اسم گرامی: سید علی
والد
بزگوار :سید شاہ عثمان غزنی
کنیت: ابوالحسن۔
لقب: داتا گنج بخش، مخدوم الامم۔
سلسلہ
نسب: آپ حسنی سادات میں سے
ہیں آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے مولاۓ کاٸنات سیدنا علی ابن
ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم سے مل جاتا ہے آپ کا سلسلہ نسب درج ذیل ہے :سید مخدوم
علی بن سید عثمان بن سید علی بن سید عبدالرحمن
بن سید شجاع بن سید ابوالحسن علی بن سید حسین اصغر بن سید زید بن حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ بن علی کرم اللہ وجہہ الکریم
تاریخ
ولادت: حضور سیدنا داتا گنج
بخش علیہ الرحمہ کی تاریخ پیداٸیش کے متعلق کتب سیر یکسر خاموش ہیں مؤلفین و مؤرخین نے ظن و تخمین سے 400ہجری /401ہجری
لکھا ہے۔ اس کو یقینی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ (مقدمہ کشف المحجوب:11)
مقام
ولادت: حضرت کا وطن اصلی افغانستان
کا شہر غزنی ہے۔ "جلابی، ہجویری" اسلئے کہلاتے ہیں کہ یہ دونوں محلے
"غزنی" کے ہیں۔ آپ کے والدین کی قبریں غزنی میں ہیں داتا صاحب علیہ الرحمہ
خود اپنی تصنيف کشف الاسرار میں تحریر فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد بزرگوار سے سنا
کہ میری پیدائش محلہ ہجویر میں ہوئی۔ پھر اس
جگہ کے متعلق رقم کرتے ہیں مولی تعالی اس سرزمين کو حادثات اور دیگر آفات سے محفوظ
رکھے اور اسے بادشاہوں کے مظالم سے محفوظ رکھے ۔
تحصیل
علم: حضرت داتا صاحب علیہ
الرحمہ علوم ظاہری و باطنی کے بحر ذخار تھے۔ آپ نے صرف "خراسان میں تین سو علماء
و مشائخ سے استفادہ کیا،حضرت شیخ ابوالقاسم گرگانی علیہ الرحمہ ،حضرت شیخ ابوالقاسم
قشیری علیہ الرحمہ اور ان کے علاوہ حضرت خضر علیہ السلام سے بھی خوب استفادہ کیا۔
حضرت
سیدنا خواجہ خضر علیہ السلام سے اکتساب فیض: حضرت سیدنا علی خواص علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حضرت سیدنا
خواجہ خضر علیہ السلام سے ملاقات کی تین شرطیں
ہیں : (1)وہ سنّت کا عامل ہو ۔ (2)دنیا پر لالچی نہ ہو، (3)مسلمانوں کےلیے اس کا سینہ بالکل
صاف ہو،نہ تو اس کے دل میں کینہ ہو نہ ہی حسد
اورنہ ہی وہ کسی پرتکبر کرتا ہو ۔
آپ
علیہ الرحمہ کی ذات مبارکہ میں یہ تینوں شرائط موجود تھیں ،آپ
عامل سنت ،لالچ دنیا سے بہت دور اور
مسلمانوں کے خیرخوا ہ تھے، اسی لیے آپ نے حضرت
سیدنا خواجہ خضر علیہ السلام سے نہ صر ف
ملاقات فرمائی بلکہ آپ انہی کی صحبت
میں رہ کر ظاہر ی و باطنی علوم حاصل فرمائے اور
آپ کی حضرت سیدنا خواجہ خضر علیہ
السلام سے بہت ہی گہری دوستی تھی ۔
بیعت
و خلافت: آپ علیہ الرحمہ ظاہری علوم و فنون سے فراغت کے بعد باطنی علوم کی
جانب متوجہ ہوۓ اور بے شمار اولیائے کاملین سے مستفض و مستنیر ہوئے اس وقت
ملک شام کی سرزمین پر قدوة السالکین شیخ کامل حضرت ابو الفضل محمد بن حسن ختلی علیہ الرحمہ کا سکہ چل رہا تھا داتا
