خلیفہ راشد پنجم حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ

اسم گرامی : امیرالمومنین امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ، بارہ اماموں میں دوسرے امام ہیں۔ آپ کی کنیت ابو محمد تھی۔ آپ کا لقب  تقی اور سید تھا۔( اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ 3/557، مطالب السؤل صفحہ 221) حضرت ابو احمد عسکری  علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا اور کنیت ابو محمد تجویز فرمائی اور یہ نام دور جاہلیت میں کسی کا نہ تھا۔ (اشرف الموبدلآل محمد /علامہ یوسف بن اسماعیل  نبہانی علیہ الرحمہ  صفحہ 162)

ولادت باسعادت : آپ  رضی اللہ عنہ کی ولادت تین ہجری میں نصف رمضان المبارک کو ہوئی۔ ناموس اکبر، روح الامین، اور سروش یعنی جبرئیل رضی اللہ عنہ آپ کا نام ہدیۃً لے کر رسول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حریر کے ٹکڑے پر آپ کا نام لکھ کر پیش کیا۔

ولادت سے قبل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی جان حضرت سیدتنا  ام الفضل  رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ رسول اکرم کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں آ پہنچا ہے، خواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے کہ میری لخت جگر بی بی فاطمہ (رضی اللہ عنہ) کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کروگی۔ ۔(الذریۃ الطاہرۃ للدولابی صفحہ 72)

مورخین کا کہنا ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی، آپ کی ولادت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اور دنیا کے سامنے سورہ کوثر کی ایک عملی اور بنیادی تفسیر پیش کردی۔ دنیا جانتی ہے کہ انہی امام حسن رضی اللہ عنہ اور ان کے چھوٹے بھائی امام حسین رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے اولادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کثرت نصیب ہوئی۔

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی دیگرصحابۂ کرام کی طرح نواسہ ٔرسول حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ ایک موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ اللہ  بحانہ وتعالی کی قسم! عورتوں نے حسن بن علی (علیہ السلام) جیسا فرزند نہیں جنا۔‘‘(سبل الہدی11/69)

آپ( رضی اللہ عنہ) لوگوں میں سینے سے سر تک سب سے زیادہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کےہم شبیہ تھے۔(جامع ترمذی باب مناقب ابی محمد الحسن بن علی الرقم: 3779،صحیح بخاری ، باب مناقب الحسن و الحسین الرقم 3752)

امیرالمومنین حضرت سیدنا  ابوبکر  صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کو کندھے پر بٹھایا اور قسم کھا کر کہا کہ یہ لڑکا کا نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ ہے اور علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شبیہ نہیں ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم بھی وہاں  کھڑے تھے (یہ بات سن کر )مسکرائے۔ (البدایہ والنہایہ 8/33، مشکو ٰۃ شریف صفحہ 563، نورالابصار صفحہ 270 شرف السادات 164)

آپ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے پا پیادہ پچیس حج ادا فرمائے حالانکہ پیدل چلنے سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی۔(حاکم ،المستدرک 3/ 169، تاریخ مدینہ و دمشق 13/242، الصواعق المحرقہ 468 ،تاریخ الخلفاء 1/145)

حدیث میں آیا ہے کہ کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ  منبر پر تشریف لائیں اور حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی  لوگوں کی طرف دیکھتے اور کبھی حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتے۔ پھر فرمایا، وہ زمانہ جلد آنے والا ہے  کہ اللہ تعالی  میرے اس سید بیٹے کے  توسط سے، مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروائے گا۔ (بخاری شریف حدیث2704، سنن  نسائی حدیث 1411، ترمذی شریف جلد 2 /218،مشکوٰۃ شریف 5/ 783، الصواعق المحرقہ 638)

 یہ حدیث اس واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اچھی طرح جانتے تھے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ ہی فتنہ و فساد کے دشمن ہیں۔ چنانچہ جب امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم شہید  ہوئے تو معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے امیرالمومنین امام حسن اور اور حسین رضی اللہ عنہما سے مصالحت کی اور عہد کیا کہ اگر انہیں(معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو) کوئی حادثہ پیش آجائے تو  خلیفہ امیرالمومنین حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ ہوں گے۔ اس معاہدے کے بعد امیرالمومنین حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ: لوگو! میں نے فتنہ و فساد کو ہمیشہ مکروہ جانا ہے۔ آج میں نے مصالحت کرلی ہے اور معاملہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر چھوڑ دیا ہے کہ اگر خلافت  پر ان کا حق تھا تو وہ انہیں مل گیا ہے اور اگر میرا حق تھا تو میں نے انہیں امت رسول کی  بھلائی کی خاطر بخش دیا۔ (حاکم المستدرک 4/162)

اے معاویہ! اللہ تعالی نے تمہیں والی بنا دیا ہے اس حدیث کے پیش نظر جو تم جانتے تھے یا اس بات کے لئے جو تم میں دیکھی گئی ہے۔ وَ اِنْ اَدْرِیۡ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ وَ مَتٰعٌ اِلٰی حِیۡنٍ( سورہ الانبیاء آیت 111)  اس کے بعدممبر سے اتر آئے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا یا مسود ووجوہ المسلیمین (اے مسلمانوں کے چہرے سیاہ کرنے والے)۔ آپ نے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بیعت کی اور مال اس کے پاس چھوڑ دیا۔ (الاستیعاب 1/437، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ 3/562)

 امیرالمومنین  امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا، اللہ تعالی نے بنی امیہ کا ملک حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ لوگ یکے بعد دیگرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھ رہے ہیں۔ یہ منظر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دشوار محسوس ہوا، چنانچہ اللہ تعالی نے وحی نازل فرمائی۔ انا اعطیناک الکوثر۔( سورہ الکوثر) (اے حبیب بے شک ہم نے آپ کو خیرکثیرعطا فرمائی) یعنی جنت میں اور اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الْقَدْرِ﴿۱﴾ۚۖ وَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ ؕ﴿۲﴾ لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ۳﴾ بے شک ہم نے اسے (۲) شب قدر میں اتارا (۳) اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ۔ (اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ 3/562)  ہزار مہینوں سے مراد بنی امیہ کی حکومت ہے راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان کی حکومت کی مدت کا حساب لگایا تو ہزار مہینے ہی نکلی۔ علامہ جلال الدین السیوطی الشافعی علیہ الرحمہ اپنی مشہورکتاب خصائص الکبریٰ میں لکھتےہیں کہ قاسم بنی فضل علیہ الرحمہ نےفرمایا ہم نے بنی امیہ کی حکومت کی مدت شمار کی تو وہ ہزار مہینہ تھی ، نہ اس سے کم اور نہ اس سےزیادہ (خصائص الکبری 2/241/طبع ممتاز اکیڈمی لاہور)

بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ کام معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد کیا تو معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے ابو محمد! آپ نے اس قدر جواں مردی کا اظہار کیا ہے کہ مردان مرد کے نفس ہرگز ایسی جواں مردی نہیں دکھا سکتے۔ (تاریخ اسلام/ اکبرشاہ خان نجیب آبادی صفحہ 499)

