حضرت مخدوم شاہ صفی چشتی علیہ الرحمہ

 

صفی پورضلع اناؤ کاقدیم ترین قصبہ ہے،جوانائو سے ۲۷؍کلومیٹر جانب مغرب واقع ہے اوراناؤ شمالی ہندکے کثیرآبادی والے صوبہ اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے جانب جنوب ۶۴؍کلومیٹر کی دوری پرواقع ہے۔ اس قصبہ کاپرانانام ’’سائیں پور‘‘ تھا۔

آٹھویں صدی ہجری میں ایک درویش کامل حضرت مولانا شیخ اکرم عثمانی سہروردی قدس سرہ (م ۷۹۵ھ/ ۱۳۹۳ء) یہاں تشریف لا ئے، جن کی کاوشوں سے اس خطے میں شمعِ توحید روشن ہوئی۔ آپ کی تیسری پشت میں مخدوم شاہ صفی قدس سرہٗ کی ولادت ہوتی ہے، جن کے نامِ نامی سے موسوم ہوکر یہ قصبہ سائیں پور سے صفی پور ہوگیا۔ مخدوم صاحب کی ولادت نویں صدی کے آخری رُبع تقریباً ۸۸۰ھ / ۱۴۷۵ء میں ہوئی۔ 

خاندانی پس منظر: آپ کا نام نامی  عبدالصمد اور عرفیت صفی ہے۔ والد ماجد مولانا شیخ عَلَم الدین بن شیخ زین الاسلام عثمانی کا شمار اُس عہد کے نامور مشائخ میں ہوتا تھا۔ آپ کے آباء واجداد ظاہری وباطنی خوبیوں کے جامع اورفقرودرویشی کے امین تھے اور طریقۃً سہروردی نسبت کے حامل بزرگ تھے۔ مولانا شیخ علم الدین کو اپنے والدبزرگوار حضرت شیخ زین الاسلام قدس سرہ سے اجازت و خلافت تھی جن کو اپنے والد ماجد حضرت مولانا شیخ اکرم سہروردی قدس سرہٗ (۷۹۵ھ / ۱۳۹۳ء) سے اجازت و خلافت تھی اور انہیں روحانی نعمت اپنے والد مولانا شیخ علی قدس سرہٗ سے حاصل ہوئی۔

نسب نامہ: آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ سوم امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ دستیاب اسما درج ذیل ہیں: حضرت مخدوم شیخ عبدالصمد عرف شاہ صفی بن مولانا شیخ علم الدین بن شیخ زین الاسلام بن شیخ اکرم بن شیخ علی بن شیخ نور بن شیخ عبد اللہ قدَّس الله أسرارهم( راقم کودست یاب نہ ہوسکا۔)

تعلیم وتربیت : ابتدائی تعلیم والد ماجد مولانا شیخ علم الدین قدس سرہ کے زیر سایہ صفی پور میں ہی ہوئی۔ ۱۲ - ۱۳ سال کی عمر میں خیرآباد تشریف لے گئے اور وارثُ الانبیاء والمرسلین مخدوم شیخ سعد الدین خیر آبادی قدس سرہ (م: ۹۲۲ھ /۱۵۱۶ء)کے مدرسے میں حاضر ہوئے اور حصول تعلیم میں مصروف ہو گئے ۔ ایک روز قطب العالم مخدوم شیخ سعد قدس سرہٗ کی نظر آپ پر پڑی تو آپ کو بلایا اور نام پوچھا۔ آپ نے ’’عبد الصمد عرف صفی بن مولانا علم الدین‘‘ بتایا تو سکونت دریافت کی۔ آپ نے ’’سائیں پور‘‘ بتایا۔ حضرت قطب العالم آپ کے والد ماجد مولانا علم الدین سے واقف تھے۔فرمایا کہ اب سے تم ہمارے پاس پڑھا کرو، کسی اور کے پاس مت پڑھو۔ہم خود تمھیںتعلیم دیں گے۔ اس دن سے آپ حضر ت مخدوم کی خدمت میں حاضر رہنے لگے اور ان سے تعلیم حاصل کرنے لگے۔ کچھ روز بعدحضرت مخدوم نے فرمایا کہ تم باورچی خانے میں مت کھایا کرو، ہمارے ساتھ کھایا کرو۔ حضرت قطب العالم روزہ رکھا کرتے تھے، اکثر فاقہ کشی کرتےاور دوسرے تیسرے روز کھانا تناول فرماتے۔ چنانچہ حضرت مخدوم شاہ صفی بھی آپ کے ساتھ کھانا کھانے لگے اوربھوک پیاس کی سختی برداشت کرنے لگے۔اس طرح آپ نے اپنے استاذ گرامی اور پیر و مرشد کی خدمت واطاعت میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں کی۔

