نام و نسب:آپ علیہ الرحمہ کا نام احمد، ابو عبد اللہ کنیت، شیخ الاسلام اور امام السنہ القاب، شیبانی، بصری، مروزی اور بغدادی نسبتیں ہیں ۔
سلسلہ نسب : آپ علیہ الرحمہ کاسلسلہ نسب کچھ یوں بیان کیاجاتا ہے ’’احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن اسد بن ادریس بن عبد اللہ بن حیان
بن عبد اللہ بن انس بن عوف بن قاسط بن مازن بن شیبان‘‘۔
ولادت باسعادت: آپ علیہ
الرحمہ کی ولادت ماہِ ربیع الاول164ھ بغداد میں ہوئی۔ (تہذیب الاسماء و اللغات،
جز:1، صفحہ :112)
آپ خالص عربی النسل تھےاور جس خاندان میں پیدا ہوئے وہ خاندان اپنی
شجاعت، دلیری اور غیرت و حمیت کیلئے ہمیشہ سےمشہور تھا۔آپ کے دادا حنبل امویوں کے
عہد میں سرخس کے گورنر اور والد محمد ایک بہادر سپاہی تھے۔ امام احمد علیہ الرحمہ
صرف تین سال کے تھے کہ والدمحترم کاتیس سال کی عمرمیں انتقال ہوگیا؛ آپ کی پرورش
والدہ ماجدہ نے فرمائی۔دنیوی و جاہت کی طرح علمی حیثیت میں بھی یہ خاندان بہت
ممتاز تھا اس میں متعدد علماء ، فضلاء، مقررین، شعراء اور ماہرینِ اَنساب گزرے ہیں۔
تحصیلِ علم:آپ کی تعلیم کا سلسلہ اوّل عمری ہی میں شروع ہوگیا۔ چار (4) سال کی
عمر میں قرآن پاک حفظ کیا سات (7)سال کی عمر میں حدیث پڑھنا شروع کردی اور پندرہ،
سولہ سال کی عمر میں باقاعدہ حدیث پاک کی طلب و تکمیل میں مصروف ہوگئے۔اِمام احمدعلیہ
الرحمہ عرصہ تک بغدادہی میں رہ کروہاں کےمشائخ سےسماع کرتےرہے۔بعد ازاں آپ نے
دوسرے مشہور مراکز حدیث کوفہ، بصرہ، مکہ، مدینہ، یمن، شام اور جزیرہ وغیرہ کا رخ
کیا۔
شیوخ و اساتذہ:شروع میں اِمام احمدعلیہ الرحمہ بغداد کے علماء وفضلاء کے دامنِ
فیض سے وابستہ رہے ۔بغداد میں آپ کی نظر سب سے پہلے مشہور محدث حافظ ہشیم بن بشیر
پر پڑی جو حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن عمر (رضی اللہ عنہما) کی مرویات کے معتبر
عالم تھے۔4سال تک اسی خرمن علم کی خوشہ چینی کرتے رہے جب یہ آفتابِ علم غروب ہو
گیا تو دوسرے اساتذہ فن کی طرف متوجہ ہوئے۔اِمام احمدعلیہ الرحمہ کے اساتذہ میں سب
سے زیادہ ممتاز و باکمال شخصیت سیدنا امام شافعی علیہ الرحمہ کی ہے ۔آپ نے ان سے
صرف علم فقہ کے حصول پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فقہ کے علاوہ حدیث و انساب کا علم بھی
ان سےحاصل کیا ۔ امام شافعی(رحمۃ اللہ علیہ) جب تک بغداد میں رہے آپ ان کے حلقہء
درس سے وابستہ رہے جب وہ مصر تشریف لے گئے تو امام احمد نے بھی وہاں جانا چاہا
مگربوجہ عسرت و ناداری، وہاں جانے کا موقع نہ ملا۔اِمام احمدعلیہ الرحمہ کو امام
شافعی کی ذات سے بڑی عقیدت تھی وہ ان کا ہمیشہ بڑا احترام کرتے تھے ۔جب امام شافعی
سوار ہوتے تو آپ کے پیچھے پیدل چلتے ہوئے ان سے سوال کرتے جاتے تھے ۔اِمام
احمد(رحمۃ اللہ علیہ) کا بیان ہے میں نے30سال سے کوئی ایسی نماز نہیں پڑھی جس میں
امام شافعی کے لیے دعا نہ کی ہو۔
