امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد المعروف ابنِ ابی الدنیا علیہ الرحمہ


نام و نسب:آپ کا نام عبد الله بن محمد بن عبيد بن سفيان ابن ابی الدنيا قرشی اموی ۔ کنیت: ابو بکر ۔ اور آپ ابنِ ابی الدنیا کے نام سے مشہور ہیں ۔

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادتِ باسعادت 208ہجری  میں بغداد میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:آپ کے مشائخ میں احمد دورقی، علی بن جعد جوہری، زُہیر بن حرب، ابو عبید قاسم بن سلام، داود بن رشید خورازمی، محمد بن سعد کاتبِ واقدی، امام بخاری اور امام ابو داؤد وغیرہ ہیں جن سے فنِ حدیث کی تعلیم پائی ۔

سیرت و خصائص:شیخ الوقت، امام الائمہ، فقیہ العصر، شیخ الحدیث، حافظ الحدیث ابو بکر عبد اللہ بن محمد المعروف ابنِ ابی الدنیا مشہور حفاظِ احادیث میں سے تھے ۔ ابن ابی الدنیا شہزادگانِ خلفائے عباسیہ کے اَتالیق رہے ۔

خلیفہ معتضد باللہ کی تربیت بھی ان ہی کی اَتالیقی میں ہوئی ۔ حافظ ذہبی نے " تذکرۃ الحفاظ " میں ان کا ترجمہ ان لفظوں میں شروع کیا ہے:: ابنِ ابی الدنیا محدث، عالم اور سچے راویوں سے ہیں ۔اور حافظ جمال الدین مزّی کے " تہذیب الکمال " میں یہ الفاظ ہیں: ابنِ ابی الدنیا احادیث کے حافظ، کتبِ مشہورہ کے مصنف اور خلفاء کے اولاد کی تربیت فرماتے تھے ۔

ابنِ ابی حاتم کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد کی معیت میں ان سے حدیثیں لکھی ہیں اور والد نے ان کو صدوق کہا ہے ۔ آپ ایسی صلاحیت کے حامل شخص تھے ایک بندے کو آپ جب چاہیں رولا دیں اور جب چاہیں ہنسا دیں ۔ اسی ادا سے متاثر ہو کر خلیفہ نے آپ کو اپنی بیٹوں کی تربیت کے لئے رکھا ۔
علمی حیثیت: آپ بڑے پایہ کے محدث اور راویِ حدیث تھے۔ آپ کی رقیق القلوب، زہد، ورع اور اخلاقیات پر لکھی گئی کتب بہت مشہور ہیں۔

اساتذہ کرام: آپ نے امام بخاری، امام ابو داؤد، اور احمد بن محمد الدورقی جیسے عظیم محدثین سے علم حاصل کیا۔

تلامذہ: امام ابن ماجہ اور دیگر نامور علماء نے آپ سے روایت کی ہے۔

تصنیفات: آپ نے تقریباً 164 یادگار کتابیں تحریر کیں، جن میں رقیق القلوب موضوعات، اخلاص، شکر اور موت کی یاد جیسے موضوعات شامل ہیں۔

تاریخِ وصال:آپ علیہ الرحمہ کا وصال 10 جمادی الاول 281 ہجری  / بمطابق جولائی 894ء میں ہوا ۔

ماخذ و مراجع: سیر اعلام النبلاء ۔

No comments:

Post a Comment