حضرت سید غوث عبدالنبی سہروردی علیہ الرحمہ
بانی سلسلئہ سہروردیہ فی الہند غوث العالمین شیخ
الاسلام والمسلمین امین الامۃ حضرت سیدنا غوث بہاؤالدین زکریا ملتانی سہروردی علیہ
الرحمہ کے سلسلئہ عالیہ سہروردیہ سے منسلک گجرات کے اولیائےکرام میں ایک نمایاں
مقام دوحد کے ایک تاریخی صوفی بزرگ غوث العالم قطب الاولیاء حضرت سید غوث عبدالنبی
سہروردی علیہ الرحمہ کا ہے آپ سلسلئہ عالیہ سہروردیہ کے ایک عظیم المرتبہ روحانی
بزرگ ہیں،آپ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے غوثیت قطبیت اور محبوبیت کے اعلی مرتبوں سے
نوازا ہے،آپ کا وطن اصلی ملک دکن میں اورنگ آباد ہے لیکن بادشاہ جلال الدین اکبر
بن ہمایوں کے زمانہ حکومت میں اورنگ آباد سے نقل مکانی فرماکر گجرات کے قصبئہ دوحد
(موجودہ داہود) میں نزول اجلال فرمایا،آپ کی آمد سے یہ سارا علاقہ کلمئہ توحید کی
دل نواز صدا سے گنج اٹھا،اور زمین کا گوشہ گوشہ فیضان سرمدی سے سرشار اور نور
محمدی علیہ الصلوۃ والسلام کی روشنی سے مالا مال ہوگیا، عوام و خواص آپ کی بارگاہ
عالیہ میں حاضر ہوتے اور خوب استفاضہ کرتے،آپ صاحب کرامات بزرگ ہیں،ذیل میں آپ کی
ایک تاریخی کرامت تحریر کی جاتی ہے۔
دوحد میں بادشاہ اکبر کی آمد اور غوث دوحد کی کرامت:اولیا
ئے کرام نہایت سادگی پسند اور متواضع ہوتے ہیں،بظاہر وہ عوام الناس کی نظروں میں
عام ہوتے ہیں۔لیکن بارگاہ الہی میں خاص مقام رکھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ غوث العالم
قطب الاولیاء حضرت سید غوث عبدالنبی سہروردی علیہ الرحمہ بھی سادہ مزاج تھے،آپ
سادہ لباس زیب تن فرماتے اور اپنا کام بذات خود انجام دیتے چنانچہ 980ھ کا واقعہ
ہے،جب سلطنت مغلیہ کا عظیم فرماں رواں بادشاہ جلال الدین اکبر بن ہمایوں نے 11شوال
المکرم 980ھ بمطابق 26 فروری 1573ء بروز اتوار گجرات فتح کرکے اسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا اور
تقریباً 7 ماہ گجرات میں قیام پزیر رہا بعدہ خان اعظم میرزا کوکہ کو گجرات کا صوبہ
دار مقرر کرکے مورخہ 4 جمادی الاول981ھ بمطابق 1573ء بروز بدھ اپنے لاؤ لشکر کے
ساتھ دارالخلافۃ آگرہ کے لیے روانہ ہوا تب اتفاقاً اس کی سواری گجرات کے قصبئہ دوحد
میں آئی تو اس دوران بادشاہ کے خدام نے حضرت غوث عبدالنبی سہروردی کو دیکھ کر
مزدور سمجھ لیا کیوں کہ ان کے سر پر لکڑیوں کا گٹھر تھا مگر وہ گٹھر اچانک سر سے
ایک گز کی بلندی پر ہو گیا،بادشاہ اکبر یہ کرامت دیکھ کر متعجب ہوا،اور آپ کی
شخصیت سے متاثر ہوکر آپ کی کرامت و ولایت خاندانی شرافت و نجابت کے پیش نظر آپ کے
خلف اکبر حضرت محمد رفیق الدین سہروردی علیہ الرحمہ کو منصب قضا سے سرفراز فرماکر
کالی گام اور بھاٹی واڑہ کا علاقہ انعام و اکرام میں دینے کی خواہش ظاہر کی جسے
حضرت محمد رفیق سہروردی علیہ الرحمہ نے قبول کر لیا۔اور یوں سلطنت مغلیہ میں981ھ
بمطابق 1573ء کو بعد از فتح گجرات حضرت محمد رفیق الدین سہروردی علیہ الرحمہ تاریخ
گجرات میں دوحد کے پہلے قاضی کے طور پر مسند قضا پر متمکن ہوئےاور اہل دوحد کی
رہنمائی فرمائی،الحمدللہ یہ سلسلہ اس خاندان میں تاحال جاری ہے!
وصال مبارک: قطب الاولیاء غوث العالم حضرت سید غوث عبدالنبی سہروردی علیہ الرحمہ نے 7
ربیع الآخر کو وصال فرمایا۔آپ کا مزار اقدس دوحد کے پرانے قبرستان پیر بکھنڈی میں
زیارت گاہ ہے۔ (اکبر نامہ جلد ٣ ص ٤،مرآۃ سکندری ص ٥٥٦، اسناد حکامی مع
مواہیر،حالات دوحد فارسی قلمی)
No comments:
Post a Comment