حضرت مخدوم شاہ صفی چشتی علیہ الرحمہ

 

صفی پورضلع اناؤ کاقدیم ترین قصبہ ہے،جوانائو سے ۲۷؍کلومیٹر جانب مغرب واقع ہے اوراناؤ شمالی ہندکے کثیرآبادی والے صوبہ اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے جانب جنوب ۶۴؍کلومیٹر کی دوری پرواقع ہے۔ اس قصبہ کاپرانانام ’’سائیں پور‘‘ تھا۔

آٹھویں صدی ہجری میں ایک درویش کامل حضرت مولانا شیخ اکرم عثمانی سہروردی قدس سرہ (م ۷۹۵ھ/ ۱۳۹۳ء) یہاں تشریف لا ئے، جن کی کاوشوں سے اس خطے میں شمعِ توحید روشن ہوئی۔ آپ کی تیسری پشت میں مخدوم شاہ صفی قدس سرہٗ کی ولادت ہوتی ہے، جن کے نامِ نامی سے موسوم ہوکر یہ قصبہ سائیں پور سے صفی پور ہوگیا۔ مخدوم صاحب کی ولادت نویں صدی کے آخری رُبع تقریباً ۸۸۰ھ / ۱۴۷۵ء میں ہوئی۔ 

خاندانی پس منظر: آپ کا نام نامی  عبدالصمد اور عرفیت صفی ہے۔ والد ماجد مولانا شیخ عَلَم الدین بن شیخ زین الاسلام عثمانی کا شمار اُس عہد کے نامور مشائخ میں ہوتا تھا۔ آپ کے آباء واجداد ظاہری وباطنی خوبیوں کے جامع اورفقرودرویشی کے امین تھے اور طریقۃً سہروردی نسبت کے حامل بزرگ تھے۔ مولانا شیخ علم الدین کو اپنے والدبزرگوار حضرت شیخ زین الاسلام قدس سرہ سے اجازت و خلافت تھی جن کو اپنے والد ماجد حضرت مولانا شیخ اکرم سہروردی قدس سرہٗ (۷۹۵ھ / ۱۳۹۳ء) سے اجازت و خلافت تھی اور انہیں روحانی نعمت اپنے والد مولانا شیخ علی قدس سرہٗ سے حاصل ہوئی۔

نسب نامہ: آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ سوم امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ دستیاب اسما درج ذیل ہیں: حضرت مخدوم شیخ عبدالصمد عرف شاہ صفی بن مولانا شیخ علم الدین بن شیخ زین الاسلام بن شیخ اکرم بن شیخ علی بن شیخ نور بن شیخ عبد اللہ قدَّس الله أسرارهم( راقم کودست یاب نہ ہوسکا۔)

تعلیم وتربیت : ابتدائی تعلیم والد ماجد مولانا شیخ علم الدین قدس سرہ کے زیر سایہ صفی پور میں ہی ہوئی۔ ۱۲ - ۱۳ سال کی عمر میں خیرآباد تشریف لے گئے اور وارثُ الانبیاء والمرسلین مخدوم شیخ سعد الدین خیر آبادی قدس سرہ (م: ۹۲۲ھ /۱۵۱۶ء)کے مدرسے میں حاضر ہوئے اور حصول تعلیم میں مصروف ہو گئے ۔ ایک روز قطب العالم مخدوم شیخ سعد قدس سرہٗ کی نظر آپ پر پڑی تو آپ کو بلایا اور نام پوچھا۔ آپ نے ’’عبد الصمد عرف صفی بن مولانا علم الدین‘‘ بتایا تو سکونت دریافت کی۔ آپ نے ’’سائیں پور‘‘ بتایا۔ حضرت قطب العالم آپ کے والد ماجد مولانا علم الدین سے واقف تھے۔فرمایا کہ اب سے تم ہمارے پاس پڑھا کرو، کسی اور کے پاس مت پڑھو۔ہم خود تمھیںتعلیم دیں گے۔ اس دن سے آپ حضر ت مخدوم کی خدمت میں حاضر رہنے لگے اور ان سے تعلیم حاصل کرنے لگے۔ کچھ روز بعدحضرت مخدوم نے فرمایا کہ تم باورچی خانے میں مت کھایا کرو، ہمارے ساتھ کھایا کرو۔ حضرت قطب العالم روزہ رکھا کرتے تھے، اکثر فاقہ کشی کرتےاور دوسرے تیسرے روز کھانا تناول فرماتے۔ چنانچہ حضرت مخدوم شاہ صفی بھی آپ کے ساتھ کھانا کھانے لگے اوربھوک پیاس کی سختی برداشت کرنے لگے۔اس طرح آپ نے اپنے استاذ گرامی اور پیر و مرشد کی خدمت واطاعت میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں کی۔

بیعت و اجازت: آپ نے قطب العالم حضرت مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی کے دست مبارک پر بیعت کی اور آپ ہی سے ۹۱۶ھ میں خرقۂ خلافت پہنا۔

مقبولیت: آپ اپنے پیرو مرشد کی بارگاہ میں بہت مقبول تھے۔ بارگاہ شیخ میں آپ کی مقبولیت و محبوبیت کے بہت سے واقعات کتابوں میں درج ہیں۔ بڑے صاحب جلال تھے، جس پر نظر پڑجاتی وہ دیر تک بے خود رہتا۔ 

تواضع: انکسار و عاجزی کا یہ حال تھا کہ حضرت مخدوم شیخ سعد کی خانقاہ میں ’’صفیا‘‘نامی ایک غلام تھا، جب کوئی اسے آواز دیتا تو آپ جواب دے دیتے اوریہ خیال نہ فرماتے کہ آپ کو اس طرح کون پکارے گا!

اطاعت مرشد: ایک مرتبہ حضرت مخدوم شیخ سعد نے آدھی رات کو آپ سے فرمایا کہ اس وقت مولی کہیں سے مل سکتی ہے؟ آپ نے اس وقت یہ نہیں عرض کیا کہ آدھی رات کا وقت ہے اور مولی کی فصل بھی نہیں ہے! بلکہ فوراً عرض گذار ہوئے کہ جا کر تلاش کرتا ہوں۔ آپ آدھی رات کو خیر آباد کی ایک ایک گلی گھومتے رہے اور ایک محلے سے دوسرے محلے میں جاتے مگر کوئی دروازہ کھلا ہوا نہیں تھا اور نہ کوئی بیدار تھا کہ دریافت کریں، آخر تھک گئے اور ایک جگہ پر بیٹھ کر رونے لگے۔ ایک شخص کی آنکھ کھل گئی، اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ کوئی درد مند رو رہا ہے خبرلینی چاہیے۔وہ شخص گھر سے باہر نکلا اور پوچھا کون ہو اور کیوں رو رہے ہو؟ آپ نے بتایا: مجھ کومولی درکار ہے۔ اس نے کہا کہ مولی کی فصل نہیں ہے! اس گفتگو میں دو تین آدمی اور جمع ہوئے۔ ایک عورت نے کہا کہ میں نے فلاں کے گھر میں مولی لگی ہوئی دیکھی ہے۔ سب مل کر اس شخص کے دروازے پر گئے اور اہل خانہ کو بیدار کر کے ماجرا بتایا، چنانچہ صاحب خانہ دو مولیاں لے آیا، لوگوں نے پانی سے صاف کر کے آپ کو دیں۔ آپ اپنے پیرو مرشد مخدوم شیخ سعد کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ حضرت مخدوم شیخ سعد نے آپ سے فرمایا: تم سے ہر دشوار کام اور ہر مشکل مہم ان شاء اللہ آسان ہو جائے گی۔