اپنے استاد سے عقیدت و محبت کایہ ایک بہت بڑا ثبوت ہے لیکن ساتھ ہی
ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اس انتہاء کی عقیدت کے باوجود علمی اختلاف روا رکھا
اور ایک نئے مذہب کو جنم دیا اور جس سے اسلام کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔مزید براں
یہ بھی استدلال کیا جاسکتا ہے کہ علمی اختلاف ہرگز بےادبی استاد میں شمار نہیں
ہوتا۔
شفیق استاد کوبھی اپنے لائق شاگردسے بڑی محبت تھی اور ان کے علم و
فضل، ذہانت، تقوی پر بڑا اعتماد تھا۔ ان سے روایت بھی کرتے تھے اور فتوی دیتے وقت
ان سے مشورہ بھی کرتے تھے فرط تعلق کی بنا پر اکثر ان کے گھر بھی تشریف لے جایا
کرتے تھے۔مذکورہ دو شخصیات کے علاوہ جن سے اکتسابِ علم کیا ان میں چند
مشہورشخصیات درج ذیل ہیں۔
’’اسماعیل بن علیہ، حماد
بن خالد، منصور بن سلمہ خزاعی، مظفر بن مدرک، عثمان بن عمر بن فارس، ابو سعید مولی
بن ہاشم، محمد بن یزید، محمد بن ابو عدی، محمد بن جعفر غندر، یحی بن سعید قسطان،
عبد الرحمٰن بن مھدی، بشر بن مفضل، محمد بن بکر برسانی، ابو داؤد طیالسی، روح بن
عبادہ، وکیع بن جراح، عبد اللہ بن نمیر، ابو اسامہ، سفیان بن عیینہ، یحی بن سلیم
طائفی، ابراہیم بن سعد زہری، عبد الرزاق بن ہمام، ولید بن مسلم، ابو مسہردمشقی،
علی بن عیاش اور بشر بن شعیب بن ابو حمزہ‘‘۔ رضوان
اللہ علیہم اجمعین (تاریخ بغداد، ج:6، صفحہ :90)
تلامذہ: سیدنا
امام احمدبن حنبل علیہ الرحمہ کے تلامذہ کےمختلف طبقے ہیں۔حافظ ابن حجر عسقلانی
فرماتے ہیں کہ : ’’آپ کے اساتذہ میں سے امام شافعی، وکیع بن جراح، یحی بن آدم، ابو
الولید، امام عبد الرزاق بن ہمام اور یزید بن ہارون نے آپ سے سماع کیا۔آپ کے زمانے
کے اکابرین میں سے قتیبہ بن سعید، داؤد بن عمرو، خلف بن ہشام نے آپ سے سماع کیا۔معاصرین
میں سے احمد بن ابی حواری، یحی بن معین، علی بن مدینی، حسین بن منصور، زیاد بن
ایوب، ابو قدامہ سرخسی، محمد بن رافع اور محمد بن یحی بن ابی سمینہ(رحمۃ اللہ
علیہم) نے آپ سے سماع حدیث کیا۔
ان کے علاوہ امام بخاری علیہ الرحمہ ، امام مسلم علیہ الرحمہ ،
امام داؤد علیہ الرحمہ ، اسود بن عامر ابن مہدی علیہ الرحمہ اور آپ کے دونوں
صاحبزادے عبد اللہ علیہ الرحمہ ، صالح علیہ الرحمہ اور ابوبکر اثرم علیہ الرحمہ
کوآپ سے شرفِ تلمذ حاصل ہے۔
علم وفضل اور آئمہ کرام کی آراء:سیدنا امام احمد بن
حنبل(رحمۃ اللہ علیہ) محدثین اور فقہاء میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے تبحر
علمی،مہارتِ فن، صدق و ثقاہت، قوت حفظ و ضبط میں ایک مینارہ نور کی حیثیت رکھتے تھے
آپ کی ذات حدیث، فقہ، حفظ، صدق، ورع اور زہد کی جامع تھی۔ابو زرعہ فرماتے ہیں: ’’میں نے آپ کے علاوہ کوئی جامع شخصیت نہیں دیکھی اور نہ ہی آپ کے
علاوہ کوئی کامل شخصیت دیکھی ہے کہ جس میں زہد، فقہ، فضل اور بہت ساری چیزوں کا
اجتماع پایا جاتا ہو‘‘۔(تہذیب الاسماء و اللغات، جز:1، صفحہ :111)
