حضرت سید جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت قدس سرہ

 


اسم گرامی : سید جلال الدین بخاری ،کنیت: ابوعبداللہ، لقب :جہانیاں جہاں گشت، سیاح عالم

آپ علیہ الرحمہ کی باسعادت 14 شعبان المعظم 707 ہجری بروز جمعرات مدینۃ السادات اوچ شریف میں سید احمد کبیر کے گھر پر ہوئی ۔ آپ کی جبین مبارک سے سعادت مندی اور رشدوہدایت کے آثار واضح تھے۔ حضرت محبوب یزدانی سلطان سیداشرف جہانگیرسمنانی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ کی پیدائش کے بعد آپ کے والد گرامی آپ کو جمال الدین خنداں علیہ الرحمہ کی خدمت میں لے گئے اور ان کے قدموں میں ڈال دیا ۔ حضرت جمال الدین خندہ نے فرمایا کہ اس فرزند کی عظمت و بزرگی دنیا میں ایسی ہوگی جیسے آج کی شب (شب برات کی ہے۔ (یادگار سہروریہ 206)

آپ رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 785 ہجری) المعروف "مخدوم جہانیاں جہاں گشت" اکابر اولیا ء میں سے تھے ۔ ریاضت ومجاہدہ اور بزرگان دین سے کسب فیض میں اپنے معاصرین میں منفرد مقام رکھتے تھے کیونکہ کثیرتعداد میں بزرگوں سے فیض حاصل کیا تھا آپ کا نام سید جلال الدین بخاری اور لقب مخدوم جہانیاں ہے۔ صاحب خزینۃ الاصفیاء لکھتے ہیں کہ "سید جلال الدین کا لقب شیر شاہ تھا آپ کے بہت سے خطاب تھے جیسے :

·      میر سرخ

·      شریف اللہ

·      ابوالبرکات

·      ابواحمد

·      میر بزرگ

·      مخدوم اعظم

·      جلال اکبر

·      عظیم اللہ (خزینۃ الاصفیاء صفحہ 63)

لیکن سب سے مشہور لقب "مخدوم جہانیاں "ہے یاد رہے کہ" مخدوم جہاں" شیخ شرف الدین یحیٰ منیری قدس سرہ کو کہاجاتا ہے وصیت ِمخدوم جہاں بہت مشہور ہے کہ حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری قدس سرہ النورانی کے روح پرواز کرنے کاوقت تھا تو آپ نے اپنے اصحاب سے وصیت کی تھی کہ خبردار کوئی میرے جنازے کی نماز نہ پڑھائے کیوں کہ ایک سید صحیح النسب، تارک سلطنت ،ساتویں قرات کا حافظ ، چودہ علوم کا عالم عنقریب یہاں آئے گا وہی میری نماز جنازہ پڑھائے گا۔آپ کے اصحاب بموجب وصیت تجہیز وتکفین کرکے حضرت محبوب یزدانی کا انتظار کررہے تھے ۔ جب تاخیر ہوئی تو حضرت شیخ چولھائی خادم حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین یحیی ٰ منیری شہر سے باہر تلاش کے واسطے نکلے ادھر سے حضرت محبوب یزادانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ تشریف لارہے تھے شیخ چولھائی اپنی نورفراست باطنی سے پہچان گئے ۔ پوچھا آپ سید ہیں؟

حضرت نے عاجزی سے فرمایا کہ ہاں ۔اسی طرح جوجو نشانیاں حضرت مخدوم الملک نے فرمائی تھی سب آپ میں پائی گئیں ۔ حضرت محبوب یزدانی حضرت محبوب یزادانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کو آگے کیا اور خود پیچھے ہولئے۔ جب حضرت محبوب یزدانی سلطان سیداشرف جہانگیرسمنانی علیہ الرحمہ خانقاہ عالی میں پہونچ کر حضرت مخدوم الملک کے خلفاء اور اصحاب سے ملے سب نے باتفاق صاحب میت بموجب وصیت امامت نماز جنازہ کا اشارہ کیا اول حضرت نے کچھ عاجزی کی آخر سب نے محبوب یزدانی حضرت محبوب یزادانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کو امامت کے لئے آگے بڑھایا ۔ (صحائف اشرفی صفحہ78)

حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت عالم باعمل اور صوفی باصفا تھے علم سے گہرا شغف رکھتے تھے اورعلوم ظاہری وباطنی کے جامع تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت میں ہمہ وقت مشغول رہتے تھےاور نہایت متواضع شخصیت کے مالک تھے۔حدیث کے عالم اوراصول و فروع میں مسلکاً حنفی تھے فتوی ٰ بھی امام اعظم حضرت سیدنا ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی رضی اللہ عنہ کے فقہ کے مطابق دیتے تھے۔

غوث العالم محبوب یزدانی مخدوم سلطان سیداشرف جہانگیر سمنانی نے آپ سے روحانی فیوض و برکات حاصل کئے جس کا ذکر لطائف اشرفی میں ہے۔ حضرت مولانا ابوالفضائل نظام الدین یمنی سید اشرف جہانگیر سمنانی کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:

حضرت محبوب یزادانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ فرماتے تھے کہ سادات بخاریہ کا سلسلہ نسب بہت بلند ہے اور متاخرین میں جتنے خوارق عادات اور علوم وحقائق حضرت مخدوم جہانیاں سے ظاہر ہوئے کسی سے نہیں آپ مظہر العجائب اور مصدرالغرائب ہیں جب کبھی حضرت قدوۃ الکبریٰ کے سامنے مخدوم جہانیاں جہاں گشت یا آپ کے سلسلے کا ذکر آجاتا تو آپ پر عجیب کیفیت طاری ہوجاتی کہتے تھے کہ کیسے مظہر العجائب ہیں اگرچہ بہت سے اکابرین ومشائخ وقت نے مختلف مرشدین کامل سے علوم ومعارف اور فیوض وبرکات حاصل کئے ہیں لیکن مخدوم جہانیاں کی کوئی مثال نہیں ہے روئے زمین پر کوئی ایسا درویش نہیں ہے جس کی ملازمت میں وہ نہ پہونچے ہوں اور ان سے استفادہ نہ کیا ہو جیساکہ چند مشہور ہستیوں کا ذکر کیا ہے ۔ حضرت مخدوم جہانیاں علیہ الرحمہ کو اول نعمت وخلافت اپنے ہی آباؤ اجداد سے ملی جس کا سلسلہ مسلسل حضرت علی علیہ الرضوان تک پہنچتا ہے۔ (لطائف اشرفی حصہ اول صفحہ390)

حضرت مخدوم سید جلال الدین جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمہ وخلافت و اجازت ایک سو چالیس سے زیادہ علمائے راسخین اور صاحبان ارشاد مشائخ سے حاصل تھی جن کی خرقہ اور سلسلہ کی نسبت عن فلاں عن فلاں کے واسطے سے رسول اکرم ﷺ تک پہونچتی ہے۔آپ نے علم شریعت و طریقت وحقیقت و علم تصوف ان سب سے حاصل کیا ۔

لطائف اشرفی میں ہے کہ جضرت مخدوم جہانیاں علیہ الرحمہ نے بے شمار بزگوں سے اجازت و خلافت اور دیگر فیوض وبرکات حاصل کئے پھر آپ نے ان تمام بزرگوں کے نام گن کر حضرت محبوب یزادانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کو بتائے اور ان سے حاصل کردہ وہ تمام روحانی نعمتیں عطافرمائیں اس لئے حضرت محبوب یزادانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ بڑی عقیدت و محبت سے حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمہ کا ذکر کرتے تھے اور ان کا ذکر کرتے وقت آپ ہر عجیب کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔

خلفائے کرام:

آپ علیہ الرحمہ کے چند مشہور خلفائے کرام کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

·      سید علاؤ الدین جامع ملفوظ سید شرف الدین علیہ الرحمہ

·      سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنا نی سامانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ

