حضرت سیدنا خواجہ حبیب عجمی علیہ الرحمہ

 

آپ کا اصل نام :حبیب

 کنیت: ابو محمداور آپ کا تعلق فارس (ایران) سے تھا، اسی وجہ سے آپ کو "عجمی" یا "فارسی" کہا جاتا ہے۔

بیعت و خلافت: آپ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کے مرید اور مایہ ناز خلیفہ تھے۔

مستجاب الدعوات: آپ بہت بڑے عابد، زاہد اور مستجاب الدعاء (جن کی دعا فوراً قبول ہو) بزرگ تھے۔ آپ سے کثیر کرامات منسوب ہیں۔

حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی علیہ الرحمہ کی زندگی میں توبہ کا واقعہ تصوف کی تاریخ میں بہت مشہور اور عبرت ناک ہے۔ آپ کی توبہ کے حوالے سے تذکرہ نویسوں نے ایک تفصیلی واقعہ نقل کیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

توبہ کا پس منظر:توبہ سے پہلے آپ بصریٰ (عراق) کے ایک بہت بڑے سود خور اور مالدار تاجر تھے۔ آپ کا معمول تھا کہ روزانہ قرض داروں کے پاس جاتے اور ان سے سود وصول کرتے۔ اگر کوئی سود کی رقم نہ دے پاتا، تو آپ اس سے روزانہ کا جرمانہ یا ہرجانہ وصول کرتے تاکہ آپ کا اس دن کا وقت اور محنت ضائع نہ ہو۔

توبہ کا محرک: تین اہم واقعات: ایک دن آپ ایک مقروض کے گھر سود کی رقم لینے گئے۔ وہاں جو واقعات پیش آئے، انہوں نے آپ کے دل کی دنیا بدل دی،جب آپ مقروض کے گھر پہنچے، تو معلوم ہوا کہ وہ گھر پر نہیں ہے۔ اس کی بیوی نے کہا کہ ہمارے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ نے کہا کہ پھر مجھے کچھ نہ کچھ تو دینا ہی پڑے گا، ورنہ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ اس خاتون نے مجبور ہو کر بتایا کہ ہمارے گھر میں صرف ایک ذبح شدہ جانور کی گردن کا گوشت پڑا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ آپ نے وہی گوشت کا ٹکڑا سود کے عوض لے لیا اور گھر آ کر اپنی بیوی کو اسے پکانے کو کہا۔ جب ہانڈی چولہے پر چڑھی اور ابلنے لگی، تو اس میں سے گوشت کے بجائے خون آلود پانی ابلنے لگا اور ہانڈی سیاہ ہو گئی۔ یہ دیکھ کر آپ کے دل میں پہلا جھٹکا لگا۔

اسی دوران ایک سائل (فقیر) نے آپ کے دروازے پر دستک دی اور کھانے کا سوال کیا۔ آپ نے اسے جھڑک کر بھگا دیا اور کہا کہ اگر تمہیں یہ کھانا دے دیا تو ہم کیا کھائیں گے؟ اس واقعے نے بھی آپ کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔

اگلے دن جب آپ دوبارہ گلی سے گزر رہے تھے، تو کچھ بچے گلی میں کھیل رہے تھے۔ آپ کو دیکھ کر ایک بچے نے دوسرے سے کہا: "بھاگو! یہاں سے ہٹ جاؤ، سود خور حبیب آ رہا ہے، کہیں اس کی نحوست کا اثر ہم پر نہ پڑ جائے یا اس کے پاؤں کی اڑتی ہوئی دھول ہمیں نہ لگ جائے کہ ہم بھی نافرمان بن جائیں۔"

حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضری بچوں کے ان الفاظ نے حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ کے دل پر تیر کا کام کیا۔ آپ سخت نادم اور شرمسار ہوئے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ اسی وقت اس دور کے عظیم امام اور صوفی حضرت خواجہ حسن بصری علیہ الرحمہ کی مجلس کی طرف روانہ ہوئے۔

جب آپ مجلس میں پہنچے، تو رو رو کر اپنے گناہوں کا اعتراف کیا اور اللہ کے حضور سچی توبہ کی۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ نے آپ کو تسلی دی اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی ہدایت فرمائی۔

توبہ کے بعد کا طرزِ عمل: جب آپ مجلس سے واپس لوٹ رہے تھے، تو وہی بچے دوبارہ کھیل رہے تھے۔ آپ کو دیکھ کر اس بار بچوں نے ایک دوسرے سے کہا: "راستہ چھوڑ دو، دیکھو! اب حبیب تائب (توبہ کرنے والا) آ رہا ہے، کہیں ہمارے گناہوں کا غبار ان پر نہ پڑ جائے۔"

گھر پہنچ کر آپ نے درج ذیل اہم اقدامات کیے:

مال کی واپسی: آپ نے منادی (اعلان) کروا دی کہ جس کسی کا مجھ پر حق ہے یا جس سے میں نے سود لیا ہے، وہ آ کر اپنا مال لے جائے۔ چنانچہ لوگ آئے اور آپ نے سب کا مال واپس کر دیا۔

