ماہ ربیع الاول کی فضیلت اور اذکار و نوافل

ماہ ربیع الاول بے حد متبرک اور فضیلت والا مہینہ ہے۔ اس کا شمار اسلامی مہینوں میں تیسرا ہے۔ ربیع الاول کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع کی ابتدا تھی۔ یہ مہینہ خیرات و برکات اور سعادتوں کا منبع ہے۔ کیونکہ اس مہینہ کی بارہویں تاریخ کو اللہ جل شانہ نے اپنے فضل و کرم سے رحمتہ اللعالمین احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیﷺ کو پیدا فرما کر اپنی نعمتوں کی بارش برسائی۔ اسی ماہ کی کی دسویں تاریخ کو محبوبِ کبریاﷺ نے ام المؤمنین سیدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔ اسی لیے اس ماہ کو دوسرے مہینوں پر خصوصی فضیلت حاصل ہے۔

ماہ ربیع الاول کا چاند دیکھ کر یہ دعا  پڑھیں: اَللّٰھُمَ اَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَاْمَۃِ وَ الْاِسْلَاْمِہ وَالتَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی رَبِّیْ وَرَبُّكَ اللّٰہُ اے اللہ سبحانہ و تعالیٰ! اس چاند کو ہمارے اوپر برکت اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ اور ان اعمال کی توفیق کے ساتھ نکلا ہوا رکھ، جو تجھے پسند ہیں، اے چاند میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔(الاذکار للنووی ١٥٩)

بارہ ربیع الاول کے نوافل: ربیع الاول شریف کی پہلی تاریخ کو بعد نماز عشاء  سولہ رکعات آٹھ سلام سے پڑھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ  کے بعد سورہ اخلاص  تین تین بار پڑھنا ہے۔ اور سلام کے بعد ایک ہزار مرتبہ یہ دورد شریف پڑھیں ’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ انِ لنَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔‘‘اور ربیع الاول کی پہلی تاریخ سے لے کر بارہ تاریخ تک یہ درود پڑھنا افضل ہے۔

بارہ ربیع الاول کو نماز ظہر کے بعد بیس رکعت نفل نماز دو دو رکعت کرکے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد اکیس اکیس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ نماز پڑھنے کے بعد اس کا ثواب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ کے طور پر پیش کرے۔ اولیاء کرام (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) نے ان نوافل پر مداومت اور ہمیشگی رکھی ہے۔ ان نوافل کی مداومت رکھنے والے کو حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہوتی ہے اور پروردرگار عالم جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرماتا ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺکی شفاعت نصیب ہوتی ہے۔

وظیفہ درود شریف: ربیع الاول کا سب سے اعلیٰ وظیفہ درود پاک کا ورد ہے لہٰذا اس ماہ میں کوشش کی جائے کہ کثرت سے درود پاک پڑھا جائے۔ کتاب المشائخ میں لکھا ہے کہ جب چاند ربیع الاول کا نظر آوے، اسی شب سے تمام مہینے تک یہ درود شریف ہمیشہ ایک ہزار پچیس بار بعد نماز عشاء کے پڑھے گا تو حضور اقدسﷺ کو خواب میں دیکھے گا۔ وہ درود شریف یہ ہے: ’’ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌمَّجِیْدٌ ‘‘ ایک بزرگ کا قول ہے کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ ربیع الاول میں سوا لاکھ مرتبہ مندرجہ ذیل درود پاک کو پڑھے گا اسے حضورﷺ کی زیارت ہوگی اور آخرت میں اسے حضورﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی۔ وہ درود پاک یہ ہے اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ o وَ عَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحَابِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہِ o

ربیع الاول بارہ ، تیرہ اور چودہویں شب کو عشاء کی نماز کے بعد  یَا بَدِیْعَ الْعَجَائِب بِالْخَیْرِ یَا بَدِیْعِ سات ہزار سات سو سو اکیس بار  پڑھنے سے رزق میں خوب ترقی ہوگی۔ 

پاؤں سُن ہونے کا عمل: جب کسی کے پاؤں میں جھن جھنی چڑھے یا سُن ہو تو چاہیئے اس شخص کا نام لے جو اسکو سب سے پیارا ہو تو سب سے زیادہ ہمارے آقا  ومولا تاجدار انبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں انہیں کا نام لےکر کہے یَامُحَمَّدُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ یہ عمل حدیث میں آیا ہے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے۔(وظائف اشرفی/محبوب ربانی حضور اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی صفحہ٤ ١٠ناشر نذراشرف شیخ محمد ہاشم رضا اشرفی پاکستان)

ربیع الاول میں زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص عمل: ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے۔ یہ بڑا فضیلت و برکت والا مہینہ ہے۔ حضور سرور کائناتﷺ کی ولادت مبارکہ اسی ماہ میں ہوئی تھی۔

پہلی شب:جو کوئی اس مہینہ کی پہلی شب اور پہلے دن 2 رکعت نفل نماز رات کے وقت اور دو رکعت نفل نماز دن کے وقت اس طرح سے ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد 7 مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھے تو پروردگار عالم اس شخص کو7 سوبرس کی عبادت کا اجر عطافرمائینگے۔

زیارت رسول اللہ ﷺ:جو کوئی ربیع الاول کی پہلی شب نماز عشاء کے بعد سولہ رکعت نفل نماز دو دو رکعت کرکے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد تین تین مرتبہ سورئہ اخلاص پڑھے۔ جب تمام نوافل ادا کرے تو نہایت توجہ و یکسوئی کے ساتھ قبلہ رخ بیٹھے بیٹھے ایک ہزار مرتبہ یہ درود پاک پڑھے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ پڑھنے کے بعد باوضو حالت میں ہی پاک صاف بستر پر بغیر کسی سے کوئی کلام کیے سو جائے ان شاء اللہ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوگا۔

