حضرت
سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ
الرحمہ
پیدائشی نام : الناصر ابو المظفر صلاح الدين والدنيا يوسف
بن ايوب بن شاذی بن مروان بن يعقوب الدوينی التكريتی
پیدائش: 569 ہجری بمطابق 1138 عیسوی
والدماجد: نجم الدین ایوب
والدہ ماجدہ: ست الملک خاتون
بھائی:توران شاہ بن ایوب، ملک عادل، سیف الاسلام
طغتکین
بہن: ربیعہ خاتون، ، فاطمہ خاتون
خاندان:ایوبی سلطنت
زوجہ:عصمت الدین خاتون
اولادیں:الافضل بن صلاح الدین، العزیز عثمان، الظاہر
غازی
تعلیم و تربیت : حضرت
صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ تکریت کے ایک قلعہ میں پیدا ہوئے تھے، گو کہ ان
کی تربیت مکمل فوجی ماحول میں ہوئی لیکن ان کی ہمیشہ کی ایک ہی خواہش تھی کہ وہ
ایک عالم بنیں اور ہوتی بھی کیوں نہ کہ اس زمانے کے سب سے بہترین انسان نورالدین
زنگی نے ان کی تربیت خود کی تھی۔آپ نے کم عمری ہی میں قرآن کریم حفظ کر لیا تھا
اور آپ خود اہلسنت و جماعت اورشافعی صوفی تھے۔
تاریخ اسلام میں ہے کہ "شیرکو ہ اور صلاح الدین دونوں امام شافعی رحمۃ
اللہ علیہ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے ۔ صلاح الدین ایوبی نے شیعہ قاضیوں کو موقوف
کرکے شافعی قضاۃ مامور کیا ۔ مدرسہ شافعیہ اور مدرسہ مالکیہ کی بنیاد رکھی ۔"
(تاریخ اسلام جلد دوم صفحہ 722)
فیضان غوث الاعظم حضرت شیخ
عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ : ایک بار حضرت نجم الدین ایوب بغداد معلیٰ حاضر ہوکر اپنے دس سالہ بیٹے حضرت
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی رضی
اللہ عنہ کی خدمت بابرکت میں پیش کردیا اور عرض کی کہ یا سیدی یا مرشدی ! اس بچے
کے سرپر اپنا نورانی ہاتھ رکھ دیں اور اس کے لئے دعا فرمادیں کہ یہ اسلام کا عظیم
مجاہد اور فاتح بنے ۔ چنا نچہ حضور غوث الاعظم نے اس بچے کے سر پر دست مبارک پھیرا
اور دعا فرمائی اور پھر ارشاد فرمایا کہ " یہ بچہ تاریخ عالم کی ایک عظیم
نامورشخصیت ہوگااور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے بہت بڑی اسلام کی فتح کرائے
گا۔" (حیات المعظم فی مناقب سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ صفحہ 152- 154 ) و (اسلامی معلومات کا انسائیکلوپیڈیا صفحہ 443)
چنانچہ پھر دنیا نے دیکھا کہ حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی جو سلطان نورالدین
زنگی کی افواج میں ترقی پاکر جرنیل بنے اور پھر صلیبی جنگوں کے دوران سلطان
نورالدین کی اچانک وفات کے بعد سلطان بنائے گئے اور پھر سلطان بن جا نے کے بعد
حضرت سلطان صلاح الدین ایو بی نے عظیم کارنامے انجام دئے وہ تاریخ اسلام کا زریں
باب ہیں۔یہ سب کچھ سید نا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی شان
کرامت اور دعاؤں کا نتیجہ تھا۔
اسی طرح جس زمانے میں سلطان صلاح الدین ایوبی شام میں فتوحات حاصل کررہے تھے
