حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ

 


حضرت شیخ کریم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے نامور صوفی بزرگ اور اہلِ دل اولیاء کرام میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ سلسلہ چشتیہ کے مشائخ میں سے تھے اور دہلی کے قریب شاہجہان آباد (موجودہ پرانی دہلی) میں رہتے تھے۔

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ  کی پیدائش:حضرت شیخ کریم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 24 جمادی الاوّل 1060 ہجری کو دہلی میں ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بادشاہ شاہجہان نے دہلی کو نیا دارالحکومت بنایا تھا اور شاہجہان آباد علمی و فکری سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا، جہاں علما و فضلا کی کثرت تھی۔ آپ کے والدِ محترم حضرت شیخ نور اللہ صدیقی ایک جید عالم ہونے کے ساتھ ساتھ علمِ ہند، علمِ ہندسہ اور فنِ تعمیر کے ماہر شمار کیے جاتے تھے۔ وہ خوش نویسی (خطاطی) میں بھی کمال رکھتے تھے، چنانچہ جامع مسجد دہلی کے دروازوں اور محرابوں پر کندہ کتبات ان کے فن کی لازوال یادگار ہیں۔ حضرت شیخ کریم اللہ شاہجہان آبادیؒ کا سلسلہ نسب خلیفۂ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔

آپ کی ابتدائی تعلیم:حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم و تربیت آپ کے والدِ محترم کی نگرانی میں ہوئی۔ آپ بچپن ہی سے نہایت ذہین اور فطین تھے۔ آپ کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ جو درس عام طلبہ برسوں میں حاصل کرتے، آپ چند ہی مہینوں میں ازبر کر لیتے۔ اسی غیر معمولی ذہانت اور علم دوستی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کم سنی ہی میں آپ کا شمار اکابر علما میں ہونے لگا۔ جب آپ فقہ، حدیث اور دیگر ظاہری علوم سے فراغت پا چکے تو اپنے قلب و باطن کی بیداری کے لیے علومِ باطنی کی طرف متوجہ ہوئے۔ چنانچہ آپ عبادت و ریاضت میں ہمہ وقت مشغول رہنے لگے اور محبتِ الٰہی میں آپ کو ایک خاص ذوق و شوق نصیب ہوا۔

حضرت شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے بیت:جب حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کو باطنی بیقراری اور قلبی اضطراب نے بے قرار کر دیا تو آپ کو ایک کامل مرشد کی تلاش ہوئی جو آپ کو روحانیت کے بلند منازل تک پہنچا سکے۔ اسی جستجو میں آپ سیاحت فرماتے ہوئے مکہ معظمہ تشریف لے گئے۔ وہاں ایک صاحبِ حال مجذوب نے آپ کی رہنمائی کی اور ارشاد فرمایا کہ آپ حضرت شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر بیعت کریں۔ چنانچہ آپ نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور سلسلۂ طریقت میں داخل ہو گئے۔

حضرت شیخ یحییٰ مدنی  رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی استعداد اور روحانی ذوق کو دیکھتے ہوئے مختصر عرصے ہی میں آپ کو نہ صرف باطنی منازل طے کروا دیے بلکہ آپ کے روحانی کمالات سے متاثر ہو کر خلافت سے بھی نوازا۔ مزید برآں، آپ کو مقامِ قطبیت جیسا بلند روحانی درجہ عطا فرمایا۔ اس کے بعد اہلِ علم و اہلِ دل حضرات آپ کو نہ صرف شیخ و مرشد کے طور پر ماننے لگے بلکہ "عالمِ ربانی" اور "قطبِ وقت" کے القاب سے بھی یاد کرنے لگے۔

ہندوستان واپسی: علومِ ظاہری و باطنی سے مالا مال ہو کر اور خلافت و اجازت حاصل کرنے کے بعد جب حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ دہلی کے لیے روانہ ہوئے تو آپ کے پیر و مرشد حضرت شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:"پرانی دہلی کا رہنے والا ایک شخص، شیخ اچھا نامی، عالمِ معنی میں ہم سے بیعت کر چکا ہے۔ جب تم دہلی پہنچو تو اس سے خلوص و محبت کے ساتھ ملنا، کیونکہ وہ بھی تمہاری طرح ہمارا مقتدی اور فرزندِ روحانی ہے۔ اور یہ شجرہ و کلاہ بھی اس تک ہماری طرف سے پہنچا دینا۔"چنانچہ جب آپ دہلی پہنچے تو آپ کے مرشد کے دوسرے مرید، شیخ اچھا، نے نہایت ادب و محبت سے آپ کا استقبال کیا اور آپ کے ساتھ والہانہ خلوص کا برتاؤ کیا۔ اس طرح دہلی میں آپ کے روحانی فیوض و برکات کا مرکز قائم ہوا اور مریدین و سالکین کی ایک بڑی جماعت آپ سے وابستہ ہونے لگی۔

