Showing posts with label Barkaat Aur Mujarrab Aamaal. Show all posts
Showing posts with label Barkaat Aur Mujarrab Aamaal. Show all posts

سورۂ اعلیٰ کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال

 

سورۂ اعلیٰ قرآن پاک کی 87ویں سورت ہے، جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس میں 19 آیات اور 1 رکوع ہے۔ "اعلیٰ" کے معنی "سب سے بلند" کے ہیں، اور اس کا نام پہلی ہی آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (اپنے رب کے نام کی پاکی بیان کرو جو سب سے بلند ہے) سے ماخوذ ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، مخلوقات کی تخلیق اور ہدایت، تزکیۂ نفس، اور دنیا کے مقابلے میں آخرت کی برتری کو بیان کیا گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی محبوب ترین سورتوں میں سے ایک:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورۂ اعلیٰ کو بہت پسند فرماتے اور اس سے محبت رکھتے تھے۔(مسند امام احمد بن حنبل، مسند علی بن ابی طالب، حدیث 742 /تفسیر صراط الجنان ازمفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 691 )

 نمازِ جمعہ، عیدین اور وتر میں تلاوتِ مسنون:رسول اللہ ﷺ نمازِ جمعہ، عیدین (عید الفطر و عید الاضحیٰ) اور نمازِ وتر کی پہلی رکعت میں بالعموم سورۂ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۂ غاشیہ (یا سورۂ کافرون) تلاوت فرمایا کرتے تھے۔(صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، حدیث 878)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

 سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ(۱) الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰىﭪ(۲) وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰىﭪ(۳) وَ الَّذِیْۤ اَخْرَ جَ الْمَرْعٰىﭪ(۴) فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ(۵) سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ(۶) اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ-اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ(۷) وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ(۸) فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ(۹) سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ(۱۰) وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ(۱۱) الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ(۱۲) ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ(۱۳) قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴) وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ(۱۵)بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ(۱۶) وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ(۱۷) اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ(۱۸) صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠(۱۹)


سورۂ مزمل کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال

 

سورۂ مزمل قرآن پاک کی 73ویں سورت ہے، جو 29ویں پارے میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے (اس کی آخری آیت کو بعض مفسرین مدنی قرار دیتے ہیں) اور اس میں 20 آیات اور 2 رکوع ہیں۔ اس سورت کا بنیادی موضوع قیامِ اللیل (رات کو عبادت)، تلاوتِ قرآن کو ترتیل (ٹھہر ٹھہر کر) سے پڑھنا، صبر، اور اللہ تعالیٰ پر توکل ہے۔

دنیا و آخرت کی سختیوں سے نجات:نبی اکرم ﷺ اور بزرگانِ دین سے منقول ہے کہ جو شخص سورۂ مزمل کی پابندی کے ساتھ تلاوت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے دنیا اور آخرت کی تمام تنگیاں اور مشقتیں دور فرماتا ہے اور اسے ہر قسم کی پریشانی سے امان دیتا ہے۔(تفسیر صراط الجنان ازمفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 438 /تفسیر خزائن العرفان ازصدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ مزمل)

 زیارتِ نبی ﷺ کا ذریعہ:علمائے اہلسنت اور صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ سورۂ مزمل شریف کا کثرت سے ورد اور بالخصوص خواب میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی زیارتِ با برکت کا بہترین ذریعہ ہے۔(تفسیرِ نعیمی ازمفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ ، جلد 29، زیرِ سورۂ مزمل/اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ ازشیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ ، کتاب الصلاۃ باب قیام اللیل)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے رزق کی تنگی اور فقر و فاقہ دور کرنے کے لیے یہ عمل نہایت مجرب منقول ہے۔طریقہ: روزانہ فجر کی نماز کے بعد یا عشاء کے بعد 11 بار سورۂ مزمل (مع اول و آخر 11 بار درود شریف) پڑھنے کا معمول بنا لیں۔ اگر 11 بار نہ ہو سکے تو روزانہ 1 بار کی پابندی کریں۔ انشاء اللہ رزق میں بے پناہ برکت ہوگی اور کسی کا محتاج نہیں ہونا پڑے گا۔(شمعِ شبستانِ رضا ازمولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ سورۂ مزمل، صفحہ 122/جواہرِ خمسہ ازحضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ ، باب خواصِ سورۂ مزمل)