اسی جامعیت و کاملیت کی وجہ سے قتیبہ بن سعید فرماتے ہیں: ’’احمد امام الدنیا‘‘"امام احمد علیہ الرحمہ دنیا کے امام
ہیں۔
علم و فضل کے میدان میں آپ کی ذات حجت کی حیثیت رکھتی ہے یہی وجہ
ہے محمد بن اسحاق بن ابراہیم الحنظلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد
سے سنا: ’’امام احمد بن حنبل اللہ
تعالیٰ کی زمین میں اللہ اوراس کے بندوں کے درمیان حجت ہیں‘‘۔ (تاریخ بغداد، ج:6، صفحہ
:90)
سفیان بن وکیع علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل (رحمۃ
اللہ علیہ)کی عیب جوئی کرنے والا فاسق و فاجر ہے ۔احمددورقی فرماتے ہیں’’امام
احمد کی مذمت کرنےوالے کو بے دین سمجھو‘‘۔ (تہذیب التہذیب، جز:1، صفحہ :74)
آئمہ کرام نے آپ کے علم و فضل اور ثقاہت کو مختلف انداز میں بیان
کیا ہے ۔امام نسائی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’ آپ ثقہ ومامون آئمہ
میں سے ایک ہیں‘‘۔(تہذیب التہذیب، جز:1، صفحہ :74)
ابن سعد علیہ الرحمہ فرماتے
ہیں: ’’آپ ثقہ، ثابت، صدوق اور
کثیر الحدیث تھے‘‘۔(تہذیب التہذیب، جز:1، صفحہ :76)
امام عجلی سعد علیہ الرحمہ
فرماتےہیں: ’’آپ ثقہ حدیث میں ثابت
اور حدیث میں فقیہ آثار کی اتباع کرنےوالے صاحب سنہ اور خیروالےہیں‘‘۔(تہذیب التہذیب، جز:1، صفحہ :74)
قتیبہ بن سعید سعد علیہ
الرحمہ فرماتے ہیں: ’’اگر امام احمد امام
ثوری، امام مالک، امام اوزاعی اور لیث بن سعد کا زمانہ پاتے تو ان سے مقدم ہوتے‘‘۔ (الجرح و التعدیل، جز:1، صفحہ :293)
عبد الرحمٰن بن مہدی امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ) کی طرف
متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’یہ سفیان ثوری کی روایت
کردہ احادیث کے سب سے بڑے عالم ہیں‘‘۔(الجرح و التعدیل، جز:1، صفحہ :292)
امام ابو جعفر نفیلی فرماتے ہیں: ’’امام احمد بن حنبل دین
کی نشانیوں میں سے تھے‘‘۔(الجرح و التعدیل، جز:1، صفحہ :293)
ابو نصر بن ماکولا سعد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’آپ صحابہ و تابعین کے
مذاہب سے سب سے زیادہ واقفیت رکھنے والے تھے‘‘۔(تہذیب التہذیب، جز:1،
صفحہ :75)
اسحاق بن راہویہ سعد علیہ
الرحمہ فرماتے ہیں کہ: ’’اسلام کی خاطر امام احمد بن حنبل کی قربانیاں نہ ہوتیں تو آج ہمارے
سینوں میں اسلام نہ ہوتا‘‘۔(تہذیب التہذیب، جز:1، صفحہ :75)
ابراہیم الحربی سعد علیہ
الرحمہ فرماتے ہیں: ’’میں نے امام احمد کو
دیکھا گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے اولین اور آخرین کا علم جمع فرما دیا ہے‘‘۔(طبقات الشافیہ الکبری، جز:2، صفحہ :28)
اِمام احمدعلیہ الرحمہ علم اور شریعت میں اتنے کامل تھے کہ آپ کے
ساتھ محبت کرنے والے کو صاحب سنہ کہا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ قتیبہ بن سعید فرماتے
ہیں: ’’جب تو کسی آدمی کو امام احمد کے ساتھ محبت کرنے والا دیکھے پس تو
