ولادت مبارکہ: عارف
باللہ حضرت سید میر عبد الجليل چشتی ابن سیدنا میر عبد الواحد بلگرامی (مصنف سبع
سنابل شریف) علیہما الرحمہ 20 رجب المرجب 972ھ مطابق 1565ء بروز جمعرات بوقت ظہر
بلگرام شریف میں پیدا ہوئے۔
تعلیم و تربیت
بیعت و خلافت :عہد
طفلی سے شبابی تک اپنے والد کریم سیدنا میر عبد الواحد علیہ الرحمہ کے زیر سایۂ کرم رہے اور انہی سے اعلیٰ تعلیم و
تربیت حاصل کی مزید علم ظاہر و باطن میں کمال حاصل کیا اور اپنے والد حضرت سیدنا
میر عبد الواحد علیہ الرحمہ ہی سے بیعت
ہوئے ساتھ ہی خلافت و اجازت سے بھی سرفراز کئے گئے۔
گوشہ
نشینی پھر مارہرہ میں جلوہ گری :علوم
شریعت و طریقت کی تکمیل کے بعد آپ پر جزب عشق حقیقی کی عجب کیفیت طاری ہوئی اور
اسی وقت گھر سے روانہ ہو گئے بارہ سال تک مختلف علاقوں کے صحرا و بیابان میں گشت
کرتے رہے اور انہی ویران فضاؤں میں مصروف ریاضت و عبادت رہ کر خدا کو راضی کرتے
رہے اور اپنی حیات طیبہ کا تقریباً نصف حصہ اسی عالم میں صرف کر دیا سیر کرتے کرتے
"اترنجی کھیڑا" پہنچے یہ مارہرہ مطہرہ سے تقریباً چھہ میل پر جانب مشرق
واقع ہے، اس خطے کا پس منظر یہ ہیکہ 582ھ میں جب سلاطین ہند کا زمانہ تھا تو وہ
علاقہ بشکل قلعہ آباد تھا اور وہاں اس وقت راجہ بین کا پائے تخت تھا اور وہ دور بادشاہ
شہاب الدین محمد غوری کا تھا سلطان غوری نے راجہ پرتھوی راج کو شکست فاش دینے کے
بعد راجہ بین کو پیغام بھیجا کہ وہ اطاعت قبول کر لے اس نے انکار کیا اور سرکشی کی
تب سلطان شہاب الدین نے سرنگ کے راستے سے داخل ہوکر زبردست حملہ کیا راجہ بین کو
شکست دی اور اس کے مضبوط قلعہ کو مسمار کر دیا تھا اب وہ مقام صرف ایک کھیڑا
(چھوٹی بستی) ہے اور وہاں عظیم المرتبت بزرگ حضرت سیدنا محمد حسین کا مزار ہے
جنہوں نے اسی جنگ میں جام شہادت نوش فرمایا تھا، پھر 435 سال بعد جب حضرت میر عبد
الجليل بلگرام سے مارہرہ تشریف لائے تو اولا انہی شہید بزرگ کے آستانۂ کرم کے قرب
میں قیام پذیر رہے اسی جگہ پر حضرت سیدنا خضر علیہ السلام تشریف لائے اور آپ کو
بشارت دی کہ "سید صاحب آپ قطب مارہرہ مقرر ہو گئے ہیں" اس زمانے میں
محمد وزیر نامی شخص مارہرہ شریف کے چودھری اور قانون داں تھے اسی شب ان کے بخت کی
معراج ہوئی کہ خواب میں رسول اعظمﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے رسول پاکﷺ نے ارشاد
فرمایا "اترنجی کھیڑا جاؤ ہمارے شہزادے اور اپنے قطب کو مارہرہ لے آؤ"
چودھری محمد وزیر بعد فجر اترنجی کھیڑا کے لئے روانہ ہو گئے وہاں پہنچ کر حضرت
بابرکت کی خدمت میں خواب بیان کیا اور عرض کی حضور اپنے قدوم میمنت لزوم سے ارض
مارہرہ کو عزت و شرف بخشیں حضرت نے درخواست منظور کی اور 1017ھ میں مارہرہ شریف
تشریف لے گئے اور وہ عہد جہانگیری تھا چنانچہ چودھری وزیر اور تمام لوگوں نے
