قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف علیہ الرحمہ


 نام و نسب: نام ، یعقوب۔

 کنیت : ابو یوسف۔

لقب: قاضی القضاۃ ۔

ولادت باسعادت:  ۱۱۳ ہجری  / ۷۳۱ ء علوم و معا رف کے شہر کوفہ میں ہوئی ۔

تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے فقہ کو پسند کیا ، پہلے حضرت عبد الرحمن بن ابی یعلی علیہ الرحمہ کی شاگردی اختیار کی ،پھر حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حلقہ ٔ درس میں آئے اور مستقل طور پر انہیں سے وابستہ ہو گئے ۔والدین نہایت غریب تھے جو آپکی تعلیم کو جاری نہیں رکھنا چاہتے تھے، جب حضرت امام اعظم کو حالات کا علم ہوا توانہوں نے نہ صرف آپ کے تعلیمی مصارف بلکہ تمام گھر والوں کے اخراجات کی کفالت اپنے ذمہ لے لی۔ حضرت امام ابو یوسف فرمایا کر تے تھے، مجھے امام اعظم سے اپنی ضروریات بیان کرنے کی کبھی حاجت نہیں ہوئی ۔ وقتا فو قتا خود ہی اتنا روپیہ بھیجتے رہتے تھے کہ میں فکر معاش سے بالکل آزاد ہو گیا ۔

قوت حافظہ اور علم و فضل :۔آپ ذہانت کے بحر ذخار تھے، آپکی ذہانت و فطانت بڑے بڑے فضلائے روزگار کے دلوں میں گھر کر گئی تھی ۔

حضرت سیدنا ملا احمد  جیون علیہ الرحمہ  صاحب نو ر الانوار فرماتے ہیں :۔ قاضی القضاۃ  حضرت امام ابو یوسف علیہ الرحمہ کو بیس ہزار موضوع احادیث یا د تھیں ،پھر صحیح احادیث کے بارے میں تجھے کیا گمان ہے ۔

حاظ ابن عبد البر لکھتے ہیں :۔آپ علیہ الرحمہ  محدثین کے پاس حاضر ہو تے تو ایک ایک جلسہ میں پچاس پچاس اور ساٹھ ساٹھ حدیثیں سن کر یاد کر لیتے تھے۔

امام یحیی ابن معین ، امام احمد بن حنبل، اور شیخ علی بن المدینی علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں :۔امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ  کے شاگردوں میں آپ کا ہم سر نہ تھا۔

طلیحہ ابن محمد کہتے ہیں :۔وہ اپنے زمانہ کے سب سے بڑی فقیہ تھے، کوئی ان سے بڑھ کر نہ تھا ۔

داؤد بن رشد کا قول ہے:۔امام ابو حنیفہ نے صرف یہ ہی ایک شاگرد پیدا کیا ہو تا تو انکے فخر کے لئے کا فی تھا۔

آپ علیہ الرحمہ  کو نہ صرف نقد حدیث پر عبور حاصل تھا بلکہ تفسیر، مغازی، تاریخ عرب، نعت ، ادب، اور علم کلام وغیرہ علوم و فنون میں بھی کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ یہ ہی وہ فطری ذہانت تھی جس نے چند سال میں آپ کو سارے ہم عصروں میں ممتاز کر دیا تھا اور علماء وقت آپکے تبحر علمی اور جلالت فقہی کے قائل تھے۔ خود امام اعظم آپ کی بڑے قدر و منزلت فرماتے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے شاگردوں میں سب سے زیادہ جس نے علم حاصل کیا وہ ابو یوسف ہیں۔

قاضی القضاۃ:۔۱۶۶ہجری  /۷۸۳ء میں آپ جب بغداد تشریف لائے تو خلیفہ محمد المہدیبن منصور نے آپ علیہ الرحمہ  کو بصرہ کا قاضی مقرر کر دیا ۔ہادی بن مہدی بن منصور کے زمانہ میں بھی آپ اسی عہدہ پر فائز رہے ۔ جب ہارون الرشید نے۱۹۳ ھ /۸۰۸ء میں عنان حکومت سنبھالی تواس نے آپ کو تمام سلطنت عباسیہ کا قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) مقرر کر دیا۔

