حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ

 


حضرت شیخ کریم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے نامور صوفی بزرگ اور اہلِ دل اولیاء کرام میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ سلسلہ چشتیہ کے مشائخ میں سے تھے اور دہلی کے قریب شاہجہان آباد (موجودہ پرانی دہلی) میں رہتے تھے۔

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ  کی پیدائش:حضرت شیخ کریم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 24 جمادی الاوّل 1060 ہجری کو دہلی میں ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بادشاہ شاہجہان نے دہلی کو نیا دارالحکومت بنایا تھا اور شاہجہان آباد علمی و فکری سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا، جہاں علما و فضلا کی کثرت تھی۔ آپ کے والدِ محترم حضرت شیخ نور اللہ صدیقی ایک جید عالم ہونے کے ساتھ ساتھ علمِ ہند، علمِ ہندسہ اور فنِ تعمیر کے ماہر شمار کیے جاتے تھے۔ وہ خوش نویسی (خطاطی) میں بھی کمال رکھتے تھے، چنانچہ جامع مسجد دہلی کے دروازوں اور محرابوں پر کندہ کتبات ان کے فن کی لازوال یادگار ہیں۔ حضرت شیخ کریم اللہ شاہجہان آبادیؒ کا سلسلہ نسب خلیفۂ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔

آپ کی ابتدائی تعلیم:حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم و تربیت آپ کے والدِ محترم کی نگرانی میں ہوئی۔ آپ بچپن ہی سے نہایت ذہین اور فطین تھے۔ آپ کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ جو درس عام طلبہ برسوں میں حاصل کرتے، آپ چند ہی مہینوں میں ازبر کر لیتے۔ اسی غیر معمولی ذہانت اور علم دوستی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کم سنی ہی میں آپ کا شمار اکابر علما میں ہونے لگا۔ جب آپ فقہ، حدیث اور دیگر ظاہری علوم سے فراغت پا چکے تو اپنے قلب و باطن کی بیداری کے لیے علومِ باطنی کی طرف متوجہ ہوئے۔ چنانچہ آپ عبادت و ریاضت میں ہمہ وقت مشغول رہنے لگے اور محبتِ الٰہی میں آپ کو ایک خاص ذوق و شوق نصیب ہوا۔

حضرت شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے بیت:جب حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کو باطنی بیقراری اور قلبی اضطراب نے بے قرار کر دیا تو آپ کو ایک کامل مرشد کی تلاش ہوئی جو آپ کو روحانیت کے بلند منازل تک پہنچا سکے۔ اسی جستجو میں آپ سیاحت فرماتے ہوئے مکہ معظمہ تشریف لے گئے۔ وہاں ایک صاحبِ حال مجذوب نے آپ کی رہنمائی کی اور ارشاد فرمایا کہ آپ حضرت شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر بیعت کریں۔ چنانچہ آپ نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور سلسلۂ طریقت میں داخل ہو گئے۔

حضرت شیخ یحییٰ مدنی  رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی استعداد اور روحانی ذوق کو دیکھتے ہوئے مختصر عرصے ہی میں آپ کو نہ صرف باطنی منازل طے کروا دیے بلکہ آپ کے روحانی کمالات سے متاثر ہو کر خلافت سے بھی نوازا۔ مزید برآں، آپ کو مقامِ قطبیت جیسا بلند روحانی درجہ عطا فرمایا۔ اس کے بعد اہلِ علم و اہلِ دل حضرات آپ کو نہ صرف شیخ و مرشد کے طور پر ماننے لگے بلکہ "عالمِ ربانی" اور "قطبِ وقت" کے القاب سے بھی یاد کرنے لگے۔

ہندوستان واپسی: علومِ ظاہری و باطنی سے مالا مال ہو کر اور خلافت و اجازت حاصل کرنے کے بعد جب حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ دہلی کے لیے روانہ ہوئے تو آپ کے پیر و مرشد حضرت شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:"پرانی دہلی کا رہنے والا ایک شخص، شیخ اچھا نامی، عالمِ معنی میں ہم سے بیعت کر چکا ہے۔ جب تم دہلی پہنچو تو اس سے خلوص و محبت کے ساتھ ملنا، کیونکہ وہ بھی تمہاری طرح ہمارا مقتدی اور فرزندِ روحانی ہے۔ اور یہ شجرہ و کلاہ بھی اس تک ہماری طرف سے پہنچا دینا۔"چنانچہ جب آپ دہلی پہنچے تو آپ کے مرشد کے دوسرے مرید، شیخ اچھا، نے نہایت ادب و محبت سے آپ کا استقبال کیا اور آپ کے ساتھ والہانہ خلوص کا برتاؤ کیا۔ اس طرح دہلی میں آپ کے روحانی فیوض و برکات کا مرکز قائم ہوا اور مریدین و سالکین کی ایک بڑی جماعت آپ سے وابستہ ہونے لگی۔

حضرت شیخ کا روحانی فیض: حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی جائے سکونت قلعہ دہلی اور جامع مسجد کے درمیان واقع تھی، جو اب پریڈ گراؤنڈ کے نام سے مشہور ہے۔ اسی مقام پر آج آپ کا مزارِ مبارک بھی مرجعِ خلائق ہے۔ یہیں سے آپ نے علومِ ظاہری و باطنی کا ایسا دریا جاری فرمایا جس سے نہ صرف دہلی بلکہ پورے برصغیر کے اہلِ ذوق و طالبانِ علم فیضیاب ہوئے۔

آپ کے ظاہری علوم کے فیض کی یہ کیفیت تھی کہ نہایت وسیع پیمانے پر درس و تدریس کا سلسلہ قائم رہا۔ دور دور سے تشنگانِ علم حاضر ہوتے اور علومِ دینیہ میں مہارت حاصل کرتے۔ آپ نے اپنی علمی و روحانی خدمات کے ساتھ ساتھ کئی گراں قدر تصانیف بھی امت کو عطا کیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

1.    تفسیر قرآن

2.    سورۃ السبیلِ کلیمی( جو تصوف و معرفت کا قیمتی خزانہ ہے)

3.    العشرۃ الکاملہ ( ایک اہم تصوفی کتاب)

4.    کشکولِ کلیمی

5.    مرقع کلیمی

6.    مکتوباتِ کلیمی

7.    تسنیم

ان کے علاوہ بھی آپ نے بے شمار رسائل و کتب تحریر فرمائیں جن میں معرفت، تصوف اور سلوک کو خاص امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ آپ کی یہ علمی و روحانی میراث آج بھی طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

 حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جان آبادی کے چند واقعات: نہایت سادہ اور غریبانہ زندگی گزارتے تھے۔ آپ کی ذاتی آمدنی کا واحد ذریعہ ایک مکان کا کرایہ تھا، جس کی ماہانہ رقم صرف ڈھائی روپیہ بنتی تھی۔ خانقاہ کا لنگر بھی دراصل محبان و مریدین کی نظریاتی نذروں سے چلتا تھا۔ بادشاہ فرخ سیر نے بارہا چاہا کہ آپ کسی جاگیر یا وظیفہ کو قبول فرما لیں، لیکن آپ نے ہمیشہ انکار فرمایا اور دنیاوی اختلاط و جاہ و منصب سے گریز فرمایا۔

آپ بادشاہوں اور امراء کی صحبت سے احتراز فرماتے اور صرف اپنے مخلصین و مریدین کی مجالس میں وقت گزارتے۔ سماع سے آپ کو بے حد شغف تھا، مگر اس کے باوجود مریدین کے علاوہ کسی غیر کو اپنی محفلِ سماع میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیتے تھے۔