شاندار استقبال کیا عمدہ ضیافت کی اور چودھری وزیر و دیگر حضرات نے شرف بیعت بھی
حاصل کیا اور آپ کے لئے مسجد اور خانقاہ تعمیر کی آپ نے وہیں مستقل قیام کیا اور
خدمت دین و خلق میں مشغول ہو گئے۔
جنات کے لشکر سے
تاریخ ساز مقابلہ :حضرت
سیدنا میر عبد الجليل علیہ الرحمہ سے
منسوب ایک مشہور واقعہ جو اسی اثنا میں پیش آیا اس کے تعلق سے شمس مارہرہ حضرت
اچھے میاں مارہروی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف "آئینۂ احمدی" میں تحریر
فرماتے ہیں : "ایک مرتبہ حضرت میر عبد الجليل علیہ الرحمہ کے ایک مرید نے کسی آسیب زدہ کا علاج کرتے ہوئے
اس آسیب کو جلا دیا اس کا تعلق جنوں کے ایک معزز گروہ سے تھا جس کے سبب جنوں نے اس
مرید پر لشکر کشی کی مرید نے اپنے مرشد سیدنا میر عبد الجلیل کی پناہ اختیار کی
جنات نے کہا ہم اپنے بھائی کے قاتل کا بدلہ چاہتے ہیں لہٰذا آپ اسے ہمارے سپرد کر
دیں آپ نے فرمایا اس کا کوئی کام قابل تعزیر نہیں لہٰذا اس ارادے سے پھر جاؤ جنوں
نے بار۔بار کہا ہم تو ضرور بدلہ لیں گے آپ نے فرمایا جب تم ناحق بدلہ لینے پر تلے
ہو تو فقیر اپنے بے قصور مرید و متوسل کی حمایت کیوں نہ کرے۔؟ چلے جاؤ فقیروں سے
الجھنا ٹھیک نہیں چنانچہ بحث طویل ہو گئی اور مقابلہ کی نوبت آ پڑی، حضرت میر عبد
الجليل علیہ الرحمہ نے پورے قصبہ میں
اعلان کروایا کہ کل فقیر اور جنوں کا مقابلہ ہے تمام باشندگان بستی صبح سے نصف شب
تک اپنے۔اپنے گھروں میں قیام پذیر رہیں اپنے مویشی کو بھی دروازے میں بند رکھیں جو
بھی شخص یا جانور وقت مقرر میں مکان سے باہر آئے گا وہ نقصان اٹھائے گا سب نے حکم
کی تعمیل کی بعد فجر مقابلہ شروع ہوا حضرت میر صاحب نے اپنی جانب سے دعائے سیف حرز
یمانی اور مؤکلات حرز یمانی کو گروہ جن کے لئے مامور کیا شدید اور طویل مقابلہ کے
بعد حضرت میر صاحب نے جنوں کے شرقی شہزادہ جلنبوش کو اس کے سولہ ساتھیوں کے ساتھ
قید کر لیا جنوں نے رہائی کی مختلف تدابیر استعمال کیں مگر ناکام رہے جب کچھ نہ
کام آیا تو جنوں کے چند معزز سردار پشیماں ہوکر حضرت میر صاحب کی خدمت میں حاضر
ہوئے معذرت طلب کی اور اپنے قیدیوں کی رہائی کے لئے نہایت منت و سماجت کی تو میر
صاحب نے یہ معاہدہ کر لیا کہ آج سے ہم اور ہمارے متوسلین آپ کو اور آپ کے چاہنے
والوں کو اور اسی طرح آپ اور آپ کے متوسلین ہمیں اور ہمارے چاہنے والوں کو کبھی
پریشان نہیں کریں گے جس جگہ پر جس کا دخل پہلے سے ہو اور فریق ثانی کا کوئی شخص
وہاں پہنچے تو اسے معاہدہ یاد دلایا جائے اگر تاہم نہ مانے تو تدابیر اختیار کی
جائیں تاکہ قوم کے افراد بلا وجہ پریشان نہ کئے جائیں غرضیکہ اسی مصالحت پر معاملہ
طئے پایا اور میر صاحب نے قیدیوں کو آزاد کر دیا آج بھی یہ دستور قائم ہے کہ
خاندان برکات کے مشائخ یا فیض یافتگان جب کسی آسیب زدہ کا علاج کرتے ہیں تو پہلے
