تقریر کے لئے منتخت اشعار


  ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت

وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد

============

ملّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

============

مقصود ہے اس بزم میں اصلاح مفاسد

نشتر جو لگاتا ہے وہ دشمن‌ نہیں ہوتا

============

پیام عیش و مسرّت ہمیں سناتا ہے

ہلال عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے

============

رضائے حق پہ راضی رہ یہ حرف آرزو کیسا

خدا خالق، خدا مالک، خدا کا حکم، تو کیسا

اکبر الہ آبادی

============

‏وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کے قدم راہ پے تھے

روشنی لائی ہے منزل سے  بہت دور ہمیں

====================

دن لہو میں کھونا تجھے ، شب صبح تک سونا تجھے

شرم نبی خوف خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

رزق خدا کھایا کیا ، فرمان حق ٹالا کیا

شکر کرم ترس سزا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

====================

ناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کو

بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

====================

ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں

راہ دکھلائیں کسے، رہرو منزل ہی نہیں

تربیت عام تو ہے، جوہر قابل ہی نہیں

جس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہ گل ہی نہیں

====================

قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں

جذب باہم جو نہیں، محفل انجم بھی نہیں

جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تم ہو

نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہو

بجلیاں جس میں ہوں آسودہ، وہ خرمن تم ہو

بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو

====================

 سن لیں اعدا میں بگڑنے کا نہیں

وہ سلامت ہیں بنانے والے

حسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سنا

کہتے ہیں اگلے زمانے والے

وہی دھوم ان کی ہے ما شآء اللہ

مٹ گئے آپ مٹانے والے

ساتھ لے لو مجھے میں مجرم ہوں

راہ میں پڑتے ہیں تھانے والے

کیوں رضاؔ آج گلی سونی ہے

اٹھ مرے دھوم مچانےاو والے

====================

بد ہیں تو آپ کے ہیں بھلے ہیں تو آپ کے

ٹکڑوں سے تو یہاں کے پلے رخ کدھر کریں

سرکار ہم کمینوں کے اطوار پر نہ جائیں

آقا حضور اپنے کرم پر نظر کریں

کلک رضا ؔ ہے خنجر خونخوار برق بار

اعدا سے کہدو خیر منائیں نہ شر کریں

====================

آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمہاری جانب

کشتی تمہیں پہ چھوڑی لنگر اٹھا دیے ہیں

اللہ کیا جہنّم اب بھی نہ سرد ہوگا

رو رو کے مصطفیٰ نے دریا بہا دیے ہیں

====================

دن بھر کھیلوں میں خاک اڑائی

لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے

شب بھر سونے ہی سے غرض تھی

تاروں نے ہزار دانت پیسے

====================

خرد نے کہہ بھی دیا ’لاالہ‘ تو کیا حاصل

دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

====================

کھڑے ہیں منْکر نکیْر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور!