صاحب نے شیخ کامل کے عادات و اطوار اور پیر کے کل شرائط کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاق و کردار سے متاثرہ ہو کر آپ سلسلہ عالیہ جنیدیہ میں حضرت شیخ ابوالفضل محمد
بن حسن الختلی علیہ الرحمہ کے دست پر بیعت ہو گئے۔ آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اس وقت سب سے مشہور سلسلہ عالیہ جنیدیہ
تھا پھر آپ نے شیخ محترم کی خدمت میں رہ کر سلوک کی تمام تر منازل کو طے کرنے کے بعد
خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے۔
آپ
کا شجرۂ طریقت: آپ علیہ الرحمہ
شجرۂ طریقت دس واسطوں سے امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ تک
پہنچتا ہے ۔
حکم
پیرو مرشد:حضرت سید علی ہجویری
علیہ الرحمہ کی زندگی کا بیشتر حصہ سفر میں
گزرا ہے ۔ انہیں جہاں بھی کسی صاحب علم و دانش کا پتا چلا آپ دشوار گزار راستوں کو
عبورکرکے وہاں پہنچ گئے۔ قدرت نے انہیں جس اعلیٰ روحانی تجربے سے آشنا کرنا تھا اس
کی جزئیات سے آگاہی کے لیے حضرت داتا صاحب
ایک طویل عرصہ تک آزمائش و ابتلا سے گزرے ۔ آپ نے اپنے عہد کے نظریات و تصورات
کا عمیق مطالعہ کیا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے علمی اور روحانی سفر کو جاری رکھا
۔
ایک
طویل سفر کے بعد آپ واپس اپنے مرشد کی خدمت میں دمشق آپہنچے۔ اس وقت شیخ ابو الفضل
محمد بن الحسن ختلی علیہ الرحمہ بیت الجن دمشق
میں مقیم تھے۔
ایک
روز اچانک مرشد نے اپنے ہونہار شاگرد علی ہجویری سے ارشاد فرمایا :
‘‘ عزیزم ! سرزمین
لاہور کی جانب کوچ کر جاؤ ۔ ’’
‘‘حضور ! وہاں تو
پہلے سے حسین زنجانی علیہ الرحمہ شمع ہدایت
روشن کیے بیٹھے ہیں۔ مجھ ناچیز کی کیا ضرورت آن پڑی؟’’
حضرت
سید علی ہجویری علیہ الرحمہ نے بصد احترام سوال کیا۔
‘‘عزیز م ! یہ لیت
و لعل کا موقع نہیں…. رخت سفر باندھو اور کوچ کر جاؤ۔ ’’مرشدنے متبسم لہجے میں فرمایا۔
مرشد کے حکم کی بجا آوری ہر مرید کا فرض ہے۔ سلوک میں سر تسلیم خم کرنے ہی سے سربلندی
نصیب ہوتی ہے۔ تو پھر اس تناظر میں علی ہجویری علیہ الرحمہ نے سوال کیوں کیا ….؟
کیا
واقعی لیت و لعل سے کام لیا جارہا تھا یا حقیقت کچھ اور تھی۔ علی ہجویری کی طبیعت میں
جستجو اور دل میں اجتہاد تھا ۔ چنانچہ تجسس کو دور کرکے اطمینان قلب کے ساتھ اطاعت
مرشد میں سفر کو روانہ ہوگئی۔
دمشق
سے لاہور تک:دمشق سے غزنی اور غزنی
سے لاہور تک کا یہ سفر بڑا طویل اور تھکادینے والا تھا جو راہ عشق کے مسافر نے اپنے دو ساتھیوں کی ہمرا ہی میں
طے کیا تھا۔ علی ہجویری کے ہمراہ ان کے دو ساتھی سید احمد حمادی سرخسی علیہ الرحمہ
اور شیخ ابو سعید ہجویری علیہ الرحمہ تھے ۔ یہ لمبا سفر اطاعت مرشد کی خاطر کیا گیا تھا، لہٰذا داتا صاحب نے ہر
صعوبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا تھا ۔ لیکن دوران سفر ایک الجھن سی ضرور تھی جس
نے علی ہجویری علیہ الرحمہ کو مضطرب کیے رکھا
تھا۔ اس دیار غیر لاہور میں اس کا پیر بھائی
پہلے ہی رشد و ہدایت کی شمع فروزاں کیے بیٹھا تھا ، آخر انہیں لاہور جانے کا حکم کیوں
دیا گیا ہے۔
جس دن