اسے وہ معاہدہ یاد دلاتے ہیں اکثر تو معاہدہ یاد کرتے ہی فوراً اپنا دخل ختم کر
دیتے ہیں اور بعض کو اس کی کچھ پروا نہیں ہوتی پھر عملیات، احضار اور حبس وغیرہ کے
ذریعہ ان کو سخت سزا دے کر مریضوں کو شفایاب کیا جاتا ہے۔
مزار سے متصل درخت
کی حقیقت :سیدنا
میر عبد الجليل علیہ الرحمہ کے مزار کے
سرہانے پیلو کا ایک درخت ہے اس کے متعلق حضرت حمزہ عینی علیہ الرحمہ اپنی مشہور
تصنیف "کاشف الاستار" میں تحریر فرماتے ہیں خواجہ میر عبد الجليل چشتی علیہ
الرحمہ نے اپنی مسواک کو بعد استعمال جب
وہ بہت چھوٹی ہو گئی تھی تو دفن کر دیا تھا اور حضرت میر صاحب اس میں روزانہ آب
وضو ڈالا کرتے تھے حیات ظاہری تک وہ مسواک خشک ہی رہی لیکن بعد وصال اس میں شگوفہ
پھوٹا اور کچھ ہی دنوں میں بشکل درخت ہو گیا آج بھی زائرین درگاہ اس کی پتیوں کو
تبرکاً لے جاتے ہیں اس کی پتیاں خاص کر استقرار حمل اور دفعیۂ آسیب کے لئے مؤثر
ثابت ہوتی ہیں بشرطیکہ عقیدت بختہ ہو اور نیت اچھی ہو، اسی کاشف الاستار میں تحریر
ہے اس درخت کی پتیاں حضرت میر صاحب کی اولاد کے دست پاک سے حاصل کی جائیں لیکن
حضرت اچھے میاں کے ایک مرید مولوی محمد افضل صاحب بدایونی اپنی کتاب "ہدایت
المخلوق" میں لکھتے ہیں کہ جب میں نے اپنے مرشد سے اس کے فوائد اور طریقۂ
استعمال کے بارے میں دریافت کیا تو مرشدی اچھے میاں نے فرمایا کہ پتی خادم درگاہ
کی اجازت سے لی جائے اور فرمایا کہ چند پتی مل کر آسیب زدہ کو یہ کہتے ہوئے
"اے آسیب! سید عبد الجلیل ترا دعا گفتہ و فرمودہ کہ اگر دانی دانی و گر ندانی
بسزائے خود خواہی رسی" سنگھا دے ان شاء اللہ الرحمٰن فوراً آسیب کا دخل ختم
ہو جائے گا۔"
ازدواجی زندگانی :سیدنا
میر عبد الجليل علیہ الرحمہ نے بھی اپنے
والد کی طرح دو شادیاں کیں پہلی زوجہ بلگرام شریف کی تھیں جن کے بطن اقدس سے چھہ
پھول کھلے چار شہزادگان عالی مرتبت
(1) حضرت
سید ابو الفتح
(2) حضرت
سید اویس
(3) حضرت
سید محمد
(4) حضرت
سید احمد ابو الخیر اور دو شہزادیاں۔ (علیہم الرحمۃوالرضوان)
مارہرہ شریف میں مستقل
سکونت کے بعد آپ اپنی شریک حیات کو بلگرام شریف سے مارہرہ شریف لے آئے تھے اور
دوسری زوجہ بخاری سادات سے تھیں جب آپ مارہرہ شریف پہنچے تھے تب آپ نے ان سے عقد
فرمایا تھا ان کے بطن پاک سے دو فرزند ارجمند تولد ہوئے دونوں جوان ہوکر طلب مولیٰ
و تکمیل سلوک باطنی میں ریاضت شاقہ کرتے رہے جس سے ان پر انجزاب تام کی کیفیت طاری
ہوئی اور اسی حالت میں اپنے والد ماجد کی طرح گوشہ نشین ہوکر مفقود الخبر ہو گئے۔
سفر آخرت :سیدنا
میر عبد الجلیل علیہ الرحمہ کا وصال 8 صفر المظفر 1057ہجری بروز دو شنبہ مطابق 1647ء کو مارہرہ شریف میں
ہوا اپنی خانقاہ کے صحن مبارک میں دفن ہوئے آپ کا آستانہ "بڑی درگاہ"
اور "بڑے سرکار" سے مشہور اور مرجع انام ہے۔ (بشکریہ کریم پاشا سہرودی حفظہ اللہ )

No comments:
Post a Comment