آپ رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے عظیم اولیائے کرام، جلیل القدر صوفی بزرگ اور سلسلۂ وارثیہ کے بانی ہیں۔
آپ علیہ
الرحمہ کا خاندان: آپ علیہ الرحمہ کے خاندان کے بزرگ نیشا پور کے رہنے والے تھے۔نیشا
پور سے سکو نت ترک کر کے ہندوستان آئے۔ آپ علیہ الرحمہ کے والدِ بزرگوار کا نام سیّد
قربان علی شاہ ہے۔ وہ دیواضلع بارہ بنکی (یوپی)میں رہتے تھے اور وہاں کے رئیسوں میں
اُن کا شمار تھا۔ وہ صوفی منش رئیس تھے۔
آپ علیہ الرحمہ کی ولادت: آپ
علیہ الرحمہ کی
ولادت 1234 ہجری میں دیوا شریف میں ہوئی۔ابھی آپ علیہ الرحمہ سن رشد کو نہ
پہنچےتھے کہ آپ علیہ الرحمہ کی والدۂ ما جدہ کا انتقال ہو گیا۔ آپ علیہ الرحمہ کے
والدِ بزرگوار کا انتقال آپ علیہ الرحمہ کی ولادت سے پہلے ہوچکا تھا۔
آپ علیہ الرحمہ کی تعلیم و تربیت: آپ علیہ الرحمہ کی
عمر جب پانچ سال کی ہوئی تو آپ علیہ الرحمہ کی تعلیم با قا عدہ شروع ہوئی۔ مکتب جا
نے لگے،آپ علیہ الرحمہ نے قرآنِ مجید سات سال کی عمر میں حفظ کیا۔عشق و محبّت کے
جذبات بچپن ہی سے جنگلوں اور ویرانوں میں لیے پھر تے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کا دل
شہر میں نہیں لگتا تھا۔
بیعت و خلا
فت: آپ علیہ الرحمہ اپنے بہنو ئی
حضرت سید خادم علی شاہ کے مرید اور خلیفہ ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ کے پیرو مرشد کا قیام
لکھنؤ میں رہتا تھا۔ ایک رات آپ علیہ الرحمہ نے خواب میں دیکھاکہ پیرو مرشد آپ
علیہ الرحمہ سے فرماتے ہیں کہ’’ سفر کرو‘‘۔
سیر و سیاحت: پیرو مرشد کا حکم پا کر اپنے وطنِ عزیز کو خیر باد کہا۔ دیوا سے
جے پور تشریف لائے، جے پور سے اجمیر شریف غریب نواز کے دربار میں حاضر ہو ئے۔
آستا نےمیں داخل ہونا چاہتے تھے کہ دروازےپر جو شخص بیٹھا ہوا تھا،اس نے آپ علیہ
الرحمہ سے کہا کہ جوتا پہن کر اندر جانا ادب کے خلاف ہے۔ آپ علیہ الرحمہ نے وہیں
جو تا اتار ا اور پھر ساری عمر جوتا نہیں پہنا۔اجمیر شر یف سے ممبئی تشریف لے گئے۔
ممبئی سے جدّہ گئے۔ ۲۹؍ شعبان ۱۲۵۳ھ کو مکہ معظّہ پہنچے۔ حج کا فریضہ ادا کر کے مد ینہ منوّرہ گئے۔
کچھ دن وہاں رہے، پھر رختِ سفر باندھا۔بیت المقدس دمشق، بیروت، بغداد، کاظمین ،
نجفِ اشرف، کربلائے معلّٰی، ایران، قسطنطنیہ کی سیاحت کرکے اور درویشوں سے مل کر
پھر مکہ پہنچے اور حج سے فارغ ہوکر افریقہ تشریف لے گئے۔وطن واپس آ کر آپ علیہ
الرحمہ نے دیکھا کہ مکان شکستہ ہو چکا ہے اور آپ علیہ الرحمہ کے سازو سامان پر آپ
علیہ الرحمہ کے رشتے دار قابض ہیں۔ ان کو یہ فکر ہوئی شاید آپ علیہ الرحمہ جائیداد
وغیرہ واپس لیں گے اور ممکن ہے عدالتی کارروائی کریں؛ لہٰذا، ان لوگوں کی بے
اعتنائی اور بے رخی سے آپ علیہ الرحمہ کو تکلیف پہنچی،آپ علیہ الرحمہ نے وطن میں زیادہ
قیام کرنا مناسب نہیں سمجھا۔آپ علیہ الرحمہ نے پھر رختِ سفر باندھا اور قرب و جوار
کے مختلف مقامات کو زینت بخشی۔ آپ علیہ الرحمہ جنگلوں، بیابانوں اور پہاڑوں میں
گھو متے اور قدرت کا مشا ہدہ کر تے تھے۔
کرامات: جب حضرت سید وارث علی شاہ
رحمۃ اللہ علیہ پہلی مرتبہ حجِ بیت اللہ کے لیے روانہ ہوئے تو جہاز میں فاقہ کشی کی
نوبت آگئی۔ کئی دن کے بھوکے رہنے کے بعد جب جہاز سمندر کے وسط میں پہنچا تو اچانک
رک گیا اور آگے بڑھنے سے عاجز ہوگیا۔ جہاز کا کپتان جو مسلمان تھا، خواب میں رسول
اکرم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “لوگ بھوکے ہیں اور تم پیٹ بھر کر
کھاتے ہو، یہ اسی کا وبال ہے۔” کپتان نے گھبرا کر مسافروں کی دعوت کی، سب نے کھایا
مگر حضرت سید وارث علی شاہ ایک گوشے میں بیٹھے ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے۔ دوسری