اس وقت مسلم دنیا میں کوئی بھی ان کے پائے کا حکمراں نہیں تھا گوکہ حضرت سلطان
شہاب الدین غوری علیہ الرحمہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہم عصر تھے مگر وہ
ہندوستان میں فتوحات حاصل کررہے تھے ۔ وہ پہلے افغان مسلمان سپہ سالار تھے جنہوں
نے پرتھوی راج چوہان کو شکست دے کر دہلی پر پہلی اسلامی حکومت قائم کی ۔ آپ کا یہ
دور سلطان الہند عطائے رسول خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری
رضی اللہ عنہ کادور ہےاور خودسلطان غوری بھی حضرت خواجہ غریب نواز سے فیض لیا کرتے
تھے۔ (تاریخ اسلام)
مسلمان غازیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جہاں ا ن کی جنگی فتوحات اور جنگی
حکمت عملی کا ذکر ہوتاہے ، وہیں یہ پہلوبھی باربار ہمارے سامنے آتاہے کہ ان غازیوں
کے شخصیت میں ایک پراسرارروحانی جہت بھی تھی ۔ یاد رہے کہ حضرت نورالدین زنگی علیہ
الرحمہ کا حضور ﷺ سے قریبی روحانی تعلق تھا یہ حضور کافیضان تھا کہ پوری دنیا سے
صرف انہی کو مدینہ منورہ کی مہم کے لئے منتخب کیاگیا چنانچہ اس کا ذکر آگے کیا
جائے گا۔یہ ایک غیرمعولی روحانی پہلو ہے کہ جس کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا
جاسکتا ۔وہ تمام مسلمان جرنیل ،غازی، اور حکمراں کہ جنہوں نے تاریخ میں نئے باب
رقم کئے ۔ ان سب میں یہ پر اسرار روحانی پہلو نظر آتی ہے ۔اللہ اور اس کے رسول سے
ان کا روحانی تعلق کبھی ظاہر ہوتاہے اور کبھی پوشیدہ ہی رہتاہے لیکن یہ پہلو اِ ن
سب میں موجود ضرور ہوتا ہے۔یہی وہ عنصر ہے جوکہ ان کو پراسرار بناتا ہے اور یہ
مافوق الفطرت وجود معلوم ہوتےہیں اور ایسے ایسے جنگی کارنامے انجام دیتےہیں کہ عقل
دنگ رہ جاتی ہے۔یہ روحانی پہلو ہمیں غازی کے وجود میں نظر آتی ہےچاہے وہ امیر حمزہ
، حضرت عمر فاروق اعظم، عمر بن عاص، قتیبہ بن مسلم، سعد بن ابی وقاص، سعد بن زید
،عتبہ بن نافع، خالد بن ولید ، سلطان نورالدین زنگی الحنفی ، موسیٰ بن
نصیر،عمادالدین زنگی ،سلطان صلاح الدین ایوبی ، طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم ، سلطان
محمد غزنوی الشافعی ، عمر المختار المالکی ، عبدالقادر الجرائری المالکی ، عمر
المختار المالکی ،ناصرالدین محمود ، یوسف بن تاشقین مالکی، الپ ارسلان ، سلطان محمد فاتح الحنفی ، اما م شامل
الحنبلی نقشبدی ،الشیخ عزالدین قسام الشافعی ، خیرالدین باربروسہ وغیرہ بھی ایسے
ہی پراسرار مجاہد تھے جن کی تلوار سے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے دفاع کا کام لیا
ہے اور ان کو یہ توفیق بخشی ہے حضور ﷺ کی خاص الخاص خدمت کرسکیں۔ اس کے بعد اس شخص
کی خوش نصیبی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔
جب قائد اپنے بلند مقام پر ہو کہ ان کے ہرکام کی نگرانی خود ارسول اعظم
فرمارہے ہوں تو پھر قدرتی امر ہے کہ وہ اپنے پروں کے سائے میں ایسے شہباز فتح ہی
ملے گی ۔