ہر قسم کی حاجت اور حلِ مشکلات (عملِ چلہ):طریقہ: اگر کوئی انتہائی کٹھن مسئلہ یا حاجت درپیش ہو، تو بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ 41 دن تک روزانہ 41 مرتبہ سورۂ مزمل پڑھ کر دعا کریں۔ اس عمل سے کیسی ہی سخت مشکل کیوں نہ ہو، اللہ کے فضل و کرم سے حل ہو جاتی ہے۔(اعمالِ رضا ازمولانا حسن رضا خان علیہ الرحمہ ، باب قضائے حاجات و دفعِ بلایا)

 میاں بیوی میں محبت اور گھریلو ناچاقی کا خاتمہ:طریقہ: اگر گھر میں جھگڑا ہو یا میاں بیوی کے درمیان ناچاقی ہو، تو 41 مرتبہ سورۂ مزمل پڑھ کر کسی مٹھائی یا پینے کی چیز پر دم کر کے کھلایا/پلایا جائے، تو آپس میں الفت و محبت پیدا ہوتی ہے۔(مخزنِ اوفیٰ / تفسیر روح البیان ازعلامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ مزمل)

 

﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱) قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۲) نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ(۳) اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ(۴) اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا(۵) اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ(۶) اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ(۷) وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ(۸) رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا(۹) وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا(۱۰) وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا(۱۱) اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ(۱۲) وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ(۱۳) یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا(۱۴) اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا ﳔ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ(۱۵) فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا(۱۶) فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖﰳ(۱۷) السَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖؕ-كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا(۱۸) اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌۚ-فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠(۱۹)اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآىٕفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَؕ-وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَؕ-عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِؕ-عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰىۙ-وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِۙ-وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ﳲ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُۙ-وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًاؕ-وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًاؕ-وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۲۰)


سورۂ ملک کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال

 

سورۂ ملک قرآن پاک کی 67ویں سورت ہے، جو 29ویں پارے کے آغاز میں واقع ہے۔ اس میں 30 آیات اور 2 رکوع ہیں۔ اس سورت کا بنیادی موضوع اللہ تعالیٰ کی بادشاہت، کائنات میں اس کی قدرتِ کاملہ کی نشانیاں، اور موت و حیات کا مقصد (انسان کی آزمائش) بیان کرنا ہے۔

عذابِ قبر سے نجات دہندہ (المانعہ / المنجیہ):رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "قرآن پاک میں 30 آیات پر مشتمل ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرتی ہے یہاں تک کہ اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اور وہ سورت 'تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ' (سورۂ ملک) ہے۔"(سنن ترمذی، کتاب فضائل القرآن، حدیث 2891 /تفسیر صراط الجنان ازمفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ )، جلد 10، صفحہ 241 )

 روزانہ رات کو تلاوت کا معمول:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سورۂ الم السجدہ اور سورۂ تبارک الذی (الملک) کی تلاوت نہ فرماتے۔(جامع ترمذی، باب ما جاء في فضل سورۃ الملك، حدیث2892/بہارِ شریعت ازعلامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ، حصہ 16، فضائلِ قرآن، صفحہ 244)

 میت کے لیے قبر کا نور:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور پاؤں یا سر کی طرف سے عذاب آنے لگتا ہے تو یہ سورت مانع (روکنے والی) بن جاتی ہے اور کہتی ہے کہ اس شخص پر عذاب کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ یہ رات کو میری تلاوت کیا کرتا تھا۔(تفسیر خزائن العرفان ازصدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ ملک/اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ ازشیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ ، جلد 2، کتاب فضائل القرآن)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:بزرگانِ دین اور اولیائے کرام کا یہ دائمی معمول رہا ہے کہ وہ روزانہ سونے سے پہلے:

طریقہ: بار سورۂ ملک کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس کی برکت سے انسان زندگی میں ناگہانی آفات سے محفوظ رہتا ہے اور بعد از مرگ قبر کی سختی و عذاب سے نجات حاصل ہوتی ہے۔(شمعِ شبستانِ رضا ازمولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ سورۂ ملک، صفحہ 115/تفسیر روح البیان ازعلامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ ملک)

برائے فلاح و کامرانی اور دفعِ سختی:طریقہ: بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ اگر کسی پر کوئی کٹھن وقت یا محتاجی آ جائے، تو وہ 41 دن تک روزانہ عشاء کے بعد 1 بار سورۂ ملک مع اول و آخر 11 بار درود شریف پڑھے۔ انشاء اللہ غیب سے اسبابِ فلاح پیدا ہوں گے اور پریشانی دور ہوگی۔(اعمالِ رضا ازمولانا حسن رضا خان علیہ الرحمہ ، باب رفعِ مصائب)

 بینائی میں بہتری اور حفظِ ایمان:طریقہ: صوفیائے کرام سے منقول ہے کہ سورۂ ملک کی تلاوت کے دوران جب آیت "فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ" پر پہنچیں، تو اس کا تصور کر کے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں پر دم کر کے آنکھوں سے لگانے سے بینائی میں برکت و روشنی حاصل ہوتی ہے۔(جواہرِ خمسہ ازحضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ)

﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ٘- وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ(ﰳ۱) الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ(۲) الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاؕ-مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍؕ-فَارْجِعِ الْبَصَرَۙ-هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ(۳) ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ(۴) وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ(۵) وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۶) اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ(۷) تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِؕ-كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ(۸) قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ ﳔ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ ۚۖ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ(۹) وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ(۱۰) فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْۚ-فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ(۱۱) اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۲) وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۱۳) اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠(۱۴)هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖؕ-وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ(۱۵) ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ(۱۶) اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًاؕ-فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ(۱۷) وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ(۱۸) اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَﰉ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُؕ-اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ(۱۹) اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِؕ-اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ(۲۰) اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗۚ-بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ(۲۱) اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۲۲) قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـٕدَةَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ(۲۳) قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۲۴) وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۵) قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ۪-وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(۲۶) فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓــٴَـتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ(۲۷) قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَاۙ-فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ(۲۸) قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَاۚ-فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۲۹) قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠(۳۰)


سورہ واقعہ کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال


سورۂ واقعہ قرآن پاک کی 56ویں سورت ہے، جو 27ویں پارے میں واقع ہے۔ اس میں 96 آیات اور 3 رکوع ہیں۔ اس سورت میں قیامت کے وقوع، انسانوں کے تین گروہوں (سابقین، اصحاب الیمین، اور اصحاب الشمال)، اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

فاقہ کشی اور مفلسی سے امان:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جو شخص ہر رات سورۂ واقعہ پڑھتا ہے، اسے کبھی فاقہ (غریبی و مفلسی) نہیں پہنچے گا۔"(شعب الایمان ازامام بیہقی علیہ الرحمہ ، حدیث: 2269/تفسیر صراط الجنان ازمفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 9، صفحہ 704 /تفسیر خزائن العرفان ازصدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ واقعہ)

 سورۂ غنا (دولت والی سورت):نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "سورۂ واقعہ 'سورۂ غنا' (مالداری و بے نیازی دینے والی سورت) ہے، اسے خود بھی پڑھو اور اپنی اولاد اور عورتوں کو بھی سکھاؤ۔"(تفسیر ابن کثیر (مترجم علمائے اہلسنت)، زیرِ سورۂ واقعہ/تفسیرِ نعیمی ازمفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ ، جلد 27)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:بزرگانِ دین بالخصوص صوفیائے کرام سے تنگیِ رزق اور غیب سے مدد حاصل کرنے کے لیے یہ عمل منقول ہے۔طریقہ: ہر روز عشاء کی نماز کے بعد (یا نمازِ مغرب کے فوراً بعد) 1 بار سورۂ واقعہ پڑھنے کا معمول بنا لیں۔ اول و آخر 11 مرتبہ درود شریف پڑھیں۔(بہارِ شریعت ازعلامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ، حصہ 16، فضائلِ قرآن۔شمعِ شبستانِ رضا ازمولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ وسعتِ رزق، صفحہ 108)

