آیۃ الکرسی
قرآنِ کریم کی سب سے عظیم آیت: حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: "اے ابوالمنذر! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کون سی
آیت سب سے عظیم ہے؟" میں نے عرض کیا: اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-
اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ (آیۃ الکرسی)۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ
مارا اور فرمایا: "اے ابوالمنذر! تمہیں علم مبارک ہو۔" (صحیح مسلم: کتاب
صلاة المسافرین، حدیث ۸۱۰)
ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے کی
فضیلت: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے، اس کے جنت میں داخل ہونے سے موت
کے سوا کوئی چیز مانع نہیں۔" (المعجم الکبیر للطبرانی: حدیث ۷۵۳۲، نسائی فی
عمل الیوم واللیلہ، حدیث ۱۰۰)
سونے سے
پہلے آیۃ الکرسی پڑھنے کی فضیلت: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا کہ اگر کوئی شخص سونے سے پہلے آیۃ الکرسی پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک
محافظ مقرر فرما دیتا ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں آ سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: "اس نے سچ کہا، اگرچہ وہ بڑا جھوٹا ہے۔" (بخاری: کتاب فضائل
القرآن، باب فضل سورۃ البقرۃ، ۳ / ۴۰۵، حدیث ۵۰۱۰)
گھر میں آیۃ الکرسی پڑھنے کی برکت: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آیۃ الکرسی کی برکت سے شیطان دور
بھاگتا ہے۔ اسی لیے اہلِ علم نے گھروں میں اس کی تلاوت کو باعثِ حفاظت قرار دیا
ہے۔ (شعب الایمان: فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۵۸، حدیث ۲۳۹۵)
آیۃ الکرسی
میں اللہ تعالیٰ کے عظیم اسماء و صفات کا بیان: آیۃ الکرسی میں اللہ تعالیٰ کی
توحید، حیات، قیومیت، علم، قدرت، عظمت اور سلطنت کا جامع بیان موجود ہے۔ اسی لیے
اسے قرآنِ مجید کی سب سے عظیم آیت قرار دیا گیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: سورۃ البقرہ،
۲۵۵؛ تفسیر قرطبی: سورۃ البقرہ ۲۵۵)
آیۃ الکرسی
شیطان سے حفاظت کا ذریعہ: احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ آیۃ الکرسی کی تلاوت انسان کو
شیطان کے شر سے محفوظ رکھتی ہے، خصوصاً رات کے وقت اس کی تلاوت باعثِ حفاظت ہے۔
(صحیح بخاری: حدیث ۲۳۱۱)
﴿﴾
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ- اَلْحَیُّ
الْقَیُّوْمُ ۚ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ- لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ
وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ- مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-
یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ
بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ- وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ
الْاَرْضَۚ - وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ- وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(۲۵۵) لَاۤ اِكْرَاهَ فِی
الدِّیْنِ ﳜ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ-
فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ
بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىۗ- لَا انْفِصَامَ لَهَاؕ- وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۵۶) اَللّٰهُ وَلِیُّ
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ- یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۬ؕ - وَ
الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـٴُـھُمُ الطَّاغُوْتُۙ- یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ
النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِؕ- اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ- هُمْ فِیْهَا
خٰلِدُوْنَ۠ (۲۵۷)