یہاں پر ایک عجیب و غریب واقعہ رو نما ہوتا ہے ۔ سلطان کی فوج میں ہمیشہ بھاری
تعداد میں امت مسلمہ کے علماء عظام ،مشائخ کرام، درویش، فقراء اور صوفیاء شامل ہوا
کرتے تھے اور ان کا کام دعائیں کرنا اورمجاہدین کے حوصلہ بڑھانا ہوتا تھا اور
ضرورت پڑنے پر سلطان ان سے فتویٰ بھی لیا کرتے تھے ۔ لیکن یہ علماء ، مشائخ
،صوفیاء، فقراء اور درویش کبھی بھی خود تلوار ہاتھ میں لے کر جنگ نہیں کرتے تھے ان
کے علم ، مقام اور مرتبے کی وجہ سے ان کو ایک الگ مقام حاصل تھا اور ان کا زیادہ
تر وقت فوج کی اخلاقی و روحانی تربیت اور دعاؤں میں گزرتاتھا۔سلطان ایوبی ان کا
خاص خیال رکھتے تھے اور فوجیوں میں بھاری اکثریت حضور سیدنا غوث الاعظم شیخ
عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے تلامذہ کی تھی۔ جو علماء اور فضلاء تھے اور باقی
کچھ مدرسہ نظام الملک (جو حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی )کے مدرسےکے تھے اور جو چیف
ایڈوائزر تھے جن کا نام امام موفق الدین ابن قدامہ المقدسی الحنبلی ہیں وہ
سیدناسرکار غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی الحنبلی رضی اللہ عنہ کے شاگرد ، مرید
اور خلیفہ ہیں ۔ یہ جو تاریخ میں سنہرہ باب حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی نے رقم کی
وہ روحانی فیض حضور سیدنا سرکار غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا تھا۔
ابتدائی دور: سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ شروع میں وہ
سلطان العادل حضرت نورالدین زنگی الحنفی علیہ الرحمہ کے یہاں ایک فوجی افسر تھے۔
مصر کو فتح کرنے والی فوج میں صلاح الدین بھی موجود تھے اور اس کے سپہ سالار شیر
کوہ صلاح الدین ایوبی کے چچا تھے۔ مصر فتح ہو جانے
کے بعد صلاح الدین کو 564ہجری میں مصر کا
حاکم مقرر کردیا گیا۔ اسی زمانے میں 569ہجری میں انہوں نے یمن بھی
فتح کرلیا۔ حضرت نور الدین زنگی علیہ الرحمہ کے انتقال کے بعد صلاح الدین ایوبی
علیہ الرحمہ نے حکومت سنبھالی۔
آپ علیہ الرحمہ کے طور طریقے اور ادب و آداب: مؤرخین لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین ایوبی ایک
ایسا عظیم حکمران تھا جو میدانِ جنگ میں قہر برپا کرنے والا ایک بہادر جنگجو تو
تھا لیکن وہ ایک رحم دل انسان بھی تھے۔ صلاح الدین نمازِ پنجگانہ کا پابند
اور نفلی عبادت گزار تھے۔ اس نے کبھی کوئی نماز نہ چھوڑی اور نہ قضا کی۔اس کے ساتھ
ہمیشہ ایک امام موجود ہوتے تھے اور اگر کوئی امام نہ ہوں تو کسی عالمِ دین کے
پیچھے نماز ادا کرلیتےتھے جو وہاں موجود ہوتے تھے۔
صلاح الدین نے ساری زندگی جو کچھ کمایا اس کا بیشتر حصہ صدقے و خیرات میں خرچ
کردیا اور کبھی وہ اتنی دولت جمع ہی کر پایا کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے۔ صلاح الدین کی
ایک بڑی خواہش تھی کہ وہ حج ادا کرے لیکن وہ جہاد میں اس حد تک مصروف رہے کہ اس کے
