اسمِ گرامی: عبدالکریم
کنیت: ابو القاسم
القاب: زین الاسلام، استاذ الصوفیاء، شیخ الجماعۃ، مقدمۃ
الطائفہ، صاحبِ رسالہ قشیریہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:ابو القاسم عبد الکریم قشیری بن ہوازن بن عبد الملک بن طلحہ بن
محمد نیشاپوری ۔ قبیلۂ قشیر کی نسبت سے قشیری کہلاتے ہیں ۔ (علیہم الرحمۃ
والرضوان) ـ
تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت ماہِ ربیع الاول 376ھ /مطابق
جولائی 986ء کو بمقام " استواء " مضافاتِ نیشاپور میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:آپ نے علم کے لئے کئی بلادِ اسلامیہ کا سفر کیا اور متعدد
مشاہیرِ اسلام سے اخذ ِعلم کیا ۔ جن ابوالحسین بن بشران ، ابن الفضل بغدادی، ابو
محمد کوفی، ابو نعیم، ابو القاسم بن حبیب قاضی، ابو بکر طوسی ۔ مشہور محدث امام
ابو بکر بیہقی اور امام الحرمین جوینی کی صحبت میں رہے، اور ان کی معیت میں حج کی
سعادت بھی حاصل کی، اسی طرح تصوف اور اخلاق کے متعدد شیوخ ہیں ۔
بیعت و خلافت:آپ حضرت شیخ ابو علی دقاق علیہ الرحمہ کے دستِ حق
پرست پر بیعت ہوئے، اور خرقۂ خلافت سے مشرف کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:زین الاسلام ،حجۃ الاسلام ، شیخ الاسلام ، امام
الاولیاء ، استاذ الصوفیاء ، رئیس العرفاء شیخ ابو القاسم عبد الکریم قشیری علیہ
الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے سب سے بڑے فقیہ، صوفی،
عابد، زاہد، متکلم، اور متشرع تھے ۔ تمام علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ماہرِ کامل تھے ۔
جامعِ شریعت و طریقت تھے ۔ ظاہری و باطنی علوم میں " مرج البحرین " تھے
۔
تصنیفات:آپ کی بہت تصانیف ہیں ۔ ان میں سے زیادہ مشہور " رسالہ
قشیریہ " اور " لطائف الاشارات فی التفسیر " ہیں ۔
داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ نے آپ علیہ الرحمہ سے
علمی و روحانی استفادہ فرمایا ہے ۔ اس لحاظ سے داتا صاحب آپ کے شاگرد ہیں ۔
داتا صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:متأخرین صوفیہ کے امام، الاستاذ، زین الاسلام، شیخ
ابو القاسم حضرت عبد الکریم بن ہواز قشیری رحنمۃ اللہ علیہ ۔ اپنے زمانے کے بدیع
المثال لوگوں میں سے تھے ۔ مرتبے میں رفیع المثال، اور منازلِ سلوک میں علو الحال
تھے ۔ ان کی بزرگی کا زمانہ معترف ہے ۔ ان کے فضائل بے شمار ہیں ۔ ہر علم میں ان
کے لطائف بے حد و بے حساب ہیں ۔ تصانیف بہت زیادہ ہیں ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کے
حال و قال کو حشو و زوائد سے محفوظ فرما دیا تھا ۔ (کشف المحجوب ، ص:328)
خطیب بغدادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:آپ ثقہ، واعظ، نکتہ داں، مذہبِ اشاعرہ کے اصول،
اور مذہبِ شافعی کے فروع میں مہارت رکھتے تھے ۔
ابن الصلاح علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:حدیث، تفسیر، فقہ، اصول، ادب، صرف، نحو، شعر، تصوف،
اور شریعت و حقیقت کے جامع تھے ۔
ابو اسحاق الصیرفینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:میں نے آپ جیسا صاحبِ علم و فن، جامع شریعت و
طریقت نہیں دیکھا ۔
تاریخِ وصال:آپ علیہ الرحمہ کا وصال بروز اتوار 16 ربیع الثانی
465ہجری / مطابق 29 دسمبر 1072ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار نیشاپور میں ہے ۔(ماخذ و
مراجع:کشف المحجوب ، طبقات الشافعیہ ۔ وفیات الاعیان)

No comments:
Post a Comment