تجرد: اپنے پیرومرشد کی طرح آپ بھی مجرد و غیر شادی شدہ رہے۔ اس حوالے سے صاحب عین الولایت ایک حکایت نقل کرتے ہیںکہ ایک روز آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر کمر بند باندھ رہے تھے، اسی دوران حضرت مخدوم شیخ سعد نے آپ کو آواز دی، آپ نے جواب دیا۔ پیرومرشد نے دریافت کیا کہ کیا کر رہے ہو؟ آپ نے عرض کیا کہ کمر بند باندھ رہا ہوں۔ فرمایا: مضبوط باندھنا۔ آپ نے جواب دیا کہ ان شاء اللہ قیامت تک نہ کھلے گا۔ چنانچہ عمر بھر آپ مجرد رہے۔

 دوسری طرح اس کرامت کا ظہور یوں ہوا کہ جب آپ نے رحلت فرمائی تو کمر بندکی گرہ نہیں کھلی، اسے چاقو سے کاٹاگیا۔ وہ خرقۂ متبرکہ مع کمر بند مخدومی حضرت عین اللہ شاہ عرف شاہ خلیل احمد صفی پوری (۱۳۴۰ھ / ۱۹۲۱ء) کی خانقاہ کے تبرکات میں موجود ہے، وہ گرہ ویسی ہی لگی ہوئی ہے۔ 

اسی طرح آپ نے رحلت فرماتے وقت ایک کاغذی لیموں چوسا تھا اس کا چھلکا بھی اسی خرقۂ متبرکہ کے ساتھ وہیں موجود ہے۔ اس سال (۱۴۴۲ھ) تک ۴۹۷؍ برس گذر گئے ہیں لیکن آج تک یہ دونوں تبرکات بجنسہ رکھے ہوئے ہیں۔ لیموں اب کسی قدر سیاہ ہو گیا ہے اور اس پر چاقو کا خط مثلث شکل کا ویساہی بنا ہوا ہے۔ راقم (حسن سعید صفوی) نے حضرت شاہ خلیل میاں کے آستانۂ شریفہ پر ان تبرکات کی زیارت کی ہے۔ حضرت شاہ محمد عزیز اللہ صفی پوری فرماتے ہیںسنا جاتاہے کہ ایک بار کوئی عالم کہیں سے آئے تھے، انہوںنے کہا کہ یہ سب واہیات بے اصل ہے، ہم اس گرہ کو کھول دیں گے! جس وقت خرقۂ متبرکہ کی زیارت کو گئے اور چاہا کہ گرہ کھولنے کے واسطے ہاتھ بڑھاویں دونوں ہاتھ خشک ہو گئے، لا محالہ بجز توبہ کے کچھ نہ بن پڑی،

استغناء: حضرت مخدوم صاحب نے کسی بادشاہ، امیر یا وزیر سے کوئی جاگیر قبول نہیں کی۔( ) بادشاہِ وقت ہمایوں (۱۵۰۸ - ۱۵۵۶ء) آپ کی زیارت کے قصد سے روانہ ہوا، لیکن آپ نے اپنی ہمت و توجہ سے اسے خدمت میں حاضر ہونے سے باز رکھا۔ حضرت شاہ محمد عزیز اللہ صفی پوری نے اس واقعے کی جو تفصیل درج کی ہے، وہ حسب ذیل ہےہمایوں بادشاہ جب لکھنؤ پہنچا تو وہاں آپ کا شہرہ سن کر ملاقات کا خواہش مند ہوا۔ آپ کو معلوم ہوا تو فرمایا: ’’ گدھے نے ماری لات، ہمایوں جائے پڑا گجرات!‘‘ جب وہ لکھنؤ سے لوٹنے لگا تو صفی پور کے پاس اس کی آنکھ لگ گئی۔ ملازمین ادب کی وجہ سے بیدار نہ کرسکے ، چنانچہ شاہی سواری صفی پور کے پاس سے گزر گئی۔ جب فتح پور چوراسی پہنچا تو بیدار ہوا۔ معلوم ہوا کہ صفی پور پیچھے رہ گیا۔ اسی وقت گجرات سے کوئی بری خبر آپہنچی، لا چار وہاں کا قصد کیا اور کہا کہ شاید حضرت شاہ صفی کو میرا آنا منظور نہیں ہوا۔پھر دو بہت خوبرو نوجوان کنیزیں زیورات سے آراستہ مع نذر ، وزیر کےہمراہ روانہ کیں کہ یہ دونوں آپ کی خدمت کے لیےحاضر ہیں۔جس وقت وزیرآپ کی خدمت میں پہنچا اس وقت آپ وضو کر رہے تھے۔آپ نے ان دونوں کنیزوں کو ایسی پُر تاثیر نگاہ سے دیکھا کہ ان دونوں نےاسی وقت لاالہ الا اللہ کہہ کر شاہی پوشاک اور زیور کو اتار کر اللہ کی راہ میں تقسیم کردیا اور تنگ پائچوں کا پائجامہ اور زانو تک پیرہن اور دو پٹہ اوڑھ کرایک پانی بھرنے لگی اور دوسری جھاڑو دینے کی خدمت میں مصروف ہو گئی۔جب وزیر رخصت ہونے لگا تب آپ نے نذر کو واپس کیا اور تھوڑے سے تنکے مصلے کے اس کو دیے۔ اس نے جا کر ہمایوں کو پیش کیا۔ہمایوں نے کہا: گجرات میں ہماری فتح ہوگی اور چھاؤنی بنے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ دونوں کنیزیں عمر بھر خانقاہ شریف میں اپنی اپنی خدمتیں انجام دیتی رہیں۔ ان دونوں کی قبریں درگاہ شریف میں موجود ہیں۔اناؤ ڈسٹرکٹ گزٹ میں اس واقعہ کی تاریخ ۱۵۳۴ء مذکور ہے۔ ترجمہ: کہا جاتا ہے کہ دہلی کا بادشاہ ۱۵۳۴ء (۹۴۰ھ) میں آپ کی زیارت کے لیے آیا تھا۔

