| Makkah Sharif |
حرم کی تعظیم کی اہمیت:
حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امت اس وقت تک
خیر میں رہے گی جب تک حرم کی تعظیم کرتی رہے گی، ورنہ ہلاک ہو جائے گی۔(''سنن ابن ماجہ''،
الحدیث: ۳۱۱۰، ج۳، ص۵۱۹)
کعبہ کی طرف بندوں کی رغبت:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کعبہ نے شکایت کی
تو اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگ پیدا کروں گا جو خشوع کے ساتھ اس کی طرف آئیں گے۔(''المعجم الأوسط''، ۶۰۶۶، ج۴، ص۳۰۵)
نبی کریم ﷺ کا طریقۂ سفر مکہ:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ مکہ
آنے اور جانے کے وقت ذی طویٰ میں قیام فرماتے تھے۔ (''مشکاۃ المصابیح''،
الحدیث: ۲۵۶۱، ج۲، ص۸۶)
مکہ مکرمہ کی حرمت:
مکہ مکرمہ حرمت والا شہر ہے، اس ليے اس کے تقدس
کا لحاظ رکھنا فرض ہے۔ اس کی حرمت کی بناء پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس
کے بعض خاص احکامات فتح مکہ کے موقع پر یوں بیان فرمائے:”بے شک اس شہر کو اللہ
تعالیٰ نے اس دن سے حرمت والا قرار دیا جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا
اور وہ قیامت تک اللہ کی حرمت کے ساتھ حرمت والا ہی رہے گا۔ مجھ سے پہلے کسی شخص
کیليے اس میں جنگ کرنا حلال نہیں تھا اور مجھے بھی محض دن کی ایک گھڑی اس میں جنگ
کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد وہ قیامت تک اللہ کی حرمت کے ساتھ حرمت والا ہی
رہے گا۔ لہٰذا اس کا کانٹا (تک) نہ کاٹا جائے، اس کا شکار نہ بھگایا جائے، اس میں
گری ہوئی چیز کو صرف وہ شخص اٹھائے جو اس کا لوگوں میں اعلان کرے اور اس کا گھاس
بھی نہ کاٹا جائے۔‘‘
چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے
کہا: اے اللہ کے رسول! صرف اذخر گھاس کی اجازت دے دیجئے کیونکہ اس سے سنار اور
لوہار فائدہ اٹھاتے ہیں اور مکہ والے اسے اپنے گھروں کی چھتوں میں استعمال کرتے
ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ٹھیک ہے، اذخر کو کاٹنے کی اجازت
ہے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ……
1.مکہ مکرمہ میں جنگ وجدال حرام ہے حتی کہ بلا
ضرورت کوئی ہتھیار اٹھانا بھی ممنوع ہے۔
2.مکہ مکرمہ میں کسی درخت، پودے اور گھاس کا
کاٹنا بھی حرام ہے۔ ہاں بعض ضروریات کے پیشِ نظر صرف اذخر گھاس کو کاٹنے کی اجازت
ہے۔
3.مکہ مکرمہ میں کسی جانور / پرندے کو شکار کرنا
بلکہ اسے ہانکنا بھی حرام ہے۔
5.اور مکہ مکرمہ میں گری ہوئی چیز کو اٹھانا بھی
جائز نہیں ہے سوائے اس کے کہ اٹھانے والا اس کا اعلان کرے۔
حرم کی تعظیم کی اہمیت
حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ امت اس وقت تک خیر میں رہے گی جب تک حرم کی تعظیم کرتی رہے گی، ورنہ ہلاک ہو
جائے گی۔(''سنن ابن ماجہ''، الحدیث: ۳۱۱۰، ج۳، ص۵۱۹)
کعبہ کی طرف بندوں کی رغبت
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ کعبہ نے شکایت کی تو اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگ پیدا کروں گا جو خشوع کے ساتھ
اس کی طرف آئیں گے۔(''المعجم الأوسط''، ۶۰۶۶، ج۴، ص۳۰۵)
نبی کریم ﷺ کا طریقۂ سفر مکہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے
کہ نبی کریم ﷺ مکہ آنے اور جانے کے وقت ذی طویٰ میں قیام فرماتے تھے۔ (''مشکاۃ المصابیح''،
الحدیث: ۲۵۶۱، ج۲، ص۸۶)
اللہ کی سب سے محبوب زمین
حضرت عبد اللہ بن عدی بن حمراء الزہری رضی اللہ
عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ الحرورہ
مقام پر کھڑے ہوکر (مکہ مکرمہ کو مخاطب کر کے) یہ فرما رہے تھے: ’’اللہ کی قسم! تم
اللہ کی بہترین اوراس کو سب سے محبوب زمین ہو اور اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا
تو میں تجھے کبھی نہ چھوڑتا۔‘‘ (سنن الترمذی الحدیث:3925)
مکہ مکرمہ کو مخاطب