·      شیخ صدرالدین راجو بخاری علیہ الرحمہ

·      سید اشرف الدین مشہدی علیہ الرحمہ

·      سید بابو تاج الدین بکہری علیہ الرحمہ

·      سید سکندر بن مسعود علیہ الرحمہ

·      سید محمود شیرازی علیہ الرحمہ

·      مولانامحمد عطاء اللہ علیہ الرحمہ

صاحب خزینۃ الاصفیاء آپ کی سیاحت کے بارے میں لکھتے ہیں " کہ جب سید جلال الدین نے بخارا سے سفر کا ارادہ کیا تو پہلے نجف اشرف تشریف لے گئے حضرت علی شیرخدا کرم اللہ وجہہ الکریم کے مرقد مبارک سے فیوض باطنی حاصل کرنے کے بعد مدینہ منورہ پہونچے اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت کی وہاں سے شام گئے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے مقبرہ کے تابوت کے مجاور رہے وہاں سے مدینہ منورہ آئے مدینہ کے سادات کرام نے آپ کی سید ہونے سے انکا ر کیا اور صحیح النسب سید ہونے کی طلب کی بہت جھگڑا ہوا آخر فیصلہ یہ ہوا کہ اس سلسلے میں سید الابرار ﷺکے روضہ پر انوار پر جاکر استفسار کیا جائے چنانچہ سید جلال الدین سادات عظام کےساتھ روضہ عالیہ پر حاضر ہوئے آپ عرض کی" السلام علیکم یا والدی" روضہ رسول سے آواز آئی"یا ولدی قرۃ عینی وسراج کل امتی منی وعن اھل بیتی " یہ آواز سن کر تمام سادات نے آپ کی شرافت کی گواہی دی اور آپ کی بے حد تعظیم و توقیر کی۔( خزینۃ الاصفیاء صفحہ 64)

وصال مبارک:

لطائف اشرفی میں ہے کہ آپ علیہ الرحمہ 78 سال قید حیات میں رہ کر بروز چہارشنبہ عیدالاضحیٰ 10 ذی الحجہ 785 ہجری غروب آقتاب کے وقت انتقال فرمایا۔(لطائف اشرفی حصہ اول صفحہ 610) اس طرح علم ومعرفت و طریقت کا آفتاب غروب آفتا ب کے وقت غروب ہوگیا لیکن اس کی پر نو ر شعائیں آج بھی اہل علم وعرفاں کے قلوب کو منور کررہی ہیں۔


حضرت سید شاہ محمد وارث رسول نما بنارسی قادری علیہ الرحمہ

 

اسم گرامی :محمد وارث ،

لقب:  رسول نما ،

سلسلۂ نسب:آپ علیہ الرحمہ  نجیب الطرفین سید تھے، آپ کا سلسلۂ نسب یہ ہے، محمد وارث بن قاضی عنایت اللہ بن حبیب اللہ بن عبدالرقیب بن سالم بن لاڈلے بن محمد معروف عرف سلونی بن سعداللہ بن خدا بخش شہید بن یحییٰ بن قطب الدین بن امیر مسعود بن جلال الدین بن عبدالوحید بن عبدالحمید بن حسن بن سلیمان الملقب بہ کفار شکن بن زید شہید بن احمد زاہد سوانسی بن حمزہ بن ابو علی بن عمر بن محمد توختہ بن عارف جلیل بن احمد بن توختہ مثال الرسول بن علی الکفی بن حسین ثانی بن محمد مدنی بن حسن الحمیص عرف ناصراء الترمذی بن موسیٰ الحمیص بن علی السجاد بن حسین الاصغر بن علی زین العابدین بن امام حسین۔

ولادت باسعادت: آپ ۱۰۸۷ھ میں پیدا ہوئے، ولادت کے وقت کسی منجم نے یہ خبر دی تھی کہ یہ مولود اپنے وقت کا غوث الاعظم ہوگا، ’’خلیفہ رسول اللہ‘‘ سے ولادت کی تاریخ نکلتی ہے۔آپ کا آبائی وطن غازی پور کا ایک اہم قصبہ نو نہرہ ہے جو علما و مشائخ کا ایک بہت بڑا مرکز تھا، عالم گیر کے زمانے میں آپ کے والد ماجد قاضی عنایت اللہ بنارس کے قاضی تھے، اس تقریب سے آپ بھی بنارس ہی میں تشریف رکھتے تھے اور والد ماجد کی وفات کے بعد یہیں رہ گیے، والد کے بعد آپ نے یہ عہدہ قبول نہ فرمایا،۔