علامہ صبان محمد بن علی مصری فرماتےہیں کہ جب امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ  عنہ محض اللہ تعالیٰ کے لئے اس خلافت سے دست بردار ہوگئے تو اللہ تبارک تعالیٰ نے انہیں  اور ان کے اہلبیت کو خلافت باطنیہ سے نواز دیا  یہاں تک کہ بعض علماء کا مذہب ہے ہر زمانے میں قطب اولیاء  اہلبیت کرام میں سے ہی ہوگا۔ (اشرف الموبدلآل محمد /علامہ یوسف بن اسماعیل  نبہانی علیہ الرحمہ  صفحہ 168)

سب سے پہلے غوث اعظم: امام اہلسنت حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے فتاویٰ رضویہ میں علامہ علی قاری حنفی مکی علیہ الرحمہ کے حوالے سے  لکھتے ہیں کہ’’ بے شک  مجھے اکابر(بُزرگوں)سے پہنچا کہ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نے جب بخیال فتنہ و بلا ( یعنی مسلمانوں میں فساد ختم کرنے کے خیال سے) یہ خلافت ترک فرمائی، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے ان میں اور ان کی اولاد امجادمیں غوثیت عظمی کا مرتبہ رکھا۔ پہلے قطب اکبر(غوث اعظم) خود حضور سیدنا امام حسن (علیہ السلام)  ہوئے اور اوسط (بیچ)  میں صرف حضور سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانی اور آخر میں حضرت امام مہدی ہوں گے ۔             (فتاوٰی رضویہ28/392)

امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد تھے  : شاہ عبدالحق حق محدث دہلوی علیہ الرحمہ  لکھتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت کو اس لیے ترک کیا تھا کہ آپ بادشاہوں میں داخل نہ ہونا چاہتے تھے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا الخلافۃ بعدی  ثلاثون سنتھ ثم یصیر ملکا عضو ضا  کہ میرے بعد تیس سال خلافت رہے گی اور اس کے بعد کٹھنہ کھنی بادشاہت آجائے گی اور یہ مدت خلافت حضرت ربیع الاول اکتالیس ہجری میں ختم ہوگئی۔جب کہ امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ  حضرت معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو گئے۔

 حافظ ابن کثیرعلیہ الرحمہ  لکھتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ بھی  خلفائے راشدین سے ہیں کیوں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا  الخلافۃ یہ ثلاثون سنتھ ثم تکون ملکا کہ خلافت میرے بعد تیس سال ہوگی پھر بادشاہت ہوگی اور یہ خلافت تیس سال اس وقت مکمل ہوتی ہے جبکہ کے امام حسن کی خلافت کو بھی اس میں شامل کیا جائے کیوں کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات ریبع الاول 11 ہجری میں ہے  اور امام حسن حضرت معاویہ کے حق میں اکتالیس ہجری میں دستبردار ہوئے جب تک امام حسن کی خلافت کو شمار نہ کیا جائے اس وقت تک تیس سال مکمل نہیں ہوتے جس سے ثابت ہوا کہ امام حسن بھی خلیفہ راشد ہیں  اور خلفائے راشدین میں سے ہیں ۔ اور خلفائے راشدین میں حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کی مدت دو سال تین ماہ تھی اور حضرت عمر فاروق کی خلافت کی مدت دس سال اور 6 ماہ تھی اور حضرت عثمان غنی کی خلافت کی مدت بارہ سال مگر چند دن کم تھی اور اور حضرت علی شیر خدا کی مدت4 سال اور نو ماہ تھی اور اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کی مدت سے چھ ماہ اور کچھ دن تھی۔ ( منح الروض الأزہر شرح الفقہ الأكبر /ملا علی القاری  صفحہ ،68، شرح العقائد النسفیۃ/سعد الدين التفتازانی صفحہ 150، النبراس / علامہ نورالدين علی ، مفتی الدیار المصریہ  صفحہ 308،  المسامرۃ /شیخ قاسم بن قطلوبغا  الحنفی صفحہ 316)

صدرالشریعہ حضرت علامہ مفتی امجدعلی اعظمی علیہ الرحمہ اپنی مشہور کتاب بہار شریعت میں لکھتےہیں کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ برحق و امامِ مطلق حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق، پھر حضرت عمرِ فاروق، پھر حضرت عثمان غنی، پھر حضرت مولیٰ علی پھر چھ مہینے کے لیے حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم ہوئے۔ اِن حضرات کو خلفائے راشدین اور اِن کی خلافت کو خلافتِ راشدہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی سچی نیابت کا پورا حق ادا فرمایا۔( بہار شریعت/حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ 1/241، قانون شریعت (تخریج شدہ) /قاضی شمس الدین جونپوری علیہ الرحمہ صفحہ 70/مجلس مدینۃ العلمیہ دعوت اسلامی، فیض القدیر شرح جامع صغیر/ جلال الدین السيوطی الشافعی علیہ الرحمہ/شارح: علامہ عبدالرؤوف مناوی علیہ الرحمہ 4/664) امام الموحدین ابوسعیدحضرت سیدنا خواجہ حسن بصری(المتوفی 111ہجری)  قد س سرہ فرماتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قسم ! آپ کی خلافت میں ایک قطرہ بھی خون کا نہیں بہا۔ (مسند امام احمد بن حبنل 5/44)

خلافت راشدہ کا مفہوم ومطلب : خلافت راشدہ سے مراد یہ ہے کہ خدا اور رسول نے جو حکمرانی کے اصول بیان فرمائے ہیں اور رسول اللہ کی تربیت و تعلیم اور عملی رہنما سے جو معاشرہ وجود میں آیا ہے طریق  پر خلافت وحکومت کرنا خلافت راشدہ ہے۔ گویا کہ منہاج نبوت کے مطابق جو خلافت ہے وہ خلافت راشدہ ہے اور یہ خلافت صرف تیس سال تک ہے اور یہ مدتِ خلافت اس وقت پوری ہوگئی جبکہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت کو ترک کیا۔ تیس سال بعد ملوکیت اور بادشاہت شروع ہوگئی۔ اس بنا پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بادشاہ  ہیں خلیفہ نہیں ہیں چنانچہ حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ  جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت ہو جانے کے بعد ان سے ملے تو اسلام علیک ایھا الملک کہ کر کا خطاب کیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا اگر آپ مجھے  امیر المومنین کہتے تو کیا حرج تھا؟

انہوں نے جواب دیا خدا کی قسم! جس طرح آپ کو حکومت ملی ہے اس طریقہ پر  اگرمجھے مل رہی ہوتی ہو  تو میں اس کا لینا ہرگز پسند نہ کرتا۔ حضرت معاویہ  خود بھی اس کو حقیقت سمجھتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے خود کہا تھا انا اول  الملوک ملک میں مسلمانوں کا پہلا بادشاہ ہوں۔  (خلافت و ملوکیت صفحہ 148، بارہ امام /علامہ غلام رسول جماعتی نقشبندی علیہ الرحمہ صفحہ 293)