پاس اتنی رقم ہی جمع نہ ہوسکی کہ وہ حج کرسکے اور اس کے بغیر ہی انتقال کرگئے۔آپ ہر
پیر اور جمعرات کو ایک اجلاس منعقد کرتے تھے جس میں بیٹھ کر عوام کی فریاد اور
تکالیف سنی جاتیں۔اس محفل میں قانون دان٬ قاضی صاحبان اور عالمِ دین بھی شرکت کرتے
تھے- صلاح الدین نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کی مدد کرنے میں کوتاہی نہیں برتی آپ نے
کبھی بھی کسی سے بدکلامی نہیں کی اور نہ ہی اپنی موجودگی میں کسی اور کو کرنے دی۔
اپنی پوری زندگی میں ان نے کبھی کوئی تلخ بات نہیں کی اور نہ ہی کبھی کسی مسلمان
کے خلاف اپنے قلم اور تلوارکو استعمال کی٬ جب بھی کوئی یتیم آپ کے دروازے پر آیا آپ
نے بہت شفت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ،ان کوا پنےمال سے حصہ بھی دیا کرتے تھے ۔ حضرت نور الدین زنگی علیہ الرحمہ کی طرح آپ کی
زندگی بھی بڑی سادہ تھی۔ ریشمی اور قیمتی کپڑے کبھی استعمال نہیں کئے اور رہنے کے
لئے محل کی جگہ معمولی سا مکان ہوتا تھا۔
قاہرہ پر قبضے کے بعد جب آپ نے فاطمی حکمرانوں کے محلات کا جائزہ لیا تو وہاں
بے شمار جواہرات اور سونے چاندی کے برتن جمع تھے ۔ آپ نے یہ ساری چیزیں اپنے قبضے
میں لانے کے بجائے بیت المال میں داخل کرادیں۔ محلات کو عام استعمال میں لایا گیا
اور ایک محل میں عظیم الشان خانقاہ قائم کی گئی۔فاطمیوں کے زمانے میں مدرسے قائم
نہیں کئے گئے شام میں تو نور الدین کے زمانے میں مدرسے اور شفاخانے قائم ہوئے لیکن
مصر اب تک محروم تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے یہاں کثرت سے مدرسے اور شفاخانے قائم
کئے ۔ ان مدارس میں طلبا کے قیام و طعام کا انتظام بھی سرکار کی طرف سے ہوتا تھا۔قاہرہ
میں آپ علیہ الرحمہ کے قائم کردہ شفاخانے کے بارے میں ایک سیاح ابن جبیر لکھتا ہے
کہ یہ شفاخانہ ایک محل کی طرح معلوم ہوتا ہے جس میں دواؤں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے ۔
اس نے عورتوں کے شفاخانے اور پاگل خانے کا بھی ذکر کیا ہے ۔ آپ کے تمام عظیم
کارناموں میں ایک کارنامہ یہ بھی ہےجو صاحب المدائح النبویہ فرماتے ہیں کہ "فاطمی
خلافت میں رائج بری رسومات کو اور شخصی میلاد کو ختم کرکے صلاح الدین ایوبی (رحمۃ
اللہ علیہ) نے صرف اورصرف میلاد مصطفیٰ علیہ التحیہ والثنا کا انعقاد رائج ٹھہرایا
اور صوفیا ء کے لئے خانقاہوں کی تعمیر کی ۔(المدائح النبویہ صفحہ 100 ازالدکتور محمود علی مکی)
ولی اللہ کی بشارت :آپ کو علماء ، فقراء ، درویش اور مشائخ عظام
سے بے حد محبت تھی اور انکے دعائیں لئے بغیر کو ئی بھی کام نہ کرتے تھے اور ہر کام
کی شروعات بعدنماز جمعہ کیا کرتے تھے۔
صلاح الدین کا عشق رسول صلی
اللہ علیہ وسلم: ایک دفعہ حاکم مدینہ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو ایک تحفہ بھیجا۔لانے والے
نے کہا کہ حاکم مدینہ نے آپ کے لئے ایک ایسا خاص تحفہ بھیجا ہے جو آج تک شائد آپ