رات پھر کپتان نے وہی خواب دیکھا اور دوبارہ کھانا تقسیم کیا، لیکن تیسری رات بھی یہی
خواب آیا۔ اس پر کپتان نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اصل میں حضرت سید وارث علی شاہ
ہی وہ ہستی ہیں جو جہاز پر کھانا تناول نہیں فرما رہے۔ کپتان فوراً آپ کی خدمت میں
حاضر ہوا، ادب و احترام کے ساتھ کھانا پیش کیا اور معذرت طلب کی۔ آپ نے اللہ کے
نام پر کھانا قبول فرمایا اور اسی لمحے جہاز روانہ ہو گیا۔
حلقۂ ارادت:
آپ کے معروف خلفاء، مجازین یا ممتاز مریدین میں شمار کیے جاتے ہیں:
·
حضرت خواجہ عبدالغنی شاہ مجددی رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت حافظ کریم بخش رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت مولانا غلام یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت سید محمد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت شاہ محمد علی رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت خدا بخش شیخ رحمۃ اللہ علیہ (مریدِ خاص، بعض روایات میں مجاز)
·
حضرت سید محمد حسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت مفتی غلام سرور لاہوری رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت سید ضامن علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت سید نذر حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت سلطان عبدالمجید (ٹرکی) رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت شیخ مظہر علی رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت بد نام شاہ رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت میا ں جہا نگیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ
·
حضرت جسٹس مولوی شرف الدین رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ
آپ کی سیرت: آپ علیہ الرحمہ نے شادی نہیں کی آپ
علیہ الرحمہ جائیداد، مکان سازو سامان وغیرہ سے بے نیاز تھے۔ فقر میں بادشاہی کر
تے تھے۔ صابر و شاکر اور مستغنی تھے۔ روپے پیسے کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔ اگر کوئی
شخص آپ علیہ الرحمہ کو کوئی تحفہ پیش کرتا تو آپ علیہ الرحمہ اس سے بہتر چیز اس کو
عطا فرماتے تھے، عفو و کرم آپ علیہ الرحمہ کا شعار تھا، آپ علیہ الرحمہ کسی قسم کی
سواری پسند نہیں کرتے تھے۔ تانگے ،بگھی یکے، ریل اور جہاز میں نہیں بیٹھتے تھے،
کمزوری کے باعث پالکی میں با دلِ نا خواستہ بیٹھتے تھے۔ سنّت کے سخت پابند تھے۔ آپ
علیہ الرحمہ نے سیاحت بہت فرمائی، خوراک بہت کم تھی مدّتوں، ہفتے میں ایک بار
کھانا کھایا، پھر تیسرے روز کھانا کھانا شروع کیا۔کمزوری کے باعث روز یا دوسرے دن
تھوڑا سا کھا لیتے تھے۔ ثرید بہت شوق سے کھاتے تھے۔ کھانے کے بعد خلال کرتے اور
پھر ہا تھ دھوتے۔ آپ علیہ الرحمہ نے جب سے احرام باندھنا شروع کیا، پھر اتارا نہیں،
کربلا پہنچ کر آپ علیہ الرحمہ نے یہ طے کیا کہ تخت یا پلنگ پر نہ سو ئیں گے، تمام
عمر اس پر کاربند رہے۔
آپ رحمۃ
اللہ علیہ کی تعلیمات: آپ علیہ الرحمہ فرماتےہیں"جس عورت کا خاوند موجود ہو
اور اس کے پاس رہتا ہو، اسے کھانے پینے اور ضروریات کی پرواہ نہیں ہوتی۔خاوند خود
بخود اس کاانتظام کرتاہے، پھر جب خدا اقرب الیہ من حبل الورید تو انسان اپنی روزی
کےمتعلق کیوں پریشان ہوتاہے"۔
ایک مرتبہ یہ ذکر ہو رہا تھا کہ حدیث شریف
میں آیا ہے کہ تہتر فرقوں میں سے بہتر ناری ہیں اور ایک ناجی، جب آپ علیہ الرحمہ
سےاس فرقے کے متعلق پوچھا گیاتو آپ علیہ الرحمہ رحمۃ اللہ علیہ نے دریافت کیا کہ
حسد کے کتنے عدد ہیں،حاضرین نے عرض کیاکہ حسد کے عدد بہتر 72 ہیں ،یہ سن کر آپ
