ مصر کے گرد و نواح میں دریائے نیل کے مغربی جانب ایک شہر ہے، اسی شہر میں بعد مغرب یکم رجب ۸۴۹؁ ھ میں پیدا ہوئے ۔اپنے زمانہ کے انتہائی باکمال و بے مثال ائمہ فن میں سے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں بے پناہ خوبیوں اور بے شمار خصوصیتوں سے نوازا تھا۔

تحصیل علوم:آپ کی عمر شریف جب پانچ سال سات ماہ کی ہوئی تو ۸۵۵؁ھ میں آپ کے سر سے والد کی شفقت اور سایہ اٹھ گیا لیکن آپ کے والد ماجد نے علم دین کے حصول کی وصیت فرمائی تھی، چنانچہ والد ماجد کی حسب وصیت علم دین کے حصول میں قدم رکھا اور چند بزرگوں کی سرپرستی میں علم دین حاصل کرنے لگے۔ ان میں شیخ کمال الدین ابن ہمام حنفی بھی تھے ،انہوں نے آپ کی طرف پوری توجہ کی۔ چنانچہ آپ نے آٹھ سال سے کم عمر ہی میں قرآن مجید حفظ کرلیا اور بہت سی درسی و غیر درسی کتابیں اپنے وقت کے جید ترین مختلف علمائے کرام سے پڑھیں۔ شیخ شہاب الدین سے فرائض (علم میراث) حاصل کئے اور شیخ الاسلام علم الدین ،علامہ بلقینی ،علامہ شرف الدین المناوی اور محقق دیار مصر سیف الدین محمد بن محمد حنفی کے حلقہائے درس سے بھی مدتوں استفادہ کیا اور علامہ محی الدین کی خدمت میں چودہ سال تک رہے۔

درس و تدریس اور افتاء:علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل و تکمیل کے بعد ۸۶۶؁ھ میں باقاعدہ مسند تدریس پر فائز ہوگئے اور ۸۷۱؁ھ میں افتاء کا کام شروع کیا اور ۸۷۲ ؁ھ سے املاء حدیث میں مشغول ہوگئے ۔خود علامہ موصوف ”حسن المحاضرہ“میں تحریر فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے سات علوم تفسیر ،حدیث ،فقہ ،نحو،معانی ،بیان اور علم بدیع میں تبحر و مہارت عطا فرمائی ہے ۔یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے حج کے موقع پر آب زمزم پیا اور یہ نیت کی کہ فقہ میں شیخ سراج الدین بلقینی کے مرتبہ کو اور حدیث میں حافظ ابن حجر کے مرتبہ کو پہنچ جائوں۔

مشہور تلامذہ:آپ کے حلقۂ درس سے بے شمار جید علماء نے اکتساب علم کیا اور اکناف عالم میں علوم عقلیہ و نقلیہ پھیلاتے رہے ۔ان میں مشہور و معروف تلامذہ یہ ہیں: شمس الدین محمد بن علی بن احمد الدائودی المالکی ،علامہ علی بن محمد بن احمد الخبانی الازہری۔

قوتِ حافظہ:آپ اپنے زمانہ میں علم حدیث کے سب سے بڑے امام تھے ۔آپ خود فرماتے ہیں کہ مجھے دو لاکھ حدیثیں یاد ہیں اور”الاتقان“کے دیباچہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ مذکورہ سات علوم کے علاوہ اصول فقہ، علم جدل، معرفت، انشاء، ترسیل، علم فرائض، علم قرأت اور علم طب میں نے کسی استاد سے نہیں پڑھا البتہ علم الحساب مجھ پر دشوار ترین شیٔ تھی لیکن اب میرے پاس بحمدہ تعالیٰ اجتہاد کے آلات مکمل ہوگئے ہیں میں اس بات کو فخریہ نہیں کہتا بلکہ بطور ذکر نعمت الٰہی بیان کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں اگر میں چاہتا کہ ہر مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھوں اور اس کے انواع و اقسام اور اس کے ادلۂ عقلیہ و نقلیہ اور اس کے نقائص اور ان نقائص کے جوابات اور ہر مسئلہ میں اختلاف مذاہب کے درمیان موازنہ کروں تو بفضلہ تعالیٰ اس کام پر بھی مجھے قدرت ہوتی اور جہاں کہیں ہر قسم کی روایات جمع کی ہیں جس، میں ضعیف و موضوع کا بھی لحاظ نہ کیا تو وہاں ان کا مقصد تحقیق ہرگز نہیں بلکہ مطلقاً روایات کا جمع کرنا ہے اور یہ ان کی عادت ہے کہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں اس میں ہر قسم کی روایتیں جمع فرمادیتے ہیں خواہ وہ صحیح ہوں یا حسن یا ضعیف چنانچہ اس کتاب (لقط المرجان) میں بھی ان کا مقصد تحقیق نہیں، جمع روایات ہے اسی لئے تو انہوں نے یہ فرمایا کہ”اگر میں چاہتا تو ایسی تحقیق کرنے پر قدرت ہوتی ” ایسا ہی کیا ہے“ (یعنی لقط المرجان کی روایات کی تحقیق کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا) کا انہوں نے دعویٰ نہیں فرمایا ہے۔