ایک مرتبہ آپ محفلِ سماع میں مشغول تھے کہ دربان نے اطلاع دی کہ ایک نوجوان، نظام الدین نامی، حاضر ہے اور اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ دربان نے عرض کیا کہ "آپ تو کسی غیر کو اجازت نہیں دیتے"۔ حضرت نے فرمایا:"وہ غیر نہیں ہے، اسے بلا لو۔"چنانچہ وہی نوجوان نظام الدین، جو اس دور کے مقتدر علما میں شمار ہوتے تھے، حضرت کے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے آپ کے مرید ہو گئے۔ بعد ازاں یہی حضرت نظام الدین آپ کے خلیفۂ اعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔ حضرت شیخ نے اپنے خلیفۂ اعظم کو ولایتِ دکن بھی عطا کی اور اورنگ آباد بھیج دیا ۔ وہیں ان کا مزار مبارک آج بھی اہلِ دل کے لیے مرکزِ فیوض و برکات ہے۔

آپ کے خلفائے کرام: اگرچہ کی خلفاء کا دائرہ بہت وسیع ہے لیکن کچھ نام ان میں سے زیادہ مشہور ہیں جیسے حضرت مولانا نظام الدین  اورنگ ابادی علیہ الرحمہ حضرت محمد ہاشم علیہ الرحمہ حضرت مولانا شاہ جمال الدین جی پوری علیہ الرحمہ ۔ اس کے علاوہ شاہ نانو جن علیہ الرحمہ جن کا مزار مسجد فتح پوری دہلی میں ہے اور حضرت مولانا عبدالمجید علیہ الرحمہ خواجہ یوسف علیہ الرحمہ خواجہ شریف کی مزارات حیدرآباد دکن میں ہیں ۔

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جان کا وصال: حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی عمر جب 81 برس کی ہوئی تو مختصر سی علالت کے بعد آپ کا وصال دہلی شہر میں 24 ربیع الاول 1142 ہجری بمطابق 1730ء میں ہوا۔ آپ کا جسدِ مبارک آپ کی خانقاہ کے صحن میں دفن کیا گیا۔ یہ خانقاہ جامع مسجد دہلی اور قلعہ شاہجہان آباد کے درمیان واقع تھی، جو آج بھی اہلِ محبت و عقیدت کے لیے زیارت گاہ خاص و عام ہے۔

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی کا سالانہ عرس :حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کا سالانہ عرس ہر سال 24 ربیع الاول کو آپ کے مزار مبارک پر دہلی میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر دور و نزدیک سے عقیدت مند، علما، مشائخ اور عام زائرین حاضر ہو کر قرآن خوانی، ذکر و اذکار، نعت و سماع کی محافل میں شرکت کرتے ہیں اور آپ کے فیوض و برکات سے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ (بشکریہ: کریم  پاشاہ سہروردی قادری حفظہ اللہ )



حضرت شیخ شہاب الدين عمر سہروردی علیہ الرحمہ

 

خاندان، ابتدائی زندگی:ابو حفص، شیخ شہاب الدين عمر سہروردی علیہ الرحمہ  شعبان 539 ہجری، 1145ء میں ایرانی صوبے زنجان کے قصبے، سہرورد میں پیدا ہوئے۔والدین نے شہاب الدین عمر نام تجویز کیا، جب کہ اپنی کنیت ابوحفص اور شیخ الشیوخ کے لقب سے معروف تھے۔ابنِ خلکان کے مطابق آپ کا نسب 16واسطوں سے خلیفۃ الرسول، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے، یوں آپ علیہ الرحمہ  نسباً صدیقی تھے۔آپ علیہ الرحمہ  معروف صوفی بزرگ اور عالمِ دین، حضرت ابو نجیب سہروردی علیہ الرحمہ  کے بھتیجے تھے، جو بغداد کی جامعہ نظامیہ میں پڑھاتے بھی تھے۔شیخ شہاب الدین علیہ الرحمہ  اپنے چچا کے پاس بغداد آگئے اور پھر اُن ہی کی نگرانی میں تعلیمی و روحانی سفر کا آغاز کیا۔

تعلیمی میدان میں کام یابیاں:آپ اپنے چچا کی سرپرستی میں جامعہ نظامیہ میں داخل ہوئے اور تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر علوم کے درس لینے شروع کردئیے۔ امام بیہقی علیہ الرحمہ، علامہ خطیب بغدادی علیہ الرحمہ اور امام قشیری علیہ الرحمہ جیسے جید علماء سے حدیث کا درس لیا۔ وہیں اپنے چچا کے ساتھ شیخ عبد القادر جیلانی کی علمی و روحانی مجالس میں بھی شرکت کرتے رہے۔پھر ایک وقت وہ بھی آیا، جب آپ علیہ الرحمہ ، سلطان مسعود سلجوقی اور خلیفہ بغداد کی استدعا پر جامعہ نظامیہ کے سربراہ مقرر ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ علیہ الرحمہ  حصولِ علم کے لیے اسکندریہ بھی گئے۔

مشہور فقیہ و محدث، حافظ ابنِ عساکر اور امام فخرالدین ابو علی واسطی علیہ الرحمہ  آپ کے شاگرد تھے۔آپ علیہ الرحمہ  کا علم حدیث میں یہ مقام تھا کہ اس زمانے کے بڑے بڑے محدثین آپ علیہ الرحمہ  کے حوالے سے احادیث روایت کیا کرتے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ  فقہی لحاظ سے حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ  کے پیروکار تھے اور اسی فقہ کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔ دُور دُور سے طلبہ اور راہِ سلوک کے متلاشی آپ کے ہاں کھنچے چلے آتے۔مولانا جامی  علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ آپ علیہ الرحمہ  شیخ الشیوخ تھے، دُور و نزدیک سے لوگ مسائل دریافت کرنے آپ  علیہ الرحمہ کے پاس آتے۔آپ  علیہ الرحمہ  کو فقہ میں اجتہاد کا درجہ حاصل تھا۔

روحانی مقام:آپ اپنے چچا، حضرت شیخ ضیاء الدین ابو نجیب سہروردی علیہ الرحمہ  کے مرید تھے، جن کے روحانی مقام کے لیے شاید اِتنا بتانا کافی ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ  بھی اُن کی صحبت میں رہے۔’’ آداب المریدین‘‘ اُن کی مشہور کتاب ہے۔نیز، آپ علیہ الرحمہ  ،حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ  ، حضرت نجم الدین کبریٰ علیہ الرحمہ  کی مجالس میں بھی شریک ہوتے رہے۔محی الدین ابنِ عربی علیہ الرحمہ  سے بھی آپ علیہ الرحمہ  کی ایک ایسی ملاقات کتب میں درج ہے، جس میں دونوں کے درمیان کوئی گفتگو نہیں ہوئی، بس ایک دوسرے کو دیکھا، کچھ دیر قریب بیٹھے اور پھر اُٹھ کر اپنی اپنی راہ ہولیے۔ 

شیخ شہاب الدین علیہ الرحمہ  سے ابنِ عربی علیہ الرحمہ  کے بارے میں سوال ہوا، تو آپ علیہ الرحمہ  نے فرمایا’’ وہ حقائق کے ایسے سمندر ہیں کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔‘‘ اور ابنِ عربی علیہ الرحمہ  نے فرمایا،’’ شیخ شہاب الدین علیہ الرحمہ  ایک ایسے فرد ہیں، جو سرتاپا سنتِ نبوی ﷺاور عاداتِ احمدیﷺ سے بَھرے ہوئے ہیں۔‘‘ تمام سوانح نگاروں نے یہ بات بہت وضاحت سے لکھی ہے کہ آپ  علیہ الرحمہ سُنتِ رسولﷺ کے بہت پابند تھے اور مریدین کو بھی سختی سے شریعت کی پابندی کی ہدایت کرتے۔

