حضرت سیدنا شاہ نیاز احمد علوی بریلوی علیہ الرحمہ

 

آپ علیہ الرحمہ  کا اسم مبارک راز احمد المعروف نیاز احمد ہے۔ آپ علیہ الرحمہ  کو حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ بھی کہا جاتا ہے۔ بے نیاز صرف اللہ کی ذات ہے جب کہ نیاز کے معنی حاجت کے ہیں اور اس کا مادہ حوج ہے اور حوج کے معنیٰ محتاج ، نیاز مند کے ہیں۔آپ کے اس نام کے لفظی معنیٰ ہوئے محتاج اور نیاز مند خدائے بے نیاز کا۔

ولادت باسعادت: آپ علیہ الرحمہ  چھ (6) جمادی الثانی بعد نماز فجر جمعہ۱۱۵۵ ہجری نبوی بمقام سرہند میں پیدا ہوئے۔ آپ علیہ الرحمہ کا سلسلہ نسب علوی سید ہے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے بنی فاطمہ سید رضوی ہے۔آپ علیہ الرحمہ کے اجداد شاہان بخارا سے ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ کے اجداد میں حضرت شاہ آیت اللہ علوی ترک سلطنت کر کے ملتان تشریف لے آئے تھے اور اُن کے ایک پوتے حضرت شاہ عظمت اللہ علوی سرہند میں آکر آباد ہوگے پھر وہاں سے حضرت شاہ نیاز احمد علیہ الرحمہ کے والد ماجد حضرت شاہ محمد رحمت اللہ علوی  علیہ الرحمہ اپنے خاندان کے ساتھ دہلی تشریف لے آئے جہاں آپ علیہ الرحمہ قاضی القضاہ کے عہدے پر فائز رہے ۔آپ علیہ الرحمہ کے والد محترم کی سرہند سے وقتِ ہجرت حضرت شاہ نیاز احمد علیہ الرحمہ کی عمر مبارک چار سال کچھ ماہ تھی ۔ آپ کے والد محترم سلسلہ نقشبدیہ(قدیمہ) کے صاحب ارشاد بزرگ گزرے ہیں اور سلسلہ چشتیہ صابریہ کی خلافت بھی آپ علیہ الرحمہ کو حاصل ہوئی تھی۔ صاحب ارشاد وہ اولیاء کامل کہلاتے ہیں جو واصل بحق ہوتے ہیں اور حق تعا لیٰ ان کے وسلیے سے مخلوق پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور خلق کی حاجت روائی کرتا ہے یعنی یہ اللہ کی جناب میں مخلوق کے لیے وسلیہ ہوتے ہے۔ یہ حضرات انبیاء علیہ السلام کےحقیقی نائب ہوتے ہیں لوگوں کے قلبوں میں انوار و برکات ان کی وجہ سے آتے ہیں.

حضرت شاہ نیاز احمد کی والدہ محترمہ جو رابعہ العصر وعفیفہ دہر کہلائی تھی جنہیں بی بی غریب نواز کے لقب سے پکارا جاتا تھا، آپ علیہ الرحمہ حضرت مولانا سید سعید الدین رضوی کی صاحبزادی تھیں، جو سلسلہ چشتیہ میں حضرت شیخ کلیم اﷲ شاہ جہاں آبادی کے خلیفہ تھے۔ آپ علیہما الرحمہ فر ماتی ہیں کہ بعد ولادت آپ نے عالم رویا میں مشاہدہ کیا تھا کہ آپ کے اس فرزند کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور جناب سیدۃ النسا بی بی فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا نے اپنا بچہ فرما کر آغوش رحمت میں لے لیا تھا۔ آپ علیہ الرحمہ کی والدہ ماجدہ قادری سلسلہ میں حضرت شیخ محی الدین دیاسنامی قدس سرہ العزیز سے بیعت تھیں اور آپ کے شیخ نے آپ کی والدہ محترمہ سے دومرتبہ بیعت لی جس کی وجہ آپ کے شیخ نے بیان فرمائی تھی کہ تمہارے بطن سے ایک بزرگ صفت فرزند پیدا ہو گا اور اس وقت میں نہیں ہونگا ، لہذا میں اس کی روح کو بھی بیعت کرکے داخل سلسلہ قادریہ کررہا ہوں۔ آپ کی والدہ بچپن سے ہی آپ پر توجہ القائی فرمایا کرتی تھیں اور باطنی طور پر اپنے شیخ حضرت شیخ محی الدین دیا سنامی قدس سرہ العزیز کی روح پرقنوت کے وسیلے سے فیضان قادریہ سے مستفیض کرتی رہتی تھیں ۔

آپ کے خاندان کا یہ معمول رہا ہے کہ جب بچہ مدرسہ جانے کے قابل ہوجاتا ہے تو شیخ ِخاندان یا خاندان کا جوبھی بزرگ ہو وہ اس بچے کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیتاہے۔ جب حضرت نیازبے نیاز علیہ الرحمہ مدرسہ جانے کے قابل ہوئے تو خاندانی رواج کے مطابق آپ کے محترم نانا نے اپنا دست مبارک آپ کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا۔ آپ علیہ الرحمہ کے نانا حضرت مولانا سعید الدین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کو سلسلہ چشتہ میں حضرت کلیم اللہ جہان آبادی قدس سرہ العزیز سےخلافت حاصل تھی اور آپ کا شمار بھی اپنے دور کے جید کامل و صاحب ارشاد بزرگوں میں ہوتا تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو دہلی میں ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم کے لیے حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ کے سپرد فرما دیا تھا جو خلیفہ و فرزند حضرت شاہ شاہاں نظام الدین اورنگ آبادی علیہ الرحمہ کے تھے اور وہ اُن دِنوں اپنے والد گرامی کے حکم کے موجب اپنے پیر بھائی حضرت سعید الدین رضوی علیہ الرحمہ سے بطریق سلوک نعمتِ ہائے سلسلہ حاصل کرنے میں مشغول تھے۔ لہذا حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ آپ کے نانا حضرت سعید الدین رضوی  کا بہت احترام کرتے تھے اورسوئے ادب حضرت نیاز بے نیازعلیہ الرحمہ کو اپنے دست مبارک پر بیعت کرنے کی بجائے اپنا دامن پکڑا کا بیعت طالبی سے سرفراز فرمایا اور آپ کے نانا کے دست مبارک کووقت آغاز ِتعلیم پر آپ کےہاتھ پر رکھنے کو سلسلہ چشتیہ میں بیعت کرنے ہی سے تعبیر کیا اور اس کے بعد ظاہری و باطنی تعلیم دینا شروع کی۔ اس طرح گویا آپ کو سلسلہ چشتیہ میں بیعت کا شرف حضرت کلیم اللہ جہان آبادی علیہ الرحمہ  کے خلفاء یعنی حضرت سعید الدین رضوی علیہ الرحمہ  اور حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ  سے حاصل ہوا۔ حضرت مولانا فخر الدین فخر جہاں دہلوی علیہ الرحمہ  نےسوئے ادب آپ کے ناناحضرت سعید الدین رضوی علیہ الرحمہ  کبھی حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  کو اپنا مرید نہیں سمجھا اور نہ کبھی آپ کا نام لیا ہمیشہ آپ کو میاں کہتے تھے اور علم باطنی کےایسے اہم اسرار تعلیم فرماتے رہے کیونکہ آپ کا معاملہ خاص الخاص تھا۔ اس کے علاوہ تحصیل علوم ظاہری و باطنی کے لیے جیسی فراست اور ذکاوت و ذہانت حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  میں تھی مولانا فخر الدین علیہ الرحمہ  کے کسی شاگرد و خلیفہ یا مریدین میں نہیں تھی۔ آپ اپنی ذہانت و خداد صلاحیتوں کی بناء پر سترہ (۱۷) سال کی عمر میں فارغ تحصیل ہوگے۔ اس کے علاوہ آپ نے تمام فنون مروجہ مثلاً سپہ گری؛ خطاطی؛ موسیقی؛ طب و غیرہ میں مہارت کامل حاصل کی۔