تعلیم و تربیت : آپ کی عمر شریف ۷ سال کی تھی اس وقت سے عشق رسول نمایاں ہوا۔ آپ علیہ الرحمہ  مکتب کے ہم عمر طلبہ عشقیہ مضمون کے اشعار پڑھتے تو آپ فرماتے کہ ہمارا محبوب تو بس رسول خدا کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے، اسی عمر میں آپ نے یہ معمول کیا کہ ہر روز عصر کے بعد خلوت میں ہوتے اور اندر سے دروازہ بند کر لیتے، تنہائی میں عشقیہ مضمون کے اشعار پڑھتے اور رو کر یہ کہتے کہ یا رسول اللہ! تنہائی میں آپ پر عاشق ہوں اور معشوق اپنے عشاق کو وصال سے مسرور کیا کرتے ہیں اور عشاق کو اپنےمعشوق سے ملنے پر فخر ہوتا ہے، افسوس کہ میرے نصیب سوتے ہیں، آپ میرے حال پر رحم نہیں فرماتے، دو برس تک آپ کا یہی انداز رہا اور آپ شوق ملاقت میں نہایت مضطر تھے کہ حضرت رسول اللہ نے اپنے جمال جہاں آرا کے دیدار سے مشرف فرمایا اور مولانا نے باطنی آنکھوں سے حضور انور کو دیکھا حضرت رسول اللہ نے آپ کی تسکین فرمائی اور فرمایا کہ اب تو تمہیں شکایت کا موقع نہیں رہا، اگر اور معشوق اپنے عشاق کو اپنے دیدار سے مسرور کیا کرتے ہیں تو میں بھی تمہیں خوش کرنے آیا ہوں، حضرت رسول اللہ واپس تشریف لے جانے لگے تو غایت شوق میں مولانا نے دامن پکڑ لیا اور کہا کہ یا مراد المشتاقین! کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟ اور پھر کیوں کر اور کہاں قدم بوسی نصیب ہوگی، حضور انور نے بکمال شفقت فرمایا کہ گھبراؤ نہیں، میں روز تم سے ملا کروں گا، چنانچہ اس کے بعد سے ہر روز آپ بچشم ظاہر دیدار جمال مصطفوی سے مشرف ہوا کرتے تھے، آپ پر حضرت رسول اللہ کی کمال شفقت و مہربانی تھی، یہی کیا کم تھا کہ ہر روز اپنے جمال سے مشرف فرماتے تھے، بعض اذکار و اشغال بھی آپ ہی کے عطیہ ہیں، ایک دن ارشاد نبوی ہوا کہ بعض مقامات و تجلیات و صفات وغیرہ کی سیر جو اگلے اؤلیااللہ کو نصیب ہوتی تھی، اب بعنایت الٰہی تمہارے طریقے میں پھر بخش دی جاتی ہے، خاص آپ کے سلسلے کو حضرت رسول اللہ نے دو چیزیں اور بھی بخشی ہیں، اول طریقہ نماز مکتوبی کہ معرفت کا کمال حاصل کرنے کو صرف یہی کافی ہوں اور بانصیب لوگ محض ان ہی دو چیزوں کی برکت سے مقامات کی حد کو پہنچیں، فقط اس درود کا پڑھنا یا بطریق مختص نماز ادا کرنا طالب کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے کافی ہے، جمال نبوی کا دیدار حاصل ہونے کے لیے بطریق مقرر اس درود طریقہ کو پڑھنا اور اس کی کثرت کرنا کار آمد ہے اور جنون کو دور کرنے کے لیے اکسیر اعظم ہے، طالب علمی کے زمانے میں جب کہ آپ کا حال کسی پر کھلا نہ تھا، ایک دن استاد نے فرمائش کی کہ حقہ بھر کر لاؤ، آپ نے چلم درست کرلی اور حقہ تازہ کرنے کی غرض سے صحن کی طرف گیے، حقہ تھا شیشہ کا ہتھیلی پر رکھ کر پانی کا اندازہ جو کرنے لگے تو خدا شناس آنکھوں سے خدا جانے آپ نے کیا دیکھا کہ محویت کا عالم طاری ہوگیا، واپس جانے میں دیر ہوئی تو استاد نے کسی دوسرے طالب علم کو بھیجا کہ دیکھو حقہ ٹوٹا تو نہیں، اتنی دیر کیوں ہو رہی ہے، یہ طالب علم آکر دیکھنے لگا کہ حقہ ہتھیلی پر رکھا ہے اور آپ نظر گڑائے ہوئے دوسرے عالم میں محو ہیں اور آپ کے سر سے لے کر آسمان تک نور کا ستون روشن ہے اسے بہت تعجب ہوا اور استاد کو ماجرا سنایا، استاد طلبا کے ساتھ اٹھے اور تمام ہی لوگوں نے آ کر یہ حال دیکھا، استاد بھی سالکین میں سے تھے، اس حقیقت کو سمجھ گیے، دیر تک تو کھڑے محو تماشارہے، جب مولانا کے چہرے سے افاقہ کے آثار ظاہر ہوئے تو آپ اپنی جگہ لوٹ آئے، جب مولانا کو اپنی حالت سے کلی افاقہ ہوا تو آپ نے جلدی سے حقہ درست کرکے استاد کے سامنے لا رکھا، استاد کھڑے ہوگیے اور بولے کہ حضرت معاف فرمائیے گا، آپ سے ایسی خدمت لینا مناسب نہیں، شاگرد سہمے کہ دیر ہونے کی وجہ سے استاد ناخوش ہوئے، فوراً ہی معذرت کرنے لگے، استاد نے کہا کہ رنج کا کیا ذکر ہے؟ آج سے میں نے تمہاری حقیقت پہنچانی، آج سے استاد کی نگاہ میں آپ کی وقعت بہت زیادہ ہوگئی پیار کے ساتھ تعظیم کے مستحق سمجھے جانے لگے، دوسال کی مدت میں آپ نے علم فقہ اصول تفسیر، حدیث و دیگر علوم مروجہ منطق و حکمت و فلسفہ پر عبور حاصل کر لیا، آپ کے یہ استاد ملا محمد لعی ہروی تھے، جو اس دور میں علوم متداولہ معقولات و منقولات میں بڑی ممتاز حیثیت کے مالک تھے۔ بیعت و خلافت: جب آپ بارہوں سال میں ہوئے تو ارشاد نبوی ہوا کہ شاہ رفیع الدین قادری  علیہ الرحمہ کے ہاتھ پر بیعت کر لو، آپ نے عرض کیا کہ میرا ارادہ تو آپ ہی کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا ہے، حضرت رسول اللہ نے بیعت قبول فرما لیا مگر یہ بھی فرمایا کہ سلسلۂ بیعت کے اجرا کے لیے ظاہر میں بھی بیعت کرنی ضرور ہے، تا ہم اپنے دادا شاہ رفیع الدین کے ہاتھ پر بیعت کر لو چنانچہ آپ سے سلسلۂ قادریہ میں مرید ہوئے، آپ نے قرآن مجید کی ایک تفسیر بھی لکھی تھی اور شرح وقایہ کا حاشیہ بھی تحریر فرمایا تھا، علوم ظاہری سے فارغ ہونے کے بعد درس و تدریس، ہدایت و ارشاد کا سلسلہ بھی جاری فرمایا، اس زمانہ کے عام مذاق کے مطابق آپ کے یہاں منطق و فلسفہ کا درس بڑے زور و شور کے ساتھ ہوتا تھا، اسی بنا پر قاضی مبارک شارح سلّم سے علمی مناقشہ رہا، جو آپ کے ہم عصر تھے، آپ کی عادت یہ تھی کہ پاؤں کبھی نہیں پھیلاتے تھے، چنانچہ سوتے بھی تھے تو دو رانو ہوکر، اگر خادموں میں سے کسی نے استراحت فرمانے کو کہا تو آپ فرماتے کہ حق تعالیٰ کے حضور میں بے ادبانہ رہنا مناسب نہیں، آپ کو سماع سننے کی برداشت نہ تھی، آپ تعجب کے ساتھ فرماتے کہ لوگ مجلس سماع سے زندہ کیوں واپس آتے ہیں؟ ایک دن آپ کے یاروں میں سے کسی نے سماع کی خواہش کی، آپ نے فرمایا، سماع عشق کی آگ کو لہکانے والی چیز ہے جب یہ آگ خو لہکتی ہے تو اس کو بھڑکانے والی چیز سماع کی کیا ضرورت ہے؟ بلکہ اس حال کے آدمی کو سماع سے جان کی ہلاکت کا خوف ہے، آپ کی داہنی ہتھیلی پر پوست باریک کے نیچے سبز نشانوں میں حضرت رسول اللہ کا نام لکھا ہوا تھا، جس کو ہر شخص آسانی سے پڑھ لیتا تھا، آپ کے بدن سے مشک کی خوشبو آتی تھی، خصوصاً مراقبہ کے بعد، یہاں تک کہ بعض دوسرے لوگ بھی جو عرض حاجت کے لیے جاتے تھے ان کو مشک کی خوشبو آتی تھی، جس چیز پر آپ کا ہاتھ پہنچتا تھا اس سے بھی مشک کی خوشبو آتی تھی، آپ ایک بار شیخ قاسم سلیمانی کے مزار پر تشریف لے گیے، اتفاق سے تاج العارفین پیر مجیب اللہ قادری آپ کے خلیفہ بھی ہمراہ تھے، واپسی میں فرمانے لگے کہ حضرت قاسم بڑے خلیق ہیں، میں مزار کے دروازے ہی پر تھا کہ آکر استقبال کرکے اپنے مزار تک لے گئے، بجنسہٖ ایسا ہی اتفاق دیوان عبدالرشید جونپوری کے مزار پر بھی پیش آیا تھا، اہل مزار کے اخلاق کا جب ذکر آتا تو آپ ان دونوں بزرگوں کی تعریف فرماتے، آپ کا خطاب رسول نما مشہور ہے، آپ لوگوں کو حضرت رسول اللہ کی زیارت کرایا کرتے تھے، اس کی کیفیت یہ تھی کہ جب کوئی مستدعی ہوتی تھا تو اس کو ساڑہے تین مہینہ استخارہ کی ہدایت فرماتے، اگر امیدوار اس ہدایت پر عمل کرتا تو اس مدت میں زیادہ کی سعادت حاصل کر لیتا۔

