آپ کا نام: محمد بن ابو بكر بن عمر بن ابو عيسٰی احمد بن عمر مدینی ۔ کنیت: ابو موسٰی ۔ لقب: شیخ الاسلام تھا ۔
تاریخِ ولادت:امام ابو موسٰی مدینی علیہ الرحمہ کی ولادتِ
باسعادت ذی القعدہ 501ھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:امام ابو موسٰی مدینی علیہ الرحمہ نے جلیل القدر
علماء سے اکتسابِ علم کیا جن میں آپ کے والدِ ماجد ، ابو سعد محمد بن محمد، ابو
منصور محمد بن عبد اللہ اور ان کے علاوہ کثیر علماء سے کے علم سے مستفیض ہوئے ۔
اور تین سو مشائخ سے زیادہ آپ نے احادیث روایت کی ۔
سیرت و خصائص:شیخ الاسلام، حافظ الاحادیث، امام الوقت امام ابو
موسٰی محمد بن ابو بکر مدینی علیہ الرحمہ زاہد، متورع، عابد، ولیٔ کامل عالمِ
باعمل اور اپنے وقت کے چمکتے ہوئے سورج تھے ۔ آپ قرآنِ پاک کو اس کی روایات و شانِ
نزول کے ساتھ پڑھتے تھے ۔
علم اتنے جد و جہد سے حاصل کیا کہ تمام علوم و فنون
کے ماہر و امام ہو گئے ۔ قدر و منزلت کے باوجود آپ میں تواضع و انکساری اتنی زیادہ
تھی کہ بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی پڑھاتے تھے ۔ بچوں کے لئے تختی پر قرآنِ پاک
کی آیت لکھ کر اسے یاد کرواتے ۔ اور آپ کے ساتھ جو چلتا اسے آپ منع کرتے ۔ آپ کسی
سے کوئی شئی قبول نہیں کرتے بلکہ آپ کے پاس جو ہوتا وہ بیچ کر اس سے جو نفع حاصل
ہوتا اسے خرچ کرتے ۔
ایک شخص نے مرتے وقت آپ کے لئے کچھ مال کی وصیت کی
آپ نے اسے رد فرما دیا اور قبول نہیں کیا ۔ آپ کے دور میں جتنے علماء، فقہاء، تھے
امام ابو موسٰی مدینی سب پر فائق اور سب کے امام تھے ۔
اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک
شخص نے خواب دیکھا کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے دنیا سے ظاہری پردہ فرمایا، بیدار ہو کر
معبر کے پاس گئے اس نے کہا کہ ایسا خواب اسی وقت دیکھا جاتا ہے جب امامِ وقت کا
انتقال ہونے والا ہو کیونکہ ایسا خواب امام شافعی، امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ ما
وغیرہ ائمہ کے وصال کے وقت دیکھا گیا، کہتے ہیں ابھی شام ہوئی ہی تھی کہ امام ابو
موسٰی مدینی کی وفات کی خبر آ گئی ۔
مشہور اساتذہ: امام ابو موسیٰ مدینی نے بغداد، اصفہان اور دیگر
علمی مراکز کے کبار شیوخ سے سماعِ حدیث کیا۔ ان کے ممتاز اساتذہ میں شامل ہیں:
ابو علی الحداد (حسن بن احمد اصفہانی): یہ امام ابو موسیٰ مدینی کے سب سے اہم اور خاص شیوخ میں سے ہیں،
جن سے انہوں نے کثیر روایات لیں۔
ابو القاسم اسماعیل بن محمد اصفہانی: جو "قوام السنۃ" کے لقب سے مشہور ہیں اور عظیم محدث و مفسر تھے۔
ابو منصور مروان بن علی طنطالی
سعید بن ابی رجاء صیرفی
ابو القاسم بن الحصين (بغداد کے مشہور محدث)
علمی مقام اور تصانیف: امام ابو موسیٰ مدینی علیہ الرحمہ نے علم حدیث، اسماء الرجال (راویوں کے احوال)
اور تاریخ پر گراں قدر کام کیا۔ ان کی چند مشہور تصانیف درج ذیل ہیں:
تتمۃ معرفۃ الصحابۃ: یہ کتاب صحابہ کرام کے احوال پر امام ابن مندہ کی کتاب کا
استدراک اور تکملہ ہے۔
المجموع المغيث في غريب الحدیث: حدیث کے مشکل اور غریب الفاظ کی تشریح پر ایک
بہترین کتاب ہے۔
كتاب الوظائف: عبادات اور وظائف کے موضوع پر۔
اللطائف فی معرفۃ لِطائف المعارف: علمی اور حدیثی نکات پر مشتمل مجموعہ
امام ابو موسیٰ مدینی علیہ الرحمہ نے اپنے وقت کے
نامور علما اور محدثین سے علم حاصل کیا، اور پھر ان سے فیض پانے والوں میں بھی بڑے
بڑے ائمہ شامل ہوئے۔ ان کے مشہور اساتذہ اور شاگردوں کی فہرست درج ذیل ہے:
مشہور شاگرد :ان کی علمی جلالت کا یہ عالم تھا کہ ان کے دور کے
بڑے بڑے حفاظِ حدیث اور فقہا نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ ان کے نامور
شاگردوں میں شامل ہیں:
امام ابن الاثیر الجزری: مشہور
تاریخ دان اور مصنف (صاحبِ کتاب "اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ")۔ انہوں
نے صحابہ کرام کے احوال پر لکھی گئی امام ابو موسیٰ مدینی کی کتابوں سے بہت زیادہ
استفادہ کیا۔
امام عبد الغنی المقدسی: عظیم حافظِ حدیث اور کتاب "الکمال فی اسماء الرجال"
کے مصنف۔
ابو موسیٰ بن عبد الغنی: حافظ
عبد الغنی المقدسی کے صاحبزادے اور محدث۔
ابو الفتوح داؤد بن عمر اصفہانی(اسلامی تاریخ کے
ایک نامور محدث، راوی)
ابو رشید غزال(محدث اور راوی حدیث)
امام ابو موسیٰ مدینی اپنے آخری وقت تک درس و تدریس
اور احادیث کی املا کروانے میں مشغول رہے، اور ان کی علمی مجلسوں میں دور دور سے
طالبانِ علم شریک ہوتے تھے۔
تاریخِ وصال:شیخ الاسلام امام ابو موسیٰ مدینی علیہ الرحمہ کا وصال 9 جمادی
الاول 581 ہجری/ بمطابق اگست 1185ء میں ہوا ۔
(ماخذ و مراجع:سیر اعلام النبلاء ۔ تذکرۃ الحفاظ )