قاضی شمس الدین جونپوری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اول ملوک اسلام ہیں۔(قانون شریعت (تخریج شدہ) صفحہ 70/مجلس مدینۃ العلمیہ دعوت اسلامی)اس سے ثابت ہوا کہ خلافت راشدہ تیس سال تھی وہ موت اس وقت پوری ہوگئی جب امام حسن رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے اس کے بعد بادشاہت شروع ہوگئی اس بنا پر حضرت معاویہ بادشاہ تھے خلیفہ نہیں تھے۔

آپ  رضی اللہ عنہ کا علم و فضل: یہ مسلمات سے ہے کہ حضرات آئمہ اہلبیت اطہار علیہم السلام کا علم لدنی ہوا کرتا تھا ۔ وہ دینا میں تحصیل علم کے محتاج نہیں ہوا کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ وہ بچپن میں ہی ایسے مسائل علمیہ سے واقف ہوتے تھے جن سے دنیا کے عام علماء اپنی زندگی کے آخری عمر تک بے بہرہ رہتےہیں ۔  آپ رضی اللہ عنہ  کا علم و فضل براہ راست نبوت و رسالت کا فیضان تھا لہذا آپ کے علم و فضل کی کوئی انتہا نہ تھی ۔ ابن سعد (متوفی 230ہجری)،  بلاذری (متوفی 279 ہجری) اور ابن عساکر (متوفی 571 ہجری) نقل کرتے ہیں کہ امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز مسجد نبوی میں پڑھتے تھے جس کے بعد سورج نکلنے تک عبادت میں مشغول رہتے تھے اس کے بعد مسجد میں حاضر بزرگان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بحث و گفتگو کرتے تھے۔ ظہر کی نماز کے بعد بھی آپ کی یہی معمول ہوتی تھی۔ (تاریخ مدینہ و دمشق/ ابن عساکر 13/241، الطبقات الکبرى/ ابن سعد 10/297،أنساب الأشراف/ بلاذری ، 3/21)

" امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں تشریف رکھتے تھے اور لوگ آپ کے اردگرد حلقہ بنا کر مختلف موضوعات پر آپ سے سوال کرتے تھے جس کا آپ جواب دیتے تھے۔ (الفصول المہمۃ /ابن صباغ مالکی علیہ الرحمہ 2/702)

چنانچہ علامہ ابن طلحہ شافعی بحوالہ تفسیر واحدی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس اورابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آیت سے متعلق ”شاہد و مشہود“ کے معنی دریافت کئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ  نے شاہد سے یوم جمعہ اور مشہود سے یوم عرفہ بتایا اور ابن عمرنے یوم جمعہ اور یوم النحر کہا اس کے بعدوہ شخص امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، آپ نے شاہدسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور مشہود سے یوم قیامت فرمایا اور دلیل میں آیت پڑھی’’ یاایہاالنبی اناارسلناک شاہدا ومبشرا ونذیرا‘‘’’اے نبی( صلی اللہ علیہ وسلم)  ہم نے تم کوشاہد و مبشر اورنذیربناکربھیجاہے  ذالک یوم مجموع لہ الناس وذالک یوم مشہود‘‘،’’ قیامت کاوہ دن ہوگا جس میں تمام لوگ ایک مقام پرجمع کردیے جائیں گے، اوریہی یوم مشہود ہے ‘‘سائل نے سب کاجواب سننے کے بعدکہا ”فکان قول الحسن احسن“  ،’’ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ  کا جواب دونوں سے کہیں بہترہے ‘‘۔ (مطالب السوال صفحہ 235)

تابعی بزرگ حضرت سیدنا ابوالحواری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا:آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث یاد ہے؟

فرمایا: یہ حدیث یاد ہے کہ ( بچپن میں) ایک مرتبہ میں نے صدقے (یعنی زکوٰۃ) کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر مُنہ میں ڈال لی تو نانا جان، حضور اکرم ﷺ میرے مُنہ سے وہ کھجور نکالی اور صدقے کی کھجوروں میں واپس رکھ دی۔

عرض کی گئی: صلی اللہ علیہ وسلم! اگر ایک کھجورانہوں نے اُٹھالی تو اس میں کیا حرج ہے؟

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اِنَّااٰلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ ہم آلِ محمد کیلئے صدقے کا مال حلال نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ 2/16)

ابن سعدیہ روایت کرتے ہیں کہ آپ کی شیریں کلامی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ کسی سے تکلم فرماتے توجی چاہتا کہ بس آپ اسی طرح سلسلہ کلام جاری رکھیں اور خاموش نہ ہومیں نے آپ کی زبان سے کبھی کوئی فحش بات نہیں سنی ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 395)

کرامات: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات امام حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔  حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اپنی ماں کے پاس جاؤ۔ میں نے عرض کیا کہ میں ان کے ساتھ جاتا ہوں۔ فرمایا نہیں۔  اچانک آسمان پر بجلی چمکی اس کی روشنی میں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اپنی والدہ کے پاس  گئے۔ (دلائل النبوۃ /امام ابو نعیم احمد عبداللہ اصفہانی علیہ الرحمہ صفحہ 487)

بعض مقامات میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ حج کے دنوں میں پیدل مکہ معظمہ جاتے تھے جس کے سبب آپ کے پائے مبارک پر ورم ہو جاتا تھا۔ آپ کے مدد گاروں میں سے ایک نے کہا، کاش آپ اتنی ہی دیر کے لئے سوار ہوجاتے کہ پاؤں کا ورم کم ہو جاتا ۔ آپ نے اس کی تجویز قبول نہ کی۔ اس سے کہا کہ جب تم منزل پر پہنچ جاؤ گے تو ایک سپاہی تمہیں ملے گا اس کے پاس کسی قدر تیل ہوگا۔ اس سے تیل خرید کر پیالے میں بھر دے۔ اس نے کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں،  میں نے کسی منزل میں ایسا شخص نہیں دیکھا جس کے پاس یہ دوا ہو، تو اس منزل میں کہاں ہوگا۔فرمایا تلاش کرنا مل جائے گا جب منزل پر پہنچے تو وہ سپاہی وہاں تھا ۔ آپ نے مددگار سے کہا کہ میں نے جس سپاہی کے بارے میں کہا تھا وہ موجود ہے جاؤ اور پیسے دے کر اس سے روغن خرید لو۔ جب خادم سپاہی کے پاس آیا تو روغن طلب کیا۔ اس نے کہا اے خادم! تم یہ تیل کس کے لئے خرید رہے ہو۔ خادم نے جواب دیا کہ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے خرید رہا ہوں۔ اس نے کہا مجھے ان کے پاس لے چل کہ میں ان کا طرف دار  ہو ں۔ جب وہ سپاہی آپ کی خدمت میں آیا تو عرض کیا کہ میں آپ کا طرفدار ہوں، پیسے نہیں لوں گا۔ البتہ میری بیوی دردزہ  میں مبتلا ہے آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی سالم اور تندرست بیٹا عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا اپنے ڈیرے پر واپس جاؤ۔ اللہ تعالی تمہیں ایسا ہی بیٹا عطا فرمائے گا جیسا تم چاہتے ہو۔ وہ میرے طرفداروں میں ہوگا۔ سپاہی اپنے ڈیرے پر آیا اور اس نے ایسا ہی دیکھا جیسا آپ نے فرمایا تھا۔ ( علامہ نورالدین عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ/شواہد النبوۃ صفحہ 302)