دوسری شب:ربیع الاول کی دوسری شب نماز مغرب کے بعد دو رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد 3,3 بار سورئہ اخلاص پڑھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد 11 بار یہ درود پاک پڑھے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکَ وَسَلِّمْ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔پھر بارگاہِ الٰہی میں اپنے مقصد و مطلب کے حصول کیلئے دعا مانگے جو بھی جائز دعا مانگے انشاء اللہ تعالیٰ قبول ہوگی۔

تیسری شب:-اس ماہ کی تیسری شب کو نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھنی چاہیے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک مرتبہ آیت الکرسی اور تین تین بار سورہ طٰہٰ و سورئہ یٰسین پڑھے۔ سلام پھیرنے کے بعد ان نوافل کا ثواب حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت اقدس میں تحفتاً و ہدیۃً پیش کرے۔ انشاء اللہ تعالیٰ دینی و دنیاوی حاجات پوری ہوں گی۔


بارہ ربیع الاول کے نوافل:بارہ ربیع الاول کو نماز ظہر کے بعد بیس رکعت نفل نماز دو دو رکعت کرکے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد اکیس اکیس مرتبہ سورہ  اخلاص پڑھے۔ نماز پڑھنے کے بعد اس کا ثواب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ کے طور پر پیش کرے۔ اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان نوافل پر مداومت اور ہمیشگی رکھی ہے۔ ان نوافل کی مداومت رکھنے والے کو حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہوتی ہے اور پروردرگار عالم جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرماتا ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺکی شفاعت نصیب ہوتی ہے۔

اکیس ربیع الاول:جو کوئی ربیع الاول کی اکیس تاریخ کو دو رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد ایک بار سورئہ مزمل پڑھے اور سلام پھیرتے ہی سجدہ ریز ہو جائے اور تین مرتبہ یہ دعا نہایت توجہ و خلوص سے پڑھے:یَاغَفُوْرُ تَغَفَّرْتَ بِالغُفْرِ وَ الْغُفْرُ فِیْ غُفْرِکَ یَاغَفُوْرُاس کے بعد جو بھی جائز دعا صدق دل سے مانگے۔ ان شاء اللہ تعالی قبول ہوگی۔

 

بزرگان دین کے اعراس /ولادت /وصال/قل شریف

عرس حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبندی علیہ الرحمہ/ اشرف الصوفیاء  حضرت سیدشاہ  احمد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی علیہما الرحمہ/ وصال خواجہ فضیل بن عیاض قد س سرہ/ حضرت سیدنا میاں شیر محمد شرقپوری نقشبندی علیہ الرحمہ/ وصال مفتی اعظم اڑیسہ سید عبدالقدوس علیہ الرحمہ/شیخ العلماء علیہ الرحمہ گھوسی/عرس حضرت منگالیا شاہ  سلطان سہروردی علیہ الرحمہ /وصال امام النحو علامہ غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ (مرید وخلیفہ حضور اعلیٰ اشرفی میاں کچھوچھوی) /شہادت سیدنا امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ /حضرت میاں محمد میر شاہ قادری لاہوری علیہ الرحمہ/عرس شاہ شرف الدین  علیہ الرحمہ سدھولی /عرس صوفی سرمد شہید علیہ الرحمہ مینا بازار دہلی /عرس مجذوب الہی صوفی سرمد شہید دہلوی علیہ الرحمہ /عرس قطب المشائخ حضرت سیدقطب اشرف اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف/عرس سید شاہ عبدالرزاق پاک حسینی  سہروردی  بنگال/عر س حضرت مخدوم علاء الدین سید علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ کلیرشریف/عرس سیدانواراشرف اشرفی  جیلانی  کچھوچھہ شریف / خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہما الرحمہ/عرس سیدمظاہر اشرف اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف/  خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ/ولادت حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ /مخدوم شیخ سعدالدین خیرآبادی علیہ الرحمہ /عرس سیدمصطفی اشرف اشرفی علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف/عرس آل رسول علیہ الرحمہ مارہرہ شریف/عرس حضرت مولانا اجمل شاہ علیہ الرحمہ (سنبھل)/عرس واحدی طیبی بلگرام شریف /وصال حضرت سید کمیل اشرف علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف/عرس حضرت  خدابخش ریاؤں علیہ الرحمہ  بہار/وصال حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ /عرس فصل الرحمن گنج مرادآبادی / حضرت کریم شاہ  ناگپوری / شاہ زاہد شریف مالدہ علیہماالرحمہ  /عرس  سید جعفر علیہ الرحمہ بہار شریف/عرس شیخ کلیم اللہ ولی جہاں آبادی  علیہ الرحمہ/وصال حضرت سیدامین اشرف اشرفی  کچھوچھہ شریف/ شاہ نبی رضا دادا میاں علیہما الرحمہ لکھنؤ/عرس حضرت بوعلی شاہ قلندر علیہ الرحمہ /عرس برہان ملت علیہ الرحمہ جبلپور/حضرت سید حسام الدین  تیغ برہنہ سہروردی علیہ الرحمہ  گلبرگہ شریف/نذر بارگاہ غوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی قد س سرہ النورانی۔