مو جودہ زمانے کے تصور کے مطابق یہ عہدہ محض عدالت عالیہ کے حاکم اعلی کا نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ وزیر قانون کے فرائض بھی اس میں شامل تھے۔ اور سلطنت کے تمام داخلی و خارجی معاملات میں قانونی رہنمائی کرنا بھی آپ کا کام تھا۔ مملکت اسلامیہ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کہ یہ منصب قائم ہوا۔ اس سے پہلے کوئی شخص خلافت راشدہ، اموی یا عباسی سلطنتوں میں اس عہدہ پر فائز نہ ہوا۔ بلکہ زمانہ مابعد میں بھی بجز قاضی داؤد کے اور کسی کویہ عہدہ تفویض نہ ہوا۔

عبادت و ریاضت:۔آپ عہدہ قضا اور علمی مشاغل کے باوجود عبادت و ریاضت میں بھی بلند مقام رکھتے تھے، آپ خود فرمایا کر تے تھے کہ میں امام اعظم کی خدمت میں انتیس سال رہا اور میری صبح کی نماز با جماعت فوت نہیں ہوئی ۔

بشیر بن ولید کا بیان ہے کہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ  کے زہد و ورع اور عبادت و تقوی کا یہ عالم تھا کہ زمانہ قضا ء و وزارت میں بھی دو سو رکعتیں نوافل ادا کر تے۔

تلامذہ:۔ آپ کے شا گردوں میں محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ  ، شفیق بن ابراہیم بلخی علیہ الرحمہ  ، امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ  ،بشر بن الولید کندی علیہ الرحمہ  ، محمد بن سماعہ علیہ الرحمہ  ، معلی بن منصور علیہ الرحمہ  ، بشر بن غیاث علیہ الرحمہ  ، علی بن جعدہ علیہ الرحمہ  ، یحیی بن معین علیہ الرحمہ  ، احمد بن منیع علیہ الرحمہ  ، امام اسد بن فرات علیہ الرحمہ، امام وکیع بن جراح علیہ الرحمہ ، امام ابو حفص کبیر بخاری علیہ الرحمہ ، وغیرہ محدثین کبار و فقہائے کرام آفتاب و ماہتاب کی طرح درخشاںو تاباں نظر آتے ہیں۔

تصیف و تالیف: حضرت امام ابو یوسف علیہ الرحمہ اسلامی تاریخ کے ان مایہ ناز محدثین اور فقہاء میں سے ہیں جنہوں نے علم کو صرف زبانی روایت تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے تحریری اور کتابی شکل میں محفوظ کیا۔ آپ کو فقہ حنفی کا پہلا باقاعدہ مصنف تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے خود کتب بہت کم لکھیں، ان کی فقہ کو مدون کرنے اور کتابی شکل دینے کا اصل کام امام ابو یوسف ہی نے شروع کیا۔آپ علیہ الرحمہ کی تصنیفی و تالیفی خدمات کا دائرہ فقہ، حدیث، معیشت، اور بین الاقوامی قوانین (سیر) تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ کی اہم ترین تصنیفات درج ذیل ہیں:

کتاب الخراج: یہ آپ علیہ الرحمہ کی سب سے مشہور اور معرکتہ الآراء تصنیف ہے۔ یہ کتاب عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی خصوصی درخواست اور سوالات کے جواب میں لکھی گئی تھی۔ خلیفہ اسلامی سلطنت کے مالیاتی اور معاشی نظام کو شریعت کے مطابق چلانا چاہتا تھا۔ یہ کتاب اسلامی نظامِ معیشت اور پبلک فائنانس (عوامی مالیات) پر دنیا کی پہلی باقاعدہ دستاویز ہے۔ اس میں ٹیکس، زکوٰۃ، خراج، زمینوں کی آباد کاری، زراعت، پانی کے مسائل، اور قیدیوں کے حقوق جیسے اہم معاشی و ریاستی امور پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

