Muslim Scienctist

تاریخ کے صفحات میں گم ہوجانے والے
چند مسلم سائنسداں

اس دور جدید میں ہم جب بھی کسی چیز کے مؤجد کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو وہ یقیناً    امریکہ، برطانیہ ، چین، فرانس، اٹلی، ہندوستان وغیرہ کا باسندہ ہوتا ہے لیکن ہم ان تمام ایجادات کے ماخذ کو ڈھونڈنے نکلیں بلاشبہ ہمیں مسلم سائنسداں ہی اس جدید سائنس کی بنیاد دکھائی دیں گے۔ آج کل کے اس  تیز رفتار دور میں ہم غیرمسلم مؤجدوں کو تو اچھی طرح جانتے ہیں لیکن مسلم مؤجدوں   کے متلق ہمارا علم صرف "سلام دعا" تک ہی محدود ہے ۔ جب ہم اسلامی سائنس کی تاریخ اٹھاکر دیکھتے ہیں تو ہمیں چند  ایک ایسے روشن ستاروں کے نام دکھائی دیتے ہیں جن کی روشنی سے آج بھی لوگ رہنمائی حاصل کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہمیں چند مسلم سائنس دانوں کے نام سرفہرست نظر آتے ہیں۔ 

علمُ الکیمیا    (Chemistry)

 اِسلام کی تاریخ میں علمُ الکیمیا کے باب میں خالد بن یزیدرضی اللہ عنہ  (704ء) اور امام جعفر الصادق یزید رضی اللہ عنہ (765ء) کی شخصیات بانی اور مؤسس کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں۔ نامور مسلم سائنسدان ’جابر بن حیان‘ (776ء) اِمام جعفر الصادق رضی اللہ عنہؓ ہی کا شاگرد تھا، جس نے کیمسٹری کی دُنیا میں اَنمٹ نقوش چھوڑے۔ مفروضہ اور تصوّر (hypothesis / speculation)کی بجائے اُنہوں نے تجزیاتی تجربیت (objective experimentation) کو رواج دیا اور اُن مسلم رہنماؤں کی بدولت ہی قدیم الکیمی (Alchemy) باقاعدہ سائنس کا رُوپ دھار گئی۔ evaporation، sublimation اور crystallization کے طریقوں کے موجد ’جابر بن حیان‘ ہی ہیں۔ اُن کی کتابیں بھی عرصۂ دراز تک یورپ کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں شاملِ نصاب رہی ہیں۔ ’جابر بن حیان‘ اور اُن کے شاگردوں کی سائنسی تصانیف The Jabirean Corpus کہلاتی ہیں۔ اُن میں کتابُ السبعین (The Seventy Books) اور کتابُ المیزان (The Book of Balance) وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔  اُن کے علاوہ ’ابو مشعر‘، ’سہروردی‘، ’ابنِ عربی‘ اور ’الکاشانی‘ وغیرہ کا کام بھی کیمسٹری کی تاریخ کا عظیم سرمایہ ہے۔ یہ سب علمی اور سائنسی سرمایہ عربی زبان سے لاطینی اور پھر انگریزی میں منتقل کیا گیا۔ چنانچہ زبانوں  کی تبدیلی سے مسلم سائنسدانوں کے نام بھی بدلتے گئے۔
 مثلاً الرازی کو Rhazes ،
 ابنِ سینا کو  Avicenna،
 ابوالقاسم کو  Abucasis
 ابنُ الھیثم  کو      Alhazen
غزالی کو Al Gazel وغیرہ  و غیرہ
 بنا دیا گیا۔ اِسی طرح عربی اِصطلاحات بھی تراجم کے ذریعے تبدیل ہو گئیں،  نتیجتاً   آج  کا کوئی مسلمان یا مغربی سائنسدان جب تاریخ میں اُن ناموں اور اصطلاحات کو پڑھتا ہے تو وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ یہ سب اِسلامی تاریخ کا حصہ ہے اور یہ اَسماء عربیُ الاصل (Arabic origin)  ہیں۔
 اِن حقائق کو جاننے کے لئے......

Prof. Hitti, History of the Arabs, pp.578-579 (London, 1974)
A and R. Kahane, The Krater and the Grail, Hermetic Sources of the Parzival, Urbana (Illinois, 1965).
3. Corbin, En Islamiranien vol.2, chap.4 (Paris, 1971)
F.A.Yates, Giordana Bruno and the Hermetic Tradition (London, 1964)
5. Syed Husain Nasir, Islamic Science (London, 1976)
George Sorton, An Introduction to the History of Science
Briffault, The Making of Humanity.
Schaclt. J and Bosworth C.E. The Legacy of Islam (Oxford, 1947)
Watt-W.M. and Cachina P, A History of Islamic Spain (Edinlwrgh)
Robert Gulick L.Junior, Muhammad, The Educator (Lahore, 19

فنونِ لطیفہ(Fine Arts)

 جہاں تک فنونِ لطیفہ کا تعلق ہے، قرآنِ مجید ہی کے شغف سے قرونِ وُسطیٰ میں ’فنِ خطاطی‘ (Calligraphy)کو فروغ ملا۔ مساجد کی تعمیر سے ’فنِ تعمیر‘ (Architecture)  اور’ فن تزئین و آرائش‘ (Decorative art)  میں ترقی ہوئی۔ حرمِ کعبہ، مسجدِ نبوی،  بیتُ المقدس، سلیمانیہ اور دیگر مساجدِ اِستنبول ترکی، تاج محل، قصرِ خُلد(بغداد)، جامع قرطبہ، الحمراء اور قصرُ الزہراء (اندلس) وغیرہ اِس فن کی عظیم تاریخی مثالیں ہیں۔









No comments:

Post a Comment