علمی کارنامے:امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے مختلف موضوعات پر پانچ سو سے زائد تصنیفات اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔ چنانچہ علامہ نووی بستان میں ایک مستند روایت نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:” امام غزالی علیہ الرحمہ کی تصنیفات اور ان کی عمر کا حساب لگایا جائے تو روزانہ کا اوسط سولہ صفحات ہوتے ہیں لیکن محدث ابن جوزی اور علامہ سیوطی کی تصنیفات کا روزانہ کا اوسط اس سے بھی کہیں زیادہ ہے“۔ سب سے پہلے علامہ سیوطی نے ”شرح استعاذہ و بسملہ“ تصنیف کی اور اصول تفسیر میں انتہائی جامع کتاب” الاتقان فی علوم القرآن“ دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کی وجہ تالیف خود علامہ موصوف نے اسی کتاب کے دیباچہ میں یوں بیان فرمائی ہے:” مجھے طالب علمی کے زمانہ ہی سے اس بات پر بڑی حیرت و تعجب تھا کہ علمائے متقدمین نے علوم حدیث پر تو بہت سی کتابیں تصنیف کیں لیکن علوم قرآن پر کوئی کتاب نہیں لکھی ۔اتفاقاً ایک دن میں اپنے استاد اور شیخ ابو عبد اللہ محی الدین کو فرماتے سنا کہ انہوں نے علم تفسیر پر ایک بے مثال کتاب مرتب فرمائی ہے، کہ ایسی کتاب ابھی تک نہیں لکھی گئی۔ چنانچہ مجھے اسے دیکھنے کا شوق پیدا ہوا ،تو اسے لے کر نقل کیا ۔یہ ایک مختصر رسالہ تھا اس رسالہ میں صرف دو باب تھے ۔ پہلے باب میں تفسیر،تاویل، قرآنی سورتوں اور آیات کے معانی میں اور دوسرا باب تفسیر بالرائے کی شرطوں کے بیان میں۔ پھر ان دو بابوں کے بعد خاتمہ تھا جس میں عالم متعلم کے آداب مذکور تھے۔ اس مختصر رسالہ سے میری تشنگی نہ بجھی اور تشفی نہ ہوئی اس کے بعد قاضی القضاۃ نے اپنے بھائی قاضی القضاۃ جلال الدین کی تصنیف کردہ کتاب ”مواقع العلوم من موقع النجوم“کی طرف رہنمائی کی۔ جب میں نے اس کتاب کا مطالعہ کیا تو اسے اس موضوع پر بڑی عمدہ اور قابل قدر پا۔یا اس کتاب میں مذکورہ بالاعنوان کی ہر قسم کا مختصر بیان تھا ،مگر اس کے باوجود وہ بیان اس قدر ناکافی تھا کہ اس میں مزید اضافے اور وضاحت کی ضرورت تھی چنانچہ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے میں نے اس موضوع پر ایک کتاب ”التبحیر فی علوم التفسیر“کے نام سے لکھی اس کے بعد اسی موضوع پر دوسری کتاب ”البرہان فی علوم القرآن “کے نام سے تصنیف کی گویا امام سیوطی نے علم اصول تفسیر پر تین جامع کتاب تصنیف فرمائی۔

چند مشہور تصنیفات کے نام:

  • الدر المنثور فی التفسیر الماثور بارہ جلدیں
  •  ترجمان القرآن پانچ جلدیں
  •  الناسخ و المنسوخ
  •  الاکلیل فی استنباط النزیل
  •  لباب المنقول فی اسباب النزول
  •  مفحات القرآن فی مہمات القرآن
  •  اسرار التنزیل
  •  تفسیر جلالین نصف اول
  •  التوشیخ علی الجامع الصحیح شرح بخاری
  •  القول الحسن فی الذب علی السنن نسائی کی شرح
  •  زبر الربیٰ علی المجتبیٰ ابن ماجہ کی شرح
  •  کشف الغطاء فی شرح الموطأ موطا کی شرح
  •  القوت المغتذی علیٰ جامع الترمذی ترمذی کی شرح
  • طبقات
  •  تاریخ الخلفاء
  •  طبقات الحفاظ
  •  خصائص کبریٰ

مزید تصانیف کی فہرست آپ ہی کی کتاب”حسن المحاضرہ“میں درج ہے ، وہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

