آپ علیہ الرحمہ ملک شام سے تعلق رکھنے والے عالمِ
کبیر، مایہ ناز فقیہ، صوفی باصفا اور کثیر التصانیف مصنف تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کا
شمار اپنے دور میں سلطنت عثمانیہ کی ممتاز ترین علمی اور روحانی شخصیات میں ہوتا
تھا۔ اسلامی دنیا، خصوصاً برصغیر پاک و ہند کے علماء (جیسے امام احمد رضا خان
بریلوی علیہ الرحمہ ) آپ کے علمی تبحر اور فتاویٰ کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے
ہیں۔
ولادت باسعادت: آپ علیہ
الرحمہ کی ولادت 10 ذی الحجہ 1050ہجری کو دمشق (شام) میں ہوئی۔
خاندان: آپ کا
خاندان اصلاً فلسطین کے شہر نابلس سے تعلق رکھتا تھا، اسی لیے آپ
"نابلسی" کہلاتے ہیں۔ آپ کے والد اسماعیل نابلسی بھی فقہ حنفی کے ایک
بڑے عالم اور مصنف تھے۔
علمی و فقہی مقام: آپ علیہ الرحمہ فقہی مسائل میں امام
ابو حنیفہ کے مقلد (حنفی) تھے اور فقہ حنفی کی باریکیوں پر گہری نظر رکھتے
تھے۔
تدریس و افتاء: آپ علیہ
الرحمہ نے محض 20 سال کی عمر سے ہی جامع اموی (دمشق) میں تدریس اور فتاویٰ نویسی
کا آغاز کر دیا تھا۔
سلاسلِ تصوف: آپ صوفی
باصفا تھے اور آپ کو سلسلہ قادریہ اور سلسلہ نقشبندیہ دونوں سے نسبت
حاصل تھی۔ آپ علیہ الرحمہ شیخِ اکبر محی الدین ابن العربی قد
س سرہ النورانی کے افکار (خصوصاً وحدت الوجود) کے بڑے حامی اور شارح مانے جاتے
تھے۔
مشہور تصانیف: امام نابلسی علیہ الرحمہ نے مختلف
اسلامی علوم (تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، اور شاعری) پر 250 سے زائد کتب و رسائل تحریر کیے۔ ان کی چند مشہور ترین کتابیں یہ ہیں:
الحديقۃ النديۃ شرح الطريقۃ المحمديۃ: یہ امام برکوی کی کتاب کی مشہور شرح ہے، جس پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
خان نے عربی میں حواشی بھی لکھے ہیں۔
تعطير الأنام في تعبير المنام: یہ خوابوں کی تعبیر پر لکھی گئی اسلامی تاریخ کی سب سے مستند اور
مقبول ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔
نہایۃ المراد شرح ہدیۃ ابن العماد: فقہ حنفی کے مسائل پر اہم کتاب۔
سفرنامے: آپ علیہ
الرھمہ نے مصر، حجاز (مکہ و مدینہ)، یروشلم (بیت المقدس) اور طرابلس کے سفرنامے
بھی لکھے جو اس دور کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔
حضرت امام عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
میرے نزدیک وہ شخص سراسر جاہل ہے جو بعض گمراہ فرقوں کی طرح یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ
’’روحیں عارضی ہیں اور موت کے سبب وہ ایسے زائل ہوجاتی ہیں جیسے مردے سے حرکات و
سکنات زائل ہوجاتی ہیں‘‘ اور وہ گمراہ فرقے یہ سمجھتے ہیں کہ جب اولیاء اﷲ رحمہم
اﷲ انتقال کرجاتے ہیں تو وہ مٹی ہوجاتے ہیں اور زمین کی مٹی کے ساتھ مل کر ان کی
روحیں بھی ختم ہوجاتی ہیں لہذا ان کی قبروں کی کوئی تعظیم نہیں۔ اس وجہ سے یہ لوگ
ان کی توہین و تحقیر کرتے ہیں اور ان کی زیارت، ان سے برکت حاصل کرنے والوں پر
اعتراض کرتے ہیں۔
حضرت امام عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
ایک دن میں حضرت سیدنا ارسلان دمشقی علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار کی زیارت کے لئے
جارہا تھا تو میں نے خود اپنے کانوں سے ایک شخص کو یہ کہتے سنا ’’تم ان مٹی کے
ڈھیروں پر کیوں جاتے ہو؟ یہ تو سراسر بے وقوفی ہے‘‘ اس کی بات سنکر مجھے انتہائی
تعجب ہوا۔ میں نے دل میں کہا ’’کوئی مسلمان ایسی بات نہیں کہہ سکتا‘‘ (کشف النور
عن اصحاب القبور، امام عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ، ص 103، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،
کراچی)