سورۂ ملک قرآن پاک کی 67ویں سورت ہے، جو 29ویں پارے کے آغاز
میں واقع ہے۔ اس میں 30 آیات اور 2 رکوع ہیں۔ اس سورت کا بنیادی موضوع اللہ تعالیٰ
کی بادشاہت، کائنات میں اس کی قدرتِ کاملہ کی نشانیاں، اور موت و حیات کا مقصد
(انسان کی آزمائش) بیان کرنا ہے۔
عذابِ قبر سے نجات دہندہ (المانعہ / المنجیہ):رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "قرآن پاک میں 30 آیات پر مشتمل ایک
سورت ہے جو اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرتی ہے یہاں تک کہ اس کی مغفرت کر دی جاتی
ہے، اور وہ سورت 'تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ' (سورۂ ملک) ہے۔"(سنن ترمذی، کتاب
فضائل القرآن، حدیث
2891
/تفسیر صراط الجنان ازمفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ )، جلد 10، صفحہ 241 )
روزانہ رات کو تلاوت کا معمول:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ نبی کریم ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سورۂ الم السجدہ اور سورۂ تبارک
الذی (الملک) کی تلاوت نہ فرماتے۔(جامع ترمذی، باب ما جاء في فضل سورۃ الملك، حدیث2892/بہارِ شریعت ازعلامہ
مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ، حصہ 16، فضائلِ قرآن، صفحہ 244)
میت کے لیے قبر کا نور:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
سے منقول ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور پاؤں یا سر کی طرف سے عذاب آنے
لگتا ہے تو یہ سورت مانع (روکنے والی) بن جاتی ہے اور کہتی ہے کہ اس شخص پر عذاب
کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ یہ رات کو میری تلاوت کیا کرتا تھا۔(تفسیر خزائن
العرفان ازصدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ ملک/اشعۃ
اللمعات شرح مشکوٰۃ ازشیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ ، جلد 2، کتاب فضائل
القرآن)
بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:بزرگانِ دین اور اولیائے کرام کا یہ
دائمی معمول رہا ہے کہ وہ روزانہ سونے سے پہلے:
طریقہ:
بار سورۂ
ملک کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس کی برکت سے انسان زندگی میں ناگہانی آفات سے محفوظ رہتا
ہے اور بعد از مرگ قبر کی سختی و عذاب سے نجات حاصل ہوتی ہے۔(شمعِ شبستانِ رضا ازمولانا
اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ سورۂ ملک، صفحہ 115/تفسیر روح البیان ازعلامہ
اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ ، زیرِ سورۂ ملک)
برائے فلاح و کامرانی اور دفعِ سختی:طریقہ: بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ اگر کسی پر کوئی کٹھن وقت یا محتاجی
آ جائے، تو وہ 41
دن تک
روزانہ عشاء کے بعد 1 بار سورۂ ملک مع اول و آخر 11 بار درود شریف پڑھے۔ انشاء
اللہ غیب سے اسبابِ فلاح پیدا ہوں گے اور پریشانی دور ہوگی۔(اعمالِ رضا ازمولانا
حسن رضا خان علیہ الرحمہ ، باب رفعِ مصائب)
بینائی میں بہتری اور حفظِ ایمان:طریقہ: صوفیائے کرام سے منقول ہے کہ سورۂ ملک کی تلاوت کے دوران جب
آیت "فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ
فُطُورٍ"
پر پہنچیں،
تو اس کا تصور کر کے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں پر دم کر کے آنکھوں سے لگانے سے
بینائی میں برکت و روشنی حاصل ہوتی ہے۔(جواہرِ خمسہ ازحضرت غوثِ گوالیاری علیہ
الرحمہ)
﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ٘- وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ(ﰳ۱) الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ(۲) الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاؕ-مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍؕ-فَارْجِعِ الْبَصَرَۙ-هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ(۳) ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ(۴) وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ(۵) وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۶) اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ(۷) تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِؕ-كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ(۸) قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ ﳔ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ ۚۖ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ(۹) وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ(۱۰) فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْۚ-فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ(۱۱) اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۲) وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۱۳) اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠(۱۴)هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖؕ-وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ(۱۵) ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ(۱۶) اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًاؕ-فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ(۱۷) وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ(۱۸) اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَﰉ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُؕ-اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ(۱۹) اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِؕ-اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ(۲۰) اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗۚ-بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ(۲۱) اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۲۲) قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـٕدَةَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ(۲۳) قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۲۴) وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۵) قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ۪-وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(۲۶) فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓــٴَـتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ(۲۷) قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَاۙ-فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ(۲۸) قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَاۚ-فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۲۹) قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠(۳۰)
No comments:
Post a Comment