کرامات:آپ کے خادم خاص محمد بن علی حباک کا بیان ہے کہ، ایک روز قیلولہ کے وقت فرمایا: ”اگر تم میرے مرنے سے پہلے اس راز کو فاش نہ کرو تو آج عصر کی نماز مکہ معظمہ میں پڑھوا دوں“؟ عرض کیا!” ضرور“ فرمایا:” آنکھیں بند کرلو اور ہاتھ پکڑ کر تقریباً ۲۷ قدم چل کر فرمایا، آنکھیں کھول دو ۔دیکھا تو ہم باب معلی پر کھڑے ہیں حرم پہونچ کر طواف کیا زمزم پیا ،پھر فرمایا کہ اس بات سے تعجب مت کرو کہ ہمارے لئے زمین سمیٹ دی گئی بلکہ زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ مصر کے بہت سے مجاورین حرم ہمارے جاننے والے یہاں موجود ہیں مگر وہ ہمیں نہ پہچان سکے۔ پھر فرمایا چاہو تو میرے ساتھ واپس چلو ورنہ حاجیوں کے ساتھ آجانا۔ عرض کیا! ساتھ ہی چلوں گا ۔چنانچہ ہم باب معلی گئے اور فرمایا آنکھیں بند کرلو ،میں نے آنکھیں بند کرلیں اور مجھے سات قدم دوڑایا اور کہا آنکھیں کھولو جب آنکھ کھولی تو ہم مصر میں موجود تھے۔

زیارتِ رسالتماب اور شیخ السنۃ کا خطاب:امام سیوطی نے کئی بار حضور اکرم ﷺ کی خواب میں زیارت کی ہے اور حضور ﷺ نے آپ کو یا شیخ السنۃ یا شیخ الحدیث کہہ کر خطاب فرمایا ۔شیخ شاذلی فرماتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ آپ کو حضور اکرم ﷺ کی زیارت مبارکہ کتنی بار ہوئی ہے؟ فرمایا ستر (۷۰) سے زیادہ مرتبہ مجھے حضور اقدس ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے۔

وفات:تریسٹھ (63) سال کی عمر پاکر ایک معمولی سے مرض ہاتھ کے ورم میں مبتلا ہوکر آخر شب جمعہ ۱۹ جمادی الالیٰ ۹۱۱ھ؁ میں داعی اجل کو لبیک کہا اور ہمیشہ کے لئے دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔

 

بانئ درس نظامی حضرت علامہ ملا نظام الدین علیہ الرحمہ

 

ولادت باسعادت: استاذ الاساتذہ الہند بانئ درس نظامی حضرت علامہ ملا نظام الدین علیہ الرحمہ کی ولادت 27 مارچ 1677ء بمطابق 1088ہجری  ہوئی ۔

 والد گرامی کا نام ملا قطب الدین تھا ۔

تحصیل ِعلم:علمی ادبی اور مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی تعلیم کا آغاز والد گرامی سے کیا ان کے علاوہ اساتذہ سے بھی استفادہ کیا ان میں ملا باقر، ملا علی قلی جالسی اشرفی، ملا امان اللہ بنارسی اور ملا غلام نقشبند شامل ہیں ۔
بیعت و خلافت:تکمیل تعلیم کے بعد باطنی تعلیم کیلئے سلسلۂ قادریہ کے پیشوا اور ولی کامل سید عبد الرزاق بانسوی علیہ الرحمہ  سے بیعت کی منازل سلوک اور اعزاز خلافت بھی حاصل کیا ۔ اپنے مرشد گرامی کے احوال و آثار، الہامات و ارشادات اور تعلیمات پر مشتمل " مناقب رزاقیہ " لکھی ۔

تدریسی خدمات: استاذ الاساتذہ الہند بانئ درس نظامی حضرت علامہ ملا نظام الدین علیہ الرحمہ تکمیل علوم کے بعد تا حیات درس و تدریس ، تصنیف و تالیف اور تبلیغ و اصلاح میں مصروف رہے ـ آپ نے فرنگی محل میں 50 سال درس و تدریس کی جہاں سے ہزاروں مدرسین، معلمین، محققین، مبلغین اور مصلحین تیار ہو کر نکلے ۔ آج بھی علماء ان سے سلسلۂ تلمذ میں ان کے شاگرد ہونے کو قابل اعزاز سمجھتے ہیں ۔

 تصانیف جلیلہ : آپ علیہ الرحمہ  کی تصنیفات کثرت سے ہیں، مثلاً

·      شرح مسلم الثبوت شرح منار مسمی بہ صبح صادق

·      حاشیہ صدرا حاشیہ شرح ہدایۃ الحکمۃ صدر الدین شیرازی

·      حاشیہ شمس بازغہ

·      حاشیہ بر حاشیہ قدیمہ

·      شرح تحریر الاصول

·      حاشیہ شرح عضدیہ

·      مناقب رازقیہ (فارسی)

·      شرح مبارزیہ

یہ تمام کتابیں بڑے پایہ کی ہیں اور نہایت دقیق تحقیقات پر مشتمل ہیں، لیکن درحقیقت ملاصاحب کی شہرت ان تصنیفات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے طریقۂ درس نظامی کی بدولت ہے۔( ماہنامہ اشراق لاہور ستمبر 2013)

وصال:آفتاب علوم و معارف 9 جمادی الاولیٰ 1161ھ بمطابق 1748ء کو غروب ہوا ۔