علماء شہر آپ کی علمی قابلیت سے بےحد متاثر تھے۔ آپ کی رسم دستار بندی میں عمائدین شہر اور علماء الکرام کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔ حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ  نے آپ کو دستار فضیلت کے ساتھ ہی خرقہ خلافت بھی مرحمت فرمایا۔

بعد رسم ِدستار بندی آپ اپنے استاد محترم کے اس مدرسے فخریہ میں جہاں دورر دور سے لوگ آکراپنی علمی پیاس بجھاتے تھے اور جو اس دور میں کالج کا درجہ رکھتا تھا بحیثیت استاد شامل کرلیے گے اور آپ علیہ الرحمہ  بریلی ہجرت فرمانے تک اس مدرسے میں تدریس کے فرائض بحسن خوبی انجام دیتےرہے اور آپ اس مدرسے کے پرنسپل بھی مقرر ہوئے۔ دستار فضیلت و خرقہ خلافت کے اجماع سے آپ کی ذات گرامی سے علم باطنی و علم روحانی نوعیت کے چشمے ہائے فیض جاری ہوئے۔ ایک طرف علوم عقلی کے متلاشی معقولات ومنقولات کے جواہرات سے اپنے دامن کو پُر کرنے لگے تو دوسری طرف تشنہ گان ِ حقیقت اس بحرِ معرفت سے اپنی پیاس بجھانے لگے۔ حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  صحیح معنوں میں اپنے استاد و پیر و مرشد کے دست راز اور جانشین ثابت ہوئےاور ہر حیثیت سےآپ نے دہلی اور اطراف دہلی میں دور دور تک بہت جلد شہرت حاصل کرلی ۔ مدرسہ فخریہ میں آپ کی محنت و قابلیت کی تعریفین ہر شخص کی زبان پر تھیں۔ آپ کا شمار علوم منقول و معقول و فروع و اصول ، علم حدیث وتفسیر وفقہ کے جید استادوں میں ہونے لگا تھااور آپ کو ان علوم میں منتہیٰ و باکمال استاد ومحقق تسلیم کیا جاتا تھا۔ تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا شاہ فخرالدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ  کےتمام خلفاء آسمان ولایت کے شمس و قمر تھے لیکن حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  جیسی شخصیت کوئی دوسری نظر نہیں آئی تھی جو علوم ظاہر وباطن میں بیک وقت یگانہ اور رموز صوری و معنوی میں یکتائے زمانہ ہو۔

حضرت شاہ نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  عالمِ دہر اور صاحب ارشاد ولی کامل ہونے کے علاوہ چاروں زبان یعنی عربی ، فارسی ، اردو و ہندی کےایک عظیم المرتب اور قادر الکلام صوفی شاعر بھی تھے۔ اس زمانے میں دہلی میں مرزا جان جاناں مظہر صاحب علیہ الرحمہ  کی تصوفانہ شاعری کا بہت شہرہ تھا۔ دہلی میں ایک جگہ عرس تھا مولانا اور مرزا مظہر جانِ جاناں صاحب شریک تھے اس سے پہلے حضور قبلہ پر ایک حالت طاری ہوئی تھی اور آپ نے غزل کہی تھی اس وقت حضرت مولانانے فرمایا کہ اپنی غزل مرزا صاحب کو بہ نظر اصلاح سناؤ۔آپ نے غزل کا مطلع پڑھا

امشت آنست کہ زدحلقہ جہاں بردرِ ما

نیر نورِ خدا کرد طلوع از برِ ما

مرزا صاحب علیہ الرحمہ  یہ شعر سن کر وجد آگیا اور وجد میں سر زمین پر رکھ دیا اسی طرع پوری غزل پر یہ کیفیت رہی آخر میں فرمایا کہ میاں سبحان اللہ کیا کہنا آخر کس کے نواسے اور کس کے شاگرد ہو۔

آپ کا کلام کئی بار مختلف اشخاص اور اداروں کی جانب سے ہندوستان اور پاکستان میں طبع ہوچکا ہے اور آج بھی اہل ذوق آپ کے کلام سے استفادہ حاصل کرتے رہتےہیں۔

نقی علی خان خورجوی اپنی خود نوشت عمر رفتہ میں لکھتے ہیں

میرے چھوٹے بھائی شفیع محمد خان سب انسپکٹر ہو چکے تھے۔ ہمشیر کی شادی ہوگئی تھی۔ والد صاحب کا سنہ 1908 میں انتقال ہو چکا تھا۔ تنہائی کی وجہ سے کبھی والدہ صاحبہ میرے پاس آ جاتیں اور جب دل چاہتا خورجہ چلی جاتیں۔ میرے گانے بجانے کا شغل برابر جاری تھا۔

ایک روز مردانہ مکان میں جس میں نشست کا کمرہ سڑک کی جانب تھا ، اپنے شغل میں مصروف تھا۔ بھیرون دت سب انسپکٹر طبلہ اور میں باجا بجا رہا تھا۔ حکیم جی اور مبارک حسین۔

"رفتم اندر تہ خاک ، اُنسِ بتانم باقیست"

حضرت نیاز کی غزل قوالی کے طرز میں بڑے مزے میں گا رہا تھا۔ الاپ اور تان موقع موقع سے لے لیتا تھا۔ محمد حسین اور شمس الحق دو سب انسپکٹر اور بھی تھے۔ رات کے دس بجے تھے۔ سڑک سنسان تھی۔ یکایک میرے ہارمونیم پر بہت سے پیسے جن میں کچھ دونی چونی بھی تھیں ، کچھ ریوڑیاں اور پھول بکثرت آن کر گرے۔ گانا بند ہو گیا۔ محمد حسین اور شمس الحق جو دروازے کے قریب ہی بیٹھے تھے دوڑ کر باہر گئے۔ لیکن گلی میں کوئی نظر نہ آیا۔ سب کو اس واقعہ سے حیرت ہوئی۔