جان لے وہ صاحب سنت ہے‘‘۔(طبقات الشافیہ الکبری، جز:2، صفحہ :28)
حفظ و ضبط:امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بڑے بلند پایہ محدث تھے۔ ایک
محدث کے لئے ضروری ہے علم حدیث میں کمال حاصل کرنے کے لئے حفظ و ضبط میں ماہر ہو۔اِمام
احمدعلیہ الرحمہ حفظ و ضبط کی دولت سے مالا مال تھے۔آپ کا حافظہ غیر معمولی اور
یاداشت حیرت انگیر تھی۔آپ کی قوت حافظہ کا کمال اس سے ظاہر ہے آپ نے چار سال کی
عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔الغرض آپ(رحمۃ اللہ علیہ) ان تمام اوصاف و کمالات
سےمتصف تھے جو ایک محدث میں ہونے چاہئیں مؤرخین فرماتے ہیں کہ آپ کے پاس بارہ
گٹھڑوں کی مقدار کتابیں تھیں وہ سب آپ کو یاد تھیں۔
علی بن مدینی آپ کے حفظ وضبط کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ’’ہمارے اصحاب میں امام
احمد بن حنبل سے بڑھ کر کوئی حافظ نہیں تھا‘‘۔(تہذیب الاسماء و
اللغات، جز:1، صفحہ :111)
امام احمد علیہ الرحمہ خود
فرماتے ہیں: ’’امام ہشیم علیہ الرحمہ
کا جب وصال ہوا اس وقت میری عمر بیس سال تھی ان سے جو بھی سنا اس کو یاد کر لیتا
تھا‘‘۔(الجرح و التعدیل، جز:1، صفحہ :295)
آپ کے حفظ و ضبط کےکمال کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ
عبد اللہ بن احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ : ’’میرے والد گرامی نے
فرمایاآپ وکیع بن جراح کی کوئی بھی کتاب لے کر مجھ سے سوال کریں ۔اگر آپ کلام پڑھ
کر اسناد کے بارے سوال کریں گےتو میں اسناد کی خبر دوں گا اگر آپ اسناد پڑھ کر
کلام کے بارے سوال کریں گے تو میں اس کی بھی خبر دوں گا‘‘۔(طبقات الشافیہ
الکبری، جز:2، صفحہ :28)
اِمام احمدعلیہ الرحمہ حدیثوں کے فقط معتبر ناقل و حافظ ہی نہ تھے
بلکہ روایتوں میں امتیاز کا بھی پورا پورا ملکہ رکھتے تھے۔ ابو حاتم رازی فرماتے
ہیں: ’’امام احمد بن حنبل صحیح
اور سقیم حدیثوں کی معرفت میں بہت زیادہ سمجھ رکھتے تھے‘‘۔ (تہذیب الاسماء و
اللغات، جز:1، صفحہ :111)
امام شافعی علیہ الرحمہ کو ان کی بصیرت و حفظ پر اس درجہ اعتماد
تھاکہ آپ اکثر فرماتے تھے جب کوئی روایت تمہارے معیار پرصحیح و ثابت آجائے تو مجھے
بتلا دو میں اس کوبےتکلف قبول کرلوں گا۔
زہد وتقوٰی:امام احمد علیہ الرحمہ زہد و تقوی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے آپ
کے زہد کا یہ عالم تھا کہ جب خلق قرآن کے انکار کے جرم میں آپ کو کوڑے لگائے گئے
اور بدن لہو لہان ہوگیا اس وقت بھی ابن سماعہ کی اقتداء میں نماز ادا کی انہوں
نےاعتراض کیا کہ خون سے لت پت ہونے کے باوجود آپ نے نماز پڑھی تو آپ نے جواب دیا
کہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کاجسم بھی لہو لہان ہو گیا تھا مگر انہوں نےبھی اسی
حالت میں نماز ادا کی تھی۔علمی اور نظری مصروفیات کے باوجود امام احمد علیہ الرحمہ
