سورۂ اعلیٰ قرآن پاک کی 87ویں سورت ہے، جو 30ویں پارے میں
واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس میں 19 آیات اور 1 رکوع ہے۔ "اعلیٰ" کے معنی "سب سے
بلند" کے ہیں، اور اس کا نام پہلی ہی آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (اپنے رب کے نام کی پاکی بیان کرو جو
سب سے بلند ہے) سے ماخوذ ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، مخلوقات کی تخلیق
اور ہدایت، تزکیۂ نفس، اور دنیا کے مقابلے میں آخرت کی برتری کو بیان کیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی محبوب ترین سورتوں میں سے ایک:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورۂ اعلیٰ کو بہت پسند فرماتے اور اس سے محبت رکھتے
تھے۔(مسند امام احمد بن حنبل، مسند علی بن ابی طالب، حدیث 742 /تفسیر صراط الجنان ازمفتی محمد قاسم قادری
حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 691 )
نمازِ جمعہ، عیدین اور وتر میں تلاوتِ
مسنون:رسول
اللہ ﷺ نمازِ جمعہ، عیدین (عید الفطر و عید الاضحیٰ) اور نمازِ وتر کی پہلی رکعت
میں بالعموم سورۂ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۂ غاشیہ (یا سورۂ کافرون) تلاوت
فرمایا کرتے تھے۔(صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، حدیث 878)
بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ(۱) الَّذِیْ خَلَقَ
فَسَوّٰىﭪ(۲)
وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰىﭪ(۳) وَ الَّذِیْۤ اَخْرَ جَ
الْمَرْعٰىﭪ(۴)
فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ(۵) سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ(۶) اِلَّا مَا شَآءَ
اللّٰهُؕ-اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ(۷) وَ نُیَسِّرُكَ
لِلْیُسْرٰىۚۖ(۸)
فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ(۹) سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ(۱۰) وَ
یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ(۱۱) الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ
الْكُبْرٰىۚ(۱۲)
ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ(۱۳) قَدْ اَفْلَحَ
مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴)
وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ(۱۵)بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ
الدُّنْیَا٘ۖ(۱۶)
وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ(۱۷) اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ
الْاُوْلٰىۙ(۱۸)
صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠(۱۹)
No comments:
Post a Comment