اس کے بعد پھر اس قسم کا واقعہ پیش نہ آیا۔

آپ کے مشہور کلام میں (یار کو ہم نے جا بجا دیکھا) اور ( ہم کودر در پھرایا یار نے) عابدہ پروین نے پیش کیا اور بہت سے لوگوں نے آپ کے کلام پیش کیے۔ آپ کے کلام کو پورے عالم میں قبولیت کا درجہ حاصل ہے اور کلام کی مقبولیت کا یہ حال ہے تمام ہندوستان اور پاکستان میں کوٸی قوال نہیں جو آپ کا کلام سے صوفیا کی محفل کو نہ گرماتا ہو۔ حضرت خواجہ غریب نوازکے عرس کے موقعہ پر حضور قبلہ شاہ نیاز احمدکی اس غزل پر جس کا مطلع ہے۔

خواجہ خواجگان معین الدین علیہ الرحمہ

فخر کون و مکان معین الدین علیہ الرحمہ

قل ہوتا ہے۔ حضرت محبوب الہی قدس سرہ کے عرس میں قل کی یہ غزل ہوتی ہے جس کا مطلع ہے

دلادستِ طلب بکشار بدر گاہِ شہنشا ہے

نظام الدین و الملت علیہ رحمت اللہ ہے

حضرت پیرانِ پیر غوث پاک قدس سرہ کی جہاں فاتحہ ہوتی ہے وہاں یہ غزل گائی جاتی ہے

بدہِ دستِ یقین اے دل بہ دست شاہ جیلانی رضی اللہ عنہ

کہ دستِ او بود اندر حقیقت دست یزدانی رضی اللہ عنہ

حضرت مولانا فخر الدین محمد دہلوی قدس سرہ کے عرس میں حضور قبلہ کی اس غزل پر ہوتا ہے جس کا مطلع ہے۔

مرید پیر مغانم دگر نمی دانم

خرابِ بادہ آنم دگر نمی دانم

خانقاہ نیازیہ میں اب بھی آپ کا ایسا کلام ہے جو غیر مطبوعہ ہے۔

آپ توحید وجودی کے قائل تھے اور شرابِ عشق حقیقی میں ہر وقت مستقرق وبے خود رہتے تھے۔آپ نے جو کچھ لکھا دل کی گہرائیوں میں ڈوب کر لکھا لہذا آپ کا پورا کلام آمد ہے اور اس میں آورد کا نشان تک نہیں ملتا ۔ فن شاعری میں مومن خان مومن اور غلام ہمدانی مصحفی کو بھی آپ کی شاگردی کا فخر حاصل ہوا ہے۔ غلام ہمدانی مصحفی جیسا مسلّم الثبوت استاد آپ کی شاگردگی پر فخر کرتا ہے اپنے تزکرہ”ریاض الفصحا“ کے صفحہ٢٣٩ پر حضرت قبلہ رضی اللہ عنہ  کے لیے یوں رقم طراز ہے ” مولوی نیازؔ احمد تخلص کہ بندہ درایام طالب علمی شانِ علم وجاہت ایشاں رادیدہ بلکہ میزان ہم از ایشاں درشاہجہان آباد خوندہ بود

حضرت شاہ نیاز بے نیاز علیہ الرحمہ  کو فن سپہ گری وشہسواری سے بھی خاص لگاٶ تھا کیونکہ اُس زمانے میں ملکی حالات اس امر کے متقاضی تھے کہ بچہ بچہ ہتھیار بند اور فن شہسواری میں طاق ہو۔ آپ وسیع المطالعہ تھے تعلیم و تربیت سے فرصت ملتی تو کتابوں کے مطالعے میں لگ جاتے تھے، اُس سے فرصت ملتی تو تصنیف و تالیف کا مشغلہ شروع ہو جاتے۔آپ کی تصانیف کی ایک طویل فہرست ہے۔آپ کو خوش نویسی میں بھی یدطولیٰ حاصل تھا اور آپ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے کئی کتب، وصلیں، خاندانی وطائف اور رسالے آج بھی موجود ہیں جن کا شمار خطاطی کے اعلیٰ نمونوں میں ہوتا ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے جس زمانے میں آپ کا دہلی میں قیام تھا آپ نے علم جفعر ونجوم کی تحصیل بھی فرمائی تھی۔

آپ اپنی دستاربندی کے بعد بھی تقریبا تیس سال کی عمر تک دہلی میں قیام پذیر رہے اس ہی اثنا میں آپ کی پہلے شادی عمدۃ ا لاولاد و جانشین غوث اعظم  علیہ الرحمہ  حضرت سید عبداللہ بغدادی قادری  علیہ الرحمہ  کی صاحبزادی سے انجام پائی جو شادی کے کچھ عرصے بعد ہی لاولد وفات پا گئیں تھیں ۔ آپ کوسلسلہ قادریہ میں بیعت کی سعادت اپنی پیدائش سے قبل عالم مثال میں ہی بتواسط اپنی والدہ محترم حضرت شیخ محی الدین دیاسنامی قدس سرہ العزیز سے حاصل ہوئی تھی مگر یہ بیعت ظاہری نہیں تھی۔ لہذا حضور غوث پاک نے آپ کو رویا میں حضرت سید عبداللہ بغدادی قادری  علیہ الرحمہ  جو کہ حضور غوث پاک علیہ الرحمہ  کے حکم پر بغداد سےدہلی تشریف لائے تھے کے دست مبارک پر قادری سلسلہ میں ظاہری بیعت کی سعادت حاصل کرنےکا فرمایا۔ حضرت سید عبداللہ بغدادی قادری  علیہ الرحمہ  نے آپ کو ہر قسم کی تعلیم وتلقین کے علاوہ اشغال واذکار قادریہ وعربی میں خلافت نامہ و اپنی دستار و دیگر تبرکات مع خرقہ شریف حضور غوث اعظم کے مرحمت فرمایا۔ مذکورہ تبرکات اور مجمع عام میں دستار مبارک اور خرقہ شریف کا حضور غوث اعظم کے حکم سے حضرت شاہ نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  کو عطا کیا جانا اور آپ کے خلافت نامے میں جانشینی کا ذکر موجود ہونا اس امر کی دلالت ہے کہ برصغیر میں حضور غوث پاک  علیہ الرحمہ  کے صحیح سجادہ نشین آپ ہی ہیں۔

حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی نے سلسلہ چشتیہ کے وسیع نظام ِ جو ملک گیر تھا چلانے اور بغرض تبلیغ و تربیت روحانی کے حضرت نیاز احمد بے نیاز  علیہ الرحمہ  کو اپنی مسند مبارک، تکیہ جن میں کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے، تسبیح و عصا مرحمت کیا اور اپنے سر مبارک سے دستار اُتار آپ کے سر مبارک پر رکھی اور انہیں اپنا سجادہ نشین کرکے بریلی میں مامور فرمایا۔ آپ کی یہ جانشینی درحقیقت سلطان الہند حضرت معین الدین چشتی علیہ الرحمہ  کی جانشینی تھی کیونکہ حضرت مولانا شاہ فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ  سلطان الہند کے صحیح جانشین تھے۔ اس لیے آپ کو جانشین غوث و خواجہ بھی کہا جاتا ہے جب آپ کے شیخ نے آپ کو بانس بریلی میں مامور فرمایا تو آپ کے والد بزرگوار جو کہ دہلی میں قاضی القضات کے عہدے پر متمکن تھے شفقت پدری سے مجبور ہوکر اوراپنے منصب قضا سے مستعفی ہوکر اپنے اہل وعیال کے ساتھ بریلی تشریف لے آئے۔

حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  کو سلسلہ قادریہ اور چشتیہ (نظامیہ) کی صحیح و مستند جانشینی مع مسانید و تبرکات حاصل تھی ۔ آپ ان دوسلسلوں کے علاوہ دیگر سلاسل کے بھی صاحب ارشاد بزرگ ہیں ۔ آپ کو سلسلہ چشتیہ (صابریہ ) اور خاندان نقشبندیہ کا فیض اپنے والد گرامی حضرت شاہ محمد رحمت اللہ قدس سرہ سے حاصل ہوا۔ جب کہ سہروریہ کا فیض آپ کوبواسط حضرت مولانا فخر الدین دہلوی حاصل ہوا تھا۔ خاندان سہروردیہ حضرت شیخ ضیا الدین ابو النجیب عبدالقاہر سہروردی علیہ الرحمہ  سے شروع ہوتا ہے اور اس سلسلے میں آپ سے لیکر حضور غوث پاک  علیہ الرحمہ  تک اکیس واسطے ہیں۔حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  کے سلسلہ عالیہ میں قادریہ، چشتیہ ، سہروردیہ اور نقشبندیہ کا حسین امتزاج ہے تاہم آپ پر چشتیہ کا غلبہ تھا۔ آپ اپنے پیران عظام کی طرح مثالی اہل سماع تھے اور جملہ لوازم شریعت اور شرائط طریقت و معرفت کے ساتھ سماع سنتے تھے۔پانچ منفرد چشتی صُوفی درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ  خواجہ بختیار کاکی رضی اللہ عنہ  مہر ولی (دہلی) بابا فرید گنج شکر رضی اللہ عنہ  پاکپتن خواجہ نظام الدین اولیاء رضی اللہ عنہ  اور خواجہ نصیرالدین رضی اللہ عنہ  چراغ دہلوی ہیں۔ متوئسلین میں حضرت شاہ نیاز احمد رضی اللہ عنہ  نے خاص امتیاز پایا۔

برصغیر کے چار مشہور آستانوں سے قطب عالم مداراعظم حضرت شاہ نیازبے نیاز رضی اللہ عنہ  کے جانشین حاضرہ کو٬ سالانہ عرس کے موقہ پر خلعُت اور خاص تبرک صاحب مزار کی جانب سے اور ان کے حکم سے مقرر کیا ہوا عطا کیا جاتا ہے دیگر کسی آستانے کے جانشین کو یہ شرف حاصل نہیں کیا یہ سلسلہ نیازیہ کی عظمت اور بے مثالی کی دلیل نہیں۔ آپ نے بھی اپنے شیخ طریقت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بریلی سے یہ روحانی نظام چلایا اور مکہ معظمہ، ايران، عرب، بلخ، بخارا ، سمرقند ,قوقند، کابل، بدخشان، وزیرخیل، دیوغاب، کشمیر اور پکھلی میں اپنے خلفاء متعین فرمائے۔آپ کے خلفا میں کوئی تاج الاولیا ہوا تو کوئی سراج السالکین اور کوئی امام السالکین ہوا تو کوئی خوان علوم۔

مشہور مثل ہے موت العالم ۔ حضرت نیاز بے نیاز  بریلوی علیہ الرحمہ  نے اس عالم ناسوت سے جمعہ ۶ جمادی الثانی ۱۲۵۰ھ کو بعد نماز ظہر بعمر ۹۵ سال پردہ فرمایا۔ وصال سے قبل آپ پر محویت اور استغراق کا اس قدر علبہ تھا کہ دن رات میں کسی بھی وقت ہوش نہ رہتا تھا۔ باوجود اس کے خلفاء ومریدین کو یہ تاکید تھی کہ جس طرح ہو ہم سے نماز پڑھوالیا کرو۔ نماز کے وقت خدام ہوشیار کرتے بمشکل تمام اُس عالم سے اِس عالم ناسوت کی طرف نزول فرماتے تھے جب نماز ختم ہوتی تو دوبارہ استغراق و محویت کی کفیت طاری ہوجاتی۔ وقت وصال آپ نے اپنے صاحبزادے اور جانشین حضرت شاہ نظام الدین حسین  علیہ الرحمہ  کو اپنے سینے سے لگایا اور نعمت باطنی اور اسرار مخفیہ جو ودیعت تھے آپ کے سینے میں بطور القا کے تفویض فرمائے۔ اس فیضان سے آپ کے صاحبزادے اور جانشین حضرت شاہ نظام الدین حسین علیہ الرحمہ  بےہوش ہوگے اور اسی حالت میں حضرت نیاز بے نیاز  علیہ الرحمہ  کی روح پُر قنوت قالب عنصری سے مفارقت کرکے اپنے مرکز اصلی کو پہنچا إنا لله وإنا إليه راجعون ۔

آ پ علیہ الرحمہ  کا مزار اقدس بانس بریلی میں زیارت گاہ خلق ہے۔ آپ کا سالانہ عرس ہرسال بریلی شریف میں یکم تا دہم جمادی الثانی نہایت تزک و احتشام سے اور ساتھ ہی برصغیر پاک و ہند کے بڑے بڑے شہروں میں منعقد ہوتا ہے۔ کراچی میں بھی متعدد مقامات پر آپ کا عرس 5 اور 6 جمادی الثانی کو منعقد ہوتا ہے۔

 


حضرت سیدنا شیخ ابراہیم ایرجی قادری علیہ الرحمہ

 

نام و نسب:  اسمِ گرامی:سید ابراہیم۔ایرج وطن کی نسبت سے "ایرجی"کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:سید ابراہیم ایرجی بن حضرت سید معین بن سید عبدالقادر بن سید مرتضی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

مقام ولادت: ضرت سیدابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت"ایرج" کے مقام میں ہوئی ،اسی نسبت سے آپ علیہ الرحمہ  کو ایرجی کہا جاتا ہے۔

تحصیل علم : آپ علیہ الرحمہ  نے علم ِشریعت و طریقت کی پوری تعلیم حاصل فرمائی،ا ور وقت کے جید علماءومشائخ سے استفادہ حاصل کیا۔حضرت شیخ علیم الدین محدث علیہ الرحمہ سےآپ علیہ الرحمہ  نے علم ظاہر کی تکمیل کی اور آپ علیہ الرحمہ نے شیخ طریقت حضرت شیخ بہاء الدین بن العطاء الجنیدی سےعلم طریقت کی تکمیل فرمائی۔ اور آپ علیہ الرحمہ  کے شیخ طریقت نے آپ علیہ الرحمہ  کے واسطے ایک رسالہ اذکار و اشغال بھی تصنیف فرمایا جسے" رسالہ شطاریہ" کے نام سے تذکرہ نگاروں نے بیان فرمایا ہے۔
بیعت و خلافت:  آپ سلسلہ عالیہ قادریہ میں حضرت شیخ بہاؤالدین قادری شطاری علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے،اور خلافت واجازت سے مشرف ہوئے۔