عبادات میں قدم راسخ رکھتے تھے۔آپ کے صاحبزادے عبد اللہ فرماتے ہیں آپ دن اور رات
میں300نفل ادا فرمایا کرتے تھے۔جب آپ کی عمر 56سال کو پہنچی آپ مسئلہ خلق قرآن کے
امتحان میں مبتلا ہوئے آپ کے جسم پر کوڑے مارے جاتے تھے لیکن آپ اس حال میں بھی
روزانہ150نوافل پڑھا کرتے تھے۔(حلیۃ الاولیاء: جز:9، صفحہ :171)
آپ علیہ الرحمہ عشاء کے بعد تھوڑی دیر تک آرام فرماتے پھر ساری رات
نماز اور یاد الٰہی میں گزارتے ابو بکر مروزی فرماتے ہیں کہ میں نےچار مہینے ان کے
ساتھ قیام کیا اس عرصہ میں کبھی انہوں نے تہجد ترک نہیں کی۔
امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ فقر و فاقہ میں استغناء کی شان
رکھتے تھے : ’’ایک مرتبہ کھانے کے لئے کچھ نہ تھا مجبور ہوکر اپنی نعلین گروی رکھ
کر روٹیاں خریدیں امام عبد الرزاق کو پتہ چلا تو انہوں نے آپ کو رقم مہیا کی لیکن
آپ کے غیور ضمیر نے ان سے کچھ لینا گوارا نہ کیا اور خود محنت ومشقت کر کے اپنی
ضرورت پوری کی۔ (حلیۃ الاولیاء: جز:9، صفحہ :175)
’’حسن بن عبد العزیر کو
ایک لاکھ دینار وراثت میں ملےانہوں نےان میں سے 3000دینار آپ کی خدمت میں پیش
کیےعرض کی یہ مال حلال ہےآپ اس سےفائدہ اٹھائیں لیکن آپ نے یہ کَہ کر دینار واپس
کردیے کہ مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔(حلیۃ الاولیاء: جز:9، صفحہ :175)
آپ کے صاحبزادے عبد اللہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ: ’’اگرکسی شخص کو امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کی تلاش ہوتی تو آپ
اس کو مسجد میں ملتے یا نماز جنازہ میں یا کسی مریض کے ہاں عیادت میں ملتے۔ (حلیۃ
الاولیاء: جز:9، صفحہ :184)
امام احمد اور فتنہ خلق القرآن:آئمہ مسلمین کے لئے212ہجری
انتہائی صبرآزما سال تھا۔اسی سال عباسی خلفاء کےایک خلیفہ مامون رشید نے خلق قرآن
کے مکروہ عقیدہ کا اظہار کیا اور علماء معتزلہ کی معاونت سے اس عقیدہ کو پھیلاتا
رہا۔217 ہجری میں اس نے بغداد میں اپنے نائب اسحاق بن ابراہیم معتزلی کو لکھا تم
بغداد کے تمام علماء اور مقتدر لوگوں کو جمع کرو ان پر خلق قرآن کا عقیدہ پیش کرو
جومان لے اس کو امان دو جو نہ مانے ان کے جوابات لکھ کر مجھے بھیج دو۔بہت سے لوگ
اپنی جان بچانے کے لئے معتزلی عقیدہ خلقِ قرآنی کے قائل ہوگئے۔امام احمد بن حنبل
سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہتا کہ قرآن اللہ کا
کلام ہے۔قاضی اسحاق بن ابراہیم نے یہ جواب مامون رشید کو لکھ کر بھیجا۔مامون رشید
نے جواب میں لکھا جو شخص عقیدہ خلقِ قرآنی سے موافقت نہ کرے اس کو درس و افتاء سے
روک دو۔ کچھ عرصہ بعد مامون رشید نے قاضی بغدادکو لکھاکہ جو لوگ عقیدہ خلق قرآن کا
اقرار کرلیں تو ٹھیک ورنہ ان کو قتل کردیا جائے۔اس دھمکی سے مرعوب ہو کر امام احمد
بن حنبل، محمد بن نوح اور امام قواریری کے سوا بغداد کے کئی علماء نے خلقِ قرآن کا
اقرار کیا۔قاضی کے حکم سے امام احمد وغیرہ کو قید کرکے مامون کی طرف بھجوادیا گیا