سب کچھ صدقہ کر دیا: یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ بچا، وہ بھی آپ نے اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا۔ جب پہننے کے لیے لباس بھی نہ رہا، تو آپ نے ایک ٹاٹ کا لباس بنا کر پہنا۔

عبادت گزاری: آپ نے فرات کے کنارے ایک جھونپڑی (صومعہ) بنائی اور دن رات اللہ کی عبادت، ریاضت اور تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو گئے۔

حضرت سیدنا حبیب عجمی کے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی، آپ کی زوجہ محترمہ گندھا ہوا آٹا رکھ کر پڑوس سے آگ لینے گئی تھیں تا کہ روٹی پکائیں۔ آپ نے وہی آٹا اٹھا کر سائل کو دے دیا، جب وہ آگ لے کر آئیں تو آٹا ندا رد (یعنی غائب) آپ نے فرمایا: اسے روٹی پکانے کے لیے لے گئے ہیں، بہت پوچھا تو آپ نے خیرات کر دینے کا واقعہ بتایا وہ بولیں: سبحان اللہ عزوجل ! یہ تو اچھی بات ہے مگر ہمیں بھی تو کچھ کھانے کے لئے درکار ہے! اتنے میں ایک شَخص ایک بڑی لگن بھر کر گوشت اور روٹی لے آیا۔ آپ نے فرمایا: دیکھو تمہیں کس قدر جلد لوٹا دیا گیا، گویا روٹی بھی پکا دی اور گوشت کا سالن مزید بھیج دیا!

ایک دن حبیب عجمی کی بیوی نے تنگدستی اور فقر و فاقہ کی شکایت کی اور مشورہ دیا کہ وہ گوشہ نشینی کی بجائے کچھ کمائے، حبیب نے کہا: فکر نہ کرو میں صبح سے مزدوری پر جاؤں گا۔ اور تمہارے لیے بہت کچھ کما کر لاؤں گا۔ دوسرے روز بھی ایک کونے میں جاکر سارا دن یاد الٰہی میں گزار دیا۔ رات کو بیوی نے مزدوری طلب کی، تو آپ نے بتایا کہ آج جس کی مزدوری کی ہے اس نے نقد نہیں دیا فکر نہ کرو کل لاؤں گا وہ ایسی ذات ہے کہ بے طلب مزدوری ادا کر دیا کرتا ہے۔

مجھے روزانہ طلب سے شرم محسوس ہوتی ہے۔ اب میں دس دن کے بعد مزدوری طلب کروں گا۔ عورت نے بڑی تکلیف سے دس دن نکالے دسویں دن حبیب گھر کو آ رہے تھے دل میں شرما رہے تھے آج بھی خالی ہاتھ ہوں۔ بچوں کے لیے کیا لے کر گھر جاؤں۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے حبیب کے گھر ایک شخص کو بھیجا جو ایک بوری آٹا اور ایک بھنی ہوئی بکری حبیب کی بیوی کو دے آیا۔ ایک اور شخص گھی اور شہد پہنچا آیا اور ایک اور شخص تیس ہزار دینارکی تھیلی دے کر کہنے لگا آپ کے خاوند جس شخص کے گھر مزدوری کرتے ہیں۔ اس نے ساری چیزیں بھیجی ہیں۔ اب حبیب کو کہہ دیں کہ اگر وہ زیادہ محنت سے کام کرے گا تو اسے زیادہ مزدوری دی جائے گی۔

رات کے وقت حبیب شرم سار خالی ہاتھ گھر لوٹے اور اپنی بیوی کو جواب دینے کو کوئی بہانہ سمجھ میں نہ آ رہا تھا گھر سے مزے دار کھانے کی خوشبو آئی بیوی خوش خوش سامنے آئی کہ جس شخص کے پاس کام کرتے ہو وہ تو بڑا سخی ہے یہ چیزیں اور اتنی رقم پہنچا کر کہہ گیا ہے کہ اور محنت کرو زیادہ مزدوری ملے گی۔یہ سنتے ہی حبیب عجمی کے آنکھوں سے آنسوں رواں ہو گئے ۔

آپ علیہ الرحمہ چونکہ نسلاً عجمی (ایرانی) تھے، اس لیے آپ علیہ الرحمہ عربی زبان روانی سے نہیں بول پاتے تھے اور قرآنِ پاک کے الفاظ صحیح مخارج سے ادا نہیں کر پاتے تھے۔ ایک شام حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ ان کے حجرے کے پاس سے گزرے۔ حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی نماز میں مصروف تھے۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ نے ان کی قرأت سنی تو مخارج درست نہ ہونے کی وجہ سے ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے بجائے الگ نماز پڑھ لی۔ اسی رات حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کو خواب میں دیدارِ الٰہی ہوا تو انہوں نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: "اے پروردگار! تیری رضا کس چیز میں ہے؟" ارشاد ہوا: "اے حسن! تم نے میری رضا پا لی ہوتی، اگر تم حبیب عجمی کے پیچھے نماز پڑھ لیتے۔ تم نے صرف زبان کی درستی کو دیکھا، جبکہ ہم ان کے دل کے خلوص اور سچائی کو دیکھ رہے تھے"۔صبح حضرت حسن بصری، حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ کے پاس آئے اور عقیدت کا اظہار کیا۔ جب کسی نے حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ سے پوچھا کہ آپ کی زبان تو عجمی ہے پھر آپ قرآن سن کر اتنا کیوں روتے ہیں؟

