سورۂ مزمل قرآن پاک کی 73ویں سورت ہے، جو 29ویں پارے میں واقع
ہے۔ یہ مکی سورت ہے (اس کی آخری آیت کو بعض مفسرین مدنی قرار دیتے ہیں) اور اس میں
20 آیات اور 2 رکوع ہیں۔ اس سورت کا بنیادی موضوع قیامِ اللیل (رات کو عبادت)،
تلاوتِ قرآن کو ترتیل (ٹھہر ٹھہر کر) سے پڑھنا، صبر، اور اللہ تعالیٰ پر توکل ہے۔
دنیا و آخرت کی سختیوں سے نجات:نبی اکرم ﷺ اور بزرگانِ دین سے منقول
ہے کہ جو شخص سورۂ مزمل کی پابندی کے ساتھ تلاوت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے دنیا
اور آخرت کی تمام تنگیاں اور مشقتیں دور فرماتا ہے اور اسے ہر قسم کی پریشانی سے
امان دیتا ہے۔(تفسیر صراط الجنان ازمفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ
438 /تفسیر خزائن العرفان ازصدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ
، زیرِ سورۂ مزمل)
زیارتِ نبی ﷺ کا ذریعہ:علمائے اہلسنت اور صوفیائے کرام
فرماتے ہیں کہ سورۂ مزمل شریف کا کثرت سے ورد اور بالخصوص خواب میں سرکارِ دو
عالم ﷺ کی زیارتِ با برکت کا بہترین ذریعہ ہے۔(تفسیرِ نعیمی ازمفتی احمد یار خان
نعیمی علیہ الرحمہ ، جلد 29، زیرِ سورۂ مزمل/اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ ازشیخ عبد
الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ ، کتاب الصلاۃ باب قیام اللیل)
بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے
رزق کی تنگی اور فقر و فاقہ دور کرنے کے لیے یہ عمل نہایت مجرب منقول ہے۔طریقہ: روزانہ فجر کی نماز کے بعد یا عشاء کے
بعد 11 بار سورۂ مزمل (مع اول و آخر 11 بار درود شریف) پڑھنے کا معمول بنا لیں۔
اگر 11 بار نہ ہو سکے تو روزانہ 1
بار کی
پابندی کریں۔ انشاء اللہ رزق میں بے پناہ برکت ہوگی اور کسی کا محتاج نہیں ہونا
پڑے گا۔(شمعِ شبستانِ رضا ازمولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ
سورۂ مزمل، صفحہ 122/جواہرِ خمسہ ازحضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ ، باب خواصِ
سورۂ مزمل)
ہر قسم کی حاجت اور حلِ مشکلات (عملِ چلہ):طریقہ: اگر کوئی انتہائی کٹھن مسئلہ یا حاجت درپیش ہو، تو بزرگانِ دین
فرماتے ہیں کہ 41
دن تک
روزانہ 41 مرتبہ سورۂ مزمل پڑھ کر دعا کریں۔ اس عمل سے کیسی ہی سخت مشکل کیوں نہ
ہو، اللہ کے فضل و کرم سے حل ہو جاتی ہے۔(اعمالِ رضا ازمولانا حسن رضا خان علیہ
الرحمہ ، باب قضائے حاجات و دفعِ بلایا)
میاں بیوی میں محبت اور گھریلو ناچاقی
کا خاتمہ:طریقہ: اگر گھر میں جھگڑا ہو یا میاں بیوی کے
درمیان ناچاقی ہو، تو 41
مرتبہ سورۂ
مزمل پڑھ کر کسی مٹھائی یا پینے کی چیز پر دم کر کے کھلایا/پلایا جائے، تو آپس میں
الفت و محبت پیدا ہوتی ہے۔(مخزنِ اوفیٰ / تفسیر روح البیان ازعلامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ ،
زیرِ سورۂ مزمل)
﴿بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾
یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱) قُمِ الَّیْلَ
اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۲)
نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ(۳) اَوْ زِدْ
عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ(۴) اِنَّا
سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا(۵) اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ
اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ(۶) اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا
طَوِیْلًاؕ(۷)
وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ(۸) رَبُّ الْمَشْرِقِ
وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا(۹) وَ اصْبِرْ عَلٰى
مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا(۱۰) وَ ذَرْنِیْ وَ
الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا(۱۱) اِنَّ لَدَیْنَاۤ
اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ(۱۲) وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ
عَذَابًا اَلِیْمًاۗ(۱۳)
یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا
مَّهِیْلًا(۱۴)
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا ﳔ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ
اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ(۱۵) فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ
فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا(۱۶) فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ
كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖﰳ(۱۷) السَّمَآءُ
مُنْفَطِرٌۢ بِهٖؕ-كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا(۱۸) اِنَّ هٰذِهٖ
تَذْكِرَةٌۚ-فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠(۱۹)اِنَّ رَبَّكَ
یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ
ثُلُثَهٗ وَ طَآىٕفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَؕ-وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ
النَّهَارَؕ-عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا
تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِؕ-عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰىۙ-وَ
اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِۙ-وَ
اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ﳲ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُۙ-وَ
اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا
حَسَنًاؕ-وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ
اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًاؕ-وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۲۰)