آپ علیہ الرحمہ کا اسم مبارک سید حامد اشرف ،کنیت:ابو مظفر ،اور لقب:اشرف العلماتھا۔( یہ لقب حضور حافظ ملت اشرفی علیہ الرحمہ نے دیا تھا)آپ کی ولادت با سعادت بروز جمعہ ۱۳۴۹ھ مطابق ۱۱/ جولائی ۱۹۳۰ء بمقام کچھوچھہ مقدسہ ہوئی۔ آپ کا پورا خاندان ظاہری و باطنی کمالات کا مرقع ہے ، آپ کے جد کریم محبوب ربانی ہم شبیہ غوث الاعظم سید علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی قدس سرہ(بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور) کی ذات بڑی دل آویز اور ہمہ گیر تھی ۔ آپ اعلی حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی سے معروف و مشہور ہیں ۔ آپ کے دو صاحبزادے تھے ، ایک حضرت سید شاہ احمد اشرف علیہ الرحمہ اور دوسرے حضرت سید شاہ مصطفی اشرف علیہ الرحمہ ۔مؤخر الذکر کے دو فرزند ہوئے ، ایک اشرف الاولیاء ابوافتح سید مجتبیٰ اشرف اشرفی مصباحی قدس سرہ اور دوسرے اشرف العلما ابوالمظفر سید حامد اشرف اشرفی مصباحی قدس سرہ ۔ یہ دونوں بھائی جلالۃ اعلم حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے ارشد تلامذہ سے تھے اور دونوں نے ہی متعدد مساجد و مکاتب کی بنا ڈالی اور فروغ مسلک اہل سنت کے لیے عظیم الشان مدارس قائم کیے ۔حضرت اشرف العلماء قدس سرہ نے علمی و روحانی ماحول میں آنکھیں کھولیں ، اپنے آبائی وطن کچھوچھہ مقدسہ میں ابتدائی درجات کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۰/ شوال المکرم ۱۳۶۵ھ میں ہندوستان کی شہرہ آفاق درس گاه جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں داخلہ لیا، جہاں آپ کے برادر اکبر حضور اشرف الاولیاء پہلے سے زیر تعلیم تھے ۔ اشرف العلما قدس سرہ کے اساتذہ اور فیض رسانوں میں جد کریم اور والد گرامی کے علاوہ ملک کے اکابر علماے کرام اور مشائخ عظام شامل ہیں ۔ ان میں بعض کے نام یہ ہیں: (۱) محدث اعظم ہند سید محمد کچھوچھوی قدس سره(۲)حافظ ملت جلالۃ العلم شاه عبدالعزیز اشرفی محدث مبارک پوری قدس سره( ۳) حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی قدس سره(۴) حضرت علامہ عبد الرؤف بلیاوی قدس سره (۵) رئیس المحققین مولانا محمد سلیمان اشرفی بھاگلپوری قدس سره وغیرہ اور آپ کی درس گاہ پرفیض سے استفادہ کرنے والے تلامذہ نے ہند سے لے کر عرب تک ، یورپ سے لے کر افریقہ کے صحرا تک تعلیمات اسلام کو پھیلانے ، فکر رضا کو عام کرنے اور مسلک اہل سنت کو متعارف کرانے میں ایک مثالی کردار ادا کیا ہے ۔آپ علیہ الرحمہ سے براہ راست استفادہ کرنے والے تلامذہ کی تعداد شمار سے باہر ہے ۔ کچھ قابل فخر تلامذہ جو دین متین کی قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں ، ان کے نام یہ ہیں شیخ الاسلام و المسلمین علامہ سید محمد مدنی میاں اشرفی جیلانی، خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی ، ڈاکٹر فضل الرحمن شرر مصباحی ، علامہ قمرالزماں عظمی مصباحی ، علامہ عبد الشکور مصباحی ، علامہ یاسین اختر مصباحی دامت برکاتہم العالیہ ۔ ان کے علاوہ ملک کے مقتدر علما و مشائخ اس فہرست میں شامل ہیں ۔آپ علیہ الرحمہ نے ۱۳۸۸ھ میں "دارالعلوم محمدیہ" کی بنیاد رکھ کر ایک انقلابی قدم اٹھایا۔ اللہ جل جلالہ نے اس کام میں پوری کامیابی عطافرمائی اور دارالعلوم محمدیہ بتدریج ترقی کرتے ہوۓ مہاراشٹر کی دینی تعلیم کا مرکز بن گیا۔ آپ علیہ الرحمہ نے دارالعلوم محمدیہ میں دورہ حدیث کے طلبہ کو زندگی کے آخری لحوں تک بخاری ومسلم کا درس دیتے رہے ۔ آج دارالعلوم محمدیہ کے فرزندان پوری دنیا میں آپ کے مشن کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ نے متعدد ادارے اور انجمن قائم کیے ، جس سے ایک منظم معاشرہ کی فضا ہموار ہوئی ۔ ان میں دارالقضاء والافتاء، دارالحدیث، فیضان اشرف برائے نشر و اشاعت ، دارالعلوم محمد و عصری ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اور کمپیوٹر سینٹر وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ان کے علاوہ ذکریا مسجد ممبئی میں جمعہ کے خطبات جو اردو اور عربی دونوں زبانوں میں مسلسل ہوتے تھے ، تحریر اور تقریر کے ذریعے سماج کی اصلاح کا فریضہ انجام دیا۔ آپ علیہ الرحمہ نے اپنے جد کریم حضور اعلی حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی قد س سرہ کی ہدایت پر امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے افکار و نظریات ،فقہ حنفی ، شریعت و طریقت اور تبلیغ دین اسلام کے مشن میں گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ آپ نے علما و صوفیا کی شیرازہ بندی ، اسلامی عقائد و نظریات اور مکاتیب اسلام کی آبیاری کی اور خانقاہوں کی احیا کا فریضہ انجام دیا، فقہ اسلامی کا انسائیکلو پیڈیا فتاوی رضویہ کی ترتیب و تدوین میں حصہ لیا۔ اور مجدد اعظم امام احمد رضا کی مذہبی فکر اور اشرفی خانقاہ کے روحانی کردار کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔ ملت اسلامیہ کی تاریخ میں نقش دوام ثبت کر کے ۱۸ صفر المظفر ١٤٢٥ھ مطابق ۱۹/ اپریل٢٠٠٤ء بروز جمعہ اپنے خالق و مالک سے جاملے۔انالله وانا اليہ راجعون
حضور اشرف العلماء سید حامد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ
•Blogger | •Independent | •Journalist | •Writter | •Teacher | •Social Activities & •Motivator Rts are not endorsement.