حضرت سیدناعمران بن عبداللّٰہ رضی اللہ عنہ  روایت ہے کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں کے درمیان قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَد لکھاہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ خوشخبری اپنے اہل بیت کو سنائی۔انہوں نے جب یہ واقعہ تابعی بزرگ حضرت سیدنا سعید بن مسیب  رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیاتو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:  اگرواقعی یہ خواب دیکھا ہے تو ان کی عمر کے چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ اس واقعے کے کچھ دن ہی بعد امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا۔                        (الطبقات الکبیر لابن سعد ج۶ ص۳۸۶ رقم۷۳۷۹)

شیخ الاسلام حضرت نظام الدین غریب یمنی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ سلطان المحققین مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ  فرماتے تھے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خوارق اور کرامات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان سب کابیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ آپ کو زہر دیا گیا تھا۔ وفات کے وقت امیرالمومنین حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے سرہانے میں موجود تھے۔ انہوں نے فرمایا، اے بھائی! آپ کا گمان کس شخص پر ہے کہ اس نے آپ کو زہر دیا ہے۔ آپ نے فرمایا تم یہ بات اس لئے دریافت کر رہے ہو کہ اسے قتل کر دو۔ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جس کے بارے میں میرا گمان ہےتو اس پر عذاب کا انتظار کرو اللہ تعالی سخت تر ہے میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کوئی بے گناہ میری وجہ سے مار دیا جائے ۔(البدایہ والنہایہ 11/207، سیر اعلام والنبلاء 3/273)

آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت 49ھ میں ہوئی۔ مہینے کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کتب میں ربیع الاوّل اور بعض میں صفر لکھا ہے۔لیکن ’’صفر‘‘ پر زیادہ مؤرخ متفق ہیں۔ تاریخ کے بارے میں بھی 7صفر یا 28صفر میں اختلاف ہے۔

آ پ رضی اللہ عنہ  کی نمازجنازہ حضرت سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے پڑھائی جو اس وقت مدینۃالمنورہ کے گورنر تھے۔حضرت سیدنا امام حسین  رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو جنازہ پڑھانے کے لئے آگے بڑھایا ۔      (الاستیعاب 1/442، الصواعق المحرقہ 476)

      آپ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں اس قدر جم غفیر (بھیڑ) تھا کہ حضرت سیدنا ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوا،آپ رضی اللہ عنہ کوجنت البقیع میں(اپنی والدۂ ماجدہ کے پہلو میں) دفنایا گیا، میں نے جنت البقیع میں لوگوں کا اس قدر ازدحام (بھیڑ) دیکھا کہ اگر سوئی بھی پھینکی جاتی تو (بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے )وہ بھی زمین پر نہ گرتی بلکہ کسی نہ کسی انسان کے سر پر گرتی۔ (الاصابۃج۲/۶۵، تاریخ الاسلام 1/345،تہذیب الکمال صفحہ 89) آپ کا مزار اقدس، جنت البقیع میں دیگرآئمہ اہلبیت اطہار واصحاب رسول  کی قبروں کے ساتھ ہے۔ جو آج بھی وہابیت کے ظلم وستم کا نشانہ بن کر ویران ہے۔

امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ اور دیگر آل و اصحاب کے مزارات کا انہدام : 1924عیسوی میں مکہ مکرمہ میں جنت المعلی میں ام المومینن حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء کرام، اولاد عظام اور دیگر پیاروں کے مزارات کو مسمار کر دیا گیا۔

1925عیسوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات شہزادہ رسول حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام شہزادیوں رضی اللہ عنہن،  عم رسول حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت حلیمہ سعدیہ  رضی اللہ عنہا، ام مولیٰ علی حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالی عنہا اور دیگر آل و اصحاب اور اہم شخصیات کے مزارات کو مسمار کیا گیا تو شہزادی رسول سیدہ نساء الجنہ حضرت فاطمہ زہرہ کے مزار اقدس کے ساتھ آرام فرما نواسہ رسول مصلح اعظم حضرت سید امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر ائمہ اہل بیت عظام  حضرت سیدنا امام زین العابدین، امام باقر، امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہم کے مزارات مقدسہ  کو منہدم کردیا گیا۔

 1925 عیسوی میں جنت البقیع کے انہدام بعد سید الشہداء حضرت امیر حمزہ  رضی اللہ عنہ اور دیگر شہدائے احد رضی اللہ عنہم کے مزارات اور دیگر کئی مزارات مقدسہ اور کئی تاریخی مساجد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے آل و اصحاب رضی اللہ عنہم کے یادگاروں کو مسمار کیا گیا۔

 1974عیسوی میں مسجد نبوی کی توسیع کرتے وقت دار نابغہ میں حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور چھ صحابہ کبار رضٰ اللہ عنہم کی قبروں کی کھدائی کی گئی بڑے بڑے ہندوپاک کے اخبارات کے مطابق سب اجسام تروتازہ اور خوشبودار تھے۔ جن کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا اور مارچ 1999 عیسوی میں ابوا شریف کی ایک پہاڑی پر ام رسول حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کی قبر مبارک پر بلڈوزر چلا کر مسمار کردیا گیا اور آثار کا مسمار کرنے کا قبیح اور گھنونی حرکت کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ (الخلفاء الراشدون/حضرت پیر محمد افضل قادری صفحہ 193)

دعا ہے کہ  اللہ سبحانہ وتعالیٰ وہ دن جلد لائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل و اصحاب رضی اللہ عنہم کے تمام مزارات اور یادگاریں پھر سے بحال ہوں۔


حضرت پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ

 


حضرت سیدنا خواجہ امیر ابوالعلاء علیہ الرحمہ


 قطب الواصلین حضرت سیدنا خواجہ امیر ابوالعلاء علیہ الرحمہ سلسلئہ ابوالعلائیہ نقشبندیہ کے امام کہلائے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا روحانی اویسی سلسلہ ہے جس میں دریائے فیض نقشبندیہ و دریائے فیض چشتیہ موجزن ہے اس لیے اس طریقیہ کو مجمع البحرین کہتے ہیں۔ تاریخ تصوف کے مطابق حضرت سیدنا سرکار خواجہ امیر ابوالعلاء علیہ الرحمہ کو بلا واسط حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فیض پہنچا تھا اس لیے آپکو اویسی علی مرتضیٰ بھی کہا جاتا ہے۔

ولادت باسعادت: حضرت خواجہ امیر ابوالعلاء علیہ الرحمہ کا سن ولادت 990 ہجری ہے۔

والدماجد: آپ کے والد کا نام سید ابووفا علیہ الرحمہ تھا اور آپ کے خاندان نےاکبر بادشاہ کے دور اقتدار میں سمرقند سے ہجرت فرماکر فتح پور سکری میں سکونت اختیار کی تھی۔ دربار اکبری سے آپ کے داد حضرت حضرت امیر عبد السلام علیہ الرحمہ کو وظیفہ بھی مقرر ہوا تھا ۔ ابھی آپ کم سن ہی تھے کہ آپ کے والد کا وصال ہوگیا اور پھر آپ اپنے داد کی ریر کفالت رہے۔ آپ کے داد کے وصال کے بعد آپ کی کفالت آپکے نانا حضرت خواجہ محمد فیض علیہ الرحمہ نے فرمائی جوہندوستان کےضلع برودان میں نظامت کے عہدے پر فائز تھے۔