کتاب الآثار: یہ علمِ حدیث اور فقہ کے امتزاج کی ایک بہترین اور مستند کتاب ہے۔اس کتاب میں امام ابو یوسف علیہ الرحمہ نے اپنے استاد امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے واسطے سے مرویات، احادیثِ نبوی اور صحابہ و تابعین کے آثار و فتاویٰ کو جمع کیا ہے۔ یہ کتاب فقہ حنفی کے دلائل کا بنیادی ماخذ سمجھی جاتی ہے۔

کتاب اختلافِ ابن ابی لیلیٰ و ابی حنیفہ:کوفہ کے مشہور قاضی ابن ابی لیلیٰ علیہ الرحمہ اور حضرت سیدنا امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے درمیان جن فقہی مسائل میں اختلاف تھا، امام ابو یوسف علیہ الرحمہ نے اس کتاب میں ان کا موازنہ کیا ہے۔چونکہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ نے قاضی ابن ابی لیلیٰ سے بھی علم حاصل کیا تھا، اس لیے انہوں نے دونوں ائمہ کے دلائل کو بڑی غیر جانبداری کے ساتھ پیش کیا ہے اور آخر میں امام اعظم علیہ الرحمہ کے موقف کی تائید کی ہے۔

کتاب الرد علیٰ سیر الاوزاعی:یہ کتاب بین الاقوامی قوانین اور جنگ و امن کے اسلامی اصولوں پر مبنی ہے۔شام کے عظیم فقیہ امام اوزاعی علیہ الرحمہ نے امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے بعض ان نظریات سے اختلاف کیا تھا جو جنگی قوانین اور غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں تھے۔ امام ابو یوسف نے اس کتاب میں امام اوزاعی کے اعتراضات کا علمی اور مدلل جواب دیا ہے۔

کتاب الامالی :یہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ کی وہ علمی مجالس ہیں جو انہوں نے اپنے شاگردوں کو املا (ڈکٹیٹ) کروائیں۔ ان میں مختلف پیچیدہ فقہی مسائل کے حل اور ان کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔

دیگر تصنیفات: مورخین اور تذکرہ نویسوں کے مطابق امام ابو یوسف نے دسیوں دیگر رسائل اور کتب بھی لکھیں جو وقت کے ساتھ ناپید ہو گئیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

کتاب الجوامع: فقہی اصولوں کا مجموعہ۔

کتاب الادب القاضی: قاضیوں اور عدالت کے آداب و ضوابط پر مبنی کتاب۔

کتاب الصلاۃ و کتاب الزکوٰۃ: عبادات کے احکام پر الگ الگ رسائل۔

 وصال پرملال:۔ ۵؍ ربیع الاول ۱۸۷ ہجری  جمعرات کے روز ظہر کے وقت بغداد شریف میں علم و عرفان کا یہ آفتاب غروب ہو گیا۔ مزار شریف احاطۂ حضرت امام موسی کاظم رضی اللہ عنہ  کے شمالی گوشہ میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ (بحوالہ : انوار امام اعظم۔ مصنفہ مولانا محمد منشا تابش قصوری ودیگر کتابوں سے مآخوذ)

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (حصہ اول)

 


  بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ  (1)

اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ

ترجمہ: دین خیر خواہی کا نام ہے۔ (شرح السنۃ از امام بغوی  علیہ الرحمہ جلد 13، صفحہ 118 / شرح صحیح مسلم از امام نووی علیہ الرحمہ جلد 2، صفحہ 36)

Roman Urdu:  (1)  

اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ

Tarjuma: Deen Khair Khwahi Ka Naam Hai. (Sharhus-Sunnah Az Imam Baghawi Alaihir Rahmah, Jild 13, Page 118 / Sharh Sahih Muslim Az Imam Nawawi Alaihir Rahmah, Jild 2, Page 36)

 

 بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (2)

  اَلْاِيْمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ شُعْبَةً

ترجمہ: ایمان کی ستر سے کچھ زائد شاخیں ہیں۔ (شعب الايمان از امام بیہقی علیہ الرحمہ جلد 1 صفحہ 46)