نویں صدی ہجری کی عظیم بزرگ قطب العالم مخدوم شاہ مینالکھنوی علیہ الرحمہ
نویں
صدی ہجری کی عظیم بزرگ
قطب
العالم مخدوم
شاہ مینالکھنوی علیہ الرحمہ
عرس کی تاریخ : 22 صفر
المظفر
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام مبارک شیخ محمد تھا۔ آپ
علیہ الرحمہ پیدائشی ولی تھے ۔آپ کی ولادت رمضان میں ہوئی اور آپ سیدنا ابوبکر
صدیق رضی اللہ عنہ کے نسب میں آتے ہیں، آپ کے والد کا نام قطب الدین بن عثمان
صدیقی علیہ الرحمہ تھا جو حضرت شیخ قوام الدین چشتی علیہ الرحمہ کے بہت چہیتے مرید
تھے ۔حضرت قوام الدین صاحب کو حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی صاحب
سے بیت و خلافت حاصل تھی اور اس کے علاوه مخدوم جہانیاں جہان گشت بخاری رحمۃ اللہ
علیہ سے بھی خلافت و اشغال و اذکار کی اجازت تھے ۔آپ بچپن میں رمضان کے مہینے میں
دودھ نہیں پیتے تھے اور جب آپ کی والدہ آپ کو سلا دیتی اور رات کو اُٹھ کر دیکھتی
تو آپ چارپائی کے نیچے سجدہ کی حالت میں ملتے تھے ۔۲ سال کی عمر میں آپ نے اپنے
والد سے کہا کہ، "یہ کوا چڑیاں اُڑ رہی ہے مجھ کو پکڑ کر دو"..آپ کے
والد نے چڑیوں کی طرف دیکھ کر کہا، "تم کو شیخ مینا بلا رہے "..اتنا
کہنا تھا کہ چڑیوں کا گروہ آپ کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور تب تک بیٹھا رہا جب تک آپ
نے جانے کا حکم نہیں دیا ۔
تعلیم و تربیت :- آپ علیہ الرحمہ
کو جب ۴ سال ۴ ماہ ہو گئے تو آپ کو مکتب بھیجا گیا تو استاد نے کہا، "کہو
الف" ۔تو آپ نے بولا، "الف".پھر استاد نے کہا کہ، "کہو
بے"..تو آپ نے فرمایا، "میں نے الف پڑھ لیا، اب بے کی حاجت نہیں ، میری
محبت صرف الف یعنی الٰہی سے ہے " ۔اور پھر آپ نے الف کے ساتھ دیگر حروف کے
اتنے مطلب اور رموز بتائے کہ لوگوں نے دانتوں تلے انگلی دبا لیا اور سب کو یقین ہو
گیا کہ آپ مادرزاد ولی اللہ ہے ۔پھر آپ حضرت قوام الدین چشتی صاحب کی خدمت میں ۷
سال رہے اور تعلیم و تربیت حاصل کرکے اس قدر درجہ کمال کو پہونچے کہ بڑے بڑے
علمائے کرام آپ سے دینی مسائل کے بارے میں تحقیق کراتے تھے ۔۱۵ سال کی عمر میں آپ
مخدوم قوام الدین چشتی صاحب کے مرید اور مخدوم سید راجو قتال علیہ الرحمہ کے خلیفہ،
"حضرت شیخ سارنگ علیہ الرحمہ " سے مرید ہوکر
خلافت حاصل کئے ۔آپ شیخ کی صحبت میں کمال درجہ کو پہونچ گئے اور آپ ہمیشہ تنگ
جگہوں پر عبادت کرتے تھے تاکہ شیطان کا حملہ نہ ہو اور آپ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے
۔آپ دنیاوی معاملات سے بلکل دور تھے اور تارک الدنیا تھے اسی لئے آپ نے نکاح بھی
نہیں کیا ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے پیر اور
دادا پیر کی مزار شریف پر لکھنؤ سے ۴۰ میل دور ننگے پاؤں پیدل جاتے تھے اور کبھی
کبھی لکڑی کی کھڑاؤ پہن کر جاتے تھے ۔آپ کی وفات ۲۳؍ صفر المظفرمطابق ۸۸۴ہجری کو
ہوئی ۔ آپ علیہ الرحمہ کا مزار شاہ مینا روڈ متصل میڈیکل کالج لکھنؤ ہے اور زیارت
گاہ خلائق ہے ۔
•Blogger | •Independent | •Journalist | •Writter | •Teacher | •Social Activities & •Motivator Rts are not endorsement.
امام اہلسنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ
امام اہلسنت اعلی حضرت امام احمد
رضا خان علیہ الرحمہ
عرس کی تاریخ : 25 صفر المظفر
قاطع کفر وضلالت ماحئی
بدعت، حامی سنیت،مجدد دین وملت امام اہلسنت اعلیٰ حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ
وقاری الحاج الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی الله عنہ کی ولادتِ
باسعادت 1272/ ہجری مطابق 14/ جون 1856/ عیسوی بروز ہفتہ بوقتِ ظہر شہر بریلی شریف
میں ہوئی۔
شجرہ نسب : امام احمد رضا
خان قادری فاضلِ بریلوی رضی الله تعالیٰ عنہ کا شجرہ نسب اس طرح ہے:
عبد المصطفیٰ احمد رضا
بن، مولانا محمد نقی علی بن، مولانا رضا علی بن، مولانا کاظم علی بن، مولانا شاہ
احمد اعظم بن، محمد سعادت یار خان بن، سعد الله خان رحمہم الله۔
پیدائشی وتاریخی نام : آپ
علیہ الرحمہ کا پیدائشی نام،، محمد،، اور تاریخی نام،، المختار،، ہے۔ آپ کے دادا
محقق اہل سنت حضرتِ علامہ رضا علی خان علیہ الرحمہ نے آپ کا نام احمد رضا تجویز
فرمایا اور اسی نام سے آپ مشہور ہوئے۔آپ علیہ الرحمہ نے اپنے اسم شریف کے ساتھ عبد
المصطفیٰ کا اضافہ فرمایا۔
تعلیم و تربیت: آپ علیہ
الرحمہ نے ابتدائی تعلیم مرزا غلام قادر بیگ سے حاصل کی اور دینیات کی مکمل تعلیم
اپنے والدِ ماجد محقق اہل سنت حضرتِ علامہ مولانا مفتی نقی علی خان علیہ الرحمہ سے
حاصل کی۔ آپ علیہ الرحمہ نے اپنی فطری ذکاوت کی بنا پر تیرہ سال دس مہینے اور پانچ
دن میں علومِ درسیہ سے فراغت حاصل کی۔آپ کے پیر و مرشد حضرت علامہ سید آلِ رسول
احمدی جن کا مزار مبارک مارہرہ شریف میں واقع ہے۔آپ نے چھ سال کی عمر میں معلوم
کرلیا تھا کہ بغداد شریف کدھر ہے، پھر اس وقت سے دم آخر تک بغداد شریف کی طرف پاؤں
نہیں پھیلائے۔
تصانیف: آپ علیہ الرحمہ کے
وسعت مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ آپ نے سماع موتیٰ کے جواز میں جو فتویٰ دیا ہے اس
میں دو سو ستاون ( 257) کتب کا حوالہ پیش کیا ہے۔ آپ علیہ الرحمہ نے فتویٰ رضویہ