تعلیم وتربیت:  آپ نے اپنے نانا کی نگرانی میں تفسیر، رقم الحدیث: فقہ، منطق، صرف و نحو میں اعلیٰ قابلیت حاصل کی اورفارسی زبان پر عبور حاصل کیا۔ ابھی جملہ علوم سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپ کے نانا کا بھی وصال ہوگیا جو ایک مہم میں شہید ہوئے تھے۔ راجہ مان سنگھ حضرت خواجہ امیر ابوالعلاء علیہ الرحمہ کی علمی و انتظامی قابلیت کا معترف تھا اس ہی لیے اس نے آپ کی نانا کی جگہ آپ کا تقرر کردیا۔

عہدہ نظامت کے فرائض آپ بخوبی انجام دیتے رہے۔ آپ دن میں فرائض منصبی کی انجام دہی اور رات عبادت میں گزارتے تھے۔ ایک رات آپ خواب میں حضور اکرم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضور اکرمﷺ نے آپ سے فرمایا اب اس دنیا کو چھوڑ دو ۔اس خواب کے بعد آپ کو دنیا سے نفرت ہوگی اور آپ نے نظامت کے عہدے سےسبکدوش ہونےکا مصمم ارادکرلیا اور خاصی شاہی مشکلات کے بعد اپنے اس عہدے سے مستفیس ہوگے۔

حضرت خواجہ امیر ابوالعلاء علیہ الرحمہ نے اپنا مال ومتاع راہ حق میں خیرات کیا اور عبادات و ریاضت وذکر و مراقبات میں مشغل رہنے لگے۔ ایک دن آپ مشغول مراقبہ تھے کہ حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ بصورت مثالی تشریف لائے اور آپ سے فرمایا کہ تمھارا حصہ خواجہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ پاس ہے جاؤاور ان سے اپنا حصہ پاؤ۔ آپ بحکم سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اجمیر شریف روانہ ہوئے اور خواجہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ کے مزار پر انوار پر حاضر ہوئے۔ دوران حاضری حضرت خواجہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ سے آپ کی بلمشافہ بصورت مثالی ملاقات ہوئی اور حضرت خواجہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ نے آپ کی جانب خصوصی توجہ مبذول فرمائی۔سلسلہ ابو العلائیہ میں اس توجہ کو توجہ عینی کہتے ہیں۔

آپ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے آستانے پر معتکف رہنے لگے۔ ایک رات کا واقعہ ہے کہ آپ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے مزار اقدس کا طواف کررہے تھے کہ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ بصورت مثالی جلوہ گر ہوئے اور ایک سرخ رنگ کی چیز جو دانہ تسبیح کے برابر تھی اپنی مٹھی میں بند کرکے آ کے دہن مبارک میں داخل کی، منہ میں اس متبرک دانے کو ڈالٹے ہی آپ کا قلب روشن ہوگیا اور جملہ حجابات اٹھ گئے۔حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ نے آپ سے فرمایا کہ اس دور حاضر میں سید زادے اور خواجہ زادے بہت ہیں مگر مشیت الہیٰ نے تم کو انتخاب کیا ہے اور اس نعمت سے تمہیں ممتاز فرمایا ہے جو سو سال یا پانچ سو سال بعد کسی بندے خاص کو عنایت ہوتی ہے۔پھریہ بھی ارشادفرمایا کہ بابا ہماری تمام عمر کی کمائی یہ ایک چیز تھی جو ہم نے تم کو دے دی اب تم اس پرنگاہ رکھنا۔ یہاں سے جو لینا تھا وہ تم نے لے لیا ہے اب مرتبہ فضیلت تم کو اپنے چچا بزرگوار حضرت خواجہ امیر عبد اللہؒ سے ملے گا ان سے بیعت کرؤ۔ حضرت خواجہ امیر ابوالعلاء علیہ الرحمہ نے حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ سے عرض کی کہ مجھے سارا فیض آپ سے پہنچا ہے اور ہمارے چچا محترم طریقہ نقشبندیہ میں ہیں وہ مجھے سماع کی اجازت نہیں دیں گے، جس پر حضرت خواجہ غریب نواز نے آپ سےفرمایا وہ تمہیں سماع کی اجازت دیں گے اور سلسلہ نقش بندیہ میں تم سے سماع جاری ہوگا ۔

حضرت خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کے حکم کے مطابق آپ اجمیر شریف سے اگرہ تشریف لائے اورحضرت خواجہ امیر عبد اللہ علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے دست حق پر بیعت ہونے کی سعادت حاصل کی۔حضرت خواجہ امیر عبد اللہ علیہ الرحمہ نے آپ کو سلسلہ نقشبندیہ میں داخل فرمایا اور بسہولت تمام منازل سلوک و مقامات طے کروانے کے بعد خرقہ خلافت سے سرفراز فرمایا اور آپ کو سلسلہ عالیہ کے تبرکات مقدسہ بھی تفویض فرمائے اور اپنی صاحبزادی سے عقد بھی کردیا۔ حضرت خواجہ امیر ابوالعلاء علیہ الرحمہ کا سلسلہ طریقت پانچ واسطوں بشمول حضرت شیخ خواجہ یعقوب چرخی علیہ الرحمہ سے ہوتا ہوا حضرت خواجہ خواجگان بہاؤالدین نقشبند بخاری نقشبندی علیہ الرحمہ سے جا ملتا ہے۔آپ کے شیخ طریقت حضرت سیدنا امیر عبداللہ نقشبندی احراری علیہ الرحمہ ایک باخدا شیخ طریقت اور قظب وقت تھے، ایک موقع پر آپ نے حضرت خواجہ امیر ابوالعلاء علیہ الرحمہ سے فرمایا، اے ابو العلیٰ جو کچھ تمھیں ملنا تھا وہ تو خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کی بارگاہ سے تمہیں مل گیا ہے اب تمہیں سماع کی بھی اجازت ہےکیونکہ یہ بھی جذبات الہیہ کی موجب پیدائش و افزائش ہے مگر سلسلہ نقشبندیہ کی اذکار و اشغال سے غافل نہ رہنا۔

آپ کو حضرت امیر عبداللہ نقشبندی احراری نے اپنی حیات میں ہی اپنا جانشین مقرر کردیا تھا۔ اپنے پیر ومرشد کے وصال کے بعد آپ ان کی مسند رشد وہدایت پر جلوہ افروز ہوئے۔ سلسلہ ابو العلائی میں تعلیم و تلقین وفیضان جذبات الہیہ سے لوگوں کو مشرف کیا جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں ایک خاص کیفیت ابو العلائی ہے جسے توجہ عینی دینا کہا جاتا ہے،یہ توجہ دیتے ہی سالک جذبات الہیہ سے معمور ہوجاتا ہے اور اپنی خودی کو در گزر کرکے باخدا ہوجاتا ہے۔