زندگی بھر کوئی ایسا جملہ یا کام نہیں کیا، جس پر خلافِ شریعت ہونے کا حکم لگایا جا سکتا ہو۔اِس معاملے میں اِس قدر محتاط تھے کہ ابنِ عربی علیہ الرحمہ  سے تمام تر عقیدت و محبت کے باوجود اپنے مریدین کو اُن کی صحبت سے منع فرماتے کہ اُن کی باتوں کی گہرائی تک پہنچنا ہر ایک کے بس میں نہیں تھا اور ناسمجھی، گم راہی کا سبب بن سکتی تھی۔

آپ علیہ الرحمہ  نے ایسے شخص کو دین کا چور اور ڈاکو قرار دیا، جو سنتِ رسولﷺ پر عمل پیرا نہ ہو۔ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ  نے ارشاد فرمایا، ’’حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  کا مقام سنتِ نبوی کے اتباع کے نور سے آراستہ ہے۔‘‘ گو کہ سلسلۂ سہروردیہ کے بانی تو حضرت شیخ ضیاء الدین ابو نجیب سہروردی علیہ الرحمہ  ہیں، مگر اِس سلسلے کو حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  کی ذاتِ بابرکات سے ایسی مقبولیت اور وسعت حاصل ہوئی کہ اب یہ سلسلہ عوامی طور پر آپ علیہ الرحمہ  ہی سے منسوب ہو گیا ہے۔

آپ علیہ الرحمہ  کی حیات ہی میں اِس سلسلے نے عراق، شام، حجاز، ایران اور برصغیر پاک و ہند میں بہت ترقی کی۔ قاضی حمید الدین ناگوری علیہ الرحمہ  اور شیخ بہاء الدین زکریا علیہ الرحمہ  جیسے مشایخ آپ علیہ الرحمہ  ہی کے خلفاء میں شامل تھے۔ اِس کے علاوہ، حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ  اور حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ  نے بھی آپ علیہ الرحمہ  سے فیض حاصل کیا۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا علیہ الرحمہ ء علیہ الرحمہ  کی روایت کے مطابق، شیخ بہاء الدین زکریا علیہ الرحمہ  آپ علیہ الرحمہ  کی صحبت میں محض سترہ روز رہے اور خرقۂ خلافت حاصل کرلیا۔

عادات و اطوار:امام تاج الدین سبکی علیہ الرحمہ  نے اپنی معروف کتاب’’ طبقاتِ شافعیہ‘‘ میں آپ علیہ الرحمہ  سے متعلق لکھا ہے،’’ شیخ الشیوخ اِس ظاہری تجمل اور عزت کے باوجود نہایت فقر اور تنگ دستی کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے اور کسی بھی طرح دنیاوی مال و منال قبول نہیں فرماتے تھے۔‘‘ نوافل میں طویل قرآت کرتے اور بیش تر اوقات روزے سے ہوتے۔ آپ علیہ الرحمہ  نے کئی حج بھی کیے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ  کی روایت کے مطابق، آپ علیہ الرحمہ  کے ساتھ آخری حج میں، جو 628 ہجری میں کیا تھا، 12 ہزار افراد شریک تھے۔ 

ابنِ خلکان کا کہنا ہے،’’ آپ علیہ الرحمہ  کے زمانے میں کوئی آپ  علیہ الرحمہ کے برابر نہیں تھا۔‘‘حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ  نے فرمایا،’’ درویشی تو اُسی کیفیت کا نام ہے، جو شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  کو حاصل تھی۔حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ  بہت سے بزرگوں سے ملے۔اُن کا ارشاد ہے،’’ مَیں نے حضرت شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  کو جس قدر عبادت میں مشغول دیکھا، ایسا اپنی سیاحت میں کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘

تصوف و سلوک اور روحانی پیشواؤوں میں آپ علیہ الرحمہ  کا کوئی بھی ثانی نہ تھا، آپ کے متعلق ابنِ خلکان کا کہنا ہے:’’آپ کے زمانے میں کوئی بھی آپ  کے برابر نہیں تھا۔‘‘ غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے آپ کے متعلق فرمایا تھا: ’’یا عمر انت آخر المشہورین بالعراق‘‘ کہ اے عمر! تم سرزمین عراق کے آخری مشہور انسان ہو۔حضرت شہنشاہِ بغداد سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد ملک عراق میں کوئی بھی آپ کا ہم پلہ بزرگ پیدا نہ ہوا۔ اطراف و اکناف سے کبار مشائخ اور جید علمائے حقہ آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوتے۔ پورا عالم بالعموم اور برصغیر (پاک وہند) بالخصوص آپ کے فیض سے مستفیض ہوا۔

 ایک مقام پر آپ علیہ الرحمہ  نے ارشاد فرمایا:’’ خلفائی فی الہند کثیرۃ ‘‘یعنی کہ میرے خلفاء کی زیاہ تعداد ہندوستان میں ہے۔

خلفائے کرام : آپ کے چند مشہورخلفاء حضرات میں  شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، مصلح الدین شیخ سعدی شیرازی، شیخ نجم الدین کبریٰ، شیخ فرید الدین عطار، سلطان سخی سرور  رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے نام سرِ فہرست ہیں۔ اِن کے علاوہ، حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمۃ اور حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ بھی کی زیارت سے مشرف ہوئے اور فیض حاصل کیا۔آپ کی تصنیف ’’عوارف المعارف‘‘ جو سلوک و تصوف کا بیش بہا خزانہ ہے وہ امہات الکتب میں شامل ہے۔

آپ علیہ الرحمہ  بہت سخی تھے، جو ہدیے وغیرہ آتے، لوگوں میں تقسیم کردیتے، یہی وجہ ہے کہ جب وفات پائی، تو گھر سے محض8 درہم نکلے۔حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ  سے روایت ہے،’’ جب مَیں بغداد پہنچا، تو کئی روز تک حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  کی صحبت میں رہا۔ اِس دَوران کوئی دن ایسا نہ گزرتا، جب آپ علیہ الرحمہ  کی خانقاہ میں دس بارہ ہزار دینار کے ہدیے نہ آتے۔ تاہم، آپ علیہ الرحمہ  وہ سب لوگوں میں تقسیم کردیتے اور اپنے پاس کچھ نہ رکھتے۔‘‘آپ  علیہ الرحمہ اکثر سبز چادر اوڑھے رکھتے تھے۔

تصوف کی درسی کتاب: شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  نے ایک تحقیق کے مطابق 33 کتب لکھیں، جن میں ’’ عوارف المعارف‘‘ بہت مشہور ہوئی۔اِس کتاب میں تصوف یا طریقت کی تعلیمات بیان کی گئی ہیں۔ چوں کہ آپ علیہ الرحمہ  حدیث کے بھی بڑے عالم تھے، اِس لیے اِس کتاب میں احادیثِ مبارکہؐ کا بہت کثرت سے ذکر کیا گیا ہے۔اہلِ طریقت میں اِس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اِس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ خانقاہوں میں اس کا باقاعدگی سے درس دیا جاتا تھا اور مرید اپنے شیخ سے اسے سبقاً پڑھا کرتے تھے۔آج بھی اِس کتاب کے مطالعے کے بغیر علمِ طریقت پر بات مکمل نہیں ہوسکتی۔ اِس کے کئی اردو تراجم دست یاب ہیں، جن میں شمس بریلوی کا ترجمہ بہت معیاری ہے۔