کا جب خطبہ لکھا تو نوے (90) کتابوں کے ناموں کو اس صنعت کے ساتھ لکھا کہ وہی
اسماء خطبہ بن گیے۔دوسرا نقطہ یہ ہے کہ وہ نوے (90) کتابیں جو صرف فقہی احکام پر
مشتمل ہیں نہ صرف یہ کہ وہ سب آپ کی نگاہوں سے گزر چکی تھیں بلکہ ان کے مضامین پر
ذہن کی گرفت اتنی سخت تھی کہ کوئی بھی گوشہ آپ کے حاشیہ خیال سے اوجھل نہیں تھا۔اس
سے آپ علیہ الرحمہ کے وسعتِ مطالعہ اور قوتِ حافظہ کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔فقہ
میں آپ علیہ الرحمہ کی مشہور ومعروف کتاب،، فتویٰ رضویہ،، جو قدیم بارہ جلدوں پر
اور جدید تیس جلدوں پر مشتمل ہے اس کی ہر ایک جلد اپنی مثال آپ ہے۔
آپ
علیہ الرحمہ کو عشقِ رسول ﷺ نے مشہور زمانہ کردیا۔محبت رسول ﷺکا یہ عالم ہے کہ آپ
علیہ الرحمہ احادیث کی کتب کھڑے ہوکر پڑھایا کرتے اور پڑھنے والے بھی کھڑے ہو کر
پڑھتے۔ ( جاء الحق، صفحہ نمبر/ 256)
مسائلِ
حج پر آپ علیہ الرحمہ نے ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام ،، انوار البشارت فی
مسائلِ حج و زیارت،، ہے جو اس طرح ہے۔
فصل اول: آدابِ سفر،
مقدمات حج میں
فصل دوم: احرام اور اس کے
احکام داخل حرم محترم مکہ مکرمہ و مسجد حرام
فصل سوم: طواف وسعی صفا و مروہ
و بیان عمرہ
فصل چہارم: روانگی منی و وقوف
عرفات
فصل پنجم: منی و مزدلفہ و باقی
افعال حج
فصل ششم: جرم اور اس کے کفارے
وصل ہفتم: حاضری سرکارِ اعظم حضورِ اقدس ﷺاس رسالہ
میں حج کے مسائل کا بیان مکمل ہو جانے کے بعد جہاں زیارت روضہ رسول صلی الله
تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا تذکرہ شروع ہوا ہے وہاں جذبہ عشق کا تلاطم دیکھنے کے
قابل ہے۔ یہاں تک کہ امام احمد رضا خان قادری فاضلِ بریلوی رضی الله تعالیٰ عنہ کو
یہ بھی گوارہ نہیں ہے کہ جس ساتویں فصل میں وہ دیار حبیب صلی الله تعالیٰ علیہ
واٰلہٖ وسلّم کے آداب بیان کرنے جارہے ہیں اسے وہ فصل سے تعبیر کریں۔ بلکہ اس کو
سرکارِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے وصل سے تعبیر کیا ہے فصل ہفتم کے بجائے سرکار
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے وصل ہفتم کی سرخی قائم کی ہے۔
آپ
علیہ الرحمہ کی ذات "الحب فی لله والبغض لله" کی زندہ تصویر تھی ۔آپ کے
مزاج میں بہت شدت تھی کسی نے شدت کے بارے میں آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ حضور
ﷺ کی امت کے علما کو قرآن کی عزت کے سبب گرمی پیش آئے گی جو ان کے دلوں میں ہے۔
حج و رزیارت روضہ رسولﷺ: حدفسآپ علیہ الرحمہ نے 1296/ ہجری مطابق
1878/ عیسوی میں اپنے والدِ گرامی محقق اہل سنت حضرتِ علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ
کے ساتھ پہلا حج کیا۔دوسرا حج 1323/ ہجری مطابق 1906/عیسوی میں کیا، اس سفر حج میں
آپ نے شاہکار تصانیف ،،حسام الحرمین اور الدولتہ المکیہ اور کفل الفقیہ،، تصنیف
فرمائیں ۔سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کو دیکھنے کے بعد مکہ مکرمہ کے
ایک مشہور فاضل علامہ مفتی سید اسماعیل خلیل حافظ کتب الحرم نے لکھا کہ" خدا
کی قسم میں کہتا ہوں اگر ان کے فتویٰ کو حضرتِ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رضی الله تعالیٰ عنہ دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور اس کے لکھنے والے کو
اپنے تلامذہ میں سے بناتے"۔ ( الاجازات المتینہ، صفحہ نمبر،9/ فقیہ اسلام
پنجم، صفحہ نمبر 163)
رویت
ہلال کے متعلق آپ علیہ الرحمہ نے ،،ازکی الھلال فی امر الھلال،، کتاب تحریر
فرمائی، ماء مستعمل کے متعلق آپ نے ،،الطراس المعدل،، کتاب تحریر فرمائی، عیسائیوں
کے سوالات کے جواب میں آپ نے ایک مکمل کتاب ،،ندم النصرانی و تقسیم الایمانی،،
تحریر فرمائی، آریہ کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ،،کیفر کفر آریہ،، کتاب تحریر
فرمائی، آپ علیہ الرحمہ نے ہندوستان کے دارالسلام ہونے پر ،،اعلام الاعلام،، کتاب
تحریر فرمائی، رسوم شادی کے متعلق آپ نے ،،ہادی الناس فی رسوم الاعراس،، کتاب
تحریر فرمائی- حضرتِ امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله عنہ کےسوا حضرتِ امام ابو یوسف
علیہ الرحمہ کے قول پر کیوں فتویٰ ہوتا ہے اس کا جواب دیتے ہوئے ایک مکمل کتاب
،،اجلی الاعلام،، تحریر فرمائی، آپ نے اسپرٹ کے متعلق ،،الاحلی من السکر کتاب،،
تحریر فرمائی، بعد دفن میت اذان دینے کے جواز میں آپ نے ،،ایذان الاجر فی اذان
القبر،، کتاب تحریر فرمائی، انگوٹھے چومنے کے جواز میں آپ نے ،،تقبیل الا بھامین،،
کتاب تحریر فرمائی، حضورِ اقدس ﷺ کے نسب شریف کے متعلق ،،ارات الادب بفاضل النسب،،
کتاب تحریر فرمائی، حضورِ اکرم ﷺ بے سایہ ہیں اس کے ثبوت میں آپ نے ایک کتاب ،،جسم
بے سایہ،، کتاب تحریر فرمائی، ماں باپ کے حقوق کے متعلق ،،حقوق الوالدین،، کتاب
تحریر فرمائی، بندوں کے حق کے متعلق ،،حقوق العباد،، کتاب تحریر فرمائی، آپ نے
چالیس احادیث سے عمامہ کی فضیلت پیش فرمائی ہے، آپ نے اخلاق پر ،،شرح الحقوق لطرح
العقوق،، کتاب تحریر فرمائی، آپ نے گائے کی قربانی کے ثبوت میں ،،انفس الفکر فی
قربانی البقر،، کتاب تحریر فرمائی، آپ نے زمین کی حرکت کے رد میں معرکتہ الآرا
کتاب ،،الفوز المبین،، کتاب تحریر فرمائی، آپ نے کرنسی پر ،،کفل الفقیہ،، کتاب