 سیرت و خصائص: استاذ العلماء، کثیر العلم ،فاضلِ اکمل، مصنف اعظم،شیخِ کامل حضرت شیخ سید ابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ  کے فضائل و بلندی کا اعتراف جملہ مؤرخین نے کیا ہے ۔چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نےآپ علیہ الرحمہ نی شہرہ آفاق کتاب "اخبار الاخیار "میں بڑی تفصیل سے آپ علیہ الرحمہ  کے فضائل و مناقب بیان فرمائے ہیں،آپ فرماتے ہیں: حقیقت حال یہ ہے کہ آپ علیہ الرحمہ  کے زمانہ میں اس وقت دہلی میں کوئی شخص علم و دانش میں آپ علیہ الرحمہ  کے برابرکا نہیں تھا۔اور آپ علیہ الرحمہ  کے جس ہمعصر نے آپ علیہ الرحمہ  سے استفادہ نہیں کیا اور آپ علیہ الرحمہ  کی علمی قابلیت کا اقرار نہیں کیا وہ بڑا ہی بے انصاف ہے۔آپ علیہ الرحمہ  کا یہ دستور تھا کہ لوگوں کی جہالت ، ناانصافی اور ناقدری کی وجہ سے گوشہ نشین ہوکر کتابوں کا مطالعہ فرماتےاور ان کی تصحیح میں مشغول رہتے تھے۔بہت کم لوگوں نے آپ علیہ الرحمہ  سے استفادہ کیا اورصوفیاء آپ علیہ الرحمہ  کی بارگاہ میں تحصیل علوم و فنون میں شرف تلمذ اختیار کرتے تھے۔کتاب مطالعہ کی غرض سے اسی آدمی کو دیتے تھے۔ جس کو مخلص سمجھتے تھے۔

آپ علیہ الرحمہ  علومِ عقلیہ، نقلیہ رسمیہ اور حقیقیہ کے فارغ التحصیل تھے اور وقت کے عظیم فلسفی تھے،ہر علم کی بے انتہا کتابیں مطالعہ کی تھیں، اور ان کی تصحیح بھی فرمائی تھی۔آپ علیہ الرحمہ  مشکل و سخت کتابوں کے مشکل و سخت مسائل کو اس طرح حل کردیتے تھے۔کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی آپ علیہ الرحمہ  کے حل کردہ مشکلات کو بغیر استاد کی مدد کے بھی بخوبی سمجھ جاتا تھا۔آپ علیہ الرحمہ  کے وصال کے بعد آپ علیہ الرحمہ  کے کتب خانے سے اتنی زیادہ کتابیں بر آمد ہومیں جو ضبط تحریر سے باہر ہیں،جن میں اکثر آپ علیہ الرحمہ  کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھیں۔

وصال  پرملال: آپ علیہ الرحمہ  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات5/ربیع الثانی 953ہجری  میں ہوئی ۔مزار شریف دہلی (ہند) میں احاطہ درگاہ ِحضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ میں واقع ہے۔ (ماخذومراجع: مشائخِ قادریہ رضویہ)

شیخ اعظم حضرت سید اظہار اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ

ولادت اور ابتدائی زندگی:شیخ اعظم حضرت علامہ الحاج سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کی ولادت 6 محرم 1355ہجری  بمطابق 1935ء کو ہوئی۔ آپ علیہ الرحمہ  کے دادا محبوب ربانی  اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی  علیہ الرحمۃ نے ولادت سے قبل بشارت دی تھی کہ ان کے پوتے سے سلسلۂ اشرفیہ کا خوب خوب اظہار ہوگا، اور اسی بنیاد پر آپ علیہ الرحمہ  کا نام "اظہار اشرف” رکھا گیا۔ یہ بشارت آپ علیہ الرحمہ  نے اس وقت دی تھی جبکہ آپ علیہ الرحمہ  مدینہ منورہ میں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالکل سامنے تھے۔

آپ علیہ الرحمہ  کی تربیت خاندانی روایت کے مطابق انتہائی پاکیزہ اور تقدس بھرے ماحول میں ہوئی۔ جب آپ علیہ الرحمہ  کی عمر چار سال چار ماہ چار دن کی ہوئی تو بسم اللہ خوانی کی رسم نہایت اہتمام کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں آپ علیہ الرحمہ  کے والد گرامی حضرت سرکار کلاں، نانا حضرت سید مصطفیٰ اشرف، اور پھوپھا حضرت محدث اعظم ہند علیہم الرحمہ نے شرکت فرمائی۔

تعلیم و سندِ فراغت:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ کی تعلیم کا آغاز ایک عظیم روحانی اور علمی ماحول میں ہوا۔ آپ علیہ الرحمہ  نے درس نظامی کی تکمیل 1377ہجری  بمطابق 1975ء میں الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور سے کی اور سند فضیلت حاصل کی۔ آپ علیہ الرحمہ  کی شخصیت میں علمی فہم، فقہی بصیرت، اور روحانیت کی گہرائی بدرجۂ اتم موجود تھی، جس نے آپ علیہ الرحمہ  کو میدان علم و عمل کا شہسوار اور روحانیت و تصوف کا تاجدار بنایا۔

تدریسی خدمات:فراغت کے بعد حضرت اظہار اشرف علیہ الرحمہ نے فی سبیل اللہ تدریس کا آغاز کیا۔ آپ علیہ الرحمہ  نے 1377ہجری  تا 1381ہجری  بمطابق 1957ء تا 1961ء جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں بلا معاوضہ تدریسی خدمات انجام دیں، جہاں آپ علیہ الرحمہ  نے ہزاروں طلبہ کو علم و حکمت کے زیور سے آراستہ کیا۔

بیعت و ارادت: حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ 1378ہجری  بمطابق 1958ء میں آپ علیہ الرحمہ نے والد گرامی حضرت سید شاہ مختار اشرف اشرفی سرکار کلاں کے دست اقدس پر بیعت ہوئے۔ بیعت و ارادت کی بدولت آپ علیہ الرحمہ  کے اندر روحانیت و معرفت کے چراغ روشن ہوئے، جو بعد میں سلسلۂ اشرفیہ کی سربراہی اور فروغ کا ذریعہ بنے۔

نکاح اور عائلی زندگی:آپ علیہ الرحمہ  کا نکاح 1379ہجری  بمطابق 1959ء میں سیدہ نزہت فاطمہ علیہا الرحمہ کے ساتھ ہوا۔ نکاح کے بعد آپ علیہ الرحمہ  نے آپ علیہ الرحمہ نے پہلے تبلیغی و دعوتی دورے کا آغاز کیا، جو مالیگاؤں میں دس روزہ محرم شریف کے پروگرام کے سلسلے میں تھا۔

اہم تعمیری کارنامے:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی میں بے شمار تعمیری کارنامے انجام دیے، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:

جامع اشرف کی بنیاد 1399ہجری  بمطابق 1978ء میں رکھی گئی۔

مسجد اعلیٰ حضرت اشرفی کا قیام 1410ہجری  بمطابق 1989ء میں عمل میں آیا۔

مختار اشرف لائبریری 1416ہجری  بمطابق 1995ء میں قائم کی گئی۔

اشرف حسین میوزیم 1416ہجری  بمطابق 1996ء میں قائم ہوا۔

اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ  کے روضے کی تعمیر 1422ہجری  بمطابق 2001ء میں مکمل ہوئی۔

1425ہجری /2004 میں آپ علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں الاشرف اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا۔

1433ہجری /2012ء میں جامع اشرف کے جدید ہاسٹل کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

سیمانچل اور ضلع اتر دیناج پور میں آپ علیہ الرحمہ  نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی میں کثیر دینی و تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی جس کے بیان کے لئے صفحات درکار ہیں۔

آپ علیہ الرحمہ  نے نہ صرف ہندوستان بلکہ بنگلہ دیش میں بھی دینی درسگاہ "مدرسہ اشرفیہ اظہار العلوم” کی بنیاد رکھی، جو سلسلہ اشرفیہ اور سنیت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

آپ علیہ الرحمہ  کے قائم کردہ تمام علمی ادارے آج بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں اور دین اسلام اور علوم اسلامیہ کی اشاعت و تدریس و تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مذہبی صحافت میں کردار:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ نے مذہبی صحافت کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ علیہ الرحمہ  کی سرپرستی میں 1418ہجری  بمطابق 1997ء سے تا دم وفات ماہنامہ "الاشرف” کراچی سے شائع ہوتا رہا۔ اسی طرح، مجلہ "غوث العالم” کا اجرا بھی آپ علیہ الرحمہ  کی سرپرستی میں 1420ہجری  بمطابق 1999ء میں ہوا، جس نے مذہبی صحافت میں ایک طویل عرصے تک نمایاں کردار ادا کیا۔

حج و زیارت:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے کئی بار حج و زیارت کی سعادت سے بھی نوازا۔ آپ علیہ الرحمہ  نے پہلا حج 1387ہجری  بمطابق 1976ء میں کیا اور آخری سفر حج 1424ہجری  بمطابق 2003ء میں فرمایا۔ اسی طرح 1401ہجری  بمطابق 1980ء میں کربلائے معلیٰ، نجف اشرف، کاظمین، بغداد شریف اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت بھی کی۔

شعری و اشاعتی خدمات:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ نہ صرف ایک عظیم عالم، مہتمم و منتظم، داعی، صوفی، پیر اور خطیب تھے، بلکہ آپ علیہ الرحمہ  ایک کہنہ مشق مقبول شاعر بھی تھے۔ آپ علیہ الرحمہ  کا شعری مجموعہ "اظہار عقیدت” پہلی بار 1423ہجری  بمطابق 2002ء اور دوسری بار 1428ہجری  بمطابق 2007ء میں شائع ہوا۔ آپ علیہ الرحمہ  کی شاعری میں عشقِ رسول اور اہل بیت کی محبت کا رنگ نمایاں ہے۔ آپ علیہ الرحمہ  نے اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کے مجموعۂ کلام "تحائف اشرفی” پر تضمین کی صورت میں "اظہار سخن” کی بھی اشاعت فرمائی، جو تصوف و روحانیت میں آپ علیہ الرحمہ  کی گیرائی و گہرائی اور عقیدت کا مظہر ہے۔ آپ علیہ الرحمہ  نے فارسی زبان میں غوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی علیہ الرحمہ  کے ترجمۂ قرآن کا اردو ترجمہ "اظہار البیان” کے نام سے بھی شائع کیا۔

سجادہ نشینی:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ 21 شعبان 1417ہجری  بمطابق 2 جنوری 1997ء کو والد گرامی سرکار کلاں حضرت مفتی سید شاہ مختار اشرف اشرفی علیہ الرحمۃ کے وصال کے بعد خانقاہ اشرفیہ سرکار کلاں کے سجادہ نشین بنے۔ آپ علیہ الرحمہ  نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی کے آخری لمحہ تک کو خانقاہ کی ترقی و توسیع میں صرف کیا۔

خراجِ تحسین:آپ علیہ الرحمہ  کی علمی و دینی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ماہنامہ غوث العالم نے 2007ء میں آپ علیہ الرحمہ  پر خصوصی شمارہ ’’معارف شیخ اعظم‘‘ شائع کیا، جس میں آپ علیہ الرحمہ  کی زندگی اور خدمات کو سراہا گیا۔

آخری خطاب:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ نے آپ علیہ الرحمہ نی زندگی کا آخری خطاب 15 دسمبر 2012ء کو بہار کے علاقے باڑی، بائسی، ضلع پورنیہ میں فرمایا۔

اوصاف:حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ ایک صاف دل اور نیک سیرت انسان تھے۔ ان کی زندگی عفو و درگذر، بڑوں کی تعظیم، اور چھوٹوں پر شفقت سے عبارت تھی۔ وہ خاموش طبع تھے، لیکن ہمیشہ عمل اور کوشش میں مصروف رہتے تھے۔ حاجت مندوں کی مدد کرنا، ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کرنا، مہمان نوازی اور خوش اخلاقی ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔

وصال پرملال: علم و عمل کا یہ روشن چراغ اور شریعت و طریقت کا یہ مہر درخشاں 29 ربیع الاول 1433ہجری  بمطابق 22 فروری 2012ء کو بدھ کے روز ممبئی کے اسماعیلیہ اسپتال میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ آپ علیہ الرحمہ  کی کی نماز جنازہ خلف اکبر قائد ملت حضرت مولانا سید شاہ محمد محمود اشرف اشرفی جیلانی، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف، نے پڑھائی اور تدفین یکم ربیع الآخر 1433ہجری  بمطابق 24 فروری 2012ء بروز جمعہ کچھوچھہ شریف میں ہوئی۔ ( بشکریہ: محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، مغربی بنگال)

امین شریعت حضرت علامہ رفاقت حسین اشرفی علیہ الرحمہ


نام ونسب: امین شریعت حضرت علامہ شاہ رفاقت حسین اشرفی مظفر پوری علیہ الرحمہ کا اسمِ گرامی مولانا رفاقت حسین کانپوری تھا۔اور آپ کا نسبی تعلق مشہور بزرگ حضرت سید شاہ جلال الدین جڑھوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔

سلسلہ نسب: آپ علیہ الرحمہ کا سلسلہ ٔ نسب یوں ہے: حضرت قبلہ رفاقت حسین بن مولوی شاہ عبد الرزاق بن شاہ حسین بخش بن خدا بخش بن میر شاہ تراب علی بن حضرت شاہ جلال الدین علیہم الرحمۃ ۔

القاب و خطابات:مفتیٔ اعظم کانپور،امین شریعت،برہان الاصفیاء،سلطان المتکلمین  ،مناظر اہل سنت