Roman Urdu:  (2)

  اَلْاِيْمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ شُعْبَةً

Tarjuma: Iman Ki Sattar Se Kuch Zaid Shakhain (Branches) Hain. (Shu'ab-Ul-Eeman Az Imam Baihaqi Alaihir Rahmah, Jild 1, Page 46)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (3)

  اَلطُّهُوْرُ شَطْرُ الْإِيْمَانِ

ترجمہ: پاکی اور صفائی نصف ایمان ہے۔ (الاربعین النوویۃ از امام یحییٰ بن شرف نووی  علیہ الرحمہ الحدیث 23)

Roman Urdu:  ﷺ (3)

  اَلطُّهُوْرُ شَطْرُ الْإِيْمَانِ

Tarjuma: Paaki Aur Safaai Nisf (Aadha) Iman Hai.( Al Arba'een-An-Nawawiyyah Az Imam Yahya Bin Sharaf Nawawi Alaihir Rahmah, Al-Hadith: 23)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (4)

  اَلصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّيْنِ

ترجمہ: نماز دین کا ستون ہے۔ (احیاء علوم الدین از امام غزالی علیہ الرحمہ جلد 1، صفحہ 147)

Roman Urdu:  ﷺ (4)

  اَلصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّيْنِ

Tarjuma: Namaz Deen Ka Sutoon Hai. (Ahyaul-Uloom-al-Deen Az Imam Ghazali Alaihir Rahmah, Jild 1, Page 147)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (5)

  اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَيَدِهٖ

ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (جامع العلوم والحكم از ابن رجب حنبلی علیہ الرحمہ جلد 1، صفحہ 220)

Roman Urdu:  ﷺ (5)

  اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَيَدِهٖ

Tarjuma: Musalman Wo Hai Jis Ki Zaban Aur Hath Se Doosre Musalman Mahfooz Rahein.(Jami'-Ul-'Uloom Wal-Hikam Az Ibn Rajab Hanbali Alaihir Rahmah, Jild 1, Page  220)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (6)

  اَلْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ

ترجمہ: مومن مومن کا آئینہ ہے۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائداز حافظ نور الدین ہیثمی علیہ الرحمہ  جلد 8، صفحہ 88)

Roman Urdu:  ﷺ (6)

  اَلْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ

Tarjuma: Momin Momin Ka Aaina Hai. (Majma'-Uz-Zawaid Wa Manba'-Ul-Fawaid Az Hafiz Nooruddin Haithami Alaihir Rahmah, Jild 8, Page 88)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (7)

  إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ

ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (عمدة القاری شرح صحیح البخاری از علامہ بدر الدین عینی جلد 1تحت حدیث 1)

Roman Urdu:  ﷺ (7)

  إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ

Tarjuma: A'maal Ka Daromadar Niyyaton Par Hai. (UmdatUl-Qari Sharh Sahih Al-Bukhari Az Allama Badruddin 'Ayni, Jild 1)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (8)

اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ

ترجمہ: نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے۔ (ریاض الصالحین از امام نووی  علیہ الرحمہ ، حدیث 621)

Roman Urdu:  ﷺ (8)

اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ

Tarjuma: Neki Acche Akhlaq Ka Naam Hai.(RiyadUs-Saliheen Az Imam Nawawi Alaihir Rahmah, Al-Hadith: 621)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (9)

  لاَ تَغْضَبْ

ترجمہ: غصہ نہ کرو۔

(فتح الباری شرح صحیح البخاری از ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ جلد 10، صفحہ 520)

Roman Urdu:  (9)

  لاَ تَغْضَبْ

Tarjuma: Gussa Na Karo. (FathUl-Bari Sharh Sahih Al-Bukhari Az Ibn Hajar Asqalani Alaihir Rahmah, Jild 10, Page 520)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (10)

  اَلْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ

ترجمہ: جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔ (الجامع الصغیر از امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ الحدیث 3642)

Roman Urdu:  (10)

  اَلْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ

Tarjuma: Jannat Maon Ke Qadmon Ke Neeche Hai.(Al-Jami'-Us-Sagheer Az Imam Jalaluddin Suyooti Alaihir Rahmah, Al-Hadith: 3642)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (11)

  رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ

ترجمہ: رب کی رضا والد کی رضا میں ہے۔(البر والصلۃ از  علامہ ابن الجوزی علیہ الرحمہ صفحہ 82)

Roman Urdu (11)

  رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ

Tarjuma: Rab Ki Riza Walid Ki Raza Mein Hai. (Al-Birr Wal-Silah Az Allama Ibn Al-Jawzi Alaihir Rahmah, Page 82)

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (12)

  خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهٗ

ترجمہ: تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔

فیض القدیر شرح الجامع الصغیر از علامہ مناوی علیہ الرحمہ (جلد 3، صفحہ 618)

 

Roman Urdu (12)

  خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهٗ

 Tarjuma: Tum Mein Behtareen Woh Hai Jo Quran Seekhe Aur Sikhaye. (Faydul Qadeer Sharh Al-Jami' Al-Saghir Az Allama Munawi Alaihir Rahmah, Vol 3, Page 618)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (13)

  اَلدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهٖ

ترجمہ: نیکی کی راہ دکھانے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔

(مرقاة المفاتیح شرح مشكاة المصابیح از ملا علی قاری علیہ الرحمہ جلد 1، صفحہ 282)

Roman Urdu (13)

  اَلدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهٖ

 Tarjuma: Neki Ki Rah Dikhane Wala Neki Karne Wale Ki Tarah Hai. (Mirqatul Mafatih Sharh Mishkat Al-Masabih Az Mulla Ali Qari Alaihir Rahmah, Vol 1, Page 282)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ(14)

اَلْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهٗ

ترجمہ: عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔(محاسبۃ النفس از ابن ابی الدنیا علیہ الرحمہ صفحہ 22)

Roman Urdu (14)

اَلْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهٗ

Tarjuma: Aqalmand Woh Hai Jo Apne Nafs Ka Muhasba Kare.  (Muhasabat Al-Nafs Az Ibn Abi Al-Dunya Alaihir Rahmah, Page 22)

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (15)

  مَنْ لاَ يَرْحَمْ لاَ يُرْحَمْ

ترجمہ: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ (مشكاة المصابیح از علامہ خطیب تبریزی علیہ الرحمہ حدیث 4947)

 

Roman Urdu (15)

 مَنْ لاَ يَرْحَمْ لاَ يُرْحَمْ

Tarjuma: Jo Raham Nahi Karta Us Par Raham Nahi Kiya Jata.  (Mishkat Al-Masabih Az Allama Khatib Tabrizi Alaihir Rahmah, Al-Hadith: 4947)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (16)

  اِتَّقِ اللّٰہَ حَيْثُمَا كُنْتَ

ترجمہ: تم جہاں بھی ہو اللہ سے ڈرو۔ (الاربعین النوویۃ از امام نووی علیہ الرحمہ حدیث 18)

Roman Urdu (16)

  اِتَّقِ اللّٰہَ حَيْثُمَا كُنْتَ

Tarjuma: Tum Jahan Bhi Ho Allah Se Daro.  (Al-Arba'in Al-Nawawiyyah Az Imam Nawawi Alaihir Rahmah, Al-Hadith: 18)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (17)

سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ

ترجمہ: قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے۔ (مقاصد حسنہ از امام سخاوی علیہ الرحمہ صفحہ 388)

Roman Urdu (17)

 سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ

Tarjuma: Qaum Ka Sardar Un Ka Khadim Hota Hai. (Maqasid Hasanah Az Imam Sakhawi Alaihir Rahmah, Page 388)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (18)

  اَلْحَيَاءُ مِنَ الْإِيْمَانِ

ترجمہ: حیا ایمان کا حصہ ہے۔ (مكارم الاخلاق از امام ابن ابی الدنیا علیہ الرحمہ صفحہ 43)

 

Roman Urdu (18)