حضرت شیخ کا روحانی فیض: حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی جائے سکونت قلعہ دہلی اور جامع مسجد کے درمیان واقع تھی، جو اب پریڈ گراؤنڈ کے نام سے مشہور ہے۔ اسی مقام پر آج آپ کا مزارِ مبارک بھی مرجعِ خلائق ہے۔ یہیں سے آپ نے علومِ ظاہری و باطنی کا ایسا دریا جاری فرمایا جس سے نہ صرف دہلی بلکہ پورے برصغیر کے اہلِ ذوق و طالبانِ علم فیضیاب ہوئے۔

آپ کے ظاہری علوم کے فیض کی یہ کیفیت تھی کہ نہایت وسیع پیمانے پر درس و تدریس کا سلسلہ قائم رہا۔ دور دور سے تشنگانِ علم حاضر ہوتے اور علومِ دینیہ میں مہارت حاصل کرتے۔ آپ نے اپنی علمی و روحانی خدمات کے ساتھ ساتھ کئی گراں قدر تصانیف بھی امت کو عطا کیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

1.    تفسیر قرآن

2.    سورۃ السبیلِ کلیمی( جو تصوف و معرفت کا قیمتی خزانہ ہے)

3.    العشرۃ الکاملہ ( ایک اہم تصوفی کتاب)

4.    کشکولِ کلیمی

5.    مرقع کلیمی

6.    مکتوباتِ کلیمی

7.    تسنیم

ان کے علاوہ بھی آپ نے بے شمار رسائل و کتب تحریر فرمائیں جن میں معرفت، تصوف اور سلوک کو خاص امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ آپ کی یہ علمی و روحانی میراث آج بھی طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

 حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جان آبادی کے چند واقعات: نہایت سادہ اور غریبانہ زندگی گزارتے تھے۔ آپ کی ذاتی آمدنی کا واحد ذریعہ ایک مکان کا کرایہ تھا، جس کی ماہانہ رقم صرف ڈھائی روپیہ بنتی تھی۔ خانقاہ کا لنگر بھی دراصل محبان و مریدین کی نظریاتی نذروں سے چلتا تھا۔ بادشاہ فرخ سیر نے بارہا چاہا کہ آپ کسی جاگیر یا وظیفہ کو قبول فرما لیں، لیکن آپ نے ہمیشہ انکار فرمایا اور دنیاوی اختلاط و جاہ و منصب سے گریز فرمایا۔

آپ بادشاہوں اور امراء کی صحبت سے احتراز فرماتے اور صرف اپنے مخلصین و مریدین کی مجالس میں وقت گزارتے۔ سماع سے آپ کو بے حد شغف تھا، مگر اس کے باوجود مریدین کے علاوہ کسی غیر کو اپنی محفلِ سماع میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیتے تھے۔

ایک مرتبہ آپ محفلِ سماع میں مشغول تھے کہ دربان نے اطلاع دی کہ ایک نوجوان، نظام الدین نامی، حاضر ہے اور اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ دربان نے عرض کیا کہ "آپ تو کسی غیر کو اجازت نہیں دیتے"۔ حضرت نے فرمایا:"وہ غیر نہیں ہے، اسے بلا لو۔"چنانچہ وہی نوجوان نظام الدین، جو اس دور کے مقتدر علما میں شمار ہوتے تھے، حضرت کے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے آپ کے مرید ہو گئے۔ بعد ازاں یہی حضرت نظام الدین آپ کے خلیفۂ اعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔ حضرت شیخ نے اپنے خلیفۂ اعظم کو ولایتِ دکن بھی عطا کی اور اورنگ آباد بھیج دیا ۔ وہیں ان کا مزار مبارک آج بھی اہلِ دل کے لیے مرکزِ فیوض و برکات ہے۔