سفارت کاری: حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  خانقاہ ہی تک محدود نہیں رہے، بلکہ آپ  علیہ الرحمہ  عالمِ اسلام کے معاملات پر بھی گہری نظر رکھتے اور اصلاحِ احوال کے لیے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرتے۔آپ علیہ الرحمہ  کے سلاطین اور امراء سے تعلقات تھے، مگر اِن تعلقات کو کبھی دنیاوی فوائد کے حصول کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ خلقِ خدا کی بہتری کے لیے انھیں استعمال میں لاتے۔ 

آپ علیہ الرحمہ  نے مسلم حکم رانوں کی جانب سے سفارت کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔خلیفہ الناصر کی طرف سے سلجوق حاکم، علاؤ الدین کیقباد کے قونیہ دربار میں تین بار سفیر بن کر گئے۔نیز، آپ علیہ الرحمہ  ،خلیفہ بغداد کی جانب سے سلطان محمد خوارزم شاہ سے بھی ملے تاکہ اُسے بغداد پر حملہ آور ہونے سے روک سکیں، مگر وہ اپنے ارادے سے باز نہ آیا۔ اِس پر آپ علیہ الرحمہ  نے اُس کے لیے بد دُعا کی۔ کہا جاتا ہے کہ اچانک بغیر موسم کی برف باری شروع ہوگئی، جو بیس روز تک جاری رہی، اس پر خوارزم شاہ بغداد پر حملہ کیے بغیر ہی واپس چلا گیا۔

حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے:’’میں نے حضرت شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ کو جس قدر عبادت میں مشغول دیکھا، ایسا اپنی سیاحت میں کسی کو نہیں دیکھا۔



وفات، اولاد: شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  یکم محرم 632ہجری، بروز بدھ کو 93 برس کی عمر میں اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے۔آپ علیہ الرحمہ  کا مزار بغداد میں مرجعِ خاص وعام ہے۔مختلف کتب میں آپ علیہ الرحمہ  کی کنیت ابو عماد الدین، ابو حفص، ابوعبداللہ اور ابو نصر درج ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ علیہ الرحمہ  کے کئی صاحب زادے تھے، تاہم اُن کے حالاتِ زندگی دست یاب نہیں۔ البتہ، مختلف ممالک میں ایسے بہت سے خاندان صدیوں سے موجود ہیں، جو اپنا نسب آپ علیہ الرحمہ  سے جوڑتے ہیں، اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ علیہ الرحمہ  کی نسل آگے بھی چلی ہے۔ واللہ اعلم

ایک غلط فہمی: سہرورد کے حوالے سے ایک اور شخصیت بھی معروف ہیں، جن کا نام شیخ شہاب الدین سہروردی ہی ہے۔ ناموں کی اِس مماثلت سے بعض افراد دھوکا کھا جاتے ہیں۔ ایک تو حضرت ابو حفص شیخ شہاب الدین عُمر سہروردی علیہ الرحمہ  ہیں، جن کا تذکرہ آپ ابھی پڑھا، جب کہ دوسرے ابو الفتوح شہاب الدین سہروردی ہیں، جنہیں بعض نظریات کی وجہ سے خلیفہ کے حکم سے پہلے حلب میں قید رکھا گیا اور پھر 38 برس کی عمر میں پھانسی دے دی گئی۔ ان کی کتاب ’’حکمۃ الاشراق‘‘ معروف ہے۔(ماخوذ وکیپیڈیا)

امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

 

تعارف:آپ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن خطاب، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب نویں پشت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے قبل چالیس مرد اور گیارہ عورتیں نور ایمان سے منور ہوچکی تھیں۔آپ رضی اللہ عنہ ’’عام الفیل‘‘ کے تقریباً 13 سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور نبوت کے چھٹے سال پینتیس سال کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہوکر حرم ایمان میں داخل ہوئے۔

فاروق اعظم کا نسب : آپ رضی اللہ عنہ کا نسب کچھ یوں   ہے: ’’عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزى بن ریاح بن عبد اللہ بن قُرْطْ بن رَزَاح بن عدی بن كعب بن لؤی قرشی عدوی ۔‘‘کعب بن لؤی پر جاکر نویں   پشت میں   آپ رضی اللہ عنہ کا نسب  حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم   کے نسب سے جا ملتا ہے۔( اسد الغابۃ، عمر بن خطاب، ج۴، ص۱۵۶)

فاروقِ اعظم کے نسب کی افضلیت:حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو یہ عظیم سعادت حاصل ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں   پشت میں   حضرت سیدنا  کعب بن لؤی رضی اللہ عنہ پر جاکر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم   کے نسب مبارک سے جا ملتا ہے۔

آپ کی والدہ کا نسب نامہ: آپ کی والدہ کا مکمل نام حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر مخزوم ہے۔ آپ ابوجہل کی چچازاد بہن ہیں   کیونکہ ہاشم اور ہشام سگے بھائی ہیں  اور ابوجہل اور حارث ہشام کی اولاد ہیں  ، جب کہ ہاشم حنتمہ کے والد اور فاروقِ اعظم کے نانا ہیں  ۔لہٰذا ابو جہل آپ کا سگا بھائی نہیں   بلکہ آپ کے چچا یعنی ہشام کا بیٹا ہے۔(اسد الغابۃ، عمر بن خطاب، ج۴، ص۱۵۶ ، تہذیب الاسماء ، عمر بن خطاب، ج۲، ص۳۲۴)

فاروق اعظم کے قبیلے کی شرف یابی:امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ قبیلہ عدی بن کعب سے تعلق رکھتے تھے جو قریش کا عدنانی قبیلہ تھا۔ اس قبیلے کی شرافت وبزرگی نے اسے ہاشم، امیہ، تیم اور مخزوم جیسے ممتاز قبائل میں   شامل کردیا تھا۔اگرچہ اس قبیلے کے پاس کوئی مذہبی یا سیاسی منصب ومرتبہ نہیں   تھا اور نہ ہی مال ودولت میں   وہ ان قبیلوں   کے مساوی تھے البتہ عزت ، شرف اور بزرگی میں   وہ قبیلہ بنی عبد شمس کے مقابل تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان دونوں   قبائل میں   سالہا سال سے منافرت (دشمنی)قائم تھی۔آپ کے قبیلے والے تعداد میں   تھوڑے اور بڑے قبائل کے حریف نہ ہونے کی وجہ سے علم وحکمت و دور اندیشی میں   اپنا ایک خاص مقام ومرتبہ رکھتے تھے۔ نیز امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو آپ کے اسی علم وحکمت کے سبب سفارت کاری اور عدالت کے ضروری عہدے دے دیے گئے۔یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے خاندان میں   حضرت سیدنا  زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیات پیدا ہوئیں   جنہوں   نے اپنے حکمت ودانش مندی سے بت پرستی ترک کردی، بتوں   کا ذبیحہ کھانا چھوڑ دیااور پکے موحد (  اللہ کی توحید کے قائل)بن گئے ) اخبار مکۃ للازرقی ، ج۲، ص۲۵۸، ریاض النضرۃ، ج۲، ص۳۳۷(

فاروق اعظم کو بارگاہِ رسالت سے کنیت عطا ہوئی:حضرت سیدنا  عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے بدر کے دن اعلان فرمایا کہ تم میں   سے جو کوئی عباس سے ملے تو اُن سے اعراض کرے کیونکہ انہیں   ہم سے جنگ کرنے کے لیے زبردستی لایا گیا ہے۔‘‘حضرت سیدنا  ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو فرط جذبات سے کہنے لگےکہ ’’ہم اپنے آباء، بھائیوں   اور رشتہ داروں   کو تو قتل کریں   اور عباس کو چھوڑ دیں  ہم ضرور اسے قتل کریں   گے۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم   تک جب یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ’’ یعنی اے ابو حفص!کیا رسول اللہ کے چچا پر تلواراٹھائی جائے گی؟‘‘