 اَلْحَيَاءُ مِنَ الْإِيْمَانِ

Tarjuma: Haya Emaan Ka Hissa Hai.  (Makarim Al-Akhlaq Az Imam Ibn Abi Al-Dunya Alaihir Rahmah, Page 43)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (19)

  اَلْقَنَاعَةُ كَنْزٌ لَّايَفْنَى

ترجمہ: قناعت ایسا خزانہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ (کشف الخفاء ومزیل الالباس از علامہ اسماعیل عجلونی علیہ الرحمہ جلد 2، صفحہ 132)

Roman Urdu (19)

 اَلْقَنَاعَةُ كَنْزٌ لَّايَفْنَى

Tarjuma: Qana'at Aisa Khazana Hai Jo Khatam Nahi Hota.  (Kashf Al-Khafa Wa Muzil Al-Ilbas Az Allama Ismail Ajluni Alaihir Rahmah, Vol 2, Page 132)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (20)

اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَهٗ

ترجمہ: گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ (فتاویٰ رضویہ از اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ  جلد 21، صفحہ 140)

 

Roman Urdu (20)

اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَهٗ

Tarjuma: Gunah Se Taubah Karne Wala Aisa Hai Jaise Us Ne Gunah Kiya Hi Na Ho. (Fatawa Razawiyyah Az A'la Hazrat Imam Ahmad Raza Khan Barelvi Alaihir Rahmah, Vol 21, Page 140)

 

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (21)

  مَنْ صَمَتَ نَجَا

ترجمہ: جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔)الصمت وآداب اللسان از امام ابن ابی الدنیا علیہ الرحمہ صفحہ 45)

 

Roman Urdu: 21

  مَنْ صَمَتَ نَجَا

Tarjuma: Jo Khamosh Raha Us Ne Najaat Pai.(Al-Samt Wa AadabUl Lisan Az Imam Ibn Abi Dunya Alaihir Rahmah, Page  45)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (22)

  اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى

ترجمہ: دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔(ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری از علامہ قسطلانی  علیہ الرحمہ جلد 3، صفحہ 48)

 

Roman Urdu (22)

  اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى

Tarjuma: Dene Wala Haath Lene Wale Haath Se Behtar Hai. (IrshadUs Sari Li-Sharh Sahih Al-Bukhari Az Allama Qastallani Alaihir Rahmah, Jild 3, Page 48)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (23)

  تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيْكَ صَدَقَةٌ

ترجمہ: اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔(الترغیب والترہیب از امام منذیری علیہ الرحمہ جلد 3، صفحہ 153)

Roman Urdu (23)

  تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيْكَ صَدَقَةٌ

Tarjuma: Apne Bhai Ke Samne Muskurana Bhi Sadaqah Hai. (Al-Targheeb Wat-Tarheeb Az Imam Munziri Alaihir Rahmah, Jild 3, Page 153)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (24)

  لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ

ترجمہ: رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(الزواجر عن اقتراف الکبائر از ابن حجر ہیتمی علیہ الرحمہ جلد 2، صفحہ 120)

Roman Urdu (24)

  لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ

Tarjuma: Rishta Todne Wala Jannat Mein Dakhil Nahi Hoga. (Al-Zawajir 'An Iqtiraful-Kaba-ir Az Ibn Hajar Haitami Alaihir Rahmah, Jild 2, Page 120)

 

بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ (25)

  اَلْمُؤْمِنُ لاَ يَلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ وَّاحِدٍ مَرَّتَيْنِ

ترجمہ: مومن ایک سوراخ سے دو بار ڈسا نہیں جاتا۔(عمدة القاری شرح صحیح البخاری ازامام بدر الدین عینی علیہ الرحمہ جلد 22، صفحہ 228)

Roman Urdu (25)

  اَلْمُؤْمِنُ لاَ يَلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ وَّاحِدٍ مَرَّتَيْنِ

Tarjuma: Momin Ek Surakh Se Do Baar Dasa Nahi Jata. (UmdatUl-Qari Sharh Sahih Al-Bukhari Az Imam Badruddin 'Ayni Alaihir Rahmah, Jild 22, Page 228)