سورۂ بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی فضیلت


امتِ محمدیہ ﷺ کے لیے خصوصی نور: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف فرما تھے کہ اچانک آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا اور عرض کیا: آپ کو دو ایسے نور عطا کیے گئے ہیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے: سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات۔ ان میں سے جو حرف بھی آپ پڑھیں گے، آپ کو عطا کیا جائے گا۔ (صحیح مسلم: کتاب صلاة المسافرین، حدیث ۸۰۶)

 رات کو پڑھنے والے کے لیے کافی ہیں: حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رات کے وقت سورۂ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے، وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی۔ (صحیح بخاری: حدیث ۵۰۰۹؛ صحیح مسلم: حدیث ۸۰۸)

فائدہ: محدثین نے "کافی ہو جائیں گی" سے مراد حفاظت، عبادت کا اجر، شیطان سے بچاؤ اور مختلف آفات سے کفایت بیان کی ہے۔ اپنی عورتوں اور بچوں کوسکھاؤ: حضرتِ ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ کائناتﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ پاک نے مجھے اپنے عرش کے نیچے کے خزانے میں سے ایسی دو آیتیں عطا فرمائیں جن کے ذریعے سورۂ بقرہ کا اختتام فرمایا، انہیں سیکھواور اپنی عورتوں اور بچوں کوسکھاؤ بیشک یہ نماز اور قرآن اور دعا ہیں۔ (المستدرک للحاکم: جلد ۲، صفحہ ۲۶۸، حدیث ۲۱۱۰)

عرش کے نیچے کے خزانے سے عطا کی گئیں: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمیں تین چیزیں عطا کی گئی ہیں: نماز کی صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی طرح بنایا گیا، پوری زمین ہمارے لیے مسجد اور پاکیزگی کا ذریعہ بنا دی گئی، اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے کے خزانے سے عطا کی گئیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ (مسند احمد: جلد ۵، صفحہ ۳۹۱، حدیث ۲۳۲۵۸)

 اللہ تعالیٰ نے نزولِ قرآن سے پہلے ہی لکھ دی تھیں: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی، اسی میں سے دو آیات نازل فرمائیں جن پر سورۂ بقرہ کا اختتام ہوتا ہے۔ جس گھر میں یہ تین راتیں پڑھی جائیں، شیطان اس کے قریب نہیں آتا۔ (جامع الترمذی: جلد ۴، صفحہ ۴۰۴، حدیث ۲۸۹۱)

 شیطان سے حفاظت کا ذریعہ: احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آخری آیات کی تلاوت شیطان کے شر سے حفاظت کا مؤثر ذریعہ ہے، خصوصاً رات کے وقت ان کی تلاوت انسان اور اس کے گھر کے لیے باعثِ امن و حفاظت بنتی ہے۔ (جامع ترمذی: حدیث ۲۸۸۲؛ صحیح بخاری: حدیث ۵۰۰۹)

دعاؤں کی قبولیت اور رحمتِ الٰہی کا ذریعہ: سورۂ بقرہ کی آخری آیات میں ایمان، توبہ، دعا، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آسانی کی تعلیم دی گئی ہے۔ ان آیات میں بندے کی عاجزی اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت، رحمت اور مدد کی دعا موجود ہے، اسی لیے یہ آیات بڑی برکت اور رحمت والی ہیں۔ (سورۂ البقرہ: آیت ۲۸۵-۲۸۶، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی)

 رات کے معمولات میں شامل کرنے کی ترغیب: نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق سونے سے پہلے سورۂ بقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت ایک عظیم مسنون عمل ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت، رحمت اور برکت حاصل ہوتی ہے۔ (صحیح بخاری: حدیث ۵۰۰۹؛ صحیح مسلم: حدیث ۸۰۸)

 حضرتِ ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک ﷺ نے فرمایا: جو شخص سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھے گا وہ اسے کفایت کریں گی۔ (صحیح بخاری: جلد ۳، صفحہ ۴۰۵، حدیث ۵۰۰۹)

سورۂ بقرہ کی دوآیتیں کفایت کرنے سے مراد یہ ہے کہ یہ دو آیتیں اس کے اس رات کے قیام (رات کی عبادت) کے قائم مقام ہو جائیں گی یا اس رات اسے شیطا ن سے محفو ظ رکھیں گی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس رات میں نازل ہونے والی آفا ت سے بچائیں گی۔ (فتح الباری: جلد ۱۰، صفحہ ۴۸)

﴿﴾ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

 لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ - وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۲۸۴) اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ - كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫ - لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫ - وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵) لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ- لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ- رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ- رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ- رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ- وَ اعْفُ عَنَّاٙ- وَ اغْفِرْ لَنَاٙ- وَ ارْحَمْنَاٙ - اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠( ۲۸۶)

No comments:

Post a Comment