امین شریعت حضرت علامہ رفاقت حسین اشرفی علیہ الرحمہ


نام ونسب: امین شریعت حضرت علامہ شاہ رفاقت حسین اشرفی مظفر پوری علیہ الرحمہ کا اسمِ گرامی مولانا رفاقت حسین کانپوری تھا۔اور آپ کا نسبی تعلق مشہور بزرگ حضرت سید شاہ جلال الدین جڑھوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔

سلسلہ نسب: آپ علیہ الرحمہ کا سلسلہ ٔ نسب یوں ہے: حضرت قبلہ رفاقت حسین بن مولوی شاہ عبد الرزاق بن شاہ حسین بخش بن خدا بخش بن میر شاہ تراب علی بن حضرت شاہ جلال الدین علیہم الرحمۃ ۔

القاب و خطابات:مفتیٔ اعظم کانپور،امین شریعت،برہان الاصفیاء،سلطان المتکلمین  ،مناظر اہل سنت

تاریخِ ولادت:مفتی رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ 1324 ھ میں بھوانی، ضلع مظفر پور، ہندستان میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم: آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم مرچا اسکول میں درجہ چار تک تعلیم پائی، بعدہ قریب کی بستی عارض پور کے مولوی طاہر حسین مرحوم سے فارسی گلستاں بوستاں تک پڑھی۔بعد مدرسہ عزیزییہ بہار شریف میں داخل ہوئے حضرت مولانا شاہ حبیب الرحمٰن بہاری مرحوم سے شرح وقایہ شروع کی۔ دار العلوم کے اساتذہ حضرت صدر الشریعہ مولانا حکیم امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ، مولانا حکیم سید عبد الحئی افغانی علیہ الرحمہ، مولانا مفتی متقدمین کی کتابوں کا درس لیا۔اس کے علاوہ دیگر مدارس میں مختلف علوم وفنون حاصل کئے۔

بیعت وخلاف: آپ علیہ الرحمہ  محبوب ربانی شیخ المشائخ اعلی حضرت سیدحسین اشرف اشرفی میاں  کچھوچھوی علیہ الرحمہ کے مرید ہوئے۔تمام سلاسل کی اجازت مرحمت ہوئی اور شجرۂ مبارکہ کی پشت پردست مبارک سے سلسلہ عالیہ قادریہ منوریہ تحریر فرماکر اجازت دی۔

سیرت وخصائص: برہان الاصفیاء سلطان المتکلمین،شرف الاسلام والمسلمین حضرت مولانا الحاج شاہ رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ چلتی پھرتی دینی درس گاہ تھے۔ آپ زمانۂ طالب علمی میں جس طرح دوسرے طلباء سے ممتاز تھے اسی طرح خداداد تدریسی صلاحیت نے آپ کو ایک منفرد مقام عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ  آپ کو اپنی معیت میں بریلی لائے،مدرسہ منظر اسلام میں درس و تدریس کا عہدہ سپرد کیا۔ایک سال بعد مدرسہ محمدیہ جائس ضلع رائے بریلی کے صدر مدرس ہوکر تشریف لے گئے،کچھ عرصہ بعد مدرسہ محمدیہ سے علیحدگی اختیار کرلی،بعدہٗ محلہ قضیانہ میں قیام کر کے مطب کے ساتھ درس دیتے رہے۔ لکھنؤ میں شیعت کا زورتیزی سے پھیل رہا تھا، سب وشتم کا بازار گرم تھا حضرت قبلہ نے رو افض کا ردبلیغ فرمایا،جس سے اُن کا زور ٹوٹ گیا۔چند سال جامع مسجد سلطانپور کے خطیب رہے، یہاں مولوی امین نصیر آبادی کی سُنیت دشمن سرگمیوں کے انسداد کےلیے گوشش فرمائی،یہاں سے عقیدت مندانِ جائسی کی درخواست پر چندے جائس قیام فرماکر وطن مراجعت فرمائی،قضاء الٰہی شدید بیمار ہوکر صاحب فراش ہوگئے،بارے خدا نے صحت عطا فرمائی۔وطن میں طبابت کا مشغلہ رہا۔ تین سال بعد پھر جائس تشریف لے گئے،تقریباً سترہ برس بعد مدرسہ احسن المدارس کانپور کے مفتئ اعظم کا منصب رفیع سپرد کیا۔آپ کانپور سے بار ادہ حج وزارت روانہ ہوئے، مکہ معظمہ میں الگ قیام جماعت کے سبب قاضی نجدی سے گفتگو ہوئی،آپ کامیاب اور وہ خائب و خاسر ہوا۔بعدہٗ دربار نبوی میں میں حاضری دی،حضرت قطب مدینہ منورہ مولانا شاہ محمد ضیاء الدین قادری اشرفی  علیہ الرحمہ  نے سند حدیث اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کی اجازت مرحمت فرمائی۔

قیادت و سرپرستی:جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی شریف ،ادارۂ شریعہ بہار پٹنہ ،آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء ممبئی ،مدرسہ احسن المدارس قدیم کانپور۔

تصنیفی خدمات:تفسیر سوره بقره ،شرح ترمذی شریف،الحقيقۃ المحمديہ،مجموعہ فتاویٰ،فوائد حامدیہ،امتناع النظیر،طریقہ حنفیہ،عورت کی نماز ،قرآن اور ابلیس،کشکول رفاقتی،شیعی مذہب،قادیانی کذاب،الیاسی جماعت،حقیقت جماعت اسلامی،عرس کی شرعی حیثیت

تاریخ وصال: آپ رحمۃ اللہ علیہ 3 ربیع الثانی 1403 ہجری /بمطابق جنوری 19833 ء کو وصال ہوا۔

(ماخذ : تذکرۂ علماء اہلسنت بحوالہ انجمن ضیاء طیبہ و دیگرمضامین سے مآخوذ) 

1 comment:

  1. شكرا علي قدمت اعمال تستحق الشكر عليها وتقدم شركة تنظيف فلل بالقطيف خدمات متميزة تجمع بين الدقة والسرعة والاحترافية، مع استخدام مواد آمنة وأجهزة حديثة لضمان أفضل النتائج وتتيح حلولاً مناسبة للتنظيف مع فريق مدرب يهتم بأدق التفاصيل ويمنح المكان مظهراً نظيفاً وبيئة صحية مريحة تستحق التجربة لكل من يبحث عن جودة موثوقة فعلاً.

    ReplyDelete