سماع : مخدوم صاحب اپنے پیرانِ طریقت کی طرح ہی صاحبِ سماع تھے۔ البتہ مجالسِ سماع میں کوئی نا اہل شخص نظر آتا تو آپ وجد وکیف کا اظہار نہ فرماتے۔ ایسے ہی قوالوں کو سماع سننے کی غرض سے بھی نہ طلب فرماتے، کوئی از خود حاضر ہوتا اور سماع و نغمہ سناتا تو انکار نہ فرماتے۔آپ کے دست گرفتہ حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی سماع کے سلسلے میں آپ کا عمل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیںحضرت پیر دستگیر مخدوم شاہ صفی  علیہ الرحمہ  ایسی مجلس کہ جس میں کوئی شخص صرف سماع و رقص کو دیکھنے کے لیے آیا ہوتا اس میںآپ وجد و رقص نہ فرماتے اور بالکل جنبش نہ کرتے۔ نیز سماع کے لیے قوالوں کو خاص طور سے طلب نہ فرماتے۔ ایسے ہی اگرچہ صاحبانِ وجد صوفیہ خانقاہ میں حاضر ہوتے اور قوال بھی موجود ہوتا پھر بھی مشائخ کے عرس کے لیے خاص سماع کی محفل کا انعقاد نہ کرتےاور اگر کہیں سے قوال توبہ وبیعت کے لیے یا قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتے اور نغمہ سناتے اور اس وقت اگر کسی صوفی پر وجد وکیف طاری ہوتا یا خود آپ کو رقت ہوتی اور حظ حاصل ہوتا، اس وقت مجلسِ سماع و نغمہ منعقد ہوتی اور اس کا خصوصیت کے ساتھ انکار بھی نہ فرماتے، کیوں کہ وقت کی پہچان اور علم معرفت کے دقائق سے آشنائی صاحبانِ بصیرت کے ساتھ خاص ہے۔ جو علم و عمل ان حضرات کو حاصل ہے اُس کو یہی لوگ بہتر جانتے ہیں۔

 حضرت میر عبد الواحد بلگرامی فرماتے ہیں"بادشاہ بابر [۱۴۸۳ - ۱۵۳۰ء] کے عہد میں چند مغل پیر دستگیر مخدوم شاہ صفی علیہ الرحمہ  سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ دوران ملاقات سیادت کی صحت پر گفتگو ہونے لگی۔ مغلوں نے ہندوستان میں صحیح النسب سادات کے وجود کا انکار کیا اور کہا کہ یہاں کوئی سید نہیں ہے۔مخدوم صاحب نے انہیں بہت سمجھایا لیکن وہ ماننے پر آمادہ نہیں تھے۔ کہنے لگے کہ ہمارے ملک میں صحیح الاصل متقی و متدیّن زاہد و عابد سادات ہیں، جن کی سیادت کی علامت یہ ہے کہ ان کے بال آگ میں نہیں جلتے ۔

 مخدوم صاحب نے فرمایا: ہندوستان میں بھی ایسے سادات موجود ہیں۔

مغلوں کو مزید تعجب ہوا اور انہیں لگا کہ شیخ بڑا بول بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی ایک کو پیش کیجیے۔

 حضرت مخدوم نے اس فقیر کے چچا جن کا نام طاہر تھا اور سید طٰہ کہا جاتا تھا کو طلب فرمایا۔

 چوں کہ وہ سراپا طاہر تھے لہٰذا مخدوم صاحب نے ان کے کاکل کا ایک حصہ کاٹا اور آگ پر رکھ دیا۔ دیر تک آگ پر رکھنے کے بعد جب اٹھایا تو ایک ذرہ بھی اس میں نہیں جلا تھا اور ویسے کا ویسا ہی تھا۔

 مغلوں کو بڑی شرمندگی ہوئی۔کبھی وہ مخدوم صاحب کے پاؤں پڑتے اور کبھی سید طٰہ کے قدموں پر گرتے۔

سید طٰہ بلگرامی قدس سرہٗ کا وصال پیر ومرشد کی حیات میں ہی ہو گیا تھا، ان کا مزار مبارک مخدوم صاحب کے روضے کےپائیں جانب واقع ہے۔ 

آپ کے تمام خلفا صاحبان کمال اور ذی علم حضرات تھے۔ حضرت میر عبد الواحد بلگرامی فرماتے ہیں: حضرت مخدوم شاہ صفی قدس سرہ کے تمام خلفا عالم تھے۔ آپ نے کسی جاہل کو خلافت نہیں دی۔ 

عین الولایت میں مذکور خلفا کے اسما درج ذیل ہیں

۱۔حضرت بندگی شیخ مبارک جاجموی قدس اللہ سرہ(خواہرزادہ وسجادہ نشین)

۲ ۔حضرت سیدنظام الدین عرف مخدوم الہدیہ خیرآبادی قدس سرہ 

۳۔حضرت شیخ فضل اللہ گجراتی قدس اللہ سرہ

۴۔حضرت شیخ حسین محمدسکندرآبادی قدس اللہ سرہ

۵۔حضرت شیخ مبارک سنڈیلوی قد س سرہٗ 

۶۔حضرت شیخ محمد مانو جگوری قدس سرہٗ 

۷۔حضرت شیخ اﷲدیہ جنولی قدس سرہٗ 

۸۔حضرت سیدحسن محمد اودھی قدس سرہٗ 

۹۔حضرت شیخ حاجی منڈھن آسیونی قدس سرہٗ 

۱۰۔حضرت شیخ جان سانڈھوی قدس سرہٗ 

۱۱۔حضرت میر ابراہیم بلگرامی قدس سرہٗ(والدماجد حضرت میر عبد الواحد بلگرامی)

۱۲۔حضرت میر طاہر عرف سید طٰہٰ بلگرامی قدس سرہٗ

۱۳۔حضرت شیخ پیارہ کنجوی قدس سرہٗ 

 ۱۴۔حضرت شیخ ابوالفتح آسیونی قدس سرہٗ 

۱۵۔حضرت شیخ جانوکاکوروی قدس سرہٗ 

۱۶۔حضرت سیدجیو موہانی قدس سرہٗ 

۱۷۔حضرت شیخ عبدالغنی فتح پوری قدس سرہٗ 

۱۸۔حضرت شیخ کمال الدین پھول قدس سرہٗ 

تاریخ وصال: آپ کا وصال 19  محرم الحرام کو ہوا۔


حضرت خواجہ دانا سورتی نقشبندی علیہ الرحمہ

 


 خاندانی حالات : آپ کے آباواجداد موضع جنوق کے جو خوارزم سے کچھ ہی دور ہے رہنے والے تھے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ جونک نام کے گاؤں میں رہتے تھے، آپ کے دادا کا نام حضرت خواجہ سید اسمٰعیل ہے۔

نسب نامہ پدری : نسب نامہ پدری حسب ذیل ہے۔حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، امام الاؤلیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت سید جعفر ثانی، حضرت سید علی اصغر، حضرت سید اسمٰعیل، حضرت سید عبداللہ، حضرت سید سلیمان، حضرت سید محمد، حضرت سید حسین، حضرت سید احمد مشہور بہ خواجہ عطا، حضرت خواجہ عبداللہ زربخش، حضرت سید ولایت، حضرت سید قریش، حضرت سید خواجہ اسمٰعیل، حضرت خواجہ سید بادشاہ، حضرت سید جمال الدین عرف خواجہ دانا۔