لیکن اس سے پہلے کہ مامون ان مردانِ خدا پر تلوار اٹھاتا سیفِ قضا نے خود اس کا
کام تمام کردیا۔(تاریخ الخلفاء، صفحہ :236۔240)
امام احمد کے شاگرد احمد بن غسان علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ: ’’ خلیفہ کے حکم پر مجھے
اور امام احمد بن حنبل کو گرفتار کر کے اس کے پاس لے جایا جا رہا تھا۔راستہ میں
امام احمد بن حنبل کو یہ خبر پہنچی کہ خلیفہ مامون نے قسم کھائی ہے اگر احمد بن
حنبل نے خلق قرآن کا اقرار نہ کیا تو وہ ان کو اور ان کے شاگرد کو مار مار کر ہلاک
کردے گا۔اس وقت امام احمد نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر عرض کی اے اللہ! آج اس فاجر
کو یہاں تک جرأت ہوگئی ہے کہ یہ تیرے اولیاء کو للکارتا ہے اگر تیرا قرآن غیر
مخلوق ہے تو ہم سے اس مشقت کو دور فرما۔ابھی رات کا ایک تہائی حصہ بھی نہیں گزرا
تھا کہ سپاہی دوڑتے ہوئے آئے اور کہا اے ابو عبد اللہ تم واقعی سچے ہو قرآن غیر
مخلوق ہے قسم بخدا خلیفہ ہلاک ہوگیا‘‘۔ (حلیۃ الاولیاء: جز:9، صفحہ :195)
218ہجری میں خلیفہ مامون
ہلاک ہوا اس کا بھائی معتصم باللہ تختِ حکومت پر قابض ہوا۔مامون کی طرح معتصم بھی
اعتزال کا حامی تھا اس نے حکومت سنبھالنے کے بعد عقیدہ اعتزال کی ترویج شروع کی۔
پہلے مختلف حیلوں سے امام احمد کو اعتزال کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا رہا
بالآخر 220ہجری میں اس نے امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کو دربار خلافت میں طلب
کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب امام احمد علیہ الرحمہ کی عمر56سال کی ہو چکی تھی۔شباب
رخصت ہوچکا تھا جیل کی صعوبتوں کے باعث ان کا جسم بڑھاپے کی سرحد میں داخل اور
نحیف و نزار تھا لیکن اعصاب فولاد کی طرح مضبوط اور قوت ارادی چٹان سے کہیں زیادہ
مضبوط تھی ، اُن کے ایمان کی عظمت و مضبوطی پہ ہم جیسے گناہگار بھلا کیا استعارہ
یا تشبیہ قائم کر سکتے ہیں جن کی قوتِ ایمانی سے آج ہمارا ایمان محفوظ ہے ۔
خلیفہ کے سامنے ایک طویل مناظرہ ہوا اِمام احمدعلیہ الرحمہ کا
بنیادی نکتہ یہ تھا کہ قرآن کلام اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اگر یہ حادث
ہوتو اللہ تعالیٰ کی ذات محل حوادث بن جائے گی اور یہ محال ہے خلیفہ کے پاس اِمام
احمدعلیہ الرحمہ کی اس دلیل کا کوئی جواب نہیں تھا۔بالآخر معتزلی قاضی اور اس کے
حواری معتزلہ علماء نے کہا ہم فتویٰ دیتے ہیں کہ اس شخص کا خون آپ پر مباح ہے آپ
اس کو قتل کریں خلیفہ نے جلاد کو بلایا اور اس سے کہا کہ احمد بن حنبل کو کوڑے
مارو ایک جلاد جب کوڑے مارتے مارتے شل ہوجاتا تو دوسرا جلاد آجاتا اس طرح بار بار
جلاد بدلتے رہے اور امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ صبرو استقامت سے اپنے تن پر
کوڑے برداشت کرتے رہے۔اِمام احمدعلیہ الرحمہ خودفرماتے ہیں کہ آخر میں مار کی شدت
