حضرت خواجہ شیخ یحییٰ مدنی چشتی فاروقی علیہ الرحمہ

 

اسم گرامی: آپ  علیہ الرحمہ کا اسم گرامی محی الدین

لقب: یحییٰ مدنی

 کنیت: ابو یوسف علیہ الرحمہ  

والدماجد: آپ علیہ الرحمہ کے والد محترم کا اسم گرامی شیخ محمود علیہ الرحمہ

ولادت باسعادت: آپ علیہ الرحمہ کی ولادت بیس رمضان المبارک 1010 ہجری بمطابق 14 مارچ 1602ء بروز جمعرات کو احمد آباد انڈیا میں ہوئی۔

والدہ ماجدہ: آپ علیہ الرحمہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت بی بی رابعہ رحمۃ اللہ علیہا تھا جو شیخ تاج محمد عرف ملک تاجو علیہ الرحمہ کی دختر نیک اختر تھیں۔

آپ علیہ الرحمہ نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم و اشارہ سے احمد آباد سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ جا کر سکونت اختیار کی اس لیے آپ کو مدنی کہتے ہیں۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے دادا جان حضرت شیخ محمد بن حسن محمد علیہ الرحمہ  کے دست مبارک پہ بیعت ہوئے اور انہی سے ہی خرقہ خلافت حاصل کیا۔شجرةالانوار میں لکھا ہے کہ آپ نے تحصیل علوم کے بعد مرشد کامل کی تلاش شروع کر دی جونہی آپ کا اعتقاد حضرت شیخ محمد چشتی علیہ الرحمہ  پر راسخ ہوگیا تو ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہوگئے آپ کے مرشد نے ریاضتوں اور مجاہدوں کی تلقین کی تو آپ نے مسلسل روزے رکھنا شروع کر دیئے آپ تمام رات نوافل میں گذارتے شام سے صبح تک خوف خداوندی میں رات بسر کرتے ۔مرشد نے انہیں خلافت کا اہل خیال فرمایا تو اپنا خلیفہ اعظم بنا کر جانشین نامزد فرما دیا ۔ اور تمام لوگوں کو حکم دے دیا کہ اب جو شخص بیعت کا خواہش مند ہو وہ میری بجائے ان کی بیعت کر لیا کرے لیکن آپ کے مرشد جب تک زندہ رہے آپ نے از راہ ادب کسی شخص کو اپنا مرید نہیں بنایا ۔ البتہ جب حضرت مرشد وصال فرما گئے تو پھر دعوت اور بیعت کے سلسلے کا آغاز کر دیا ۔

شجرہ نسب :آپ علیہ الرحمہ  حضرت سیدنا  عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ہے آپ کا شجرہ نسب یوں ہےحضرت شیخ یحییٰ مدنی فاروقی بن حضرت شیخ محمود فاروقی بن حضرت شیخ حسن محمد فاروقی بن حضرت شیخ احمد میاں جیو فاروقی بن حضرت شیخ نصیرالدین ثانی فاروقی بن حضرت شیخ مجدالدین فاروقی بن حضرت شیخ سراج الدین فاروقی بن حضرت خواجہ کمال الدین فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ محمد فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ محمود بہ معروف شیخ ابراہیم فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ عبدالرشید بہ معروف شیخ رشید الدین فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ یعقوب فاروقی علیہ الرحمہ  (حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجشکر علیہ الرحمہ  کے چچا ) بن حضرت خواجہ شیخ سراج الدین بہ معروف قاضی شعیب فاروقی علیہ الرحمہ (حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ  کے دادا حضور)حضرت خواجہ شیخ محمد احمد فاروقی علیہ الرحمہ  بن حضرت خواجہ شیخ محمد یوسف فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ شہاب الدین احمد فرخ شاہ کابلی فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ نصیر الدین محمود فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ سلیمان فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ مسعود فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ عبداللہ بہ معروف واعظ الاصغر فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ ابو الفتح المعروف بہ واعظ اکبر فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ اسحاق فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ ابراہیم فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ ادہم فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ سلیمان فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ منصور فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ ناصر فاروقی بن حضرت شیخ عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بن حضرت امیر المومنین سیدنا عمر فاروق ابن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ ۔یوں آپ کا شجرہ نسب خلیفہ دوم  حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے۔

کریم پاشاہ سہروردی قادری نواب غازی الدین خاں علیہ الرحمہ  نے اپنی مثنوی میں لکھا ہے کہ ایک رات آپ نے محفل سماع منعقد کرنے کا حکم دیا محفل میں بے شمار چراغ روشن کئے گئے اور مریدوں کی کثیر تعداد پروانوں کی طرح وہاں محفل نشین تھی محفل کافی دیر تک جاری رہی تو چراغوں کا تیل ختم ہونے لگا  آپ کے ایک مرید نے آپ کے کان میں آہستگی سے عرض کیا کہ حضرت چراغوں کا تیل ختم ہے اور یہ اب بجھنے والے ہیں۔ اب کیا کیا جائے ؟ آپ نے فرمایا کہ تیل کی بجائے ان میں پانی ڈال دو۔ لیکن یاد رکھنا کہ اس بات کی خبر کسی اور شخص کو نہ ہونے پائے۔ وہ خادم یہ بات چھپا نہ سکا اور اس نے بعض لوگوں کو بتلا دیا۔ تاہم پانی ڈالنے کے باوجود چراغ صبح تک روشن رہے، جب صبح لوگوں کو اصل حقیقت کا پتہ چلا تو لوگ دنگ رہ گئے۔ بات بھی مشہور ہوگئی ۔ کہتے ہیں کہ اس کرامت کی تشہیر سے آپ اس قدر مغموم ہے کہ چالیس دن تک پریشان رہے ۔

شجرةالانوار اور نواب غازی الدین علیہ الرحمہ  کی مثنوی میں مذکور ہے کہ آپ پہلے احمد آباد میں قیام فرما تھے لیکن اپنے مرشد سے بیعت کرنے کے بعد آپ کے دل میں حج اور روضہ اطہر کی زیارت کا شوق پیدا ہوا چنانچہ حضرت مرشد کی رحلت کے بعد آپ سفر حج کےلئے مکہ مکرمہ گئے اور پھر وہاں سے مدینہ منورہ میں حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری دی ۔ آپ کو اس جگہ سے اس قدر انس پیدا ہوا کہ وہیں مدینہ منورہ میں ہی مستقل اقامت اختیار کر لی ۔حضرت خواجہ شیخ یحییٰ مدنی علیہ الرحمہ  کی اولاد بے شمار تھی جو کہ احمد آباد انڈیا میں رہتی تھی۔ آپ اپنی زندگی کے آخری چودہ سال مدینہ منورہ میں رہے ۔

خلفائے کرام : آپ علیہ الرحمہ کے خلفاء بے شمار تھے مگر آپ کے مشہور ترین خلیفہ حضرت شیخ کلیم اللہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ  ہیں جن سے  سلسلہ عالیہ چشتیہ آگے چلا۔

وصال مبارک: آپ علیہ الرحمہ  کا وصال 28 صفر المظفر 1122ھ بمطابق اٹھائیس اپریل 1710ء کو رات کے تیسرے پہر کے آخری حصے میں ہوا۔ فجر الاولیاء میں 1101ہجری 1689ء لکھا ہے مگر پہلی تاریخ زیادہ صحیح ہے۔ آپ کی قبر مبارک مدینہ شریف میں جنت البقیع میں حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کے قریب ہے ۔ (بشکریہ کریم پاشاہ سہروردی قادری حفظہ اللہ)

 

No comments:

Post a Comment