وصال مبارک: آپ علیہ الرحمہ کا 9 صفرالمظفر سن 1061ھ وصال ہوا اور آگرہ میں مدفون ہوئے۔ رسالہ فناوبقا" آپ کی ایک علمی یادگارہے۔ آپ علیہ الرحمہ کی وفات کےبعدآپ کےچھوٹےصاحب زادےحضرت امیرنورالعلیٰ آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔حضرت خواجہ محمدی عرف خواجہ فولاد علیہ الرحمہ ،حضرت ملاولی محمد علیہ الرحمہ ،حضرت لاڈ خاں علیہ الرحمہ ،حضرت میر سید کالپوری علیہ الرحمہ اور حضرت سیددوست محمدبرہان پوری علیہ الرحمہ کا شمار آپ کےمقتدرخلفاء میں ہوتا ہے۔اور آپ علیہ الرحمہ کے خلفاء سے ہی سلسلہ عالیہ کو عروج حاصل ہوا۔

حضرت سید میر عبد الجلیل چشتی علیہ الرحمہ

 

ولادت مبارکہ: عارف باللہ حضرت سید میر عبد الجليل چشتی ابن سیدنا میر عبد الواحد بلگرامی (مصنف سبع سنابل شریف) علیہما الرحمہ 20 رجب المرجب 972ھ مطابق 1565ء بروز جمعرات بوقت ظہر بلگرام شریف میں پیدا ہوئے۔

 تعلیم و تربیت بیعت و خلافت :عہد طفلی سے شبابی تک اپنے والد کریم سیدنا میر عبد الواحد علیہ الرحمہ  کے زیر سایۂ کرم رہے اور انہی سے اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کی مزید علم ظاہر و باطن میں کمال حاصل کیا اور اپنے والد حضرت سیدنا میر عبد الواحد علیہ الرحمہ  ہی سے بیعت ہوئے ساتھ ہی خلافت و اجازت سے بھی سرفراز کئے گئے۔

 گوشہ نشینی پھر مارہرہ میں جلوہ گری :علوم شریعت و طریقت کی تکمیل کے بعد آپ پر جزب عشق حقیقی کی عجب کیفیت طاری ہوئی اور اسی وقت گھر سے روانہ ہو گئے بارہ سال تک مختلف علاقوں کے صحرا و بیابان میں گشت کرتے رہے اور انہی ویران فضاؤں میں مصروف ریاضت و عبادت رہ کر خدا کو راضی کرتے رہے اور اپنی حیات طیبہ کا تقریباً نصف حصہ اسی عالم میں صرف کر دیا سیر کرتے کرتے "اترنجی کھیڑا" پہنچے یہ مارہرہ مطہرہ سے تقریباً چھہ میل پر جانب مشرق واقع ہے، اس خطے کا پس منظر یہ ہیکہ 582ھ میں جب سلاطین ہند کا زمانہ تھا تو وہ علاقہ بشکل قلعہ آباد تھا اور وہاں اس وقت راجہ بین کا پائے تخت تھا اور وہ دور بادشاہ شہاب الدین محمد غوری کا تھا سلطان غوری نے راجہ پرتھوی راج کو شکست فاش دینے کے بعد راجہ بین کو پیغام بھیجا کہ وہ اطاعت قبول کر لے اس نے انکار کیا اور سرکشی کی تب سلطان شہاب الدین نے سرنگ کے راستے سے داخل ہوکر زبردست حملہ کیا راجہ بین کو شکست دی اور اس کے مضبوط قلعہ کو مسمار کر دیا تھا اب وہ مقام صرف ایک کھیڑا (چھوٹی بستی) ہے اور وہاں عظیم المرتبت بزرگ حضرت سیدنا محمد حسین کا مزار ہے جنہوں نے اسی جنگ میں جام شہادت نوش فرمایا تھا، پھر 435 سال بعد جب حضرت میر عبد الجليل بلگرام سے مارہرہ تشریف لائے تو اولا انہی شہید بزرگ کے آستانۂ کرم کے قرب میں قیام پذیر رہے اسی جگہ پر حضرت سیدنا خضر علیہ السلام تشریف لائے اور آپ کو بشارت دی کہ "سید صاحب آپ قطب مارہرہ مقرر ہو گئے ہیں" اس زمانے میں محمد وزیر نامی شخص مارہرہ شریف کے چودھری اور قانون داں تھے اسی شب ان کے بخت کی معراج ہوئی کہ خواب میں رسول اعظمﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے رسول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا "اترنجی کھیڑا جاؤ ہمارے شہزادے اور اپنے قطب کو مارہرہ لے آؤ" چودھری محمد وزیر بعد فجر اترنجی کھیڑا کے لئے روانہ ہو گئے وہاں پہنچ کر حضرت بابرکت کی خدمت میں خواب بیان کیا اور عرض کی حضور اپنے قدوم میمنت لزوم سے ارض مارہرہ کو عزت و شرف بخشیں حضرت نے درخواست منظور کی اور 1017ھ میں مارہرہ شریف تشریف لے گئے اور وہ عہد جہانگیری تھا چنانچہ چودھری وزیر اور تمام لوگوں نے شاندار استقبال کیا عمدہ ضیافت کی اور چودھری وزیر و دیگر حضرات نے شرف بیعت بھی حاصل کیا اور آپ کے لئے مسجد اور خانقاہ تعمیر کی آپ نے وہیں مستقل قیام کیا اور خدمت دین و خلق میں مشغول ہو گئے۔