بیعت و اجازت: آپ نے قطب العالم حضرت مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی کے دست مبارک پر بیعت کی اور آپ ہی سے ۹۱۶ھ میں خرقۂ خلافت پہنا۔

مقبولیت: آپ اپنے پیرو مرشد کی بارگاہ میں بہت مقبول تھے۔ بارگاہ شیخ میں آپ کی مقبولیت و محبوبیت کے بہت سے واقعات کتابوں میں درج ہیں۔ بڑے صاحب جلال تھے، جس پر نظر پڑجاتی وہ دیر تک بے خود رہتا۔ 

تواضع: انکسار و عاجزی کا یہ حال تھا کہ حضرت مخدوم شیخ سعد کی خانقاہ میں ’’صفیا‘‘نامی ایک غلام تھا، جب کوئی اسے آواز دیتا تو آپ جواب دے دیتے اوریہ خیال نہ فرماتے کہ آپ کو اس طرح کون پکارے گا!

اطاعت مرشد: ایک مرتبہ حضرت مخدوم شیخ سعد نے آدھی رات کو آپ سے فرمایا کہ اس وقت مولی کہیں سے مل سکتی ہے؟ آپ نے اس وقت یہ نہیں عرض کیا کہ آدھی رات کا وقت ہے اور مولی کی فصل بھی نہیں ہے! بلکہ فوراً عرض گذار ہوئے کہ جا کر تلاش کرتا ہوں۔ آپ آدھی رات کو خیر آباد کی ایک ایک گلی گھومتے رہے اور ایک محلے سے دوسرے محلے میں جاتے مگر کوئی دروازہ کھلا ہوا نہیں تھا اور نہ کوئی بیدار تھا کہ دریافت کریں، آخر تھک گئے اور ایک جگہ پر بیٹھ کر رونے لگے۔ ایک شخص کی آنکھ کھل گئی، اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ کوئی درد مند رو رہا ہے خبرلینی چاہیے۔وہ شخص گھر سے باہر نکلا اور پوچھا کون ہو اور کیوں رو رہے ہو؟ آپ نے بتایا: مجھ کومولی درکار ہے۔ اس نے کہا کہ مولی کی فصل نہیں ہے! اس گفتگو میں دو تین آدمی اور جمع ہوئے۔ ایک عورت نے کہا کہ میں نے فلاں کے گھر میں مولی لگی ہوئی دیکھی ہے۔ سب مل کر اس شخص کے دروازے پر گئے اور اہل خانہ کو بیدار کر کے ماجرا بتایا، چنانچہ صاحب خانہ دو مولیاں لے آیا، لوگوں نے پانی سے صاف کر کے آپ کو دیں۔ آپ اپنے پیرو مرشد مخدوم شیخ سعد کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ حضرت مخدوم شیخ سعد نے آپ سے فرمایا: تم سے ہر دشوار کام اور ہر مشکل مہم ان شاء اللہ آسان ہو جائے گی۔

تجرد: اپنے پیرومرشد کی طرح آپ بھی مجرد و غیر شادی شدہ رہے۔ اس حوالے سے صاحب عین الولایت ایک حکایت نقل کرتے ہیںکہ ایک روز آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر کمر بند باندھ رہے تھے، اسی دوران حضرت مخدوم شیخ سعد نے آپ کو آواز دی، آپ نے جواب دیا۔ پیرومرشد نے دریافت کیا کہ کیا کر رہے ہو؟ آپ نے عرض کیا کہ کمر بند باندھ رہا ہوں۔ فرمایا: مضبوط باندھنا۔ آپ نے جواب دیا کہ ان شاء اللہ قیامت تک نہ کھلے گا۔ چنانچہ عمر بھر آپ مجرد رہے۔