آپ رضی اللہ عنہ نے جلال میں   ارشاد فرمایا: ’’یارسول اللہ ﷺ! مجھے حکم ارشاد فرمائیے میں   ابو حذیفہ کی گردن اڑادوں   گا۔‘‘بہرحال بعد میں   حضرت سیدنا  ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اس بات پر بہت شرمندہ ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھےکہ ’’بدر کے دن جو بات میں   نے کی تھی اس کے سبب میں   خوف زدہ رہتا ہوں   اور خواہش کرتا ہوں   کہ کاش! مجھے شہادت نصیب ہوجائے اور میری شہادت اس بات کا کفارہ ہوجائے ۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ کی یہ خواہش پوری ہوگئی اور آپ رضی اللہ عنہ جنگِ یمامہ میں   شہید ہو گئے۔

جنگ بدر کے دن حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو اسی کنیت ’’ابو حفص ‘‘ کے ساتھ پکارااور آپ رضی اللہ عنہ نے خود ارشاد فرمایا: ’’یہ وہ پہلا دن تھا جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے خود مجھے ابو حفص کنیت عطا فرمائی۔‘‘( مستدرک  حاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر مناقب ابی حذیفہ، ج۴، ص۲۳۹، حدیث:۵۰۴۲)

حلیہ مبارکہ:  آپ دراز قد، بھاری جسم اور سفید رنگت والے جبکہ داڑھی مبارکہ گھنی اور گھنگریالی تھی۔(فیضانِ فاروقِ اعظم، ج1،ص59تا60) 

آپ  رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد سات برس تک مکہ میں قیام کے دوران اسلام کی ترویج و اشاعت اور مسلمانوں کی مدافعت میں قریش سے نبردآزما رہے،مصائب و مشکلات کو خندہ پیشانی،عزم و ہمت سے برداشت کرتے رہے،رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا اثر تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طبیعت کی شدت شریعت اسلام کے تابع ہو چکی تھی،یہی وجہ تھی کہ جب آپ کے سامنے غضب الہی سے متعلق آیات تلاوت کی جاتیں تو آپ پر گریہ طاری ہو جاتا تھا،آپ کی شخصیت بیک وقت سخت گیری اور رقت و نرمی کا مظہر تھی، آپ قرآنی حکم اشداء علی الکفارورحماء بینھم کی عملی تصویر تھے،آپ رضی اللہ عنہ جب اپنی رائے کو صحیح و درست سمجھ لیتے تو کمال جرات سے اسے پیش کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حدیث رسول کے حوالے سے کہا کہ’’عمر کی زبان پر اللہ نے حق کو جاری کردیا تھا۔یہی وجہ سے کہ شراب کی حرمت،مسلمان عورت کے لیے پردے کا حکم،غزوہ بدر کے اسیروں کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید،رئیس المنافقین عبداللہ ابن سلول کے نماز جنازہ نہ پڑھے کے حوالے سےآپ کی رائے کے موافق وحی الہٰی کانازل ہونا، برات اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا اور مقام ابراہیم کو مصلٰی بنانے سمیت کئی معاملات میں27 آیات کو اللہ کریم نے آپ کی رائے کے موافق نازل فرمائیں۔

آپ رضی اللہ کے دور میں مفتوحہ علاقے کا رقبہ ۲۲۵۱۰۳۰؍مربع میل تھا،جن میں شام،مصر،جزیرہ، خوزستان،عراق، عجم،آرمینیہ، آذر بائیجان،فارس،کرمان،خراسان، بلوچستان اوربیت القدس (فلسطین) سمیت کئی اہم علاقے شامل تھے۔دور فاروقی میں نظام حکومت کو چلانے اور فیصلہ سازی کے حوالے سے حضرت عثمان،حضرت علی،حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنھم اور انصار کے نمائندوں پر مشتمل مجلس شورٰی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا،جب کہ تمام مقبوضہ ممالک کو ۸؍ صوبوں مکہ،مدینہ،شام، جزیرہ،بصرہ،کوفہ،مصر اور فلسطین میں تقسیم کرکے گورنروں کی تقرری کے علاوہ میر منشی،کلکٹر،پولیس افسر،صاحب بیت المال اور منصف (قاضی) کو بھی متعین کیا گیا،اسی طرح عوام کے مسائل کے بروقت حل کے لیے اضلاع اور تحصیلوں میں بھی مزید تقسیم عمل میں لائی گئی تھی،آپ اپنے دور خلافت میں سوائے پہلے سال کے ہر سال امارت حج خود فرمایا کرتے تھے، ان ایام حج میں تمام عمال مکہ میں حاضر ہوتے تھے،اس موقع پر امیرالمومنین کھلی کچہری لگاتے اور عوام کی شکایات کو سن کر اس کے ازالہ کے فرامین جاری فرماتے تھے۔خراج کے نظم و نسق کے حوالے سے صیغہ خراج،محکمہ قضاء،محکمہ افتاء،پولیس،صیغہ فوج،جیل خانہ جات،بیت المال،صیغہ تعلیم،صیغہ امور دینیہ جس کے ذریعے مکاتب کاقیام،علماء و فقہاء کا تقرر اور ان کی تنخواہوں سمیت دیگر ضروریات کا انتظام،ائمہ کاتقرر اور درس و تدریس کا انتظام کیا جاتا تھا، محکمہ برائے مفاد عامہ کے قیام کے ساتھ نئے شہر بصرہ،کوفہ،فسطاط،موصل اور جیزہ کی آباد کاری بھی ہوئی، آپ نے تقویم اسلامی کی ابتداء ہجرت مدینہ کی بنیاد پر یکم محرم الحرام سے کروائی،جب کہ مفتوحہ علاقوں میں۹۰۰؍ جامع مساجد اور ۴۰۰۰؍ عام مساجد تعمیر کروا کر اس میں تعلیم و تدریس کا انتظام کروایا جب کہ حرمین شریفین کی توسیع بھی آپ کے دور خلافت میں ہوئی۔تاریخ کی سب سے پہلی مردم شماری،کرنسی سکہ کا اجراء،مہمان خانوں(سرائے) کی تعمیر،لاوارث بچوں کی خوراک،تعلیم و تربیت کا انتظام اور وطائف کا اجراء دور فاروقی میں کیا گیا۔اسی طرح عہد فاروقی میں ذمی اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی،مفتوحہ قوموں کو جان،مال،مذہب کی امان دی جاتی تھی،ان کی عزت وآبرو مسلمان کی عزت و آبرو کی طرح محفوظ تھی۔

فاروقِ اعظم پر قاتلانہ حملہ:ایک بار سیدنا  مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک غلام کے بارے میں   سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ  کو بتایا جو کئی ہنرجانتا تھا، آپ نے اسے مدینہ منورہ میں   داخل ہونے کی اجازت دے دی۔سیدنا  مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ   اس سے ماہانہ سو ۱۰۰درہم لیا کرتے تھے۔ اس نے بارگاہِ فاروقِ اعظم میں   حاضر ہوکر شکایت کی تو آپ نے اس سے پوچھا: ’’تم کیا کام کرتے ہو؟‘‘

