شیخ اعظم حضرت سید اظہار اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ

ولادت اور ابتدائی زندگی:شیخ اعظم حضرت علامہ الحاج سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کی ولادت 6 محرم 1355ہجری  بمطابق 1935ء کو ہوئی۔ آپ علیہ الرحمہ  کے دادا محبوب ربانی  اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی  علیہ الرحمۃ نے ولادت سے قبل بشارت دی تھی کہ ان کے پوتے سے سلسلۂ اشرفیہ کا خوب خوب اظہار ہوگا، اور اسی بنیاد پر آپ علیہ الرحمہ  کا نام "اظہار اشرف” رکھا گیا۔ یہ بشارت آپ علیہ الرحمہ  نے اس وقت دی تھی جبکہ آپ علیہ الرحمہ  مدینہ منورہ میں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالکل سامنے تھے۔

آپ علیہ الرحمہ  کی تربیت خاندانی روایت کے مطابق انتہائی پاکیزہ اور تقدس بھرے ماحول میں ہوئی۔ جب آپ علیہ الرحمہ  کی عمر چار سال چار ماہ چار دن کی ہوئی تو بسم اللہ خوانی کی رسم نہایت اہتمام کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں آپ علیہ الرحمہ  کے والد گرامی حضرت سرکار کلاں، نانا حضرت سید مصطفیٰ اشرف، اور پھوپھا حضرت محدث اعظم ہند علیہم الرحمہ نے شرکت فرمائی۔

تعلیم و سندِ فراغت:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ کی تعلیم کا آغاز ایک عظیم روحانی اور علمی ماحول میں ہوا۔ آپ علیہ الرحمہ  نے درس نظامی کی تکمیل 1377ہجری  بمطابق 1975ء میں الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور سے کی اور سند فضیلت حاصل کی۔ آپ علیہ الرحمہ  کی شخصیت میں علمی فہم، فقہی بصیرت، اور روحانیت کی گہرائی بدرجۂ اتم موجود تھی، جس نے آپ علیہ الرحمہ  کو میدان علم و عمل کا شہسوار اور روحانیت و تصوف کا تاجدار بنایا۔

تدریسی خدمات:فراغت کے بعد حضرت اظہار اشرف علیہ الرحمہ نے فی سبیل اللہ تدریس کا آغاز کیا۔ آپ علیہ الرحمہ  نے 1377ہجری  تا 1381ہجری  بمطابق 1957ء تا 1961ء جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں بلا معاوضہ تدریسی خدمات انجام دیں، جہاں آپ علیہ الرحمہ  نے ہزاروں طلبہ کو علم و حکمت کے زیور سے آراستہ کیا۔

بیعت و ارادت: حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ 1378ہجری  بمطابق 1958ء میں آپ علیہ الرحمہ نے والد گرامی حضرت سید شاہ مختار اشرف اشرفی سرکار کلاں کے دست اقدس پر بیعت ہوئے۔ بیعت و ارادت کی بدولت آپ علیہ الرحمہ  کے اندر روحانیت و معرفت کے چراغ روشن ہوئے، جو بعد میں سلسلۂ اشرفیہ کی سربراہی اور فروغ کا ذریعہ بنے۔

نکاح اور عائلی زندگی:آپ علیہ الرحمہ  کا نکاح 1379ہجری  بمطابق 1959ء میں سیدہ نزہت فاطمہ علیہا الرحمہ کے ساتھ ہوا۔ نکاح کے بعد آپ علیہ الرحمہ  نے آپ علیہ الرحمہ نے پہلے تبلیغی و دعوتی دورے کا آغاز کیا، جو مالیگاؤں میں دس روزہ محرم شریف کے پروگرام کے سلسلے میں تھا۔

اہم تعمیری کارنامے:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی میں بے شمار تعمیری کارنامے انجام دیے، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:

جامع اشرف کی بنیاد 1399ہجری  بمطابق 1978ء میں رکھی گئی۔

مسجد اعلیٰ حضرت اشرفی کا قیام 1410ہجری  بمطابق 1989ء میں عمل میں آیا۔

مختار اشرف لائبریری 1416ہجری  بمطابق 1995ء میں قائم کی گئی۔

اشرف حسین میوزیم 1416ہجری  بمطابق 1996ء میں قائم ہوا۔

اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ  کے روضے کی تعمیر 1422ہجری  بمطابق 2001ء میں مکمل ہوئی۔

1425ہجری /2004 میں آپ علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں الاشرف اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا۔

1433ہجری /2012ء میں جامع اشرف کے جدید ہاسٹل کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

سیمانچل اور ضلع اتر دیناج پور میں آپ علیہ الرحمہ  نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی میں کثیر دینی و تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی جس کے بیان کے لئے صفحات درکار ہیں۔

آپ علیہ الرحمہ  نے نہ صرف ہندوستان بلکہ بنگلہ دیش میں بھی دینی درسگاہ "مدرسہ اشرفیہ اظہار العلوم” کی بنیاد رکھی، جو سلسلہ اشرفیہ اور سنیت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