لاہور پہنچے رات ہو گئی تھی۔ شہر کے دروازے بندے ہو گئے تھے ۔لہٰذا فصیل شہر کے باہر رات گذاری۔ صبح اٹھے تو مرشد کے حکم
سفر میں پوشیدہ حکمت آشکار ہوئی۔ دیکھا کہ
چند افراد، بصد احترام ایک جنازہ لیے شہر کے مشرقی حصے سے باہر آرہے تھے۔ انہوں نے
تجسس سے دریافت کیا کہ یہ کس ہستی کا سفر آخرت
ہے؟
ایک
شخص نے تاسف بھرے لہجے میں جواب دیا ‘‘یہ جنازہ ولیٰ قطب وقت سی میراں حسین زنجانی علیہ الرحمہ کا ہے۔ ’’
تینوں
مسافر تو بس دھک سے دم بخود ہوکررہ گئے۔بے اختیار آپ کی زبان مبارک سے نکلا کہ ‘‘اللہ
شیخ کو جزائے خیر دے ،وہ واقعی روشن ضمیرتھے۔’’
چشم
تصور میں مرشد سے ملاقات، سر زمین لاہور کی جانب حکم سفر، ساری باتیں سمجھ میں آتی
چلی گئیں۔
جب جنازے
کے شرکاء کو پتا چلا کہ آپ حضرت شیخ حسین زنجانی علیہ الرحمہ کے پیر بھائی ہیں تو انہوں نے جنازہ پڑھانے کا اصرار
کیا اوریوں آپ نے پہلے جنازہ پڑھایا اور پھر تدفین کے عمل سے فارغ ہوکرشہر کی جانبروانہ
ہوئے۔
لاہور
اولیاء اللہ کی سرزمین ہے۔ اس خطہ پر نور میں کئی جلیل القدر ہستیاں محو خواب ہیں۔
ان واقف حال صاحب کمال بابرکت ہستیوں میں ایک ایسا روشن چراغ کہ جس کی روشنی نے اک
عالم کو خیرا کیا ہوا ہے وہ داتا گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا کی ہستی ہے۔ یوں تو
لاہور ایک ہزار سال سے زائد عرصہ سے اولیاءکرام اور صوفیاءکا مسکن رہا ہے اس شہر میں
میاں میر اور شاہ حسین جیسی بابرکت ہستیاں مدفون ہیں۔ لیکن جو عزت اور تکریم حضرت علی
ہجویری المعروف داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے
حصہ میں آئی کسی کے حصہ میں نہ آئی۔ شہر لاہور کو حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ ، علی ہجویری علیہ الرحمہ کی نسبت سے داتا کی نگری کہا جاتا ہے۔داتا گنج بخش
علیہ الرحمہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا
جا سکتا ہے کہ خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ ،بابا فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ سمیت بڑی بڑی ہستیاں آپ کے مزار پر حاضری دیا کرتی
تھیں۔ داتا گنج بخش کی لاہور آمد کا سن 410ہجری بمطابق 1025عیسوی ہے۔ آپ نے اپنی عمر
کی 52 برس لاہور اسلام کی اشاعت کا کام کیا۔ آپ کے ہاتھوں بیشمار لوگ مسلمان ہوئے۔
رائے
راجو جادوگر کا قبول اسلام :آپ
علیہ الرحمہ جب لاہور تشریف لائے۔رائے راجو
ایک بہت بڑا ہندو جادوگر تھا لوگ اسے اپنے جانوروں کا دودھ دیا کرتے تھے اور اگر کوئی
اسے دودھ کا نذرانہ نہ دیتا تو وہ اس کے جانوروں پر ایسا جادو کرتا کہ جانوروں کے تھنوں
سے دودھ کے بجائے خون نکلنے لگتا۔
ایک
دن ایک بوڑھی عورت رائے راجو کے پاس دودھ کا مٹکا سر پر رکھ کر لے جا رہی تھی کہ حضرت
سیدنا داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ نے اسے
بلا کر فرمایا کہ یہ دودھ مجھے دے دو اور جو اس کی قیمت بنتی ہے وہ لے لو۔
اس بوڑھی
عورت نے کہا کہ میں یہ دودھ تم کو نہیں دے سکتی ہمیں بہر صورت یہ دودھ رائے راجو کو