تاریخِ ولادت:مفتی رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ 1324 ھ میں بھوانی، ضلع مظفر پور، ہندستان میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم: آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم مرچا اسکول میں درجہ چار تک تعلیم پائی، بعدہ قریب کی بستی عارض پور کے مولوی طاہر حسین مرحوم سے فارسی گلستاں بوستاں تک پڑھی۔بعد مدرسہ عزیزییہ بہار شریف میں داخل ہوئے حضرت مولانا شاہ حبیب الرحمٰن بہاری مرحوم سے شرح وقایہ شروع کی۔ دار العلوم کے اساتذہ حضرت صدر الشریعہ مولانا حکیم امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ، مولانا حکیم سید عبد الحئی افغانی علیہ الرحمہ، مولانا مفتی متقدمین کی کتابوں کا درس لیا۔اس کے علاوہ دیگر مدارس میں مختلف علوم وفنون حاصل کئے۔

بیعت وخلاف: آپ علیہ الرحمہ  محبوب ربانی شیخ المشائخ اعلی حضرت سیدحسین اشرف اشرفی میاں  کچھوچھوی علیہ الرحمہ کے مرید ہوئے۔تمام سلاسل کی اجازت مرحمت ہوئی اور شجرۂ مبارکہ کی پشت پردست مبارک سے سلسلہ عالیہ قادریہ منوریہ تحریر فرماکر اجازت دی۔

سیرت وخصائص: برہان الاصفیاء سلطان المتکلمین،شرف الاسلام والمسلمین حضرت مولانا الحاج شاہ رفاقت حسین رحمۃ اللہ علیہ چلتی پھرتی دینی درس گاہ تھے۔ آپ زمانۂ طالب علمی میں جس طرح دوسرے طلباء سے ممتاز تھے اسی طرح خداداد تدریسی صلاحیت نے آپ کو ایک منفرد مقام عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ  آپ کو اپنی معیت میں بریلی لائے،مدرسہ منظر اسلام میں درس و تدریس کا عہدہ سپرد کیا۔ایک سال بعد مدرسہ محمدیہ جائس ضلع رائے بریلی کے صدر مدرس ہوکر تشریف لے گئے،کچھ عرصہ بعد مدرسہ محمدیہ سے علیحدگی اختیار کرلی،بعدہٗ محلہ قضیانہ میں قیام کر کے مطب کے ساتھ درس دیتے رہے۔ لکھنؤ میں شیعت کا زورتیزی سے پھیل رہا تھا، سب وشتم کا بازار گرم تھا حضرت قبلہ نے رو افض کا ردبلیغ فرمایا،جس سے اُن کا زور ٹوٹ گیا۔چند سال جامع مسجد سلطانپور کے خطیب رہے، یہاں مولوی امین نصیر آبادی کی سُنیت دشمن سرگمیوں کے انسداد کےلیے گوشش فرمائی،یہاں سے عقیدت مندانِ جائسی کی درخواست پر چندے جائس قیام فرماکر وطن مراجعت فرمائی،قضاء الٰہی شدید بیمار ہوکر صاحب فراش ہوگئے،بارے خدا نے صحت عطا فرمائی۔وطن میں طبابت کا مشغلہ رہا۔ تین سال بعد پھر جائس تشریف لے گئے،تقریباً سترہ برس بعد مدرسہ احسن المدارس کانپور کے مفتئ اعظم کا منصب رفیع سپرد کیا۔آپ کانپور سے بار ادہ حج وزارت روانہ ہوئے، مکہ معظمہ میں الگ قیام جماعت کے سبب قاضی نجدی سے گفتگو ہوئی،آپ کامیاب اور وہ خائب و خاسر ہوا۔بعدہٗ دربار نبوی میں میں حاضری دی،حضرت قطب مدینہ منورہ مولانا شاہ محمد ضیاء الدین قادری اشرفی  علیہ الرحمہ  نے سند حدیث اور سلسلۂ عالیہ قادریہ کی اجازت مرحمت فرمائی۔

قیادت و سرپرستی:جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی شریف ،ادارۂ شریعہ بہار پٹنہ ،آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء ممبئی ،مدرسہ احسن المدارس قدیم کانپور۔

تصنیفی خدمات:تفسیر سوره بقره ،شرح ترمذی شریف،الحقيقۃ المحمديہ،مجموعہ فتاویٰ،فوائد حامدیہ،امتناع النظیر،طریقہ حنفیہ،عورت کی نماز ،قرآن اور ابلیس،کشکول رفاقتی،شیعی مذہب،قادیانی کذاب،الیاسی جماعت،حقیقت جماعت اسلامی،عرس کی شرعی حیثیت

تاریخ وصال: آپ رحمۃ اللہ علیہ 3 ربیع الثانی 1403 ہجری /بمطابق جنوری 19833 ء کو وصال ہوا۔

(ماخذ : تذکرۂ علماء اہلسنت بحوالہ انجمن ضیاء طیبہ و دیگرمضامین سے مآخوذ) 

حضرت شاہ محمد تیغ علی قادری مجددی آبادانی مظفر پوری علیہ الرحمہ

ولادت باسعادت : حضرت شیخ المشائخ الحاج شاہ محمد تیغ علی قادری مجددی آبادانی مظفر پوری علیہ الرحمہ

1300ہجری میں قصبہ گوریارہ، ضلع مظفر پور (بہار، بھارت) میں پیدا ہوئے۔کم سنی ہی سے آپ کے شب وروز لہوولعب سے پاک اور غیر معمولی گذرتے تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ عہد طفلی میں پیش آنے والے کئی غیر معمولی واقعات کی راویہ ہیں۔ غرض کہ عہد شعور کی آمد سے قبل ہی آپ کی ولایت کے چرچے ہونے لگے تھے۔ ابتدائی علم کے حصول کے بعد جن اساتذہ کی صحبت میں آپ علیہ الرحمہ نے علوم درسیہ حاصل فرمایا، ان میں حضرت مولانا شاہ سبحان علی علیہ الرحمہ کا نام سب سے اہم ہے۔ بعدہ مدرسہ عالیہ کلکتہ میں داخل ہوکر طلب علم فرمایا۔ اسی دوران مردان خدا کے دیدار اور ان کی خدمت کا شرف حاصل کرنے کا شوق اُبھرا۔ چنانچہ حضرت مولانا شاہ سمیع احمد مونگیری قادری آبادانی علیہ الرحمہ کا چرچا سن کر کمال شوق کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوئے۔ حضرت مولانا سمیع احمد علیہ الرحمہ ، حضرت حافظ شاہ فرید الدین آروی قادری آبادانی علیہ الرحمہ کے مرید ومجاز تھے۔ آپ کا وطن خان پور ضلع مونگیر تھا ۔ اس زمانہ میں آپ کا قیام بڑی پاڑہ کلکتہ میں تھا۔