 جنات کے لشکر سے تاریخ ساز مقابلہ :حضرت سیدنا میر عبد الجليل علیہ الرحمہ  سے منسوب ایک مشہور واقعہ جو اسی اثنا میں پیش آیا اس کے تعلق سے شمس مارہرہ حضرت اچھے میاں مارہروی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف "آئینۂ احمدی" میں تحریر فرماتے ہیں : "ایک مرتبہ حضرت میر عبد الجليل علیہ الرحمہ  کے ایک مرید نے کسی آسیب زدہ کا علاج کرتے ہوئے اس آسیب کو جلا دیا اس کا تعلق جنوں کے ایک معزز گروہ سے تھا جس کے سبب جنوں نے اس مرید پر لشکر کشی کی مرید نے اپنے مرشد سیدنا میر عبد الجلیل کی پناہ اختیار کی جنات نے کہا ہم اپنے بھائی کے قاتل کا بدلہ چاہتے ہیں لہٰذا آپ اسے ہمارے سپرد کر دیں آپ نے فرمایا اس کا کوئی کام قابل تعزیر نہیں لہٰذا اس ارادے سے پھر جاؤ جنوں نے بار۔بار کہا ہم تو ضرور بدلہ لیں گے آپ نے فرمایا جب تم ناحق بدلہ لینے پر تلے ہو تو فقیر اپنے بے قصور مرید و متوسل کی حمایت کیوں نہ کرے۔؟ چلے جاؤ فقیروں سے الجھنا ٹھیک نہیں چنانچہ بحث طویل ہو گئی اور مقابلہ کی نوبت آ پڑی، حضرت میر عبد الجليل علیہ الرحمہ  نے پورے قصبہ میں اعلان کروایا کہ کل فقیر اور جنوں کا مقابلہ ہے تمام باشندگان بستی صبح سے نصف شب تک اپنے۔اپنے گھروں میں قیام پذیر رہیں اپنے مویشی کو بھی دروازے میں بند رکھیں جو بھی شخص یا جانور وقت مقرر میں مکان سے باہر آئے گا وہ نقصان اٹھائے گا سب نے حکم کی تعمیل کی بعد فجر مقابلہ شروع ہوا حضرت میر صاحب نے اپنی جانب سے دعائے سیف حرز یمانی اور مؤکلات حرز یمانی کو گروہ جن کے لئے مامور کیا شدید اور طویل مقابلہ کے بعد حضرت میر صاحب نے جنوں کے شرقی شہزادہ جلنبوش کو اس کے سولہ ساتھیوں کے ساتھ قید کر لیا جنوں نے رہائی کی مختلف تدابیر استعمال کیں مگر ناکام رہے جب کچھ نہ کام آیا تو جنوں کے چند معزز سردار پشیماں ہوکر حضرت میر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے معذرت طلب کی اور اپنے قیدیوں کی رہائی کے لئے نہایت منت و سماجت کی تو میر صاحب نے یہ معاہدہ کر لیا کہ آج سے ہم اور ہمارے متوسلین آپ کو اور آپ کے چاہنے والوں کو اور اسی طرح آپ اور آپ کے متوسلین ہمیں اور ہمارے چاہنے والوں کو کبھی پریشان نہیں کریں گے جس جگہ پر جس کا دخل پہلے سے ہو اور فریق ثانی کا کوئی شخص وہاں پہنچے تو اسے معاہدہ یاد دلایا جائے اگر تاہم نہ مانے تو تدابیر اختیار کی جائیں تاکہ قوم کے افراد بلا وجہ پریشان نہ کئے جائیں غرضیکہ اسی مصالحت پر معاملہ طئے پایا اور میر صاحب نے قیدیوں کو آزاد کر دیا آج بھی یہ دستور قائم ہے کہ خاندان برکات کے مشائخ یا فیض یافتگان جب کسی آسیب زدہ کا علاج کرتے ہیں تو پہلے اسے وہ معاہدہ یاد دلاتے ہیں اکثر تو معاہدہ یاد کرتے ہی فوراً اپنا دخل ختم کر دیتے ہیں اور بعض کو اس کی کچھ پروا نہیں ہوتی پھر عملیات، احضار اور حبس وغیرہ کے ذریعہ ان کو سخت سزا دے کر مریضوں کو شفایاب کیا جاتا ہے۔

 مزار سے متصل درخت کی حقیقت :سیدنا میر عبد الجليل علیہ الرحمہ  کے مزار کے سرہانے پیلو کا ایک درخت ہے اس کے متعلق حضرت حمزہ عینی علیہ الرحمہ اپنی مشہور تصنیف "کاشف الاستار" میں تحریر فرماتے ہیں خواجہ میر عبد الجليل چشتی علیہ الرحمہ  نے اپنی مسواک کو بعد استعمال جب وہ بہت چھوٹی ہو گئی تھی تو دفن کر دیا تھا اور حضرت میر صاحب اس میں روزانہ آب وضو ڈالا کرتے تھے حیات ظاہری تک وہ مسواک خشک ہی رہی لیکن بعد وصال اس میں شگوفہ پھوٹا اور کچھ ہی دنوں میں بشکل درخت ہو گیا آج بھی زائرین درگاہ اس کی پتیوں کو تبرکاً لے جاتے ہیں اس کی پتیاں خاص کر استقرار حمل اور دفعیۂ آسیب کے لئے مؤثر ثابت ہوتی ہیں بشرطیکہ عقیدت بختہ ہو اور نیت اچھی ہو، اسی کاشف الاستار میں تحریر ہے اس درخت کی پتیاں حضرت میر صاحب کی اولاد کے دست پاک سے حاصل کی جائیں لیکن حضرت اچھے میاں کے ایک مرید مولوی محمد افضل صاحب بدایونی اپنی کتاب "ہدایت المخلوق" میں لکھتے ہیں کہ جب میں نے اپنے مرشد سے اس کے فوائد اور طریقۂ استعمال کے بارے میں دریافت کیا تو مرشدی اچھے میاں نے فرمایا کہ پتی خادم درگاہ کی اجازت سے لی جائے اور فرمایا کہ چند پتی مل کر آسیب زدہ کو یہ کہتے ہوئے "اے آسیب! سید عبد الجلیل ترا دعا گفتہ و فرمودہ کہ اگر دانی دانی و گر ندانی بسزائے خود خواہی رسی" سنگھا دے ان شاء اللہ الرحمٰن فوراً آسیب کا دخل ختم ہو جائے گا۔"

 ازدواجی زندگانی :سیدنا میر عبد الجليل علیہ الرحمہ  نے بھی اپنے والد کی طرح دو شادیاں کیں پہلی زوجہ بلگرام شریف کی تھیں جن کے بطن اقدس سے چھہ پھول کھلے چار شہزادگان عالی مرتبت

(1) حضرت سید ابو الفتح

(2) حضرت سید اویس

(3) حضرت سید محمد

(4) حضرت سید احمد ابو الخیر اور دو شہزادیاں۔ (علیہم الرحمۃوالرضوان)

مارہرہ شریف میں مستقل سکونت کے بعد آپ اپنی شریک حیات کو بلگرام شریف سے مارہرہ شریف لے آئے تھے اور دوسری زوجہ بخاری سادات سے تھیں جب آپ مارہرہ شریف پہنچے تھے تب آپ نے ان سے عقد فرمایا تھا ان کے بطن پاک سے دو فرزند ارجمند تولد ہوئے دونوں جوان ہوکر طلب مولیٰ و تکمیل سلوک باطنی میں ریاضت شاقہ کرتے رہے جس سے ان پر انجزاب تام کی کیفیت طاری ہوئی اور اسی حالت میں اپنے والد ماجد کی طرح گوشہ نشین ہوکر مفقود الخبر ہو گئے۔

 سفر آخرت :سیدنا میر عبد الجلیل علیہ الرحمہ  کا وصال 8 صفر المظفر 1057ہجری  بروز دو شنبہ مطابق 1647ء کو مارہرہ شریف میں ہوا اپنی خانقاہ کے صحن مبارک میں دفن ہوئے آپ کا آستانہ "بڑی درگاہ" اور "بڑے سرکار" سے مشہور اور مرجع انام ہے۔ (بشکریہ کریم  پاشا سہرودی حفظہ اللہ )


حضرت خواجہ شیخ یحییٰ مدنی چشتی فاروقی علیہ الرحمہ

 

اسم گرامی: آپ  علیہ الرحمہ کا اسم گرامی محی الدین

لقب: یحییٰ مدنی

 کنیت: ابو یوسف علیہ الرحمہ  

والدماجد: آپ علیہ الرحمہ کے والد محترم کا اسم گرامی شیخ محمود علیہ الرحمہ

ولادت باسعادت: آپ علیہ الرحمہ کی ولادت بیس رمضان المبارک 1010 ہجری بمطابق 14 مارچ 1602ء بروز جمعرات کو احمد آباد انڈیا میں ہوئی۔