آپ کے خلفائے کرام: اگرچہ کی خلفاء کا دائرہ بہت وسیع ہے لیکن کچھ نام ان میں سے زیادہ مشہور ہیں جیسے حضرت مولانا نظام الدین  اورنگ ابادی علیہ الرحمہ حضرت محمد ہاشم علیہ الرحمہ حضرت مولانا شاہ جمال الدین جی پوری علیہ الرحمہ ۔ اس کے علاوہ شاہ نانو جن علیہ الرحمہ جن کا مزار مسجد فتح پوری دہلی میں ہے اور حضرت مولانا عبدالمجید علیہ الرحمہ خواجہ یوسف علیہ الرحمہ خواجہ شریف کی مزارات حیدرآباد دکن میں ہیں ۔

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جان کا وصال: حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی عمر جب 81 برس کی ہوئی تو مختصر سی علالت کے بعد آپ کا وصال دہلی شہر میں 24 ربیع الاول 1142 ہجری بمطابق 1730ء میں ہوا۔ آپ کا جسدِ مبارک آپ کی خانقاہ کے صحن میں دفن کیا گیا۔ یہ خانقاہ جامع مسجد دہلی اور قلعہ شاہجہان آباد کے درمیان واقع تھی، جو آج بھی اہلِ محبت و عقیدت کے لیے زیارت گاہ خاص و عام ہے۔

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی کا سالانہ عرس :حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کا سالانہ عرس ہر سال 24 ربیع الاول کو آپ کے مزار مبارک پر دہلی میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر دور و نزدیک سے عقیدت مند، علما، مشائخ اور عام زائرین حاضر ہو کر قرآن خوانی، ذکر و اذکار، نعت و سماع کی محافل میں شرکت کرتے ہیں اور آپ کے فیوض و برکات سے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ (بشکریہ: کریم  پاشاہ سہروردی قادری حفظہ اللہ )



حضرت شیخ شہاب الدين عمر سہروردی علیہ الرحمہ

 

خاندان، ابتدائی زندگی:ابو حفص، شیخ شہاب الدين عمر سہروردی علیہ الرحمہ  شعبان 539 ہجری، 1145ء میں ایرانی صوبے زنجان کے قصبے، سہرورد میں پیدا ہوئے۔والدین نے شہاب الدین عمر نام تجویز کیا، جب کہ اپنی کنیت ابوحفص اور شیخ الشیوخ کے لقب سے معروف تھے۔ابنِ خلکان کے مطابق آپ کا نسب 16واسطوں سے خلیفۃ الرسول، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے، یوں آپ علیہ الرحمہ  نسباً صدیقی تھے۔آپ علیہ الرحمہ  معروف صوفی بزرگ اور عالمِ دین، حضرت ابو نجیب سہروردی علیہ الرحمہ  کے بھتیجے تھے، جو بغداد کی جامعہ نظامیہ میں پڑھاتے بھی تھے۔شیخ شہاب الدین علیہ الرحمہ  اپنے چچا کے پاس بغداد آگئے اور پھر اُن ہی کی نگرانی میں تعلیمی و روحانی سفر کا آغاز کیا۔

تعلیمی میدان میں کام یابیاں:آپ اپنے چچا کی سرپرستی میں جامعہ نظامیہ میں داخل ہوئے اور تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر علوم کے درس لینے شروع کردئیے۔ امام بیہقی علیہ الرحمہ، علامہ خطیب بغدادی علیہ الرحمہ اور امام قشیری علیہ الرحمہ جیسے جید علماء سے حدیث کا درس لیا۔ وہیں اپنے چچا کے ساتھ شیخ عبد القادر جیلانی کی علمی و روحانی مجالس میں بھی شرکت کرتے رہے۔پھر ایک وقت وہ بھی آیا، جب آپ علیہ الرحمہ ، سلطان مسعود سلجوقی اور خلیفہ بغداد کی استدعا پر جامعہ نظامیہ کے سربراہ مقرر ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ علیہ الرحمہ  حصولِ علم کے لیے اسکندریہ بھی گئے۔

مشہور فقیہ و محدث، حافظ ابنِ عساکر اور امام فخرالدین ابو علی واسطی علیہ الرحمہ  آپ کے شاگرد تھے۔آپ علیہ الرحمہ  کا علم حدیث میں یہ مقام تھا کہ اس زمانے کے بڑے بڑے محدثین آپ علیہ الرحمہ  کے حوالے سے احادیث روایت کیا کرتے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ  فقہی لحاظ سے حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ  کے پیروکار تھے اور اسی فقہ کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔ دُور دُور سے طلبہ اور راہِ سلوک کے متلاشی آپ کے ہاں کھنچے چلے آتے۔مولانا جامی  علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ آپ علیہ الرحمہ  شیخ الشیوخ تھے، دُور و نزدیک سے لوگ مسائل دریافت کرنے آپ  علیہ الرحمہ کے پاس آتے۔آپ  علیہ الرحمہ  کو فقہ میں اجتہاد کا درجہ حاصل تھا۔

