سورۂ فاتحہ کی فضیلت، برکات اور مجرب اعمال


سورۂ فاتحہ ہر مرض کی دوا: حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سورۂ فاتحہ ہر مرض کی دوا ہے۔ اس سورت کا ایک نام "شافیہ" اور دوسرا نام "سورۃ الشفاء" ہے، کیونکہ یہ ہر بیماری کے لیے شفا ہے۔ (سنن الدارمی: جلد ۲، صفحہ ۵۳۸، حدیث ۳۳۷۰؛ حاشیۃ الصاوی: جلد ۱، صفحہ ۱۳)

سورۂ فاتحہ قرآنِ کریم کی سب سے عظیم سورت: حضرت ابو سعید بن معلیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآنِ کریم کی سب سے عظیم سورت سکھاؤں گا۔" پھر آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا، اور جب مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے قرآن کی سب سے عظیم سورت سکھائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (سورۂ فاتحہ) ہی وہ سات بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآنِ عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری: کتاب التفسیر، حدیث ۴۴۷۴)

 سورۂ فاتحہ جیسی کوئی سورت نازل نہیں ہوئی: حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! نہ تورات میں، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ قرآن میں اس جیسی کوئی سورت نازل ہوئی ہے۔ یہ سبع مثانی اور قرآنِ عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔" (جامع ترمذی: کتاب فضائل القرآن، حدیث ۲۸۷۵)

 سورۂ فاتحہ نماز کا بنیادی رکن: حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے سورۂ فاتحہ نہ پڑھی، اس کی نماز نہیں ہوئی۔" (صحیح بخاری: حدیث ۷۵۶؛ صحیح مسلم: حدیث ۳۹۴)

سورۂ فاتحہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان مناجات: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "میں نے نماز (یعنی سورۂ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جو وہ مانگے۔" پھر اللہ تعالیٰ سورۂ فاتحہ کی ہر آیت کے جواب کا ذکر فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم: کتاب الصلاۃ، حدیث ۳۹۵)

 سورۂ فاتحہ دم اور شفا کا ذریعہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چند صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک قبیلے کے سردار پر سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، جو بچھو کے ڈنک سے متاثر تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورۂ فاتحہ دم (شفا) ہے؟" (صحیح بخاری: حدیث ۵۷۳۶؛ صحیح مسلم: حدیث ۲۲۰۱)

 سورۂ فاتحہ امتِ محمدیہ ﷺ کے لیے خصوصی نور: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک فرشتہ آسمان سے نازل ہوا اور عرض کیا: "آپ کو دو ایسے نور عطا کیے گئے ہیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے: سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات۔" (صحیح مسلم: کتاب صلاة المسافرین، حدیث ۸۰۶)

 سو مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھنے کی برکت: علمائے کرام نے بیان فرمایا ہے کہ جو شخص ایک سو مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔ (جنتی زیور: صفحہ ۵۸۷)

 مریض پر سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے کا مجرب عمل: بزرگانِ دین نے فرمایا ہے کہ فجر کی سنتوں اور فرض کے درمیان اکتالیس (۴۱) مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر مریض پر دم کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے آرام حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح آنکھ کے درد کے لیے بھی یہ عمل نہایت مفید بتایا گیا ہے، اور اگر اتنی مرتبہ پڑھ کر اپنا تھوک آنکھوں میں لگایا جائے تو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ (جنتی زیور: صفحہ ۵۸۷)

اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کا مجرب وظیفہ :بزرگوں نے فرمایا ہے کہ سات دن تک روزانہ گیارہ ہزار (۱۱,۰۰۰) مرتبہ صرف یہ آیت: اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُکا اول و آخر تین تین مرتبہ درودِ شریف کے ساتھ پڑھی جائے تو بیماریوں، مصیبتوں اور بلاؤں کے دور ہونے کے لیے نہایت مجرب عمل ہے۔ (جنتی زیور: صفحہ ۵۸۸)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ(۲) مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ(۳) اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ(۴) اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۵) صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠(۷)

No comments:

Post a Comment