والد ماجد : آپ کے والدماجد کا نام سید خواجہ بادشاہ پردہ پوش ہے۔

ولادت باسعادت  : آپ جونک یا جنوق نامی گاؤں میں جو بخارا میں خوارزم سے کچھ ہی دور ہے پیدا ہوئے۔

نامِ نامی : آپ کا نام نامی اسمِ گرامی جمال الدین ہے۔

لقب : آپ کا لقب خواجہ دانا ہے۔

بچپن کے صدمات : ایامِ طفولیت میں ہی آپ کے سر سے ماں باپ کا سایہ اٹھ گیا، 4 ماہ کی عمر تھی کہ آپ کے والدماجد حضرت سید بادشاہ پردہ پوش نے جامِ شہادت نوش کیا، شاہ اسمٰعیل صفوی کی جنگ میں شریک تھے۔

بشارت : آپ کے والدماجد حضرت سید بادشاہ پر وہ پوش نے اپنے مرید خواجہ بابا عرف خواجہ حسن عطا کو عالمِ رویا میں تاکید فرمائی کہ وہ ان کے شیر خوار صاحبزادے حضرت جمال الدین (خواجہ دانا) کی تعلیم و تربیت معقول طریقے سے کریں اور ان کی پرورش سے غافل نہ رہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار نے بھی خواجہ بابا عرف خواجہ حسن عطا کو اس قسم کا حکم عالمِ رویا میں دیا تھا۔

تلاش : یہ حکم پاکر خواجہ حسن عطا آپ کی تلاش میں نکلے، بہت تلاش کے بعد انہوں نے آپ کو ایک جھونپڑی میں دیکھا، خدا کا شکر بجالائے، وہ آپ کو کھاوراں کے جنگل میں لے گئے اور ایک تالاب کے پاس ٹھہرایا، اب حضرت خواجہ سید حسن عطا کو یہ فکر ہوئی کہ حضرت کو دودھ پلانے کا کوئی معقول انتظام ہو، چنانچہ وہ دایہ کی تلاش مین سرگرداں پھرنے لگے، بہت تلاش کرنے پر بھی کوئی دایہ نہ ملی، مجبوراً واپس آئے اور بارگاہِ ایزدی میں دعا کی کہ”اے پروردگار ! اے رازق ! اے مسبب الاسباب ! اس معصوم شیرخوار بچے کی پرورش اور نگہداشت میرے ذمہ ہے، بغیر دود پینے یہ شیر خواجہ بچہ کیسے زندہ رہ سکتا ہے، اے میرے مولیٰ ! تو اس شیر خوار بچے کے لئے دودھ کا انتظام فرما میں نے دایہ تلاش کی لیکن کوئی نہ ملی، اب میں کیا کروں، اس شیر خوار بچے کی زندگی تیرے ہاتھ ہے‘‘

بچپن کی کرامت : مایوسی کی حالت میں آپ واپس اس مقام پر آرہے تھے جہاں وہ حضرت کو چھوڑ گئے تھے، ابھی کچھ فاصلہ پر ہی تھے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ کوئی خوفناک جانور حضرت کو کھا جانے کی کوشش میں ہے، انہوں نے تیزی سے قدم بڑھائے اور حضرت کے پاس پہنچ کر یہ دیکھ کر بہت متعجب ہوئے کہ ایک لولی ہرنی حضرت کو دودھ پلا رہی تھی، وہ خداوند تعالیٰ کا شکر بجا لائے اور سمجھ گئے کہ ان کی دعا بارگاہِ ایزدی میں قبول ہوئی، اس ہرنی کا یہ طریقہ تھا کہ صبح و شام مقررہ وقت پر یہ ہرانی آتی اور حضرت کو دودھ پلاتی اور چلی جاتی، جب تک حضرت کی دودھ پینے کی عمر رہی ہرنی پابندی سے دودھ پلاتی رہی، اس طرح سے وقت گذرتا گیا۔

نصیحت : حضرت خواجہ سید حسن عطا نے اپنی وفات سے قبل آپ کو یہ نصیحت فرمائی کہ”اے میرے فرزند لبند ! اے میرے عزیز اور اے میرے پیارے ! اور اے بزرگوں کے سچے اور کامل خلیفہ ! اور اس عالم کے ایک مہمان ! میری نصیحت ہوش گوش سے سنو اور اس کو یاد رکھو، یہ دنیا ایک مہمان خانہ ہے، ایک آتا ہے ایک جاتا ہے، جو آیا ہے اس کو جانا ہوگا، جس طرح مہمان ایک مختصر قیام کے لئے آتا ہے اسی طرح سے ہم سب اس دنیا میں چند روز کے لئے آئے ہیں، وقت آئے گا چلے جائیں گے، نہ کوئی رہا ہے نہ رہے گا، یہ دنیا بے وفا ہے، اس نے کسی کے ساتھ وفا نہیں کی، یہ دنیا مکروفریب کی جگہ ہے اور یہ سنسار فتنہ و فساد کی جا ہے، یہاں حقیقی چین اور آرام نہیں، سکون اور اطمینانِ قلب حاصل نہیں، یہاں تو بلا و مصیبت اور دکھ اور درد سے دو چار ہونا پڑتا ہے اور بہت سے صدمات برداشت کرکے اور بہت سی تکالیف اٹھا کر آخر کار کوش کرنا پڑتا ہے، موت ہر ذی روح کو آنا ہے، موت سے کوئی نہیں بچ سکتا، موت کا کڑوا پانی سب کو پینا ہے، موت سر پر سوار ہے، بھاگ کر کہاں جائیں اور چھپیں تو کس جگہ چھپیں، ہر جگہ موت کی دسترس ہے، پس تم کو چاہئےکہ موت سے نہ گھبراؤ اور موت کے وقت اور خود کی مراد پر پہنچتے وقت اپنے کو پریشانی میں نہ ڈالنا اور نہ ہی اپنے دل کو حیران اور پریشان کرنا“

صدمۂ جانکاہ : اتنا فرماکر حضرت خواجہ حسن عطا نے دو رکعت نماز ادا کی، سجدہ کی حالت میں جانِ شیریں جان آفریں کے سپرد کر دی۔