 تو انہوں نے خوبصورت جواب دیا: "میری زبان عجمی ہے تو کیا ہوا، میرا دل تو عربی ہے

حجاج بن یوسف کے سپاہیوں سے حفاظت :ایک مرتبہ وقت کا ظالم گورنر حجاج بن یوسف، حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کی گرفتاری کے لیے ان کے پیچھے پڑ گیا۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی کے حجرے میں تشریف لائے اور پناہ لی۔ تھوڑی ہی دیر میں حجاج کے مسلح سپاہی وہاں پہنچ گئے اور حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ سے پوچھا: "کیا حسن بصری یہاں آئے ہیں؟"

حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ نے جھوٹ کا سہارا لینے کے بجائے بالکل سچ کہہ دیا: "ہاں، وہ اندر میرے حجرے میں ہی بیٹھے ہیں"۔ سپاہی فوراً حجرے کے اندر داخل ہوئے، انہوں نے ہر جگہ تلاشی لی لیکن اللہ کے حکم سے انہیں حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ نظر ہی نہ آئے۔ وہ غصے میں باہر نکلے اور حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ سے بولے: "تم جیسے بزرگ ہو کر ہم سے مذاق کرتے ہو؟

 وہاں تو کوئی نہیں ہے" اور وہ چلے گئے۔سپاہیوں کے جانے کے بعد حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ باہر آئے اور فرمایا: "حبیب! تم نے تو مجھے پکڑوا ہی دیا تھا!" حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی نے عرض کی: "استادِ محترم! آپ میری سچائی کی برکت سے ہی بچے ہیں، اگر میں جھوٹ بول دیتا تو ہم دونوں پکڑ لیے جاتے۔

پوستین (عبا) کی چوکیداری کا واقعہ: ایک دن حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی نے اپنی پوستین (چمڑے یا اون کا بنا ہوا اوور کوٹ) بصرہ کے ایک چوراہے پر رکھ دی اور خود کچھ فاصلے پر وضو کرنے چلے گئے۔ وہاں سے حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کا گزر ہوا، انہوں نے پوستین پہچان لی اور سوچا کہ یہاں چور بہت ہیں، کوئی حبیب کی عبا نہ چرا لے۔ چنانچہ وہ خود وہاں کھڑے ہو کر اس کی نگرانی کرنے لگے۔ جب حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ وضو کر کے واپس آئے تو دیکھا کہ استادِ محترم چوکیداری کر رہے ہیں۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ نے ہلکے سے عتاب کے ساتھ پوچھا: "حبیب! تم یہ قیمتی چیز یہاں کس کے بھروسے پر چھوڑ گئے تھے؟

“حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ نے مسکرا کر بڑا عارفانہ جواب دیا: "عالی جاہ! میں اسے اس ذات کے بھروسے پر چھوڑ کر گیا تھا جس نے آپ جیسے عظیم امام کو اس کی چوکیداری پر مامور فرما دیا!

مہمان نوازی اور توکل کا واقعہ: ایک مرتبہ حضرت حسن بصری، حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی کے گھر تشریف فرما تھے اور کھانا کھا رہے تھے کہ اتنے میں دروازے پر ایک سائل (فقیر) نے آواز دی۔ حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ عجمی نے توکل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کے سامنے سے سارا کھانا اٹھایا اور سائل کو دے دیا۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ نے صوفیانہ تربیت کے انداز میں فرمایا: "حبیب! آپ آدابِ ضیافت (مہمان کے آداب) سے واقف نہیں، آپ کو چاہیے تھا کہ کچھ کھانا سائل کو دیتے اور کچھ مہمان کے لیے رہنے دیتے"۔ حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ خاموش رہے۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک شخص ایک بڑا تھال سر پر اٹھائے اندر داخل ہوا، جس میں بہترین لذیذ کھانے، حلوہ اور نقدی موجود تھی۔ حضرت حبیب عجمی علیہ الرحمہ نے وہ کھانا حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ کے سامنے رکھا اور عرض کی: "استادِ محترم! آپ علم کے پہاڑ ہیں لیکن توکل میں تھوڑے کچے ہیں، آپ علمِ ظاہر کے مطابق سوچ رہے تھے اور میں نے توکلِ باطن کے سودے پر عمل کیا تھا"۔

وصال پر ملال:  ہشام بن عبد الملک کے عہد میں 3 ربیع الآخر 156 ہجری بمطابق یکم مارچ 773 عیسوی میں وصال ہوا اور بصرہ میں مدفون ہوئے ۔ (روض الریاحین) 

No comments:

Post a Comment