تحریر فرمائی، آپ نے حضورِ اقدس ﷺ کے علم غیب پر ایک معرکتہ الآرا کتاب ،،الدولتہ
المکیہ،، کتاب تحریر فرماکر علماء حرمین الشریفین سے خراجِ تحسین حاصل کیا ہے، آپ
نے شفاعت رسولﷺپر ،،اسماع الاربعین،، کتاب تحریر فرمائی، آپ نے امیر المومنین
حضرتِ صدیق اکبر رضی الله عنہ کے فضائل کے ثبوت میں ،،الزلال الانقی،، کتاب تصنیف
فرمائی، آپ نے بسملہ کی تحقیق میں ایک تحقیق کتاب ،،وصاف الرجیح،، تحریر فرمائی،
آپ نے روحوں کے متعلق ضخیم کتاب ،،حیات الموت،، تحریر فرمائی، آپ نے صحیح بخاری
شریف پر تحقیق حاشیہ تحریر فرمایا ہے، آپ نے مسلم شریف اور ترمذی شریف پر بھی شرح
تحریر فرمائی ہے، آپ نے حضرتِ علامہ شامی کی مشہور و معروف کتاب ،،ردالمحتار،، پر
سب سے زیادہ حاشیہ تحریر فرمایا ہے اگر اس حاشیہ کو الگ کرلیا جائے تو اس حاشیہ کی
کئی جلدیں تیار ہوسکتی ہیں۔
آپ
کی تصنیفات کا اجمالی خاکہ کچھ اس طرح ہے:آپ علیہ الرحمہ نے تفسیر
میں 16/ کتابیں، حدیث میں 34/ کتابیں، عقائد و کلام میں 112/ کتابیں، رسم الخط
قرآن میں ایک کتاب، اسانید احادیث میں چار کتابیں، اسماء الرجال میں سات کتابیں،
جرح تعدیل میں دو کتابیں، تخریج احادیث میں چار کتابیں، لغت حدیث میں ایک کتاب،
تجوید میں چار کتابیں، اصول فقہ میں چار کتابیں، رسم المفتی میں تین کتابیں، فرائض
میں چار کتابیں، نحو کی ایک کتاب، صرف میں ایک کتاب، ادب میں 19/ کتابیں، عروض میں
ایک کتاب، لغت میں دو کتابیں، فلسفہ میں پانچ کتابیں، مناقب میں 16/ کتابیں، سیر
میں چار کتابیں، تصوف میں 13/ کتابیں، سلوک میں چار کتابیں، اذکار میں آٹھ کتابیں،
اخلاق میں تین کتابیں، نصائح میں تین کتابیں، ہیئت میں 16/ کتابیں، حساب میں تین
کتابیں، ریاضی میں چھ کتابیں، ہندسہ میں پانچ کتابیں، تکسیر میں پانچ کتابیں، وفاق
میں ایک کتاب جفر میں تین کتابیں، لوگارثم میں دو کتابیں، زیجات میں سات کتابیں،
جبر و مقابلہ میں تین کتابیں، ارثماطیقی میں تین کتابیں، توقیت میں 16/ کتابیں،
نجوم میں پانچ کتابیں، مکتوبات میں دو کتابیں، خطبات میں ایک کتاب، مناظرہ میں
پانچ کتابیں، تاریخ میں چھ کتابیں، فقہ میں 148/ کتابیں تحریر فرمائیں، فقہ میں آپ
کی معروف و مشہور کتاب فتویٰ رضویہ ہے جو قدیم بارہ جلدوں پر اور جدید تیس جلدوں
پر مشتمل ہے جس کی ہر ایک جلد ایک انسائکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے- اس کے علاوہ
اور بہت سی کتابیں جن کی تعداد تقریباً ایک ہزار بتائی جاتی ہے جن میں بہت سی
کتابیں غیر مطبوعہ ہیں۔
اجمالی
تمثیل: فن تفسیر میں آپ کی کتاب الصمصام ہے، فن عقائد و کلام پر آپ کی کتاب تمہید
ایمان بآیات القرآن اور سیف الزمان لدفع حرب الشیطان ہے۔ فن تجوید و قرآت پر آپ کی
کتاب الجام الصاد ہے، فن فرائض پر آپ کی کتاب المقصد النافع ہے، فن فوقیت پر آپ کی
کتاب جدول اوقات ہے، فن مناظرہ پر آپ کی کتاب صمصام سنت بگلوئے نجدیت (2) فتح خیبر
ہے، فن تصوف پر آپ کی کتاب کشف حقائق و اسرار دقائق ہے، فن فلسفہ پر آپ کی کتاب
الفوز المبین ہے، فن لغت پر آپ کی کتاب فتح المعلیٰ ہے۔
آپ
علیہ الرحمہ کے احیاء دین اور احیاء علوم کے کارناموں کو دیکھ کر علمائے حرمین
شریفین نے آپ کو مجدد اور امام اہل سنت کے مبارک خطابوں سے مخاطب کیا ہے۔اس میں آپ
علیہ الرحمہ نے بہت ہی باریک نقطہ پیش فرمایا ہے کہ یاد حضور ذکر رسول ہے اور ذکر
رسول ذکر الله ہے اور ذکر الله صفت باری تعالیٰ ہے- گویا یاد حضور کی قسم صحیح
ہے۔(فتاویٰ مصطفویہ)
غرض
آپ علیہ الرحمہ نے 54/ علوم و فنون کے گوہر لٹائے، آپ نے وصال سے چار ماہ بائیس
روز قبل اپنی وفات شریف کی تاریخ اس آیتِ کریمہ سے استخراج فرمائی۔ "ويطاف
عليهم بانية من فضة واكواب"۔خدام چاندی کے کٹورے اور گلاس لیے ان کو گھیرے
ہیں۔
وصال مبارک : آپ علیہ
الرحمہ کا وصال شریف 25/ صفر المظفر 1340/ ہجری کو جمعہ کے دن دو بجکر 38/ منٹ پر
عین اذان جمعہ میں ادھر حی علی الفلاح سنا ادھر روح پر فتوح نے داعی الی الله کو
لبیک کہا۔ اس طرح آپ کی کل عمر شریف 68/ سال کی ہوئی۔آپ کے غسل شریف میں علمائے
عظام اور سادات کرام و حفاظ کرام شریک تھے، جناب سید اطہر علی صاحب نے لحد تیار
کی، حضرتِ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمتہ والرضوان مصنف بہار شریعت
نے حسبِ وصیت شریف آپ کو غسل دیا، جناب حافظ امیر حسن صاحب مرادآبادی نے مدد دی،
حضرتِ علامہ سید سلیمان اشرف بہاری سابق صدر دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے و
سید محمود جان اور سید ممتاز علی صاحب نے پانی ڈالا، سرکارِ مفتی اعظم ہند علیہ
الرحمہ نے علاوہ دیگر خدمات غسل کے وصیت نامہ کی دعا بھی لوگوں کو یاد کرائی۔حضرتِ
حجۃالاسلام علامہ حامد رضا خان قادری علیہ الرحمہ نے مواضع سجود پر کافور لگایا،
صدر الافاضل حضرتِ علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی اشرفی علیہ الرحمہ نے کفن شریف
بچھایا، اور نماز جنازہ حضرتِ حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان قادری علیہ الرحمہ
نے پڑھائی۔
•Blogger | •Independent | •Journalist | •Writter | •Teacher | •Social Activities & •Motivator Rts are not endorsement.