 دوسری طرح اس کرامت کا ظہور یوں ہوا کہ جب آپ نے رحلت فرمائی تو کمر بندکی گرہ نہیں کھلی، اسے چاقو سے کاٹاگیا۔ وہ خرقۂ متبرکہ مع کمر بند مخدومی حضرت عین اللہ شاہ عرف شاہ خلیل احمد صفی پوری (۱۳۴۰ھ / ۱۹۲۱ء) کی خانقاہ کے تبرکات میں موجود ہے، وہ گرہ ویسی ہی لگی ہوئی ہے۔ 

اسی طرح آپ نے رحلت فرماتے وقت ایک کاغذی لیموں چوسا تھا اس کا چھلکا بھی اسی خرقۂ متبرکہ کے ساتھ وہیں موجود ہے۔ اس سال (۱۴۴۲ھ) تک ۴۹۷؍ برس گذر گئے ہیں لیکن آج تک یہ دونوں تبرکات بجنسہ رکھے ہوئے ہیں۔ لیموں اب کسی قدر سیاہ ہو گیا ہے اور اس پر چاقو کا خط مثلث شکل کا ویساہی بنا ہوا ہے۔ راقم (حسن سعید صفوی) نے حضرت شاہ خلیل میاں کے آستانۂ شریفہ پر ان تبرکات کی زیارت کی ہے۔ حضرت شاہ محمد عزیز اللہ صفی پوری فرماتے ہیںسنا جاتاہے کہ ایک بار کوئی عالم کہیں سے آئے تھے، انہوںنے کہا کہ یہ سب واہیات بے اصل ہے، ہم اس گرہ کو کھول دیں گے! جس وقت خرقۂ متبرکہ کی زیارت کو گئے اور چاہا کہ گرہ کھولنے کے واسطے ہاتھ بڑھاویں دونوں ہاتھ خشک ہو گئے، لا محالہ بجز توبہ کے کچھ نہ بن پڑی،

استغناء: حضرت مخدوم صاحب نے کسی بادشاہ، امیر یا وزیر سے کوئی جاگیر قبول نہیں کی۔( ) بادشاہِ وقت ہمایوں (۱۵۰۸ - ۱۵۵۶ء) آپ کی زیارت کے قصد سے روانہ ہوا، لیکن آپ نے اپنی ہمت و توجہ سے اسے خدمت میں حاضر ہونے سے باز رکھا۔ حضرت شاہ محمد عزیز اللہ صفی پوری نے اس واقعے کی جو تفصیل درج کی ہے، وہ حسب ذیل ہےہمایوں بادشاہ جب لکھنؤ پہنچا تو وہاں آپ کا شہرہ سن کر ملاقات کا خواہش مند ہوا۔ آپ کو معلوم ہوا تو فرمایا: ’’ گدھے نے ماری لات، ہمایوں جائے پڑا گجرات!‘‘ جب وہ لکھنؤ سے لوٹنے لگا تو صفی پور کے پاس اس کی آنکھ لگ گئی۔ ملازمین ادب کی وجہ سے بیدار نہ کرسکے ، چنانچہ شاہی سواری صفی پور کے پاس سے گزر گئی۔ جب فتح پور چوراسی پہنچا تو بیدار ہوا۔ معلوم ہوا کہ صفی پور پیچھے رہ گیا۔ اسی وقت گجرات سے کوئی بری خبر آپہنچی، لا چار وہاں کا قصد کیا اور کہا کہ شاید حضرت شاہ صفی کو میرا آنا منظور نہیں ہوا۔پھر دو بہت خوبرو نوجوان کنیزیں زیورات سے آراستہ مع نذر ، وزیر کےہمراہ روانہ کیں کہ یہ دونوں آپ کی خدمت کے لیےحاضر ہیں۔جس وقت وزیرآپ کی خدمت میں پہنچا اس وقت آپ وضو کر رہے تھے۔آپ نے ان دونوں کنیزوں کو ایسی پُر تاثیر نگاہ سے دیکھا کہ ان دونوں نےاسی وقت لاالہ الا اللہ کہہ کر شاہی پوشاک اور زیور کو اتار کر اللہ کی راہ میں تقسیم کردیا اور تنگ پائچوں کا پائجامہ اور زانو تک پیرہن اور دو پٹہ اوڑھ کرایک پانی بھرنے لگی اور دوسری جھاڑو دینے کی خدمت میں مصروف ہو گئی۔جب وزیر رخصت ہونے لگا تب آپ نے نذر کو واپس کیا اور تھوڑے سے تنکے مصلے کے اس کو دیے۔ اس نے جا کر ہمایوں کو پیش کیا۔ہمایوں نے کہا: گجرات میں ہماری فتح ہوگی اور چھاؤنی بنے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ دونوں کنیزیں عمر بھر خانقاہ شریف میں اپنی اپنی خدمتیں انجام دیتی رہیں۔ ان دونوں کی قبریں درگاہ شریف میں موجود ہیں۔اناؤ ڈسٹرکٹ گزٹ میں اس واقعہ کی تاریخ ۱۵۳۴ء مذکور ہے۔ ترجمہ: کہا جاتا ہے کہ دہلی کا بادشاہ ۱۵۳۴ء (۹۴۰ھ) میں آپ کی زیارت کے لیے آیا تھا۔