روحانی مقام:آپ اپنے چچا، حضرت شیخ ضیاء الدین ابو نجیب سہروردی علیہ الرحمہ  کے مرید تھے، جن کے روحانی مقام کے لیے شاید اِتنا بتانا کافی ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ  بھی اُن کی صحبت میں رہے۔’’ آداب المریدین‘‘ اُن کی مشہور کتاب ہے۔نیز، آپ علیہ الرحمہ  ،حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ  ، حضرت نجم الدین کبریٰ علیہ الرحمہ  کی مجالس میں بھی شریک ہوتے رہے۔محی الدین ابنِ عربی علیہ الرحمہ  سے بھی آپ علیہ الرحمہ  کی ایک ایسی ملاقات کتب میں درج ہے، جس میں دونوں کے درمیان کوئی گفتگو نہیں ہوئی، بس ایک دوسرے کو دیکھا، کچھ دیر قریب بیٹھے اور پھر اُٹھ کر اپنی اپنی راہ ہولیے۔ 

شیخ شہاب الدین علیہ الرحمہ  سے ابنِ عربی علیہ الرحمہ  کے بارے میں سوال ہوا، تو آپ علیہ الرحمہ  نے فرمایا’’ وہ حقائق کے ایسے سمندر ہیں کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔‘‘ اور ابنِ عربی علیہ الرحمہ  نے فرمایا،’’ شیخ شہاب الدین علیہ الرحمہ  ایک ایسے فرد ہیں، جو سرتاپا سنتِ نبوی ﷺاور عاداتِ احمدیﷺ سے بَھرے ہوئے ہیں۔‘‘ تمام سوانح نگاروں نے یہ بات بہت وضاحت سے لکھی ہے کہ آپ  علیہ الرحمہ سُنتِ رسولﷺ کے بہت پابند تھے اور مریدین کو بھی سختی سے شریعت کی پابندی کی ہدایت کرتے۔

زندگی بھر کوئی ایسا جملہ یا کام نہیں کیا، جس پر خلافِ شریعت ہونے کا حکم لگایا جا سکتا ہو۔اِس معاملے میں اِس قدر محتاط تھے کہ ابنِ عربی علیہ الرحمہ  سے تمام تر عقیدت و محبت کے باوجود اپنے مریدین کو اُن کی صحبت سے منع فرماتے کہ اُن کی باتوں کی گہرائی تک پہنچنا ہر ایک کے بس میں نہیں تھا اور ناسمجھی، گم راہی کا سبب بن سکتی تھی۔

آپ علیہ الرحمہ  نے ایسے شخص کو دین کا چور اور ڈاکو قرار دیا، جو سنتِ رسولﷺ پر عمل پیرا نہ ہو۔ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ  نے ارشاد فرمایا، ’’حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  کا مقام سنتِ نبوی کے اتباع کے نور سے آراستہ ہے۔‘‘ گو کہ سلسلۂ سہروردیہ کے بانی تو حضرت شیخ ضیاء الدین ابو نجیب سہروردی علیہ الرحمہ  ہیں، مگر اِس سلسلے کو حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  کی ذاتِ بابرکات سے ایسی مقبولیت اور وسعت حاصل ہوئی کہ اب یہ سلسلہ عوامی طور پر آپ علیہ الرحمہ  ہی سے منسوب ہو گیا ہے۔

آپ علیہ الرحمہ  کی حیات ہی میں اِس سلسلے نے عراق، شام، حجاز، ایران اور برصغیر پاک و ہند میں بہت ترقی کی۔ قاضی حمید الدین ناگوری علیہ الرحمہ  اور شیخ بہاء الدین زکریا علیہ الرحمہ  جیسے مشایخ آپ علیہ الرحمہ  ہی کے خلفاء میں شامل تھے۔ اِس کے علاوہ، حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ  اور حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ  نے بھی آپ علیہ الرحمہ  سے فیض حاصل کیا۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا علیہ الرحمہ ء علیہ الرحمہ  کی روایت کے مطابق، شیخ بہاء الدین زکریا علیہ الرحمہ  آپ علیہ الرحمہ  کی صحبت میں محض سترہ روز رہے اور خرقۂ خلافت حاصل کرلیا۔