تسخیرِ رزق کا عملِ خاص (چالیس دن کا چلہ)طریقہ: بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شدید مالی بحران یا قرض میں گھرا ہو، تو وہ 41 دن تک روزانہ ایک ہی نشست اور ایک ہی وقت پر 41 مرتبہ سورۂ واقعہ پڑھے۔ انشاء اللہ غیب سے روزی کا انتظام ہوگا اور قرض ادا ہو جائے گا۔(جواہرِ خمسہ ازحضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ  / اعمالِ رضا ازمولانا حسن رضا خان علیہ الرحمہ )

 نزع کی سختی میں آسانی:طریقہ: صوفیائے کرام سے منقول ہے کہ اگر کسی بیمار پر سکرات کا عالم ہو اور روح نکلنے میں دشواری ہو رہی ہو، تو اس کے پاس سورۂ واقعہ کی تلاوت کرنے سے نزع کی سختی دور ہوتی ہے اور روح آسانی سے نکلتی ہے۔(تفسیر روح البیان ازعلامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ واقعہ)

﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ(۱) لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ(۲) خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ(۳) اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ(۴) وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ(۶) وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ(۷) فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ ﳔ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ(۸) وَ اَصْحٰبُ الْمَشْــٴَـمَةِ ﳔ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْــٴَـمَةِؕ(۹) وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ(۱۰) اُولٰٓىٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ(۱۱) فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ(۱۲) ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ(۱۳) وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ(۱۴) عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ(۱۵) مُّتَّكِـٕیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ(۱۶)یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ(۱۷) بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ ﳔ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ(۱۸) لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ(۱۹) وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ(۲۰) وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ(۲۱) وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ(۲۲) كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ(۲۳) جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲۴) لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ(۲۵) اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا(۲۶) وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ﳔ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ(۲۷) فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ(۲۸) وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ(۲۹) وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ(۳۰) وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ(۳۱) وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ(۳۲) لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ(۳۳) وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ(۳۴) اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ(۳۵) فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ(۳۶) عُرُبًا اَتْرَابًاۙ(۳۷) لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ(۳۸)ﮒ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ(۳۹) وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ(۴۰) وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ ﳔ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ(۴۱) فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ(۴۲) وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ(۴۳) لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ(۴۴) اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ(۴۵) وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ(۴۶) وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ ﳔ اَىٕذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ(۴۷) اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ(۴۸) قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ(۴۹) لَمَجْمُوْعُوْنَ ﳔ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ(۵۰) ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ(۵۱) لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ(۵۲) فَمَالِــٴُـوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ(۵۳) فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ(۵۴) فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ(۵۵) هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ(۵۶) نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ(۵۷) اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ(۵۸) ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ(۵۹) نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ(۶۰) عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۶۱) وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ(۶۲) اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ(۶۳) ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ(۶۴) لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ(۶۵) اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ(۶۶) بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ(۶۷) اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ(۶۸) ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ(۶۹) لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ(۷۰) اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ(۷۱) ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِــٴُـوْنَ(۷۲) نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ(۷۳) فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠(۷۴) فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ(۷۵) وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ(۷۶)اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ(۷۷) فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ(۷۸) لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ(۷۹) تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۸۰) اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ(۸۱) وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ(۸۲) فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ(۸۳) وَ اَنْتُمْ حِیْنَىٕذٍ تَنْظُرُوْنَۙ(۸۴) وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ(۸۵) فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ(۸۶) تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۸۷) فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۸۸) فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ ﳔ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ(۸۹) وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ(۹۰) فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ(۹۱) وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ(۹۲) فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ(۹۳) وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ(۹۴) اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ(۹۵) فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠(۹۶)

سورۂ رحمٰن کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال

 

سورۂ رحمٰن قرآن پاک کی 55ویں سورت ہے، جو 27ویں پارے میں واقع ہے۔ اس میں 78 آیات اور 3 رکوع ہیں۔ اس سورت مبارکہ کا بنیادی موضوع اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں، اس کی قدرتِ کاملہ، اور جن و انس کو اپنی اطاعت کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ اس سورت میں 31 مرتبہ ایک ہی آیت دہرائی گئی ہے:"فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ" (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