سماع : مخدوم صاحب اپنے پیرانِ طریقت کی طرح ہی صاحبِ سماع تھے۔ البتہ مجالسِ سماع میں کوئی نا اہل شخص نظر آتا تو آپ وجد وکیف کا اظہار نہ فرماتے۔ ایسے ہی قوالوں کو سماع سننے کی غرض سے بھی نہ طلب فرماتے، کوئی از خود حاضر ہوتا اور سماع و نغمہ سناتا تو انکار نہ فرماتے۔آپ کے دست گرفتہ حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی سماع کے سلسلے میں آپ کا عمل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیںحضرت پیر دستگیر مخدوم شاہ صفی  علیہ الرحمہ  ایسی مجلس کہ جس میں کوئی شخص صرف سماع و رقص کو دیکھنے کے لیے آیا ہوتا اس میںآپ وجد و رقص نہ فرماتے اور بالکل جنبش نہ کرتے۔ نیز سماع کے لیے قوالوں کو خاص طور سے طلب نہ فرماتے۔ ایسے ہی اگرچہ صاحبانِ وجد صوفیہ خانقاہ میں حاضر ہوتے اور قوال بھی موجود ہوتا پھر بھی مشائخ کے عرس کے لیے خاص سماع کی محفل کا انعقاد نہ کرتےاور اگر کہیں سے قوال توبہ وبیعت کے لیے یا قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتے اور نغمہ سناتے اور اس وقت اگر کسی صوفی پر وجد وکیف طاری ہوتا یا خود آپ کو رقت ہوتی اور حظ حاصل ہوتا، اس وقت مجلسِ سماع و نغمہ منعقد ہوتی اور اس کا خصوصیت کے ساتھ انکار بھی نہ فرماتے، کیوں کہ وقت کی پہچان اور علم معرفت کے دقائق سے آشنائی صاحبانِ بصیرت کے ساتھ خاص ہے۔ جو علم و عمل ان حضرات کو حاصل ہے اُس کو یہی لوگ بہتر جانتے ہیں۔

