سورۂ ناس کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال


سورۂ ناس قرآن پاک کی 114ویں اور آخری سورت ہے، جو 30ویں پاره میں واقع ہے۔ یہ مکی سورت ہے (بعض مفسرین کے نزدیک مدنی ہے) اور اس میں 6 آیات اور 1 رکوع ہے۔یہ سورت اور اس سے پہلے والی سورت (سورۂ فلق) دونوں کو مشترکہ طور پر "معوذتین" کہا جاتا ہے۔ اس سورت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کو انسانوں کے رب، بادشاہ اور معبود (تینوں صفات) کے واسطے سے پناہ مانگی گئی ہے: وسوسہ ڈالنے والے (خناس) کے شر سے، جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے، خواہ وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

پناہ مانگنے کے لیے بہترین سورت:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم نے وہ آیات نہیں دیکھیں جو آج رات نازل ہوئی ہیں، جن کی مثل کوئی آیات نہیں دیکھی گئیں؟

 وہ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ہیں۔"(صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، حدیث: 814/تفسیر صراط الجنان از مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ ، جلد 10، صفحہ 869 )

 صبح و شام کی پناہ اور کفایت:

حضرت عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ" اور معوذتین (فلق اور ناس) کو صبح اور شام کے وقت تین تین بار پڑھ لیا کرو، یہ تمہیں ہر چیز سے (آفات و بلایا سے) کفایت کریں گی۔"(جامع ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث: 3575/بہارِ شریعت (علامہ مفتی امجد علی اعظمی)، حصہ 16، فضائلِ قرآن، صفحہ 248)

بزرگانِ دین سے منسوب مجرب اعمال و وظائف:

بزرگانِ دین بالخصوص اولیائے کرام سے نقل ہے کہ دل میں آنے والے برے خیالات، شکوک و شبہات (وسواس) اور ذہنی دباؤ کے خاتمہ کے لیے یہ عمل انتہائی مجرب ہے:جو شخص شیطانی وسوسوں یا وہم کی بیماری کا شکار ہو، وہ ہر نماز کے بعد یا جب بھی وسوسہ آئے 7 مرتبہ سورۂ ناس پڑھ کر اپنے سینے پر دم کرے یا پانی پر دم کر کے پیے۔ انشاء اللہ وسوسے اور ذہنی انتشار ختم ہو جائیں گے۔

(شمعِ شبستانِ رضا از مولانا اقبال احمد نوری علیہ الرحمہ ، باب اورادِ دفعِ وسواس، صفحہ 177/تفسیر روح البیان از (علامہ اسماعیل حقی بروسوی علیہ الرحمہ زیرِ سورۂ ناس)

رات کو سوتے وقت حفاظتی حصار (سنتِ مبارکہ)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب بھی ہر رات بستر پر تشریف لاتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر دم فرماتے، اور پھر اپنے مبارک ہاتھوں کو جہاں تک جسم تک پہنچ سکتے پھیرتے (پہلے سر اور چہرے پر، پھر باقی جسم پر)۔ آپ ﷺ یہ عمل تین بار دہراتے تھے۔ بزرگانِ دین کا بھی یہ دائمی معمول رہا ہے، جس کی برکت سے رات بھر جنات اور شیاطین کے شر سے حفاظت رہتی ہے۔(صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن / کتاب الدعوات، حدیث: 5017/اعمالِ رضا ازمولانا حسن رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ ، باب ادعیہ و اورادِ نوم)

 جناتی اثرات، آسیب اور نظرِ بد کا علاج:

صوفیائے کرام سے منقول ہے کہ اگر کسی پر جناتی اثرات، آسیب یا نظرِ بد کا شبہ ہو، تو اس مریض پر 41 مرتبہ سورۂ ناس (مع اول و آخر 11 بار درود شریف) پڑھ کر دم کیا جائے، تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام شیطانی اثرات زائل ہو جاتے ہیں۔(جواہرِ خمسہ از حضرت غوثِ گوالیاری علیہ الرحمہ )

﴿ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴾

 قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱) مَلِكِ النَّاسِۙ(۲) اِلٰهِ النَّاسِۙ(۳) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِﭪ(۴) الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵) مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠(۶)

No comments:

Post a Comment