کو کسی نے نہ دیا ہو۔ سلطان نے جب اس تحفے کے لحاف کو کھولا تو اس میں کھجور کے
پتوں کا بنا ہواایک پنکھا تھا۔ سلطان نے لانے والے سے پوچھاکہ اس میں کیا خاص بات
ہے؟
جو تم لوگ اتنی دور سے میرے لئے یہ
پنکھا لے کر آئے ہو۔
تحفہ لانے والوں نے کہا کہ حضور اتنی جلدی نہ کیجئے ۔ ذرا اس کے دوسری طرف کی
عبارت پڑھ لیجئے۔ سلطان نے پنکھے کو جب دوسری طرف الٹا تو اس پر لکھا تھا۔
کہ" یہ پنکھا حاکم مدینہ کی طرف سے سلطان کے لئے ایک خاص تحفہ ہے جو کہ اس کھجور
کے پتوں سے بنایا گیا ہے جوبالکل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور کے
ساتھ متصل ہے۔"
سلطان نے جب یہ پڑھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے۔اور پنکھے کو چوم
کراپنے سر پر رکھا اور درود شریف پڑھ کر کہنے لگا۔ کہ واقعی اس سے پہلے آج تک کسی
نے مجھے ایسا تحفہ نہیں دیا۔
عظیم جنگی کارنامے:یہاں کچھ اور بھی عظیم کارنامے ہیں جنہیں
سلطان علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں کے دوران سرانجام دیا اور شاید چھ
برس سے زائد نہ ہوں گےاور یہ مختلف النوع کامیابیوں سے بھر پو ر ہیں اور وہ یہ ہیں
:فتح بیت المقدس ، حماۃ، بعلبک،قلعہ عزاز،قلعہ البیرہ، قلعہ شقیف، بیسان، رُہا،
حران، رقہ، بلادخاربور، بزریہ، قلعہ طرطوس ، دربساک، نفراس، انطاکیہ، قلعہ کوکب،عسقلان،
بکاس، شغر، سرمین،نصیبین، تل خالد،عتناب، طبریہ ، الناصرۃ، ارسوف، ہونین، جبلہ ،
انطرطوس، الاذقیہ، حص، عنصری، حصن الغازریہ، البرج الاحمر، حصن الخلیل،تل الصافیہ،
قلعہ الحبیب الفوقانی، الحبیب التحتانی، الحصن الاحمر، لد، قلنوسہ، القاقون،
قیمون، الکرک، حلب، قلعہ حارم، میارفارقین، قلعہ الشوبک، قلعہ السلع، الوعیرۃ،
قلعہ الجمع، قلعہ الطفیلہ،طبریہ، عکا، قلعہ الھرمز، صفد، حصن بازو، حصن اسکندرونہ
صور اور عکاکے ما بین، قلعہ ابی الحسن، بالائی ساحل پر ایک شہر، المرقید، حصن
یحمور (جبلہ اور مرقب کے مابین) ، بلنیاس ، محیون، بلانس، حص الجماہریہ، قلعہ
ایسذو ، بکسرائیل، انسرمانیہ، قلعہ برزیہ، طبریہ ، دربساک (انطاکیہ کے قریب)، حیفا،
نابلس، تنین ، صیدام بفراس (ارض بیروت میں) الدامور (صیدا کے نزدیک)، السوفند اس
کے علاوہ اور بھی ہیں جنکے نام کچھ کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔( تاریخ ابن خلدون، ایوبی کی یلغاریں صفحہ 79)
حضرت سلطان ایوبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " میرے دل میں یہ بات آتی ہے
کہ ساحل کے بقیہ علاقے اللہ تعالیٰ کب فتح کروائے گا!!! میں جب پورے ملک میں بنظر
غائر دیکھتاہوں تو دل میں یہ بات اٹھتی ہے کہ لوگوں کو خیرباد کہوں ..... گھنے
جنگلوں تک پہونچوں.....سمندر کی پشت پر سوار ہوکر .....ایک ایک جزیرہ تک پہونچوں
.....زمین کا ایک ایک چپہ تلاش کروں ..... روئے زمین پر اللہ تعالیٰ اور اس کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخی کرنے والوں کو زندہ باقی نہ رکھوں .....