حکیم الاسلام حضرت مولانا حسنین رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ
حکیم الاسلام حضرت مولانا حسنین رضا خان بریلوی
علیہ الرحمہ
وصال کی تاریخ : 5 صفرالمظفر
حضرت مولانا حسنین رضا خان۱۳۱۰ھ/ ۱۸۹۲ء بریلی
شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ علیہ الرحمہ اعلیٰ حضرت کے منجھلے بھائی، حضرت مولانا
حسن رضا خاںکے فرزند اکبر مولانا حکیم حسین رضا خاں، فرزند اوسط مولانا حسنین رضا
خاں اور فرزند اصغر مولانا فاروق رضا خاں تھے۔آپ علیہ الرحمہ اپنے تایا زاد بھائی،
سیّدی سندی مرشدی حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے صرف چھ ماہ بڑے تھے اور علوم دینیہ
کی تحصیل میں دونوں عم زاد ہم سبق رہے ہیں۔رسم بسم اللہ خوانی کے بعد گھر ہی میں
حصولِ تعلیم میں مصروف و مشغول ہوئے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی نے اپنے
فرزند اصغر مفتی اعظم کو پڑھانے کے ساتھ اپنے عم زاد حضرت حسنین رضاکو بھی پڑھانا
شروع کیا، اور جب فرزند حقیقی اور عم زاد و فرزندِنسبتی، دونوں کی عمریں بارہ برس ہوگئیں،
تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ۱۳۲۲ھ/ ۱۹۰۴ء میں دارالعلوم منظر اسلام قائم فرمایا،
تو اس دارالعلوم میں دونوں متذکرہ نوجوان، محمد مصطفےٰ رضا، حسنین رضا کے ساتھ
ساتھ اعلیٰ حضرت کے تین تلامذہ مزید، ملک العلماء حضرت علامہ ظفرالدین بہاری اور
مولانا عبدالرشید عظیم آبادی اور مولانا نواب مرزا، پانچوں تلامذہ سے دارالعلوم
منظر اسلام کا آغاز ہوا۔حضرت علامہ حسنین رضا خاں صاحب نے معقولات کی چند کتب،
مناظر اہلسنت حضرت علامہ ہدایت رسول صاحب رامپوری سے بھی رامپور جاکر پڑھیں۔ نیز
قطب الارشاد حضرت علامہ مفتی ارشاد حسین رامپوریکے درس میں بھی شریک ہوکر مستفاد
ہوئے۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے شرف تلمذ کے ساتھ ساتھ، اجازت و خلافت بھی حاصل
تھی۔ حضرت علامہ حسنین رضا خاں بریلوی اپنے مادر علمی دارالعلوم منظر اسلام
میں بحیثیت مدرس خدمت سر انجام دیتے رہے، بحیثیت مدرس تقرر کے لیے سفارش اعلیٰ حضرت
نے فرمائی تھی اور تقرر حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خاںنے فرمایا ،جو مہتمم
اول حضرت استاذ زمن مولانا حسن رضا خاں بریلویکے وصال کے بعد ’’منظر اسلام‘‘ کے
مہتمم مقرر کیے گئے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کے معروف تلامذہ میں شیر بیشۂ اہلسنت حضرت
مولانا حشمت علی خاں، حضرت مولانا ابرار حسن صدّیقی تلہری ،مولانا حامد علی رائے
پوری، مولانا سردار علی خاں عرف عزو میاں، مولانا ادریس رضا خاں، مولانا اعجاز ولی
خاں اور مولانا تقدس علی خاں بریلوی رحمہم اللہ شامل ہیں۔جامعہ رضویہ منظر اسلام
میں تدریسی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے ساتھ ساتھ بریلی شریف سے ایک ماہنامہ
’’الرضا‘‘ جاری کیا۔ یہ ماہوار جریدہ بہت معروف ہوا۔ امام احمد رضاکی حیات میں اس
کے متعدد شمارے شائع ہوئے۔ جغرافیائے ہند کے بلا دو امصار میں بذریعہ ڈاک بھیجا
جاتا تھا۔ حسنی پریس کی نگرانی اور اعلیٰ حضرت کی تصنیفات کی اشاعت کی
ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرتے تھے۔ نیز حالت حاضرہ کے تحت مختلف فتنوں (تحریک
ترک موالات، تحریک ہجرت، متحدہ قومیت، ندوہ تحریک، مرزائیت و قادیانیت، فتنہ وہابیت)
کی بیخ کنی کے لیے اور اسلامیان ہند کے ایمان و عقائد کو بچانے کے لیے پمفلٹ،
رسائل اور کتابچے شائع کرکے مفت تقسیم کرتے تھے ۔ مسلمانوں اور بالخصوص غریب
مسلمانوں سے آپ کو ہمیشہ قلبی تعلق اور گہرا لگاؤ رہا۔ جہاں امرأ و روسأ آپ کی
محفل میں ہوتے وہاں بہت سے ضرورت مند غریب بھی بیٹھے نظر آتے،۔آپ علیہ الرحمہ نے اکیانوے
(۹۱) برس کی عمر شریف میں، ۵صفر ۱۴۰۱ھ/ ۱۴؍دسمبر ۱۹۸۰ء میں بروز اتوار وصال پر
ملال فرمایا۔
•Blogger | •Independent | •Journalist | •Writter | •Teacher | •Social Activities & •Motivator Rts are not endorsement.
