اشرف الصوفیاء سیداشرف حسین اشرفی کچھوچھوی علیہ الرحمہ

 


اسم گرامی:آپ کا اسم شریف: سید اشرف حسین؛ ہے، آپ کے والد ماجد حضرت سید سعادت علی ابن سید قلندر بخش قدس سرہ ہیں۔ آپ مخدوم الآفاق حضرت سید عبد الرزاق نورالعین اشرفی الجیلانی قدس سرہ کے نبیرہ ہیں۔ آپ کے نانا تاج الاولیاء، حضرت سید شاہ نیاز اشرف اشرفی الجیلانی قدس سرہ تھے۔

ولادت با سعادت:حضرت سید اشرف حسین قدس سرہ کی ولادت با سعادت بروز دوشنبہ ۱۲ / جمادی الثانی ۱۲۶۰ھ کو کچھوچھہ شریف میں ہوئی، یہ امجد علی شاہ اودھ کا عہد تھا۔

لقب: اشرف الصوفیاء

شجرہ نسب:حضرت سید اشرف حسین ابن سید سعادت علی ابن سید قلندر علی بخش ابن سید تراب علی ابن سید نواز اشرف ابن سید محمد غوث ابن سید جمال الدین ابن سید عزیز الرحمن ابن سید محمد عثمان ابن سید شاہ ابوالفتح زندہ پیر ابن سید محمد ابن سید محمد اشرف ابن سید حسن سرکار کلاں ابن مخدوم الآفاق حضرت سید عبد الرزاق نورالعین اشرفی الجیلانی قدس سرہ سجادہ نشین۔

تعلیم و تربیت: اشرف الصوفیاء حضرت سید اشرف حسین علیہ الرحمہ  نے علوم ظاہری کی تکمیل اپنے والد ماجد اور اپنے نانا حضرت تاج الاولیاء سید شاہ نیاز اشرف قدس سرہ کے زیر سایہ حضرت مولانا محمود عافی کی خدمت میں رہ کر وطن میں تکمیل فرمائی، آپ نے علم فقہ، تفسیر، حدیث، صرف و نحو و دیگر علوم پر کامل دسترس حاصل فرمایا۔

بیعت و خلافت: اشرف الصوفیاء حضرت سید اشرف حسین اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ  نے اپنے یگانہ روزگار نانا تاج الاولیاء حضرت سید شاہ نیاز اشرف قدس سرہ کے دست مبارک پر بیعت کی اور علومِ تصوف و راہِ سلوک کی تعلیم حاصل کی۔

حضرت تاج الاولیاء سید نیاز اشرف قدس سرہ کی عنایت و توجہ خاص سے حضرت اشرف الاولیاء سید شاہ اشرف حسین قدس سرہ مقامات عالیہ پر فائز ہوئے، اور خاندانی خلافت و اجازت سے بھی نوازا۔ (مخدوم الاولیاء) اور اشرف الاولیاء کے تایا (بڑے ابو) مخدوم المشائخ حضرت سید شاہ منصب علی قدس سرہ نے آخر عمر میں اپنی کبر سنی اور کمزوری و دیگر امراض میں مبتلا ہونے کے سبب اپنے برادر زادہ حضرت اشرف الاولیاء حضرت مولانا سید شاہ اشرف حسین اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ  کو ۱۲۸۵ھ میں اپنا جانشین مقرر فرمایا، اور سرکار کلاں کی سجادہ نشینی کا منصب تفویض فرمایا، اور خلافت نامہ بھی تحریر فرمایا۔ (مخدوم الاولیاء)اور تیسری خلافت و اجازت آپ کو امین الاولیاء حضرت شاہ امین الدین احمد فردوسی قدس سرہ سجادہ نشین مخدوم بہار نے سلسلہ فردوسیہ و سلسلہ ابو العلائیہ کی عطا فرمائی اور توجہ عینی سے سرفراز فرمایا۔ جس کا مکمل تذکرہ مخدوم الاولیاء درج ہے۔

توجہ عینی وخلافت ابوالعلائیہ:

صاحب مخدوم الاولیاء اور صحائف اشرفی جلد دوم میں محبوبِ ربانی اعلیٰ حضرت اشرفی میاں قدس سرہ نے نقل فرمایا کہ سیدی و مولائی اشرف الاولیاء حضرت سید شاہ اشرف حسین قدس سرہ کو جب عالمِ روحانی میں حضرت محبوبِ یزدانی غوث العالم سے اشارہ حصولِ ارشاد و تعلیم سلسلہ ابوالعلائیہ ہوا، آپ کو کسی قدر تامل ہوا تو جہ نظری کا طریقہ خاندانِ اشرفیہ میں نہیں ہے، اتنے میں دیکھا کہ حضرت محبوبِ یزدانی نے ادیسیہ طور سے آپ سے بیعت لی اور توجہ نظری فرمائی، اس کے بعد حضرت مخدومی نے بہار شریف میں حضرت مرشد الانام اور مرجعِ خاص و عام امین الاولیاء حضرت مولانا سید امین الدین احمد فردوسی ابو العلائی قدس سرہ سے جا کر تعلیم وتربیت خاندانِ ابو العلائی بطور خاص حاصل کی، سلسلہ فردوسیہ، قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، ابوالعلائیہ میں عام طور سے خلافت و ارشاد حاصل کیا۔حضرت اشرف الصوفیاء نے سلسلہ ابوالعلائیہ کا اجرا بھی جاری رکھا، اور اہل سعادت کو اس سلسلے کی اجازت بھی مرحمت فرماتے تھے۔ (صحائف اشرفی دوم)