غیب سے انتظام : آپ کی زندگی میں اس قسم کا پہلا واقعہ تھا، والدہ اور والد نے جب آپ کو داغِ مفارقت دیا تو اس وقت آپ کی عمر ہی کیا تھی، ایامِ طفولیت میں ہی آپ والدہ اور والد کی شفقت اور محبت سے محروم ہوگئے تھے، یہ واقعہ آپ کے ہوش میں ہوا، آپ سخت پریشان تھے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں، آپ اکیلے تھے، جنگل تھا، نہ کوئی معاون تھا اور کوئی مددگار، آپ رنجیدہ خاطر بیٹھے سوچ رہے تھے کہ تجہیزوتکفین کا کیا ہوگا، نمازِ جنازہ کیسے ہوگی، ان ہی خیالات میں علطاں و پیچاں تھے، آپ نے دیکھا کہ قبلہ کی طرف سے ایک نورانی گروہ آرہا ہے، آپ دیکھ کر خوش ہوئے سمجھ گئے کہ یہ نورانی گروہ فرشتوں کا ہے اور یہ غیب سے انتظام ہے، وہ نورانی گروہ حضرت خواجہ سید حسن عطا کی نعش کے پاس آیا، نعش کو تالاب کے صاف و پاک پانی سے غسل دیا، کفن پہنا کر جنازہ تیار کیا اور نمازِ جنازہ پڑھی، دفن کے بعد آپ کو تسلی و تشفی دے کر وہ نورانی گروہ غائب ہوگیا۔

دوسری بشارت : حضرت خواجہ سید عطا کی وفات کے بعد حضرت کے والد ماجد حضرت سید بادشاہ پردہ پوش نے خواجہ سید محمد کو عالمِ رویا میں یہ حکم دیا کہ ان کے صاحبزادے (حضرت خواجہ دانا) کو مزید تعلیم وتربیت دیں، ابھی ان میں کمی ہے، آپ کے والد ماجد نے ان سے فرمایا کہ”میرا لڑکا (حضرت خواجہ دانا) ابھی پورے طور پر تعلیم سے بہرہ مند نہیں ہوا ہے، اس کو مزید تعلیم کی ضرورت ہے اور اس کی تربیت بھی خاطر خواہ نہیں ہوئی ہے، تم کو چاہئے کہ اس کی تعلیم و تربیت سے غافل نہ ہو، میں اس کو تمہارے سپرد کرتا ہوں، اس کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری تم پر ہے، تم کو چاہئے کہ اس فرض کو بخیروخوبی انجام دو“

تلاش : یہ حکام پاکر حضرت خواجہ سید محمد حضرت کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، تلاش کرتے کرتے کھاورال کے جنگل میں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت ہر نوں کے ٹولے میں رونق افروز ہیں، ہرن حضرت سید محمد کو دیکھ کر بھاگنے لگے اور حضرت بھی ان کے ساتھ ہولئے، کئی دن تک ایسا ہی ہوا کہ جب خواجہ سید محمد وہاں پہنچتے تو حضرت ہرنوں کے ساتھ نکل پڑتے، ایک دن حضرت خواجہ سید محمد بہت آزردہ خاطر ہوئے کہ آخر وہ کب تک ان سے بھاگیں گے اور وہ (حضرتِ خواجہ سید محمد) کب تک ان کا پیچھا کریں گے، انہوں نے حضرت کو عاجزی، منت اور محبت سے روک کر کہا کہ”آپ مجھ سے واقف نہیں، میں کوئی اجنبی نہیں ہوں، آپ کے والدماجد نے مجھے آپ کی تعلیم و تربیت پر مامور فرمایا ہے پھر آپ مجھ سے کیوں بھاگتے ہیں“یہ سن کر حضرت رک گئے اور وہیں رہنے لگے اور تعلیم حاصل کرنے لگے۔

تعلیم و تربیت : آپ کے والدماجد کے حکم کے مطابق جو انہوں نے عالمِ رویا میں دیا تھا، حضرت خواجہ سید حسن عطا نے آپ کو ابتدائی تعلیم دی اور آپ کی تربیت پر کافی دھیان دیا، ان کی وفات کے بعد حضرت خواجہ سید محمد کو حضرت کے والدماجد نے عالمِ رویا میں حکم دیا کہ وہ حضرت کو تعلیم و تربیت دیں، چنانچہ انہوں نے چھ سال تک تعلیم دی، اس کے بعد وہ اپنے وطن لوٹ گئے۔

عبادت و ریاضت : حضرت خواجہ سید محمد کے چلے جانے کے بعد آپ جنگل میں تنِ تنہا رہتے تھے اور عبادت کرتے تھے، آپ کی عبادت کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ایک وسیع دائرہ کے بیچ میں بیٹھتے تھے اور آپ کے چاروں طرف جنگل جانور ہوتے تھے، آپ جب اللہ اللہ کہتے تو جنگل جانور بھی نقل کرنے کی کوشش کرتے، اس طرح سارا جنگل اللہ اللہ کے ذکر سے گونج اٹھتا تھا۔

جنگل کی زندگی : آپ جنگل کی قدرتی زندگی پسند فرماتے تھے جس میں کوئی تصنع یا بناوٹ نہ تھی جانوروں سے مانوس اور انسانوں سے دور رہ کر آپ جنگل میں اللہ اللہ کرنے میں خوشی پاتے تھے، انسان کو دیکھ کر آپ بھاگتے تھے، شہری زندگی سے آپ نابلد اور نا آشنا تھے، اگر اسی طرح آپ زندگی گزارتے اور اسی طرح جنگل میں رہتے تو مخلوق آپ سے کیسے اور کس طرح مستفید ہوتی۔

کایا پلٹ : بابا چوپال سے جنگل میں ملاقات آپ کی زندگی میں کایا پلٹ کا باعث ہوئی، آپ نے بابا چوپال کو دیکھ کر بھاگنا چاہا تو انہوں نے کہا کہ انسان کا انسان سے بھاگنا چہ معنی میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں اور تم میری طرح ایک انسان ہو، یہ سن کر آپ وہیں ٹھہر گئے، اتنے میں ایک درویش جن کا نام بابا مخدوم ترکستانی تھا، وہاں آپہنچے، تینوں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے، حضرت چوپال نے اپنی بغل میں سے تیس گرم گرم روٹیاں نکالیں اور ان کے (حضرت خواجہ دانا اور حضرتِ مجذوب ترکستانی) سامنے رکھ دیں پھر ان میں سے ایک روٹی اٹھا کر اس کے تیس ٹکڑے کئے، ان تیس ٹکڑوں میں ایک تو انہوں نے خود کھایا اور ایک حضرت کو پیش کیا اور ایک حضرت مجذوب ترکستانی کو دیا، سب نے خوشی خوشی وہ ٹکڑا کھائے، حضرت چوپال کا دیا ہوا ٹکڑا کھا کر حضرت کی زندگی میں ایک نمایاں تبدیلی واقع ہوئی، اب آپ شہری زندگی کی طرف مائل ہوئے، شہری زندگی سے نفرت دور ہوئی اور جنگل کی زندگی سے لگاؤں ختم ہوا، آپ نے جنگل چھوڑ کر شہر میں رہنا شروع کیا۔

