حضرت شیخ ابونصر موسیٰ جیلانی علیہ الرحمہ

 

ولادت باسعادت : آپ علیہ الرحمہ کی ولادت ِ باسعادت ماہ ربیع الاول 535ہجری میں ہوئی ۔آپ علیہ الرحمہ کواپنے عہد میں زبردست فقاہت اور علم حدیث میں مہارتِ تامہ کی وجہ سے ’ سراج الفقہاء ‘ اور ’ زین المحدثین ‘ کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے ۔

تعلیم و تربیت : فقہ اور حدیث کی تعلیم اپنے والد ِ گرامی سیدنا غوث الثقلین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے حاصل کی نیز بغداد کے دیگر محدثین میں سے شیخ سعید بن النباء رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث ِ مبارکہ کا سماع کیا ۔آپ علیہ الرحمہ عظیم الشان اور رفیع المقام بزرگ تھے ۔آپ علیہ الرحمہ کو گوشہ نشینی اور خاموشی بہت پسند تھی ۔بڑے بڑے طویل مراقبے کیے کرتے تھے ،مزاج میں فروتنی اور انکسار حد سے زیاد تھا۔بغداد سے قیام ترک کرکےکچھ مصر میں رہے کر دمشق میں قیام پذیر ہوگئے ۔دمشق اور مصر کی جامعات میں ایک عرصہ تک درس حدیث دیتے رہے ۔آپ علیہ الرحمہ طلباء پر نہایت شفیق تھے ، مخلوق خدا نے آپ علیہ الرحمہ سے بہت استفادہ کیا ۔آپ علیہ الرحمہ کی مکمل زندگی صبر وضبط کا پیکر تھی۔ زندگی میں بے شمار حوادث اور امراض کا سامنا ہوا لیکن ہمیشہ صابر وشاکر رہے ۔

قلائد الجواہر میں علامہ محمد یحییٰ تادنی رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ عمر بن حاجب رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھا : ’’شیخ ابونصر موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ حنبلی المذہب ، شیخ حدیث ، زاہد ،متورع اور ممتاز لوگوں میں سے تھے۔

آپ  رحمۃ اللہ علیہ کی علمی خدمات بنیادی طور پر حدیث، فقہ، تدریس اور روحانی تربیت کے میدان میں تھیں۔ اگرچہ آپ کی تصنیفات بہت کم محفوظ ہیں، لیکن سوانح نگاروں نے آپ کو اپنے دور کے ممتاز علماء میں شمار کیا ہے۔

1۔علمِ حدیث کی خدمت:

·      آپ اپنے زمانے کے جلیل القدر محدث تھے۔

·      آپ نے حدیثِ نبوی کی روایت، تدریس اور اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔

·      متعدد طلبہ نے آپ سے احادیث روایت کیں۔

2۔ فقہِ حنبلی کی ترویج

·      آپ فقہِ حنبلی کے ماہر عالم تھے۔

·      فقہی مسائل کی تعلیم دیتے اور طلبہ کی رہنمائی فرماتے تھے۔

·      بغداد اور دمشق کے علمی حلقوں میں آپ کی فقاہت کا اعتراف کیا جاتا تھا۔

3۔ تدریس و تربیت:

·      آپ نے اپنے والد حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ علمی و دینی سلسلے کو آگے بڑھایا۔

·      طلبہ کو قرآن، حدیث، فقہ اور آدابِ شریعت کی تعلیم دی۔

·      آپ کی مجلس میں علم کے ساتھ ساتھ اخلاق اور تزکیۂ نفس کی بھی تربیت ہوتی تھی۔

4۔ دین کی تبلیغ و اصلاح:

·      وعظ و نصیحت کے ذریعے لوگوں کو شریعت پر عمل، تقویٰ اور اخلاص کی دعوت دیتے تھے۔

·      آپ کی زندگی علم اور عمل کا حسین نمونہ تھی، جس سے عوام اور خواص دونوں فیض یاب ہوتے تھے۔

5۔ قادری علمی روایت کی حفاظت:

·      آپ نے اپنے والد کے علمی اور روحانی فیضان کو محفوظ رکھنے اور اگلی نسل تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

·      آپ کے ذریعے قادری خاندان کی علمی روایت مضبوط ہوئی اور بعد کے علماء نے اس سے استفادہ کیا۔

علماء کی آراء: مؤرخین نے آپ کو شیخ الحدیث، فقیہ، زاہد، عابد اور متقی قرار دیا ہے۔ آپ کی شہرت صرف حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی ذاتی علمی قابلیت، تدریسی خدمات اور تقویٰ کی بنا پر بھی تھی۔

اقوال زریں : آپ سے منقول چند نصیحتیں اور ارشادات تذکرہ نگاروں نے نقل کیے ہیں، جن میں سے یہ مشہور ہیں:

علم وہی نفع دیتا ہے جس پر عمل کیا جائے، اور عمل وہی قبول ہوتا ہے جو اخلاص کے ساتھ ہو۔

اللہ تعالیٰ کی رضا دنیا کی ہر نعمت سے بہتر ہے، لہٰذا ہر حال میں اسی کی رضا طلب کرو۔

اولیائے کرام کی صحبت اختیار کرو، کیونکہ ان کی مجلس دلوں کو زندہ کرتی ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتی ہے۔

جس نے اپنے نفس کی اصلاح کر لی، اس کے لیے لوگوں کی اصلاح آسان ہو جاتی ہے۔

وصال مبارک : آپ علیہ الرحمہ نے یکم جمادی الاخری 618ہجری ( ایک قول پر 602ہجری ) میں دمشق میں وصال فرمایا ۔ مدرسہ مجاہدیہ میں آپ علیہ الرحمہ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور دمشق کے مشہور مقام جہاں کبار اولیائے امت کے مزارات ہیں ’ جبل قاسیون‘ میں آپ علیہ الرحمہ کی تدفین ہوئی ۔اللہ تعالیٰ آپ علیہ الرحمہ کے صدقے سے عالم اسلام کی خیر فرمائے اور فیضان غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے ہمیں حظ ِ وافر عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم الامین ﷺ(مصادر : بہجۃ الاسرار، زبدۃ الآثار ، سیفنۃ الاولیا ، قلائد الجواہر ، سوانح سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ )


No comments:

Post a Comment