اس نے کہا: ’’چکیاں   بناتا ہوں  ۔‘‘فرمایا: ’’اپنے مالک کے معاملے میں     اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔‘‘بعض روایات میں   یوں   ہے کہ آپ نے فرمایا:’’یہ چار۴ درہم تمہارے لیے زیادہ نہیں   ہیں   کیونکہ اس علاقے میں   تم ہی چکیاں   بنانا جانتے ہو، تمہارے علاوہ یہ کام کوئی نہیں   جانتا۔‘‘سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا یہی اِرادہ تھا کہ بعد میں   سیدنا  مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو اس کے معاملے میں   تخفیف کرنے کا فرمائیں   گے لیکن اسے یہ بات سخت ناگوار گزری اور اس نے آپ سے انتقام لینے کا سوچ لیا۔ایک روایت میں   یوں   ہے کہ سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے لیے چکی بنانے کا فرمایاتو اس نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا: ’’میں   تمہارے لیے ایسی چکی بناؤں   گا جسے ہمیشہ لوگ یاد رکھیں   گے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ’’اس غلام نے مجھے ابھی دھمکی دی ہے۔‘‘ بہرحال ابولؤلؤ نے وہاں   سے جانے کے بعد ایک دو۲ منہ اورتیز دھار والا خنجر تیار کیا، پھر اسے زہر آلود کرکے رکھ لیا۔

بعض روایات میں   یوں   ہےکہ سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے جب نماز فجر کے لیے نکلتے تو صدائے مدینہ لگاتے ہوئے نکلتے یعنی راستے میں   لوگوں   کو نماز کے لیے جگاتے ہوئے آتے، ابولؤلؤ راستے میں   ہی چھپا ہواتھا اور اس نے موقع دیکھ کر آپ پر خنجر کے تین قاتلانہ وار کردیے جو مہلک ثابت ہوئے۔ جبکہ بعض روایات میں   یوں   ہے کہ سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اعلان فرماتے: ’’اَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ یعنی اپنی صفیں   سیدھی کرلو۔‘‘پھر نماز شروع کرتے۔ابولؤلؤ بھی صف میں   موجود تھا، جیسے ہی سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کی تو اس نے آپ پر اس خنجر سے حملہ کیا اور تین ۳شدید وار لگائے۔ آپ زخمی حالت میں   نیچے تشریف لے آئے۔( تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۴۱۱، طبقات کبری، ج۳، ص۲۶۲)

قاتل نے خود کشی کرلی: ابولؤلؤ آپ کو زخمی کرکے بھاگ کھڑا ہوا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اس کتے کو پکڑو، اس نے مجھے قتل کردیا ہے۔‘‘ پوری مسجد میں   شور برپا ہوگیا، لوگ اس کے پیچھے بھاگے تو اس نے تقریباً بارہ افراد کو زخمی کردیا، جن میں   سے چھ ۶ افراد بعد میں   شہید ہوگئے، ایک صاحب نے اس پر کپڑا ڈال کر اسے دبوچ لیا۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ اب میں   فرار نہیں   ہوسکتا تو اس نے اسی خنجر سے اپنے آپ کو قتل کردیا۔( طبقات کبری، ج۳، ص۲۵۹)

امیر کی اطاعت میں   ہی بہتری ہے:حضرت سیدنا  عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے تمام حکمرانوں   کو حکم دے دیا تھا کہ ’’ہمارے پاس مایوس کن عجمی کافروں   کو نہ لایا کرو۔‘‘جب ابولؤلؤ نے آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کردیا تو آپ نے پوچھا: ’’یہ کون ہے؟‘‘ بتایا گیا کہ سیدنا  مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام ابولؤلؤ ہے۔ فرمایا: میں   نہ کہتا تھا کہ مایوس کن عجمی غلاموں   کو ہمارے پاس نہ لایا کرو، لیکن افسوس تم لوگ مجھ پر غالب آگئے۔‘‘( طبقات کبری، ذکر استخلا ف عمر، ج۳، ص۲۶۵)

سیدنا  فاروقِ اعظم کو گھر لایا گیا:جب سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ شدید زخمی ہوگئے تو سیدنا  عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مختصر سورتیں   پڑھ کر تمام لوگوں   کو نماز فجر پڑھادی اور سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو گھر لایا گیا۔آپ نے فرمایا: ’’میرے لیے کسی طبیب کو لاؤ۔‘‘ ایک طبیب کو لایا گیا اس نے پوچھا:’’آپ کو کیا چیز پسند ہے؟‘‘فرمایا: ’’نبیذ۔‘‘ جب آپ کو نبیذ پلایا گیا تو وہ زخموں   کے ذریعے باہر آگیا، لوگوں   نے یہ سمجھا کہ شاید زخموں   سے خون وغیرہ نکلا ہے۔ لہٰذا انہوں   نے آپ رضی اللہ عنہ کو دودھ پلایا تو وہ بھی زخموں   سے باہر آگیا۔ طبیب نے کہا: ’’میرے خیال میں   یہ شام تک زندہ نہ رہ سکیں   گے، آپ لوگوں   نے جو معاملات کرنے ہیں   کرلیں  ۔‘‘ (طبقات کبری، ج۳، ص۲۵۹)

فاروقِ اعظم کا قاتل کون تھا؟امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے شخص کا نام ابولؤلؤ فیروز تھا، جلیل القدر صحابی حضرت سیدنا  مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا یہ غلام تھا، جنگ نہاوند کے قیدیوں   میں   سے تھا، اس کے بارے میں   مختلف اقوال ہیں   البتہ یہ بات متحقق ہے کہ یہ مسلمان نہیں   تھا بلکہ غیر مسلم تھا۔ علامہ طبری علیہ الرحمہ   فرماتے ہیں   کہ ابولؤلؤ نصرانی تھا جبکہ علامہ ذہبی علیہ الرحمہ  کی روایت کے مطابق وہ مجوسی تھا۔( طبقات کبری،ذکر استخلاف عمر،ج۳،ص۲۶۴،تاریخ طبری  ،ج۲،ص۵۵۹/ سیر اعلام النبلاء،عمر بن الخطاب، ج۱،ص۵۲۹، الرقم: ۳)

فاروقِ اعظم کاشکر ادا کرنا:زخمی ہونے کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو گھر لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا  عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ وہ پتا کرکے آئیں   کہ ان کا قاتل کون ہے؟وہ گئے اورلوگوں   سے معلوم کرنے کے بعد آکر عرض کیا کہ :’’آپ کا قاتل سیدنا  مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابولؤلؤ ہے اور اس نے دیگر لوگوں   کو بھی زخمی کیا ہے اور بالآخر اپنے آپ کو مار کر خود کشی کرلی۔‘‘یہ سن کر سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا  شکر ہے کہ جس نے میرے قاتل کو اپنے بارگاہ کا کبھی ساجد نہ بنایا۔‘‘(طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۲۶۳)

سیدنا  کعب کی شہادت کی یاددہانی:جب طبیب نے اس بات کی تصدیق کردی کہ آپ شہید ہوجائیں   گے تو وہاں   موجود حضرت سیدنا  کعب احبار علیہ الرحمہ  نے سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو اُن کی شہادت کی یاددہانی کراتے ہوئے عرض کیا: ’’حضور! یاد کریں   میں   نے آپ سے نہ کہا تھا کہ   اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور شہادت عطا فرمائے گا۔لیکن آپ نے فرمایا تھا کہ میرے نصیب میں   شہادت کی موت کہاں  ؟کیونکہ میں   تو یہاں   جزیرہ عرب میں   موجود ہوں  ۔‘‘( طبقات کبری، ج۳، ص۲۵۹)