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کو مخاطب ہو کر یوں فرمایا:’’تو
کتنا اچھا شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے! اور اگر میری قوم مجھے تجھ کو چھوڑنے پر
مجبور نہ کرتی تو میں تیرے علاوہ کسی اور زمین پر سکونت اختیار نہ
کرتا۔‘‘ (سنن الترمذی الحدیث:3926)
خانہ کعبہ اللہ کا پہلا گھر
حضرت سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین پر سب سے پہلے کونسی مسجد
بنائی گئی؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مسجد ِ حرام‘‘
انہوں نے کہا: پھر کونسی؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسجد
اقصی‘‘
انہوں نے کہا: ان کے درمیان کتنی مدت تھی؟
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’چالیس سال۔‘‘ (صحیح البخاری الحدیث:3366 ،صحیح مسلم الحدیث :520)
مسجدالحرام میں نماز کی فضیلت
مسجد حرام میں ایک نماز دوسری مساجد میں ایک لاکھ
نمازوں سے افضل ہے۔جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اور مسجد حرام میں ایک نماز دوسری مساجد میں
ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔‘‘(سنن ابن ماجہ الحدیث :1406،ومسنداحمد الحدیث
:14735)
مکہ مکرمہ میں رمضان
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کہ مکہ مکرمہ میں رمضان گزارنا غیرمکہ میں ہزاررمضان گزارنے سے افضل ہے۔ (مسند البزار ، 12 / 303 ،
حدیث : 6144)
حضور ﷺ کا محبوب شہر
حضرت عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ فرماتے
ہیں کہ میں نے حضور تاجدارِ رسالت ﷺ کو دیکھا کہ آپ مقام حزورہ کے پاس اپنی اونٹنی
پر بیٹھے فرما رہے تھے : اللہ کی قسم! تو اللہ کی ساری زمین میں بہترین زمین ہے
اور اللہ کی تمام زمین میں مجھے زیادہ پیاری ہے۔ خدا کی قسم !اگر مجھے اس جگہ سے
نہ نکالا جاتا تو میں ہرگز نہ نکلتا۔ (ابن ماجہ ، 3 / 518 ،
حدیث : 3108)
مکرمکرمہ کی زمین قیامت تک حرم
حضرتِ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
رسولِ کریم ﷺ نے فتحِ مکّہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا : اے لوگو! اس شہر کو اُسی
دن سے اللہ نے حرم بنا دیا ہے جس دن آسمان و زمین پیدا کئے لہٰذا یہ قیامت تک اللہ
کے حرام فرمانے سے حرام(یعنی حرمت والا)ہے۔ (ابن ماجہ ، 3 / 519 ،
حدیث : 3109)
مکہ و مدینہ میں دجال داخل نہیں ہو گا :
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :
مکہ مکرمہ اور مدینۃ المنورہ میں دجال داخل نہیں ہوسکے گا۔ (مسند احمد ، 10 / 85 ،
حدیث : 26106)
مکہ مکرمہ کی گرمی کی فضیلت :
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا : جو
شخص دن کے کچھ وقت مکہ مکرمہ کی گرمی پر صبر کرے جہنم کی آگ اس سے دور ہوجاتی
ہے۔ (اخبار مکہ ، 2 / 311 ، حدیث : 1565)
مکہ مکرمہ میں بیمار ہونے والے کا اجر :
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا
: جو شخص ایک دن مکے میں بیمار ہوجائے اللہ پاک اس کیلئے اسے اس نیک عمل کا ثواب
عطا فرماتا ہے جو وہ سات سال سے کررہا ہوتا ہے (لیکن بیماری کی وجہ سےنہ کرسکتا
ہو) اور اگر وہ (بیمار) مسافر ہوتو اسے دگنا اجر عطا فرمائے گا۔(اخبار مكہ ، 2 / 312 ،
حدیث : 1569)
مکہ مکرمہ میں موت ہو نے کی فضیلت
حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو حرمین
یعنی مکے یامدینے میں موت آگئی تو اللہ پاک اسے بروزقیامت امن والے لوگوں میں
اٹھایا جائے گا۔ (مصنف عبدالرزاق ، 9 / 174 ، حدیث : 17479)
اسمائے مکۃ
المکرمہ
مکۃ المکرمہ زادھا اللہ شرفاً و
تعظیماً کے بہت سے نام کتابوں میں درج ہیں ان میں سے 10 یہ ہیں:
(1) البلد۔
(2) البلد
الامین۔
(3) البلدہ
(4) القریہ
(5) القادسیہ
(6) البیت
العتیق
(7) معاد
(8) بکہ
(9) الراس
(10) ام
القریٰ (العقد الثمین ، 1 /
204)
No comments:
Post a Comment