والدہ ماجدہ: آپ علیہ الرحمہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت بی بی رابعہ رحمۃ اللہ علیہا تھا جو شیخ تاج محمد عرف ملک تاجو علیہ الرحمہ کی دختر نیک اختر تھیں۔

آپ علیہ الرحمہ نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم و اشارہ سے احمد آباد سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ جا کر سکونت اختیار کی اس لیے آپ کو مدنی کہتے ہیں۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے دادا جان حضرت شیخ محمد بن حسن محمد علیہ الرحمہ  کے دست مبارک پہ بیعت ہوئے اور انہی سے ہی خرقہ خلافت حاصل کیا۔شجرةالانوار میں لکھا ہے کہ آپ نے تحصیل علوم کے بعد مرشد کامل کی تلاش شروع کر دی جونہی آپ کا اعتقاد حضرت شیخ محمد چشتی علیہ الرحمہ  پر راسخ ہوگیا تو ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہوگئے آپ کے مرشد نے ریاضتوں اور مجاہدوں کی تلقین کی تو آپ نے مسلسل روزے رکھنا شروع کر دیئے آپ تمام رات نوافل میں گذارتے شام سے صبح تک خوف خداوندی میں رات بسر کرتے ۔مرشد نے انہیں خلافت کا اہل خیال فرمایا تو اپنا خلیفہ اعظم بنا کر جانشین نامزد فرما دیا ۔ اور تمام لوگوں کو حکم دے دیا کہ اب جو شخص بیعت کا خواہش مند ہو وہ میری بجائے ان کی بیعت کر لیا کرے لیکن آپ کے مرشد جب تک زندہ رہے آپ نے از راہ ادب کسی شخص کو اپنا مرید نہیں بنایا ۔ البتہ جب حضرت مرشد وصال فرما گئے تو پھر دعوت اور بیعت کے سلسلے کا آغاز کر دیا ۔

شجرہ نسب :آپ علیہ الرحمہ  حضرت سیدنا  عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ہے آپ کا شجرہ نسب یوں ہےحضرت شیخ یحییٰ مدنی فاروقی بن حضرت شیخ محمود فاروقی بن حضرت شیخ حسن محمد فاروقی بن حضرت شیخ احمد میاں جیو فاروقی بن حضرت شیخ نصیرالدین ثانی فاروقی بن حضرت شیخ مجدالدین فاروقی بن حضرت شیخ سراج الدین فاروقی بن حضرت خواجہ کمال الدین فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ محمد فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ محمود بہ معروف شیخ ابراہیم فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ عبدالرشید بہ معروف شیخ رشید الدین فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ یعقوب فاروقی علیہ الرحمہ  (حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجشکر علیہ الرحمہ  کے چچا ) بن حضرت خواجہ شیخ سراج الدین بہ معروف قاضی شعیب فاروقی علیہ الرحمہ (حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ  کے دادا حضور)حضرت خواجہ شیخ محمد احمد فاروقی علیہ الرحمہ  بن حضرت خواجہ شیخ محمد یوسف فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ شہاب الدین احمد فرخ شاہ کابلی فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ نصیر الدین محمود فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ سلیمان فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ مسعود فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ عبداللہ بہ معروف واعظ الاصغر فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ ابو الفتح المعروف بہ واعظ اکبر فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ اسحاق فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ ابراہیم فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ ادہم فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ سلیمان فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ منصور فاروقی بن حضرت خواجہ شیخ ناصر فاروقی بن حضرت شیخ عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بن حضرت امیر المومنین سیدنا عمر فاروق ابن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ ۔یوں آپ کا شجرہ نسب خلیفہ دوم  حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے۔

کریم پاشاہ سہروردی قادری نواب غازی الدین خاں علیہ الرحمہ  نے اپنی مثنوی میں لکھا ہے کہ ایک رات آپ نے محفل سماع منعقد کرنے کا حکم دیا محفل میں بے شمار چراغ روشن کئے گئے اور مریدوں کی کثیر تعداد پروانوں کی طرح وہاں محفل نشین تھی محفل کافی دیر تک جاری رہی تو چراغوں کا تیل ختم ہونے لگا  آپ کے ایک مرید نے آپ کے کان میں آہستگی سے عرض کیا کہ حضرت چراغوں کا تیل ختم ہے اور یہ اب بجھنے والے ہیں۔ اب کیا کیا جائے ؟ آپ نے فرمایا کہ تیل کی بجائے ان میں پانی ڈال دو۔ لیکن یاد رکھنا کہ اس بات کی خبر کسی اور شخص کو نہ ہونے پائے۔ وہ خادم یہ بات چھپا نہ سکا اور اس نے بعض لوگوں کو بتلا دیا۔ تاہم پانی ڈالنے کے باوجود چراغ صبح تک روشن رہے، جب صبح لوگوں کو اصل حقیقت کا پتہ چلا تو لوگ دنگ رہ گئے۔ بات بھی مشہور ہوگئی ۔ کہتے ہیں کہ اس کرامت کی تشہیر سے آپ اس قدر مغموم ہے کہ چالیس دن تک پریشان رہے ۔

شجرةالانوار اور نواب غازی الدین علیہ الرحمہ  کی مثنوی میں مذکور ہے کہ آپ پہلے احمد آباد میں قیام فرما تھے لیکن اپنے مرشد سے بیعت کرنے کے بعد آپ کے دل میں حج اور روضہ اطہر کی زیارت کا شوق پیدا ہوا چنانچہ حضرت مرشد کی رحلت کے بعد آپ سفر حج کےلئے مکہ مکرمہ گئے اور پھر وہاں سے مدینہ منورہ میں حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری دی ۔ آپ کو اس جگہ سے اس قدر انس پیدا ہوا کہ وہیں مدینہ منورہ میں ہی مستقل اقامت اختیار کر لی ۔حضرت خواجہ شیخ یحییٰ مدنی علیہ الرحمہ  کی اولاد بے شمار تھی جو کہ احمد آباد انڈیا میں رہتی تھی۔ آپ اپنی زندگی کے آخری چودہ سال مدینہ منورہ میں رہے ۔

خلفائے کرام : آپ علیہ الرحمہ کے خلفاء بے شمار تھے مگر آپ کے مشہور ترین خلیفہ حضرت شیخ کلیم اللہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ  ہیں جن سے  سلسلہ عالیہ چشتیہ آگے چلا۔

وصال مبارک: آپ علیہ الرحمہ  کا وصال 28 صفر المظفر 1122ھ بمطابق اٹھائیس اپریل 1710ء کو رات کے تیسرے پہر کے آخری حصے میں ہوا۔ فجر الاولیاء میں 1101ہجری 1689ء لکھا ہے مگر پہلی تاریخ زیادہ صحیح ہے۔ آپ کی قبر مبارک مدینہ شریف میں جنت البقیع میں حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کے قریب ہے ۔ (بشکریہ کریم پاشاہ سہروردی قادری حفظہ اللہ)