عبدالرحمن بن عوف نے نماز فجر پڑھائی:امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے چونکہ نماز فجر ابھی شروع ہی کی تھی کہ آپ کو زخمی کردیا گیا اس لیے کسی نے بھی نماز ادا نہ کی تھی، سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے حکم سے حضرت سیدنا  عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں   کو مختصر سورتوں   کی تلاوت کرکے نماز فجر پڑھائی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سورۂ عصر اور سورۂ کوثر کی تلاوت فرمائی۔آپ رضی اللہ عنہ چونکہ سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھیوں   میں   سے تھے اس لیے آپ پر غم کی شدید کیفیت طاری تھی جسے دوران نماز آپ کی تلاوت میں   بھی دیگر لوگوں   نے محسوس کیا ۔(طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۲۵۹، ۲۶۳)

ہماری عمریں   بھی فاروقِ اعظم کو لگ جائیں  :حضرت سیدنا  جعفر بن محمد علیہ الرحمہ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو بدری مہاجرین وانصار تمام لوگ جمع ہوگئے۔ سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عہ نے حضرت سیدنا  عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’تم باہر جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کیا مجھ پر حملہ ان کی رضا اور مشورے سے ہوا ہے؟‘‘

سیدنا  عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے باہر آکر پوچھا تو تمام لوگوں   نے عرض کیا:  اللہ کی قسم! یہ سب کچھ ہماری رضا و مشورے سے نہیں   ہوا بلکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں   کہ   اللہ تعالیٰہماری عمریں   بھی سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو لگا دے۔‘‘( طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۲۶۵)

فاروقِ اعظم نے نماز فجر ادا کی:حضرت سیدنا  عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو زخمی ہونے کے بعد جب گھرلایا گیا تو مسلسل خون بہنے کے سبب آپ پر غشی طاری ہوگئی، جب ہوش آیا تو میں   نے آپ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام لیا، پھر انہوں   نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے پیٹھ پیچھے بٹھالیا۔ وضو کیا اور نماز فجر ادا کی۔‘‘ ایک روایت میں   یوں   ہے کہ جب آپ کو ہوش آیا تو پوچھا کہ : ’’لوگوں   نے نمازِ فجر ادا کرلی ہے؟‘‘

بتایاگیا کہ سب نے نماز ادا کرلی ہے تو ارشاد فرمایا: ’’تارک نماز حقیقی مسلمان نہیں   ہوسکتا۔‘‘پھر آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا اور نماز فجر ادا کی۔ (طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۲۶۳، ۲۶۶)

تین دن تک نماز ادا فرمائی:حضرت سیدنا  مطلب بن عبد اللہ بن حنطب علیہ الرحمہ   سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے تین دن تک انہی کپڑوں   میں   نماز ادا کی جن میں   آپ کو زخمی کیا گیا تھا۔( طبقات کبری، ذکراستخلاف عمر، ج۳، ص۲۷۶)

عیاد ت کےلیے لوگوں   کی بے تابی:چونکہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو ذی الحج کے مہینے میں   زخمی کیا گیا تھا لہٰذا حج سے فراغت کے بعد شام اور عراق سے آنے والے زائرین مدینہ قافلے کی صورت میں   جوق در جوق آپ کی عیا دت کے لیے حاضر ہونے لگے۔ جب حضرت سیدنا  جویر یہ بن قدامہ علیہ الرحمہ  اپنے قافلے کے ہمراہ آپ کی عیاد ت کے لیے حاضر ہوئے توآپ علیہ الرحمہ نے امیر المومنین حضرت فاروقِ اعظم کے پیٹ کے گرد سیاہ عما مہ لپٹاہو ا دیکھا۔ (مسند امام احمد، مسند عمر بن الخطاب ، ج۱، ص۱۱۴، حدیث۳۶۲)

انتقال کے وقت بھی فکر آخرت:سیدنا  فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے کے بعد لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک کردار کی تعریفیں   کرنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’جس کی زندگی نے اسے دھوکہ دیا ، وہ واقعی دھوکے میں   ہے،   اللہ تعالیٰ قسم! میں   تو دنیا سے اس طرح جانا چاہتا ہوں   جس طرح دنیا میں   آیا تھا۔ خدا کی قسم! قیامت کی ہولناکیوں   سے بچنے کے لیے میں   ہراس چیز کو فدیہ کردوں   جس پر سورج طلوع ہوتاہے۔‘‘ایک روایت میں   یوں   ہے کہ ’’قیامت کی ہولناکیوں   سے بچنے کے لیے میں   دنیا کی ہرچیز فدیہ کردوں  ۔‘‘( طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۳۷۴)

شہادت سے قبل چند وصیتیں  :(1) ’’تمام سرکاری غلاموں   کو آزاد کردیا جائے جو نماز ادا کرتے ہیں   البتہ میرے بعد والے خلیفہ کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ ان سے دو سال تک خدمت لے۔‘‘(2)’’میرے بعد آنے والا خلیفہ میرے مقرر کردہ عمال کو ایک سال تک برقرار رکھے۔‘‘(3)’’اگر تم سعد بن ابی وقاص کو والی بنادو تو ٹھیک ورنہ جو والی بنے وہ انہیں   اپنا مشیر بنائے۔‘‘(2)

فاروقِ اعظم کا آخری حج:امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ  نے آخری حج سن ۲۳ ہجری میں   فرمایا اور اسی سال حج بیت اللہ سے واپسی کے بعد آپ رضی اللہ عنہ  کو شہید کردیا گیا۔( طبقات کبری،ذکر استخلاف عمر،ج۳،ص۲۱۵)

مدینہ منورہ میں   شہادت کی دعا:حضرت سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ  اپنے والد اور سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ  کے غلام حضرت سیدنا اسلم رضی اللہ عنہ  سے بیان کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ  نے اپنی شہادت کی دعا یوں   مانگی: اے   اللہ! تو مجھے اپنے راہ میں   شہادت کی موت عطا فرما اور اپنے محبوب ﷺکے شہر مدینہ منورہ میں   شہادت عطا فرما۔‘‘(بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، ج۱، ص۶۲۲، حدیث: ۱۸۹۰)

فاروق اعظم کی شہادت کی دعا:امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ  منی سے وادی ابطح تشریف لے گئے اور یوں   دعا مانگی: اے   اللہ! اب میں   بوڑھا ہوچکا ہوں  ، میری قوت بھی کمزور ہوچکی ہے، میری رعایا بہت بڑھ گئی ہے، تو مجھے ضائع اور ناکارہ کیے بغیر اپنی بارگاہ میں   بلالے۔‘‘پھر آپ مدینہ منورہ تشریف لائے اور لوگوں   کو ایک نصیحت آموز خطبہ دیا ۔   اللہ تعالیٰ  نے آپ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ذوالحجہ کا مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی آپ کو شہادت عطا فرمائی۔( موطا امام مالک  ،  ج۲، ص۳۳۴، حدیث:۱۵۸۵)

آپ کی شہادت ۲۶؍ ذی الحجہ۲۳ہجری کو جب آپ سجدے کی حالت میں تھے کہ حملہ آورنے خنجروں کے وارکرکے آپ کو بری طرح سے زخمی کردیا اوریکم محرم الحرام کوفاروق اعظم اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔حضرت عمررضی الله تعالی عنہ کی صحیح تاریخ وفات 26 ذوالحجہ ہے ۔ کتب کےنام برائے حوالاجات:کتاب،الفاروق،ص166/تاریخ ابن کثیرج ہفتم ص 186/طبقات ابن سعدحصہ سوم ص123/تاریخ طبری جلدسوم حصہ اول ص217/تاریخ مسودی حصہ دوم ص240

آپ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت عثمان غنی(رضی اللہ عنہ) کی بیعت 29 ذی الحج سنہ 23ھجری کوہوئی !!!