عادات و اطوار:امام تاج الدین سبکی علیہ الرحمہ  نے اپنی معروف کتاب’’ طبقاتِ شافعیہ‘‘ میں آپ علیہ الرحمہ  سے متعلق لکھا ہے،’’ شیخ الشیوخ اِس ظاہری تجمل اور عزت کے باوجود نہایت فقر اور تنگ دستی کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے اور کسی بھی طرح دنیاوی مال و منال قبول نہیں فرماتے تھے۔‘‘ نوافل میں طویل قرآت کرتے اور بیش تر اوقات روزے سے ہوتے۔ آپ علیہ الرحمہ  نے کئی حج بھی کیے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ  کی روایت کے مطابق، آپ علیہ الرحمہ  کے ساتھ آخری حج میں، جو 628 ہجری میں کیا تھا، 12 ہزار افراد شریک تھے۔ 

ابنِ خلکان کا کہنا ہے،’’ آپ علیہ الرحمہ  کے زمانے میں کوئی آپ  علیہ الرحمہ کے برابر نہیں تھا۔‘‘حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ  نے فرمایا،’’ درویشی تو اُسی کیفیت کا نام ہے، جو شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  کو حاصل تھی۔حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ  بہت سے بزرگوں سے ملے۔اُن کا ارشاد ہے،’’ مَیں نے حضرت شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  کو جس قدر عبادت میں مشغول دیکھا، ایسا اپنی سیاحت میں کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘

تصوف و سلوک اور روحانی پیشواؤوں میں آپ علیہ الرحمہ  کا کوئی بھی ثانی نہ تھا، آپ کے متعلق ابنِ خلکان کا کہنا ہے:’’آپ کے زمانے میں کوئی بھی آپ  کے برابر نہیں تھا۔‘‘ غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے آپ کے متعلق فرمایا تھا: ’’یا عمر انت آخر المشہورین بالعراق‘‘ کہ اے عمر! تم سرزمین عراق کے آخری مشہور انسان ہو۔حضرت شہنشاہِ بغداد سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد ملک عراق میں کوئی بھی آپ کا ہم پلہ بزرگ پیدا نہ ہوا۔ اطراف و اکناف سے کبار مشائخ اور جید علمائے حقہ آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوتے۔ پورا عالم بالعموم اور برصغیر (پاک وہند) بالخصوص آپ کے فیض سے مستفیض ہوا۔

 ایک مقام پر آپ علیہ الرحمہ  نے ارشاد فرمایا:’’ خلفائی فی الہند کثیرۃ ‘‘یعنی کہ میرے خلفاء کی زیاہ تعداد ہندوستان میں ہے۔

خلفائے کرام : آپ کے چند مشہورخلفاء حضرات میں  شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، مصلح الدین شیخ سعدی شیرازی، شیخ نجم الدین کبریٰ، شیخ فرید الدین عطار، سلطان سخی سرور  رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے نام سرِ فہرست ہیں۔ اِن کے علاوہ، حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمۃ اور حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ بھی کی زیارت سے مشرف ہوئے اور فیض حاصل کیا۔آپ کی تصنیف ’’عوارف المعارف‘‘ جو سلوک و تصوف کا بیش بہا خزانہ ہے وہ امہات الکتب میں شامل ہے۔

آپ علیہ الرحمہ  بہت سخی تھے، جو ہدیے وغیرہ آتے، لوگوں میں تقسیم کردیتے، یہی وجہ ہے کہ جب وفات پائی، تو گھر سے محض8 درہم نکلے۔حضرت فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ  سے روایت ہے،’’ جب مَیں بغداد پہنچا، تو کئی روز تک حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  کی صحبت میں رہا۔ اِس دَوران کوئی دن ایسا نہ گزرتا، جب آپ علیہ الرحمہ  کی خانقاہ میں دس بارہ ہزار دینار کے ہدیے نہ آتے۔ تاہم، آپ علیہ الرحمہ  وہ سب لوگوں میں تقسیم کردیتے اور اپنے پاس کچھ نہ رکھتے۔‘‘آپ  علیہ الرحمہ اکثر سبز چادر اوڑھے رکھتے تھے۔