حضرت علامہ جیلانی میاں بریلوی علیہ الرحمہ
حضرت علامہ جیلانی میاں بریلوی
علیہ الرحمہ
عرس کی
تاریخ : 11 صفرالمظفر
محمد ابراہیم رضا خان قادری رضوی علیہ
الرحمہ ایک ہندوستانی اسلامی اسکالر، صوفی، خطیب، مصنف،
اور برصغیر پاک و ہند میں سنی تحریک کے رہنما تھے۔ جنہیں عام طور پر مفسر اعظم ہند
اور جیلانی میاں کے نام سے جانا جاتا ہے۔آپ علیہ الرحمہ حجۃ الاسلام حامد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے بڑے بیٹے اور احمد رضا خان قادری علیہ
الرحمہ کے بڑے پوتے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ 10
ربیع الآخر 1325
ہجری کو بریلی شریف میں پیدا ہوئے ۔ آپ علیہ
الرحمہ نے ابتدائی تعلیم قرآن
مجید، اردو زبان کی کتابیں اور دیگر کتابیں اپنی نانی اور والدہ
سے پڑھیں، 7 سال کی عمر میں انہوں نے دارالعلوم جامعہ رضویہ منظر اسلام میں داخلہ
لیا اور 19 سال کی عمر میں گریجویشن مکمل کیا۔ دارالعلوم جامعہ رضویہ
منظر اسلام میں آپ علیہ الرحمہ کے احسن علی محدث فیض پوری علیہ
الرحمہ ، والد حامد رضا خان قادری علیہ الرحمہ اور سردار احمد محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ اساتذہ تھے۔
گریجویشن تقریب (دستار بندی) کے وقت ان کے والد حامد رضا خان قادری علیہ الرحمہ نے خود اپنے بیٹے کے سر پر پگڑی
باندھی۔ آپ علیہ الرحمہ کی شادی آپ
ہی کی چچا زادی سے ہوئی جو مفتی اعظم
ہند مصطفٰی رضا خان علیہ الرحمہ کی بڑی بیٹی ہیں۔ اس نکاح کا اہتمام امام احمد
رضا خان علیہ الرحمہ نے کیا تھا جب یہ دونوں بچے تھے۔ رخصتی کی تقریب(
2 ربیع الآخر 1347ھ (1929ء کو ہوئی۔4سال کی عمر میں ابراہیم رضا اپنے
دادا امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے مرید ہوئے، امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے انہیں سلسلہ عالیہ کی قادریہ برکاتیہ رضویہ
نوریہ کی خلافت عطا کی اور اپنے والد حامد رضا خان علیہ الرحمہ اور چچا مصطفٰی رضا خان علیہ الرحمہ سے بھی
خلافت حاصل ہے۔ 1372ہجری میں آپ نے حرمین کا دورہ کیا، انہوں نے مکہ
المکرمہ اور مدینہ منورہ کے علماء سے حدیث، دلائل الخیرات اور حزب البحر وغیرہ کی مختلف اجازتیں حاصل کیں۔آپ
علیہ الرحمہ نے تعلیمات اہلسنت کی تبلیغ
کے لیے ماہنامہ اعلیٰ حضرت کا آغاز کیا۔ یہ رسالہ کامیاب رہا اور آج بھی
شائع ہوتا ہے۔ آپ علیہ الرحمہ مسلسل 3 سال بیمار رہنے کے بعد
پیر 11 صفر المظفر 1385ہجری بمقطابق12 جون 1965ءکو صبح 7 بجے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ اگلے دن
12 صفر المظفر 1385ہجری 13 جون 1965ء کو ان کی نماز جنازہ اسلامیہ انٹر کالج میں ادا
کی گئی، نماز جنازہ کی امامت سید محمد افضل حسین نے کی۔ محمد احسن علی، سید عارف
علی، سید اعجاز حسین اور محمد غوث خان نےقبر
میں اتارا۔آپ علیہ الرحمہ درگاہ اعلیٰ حضرت بریلی میں مدفون ہیں۔
•Blogger | •Independent | •Journalist | •Writter | •Teacher | •Social Activities & •Motivator Rts are not endorsement.
حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ
حضرت سیدنا
امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ
ولادت
باسعادت: کی تاریخ 7 صفرالمظفر
حضرت موسیٰ بن جعفر ساتویں امام ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ کنیت ابوالحسن اور ابوابراہیم تھی۔ ان کےعلاوہ اسی
طرح کی اور بھی کنیتیں بھی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا لقب کاظم تھا۔ کاظم کا لقب اس لئے دیا گیا تھاکہ آپ (رضی اللہ
عنہ) علم میں کامل تھے اور مفسدین پر غصہ نہیں کرتےتھے۔ (تذکرة
الخواص صفحہ 312، الکامل فی التاریخ
6/164) آپ (رضی اللہ عنہ ) کی والدہ حمیدہ
بربریدہ ام ولد (کنیز)تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہ بتاریخ 07 صفرالمظفر 128ھ مطابق
745ء بمقام "ابوا" جو "مکہ" اور "مدینہ" کے درمیان
واقع ہے پیدا ہوئے۔آپ بہت بڑے عالم اور محدث تھے بڑے بڑے محدثین نے آپ سے روایت لی
ہے چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظم بن جعفر بن محمد
باقر بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب الہاشمی ابولحسن المدنی الکاظم سے روایت کرنے
والے آپ کے دونوں بھائی محمد(ابوجعفرمحمد الدیباج بن جعفر الصادق) اورعلی (علی
العریضی بن جعفر الصادق) ہیں اور آپ کی اولاد
سے ابراہیم بن موسیٰ کاظم، حسین بن موسیٰ کاظم ، اسماعیل بن موسیٰ کاظم اور
ابوالحسن علی الرضا بن موسیٰ کاظم بھی آپ (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں نیز صالح
بن یزید اور محمد بن صدقۃ العنبری اور سہل
بن ابراہیم المروزی بھی روایت کرتے ہیں۔ (تہذیب التہذیب 18/340، التکمیل فی الجرح
/ابن کثیر، مسند الشہاب/امام ابوسلامہ القضاعی، الحجۃ فی بیان الحجۃ /امام قوام
السنۃ الاصبہانی، الطب /ابن نعیم) آپ رضی
اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے کہ کھانے سے
پہلے وضو کرنا فقر اور غربت کو دفع کرتا ہے، اور کھانے کے بعد وضو کرنا غم کو دور کرتا ہے اور نظر کو صحیح رکھتا ہے۔ (میزان
الاعتدال فی نقدالرجال 4/202)ابوبصیرکابیان ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام دل
کی باتیں جانتے تھے اورہرسوال کاجواب رکھتے تھے ہرجاندارکی زبان سے واقف تھے۔ (روائح
المصطفی صفحہ162) آپ علیہ السلام کی عادت تھی کہ ہمیشہ در گزر سے کام لیتے اور خلق
خدا پر آسانی فرماتے تھے، بلکہ معاف کرنے کے ساتھ ساتھ مزید بلند کردار کا مظاہرہ کرتے
ہوئے تکلیف پہنچانے والے کو تحائف بھجوایا کرتے تھے، ایک شخص آپ کی برابربلاوجہ
برائیاں کرتاتھا جب آپ کواس کاعلم ہواتوآپ نے ایک ہزاردینار(اشرفی) اس کے
گھرپربطورانعام بھجوادیاجس کے نتیجہ میں وہ اپنی حرکت سے بازآگیا۔(روائح المصطفی
صفحہ264) آپ( رضی اللہ عنہ) سے متعدد کتب منسوب ہیں،کچھ کی تصنیف تو آپ( رضی اللہ
عنہ) نے اپنے دست مبارک سے کی اور اکثر آپ( رضی اللہ عنہ) کے ملفوظات پر مبنی ہیں۔
جیسا کہ ’’مسند امام کاظم‘‘ آپ( رضی اللہ عنہ) سے منسوب ہے۔ علامہ ابن حجرمکی شافعی لکھتے ہیں کہ خلیفہ ہارون رشیدنے آپ
کوبغدادمیں قیدکردیا ”فلم یخرج من حبسہ الامیتامقیدا“ اورتاحیات قیدرکھاآپ کی وفات
کے بعدوفات کے بعدہتھکڑی اوربیڑی کٹوائی گئی آپ کی وفات ہارون رشیدکے زہرسے ہوئی
جواس نے ابن شاہک کے ذریعہ سے دلوایا تھا جب آپ کوکھانے یاخرمہ میں زہردیاگیاتوآپ
تین روزتک تڑپتے رہے یہاں تک کہ انتقال ہوگیا۔(صواعق محرقہ صفحہ676 ،ارحج المطالب صفحہ454)
•Blogger | •Independent | •Journalist | •Writter | •Teacher | •Social Activities & •Motivator Rts are not endorsement.