بتا دو آکر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں ہے

خدائے قہّار ہے غضب پر کھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر

بچا لو آکر شفیع محشر تمہارا بندہ عذاب میں ہے

کریم اپنے کرم کا صدقہ لئیم بے قدر کو نہ شرما

تو اور رضاؔ سے حساب لینا رضاؔ بھی کوئی حساب میں ہے

====================

اندھیرا گھر، اکیلی جان، دم گھٹتا، دل اکتاتا

خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے

زمیں تپتی، کٹیلی راہ، بھاری بوجھ، گھائل پاؤں

مصیبت جھیلنے والے ترا اللہ والی ہے

====================

عقْل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے

یہ گھٹائیں اسے منظور بڑھانا تیرا

مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعدا تیرے

نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا

تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے

جب بڑھائے تجھےا للّٰہ تعالیٰ تیرا

نزع میں ، گور میں ، میزاں پہ، سر پل پہ کہیں

نہ چھٹے ہاتھ سے دامان معلّٰی تیرا

دھوپ محشر کی وہ جاں سوز قیامت ہے مگر

مطمئن ہوں کہ مرے سر پہ ہے پلّا تیرا

====================

اے شافع امم شہ ذی جاہ لے خبر

للّٰہ لے خبر مری للّٰہ لے خبر

دریا کا جوش، ناؤ نہ بیڑا نہ ناخدا

میں ڈوبا، تو کہاں ہے مرے شاہ لے خبر

منزل نئی عزیز جدا لوگ ناشناس

ٹوٹا ہے کوہ غم میں پرکاہ لے خبر

وہ سختیاں سوال کی وہ صورتیں مہیْب

اے غمزدوں کے حال سے آگاہ لے خبر

مجرم کو بارگاہ عدالت میں لائے ہیں

تکتا ہے بے کسی میں تری راہ لے خبر

اہل عمل کو ان کے عمل کام آئیں گے

میرا ہے کون تیرے سوا آہ لے خبر

====================

تیری مرضی پاگیا سورج پھرا الٹے قدم

تیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجا چر گیا

ٹھوکریں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو

قافلہ تو اے رضاؔ اوّل گیا آخر گیا

====================

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں

دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں

جان ہے عشق مصطفٰے روز فزوں کرے خدا

جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں

اب تو نہ روک اے غنی عادت سگ بگڑ گئی

میرے کریم پہلے ہی لقمہ تر کھلائے کیوں

====================

فریاد امّتی جو کرے حال زار میں

ممکن نہیں کہ خیر بشر کو خبر نہ ہو

====================

تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ

مرے چشم عالم سے چھپ جانے والے

میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو

کہ رستے میں ہیں جا بجا تھانے والے

ترا کھائیں تیرے غلاموں سے الجھیں

ہیں منکر عجب کھانے غرّانے والے

====================

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو

کعبہ تو دیکھ چکے کعبہ کا کعبہ دیکھو

غور سے سن تو رضاؔ کعبہ سے آتی ہے صدا

میری آنکھوں سے مرے پیارے کا روضہ دیکھو

====================

جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضاؔ

یاد اس کی اپنی عادت کیجیے

====================

کیسے آقاؤں کا بندہ ہوں رضاؔ

بول بالے مری سرکاروں کے

====================

دن لہْو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے

شرم نبی خوف خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

رزق خدا کھایا کیا فرمان حق ٹالا کیا

شکر کرم ترس سزا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

====================

چھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گناہ

وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے

ارے او مجرم بے پروا دیکھ

سر پہ تلوار ہے کیا ہونا ہے

کیوں رضاؔ کڑھتے ہو ہنستے اٹھو

جب وہ غفّار ہے کیا ہونا ہے

====================

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے

عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام

کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے

تجھ سا سیاہ کار کون ان سا شفیع ہے کہاں

پھر وہ تجھی کو بھول جائیں دل یہ ترا گمان ہے

====================

خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم

خدا چاہتا ہے رضائے محمّد ﷺ

دم نزع جاری ہو میری زباں پر

محمّد محمّد خدائے محمّد ﷺ

====================

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

===================

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روٹی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

===================

اے طاہر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں‌کوتاہی

===================

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات

===================

کسے خبر تھی ہمیں راہبر ہی لوٹیں گے

بڑے خلوص سے ہم کارواں کے ساتھ رہے

===================

نہ ماضی کی فکر مجھ کو ، نہ حال کی پرواہ ہے

جواں ہمت ہوں، مستقبل درخشاں کر کے چھوڑونگا

===================

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

===================

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

===================

وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

ترے آگےیوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑے بڑے

کوئی جانے منھ میں زباں نہیں، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں

کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا

دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

کروں مدح اہل دول رضؔا پڑے اس بلا میں مری بلا

میں گدا ہوں اپنے کریم کا مرا دین پارۂ ناں نہیں

===================

شيرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر

اب تو ہی بتا، تيرا مسلمان کدھر جائے!

===================

قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں

===================

تجھ سے فریاد ہے اے گنبد خضریٰ والے

کعبے والوں کو ستاتے ہیں کلیسا والے

===================

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

===================

نہ عشق حسین، نہ ذوق شہادت

غافل سمجھ بیٹھا ہے ماتم کو عبادت

===================

اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے

اک ضرب یدّ اللہی، اک سجدہ شبیری

===================

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

===================

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

===================

وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پہ تھے

روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور مجھے

===================

سورج ہمیں ہر شام یہ درس دیتا ہے

مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے

===================

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبيری

کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگيری

ترے دين و ادب سے آ رہی ہے بوئے رہبانی

يہی ہے مرنے والي امتوں کا عالم پيری

===================

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ' نئے صبح و شام پیدا کر

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

===================

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور

الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن

ملا کی اذان اور مجاہد کی اذان اور

===================

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے

===================

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہیں ترا نشیمن قصر سلطانی کی گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

===================

موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام زندگی

ہے یہ شام زندگی، صبح دوام زندگی

====================

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو

دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات

 

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

====================

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

====================

کھول آنکھ ، زمیں دیکھ ، فلک دیکھ ، فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ

ایام جدائی کے ستم دیکھ ، جفا دیکھ

بے تاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ

====================

 

No comments:

Post a Comment