مستند اہل سنت کتب سے حوالہ جات دیکھیں :طبقات ابن سعد جلد ۳، ص ۱۴۷ مطبوعہ کراچی/ تاریخ طبری جلد ۳، ص ۲۳۵ مطبوعہ کراچی/تاریخ ابن خلدون جلد۱، ص ۳۸۴ مطبوعہ کراچی/تاریخ المسعودی جلد ۲، ص ۲۴۰ مطبوعہ کراچی/تاریخ ابن کثیر جلد ۷، ص ۲۷۹ مطبوعہ کراچی۔

امیرالمومنین حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تاریخ وفات کے باب میں دو قول مشہور ملتے ہیں۔ایک قول یہ ہے کہ امیرالمومنین حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ زخمی ہونے کے بعد تین دن زندہ رہے اور پھر چھبیس 26 ذی الحجہ کو ان کا وصال ہوا  حضرت معدان ابن ابی طلحہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ نے جمعہ کو خطبہ دیا اور جب ذی الحج کے چار دن باقی تھے، یعنی چھبیس ذی الحج کے دن حضرت عمر کا انتقال ہوا ملاحظہ ہو :  السنن الکبری للبیھقی   رقم الحدیث 16578

دوسرا قول جو کہ مشہور ہے، اور اسی قول کو جمھور مؤرخین اور علماء نے اپنی کتب میں بیان کیا ہے کہ ابو لؤلؤ نے چھبیس 26 ذی الحج کو ضرب لگائی تھی، جس سے حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ تین دن تک زخمی رہے اور پھر ان کا وصال ہوا اور حضرت صہیب رومی نے ان کا نماز جنازہ پڑھایا، چنانچہ مؤرخ ابن اثیر نے اسی قول کو ابن قتیبہ سے نقل کیا ہے، ملاحظہ ہو ، (بحوالہ : اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد3 صفحہ676 )

۱۔ علامہ مسعودی لکھتے ہیں: حضرت سیدناعمر فاروق رضی الله تعالی عنہ کو انکی خلافت کے دوران ہی میں مغیرہ کے غلام ابولولوہ نے قتل کر دیا تھا۔ اس وقت سن ہجری کا ۲۳ واں سال تھااور بدھ کا دن تھا جب کہ ماہ ذی الحجہ کے اختتام میں چار روز باقی تھے۔  (بحوالہ:مروج الذہب جلد۲، صفحہ ۲۴۰)

۲۔علامہ دنیوی لکھتے ہیں: ماہ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کی چار راتیں باقی تھیں کہ حضرت سیدناعمر فاروق رضی الله تعالی عنہ جمعہ کے روز رحلت فرما گئے۔ (اخبار الطوال صفحہ ۱۳۹)

۳۔ علامہ محب الدین طبری لکھتے ہیں: آپ نے (حضرت سیدناعمر فاروق رضی الله تعالی عنہ) ۲۶ ذی الحجہ کو وصال فرمایا۔ بعض نے کہا کہ اس تاریخ کو زخم آیا تھا اور وفات آخری ذی الحجہ میں ہوئی۔ (ریاض النضرہ جلد ۲ صفحہ ۳۳۵)

۴۔ مشہور مورخ طبری لکھتے ہیں: آپ نے چہار شنبہ کی شب کو ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کو وفات پائی۔ عثمان اخنسی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اس خبر میں سہو ہوا ہے کیونکہ حضرت سیدناعمر فاروق  اعظم رضی الله تعالی عنہ نے ۲۶ ذی الحجہ کو وفات پائی۔ ابو معشر کے نزدیک ۲۶ اور ہشام بن محمد کے نزدیک ۲۷ ذی الحجہ ہے۔ (تاریخ طبری جلد ۳ صفحہ ۲۱۷۔۲۱۸)

۵۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں: واقدی کا بیان ہے کہ حضرت سیدناعمر فاروق  اعظم رضی الله تعالی عنہ پر بدھ کے روز حملہ ہوا جب کہ ۲۳ ہجری کے ذی الحجہ کی چار راتیں باقی تھیں۔ (البدایہ و النہایہ جلد ۷ صفحہ ۱۸۶)

۶۔ علامہ ابو الفداء: توفی (عمر) یوم السبت سلخ ذی الحجہ روز شنبہ کو حضرت سیدناعمر فاروق  اعظم رضی الله تعالی عنہ نے وفات پائی۔ (تاریخ ابوالفداء صفحہ ۱۲۲)

۷۔ تاریخ کامل کے مصنف نے بھی یہی لکھا ہے کہ ذی الحجہ کی چار راتیں باقی تھیں کہ آپ فوت ہو گئے اور یکم محرم کو دفن ہوئے۔ (الکامل جلد ۳ صفحہ ۵۲)

۷۔ ابن خلدون لکھتے ہیں: زخمی ہونے کے بعد برابر ذکر اللہ کرتے رہے یہاں تک کہ شب چہار شنبہ ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کو اپنی خلافت کے ۱۰ برس ۶ مہینے بعد جان بحق تسلیم ہوئے۔ (تاریخ ابن خلدون جلد ۱ صفحہ ۳۰۷)

۹۔ امام اہلسنت جلال الدین سیوطی: ابو عبیدہ بن جراح کا بیان ہے کہ حضرت سیدناعمر فاروق  اعظم رضی الله تعالی عنہ بدھ کے دن ۲۶ ذی الحجہ ۲۳ ھجری کو شہید ہوئےاور ہفتہ کے دن محرم کی چاند رات کو دفن کئے گئے۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ ۱۳۹)

۱۰۔ ابن اثیر لکھتے ہیں: حضرت عمر کی وفات ۲۶ ذی الحجہ کو ہوئی اور انتیس ذی الحجہ دو شنبہ کے دن حضرت عثمان(رضی اللہ عنہ) کی بیعت کی گئی۔ (اسد الغابہ جلد ۲، صفحہ ۶۶۷)

آپ سب نے ملاحظہ کیا کہ قدیم علماء اہلسنت میں کس قدر اختلاف ہے۔ اور کتنی تواریخ ہیں یوم وفات پر۔ اب ہم جدید علماء کے اقوال نقل کرتے ہیں۔

۱۱۔ دور جدید کے مشہور سلفی متعصب مورخ دکتر محمد محمد الصلابی لکھتے ہیں: امام ذہبی لکھتے ہیں کہ ۲۶ یا ۲۷ ذی الحجہ بروز بدھ ۲۳ ھجری میں حضرت سیدناعمر فاروق  اعظم رضی الله تعالی عنہ نے جام شہادت نوش کیا۔ (سیدنا عمر بن خطاب صفحہ ۸۲۴،۸۲۵)

۱۲۔ مشہور دیوبندی عالم مفتی زین العابدین میرٹھی لکھتے ہیں: حضرت سیدناعمر فاروق  اعظم رضی الله تعالی عنہ کی وفات زخمی ہونے کے تیسرے دن ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کو بدھ کی رات میں واقع ہوئی۔ (تاریخ ملت جلد ۱ صفحہ ۱۸۷)

۱۳۔ بر صغیر کے مشہور سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں: حضرت سیدناعمر فاروق  اعظم رضی الله تعالی عنہ کی شہادت ۲۶ ذی الحجہ ۲۳ ہجری ۶۴۴ عیسوی۔ (الفاروق صفحہ ۱۷۷)

۱۴۔ امام اہلسنت اور بر صغیر میں مناظرے کا باب کھولنے والے شاہ عبدالعزیز دہلوی لکھتے ہیں: روز قتل حضرت سیدناعمر فاروق  اعظم رضی الله تعالی عنہ کا اٹھائیسویں ذی الحجہ کی بلا اختلاف اور دفن ان کا عزہ محرم۔ (تحفہ اثناء عشریہ باب ۹ صفحہ ۵۱۱)