حضرت حافظ شاہ جمال اللہ نقوش پارینہ رامپوری علیہ الرحمہ
حضرت حافظ شاہ جمال اللہ نقوش پارینہ رامپوری علیہ الرحمہ
عرس کی تاریخ :3 صفرالمظفر
حافظ سید محمد جمال اللہ رامپوری سلسلہ
نقشبندیہ کے عظیم بزرگ ہیں۔ آپ کا اسمِ مبارک سیّد محمد جمال اللہ اور والد کا
نامِ نامی سیّد محمد درویش تھا۔ آپ کی ولادت 11؍ربیع الاوّل 1137ھ بمطابق 28؍ نومبر1724ءگجرات (پنجاب) میں ہوئی۔ سلسلۂ نسب شیخ عبد القادر کے واسطہ سے علی مرتضیٰ تک پہنچتا ہے۔ آپ نے بچپن ہی میں قرآن مجید حفظ
کیا تھا۔ سیر و سیاحت کا بہت شوق تھا۔ اس لیے مکمّل سپاہیانہ تربیت حاصل کر کے
اپنے شوق کو درجۂ کمال تک پہنچایا۔ اور سیر و سیاحت کرتے ہوئے دہلی تشریف لے آئے اور یہاں ایک درویش صفت عالمِ دین
جو سلسلہ نقشبندیہ سے وابستہ تھے اور بہت بڑے فقہیہ کامل تھے، ان سے علوم متداولہ
میں کامل و اکمل ہو گئے۔ خواجہ سیّد قطب
الدین حیدر کے مرید و خلیفہ تھے پیرو مرشد نے خرقۂ خلافت دے کر ہندوستان بھیجا
آپ سر ہند شریف میں مقیم ہو کر سلسلہ نقشبندیہ کی ترویج کرت رہے۔
بعد از ویرانیٔ سرہند آپ رام پور المعروف بہ مُصطفےٰ آباد تشریف لے گئے اور مستقل
سکونت اختیار فر ماکر خلقِ خدا کی روحانی رہنمائی خدمت فرماتے رہے۔ آپ مجاہدۂ نفس
کے کمال پرتھےروزانہ دو قرآن شریف ختم کیا کرتے۔ابتدائی دور میں رام پور میں عرصہ
تک نواب رام پور فیض اللہ خاں کی فوج میں سپاہی رہ کر اپنی درویش کو چھپائے رکھا۔
شاہ غلام علی دہلوی رامپور آکر آپ سے ملے تھے۔ اتباعِ سُنّت کا نہایت التزام و
اہتمام فرماتے تھے۔ اعمالِ ظاہری و باطنی میں درجۂ کمال تک پہنچے ہوئے تھے۔ دل
عشقِ الٰہی سے معمور اور حُبّ مصطفےٰ ﷺ سے چُور تھا۔ ایک کثیر خلقت نے آپ سے
استفادہ کیا۔ آپ نے تمام زندگی مجرّدانہ بسر کی لٰہذا کوئی اولاد نسبی باقی نہ
چھوڑی البتہ رُوحانی اولاد میں سے خلفاء سیدشاہ درگاہی رامپوری شیخ صحرائی اور شاہ
محمد عیسیٰ گنڈا پُوری بہت مشہور ہوئے۔ ان کے علاوہ مُلّا فداعلیٰ لکھنوی اور میاں
سیف اللہ، قصبہ سر سی تحصیل سنبھل ضِلع مراد آباد بھی آپ کے خلفاء میں سے تھے۔ آپ
کا وصال 3؍ صفر المظفر /29 اگست 1209ھ 1794ء کو رامپور (انڈیا) میں ہوئی اور رام پور شہر متصل
محلہ باجوڑی ٹولہ جمال نگر مزار مقدس بنا جو آج مرجعٔ خلائق ہے۔
•Blogger | •Independent | •Journalist | •Writter | •Teacher | •Social Activities & •Motivator Rts are not endorsement.
