حضرت شیخ روز بہان بقلی شیرازی علیہ الرحمہ

 

آپ علیہ الرحمہ  چھٹی صدی ہجری کے ایک عظیم صوفی بزرگ، نامور مفسرِ قرآن، محدث اور فارسی زبان کے مصنف تھے۔ آپ کو دنیائے تصوف میں انتہائی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور آپ کے علمی و روحانی کمالات کی وجہ سے آپ کو "سلطان الفقراء"، "برہان العلماء" اور "قدوۃ العشاق" جیسے القابات سے نوازا گیا۔

نام و نسب: آپ علیہ الرحمہ  کا مکمل نام ابو محمد بن ابی البقراء البقلی الشیرازی ہے۔

ولادت: آپ علیہ الرحمہ  کی ولادت 1128عیسوی بمطابق 522 ہجری کو ایران کے شہر فسا میں ایک دیلمی خاندان میں ہوئی۔

ابتدائی زندگی: بچپن میں آپ علیہ الرحمہ  نے ایک دکان پر کام کیا۔ پندرہ سال کی عمر میں آپ علیہ الرحمہ  کے اندر شدید روحانی تبدیلی آئی، جس کے بعد آپ نے جنگلوں اور صحراؤں میں طویل چلو ں اور ریاضتوں کا آغاز کیا۔

سفرِ علم و تصوف: آپ علیہ الرحمہ  نے معرفت اور علم حدیث کی خاطر عراق، شام، حجاز اور عرب دنیا کے طویل سفر کیے۔ آپ نے دو مرتبہ حج کی سعادت بھی حاصل کی۔

بیعت و خلافت: آپ علیہ الرحمہ  کو شیخ سراج الدین محمود بن خلیفہ علیہ الرحمہ  سے خرقہ خلافت حاصل ہوا۔

درس و تدریس: آپ علیہ الرحمہ  نے شیراز کی جامع عتیق میں تقریباً 50 سال تک درس، وعظ اور مریدین کی تربیت کا فریضہ سرانجام دیا۔

علمی و تصنیفی خدمات: آپ علیہ الرحمہ   علم و عرفان کا سمندر تھے۔ تصوف اور تفسیرِ قرآن پر ان کی تصانیف آج بھی اسلامی دنیا میں معتبر مانی جاتی ہیں:

عرائس البیان فی تفسیر القرآن: یہ آپ کی سب سے مشہور اور مایہ ناز تصنیف ہے، جو قرآن مجید کی ایک بے مثل روحانی، عرفانی اور صوفیانہ تفسیر ہے۔

شرح شطحیات: یہ کتاب صوفیا کے وجدانی کلمات (شطحیات) کی تشریح پر مبنی ایک منفرد علمی شاہکار ہے۔

کشف الاسرار: یہ آپ کی خود نوشت سوانح  ہے، جس میں آپ نے اپنے روحانی مشاہدات اور کشف کا ذکر کیا ہے۔

کتاب الانوار فی شرح الاسرار: تصوف کے باریک نکات پر لکھی گئی ایک اور معروف کتاب ہے۔

وصال مبارک:  آپ علیہ الرحمہ  کا وصال  30 محرم الحرام 606 ہجری میں شیراز، ایران میں ہوا اور وہیں آپ کا مزارِ اقدس مرجعِ خلائق ہے۔


No comments:

Post a Comment