تصوف کی درسی کتاب: شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  نے ایک تحقیق کے مطابق 33 کتب لکھیں، جن میں ’’ عوارف المعارف‘‘ بہت مشہور ہوئی۔اِس کتاب میں تصوف یا طریقت کی تعلیمات بیان کی گئی ہیں۔ چوں کہ آپ علیہ الرحمہ  حدیث کے بھی بڑے عالم تھے، اِس لیے اِس کتاب میں احادیثِ مبارکہؐ کا بہت کثرت سے ذکر کیا گیا ہے۔اہلِ طریقت میں اِس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اِس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ خانقاہوں میں اس کا باقاعدگی سے درس دیا جاتا تھا اور مرید اپنے شیخ سے اسے سبقاً پڑھا کرتے تھے۔آج بھی اِس کتاب کے مطالعے کے بغیر علمِ طریقت پر بات مکمل نہیں ہوسکتی۔ اِس کے کئی اردو تراجم دست یاب ہیں، جن میں شمس بریلوی کا ترجمہ بہت معیاری ہے۔

سفارت کاری: حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  خانقاہ ہی تک محدود نہیں رہے، بلکہ آپ  علیہ الرحمہ  عالمِ اسلام کے معاملات پر بھی گہری نظر رکھتے اور اصلاحِ احوال کے لیے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرتے۔آپ علیہ الرحمہ  کے سلاطین اور امراء سے تعلقات تھے، مگر اِن تعلقات کو کبھی دنیاوی فوائد کے حصول کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ خلقِ خدا کی بہتری کے لیے انھیں استعمال میں لاتے۔ 

آپ علیہ الرحمہ  نے مسلم حکم رانوں کی جانب سے سفارت کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔خلیفہ الناصر کی طرف سے سلجوق حاکم، علاؤ الدین کیقباد کے قونیہ دربار میں تین بار سفیر بن کر گئے۔نیز، آپ علیہ الرحمہ  ،خلیفہ بغداد کی جانب سے سلطان محمد خوارزم شاہ سے بھی ملے تاکہ اُسے بغداد پر حملہ آور ہونے سے روک سکیں، مگر وہ اپنے ارادے سے باز نہ آیا۔ اِس پر آپ علیہ الرحمہ  نے اُس کے لیے بد دُعا کی۔ کہا جاتا ہے کہ اچانک بغیر موسم کی برف باری شروع ہوگئی، جو بیس روز تک جاری رہی، اس پر خوارزم شاہ بغداد پر حملہ کیے بغیر ہی واپس چلا گیا۔

حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے:’’میں نے حضرت شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ کو جس قدر عبادت میں مشغول دیکھا، ایسا اپنی سیاحت میں کسی کو نہیں دیکھا۔



وفات، اولاد: شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ  یکم محرم 632ہجری، بروز بدھ کو 93 برس کی عمر میں اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے۔آپ علیہ الرحمہ  کا مزار بغداد میں مرجعِ خاص وعام ہے۔مختلف کتب میں آپ علیہ الرحمہ  کی کنیت ابو عماد الدین، ابو حفص، ابوعبداللہ اور ابو نصر درج ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ علیہ الرحمہ  کے کئی صاحب زادے تھے، تاہم اُن کے حالاتِ زندگی دست یاب نہیں۔ البتہ، مختلف ممالک میں ایسے بہت سے خاندان صدیوں سے موجود ہیں، جو اپنا نسب آپ علیہ الرحمہ  سے جوڑتے ہیں، اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ علیہ الرحمہ  کی نسل آگے بھی چلی ہے۔ واللہ اعلم

ایک غلط فہمی: سہرورد کے حوالے سے ایک اور شخصیت بھی معروف ہیں، جن کا نام شیخ شہاب الدین سہروردی ہی ہے۔ ناموں کی اِس مماثلت سے بعض افراد دھوکا کھا جاتے ہیں۔ ایک تو حضرت ابو حفص شیخ شہاب الدین عُمر سہروردی علیہ الرحمہ  ہیں، جن کا تذکرہ آپ ابھی پڑھا، جب کہ دوسرے ابو الفتوح شہاب الدین سہروردی ہیں، جنہیں بعض نظریات کی وجہ سے خلیفہ کے حکم سے پہلے حلب میں قید رکھا گیا اور پھر 38 برس کی عمر میں پھانسی دے دی گئی۔ ان کی کتاب ’’حکمۃ الاشراق‘‘ معروف ہے۔(ماخوذ وکیپیڈیا)