حضرت شاہ محمد تیغ علی علیہ الرحمہ کو حضرت مولانا سمیع احمد مونگیری علیہ الرحمہ کے دیدار و حصول نیاز سے قلبی اطمینان حاصل ہوا۔ یہاں تک کہ انہیں کے دست حق پرست پر سلسلۂ قادریہ مجددیہ آبادانیہ میں بیعت ہوگئے۔ روزانہ اپنی قیام گاہ سے چلتے اور چار میل کی دوری طےکر کے اپنے پیر دستگیر کی خدمت میں باریاب ہوتے اوربھرپور استفادہ فرماتے ۔اور ریاضات و مجاہدات میں کافی محنت اور لگن کے ساتھ مصروف رہتے، لیکن تکمیل سے قبل ہی حضرت مولانا سمیع احمد کو اپنے وطن مونگیر کو لوٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خلیفۂ اعظم حضرت مولا علی لال گنجوی کے سپرد آپ کو فرمایا۔ حضرت تیغ علی حضرت مولا علی لال گنجوی کی نگہداشت میں 14 سال تک مصروف ریاضات وعبادات رہے یہاں تک کہ 20/ جمادی الآخر 1341 ھ کو خان پور ضلع مونگیر میں حضرت مولانا سمیع احمد مونگیری کے آستانہ پر حضرت مولاعلی لال گنجوی نے آپ کو سندِ خلافت واجازت سے نوازا۔

تکمیل طریقت کے بعد 1349 ہجری ہی میں آپ نے سفر سیاحت کے لئے کمر باندھا اور سب سے پہلے آرہ میں اپنے دادا پیر حضرت حافظ شاہ فریدالدین کے مزار پر حاضر ہوئے ۔اور وہیں حضرت حافظ شاہ محمد صاحب (سجادہ نشین حضرت فریدالدین) نے بھی سلسلۂ قادریہ مجددیہ آبادانیہ فریدیہ کی اجازت آپ کو عطا فرمائی۔ وہاں سے روانہ ہوکر آپ پھلواری شریف میں واقع خانقاہ مجیبیہ پہنچے اور حضرت شاہ مجیب اللہ قادری کے آستانۂ پُر انوار پر شرف حاضری حاصل کیا اور دور روز خانقاہ میں قیام پذیر رہے۔ اسی دوران 28/ رجب المرجب 1349 ھ کو زیب سجادہ حضرت مولانا شاہ محی الدین قادری مجیبی پھلواروی نے آپ کو خرقۂ خلافت سے نوازا اور سلسلۂ قادریہ وارثیہ وعمادیہ جنیدیہ وسلسلۂ چشتیہ نظامیہ اورصابریہ قلندریہ کی اجازت مرحمت فرمائی۔ وہاں سے رخصت ہوکرا پنے وطن گوریارہ پہنچے اور یہیں حضرت شاہ فرید الدین آروی کے خلیفہ ومجاز حضرت حکیم شاہ جلال الدین جڑہوی علیہ الرحمہ کی خدمت کا موقع ملا۔ حصول نیاز کے بعد حاصل کردہ خلافت نامے ان کی خدمت میں پیش کردیئے۔ حضرت حکیم صاحب نے بھی اپنے شیخ سے حاصل کردہ آبادانیہ سلاسل کی اجازت مرحمت فرمائی اور دعاؤں سے نوازا۔ حضرت شاہ محمد تیغ علی قدس سرہ کی خانقاہ میں مریدوں کو حضرت حکیم شاہ جلال الدین جڑہوی کے واسطے والا ہی شجرہ زیادہ تر دیا جاتا ہے اور یہی واسطہ زیادہ رائج ہے۔

گوریارہ سے حضرت تیغ علی علیہ الرحمہ نے قصبہ سرکانہی میں ہجرت فرمائی ۔ یہیں آپ کی مرضی کے مطابق ایک خانقاہ کی تعمیر عمل میں آئی جو خانقاہ آبادانیہ کے نام سے مشہورو معروف ہے۔ خانقاہ کی تعمیر کے بعد حضرت کی دور بین نگاہوں نے ایک اشد ضرورت کی طرف توجہ فرمائی،یعنی 1326 ھ میں خودا پنے ہاتھوں سے یہاں ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی۔ مدرسہ وخانقاہ کے ساتھ ساتھ آپ کا وجود مسعود غرض کہ ایک ایسا خزانہ سرکارنہی شریف کے غیر معروف قصبے میں جمع ہوگیا کہ اس کی شہرت خوشبو و فاصلوں کو پیچھے چھوڑتی ہوئی دور دور تک پھیل گئی اور طالبان شریعت و طریقت کے ساتھ ساتھ صوفی باصفا کو دیکھنے کے لئے ترس رہی آنکھیں بھی سرکانہی کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ ایک عالم سیراب ہوا۔

چودہویں صدی ہجری میں حضرت شاہ محمد تیغ علی قادری علیہ الرحمہ کی ذات والا صفات متقدمین صوفیا کی یاد تازہ کراتی ہے۔ لاگ لپٹ ’ریاو تصنع‘ جاہ وحشم اور طمطراق سے کوسوں دور سادگی، عاجزی، انکساری اور فروتنی کا دھنی یہ فقیر اپنی مثال آپ تھا۔ ہر ہر قدم پر سنت نبویﷺ کی پیروی کا التزام فرماتے۔ آپ کا اخلاق دوسروں کو فوراً گرویدہ بنا لیتا۔ عفو و درگذر کا مادہ آپ کے اندر بدرجہ اتم موجود تھا۔ کبھی کسی کو زیادہ دیر معتوب نہ فرماتے۔ اگر کسی سے ناراض ہوجاتے تو صرف اتنا فرماتے، بابو تونے یہ کیا کیا؟

 یہ کہنے کے بعد اس کو آزردہ نہ ہونے دیتے۔ روزانہ دس بجے دن کو غسل سے فارغ ہوکر بالالتزام قرآن پاک کی تلاوت فرماتے اور اسرارومعانی سے حاضرین کو ان کے حسب استعداد نوازتے۔ دعا فرماتے تو اکثر وبیشتر یہ شعر زبان مبارک پر ہوتا:

راستی موجب رضائے خداست

کس نہ دیدم کہ گم شد ازرہ راست

نعت پاک ذوق وشوق کے ساتھ سنتے اور وجد فرماتے۔ مولانا رومؔ، چراغ دہلوی، خسروؔ،امداد ہدفؔ اور فاضل بریلوی کے اشعار آپ کے پسندیدہ تھے۔

1327 ھ میں آپ نے حرمین شرفین کے حج کا بھی شرف حاصل کیا۔ اس مبارک سفر میں کافی لوگ آپ سے فیضیاب ہوئے۔ آپ کا حلقۂ مریدین و معتقدین کافی وسیع تھا۔ بہاروبنگال میں بطور خصوص آپ کے مریدین کثیر تعداد میں ہیں۔ ان میں خلفا، علما وفضلا کی تعداد کثیر ہے۔

وصال پرملال: اس عظیم اور مثالی کردار والی شخصیت نے تقریباً 78 سال کی عمر میں 29/ ربیع الاول 1378 ہجری بمطابق 14 اکتوبر 1958عیسوی کو جب کہ ماہ ربیع الآخر کا چاند نظر آیا اس دار فانی سے کوچ فرمایا۔ خانقاہ آبادانیہ سرکانہی شریف ضلع مظفر پور سے متصل مقبرہ میں اپنی والدہ ماجدہ اور اہلیہ صاحبہ کے ساتھ آپ کا بارونق مزار مرجع خلائق ہے۔