بلخ میں آمد : بلخ کے قیام کے دوران حضرت خواجہ محمد پارسا کے پوتے حضرت خواجہ عبدالہادی کی بیوی شاہ بیگم آپ کے آرام کا بہت خیال رکھتی تھیں، محبت اور عقیدت کے ساتھ ساتھ وہ حضرت کی خدمت کو اپنے لئے باعثِ فخر اور باعثِ سعادت و عظمت سمجھتی تھیں، شاہ بیگم حضرت کو ہر طرح کا آرام پہنچانے میں مشغول رہتی تھیں، وہ حضرت کو کھانا اپنے ہاتھوں سے کھلاتی تھیں، حضرت بلخ کے قیام کے دوران حضرت خواجہ عبدالہادی کے یہاں مہمان ہرے۔

ملاقاتیں : جس وقت کہ حضرت بلخ میں رونق افروز تھے مولانا سعید ترکستانی بھی وہاں آئے، حضرت نے ان کو ایک دن بلخ کے بازار میں بکریوں کے ساتھ دیکھا، بلخ میں حضرت کو حضرتِ خواجہ سلام جوئبار نقشبندی سے ملنے کا موقع ملا، حضرتِ خواجہ سلام جوئبار نقشبندی حضرت کے ساتھ بہت محبت و شفقت و احترام سے پیش آئے، وہ حضرت کو اپنے گھر لے گئے اور حضرت کو علمِ ظاہری اور باطنی سے مالا مال کیا۔

بیعت و خلافت : حضرت نے خواجہ سید حسن عطار سے دولت ونعمت پائی، خواجہ سید حسن عطار نے آپ کی تعلیم و تربیت و روحانی نشو و نما پر کافی توجہ کی، ان کے وصال کے بعد حضرت کے والدماجد کے حکم کے مطابق حضرتِ خواجہ سید محمد نے آپ کی تعلیم و روحانی تربیت کی ذمہ داری اپنے ذمہ لی۔

حضرت خواجہ سلام جوئبار نقشبندی سے حضرت نے خلافت پائی، حضرت خواجہ عبداللہ اشراقی سے حضرت کو اویسیہ فیض پہنچا، حضرت خواجہ عبید اللہ احرار کی روحانیت سے بھی حضرت مستفید و مستفیض ہوئے، حضرت خواجہ سید حسن عطا کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوکر آپ نقشبندی سلسلے میں منسلک ہوئے۔

شجرۂ بیعت : شجرۂ بیعت حسبِ ذیل ہے۔حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت سلیمان، حضرت قاسم، حضرت جعفر صادق، حضرت بایزید، حضرت شیخ ابوالحسن خرقانی، حضرت خواجہ طوسی علی، حضرت خواجہ یوسف ہمدانی، حضرت اسوی، حضرت سلیمان، حضرت جنگی، حضرت خواجہ احمد سید عطا، حضرت عبداللہ زربخش، حضرت خواجہ سید ولایت، حضرت خواجہ سید قریشی، حضرت سید اسمٰعیل، حضرت سید بادشاہ پردہ پوش، حضرت خواجہ سید حسن عطا، حضرت خواجہ جمال الدین خواجہ دانا۔

ہندوستان میں آمد : بلخ سے آپ مع اپنی زوجہ اور چند رفیقوں کے ہندوستان کے لئے رانہ ہوئے، ٹھٹھہ پہنچ کر وہاں کچھ دن قیام کیا پھر آگرہ میں رونق افروز ہوئے اور وہاں ایک مسجد میں قیام فرمایا، آگرہ میں کچھ دن قیام کرنے کے بعد آپ بڑودہ روانہ ہوئے، بڑودہ میں مولانا نظیر بدخشی نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر حضرت کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور حضرت کو چند دن منت و سماجت کرکے روکا، بڑودہ میں ڈاکوؤں نے حضرت کا سامان لوٹ لیا، حضرت بجائے رنجیدہ ہونے کے خوش ہوئے اور فرمایا کہ خداوند تعالیٰ کا شکر ہے کہ امانت، امانت والوں کو مل گئی۔

سورت میں تشریف آوری : بڑودہ سے حضرت سورت میں رونق افروز ہوئے، حضرت کو سورت بہت پسند آیا، اس وقت سورت بندرگاہ تھا اور یہاں سے لوگ حج کو جاتے تھے، سورت بابل المکہ کہلاتا تھا۔

برہان پور کو روانگی : سورت میں کچھ دن قیام کر کے آپ بڑھان پور تشریف لے گئے، وہاں سے پھر آپ سورت واپس تشریف لائے۔

سورت میں قیام : سورت میں آپ کا مستقل قیام رہنے لگا، سورت میں آپ رشدوہدایت اور تعلیم و تلقین فرماتے تھے اور نقشبندیہ سلسلے کو پھیلاتے تھے، نقشبندیہ سلسلہ کو سورت میں کافی فروغ ہوا۔

شادی اور اولاد : بلخ کا بادشاہ پیر محمد خاں بن جانی بیگ خاں آپ کا مرید اور معتقد تھا، اس کی بہن کے ساتھ آپ کی شادی ہوئی، حضرت خواجہ سعید محمد ہاشم اور حضرت خواجہ انوارالحسن آپ کے دو صاحبزادے تھے جو آپ کے وصال کے بعد آپ کی گدی پر بیٹھے۔

مریدین و خلفا : آپ کے دستِ حق پرست پر بہت سے لوگ بیعت ہوئے، تولک محمد خاں کو چین اور شاہ کلنگ خاں آپ کے خاص مرید، معتقد اور پرستار تھے، آپ کے دونوں صاحبزادے حضرت خواجہ سعید محمد قاسم اور حضرت خواجہ سعید انوارلحسن کے خلیفہ تھے، آپ کے بعد آپ کی گدی پر حضرت خواجہ سعید محمد قاسم بیٹھ کر رشدوہدایت اور سلسلے کے لوگوں کی رہنمائی فرماتے تھے۔

وصال مبارک  : برہان پورے سے سورت واپس آکر آپ بیمار ہوگئے، ایک دن ویسے بیہوش ہوئے کہ سب رونے لگے، ہوش آیا تو آپ نے سورۂ یٰسین بلند آواز سے پڑھی، پھر کلمۂ طیبہ پڑھنا شروع کیا اور کلمہ پڑھتے پڑھتے آپ رحمتِ حق میں پیوست ہوگئے، یہ واقعہ 5 صفر 1015ہجری کا ہے، آپ کا مزارِ پُرانوار سورت میں فیوض و برکات کا سرچشمہ ہے۔

  (مآخد و مراجع: تاریخ شہنشاہ سورت/ سیرت خواجہ دانا / صلحائے سورت)


حضرت حاجی حافظ وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ


 

آپ  رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے عظیم اولیائے کرام، جلیل القدر صوفی بزرگ اور سلسلۂ وارثیہ کے بانی ہیں۔