 قرآن پاک کی زینت :رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ہر چیز کی ایک زینت (دلہن) ہوتی ہے اور قرآن کی زینت 'سورۂ رحمن' ہے۔ )"شعب الایمان ازامام بیہقی علیہ الرحمہ ، حدیث 2253/تفسیر صراط الجنان ازمفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ )، جلد 9، صفحہ 667 )

نعمتوں کا شکر اور قیامت کے دن شفاعت:جو شخص روزانہ سورۂ رحمن کی تلاوت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والوں میں شمار فرماتا ہے اور قیامت کے دن یہ سورت اپنے قاری کے لیے خوبصورت صورت میں ظاہر ہو کر شفاعت کرے گی۔(تفسیر خزائن العرفان ازصدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ رحمن/تفسیرِ نعیمی ازمفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ ، جلد 27)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے مختلف بیماریاں، کینسر، اور ذہنی و جسمانی امراض سے شفا کے لیے سورۂ رحمن کا عمل منقول ہے:

طریقہ: روزانہ فجر یا عشاء کے بعد سورۂ رحمن کی تلاوت کریں (یا آواز سے سنیں) اور تلاوت کے بعد پانی پر دم کر کے مریض کو پلائیں۔ یہ عمل مسلسل 7، 11 یا 41 دن تک کریں۔(شمعِ شبستانِ رضا ازمولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اوراد و شفا/تفسیر روح البیان ازعلامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ رحمن)

رزق میں برکت اور تنگیِ معاش سے نجات:طریقہ: بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ جو شخص ہر روز عشاء کی نماز کے بعد سورۂ رحمن 1 بار تلاوت کرنے کا معمول بنا لے، اللہ تعالیٰ اس پر رزق کے دروازے کھول دیتا ہے اور وہ کبھی مفلسی و فاقہ کشی کا شکار نہیں ہوتا۔( اعمالِ رضا ازمولانا حسن رضا خان علیہ الرحمہ ، باب وسعتِ رزق)

رشتے و شادی کی رکاوٹیں دور کرنے کا عمل: اگر کسی کے رشتے میں رکاوٹ یا تاخیر ہو، تو روزانہ 1 بار سورۂ رحمن مع اول و آخر 11 مرتبہ درود شریف پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی جائے، انشاء اللہ خیر و عافیت کے ساتھ اسباب پیدا ہوں گے۔(جواہرِ خمسہ ازحضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

 اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴) اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪(۵) وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ(۶) وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ(۷) اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ(۸) وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ(۹) وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ(۱۰) فِیْهَا فَاكِهَةٌ ﭪ--وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ(۱۱) وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ(۱۲) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۱۳) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ(۱۴) وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ(۱۵) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۱۶)رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ(۱۷) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۱۸) مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ(۱۹) بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ(۲۰) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۲۱) یَخْرُ جُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ(۲۲) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۲۳) وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٴٰـتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ(۲۴) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠(۲۵) كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ(۲۶) وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ(۲۷) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۲۸) یَسْــٴَـلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ(۲۹) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۳۰) سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ(۳۱) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۳۲) یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْاؕ-لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ(۳۳) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۳۴) یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ ﳔ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ(۳۵) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۳۶) فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ(۳۷) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۳۸) فَیَوْمَىٕذٍ لَّا یُسْــٴَـلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ(۳۹) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۴۰)یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ(۴۱) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۴۲) هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ(۴۳) یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ(۴۴) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠(۴۵) وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ(۴۷) ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ(۴۸) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۴۹) فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ(۵۰) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۵۱) فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ(۵۲) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۵۳) مُتَّكِـٕیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآىٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍؕ-وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ(۵۴) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۵۵) فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِۙ-لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ(۵۶) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۵۷) كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ(۵۸) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۵۹) هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۶۱) وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ(۶۲) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ(۶۳) مُدْهَآ مَّتٰنِۚ(۶۴) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۶۵) فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ(۶۶) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۶۷)فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ(۶۸) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۶۹) فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ(۷۰) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۷۱) حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ(۷۲) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۷۳) لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ(۷۴) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۷۵) مُتَّكِـٕیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ(۷۶) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۷۷) تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠(۷۸)