یا پھر میں خود شہید ہوجاؤں۔
وصال پرملال:
مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب حضرت سلطان صلاح الدین
ایوبی علیہ الرحمہ فاتح بیت المقدس، فلسطین، شام ، یمن ، لبنان ، اردن، عراق، مصر ،حجاز
،بصریٰ ،دمشق ،حمص کا جب وصال ہوا تو ان کے کفن کےلئے قرض حاصل کرکے ان کی تدفین
کا انتظام کیا گیا حتی کہ اور لکڑیاں تک جو قبر میں لگیں قرض پر منگوائی گئیں۔ان
کی وصال کے بعد جب ذاتی مال و ملکیت کا حساب کیا گیا تو ایک گھوڑا، ایک تلوار، ایک
زرہ ، اور 36 چھتیس درہم کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا ۔ آپ شدید خواہش کے باوجود حج نہ
کرسکے کیونکہ کے حج کے لئے رقم نہ تھی۔27 صفر المظفر 589ہجری کی صبح کا ستارہ افق
نمودار ہوا تو سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ کی نبضیں ڈوب رہی تھیں ۔حضرت
شیخ ابوجعفرعلیہ الرحمہ نے سکرات موت کے آثار محسوس کرکے سورۃ حشر کی تلاوت شروع
کی جب آیت ھواللہ لا الہ الا ھو عالم الغیب
پر پہونچے تویکایک سلطان نے آنکھیں کھول دیں مسکرائے
اور تبسم ریز لہجےمیں کہا "سچ ہے"یہ کہہ کر ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند
کرلیں ۔
شیخ ضیاء الدین ابوالقاسم عبدالمالک نے غسل دیا اور قلعہ کے باغ کی بارہ دری
میں عصر کے وقت اسی مقام دفن کردیا ۔جہاں انہوں نے انتقال فرمایا تھا ، جوتلوار
جہادوں میں ان کے زیب کمرتھی ان کے برابر میں رکھ دی گئی اور اسے وہ جنت میں اپنے
ساتھ لے گیا ۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب حضرت سلطان
صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ فاتح بیت المقدس، فلسطین، شام ، یمن ، لبنان ، اردن،
عراق، مصر ،حجاز ،بصریٰ ،دمشق ،حمص کا جب وصال ہوا تو ان کے کفن کےلئے قرض حاصل
کرکے ان کی تدفین کا انتظام کیا گیا حتی کہ اور لکڑیاں تک جو قبر میں لگیں قرض پر
منگوائی گئیں۔ان کی وصال کے بعد جب ذاتی مال و ملکیت کا حساب کیا گیا تو ایک
گھوڑا، ایک تلوار، ایک زرہ ، اور 36 چھتیس درہم کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا ۔ آپ شدید
خواہش کے باوجود حج نہ کرسکے کیونکہ کے حج کے لئے رقم نہ تھی۔
لوگوں ہر اس قدر ہجوم الم تھا کہ ان کی زبانیں گنگ ہوگئی تھی ۔ دبن کے بعدہر
شخص گھر چلا گیا اور ماتم میں مکان کے دروازے بند کرکے بیٹھ رہا ۔ صرف خاموشی اور
سنسان سڑکیں بتاتی تھیں کہ لوگوں پر کس قدر عظیم صدمہ گزراہے ۔
· طبیب
عبداللطیف نے لکھا ہے کہ " اس کے علم میں صرف اسی ایک سلطان کی نظیر ہے ۔جس
کے لئے واقعی رعایا نے ماتم کیا "۔
· مورخ
ابن خلکان کے مطابق ”ان کی وفات کا دن اتنا تکلیف دہ تھا کہ ایسا تکلیف دہ دن
اسلام اور مسلمانوں پر خلفائے راشدین کی موت کے بعد کبھی نہیں آیا“ ۔
· سلطان العادل
حضرت نورالدین زنگی الحنفی علیہ الرحمہ اپنے دورحیات میں فرمایا کرتے تھےکہ اسلام
کو ہر دور میں ایک صلاح الدین ایوبی (علیہ الرحمہ) کی ضرورت ہوگی ۔
· انگریز
مؤرخ لین پول نے بھی سلطان کی بڑی تعریف کی ہے اور لکھتا ہے کہ ”اس کے ہمعصر
بادشاہوں اور اس میں ایک عجیب فرق تھا۔ بادشاہوں نے اپنے جاہ و جلال کے سبب عزت
پائی اور انہوں نے عوام سے محبت اور ان کے معاملات میں دلچسپی لے کر ہردلعزیزی کی
دولت کمائی“۔
· مشہورمؤر
خ ولیم آف ٹائر نے سلطان کی شان میں کہا ہے کہ بے مثال ذہانت کاحامل ، دوران جنگ
ایک برق رفتار وجود اور انسان کی توقع سے بھی زیادہ شریف اورکریم النفس۔
· مشہور
انگریزداں دانتے نے کہا ہے صلاح الدین کی ذات ایسی منفرد اور عظیم الشان ہے کہ جس
کو دیکھ کر میں بھی اپنے انسان ہونے کو فخر کرسکتاہوں۔
(بحوالہ : سلطان صلاح
الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ / اٰلِ رسول احمد الصدیقی الحنفی کٹیہاری حفظہ
اللہ)