آپ علیہ الرحمہ  کے قائم کردہ تمام علمی ادارے آج بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں اور دین اسلام اور علوم اسلامیہ کی اشاعت و تدریس و تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مذہبی صحافت میں کردار:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ نے مذہبی صحافت کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ علیہ الرحمہ  کی سرپرستی میں 1418ہجری  بمطابق 1997ء سے تا دم وفات ماہنامہ "الاشرف” کراچی سے شائع ہوتا رہا۔ اسی طرح، مجلہ "غوث العالم” کا اجرا بھی آپ علیہ الرحمہ  کی سرپرستی میں 1420ہجری  بمطابق 1999ء میں ہوا، جس نے مذہبی صحافت میں ایک طویل عرصے تک نمایاں کردار ادا کیا۔

حج و زیارت:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے کئی بار حج و زیارت کی سعادت سے بھی نوازا۔ آپ علیہ الرحمہ  نے پہلا حج 1387ہجری  بمطابق 1976ء میں کیا اور آخری سفر حج 1424ہجری  بمطابق 2003ء میں فرمایا۔ اسی طرح 1401ہجری  بمطابق 1980ء میں کربلائے معلیٰ، نجف اشرف، کاظمین، بغداد شریف اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت بھی کی۔

شعری و اشاعتی خدمات:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ نہ صرف ایک عظیم عالم، مہتمم و منتظم، داعی، صوفی، پیر اور خطیب تھے، بلکہ آپ علیہ الرحمہ  ایک کہنہ مشق مقبول شاعر بھی تھے۔ آپ علیہ الرحمہ  کا شعری مجموعہ "اظہار عقیدت” پہلی بار 1423ہجری  بمطابق 2002ء اور دوسری بار 1428ہجری  بمطابق 2007ء میں شائع ہوا۔ آپ علیہ الرحمہ  کی شاعری میں عشقِ رسول اور اہل بیت کی محبت کا رنگ نمایاں ہے۔ آپ علیہ الرحمہ  نے اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کے مجموعۂ کلام "تحائف اشرفی” پر تضمین کی صورت میں "اظہار سخن” کی بھی اشاعت فرمائی، جو تصوف و روحانیت میں آپ علیہ الرحمہ  کی گیرائی و گہرائی اور عقیدت کا مظہر ہے۔ آپ علیہ الرحمہ  نے فارسی زبان میں غوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی علیہ الرحمہ  کے ترجمۂ قرآن کا اردو ترجمہ "اظہار البیان” کے نام سے بھی شائع کیا۔

سجادہ نشینی:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ 21 شعبان 1417ہجری  بمطابق 2 جنوری 1997ء کو والد گرامی سرکار کلاں حضرت مفتی سید شاہ مختار اشرف اشرفی علیہ الرحمۃ کے وصال کے بعد خانقاہ اشرفیہ سرکار کلاں کے سجادہ نشین بنے۔ آپ علیہ الرحمہ  نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی کے آخری لمحہ تک کو خانقاہ کی ترقی و توسیع میں صرف کیا۔

خراجِ تحسین:آپ علیہ الرحمہ  کی علمی و دینی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ماہنامہ غوث العالم نے 2007ء میں آپ علیہ الرحمہ  پر خصوصی شمارہ ’’معارف شیخ اعظم‘‘ شائع کیا، جس میں آپ علیہ الرحمہ  کی زندگی اور خدمات کو سراہا گیا۔

آخری خطاب:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی کا آخری خطاب 15 دسمبر 2012ء کو بہار کے علاقے باڑی، بائسی، ضلع پورنیہ میں فرمایا۔

اوصاف:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ ایک صاف دل اور نیک سیرت انسان تھے۔ ان کی زندگی عفو و درگذر، بڑوں کی تعظیم، اور چھوٹوں پر شفقت سے عبارت تھی۔ وہ خاموش طبع تھے، لیکن ہمیشہ عمل اور کوشش میں مصروف رہتے تھے۔ حاجت مندوں کی مدد کرنا، ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کرنا، مہمان نوازی اور خوش اخلاقی ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔

وصال پرملال: علم و عمل کا یہ روشن چراغ اور شریعت و طریقت کا یہ مہر درخشاں 29 ربیع الاول 1433ہجری  بمطابق 22 فروری 2012ء کو بدھ کے روز ممبئی کے اسماعیلیہ اسپتال میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ آپ علیہ الرحمہ  کی کی نماز جنازہ خلف اکبر قائد ملت حضرت مولانا سید شاہ محمد محمود اشرف اشرفی جیلانی، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف، نے پڑھائی اور تدفین یکم ربیع الآخر 1433ہجری  بمطابق 24 فروری 2012ء بروز جمعہ کچھوچھہ شریف میں ہوئی۔

 ( بشکریہ: محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، مغربی بنگال) 

No comments:

Post a Comment