سے میرے ہوش و حواس بجانہ رہے۔اور تکلیف کا احساس تک ختم ہوگیا اس سے خلیفہ خوفزدہ
ہوگیا اس نے رہائی کا فرمان جاری کردیا اور پورے 80 کوڑے لگائے جانے کے بعد میں 25
رمضان المبارک کو رہا کردیا گیا۔
آج لوگ سمجھتے ہیں کہ نظریات کی جنگ میں استقامت کی کیا ضرورت ہے
؟ جو وقت کی روش ہو یا دربارِ شاہی کا نظریہ ہو وہ قبول کرو اور شکم پروری سے غافل
مت بنو ۔ مگر صاحبو! تاریخ کھنگال لو ، جس طرح امام احمد ابن حنبل علیہ الرحمہ نے
اپنے نظریات کی صداقت پہ صعوبتیں اٹھا کر بھی پہرہ دیا اِس کی مثالیں کم ملیں گی ۔
اِس سے یہ معلوم کرنے میں دقت نہیں رہتی کہ اگر قوم کے اہلِ علم و قلم اور دانشور
بکاؤ مال بن جائیں قومیں اپنے نظریات نذرِ آتش کر بیٹھتی ہیں ، ہاں صرف اُن قوموں
کے نظریات قائم رہتے ہیں جن میں بدن پہ کوڑے جھیل کر اور قید و بند کے مصائب اٹھا
کر بھی استقامت اور ثابت قدمی سے کھڑے رہنے والے اہلِ علم و فضل موجود ہوتے ہیں ۔
اب تہذیب التہذیب میں روایت کیا گیا صاحبِ مُسند امام اسحاق ابن راہویہ کا قولِ
بلیغ دوبارہ دیکھیں اور اُس کی حکمت و حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ ’’اسلام کی
خاطر امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کی قربانیاں نہ ہوتیں تو آج ہمارے سینوں میں
اسلام نہ ہوتا‘‘۔ اِس لئے جس کے پاس علم ہے اور ایمان ہے آج دین کے اندر سے اُٹھنے
والے فتنوں کی علمی سرکوبی کیلئے اپنے اندر استقامت پیدا کرے ، علمائے حق کیلئے
صعوبتیں اٹھانا نئی بات نہیں ۔
تصنیفات و تالیفات: آپ
کی چند مشہور کتب یہ ہیں:
کتاب الزہد: اِمام
احمدعلیہ الرحمہ کی یہ بڑی اہم کتاب ہے ۔ صاحبِ تذکرۃ المحدثین لکھتے ہیں :
’’ابنِ تیمیہ کا قول ہے
جن لوگوں نے زہد و رقاق کے متعلق حدیثیں جمع کی ہیں ان میں سب سے عمدہ کتاب امام
احمد کی ہے جس کی ترتیب ناموں پر ہے۔حافظ ابن کثیر بیان کرتے ہیں اس موضوع پر
متقدمین اور متاخرین علماء میں سے کسی کی کتاب بھی اس کے ہم پایہ نہیں ہے علامہ
ابن حجر لکھتے ہیں کہ یہ مسند کے ثلث کی مقدار ہے اور اس کی متعدد حدیثیں اور آثار
مسند احمد میں نہیں ہیں اس کا قلمی نسخہ برلین میں ہے‘‘۔(تذکرۃ المحدثین، صفحہ
:195)
مسند احمد بن حنبل:اِمام
احمدعلیہ الرحمہ کی یہ سب سے زیادہ مشہور اور حدیث کی اہم ترین کتاب ہے اِمام احمدعلیہ
الرحمہ سے پہلے بھی اس طرح کی کتابیں لکھی گئیں اور بعد میں بھی لیکن کسی مجموعہ
مسانید کو اس قدر شہرت و مقبولیت اور اعتبار و استناد حاصل نہیں ہوا۔اس میں عام
کتب مسانید کی طرح صحابہ کی ترتیب پر حدیثیں مرتب کی گئی ہیں۔اِمام احمدعلیہ
الرحمہ نے جب اس کتاب کو جمع فرمایا تو اس کی باقاعدہ ترتیب کیلئے مہلت نہ ملی۔آپ
کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ اور مسند احمد کے ایک راوی حضرت ابو بکر
قطیعی نے اس میں کچھ زیادات کیے اور پھر اس کی ترتیب کی خدمت حضرت عبد اللہ بن