 حضرت میر عبد الواحد بلگرامی فرماتے ہیں"بادشاہ بابر [۱۴۸۳ - ۱۵۳۰ء] کے عہد میں چند مغل پیر دستگیر مخدوم شاہ صفی علیہ الرحمہ  سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ دوران ملاقات سیادت کی صحت پر گفتگو ہونے لگی۔ مغلوں نے ہندوستان میں صحیح النسب سادات کے وجود کا انکار کیا اور کہا کہ یہاں کوئی سید نہیں ہے۔مخدوم صاحب نے انہیں بہت سمجھایا لیکن وہ ماننے پر آمادہ نہیں تھے۔ کہنے لگے کہ ہمارے ملک میں صحیح الاصل متقی و متدیّن زاہد و عابد سادات ہیں، جن کی سیادت کی علامت یہ ہے کہ ان کے بال آگ میں نہیں جلتے ۔

 مخدوم صاحب نے فرمایا: ہندوستان میں بھی ایسے سادات موجود ہیں۔

مغلوں کو مزید تعجب ہوا اور انہیں لگا کہ شیخ بڑا بول بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی ایک کو پیش کیجیے۔

 حضرت مخدوم نے اس فقیر کے چچا جن کا نام طاہر تھا اور سید طٰہ کہا جاتا تھا کو طلب فرمایا۔

 چوں کہ وہ سراپا طاہر تھے لہٰذا مخدوم صاحب نے ان کے کاکل کا ایک حصہ کاٹا اور آگ پر رکھ دیا۔ دیر تک آگ پر رکھنے کے بعد جب اٹھایا تو ایک ذرہ بھی اس میں نہیں جلا تھا اور ویسے کا ویسا ہی تھا۔

 مغلوں کو بڑی شرمندگی ہوئی۔کبھی وہ مخدوم صاحب کے پاؤں پڑتے اور کبھی سید طٰہ کے قدموں پر گرتے۔

سید طٰہ بلگرامی قدس سرہٗ کا وصال پیر ومرشد کی حیات میں ہی ہو گیا تھا، ان کا مزار مبارک مخدوم صاحب کے روضے کےپائیں جانب واقع ہے۔ 

آپ کے تمام خلفا صاحبان کمال اور ذی علم حضرات تھے۔ حضرت میر عبد الواحد بلگرامی فرماتے ہیں: حضرت مخدوم شاہ صفی قدس سرہ کے تمام خلفا عالم تھے۔ آپ نے کسی جاہل کو خلافت نہیں دی۔ 

عین الولایت میں مذکور خلفا کے اسما درج ذیل ہیں

۱۔حضرت بندگی شیخ مبارک جاجموی قدس اللہ سرہ(خواہرزادہ وسجادہ نشین)

۲ ۔حضرت سیدنظام الدین عرف مخدوم الہدیہ خیرآبادی قدس سرہ 

۳۔حضرت شیخ فضل اللہ گجراتی قدس اللہ سرہ

۴۔حضرت شیخ حسین محمدسکندرآبادی قدس اللہ سرہ

۵۔حضرت شیخ مبارک سنڈیلوی قد س سرہٗ 

۶۔حضرت شیخ محمد مانو جگوری قدس سرہٗ 

۷۔حضرت شیخ اﷲدیہ جنولی قدس سرہٗ 

۸۔حضرت سیدحسن محمد اودھی قدس سرہٗ 

۹۔حضرت شیخ حاجی منڈھن آسیونی قدس سرہٗ 

۱۰۔حضرت شیخ جان سانڈھوی قدس سرہٗ 

۱۱۔حضرت میر ابراہیم بلگرامی قدس سرہٗ(والدماجد حضرت میر عبد الواحد بلگرامی)

۱۲۔حضرت میر طاہر عرف سید طٰہٰ بلگرامی قدس سرہٗ

۱۳۔حضرت شیخ پیارہ کنجوی قدس سرہٗ 

 ۱۴۔حضرت شیخ ابوالفتح آسیونی قدس سرہٗ 

۱۵۔حضرت شیخ جانوکاکوروی قدس سرہٗ 

۱۶۔حضرت سیدجیو موہانی قدس سرہٗ 

۱۷۔حضرت شیخ عبدالغنی فتح پوری قدس سرہٗ 

۱۸۔حضرت شیخ کمال الدین پھول قدس سرہٗ 

تاریخ وصال: آپ کا وصال 19  محرم الحرام کو ہوا۔


No comments:

Post a Comment