آپ علیہ الرحمہ  کا خاندان: آپ علیہ الرحمہ کے خاندان کے بزرگ نیشا پور کے رہنے والے تھے۔نیشا پور سے سکو نت ترک کر کے ہندوستان آئے۔ آپ علیہ الرحمہ کے والدِ بزرگوار کا نام سیّد قربان علی شاہ ہے۔ وہ دیواضلع بارہ بنکی (یوپی)میں رہتے تھے اور وہاں کے رئیسوں میں اُن کا شمار تھا۔ وہ صوفی منش رئیس تھے۔

آپ  علیہ الرحمہ کی ولادت: آپ  علیہ الرحمہ کی ولادت 1234 ہجری میں دیوا شریف میں ہوئی۔ابھی آپ علیہ الرحمہ سن رشد کو نہ پہنچےتھے کہ آپ علیہ الرحمہ کی والدۂ ما جدہ کا انتقال ہو گیا۔ آپ علیہ الرحمہ کے والدِ بزرگوار کا انتقال آپ علیہ الرحمہ کی ولادت سے پہلے ہوچکا تھا۔

آپ  علیہ الرحمہ کی تعلیم و تربیت: آپ  علیہ الرحمہ کی عمر جب پانچ سال کی ہوئی تو آپ علیہ الرحمہ کی تعلیم با قا عدہ شروع ہوئی۔ مکتب جا نے لگے،آپ علیہ الرحمہ نے قرآنِ مجید سات سال کی عمر میں حفظ کیا۔عشق و محبّت کے جذبات بچپن ہی سے جنگلوں اور ویرانوں میں لیے پھر تے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کا دل شہر میں نہیں لگتا تھا۔

بیعت و خلا فت: آپ علیہ الرحمہ اپنے بہنو ئی حضرت سید خادم علی شاہ کے مرید اور خلیفہ ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ کے پیرو مرشد کا قیام لکھنؤ میں رہتا تھا۔ ایک رات آپ علیہ الرحمہ نے خواب میں دیکھاکہ پیرو مرشد آپ علیہ الرحمہ سے فرماتے ہیں کہ’’ سفر کرو‘‘۔

سیر و سیاحت: پیرو مرشد کا حکم پا کر اپنے وطنِ عزیز کو خیر باد کہا۔ دیوا سے جے پور تشریف لائے، جے پور سے اجمیر شریف غریب نواز کے دربار میں حاضر ہو ئے۔ آستا نےمیں داخل ہونا چاہتے تھے کہ دروازےپر جو شخص بیٹھا ہوا تھا،اس نے آپ علیہ الرحمہ سے کہا کہ جوتا پہن کر اندر جانا ادب کے خلاف ہے۔ آپ علیہ الرحمہ نے وہیں جو تا اتار ا اور پھر ساری عمر جوتا نہیں پہنا۔اجمیر شر یف سے ممبئی تشریف لے گئے۔ ممبئی سے جدّہ گئے۔ ۲۹؍ شعبان ۱۲۵۳ھ کو مکہ معظّہ پہنچے۔ حج کا فریضہ ادا کر کے مد ینہ منوّرہ گئے۔ کچھ دن وہاں رہے، پھر رختِ سفر باندھا۔بیت المقدس دمشق، بیروت، بغداد، کاظمین ، نجفِ اشرف، کربلائے معلّٰی، ایران، قسطنطنیہ کی سیاحت کرکے اور درویشوں سے مل کر پھر مکہ پہنچے اور حج سے فارغ ہوکر افریقہ تشریف لے گئے۔وطن واپس آ کر آپ علیہ الرحمہ نے دیکھا کہ مکان شکستہ ہو چکا ہے اور آپ علیہ الرحمہ کے سازو سامان پر آپ علیہ الرحمہ کے رشتے دار قابض ہیں۔ ان کو یہ فکر ہوئی شاید آپ علیہ الرحمہ جائیداد وغیرہ واپس لیں گے اور ممکن ہے عدالتی کارروائی کریں؛ لہٰذا، ان لوگوں کی بے اعتنائی اور بے رخی سے آپ علیہ الرحمہ کو تکلیف پہنچی،آپ علیہ الرحمہ نے وطن میں زیادہ قیام کرنا مناسب نہیں سمجھا۔آپ علیہ الرحمہ نے پھر رختِ سفر باندھا اور قرب و جوار کے مختلف مقامات کو زینت بخشی۔ آپ علیہ الرحمہ جنگلوں، بیابانوں اور پہاڑوں میں گھو متے اور قدرت کا مشا ہدہ کر تے تھے۔

کرامات: جب حضرت  سید وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ پہلی مرتبہ حجِ بیت اللہ کے لیے روانہ ہوئے تو جہاز میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی۔ کئی دن کے بھوکے رہنے کے بعد جب جہاز سمندر کے وسط میں پہنچا تو اچانک رک گیا اور آگے بڑھنے سے عاجز ہوگیا۔ جہاز کا کپتان جو مسلمان تھا، خواب میں رسول اکرم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “لوگ بھوکے ہیں اور تم پیٹ بھر کر کھاتے ہو، یہ اسی کا وبال ہے۔” کپتان نے گھبرا کر مسافروں کی دعوت کی، سب نے کھایا مگر حضرت سید وارث علی شاہ ایک گوشے میں بیٹھے ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے۔ دوسری رات پھر کپتان نے وہی خواب دیکھا اور دوبارہ کھانا تقسیم کیا، لیکن تیسری رات بھی یہی خواب آیا۔ اس پر کپتان نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اصل میں حضرت سید وارث علی شاہ ہی وہ ہستی ہیں جو جہاز پر کھانا تناول نہیں فرما رہے۔ کپتان فوراً آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، ادب و احترام کے ساتھ کھانا پیش کیا اور معذرت طلب کی۔ آپ نے اللہ کے نام پر کھانا قبول فرمایا اور اسی لمحے جہاز روانہ ہو گیا۔

حلقۂ ارادت:  آپ کے معروف خلفاء، مجازین یا ممتاز مریدین میں شمار کیے جاتے ہیں:

·      حضرت خواجہ عبدالغنی شاہ مجددی رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت حافظ کریم بخش رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت مولانا غلام یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت سید محمد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت شاہ محمد علی رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت خدا بخش شیخ رحمۃ اللہ علیہ (مریدِ خاص، بعض روایات میں مجاز)

·      حضرت سید محمد حسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت مفتی غلام سرور لاہوری رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت سید ضامن علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت سید نذر حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت سلطان عبدالمجید (ٹرکی) رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت شیخ مظہر علی رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت بد نام شاہ رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت میا ں جہا نگیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ

·      حضرت جسٹس مولوی شرف الدین رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ

 آپ کی سیرت: آپ علیہ الرحمہ نے شادی نہیں کی آپ علیہ الرحمہ جائیداد، مکان سازو سامان وغیرہ سے بے نیاز تھے۔ فقر میں بادشاہی کر تے تھے۔ صابر و شاکر اور مستغنی تھے۔ روپے پیسے کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔ اگر کوئی شخص آپ علیہ الرحمہ کو کوئی تحفہ پیش کرتا تو آپ علیہ الرحمہ اس سے بہتر چیز اس کو عطا فرماتے تھے، عفو و کرم آپ علیہ الرحمہ کا شعار تھا، آپ علیہ الرحمہ کسی قسم کی سواری پسند نہیں کرتے تھے۔ تانگے ،بگھی یکے، ریل اور جہاز میں نہیں بیٹھتے تھے، کمزوری کے باعث پالکی میں با دلِ نا خواستہ بیٹھتے تھے۔ سنّت کے سخت پابند تھے۔ آپ علیہ الرحمہ نے سیاحت بہت فرمائی، خوراک بہت کم تھی مدّتوں، ہفتے میں ایک بار کھانا کھایا، پھر تیسرے روز کھانا کھانا شروع کیا۔کمزوری کے باعث روز یا دوسرے دن تھوڑا سا کھا لیتے تھے۔ ثرید بہت شوق سے کھاتے تھے۔ کھانے کے بعد خلال کرتے اور پھر ہا تھ دھوتے۔ آپ علیہ الرحمہ نے جب سے احرام باندھنا شروع کیا، پھر اتارا نہیں، کربلا پہنچ کر آپ علیہ الرحمہ نے یہ طے کیا کہ تخت یا پلنگ پر نہ سو ئیں گے، تمام عمر اس پر کاربند رہے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات: آپ علیہ الرحمہ فرماتےہیں"جس عورت کا خاوند موجود ہو اور اس کے پاس رہتا ہو، اسے کھانے پینے اور ضروریات کی پرواہ نہیں ہوتی۔خاوند خود بخود اس کاانتظام کرتاہے، پھر جب خدا اقرب الیہ من حبل الورید تو انسان اپنی روزی کےمتعلق کیوں پریشان ہوتاہے"۔
 ایک مرتبہ یہ ذکر ہو رہا تھا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ تہتر فرقوں میں سے بہتر ناری ہیں اور ایک ناجی، جب آپ علیہ الرحمہ سےاس فرقے کے متعلق پوچھا گیاتو آپ علیہ الرحمہ رحمۃ اللہ علیہ نے دریافت کیا کہ حسد کے کتنے عدد ہیں،حاضرین نے عرض کیاکہ حسد کے عدد بہتر 72 ہیں ،یہ سن کر آپ علیہ الرحمہ نےفرمایا"پس جو فرقہ حسد سے باہر ہے وہ ناجی ہے"۔

حضرت سید وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے 50 ملفوظات: آپ رحمۃ اللہ علیہ کے چند معروف ملفوظات پیش کیے جا رہے ہیں، جو آپ کی تعلیمات اور ملفوظات کے مختلف مجموعوں میں منقول ہیں:

·      اللہ تعالیٰ کی محبت ہی بندے کی اصل دولت ہے۔

·      اخلاص کے بغیر کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں۔

·      ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو، غفلت دل کو مردہ کر دیتی ہے۔

·      نفس سے جہاد کرنا سب سے بڑا جہاد ہے۔

·      مخلوق کی خدمت، خالق کی رضا کا ذریعہ ہے۔

·      تکبر انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور کر دیتا ہے۔

·      عاجزی اختیار کرو، اللہ تعالیٰ عاجزوں کو بلند فرماتا ہے۔

·      ہر حال میں صبر اختیار کرو، صبر کامیابی کی کنجی ہے۔

·      توکل کرنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔

·      دنیا دل میں نہیں، ہاتھ میں ہونی چاہیے۔

·      ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔

·      محبتِ رسول ﷺ ایمان کی روح ہے۔

·      سنتِ نبوی ﷺ پر عمل ہی نجات کا راستہ ہے۔

·      اپنے عیب دیکھو، دوسروں کے عیب نہ تلاش کرو۔

·      خاموشی بہت سے گناہوں سے بچا لیتی ہے۔

·      رزق کی فکر سے زیادہ رزاق کی رضا کی فکر کرو۔

·      دل کو ذکرِ الٰہی سے زندہ رکھو۔

·      حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔

·      سچا مرید وہ ہے جو اپنے مرشد کی تعلیم پر عمل کرے۔

·      ریاکاری عبادت کو برباد کر دیتی ہے۔

·      ہر انسان کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آؤ۔

·      غریبوں کی خدمت اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔

·      جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اصلاح کی راہ پا لی۔

·      دل میں کینہ نہ رکھو۔

·      معاف کرنا اہلِ ایمان کی صفت ہے۔

·      قناعت سب سے بڑی دولت ہے۔

·      محبت میں اخلاص ضروری ہے۔

·      زبان کو جھوٹ اور غیبت سے بچاؤ۔

·      نماز بندے اور رب کے درمیان مضبوط تعلق ہے۔

·      دعا مومن کا ہتھیار ہے۔

·      ہر مصیبت میں اللہ تعالیٰ کی حکمت تلاش کرو۔

·      علم کے ساتھ عمل ضروری ہے۔

·      جس دل میں محبتِ الٰہی ہو، وہاں دنیا کی محبت کم ہو جاتی ہے۔

·      دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرو۔

·      جو اللہ تعالیٰ کے لیے جھکتا ہے، اللہ اسے بلند کرتا ہے۔

·      غصے کو پی جانا ایمان کی علامت ہے۔

·      رزقِ حلال میں برکت ہے۔

·      ہر نعمت کو امانت سمجھو۔

·      دل کی صفائی ظاہری صفائی سے زیادہ اہم ہے۔

·      اللہ تعالیٰ کے دوست وہ ہیں جو اس کی مخلوق سے محبت کرتے ہیں۔

·      ہر وقت موت کو یاد رکھو۔

·      اپنے اعمال کا روزانہ محاسبہ کرو۔

·      سچی توبہ انسان کو پاک کر دیتی ہے۔

·      عبادت میں لذت اخلاص سے پیدا ہوتی ہے۔

·      فقیری اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جب اس میں رضا شامل ہو۔

·      اپنے دل کو بغض اور نفرت سے پاک رکھو۔

·      اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہنا سعادت ہے۔

·      ہر سانس کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھو۔

·      عشقِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ ہی روح کی حقیقی غذا ہیں۔

بندگی کا کمال یہی ہے کہ بندہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہے اور اس کا شکر ادا کرے۔

وصال مبارک :؍١ صفر المظفر 1323 ہجری مطا بق 30؍ مارچ 1904ء کو آپ علیہ الرحمہ کوز کام کی شکا یت ہوئی، وصال سے ایک دن قبل آپ علیہ الرحمہ نے اپنے ایک مرید سے فرمایا ، ہم کل صبح چار بجے چلیں گے،آپ30؍ محرم الحرام 1323 ھ بمطا بق 11؍ اپریل 1905ء کو رحمتِ حق میں پیوست ہو گئے۔ مزارِ پُر اَنوار دیوا میں فیوض وبرکات کا سرچشمہ ہے۔