احمد نے سر انجام دی ترتیب میں زیادہ تر سبقت فی الاسلام کا لحاظ رکھا گیا ہے لیکن
اس اصول کا ہر جگہ التزام نہیں کیا۔شاہ عبد العزیز صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے
ہیں کہ ترتیب میں بہت سی غلطیاں ہوگئیں ہیں مثلاً مدنیوں کی روایت شامیوں اور
شامیوں کے مدنیوں میں شامل کردی گئی ہیں۔
یہ مسند 18 مسندوں کا مجموعہ ہے جس میں کل 40000 اور بحذف مکر رات
تین ہزار احادیث ہیں جن کو امام احمد نے ساڑھے سات لاکھ اور بقول حضرت ابو زرعہ دس
لاکھ احادیث سے منتخب فرمایا کیونکہ امام احمد ایک عظیم حافظ الحدیث تھے جن کو دس
لاکھ تک احادیث زبانی یاد تھیں ، اسی لئے آپ کو امیر المؤمنین فی الحدیث کہا جاتا
ہے ۔امام احمد بن حنبل کی اس مسند کو بعض محدثین اصفہان نے فقہی ابواب پر بھی مرتب
کیا مگر افسوس کہ وہ شائع نہ ہوسکا۔البتہ اب مصر سے الفتح الربانی کے نام سے فقہی
ابواب اور حواشی کے ساتھ غالباً بیس جلدوں میں ہےشائع ہوچکی ہیں۔
مسند کی اہمیت اور کتب حدیث میں اس کا درجہ:محدثین کے نزدیک اگرچہ مسانید کا درجہ سنن سے کم تر ہے لیکن مسند
احمد بن حنبل کی حیثیت عام مسانید سے مختلف ہے شاہ ولی اللہ نے اس کو دوسرے درجے
کی کتابوں یعنی سنن ابی داؤد، جامع ترمذی اور نسائی کے لگ بھگ اور تیسرے درجے کی
کتابوں سے جس میں عام جوامع و مسانید شامل ہیں اس کو اہم اور ممتاز قرار دیا ہے۔حافظ
ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ مسند احمد کی حدیثوں کی نوعیت عام کتب مسانید سے
مختلف ہے۔ابو الحسن علی بن احمدہیثمی لکھتے ہیں کہ وہ دوسری مسانید کے مقابلے میں
زیادہ صحیح اور بہتر ہے۔
مسندِ احمد کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں 300 ثلاثی احادیث مبارکہ
ہیں؛ مسند احمد کا شمار ان اہم اور امہات کتب میں ہوتا ہے جن پر ملت ِاسلامیہ
کاہمیشہ اعتماد و اعتبار رہا ہے۔جن سے محدثین نے ہر زمانہ میں اخذ و استفادہ کیا
ہے۔علامہ سبکی فرماتے ہیں وہ اس امت کی اساسی اور بنیادی کتابوں میں ہے۔ابو موسیٰ
مدینی کا بیان ہے کہ مسند ایک اہم اصل اور محدثین کیلئے قابل وثوق مرجع ہے۔
ان مذکورہ دو کے علاوہ دیگر کتب یہ ہیں:
کتاب التفسیر
الناسخ المنسوخ
المنسک الکبیر
المنسک الصغیر
فضائل ابو بکر
فضائل حسنین
کتاب التاریخ
کتاب الاشربہ
فضائل الصحابہ
وصال پر ملال: آپ علیہ
الرحمہ کا وصال 12 ربیع الاول جمعہ کے دن 241ہجری میں ہوا ۔علامہ درکانی فرماتےہیں
کہ آپ علیہ الرحمہ کے وصال کے دن یہود و نصاری اور مجوس میں سے10000آدمی مسلمان
ہوئے۔(تہذیب الاسماء و اللغات، جز:1، صفحہ :112)آپ علیہ الرحمہ کے جنازے میں 3لاکھ
مرد اور 60 ہزار عورتیں شریک ہوئیں اور ایک قول کے مطابق 7 لاکھ مرد شریک ہوئے۔(البدایہ
و النہایہ، جز:10، صفحہ :342)
آپ علیہ الرحمہ بغداد میں دفن ہوئے آپ کی قبر باعتبار تبرک کے بہت
مشہور ہے۔


No comments:
Post a Comment