دینا ہی پڑتا ہے ورنہ ہمارے جانوروں کے تھنوں سے دودھ کے بجائے خون آنے لگتا ہے۔
اس پر
حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ نے مسکرا کر فرمایا
:
اگر
تم یہ دودھ مجھے دے دو تو تمہارے جانوروں کا دودھ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جائےگا۔یہ
سنتے ہی اس عورت نے آپ کو دودھ پیش کر دیا۔
جب وہ اپنے گھر گئی تو یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی
انتہا نہ رہی کہ اس کے جانوروں میں اس قدر دودھ تھا کہ گھر کے تمام برتن بھرجانے کے
بعد بھی تھنوں سے دودھ ختم نہیں ہو رہا تھا کچھ ہی دیر میں یہ خبر پورے شہر بھر میں
پھیل گئےجب آپ کی یہ زندہ کرامت لوگوں میں
عام ہوئی تو گرد و نواح سے لوگ دودھ کا نذرانہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔
ایک
طرف تو لوگوں کی عقیدت کا یہ حال تھا اور دوسری طرف رائے راجویہ ماجرا دیکھ کر آگ
بگولا ہو رہا تھا۔ آخر کارآپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور انہیں مقابلے کیلئے للکارتے
ہوئے کہنے لگا کہ اگر آپ کے پاس کوئی کمال ہے تو دکھائیں ۔
آپ نے فرمایا میں کوئی جادوگر نہیں، میں تو اللہ تعالیٰ
کا ایک عاجز بندہ ہوں، ہاں!
اگر
تمہارے پاس کوئی کمال ہے تو تم دکھاؤ۔
یہ سنتے
ہی وہ اپنے جادو کے زور پر ہوا میں اڑنے لگا۔
آپ
یہ دیکھ کر مسکرائے اور اپنے جوتے ہوا میں اچھال دیئے، جوتے رائے راجو کے سر پر پڑنے لگے اور اتنے پڑے کہ وہ زمیں پر گر
پڑا ۔
راجو
نے جب آپ کی یہ کرامت دیکھی تو فورا قدموں میں گر پڑا معافی مانگی دائرۂ اسلام میں داخل ہوگیا ۔
آپ
علیہ الرحمہ نے اس کا نام احمد رکھا اور شیخ
ہندی کا خطاب عطا فرمایا ۔شیخ ہندی ہی کی اولاد و امجاد اس وقت سے آج تک خانقاہ کی خدمت کے فرائض انجام
دیتی چلی آرہی ہے۔
سمت
مسجدالحرام سے متعلق کرامت :آپ
علیہ الرحمہ نے لاہور تشریف لاتے ہی اپنی قیام
گاہ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کرائی ،اس مسجد کی محراب دیگر مساجد کی بہ نسبت
جنوب کی طرف کچھ زیادہ مائل تھی ،لہٰذامرکزالاولیا لاہور میں رہنے والے اس وقت کے علماء
کو اس مسجد کی سمت کے معاملے میں تشویش لاحق ہوئی چنانچہ ایک روز آپ علیہ
الرحمہ نے تمام علماء کو اس مسجد میں جمع کیا
اور خود امامت کے فرائض انجام دیئے،نماز کی ادائیگی کے بعد حاضرین سے فرمایا:’’ دیکھئے
کہ کعبہ شریف کس سمت میں ہے؟‘‘
یہ کہنا
تھا کہ مسجد و کعبہ شریف کے درمیان جتنے حجابات تھے سب کے سب اٹھ گئے اور دیکھنے والوں
نے دیکھا کہ کعبہ شریف محراب مسجد کے عین سامنے نظر آرہا ہے ۔
آپ
علیہ الرحمہ کے فیضان کا اندازہ اس بات سے
بآسانی لگایا جاسکتا ہےکہ معین الاسلام حضرت سیدنا خواجہ غریب نوازمعین الدین سیدحسن
چشتی سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بھی ایک عرصے تک آپ کے دربار پر مقیم رہے اور منبع
فیض سے گوہر مراد حاصل کرتے رہے اور جب دربار سے رخصت ہونے لگے تو اپنے جذبات کا اظہار
کچھ یوں فرمایا ۔
گنج
بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنما
سیرت مبارکہ: یہ درست ہے کہ سلطان
محمود کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی یہاں، مسلمان ایک "حاکم قوم" کی حیثیت
سے رہنے لگے تھے اور یہاں کے کفار مسلم عوام سے بظاہر مرعوب ضرور تھے، لیکن ان کے قلوب
مسلمان فاتحین کے ساتھ نہیں تھے، اور وہ ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ مگر یہاں
تشریف لانے والے صوفیائے کرام بالخصوص آپ علیہ الرحمہ کے درود مسعود کے بعد یہاں کی مقامی آبادی میں سے
لا تعداد لوگ ان کی تبلیغ کے سبب حلقہ بگوش اسلام ہو گئے چنانچہ یہاں کے باشندوں میں
سے ایک کثیر گروہ کی دلی ہمدردیاں مسلم فاتحین کے ساتھ ہو گئیں۔ نظریہ و طنیت، خاک
میں مل گیا اور دو قومی نظریۂ کی بنیادیں رکھ دی گئیں، اور بعد میں آنے والے صوفیہ
کرام کی مساعی جمیلہ سے اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا
جس سے مسلمانوں کی حکومت استحکام پکڑتی گئی۔ فاتحین نے کفار کو تیر و سنان سے زیر کیا
تو نائبین مصطفیٰﷺ نے انہیں تیر نظر سے خدا ئے واحد کا مطیع و منقاد بنایا۔
ہندوستان
کے قطب الارشاد:حضرت شیخ مجدد الف ثانی سرہندی علیہ الرحمہ نے لاہور کو جو قطب ارشاد کا درجہ دیا ہے، اصل میں
یہ اسی قطب الاقطاب (علی ہجویری) کو خراج تحسین ادا کیا ہے۔ حضرت شیخ مجدد رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں: "فقیر کے نزدیک یہ شہر لاہور تمام ہندوستان کے شہروں میں قطب
ارشاد کی طرح ہے، اس شہر کی خیر و برکت تمام بلاد ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔
آپ
علیہ الرحمہ کے ارشادات عالیہ:
دس چیزیں،
دس چیزوں کو کھاجاتی ہیں؛ توبہ گناہ کو، جھوٹ رزق کو، غیبت عمل کو، غم عمر کو، صدقہ
بلا کو، غصہ عقل کو، پشیمانی سخاوت کو، تکبر علم کو ، نیکی بدی کو اورعدل ظلم کو۔
غافل
امراء، کاہل فقراء اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز بھی عبادت میں شامل ہے۔
عارف
کامل کے لیے عالم ہونا ضروری ہے اور ہر عالم عارف نہیں ہوتا۔
جب فقیر
کو بادشاہ کا قرب حاصل ہوجاتا ہے تو اس کا سامان سفر اور توشہ آخرت برباد ہوجاتا ہے۔
نفس
کی مثال شیطان کی ہے اور اس کی مخالفت عبادت کا کمال ہے۔
کامل
صوفی وہ ہے جس کی گفتار و کردار میں فرق نہ ہو اور جو اخلاق کی تہذیب کا کام کرے۔
کامل
صوفی وہ ہے جس کے ایک ہاتھ میں قرآن کریم اور دوسرے میں سنت رسول اللہﷺ ہو۔
اولیاء
اللہ رب تعالیٰ کے ملک کے والی اور منتظم ہیں۔
جس کام
میں نفسانی غرض آجائے، اس سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
جو چیز
بندے کو رب تعالیٰ سے دور کردے وہ عزت نہیں بدترین قسم کی ذلت ہے۔
وصال
پر ملال:آپ علیہ الرحمہ کاوصال پرملال اکثر
تذکرہ نگاروں کے نزدیک ۲۰صفرالمظفر ۴٦۵ ہجری کوہوا۔ آپ کامزار ‘‘داتا دربار’’لاہور میں شہر قدیم کی فصیل
میں جنوبی جانب واقع بھاٹی گیٹ کی بیرونی جانب سرکلر روڈ سے پرے واقع ہے مرجع خلائق
ہے۔ ( متفرق کتب سے ماخوذ/از قلم : کریم پاشاہ سہروردی قادری حفظہ
اللہ)


