ام المؤمنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اﷲ عنہا

 

اسمِ گرامی: سیدہ زینب بنتِ خزیمہ رضی اللہ عنھا ۔ 

لقب: ام المؤمنین، ام المساکین ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:زینب بنت خزیمہ بن عبد اللہ بن عمربن عبدمناف بن ہلال بن عامربن صعصۃ بن معاویہ بن بکر بن ھوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان ۔

شرفِ ام المؤمنین:پہلے ان کا نکاح حضرت عبد ﷲ بن جحش رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے ہوا تھا مگر جب وہ جنگ احد میں شہید ہو گئے تو 3ھ میں حضور اکرم ﷺ نے ان سے نکاح فرما لیا ۔

سیرت و خصائص:ام المومنین سیدہ حضرت زینب بنتِ خزیمہ رضی اللہ عنھا ۔ آپ زمانہ جاہلیت میں ہی غرباء اور مساکین کو بکثرت کھانا کھلایا کرتی تھیں اس لئے ان کا لقب "" ام المساکین "" (مسکینوں کی ماں) مشہورہوگیا۔
آپﷺ کی ازواج مطہرات میں سے دو بیویوں کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آنحضور ﷺ کی حیات طیبہ میں فوت ہوئیں اور آپ نے خود ان کا جنازہ پڑھایا اور انہیں دفن کیا ۔ باقی ازواج مطہرات آپ کی رحلت کے وقت زندہ تھیں اور آپ کے بعد کم یا زیادہ عرصہ انہیں حیات عارضی کے ماہ و سال نصیب ہوئے ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھاجو آپ کی پہلی زوجہ مطہرہ تھیں، مکہ میں ہجرت سے قبل داغ مفارقت دے گئیں ۔ ان کا غم آنحضور ﷺ زندگی بھر فراموش نہ کر سکے ۔ دوسری زوجہ مطہرہ جو آپ کی حیاتِ ظاہری میں موت سے ہمکنار ہوئیں، ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنھا تھیں ۔

ام المؤمنین حضرت زینب رضی اللہ عنھا قریش کی معزز خاتون تھیں ۔ اتنی فیاض اور فراخدل کہ ہمیشہ فقرا اورمساکین ان کی مدد اور خیرات سے فیض یاب ہوتے رہتے تھے ۔ امہات المومنین میں سے ان کوشرف حاصل ہوا کہ تاریخ نے انکی فیاضی اور غریب پروری کی وجہ سے انہیں " ام المساکین " کے لقب سےاپنے صفحات میں محفوظ کر لیا ۔ ان کا سلسلہ نسب بھی آنحضور ﷺ سے چند پشت اوپر جا ملتا ہے ۔

جنگ احد میں 70 صحابۂ کرام شہید ہوئے تھے ۔ مدینہ کی بہت سی جوان عورتیں بیوہ اور بہت سے معصوم بچے یتیم ہو گئے ۔ مدینہ پر غم کی چادر تنی ہوئی تھی مگر صحابہ و صحابیات کا کمال ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا ۔

حضرت عبد اللہ بن جحش کی اہلیہ حضرت زینب بنت خزیمہ اپنے محبوب شوہر کی شہادت پر انتہائی غمزدہ تھیں ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے مگر زبان پر انا للہ وا نا الیہ راجعون تھا ۔

جنگِ احد کے بعد آنحضور ﷺ نے تمام شہدا کے گھروں میں جا کر ان کے لواحقین کو تسلیاں دیں ۔ حضرت زینب کے غم کو آنحضور ﷺ محسوس کیا کرتے تھے ۔ عدت کے ایام گزرنے کے بعد آپ نے حضرت زینب بنت خزیمہ کو نکاح کا پیغام دیا ۔ آپ کے پیش نظر یہی تھا کہ ان کی سرپرستی کی جائے ۔ حضرت زینب نے آنحضور ﷺ کا پیغام بخوشی قبول کیا ۔ یوں 3ہجری میں حضرت زینب حرم نبوی میں داخل ہوئیں ۔

وصال پر ملال: حضور پاک ﷺ کی زوجیّت میں آنے کے فقط تین ماہ بعد، 03 ربیع الثّانی 04ہجری کو 30 برس کی عمر میں وصال فرمایا۔امہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہنا میں سے صرف آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔آپ کی تدفین جنّت البقیع میں دیگر ازواجِ مطہّرات کے پہلو میں کی گئی۔ (ماخذ و مراجع:سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ۔ امہات المؤمنین ۔ زرقانی )

No comments:

Post a Comment