تصنیفات جلیلہ : آپ علیہ الرحمہ کی لکھی ہوئی مشہور کتابیں یہ ہیں :

·      تفسیر قرآن الکریم (عربی)

·      شرح تہذیب (عربی)

·      حاشیہ میر زاہد ملا جلال (عربی)

·      ادعیہ بعدصلاۃ

·      حجۃ البالغہ و رد مذہب باطلہ

·      رسالہ در امامت اہل تشیع

·      الفقہ والاجتہاد

·      تحقیق ناسخ و منسوخ

 وصال مبارک:  گیارہویں ماہ ربیع الثانی ۱۱۶۶ھ کو آپ کا وصال ہوا، ‘‘باذات نبی‘‘ سے آپ کے وصال کی تاریخ نکلتی ہے، آپ کے وصال کے بعد لوگوں نے بنارس کے ایک بزرگ کو دیکھا کہ بہت اضطراب میں زمین کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے، زمین کو سخت زلزلہ ہے، کچھ دیر تک ان کا یہی حال رہا، افاقہ کے بعد الحمد للہ الحمد للہ کہا، لوگوں نے سبب پوچھا تو فرمایا کہ زمانہ کا قطب دنیا سے اٹھ گیا، جس سے زمین تہ و بالا ہو رہی تھی، جب اس کا قائم مقام منتخب ہوا تو زمین کو سکون ہوا، آپ کا مزار شہر بنارس محلہ مولوی جی کا باڑہ میں ہے جو آپ ہی کے نام سے منسوب ہے، ہر سال ۱۲، ۱۳، ۱۴ ربیع الثانی کو اعلیٰ پیمانہ پر عرس ہوتا ہے، سارا اہتمام و انتظام خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے ماتحت ہے، مولانا رسول نما کے خلیفۂ خاص تاج العارفین پیر مجیب اللہ قادری ہیں، آپ نے مولانا کے ملفوظات کو جمع فرمایا ہے، جس میں مختلف رسالے ہیں، مثلاً رسالہ اذان و نماز وغیرہ و رسالہ درود و اذکار، یہ سب کتابیں اس خاندان میں خصوصیت کے ساتھ پڑھائی جاتی ہیں، آپ کے مستقل خلفا ۱۷ ہیں جن میں چار صاحبِ مثال اور دو مکمل گزرے ہیں۔