سجادہ نشینی سرکارِ کلاں: اشرف الصوفیاء علیہ الرحمہ  کے تایا (بڑے ابو) مخدوم المشائخ حضرت سید شاہ منصب علی قدس سرہ نے آخر عمر میں اپنی کبر سنی اور کمزوری و دیگر امراض میں مبتلا ہونے کے سبب اپنے برادر زادہ حضرت اشرف الاولیاء حضرت مولانا سید شاہ اشرف حسین اشرفی الجیلانی قدس سرہ کو ۲۹/ محرم الحرام ۱۲۸۵ھ میں اپنا جانشین مقرر فرمایا، اور سرکار کلاں کی سجادہ نشینی کا منصب تفویض فرمایا، اور خلافت نامہ بھی تحریر فرمایا۔ سرکار کلاں کی اولادوں میں سے ممتاز بزرگ حضرت سید شاہ غفور اشرف اشرفی الجیلانی قدس سرہ نے اپنی محققانہ تصنیف تحائف اشرفیہ میں اس سند کو نقل فرمایا ہے۔ (مخدوم الاولیاء)

خرقہ علائی کی واپسی:شیخ المشائخ حضرت سید شاہ نذار اشرف قدس سرہ سجادہ نشین کے وصال کے بعد ان کی اہلیہ محترمہ مخدومہ بی بی اللہ رکھی اپنے میکے جائس شریف چلی گئیں، اور وہ خرقہ مبارک جو حضرت مخدوم علاء الدین گنج نبات چشتی پنڈوی قدس سرہ کا تھا اور انہوں نے حضرت محبوبِ یزدانی غوث العالم حضرت مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کو عطا فرمائی تھی اور انہوں نے وہ خرقہ مبارک حضرت سید شاہ حسن سرکار کلاں ابن نورالعین کو عطا فرمایا تھا، مخالفین کے خوف سے ساتھ لے گئیں، مخدومہ بی بی اللہ رکھی حضرت سید شاہ عطا اشرف صاحب جائسی کی صاحبزادی تھیں، اور ان کے بھائی سید شاہ مراد اشرف ابن عطا اشرف تھے، بی بی اللہ رکھی نے وہ مبارک خرقہ اپنے بھائی شاہ مراد اشرف کو دے دیا۔ حضرت سید شاہ مراد اشرف کی اہلیہ حضرت سید شاہ غفور اشرف کی پھوپھی تھیں، ان کے پوتے حضرت سید شاہ رفیع الدین صاحب عالی مرتبت بزرگ اور سجادہ نشین جائس تھے، ان سے حضرت سید شاہ سعادت علی اور اشرف الاولیاء حضرت سید شاہ اشرف حسین دونوں کو سلسلہ کی خلافت واجازت حاصل تھی، حضرت اشرف الاولیاء نے اس خرقہ مبارک کو حضرت سید شاہ رفیع الدین جائسی سے حاصل کر کے ۲۸ / محرم الحرام ۱۲۹۷ھ مطابق ۱۲ / جنوری ۱۸۸۰ء میں اپنے مرید وخلیفہ اور چھوٹے بھائی مخدوم الاولیاء اعلیٰ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کو پہنایا۔ (مخدوم الاولیاء ۵۵)

نکاح واولاد:اشرف الاولیاء علیہ الرحمہ  کا نکاح اول حضرت سید شاہ امداد اشرف صالح پور ضلع بستی کی دختر نیک سیرت سے ہوا، ان سے ایک فرزند حضرت مولانا سید شاہ جعفر اشرف قدس سرہ اور ایک صاحبزادی کی ولادت ہوئی، ان بی بی صاحبہ کا وصال ۱۲۷۷ھ میں ہوا، حکیم ربیع الاول ۱۲۷۳ھ کے روز نامچہ میں ہے کہ آپ نے ۲۵ / صفر کو کہا کہ ہم اس ماہ میں نہ جائیں گے، لہذا آپ نے یکم ربیع الاول ۱۲۷۳ھ کو علی الصبح رحلت فرمائی، نمازِ جنازہ آپ کے زِندار ہمدم حضرت سید شاہ جعفر اشرف نے پڑھائی، خاندان کے سبھی افراد جنازہ میں شریک تھے۔

دوسرے نکاح سے دو صاحبزادی اور چند فرزندگان کی ولادت ہوئی، چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا سید شاہ مظفر حسین صاحب کچھوچھوی کے علاوہ سب انتقال کر گئے۔ جو بڑے کریم بااخلاق بزرگ تھے، ان سے دینی ملی بڑے بڑے کارنامے انجام پائے۔ (مخدوم الاولیاء)

تفویضِ سجادگی:حضرت اشرف الصوفیاء علیہ الرحمہ  نے اپنے چھوٹے بھائی مخدوم الاولیاء محبوبِ ربانی اعلیٰ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی (اشرفی میاں) قدس سرہ کو بیعت فرما کر اپنی خلافت واجازت عطا فرمائی اور آستانہ حضور غوث العالم وسرکار کلاں کی سجادہ نشینی عطا فرمائی، وہ سجادہ نشینی سرکار کلاں کی اب تک آپ ہی کی اولادوں میں چلی آ رہی ہے۔

وصال: اشرف الصوفیاء حضرت سید شاہ اشرف حسین قدس سرہ نے تقریباً ۸۷ سال کی بڑی عمر پائی، صحت عموماً ہمیشہ معتدل رہی، آخری ایام قدرے علالت میں گزرے، آپ کا وصال ۲۵ / محرم ۱۳۴۷ہجری کو کچھوچھہ شریف میں ہوا، مزار مبارک آستانہ غوث العالم کے احاطے میں مرجعِ انوار و خلائق ہے۔( کتاب: انوار اشرفی صفحہ 537 تا 540 بشکریہ عمر ارشدی حفظہ اللہ )

 

No comments:

Post a Comment