علیہ الرحمہ نےفرمایا"پس جو فرقہ حسد سے باہر ہے وہ ناجی ہے"۔
حضرت سید
وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے 50 ملفوظات: آپ رحمۃ اللہ علیہ کے چند معروف
ملفوظات پیش کیے جا رہے ہیں، جو آپ کی تعلیمات اور ملفوظات کے مختلف مجموعوں میں
منقول ہیں:
·
اللہ تعالیٰ کی محبت ہی بندے کی اصل دولت ہے۔
·
اخلاص کے بغیر کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں۔
·
ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو، غفلت دل کو مردہ کر دیتی ہے۔
·
نفس سے جہاد کرنا سب سے بڑا جہاد ہے۔
·
مخلوق کی خدمت، خالق کی رضا کا ذریعہ ہے۔
·
تکبر انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور کر دیتا ہے۔
·
عاجزی اختیار کرو، اللہ تعالیٰ عاجزوں کو بلند فرماتا ہے۔
·
ہر حال میں صبر اختیار کرو، صبر کامیابی کی کنجی ہے۔
·
توکل کرنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔
·
دنیا دل میں نہیں، ہاتھ میں ہونی چاہیے۔
·
ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔
·
محبتِ رسول ﷺ ایمان کی روح ہے۔
·
سنتِ نبوی ﷺ پر عمل ہی نجات کا راستہ ہے۔
·
اپنے عیب دیکھو، دوسروں کے عیب نہ تلاش کرو۔
·
خاموشی بہت سے گناہوں سے بچا لیتی ہے۔
·
رزق کی فکر سے زیادہ رزاق کی رضا کی فکر کرو۔
·
دل کو ذکرِ الٰہی سے زندہ رکھو۔
·
حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔
·
سچا مرید وہ ہے جو اپنے مرشد کی تعلیم پر عمل کرے۔
·
ریاکاری عبادت کو برباد کر دیتی ہے۔
·
ہر انسان کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آؤ۔
·
غریبوں کی خدمت اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔
·
جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اصلاح کی راہ پا لی۔
·
دل میں کینہ نہ رکھو۔
·
معاف کرنا اہلِ ایمان کی صفت ہے۔
·
قناعت سب سے بڑی دولت ہے۔
·
محبت میں اخلاص ضروری ہے۔
·
زبان کو جھوٹ اور غیبت سے بچاؤ۔
·
نماز بندے اور رب کے درمیان مضبوط تعلق ہے۔
·
دعا مومن کا ہتھیار ہے۔
·
ہر مصیبت میں اللہ تعالیٰ کی حکمت تلاش کرو۔
·
علم کے ساتھ عمل ضروری ہے۔
·
جس دل میں محبتِ الٰہی ہو، وہاں دنیا کی محبت کم ہو جاتی ہے۔
·
دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرو۔
·
جو اللہ تعالیٰ کے لیے جھکتا ہے، اللہ اسے بلند کرتا ہے۔
·
غصے کو پی جانا ایمان کی علامت ہے۔
·
رزقِ حلال میں برکت ہے۔
·
ہر نعمت کو امانت سمجھو۔
·
دل کی صفائی ظاہری صفائی سے زیادہ اہم ہے۔
·
اللہ تعالیٰ کے دوست وہ ہیں جو اس کی مخلوق سے محبت کرتے ہیں۔
·
ہر وقت موت کو یاد رکھو۔
·
اپنے اعمال کا روزانہ محاسبہ کرو۔
·
سچی توبہ انسان کو پاک کر دیتی ہے۔
·
عبادت میں لذت اخلاص سے پیدا ہوتی ہے۔
·
فقیری اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جب اس میں رضا شامل ہو۔
·
اپنے دل کو بغض اور نفرت سے پاک رکھو۔
·
اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہنا سعادت ہے۔
·
ہر سانس کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھو۔
·
عشقِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ ہی روح کی حقیقی غذا ہیں۔
بندگی کا
کمال یہی ہے کہ بندہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہے اور اس کا شکر ادا کرے۔
وصال مبارک
:؍١ صفر المظفر 1323 ہجری مطا بق 30؍ مارچ 1904ء کو آپ علیہ الرحمہ کوز کام کی شکا
یت ہوئی، وصال سے ایک دن قبل آپ علیہ الرحمہ نے اپنے ایک مرید سے فرمایا ، ہم کل
صبح چار بجے چلیں گے،آپ30؍ محرم الحرام 1323 ھ بمطا بق 11؍ اپریل 1905ء کو رحمتِ
حق میں پیوست ہو گئے۔ مزارِ پُر اَنوار دیوا میں فیوض وبرکات کا سرچشمہ ہے۔
No comments:
Post a Comment