قدوۃ السالکین، زبدۃ العارفین بانی سلسلہ عالیہ وارثیہ حضرت حاجی حافظ سید وارث علی شاہ علیہ الرحمہ
قدوۃ
السالکین، زبدۃ العارفین بانی سلسلہ عالیہ وارثیہ حضرت حاجی حافظ سید وارث علی شاہ
علیہ الرحمہ
عرس: یکم صفرالمظفر
آپ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے۔آپ "سیروفی
الارض" پر عمل پیرا تھے۔ خوب سیر و سیاحت کی۔ آپ جنگلوں، بیابانوں اور
پہاڑوں میں گھومتے اور قدرتِ خداوندی کا مشاہدہ کرتے رہتے تھے۔ اجمیر شریف سے ممبئی تشریف لے گئے۔ ممبئی سے جدہ گئے۔ 29 شعبان
1253ھ کو مکہ معظمہ پہنچے۔ حج کا فریضہ ادا کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔ کچھ دن
وہاں رہے، پھر رخت سفر باندھا۔ بیت المقدس، دمشق، بیروت، بغداد، کاظمین، نجف اشرف،
کربلائے معلیٰ، ایران، قسطنطنیہ کی سیاحت کرکے اور درویشوں سے مل کر پھر مکہ
پہنچے۔ حج سے فارغ ہوکر افریقہ تشریف لے گئے۔ وطن واپس آکر آپ نے دیکھا کہ مکان
شکستہ ہو چکا ہے اور آپ کے ساز و سامان پر آپ کے رشتہ دار قابض ہیں۔ ان کو یہ
فکر ہوئی شاید آپ جائیداد وغیرہ واپس لیں گے اور ممکن ہے عدالتی کارروائی کریں ان
لوگوں کی بے اعتنائی اور بےرخی سے آپ کو تکلیف پہنچی، آپ نے وطن میں زیادہ قیام
کرنا مناسب نہیں سمجھا اور نہ آپ نے شادی کی پھر آپ ہمیشہ کے لئے جائیداد، مکان، ساز و سامان وغیرہ
سے بےنیاز ہوگئے۔
آپ کے
مریدین نے بہت شہرت پائی، جن میں حضرت بیدم شاہ وارثی، حیرت وارثی، عنبر شاہ
وارثی، حضرت اکمل شاہ وارثی حضرت عزت شاہ وارثی نمایاں حیثیت کے حامل ہیں ، وارثی طریقۂ درویشی انہی سے
منسوب ہے۔ان کے پیروکاروں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ عام طور پر زرد رنگ کا
احرام باندھتے ہیں ۔سبز، کالا ، کلیجی اور سفید احرام بھی باندھا جاتا ہے۔ آپ نے
سخت مجاہدانہ زندگی گذار کر 30/محرم الحرام 1323ہجری، مطابق 7/اپریل 1905عیسوی میں
ضلع بارہ بنکی کے قصبہ دیوہ شریف میں اس جہانِ فانی سے پردہ فرمایا اور آپ کا
مزار "دیواشریف" ضلع بارہ بنکی یوپی انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے۔ ( تذکرہ
اولیائے پاک و ہند۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام،ج:6)
•Blogger | •Independent | •Journalist | •Writter | •Teacher | •Social Activities & •Motivator Rts are not endorsement.
حضرت سید شاہ احمد وجیہ الدین علوی الحسینی گجراتی احمدآبادی علیہ الرحمہ
عرس: 30 محرم
حضرت سید شاہ احمد وجیہ الدین علوی
الحسینی گجراتی احمدآبادی علیہ الرحمہ
زبدة المحققین، استاذالمفسرین ، ملک
العلماء والمشائخ، استاذ الاساتذہ، حضرت سید شاہ احمد وجیہ الدین علوی الحسینی
گجراتی احمدآبادی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات بابرکات بے شمار صوری و معنوی فضائل کا
مجموعہ تھی۔آپ علیہ الرحمہ کا نسب مبارک
حضرت امام سیدنا محمد تقی الجواد رضی اللہ عنہ پر منتہی ہوتا ہے۔ آپ کے جد امجد
حضرت سید بہاء الدین مکی قدس اللہ سرہ ہند میں تشریف لائے۔ اس سے قبل آپ کے مورث
اعلی ملک یمن مقام حضرموت میں مسکن گزیں تھے۔آپ کا اسم گرامی احمد اور لقب وجیہ
الدین ہے اور اسی لقب سے آپ خلق خدا کے درمیان مشہور ہوئے۔ آپ نے کم سنی ہی میں
قرآن مجید حفظ کر لیا بعدہ علوم دینیہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ علوم عربیہ کی بیشتر
کتابیں اپنے چچا حضرت مولانا سید قاضی شمس الدین قدس سرہ سے پڑھیں اور کچھ کتابیں
اپنے ماموں شاہ بڑا بن ابو القاسم سے بھی پڑھیں، اس طرح آپ اپنے چچا اور ماموں
دونوں کے علمی وارث اور امین بن گئے۔اور کتب احادیث کا درس شیخ محدث ابو البرکات
بنبانی عباسی قدس سرہ سے قراءۃ ًاور سماعۃً لیا۔ علاوہ ازیں ملک المحدثین علامہ محمد
بن محمد مالکی مصری سے علوم حدیث میں سند تکمیل حاصل کی اور علوم عقلیہ کی تعلیم
فاضل اجل حضرت علامہ مولانا عماد الدین طارمی سے اور معروف خطیب و مفسر قرآن حضرت علامہ
مولانا ابو الفضل گاذرونی سے بھی علوم و فنون خصوصا تفسیر کا درس لیا۔اور آپ کا
طریقہ تھا کہ دوران درس علامہ گاذرونی جو نکات بیان کرتے تھے، آپ اسے لکھ کر
محفوظ کر لیا کرتے تھے اور تفسیر بیضاوی پر علامہ کے حواشی آپ ہی کے ہاتھ کے لکھے
ہوئے ہیں۔(حضرت شاہ وجیہ الدین علوی گجراتی شخصیت اور کارنامے، ص 30 تا 31 )
درس و تدریس عرصہ دراز تک علوم و فنون
کی تحصیل کے بعد، آپ نے درس و تدریس کی انجمن آراستہ کی اور ایک درسگاہ کی بنیاد
رکھی جس کا نام “مدرسہ علویہ” رکھا۔ اس وقت صوبہ گجرات پر سلطان بہادر شاہ کی
حکمرانی تھی۔ اخیر عمر میں آپ کا ارادہ ہوا کہ درس و تدریس کا سلسلہ موقوف کر دیں
اور مدرسہ کی ادارت اور نظامت سنبھالیں۔مگر سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے غیبی اشارہ فرمایا کہ ہم اکثر تمہارے درس سننے کی خاطر تشریف لاتے ہیں لہذا اس
کو ترک نہ کرو۔اس مژدہ جانفزا کو سن کر آپ نے اخیر عمر تک درس جاری رکھا اور
مدرسہ کا نام “درس محمدی” رکھا۔اس طرح کامل چونسٹھ سال تک آپ نے درس و تدریس کا
سلسلہ جاری رکھا۔ [ روضۃ الاولیاء بیجاپور، ص 110، قدیم نسخہ ]۔آپ علیہ الرحمہ نے
درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی نمایاں اور گراں بہا خدمات
انجام دی ہیں۔ اور آپ کے رہوار قلم نے تصانیف کا انمول ذخیرہ چھوڑا ہے۔چوں کہ اس
دور میں شرح و حواشی لکھنے کا زیادہ رواج تھا، اس لیے آپ کی بیشتر تصانیف شروح و
حواشی ہی کی شکل میں ہیں۔اور بعض کتابیں کسی ایک عنوان پر یا کسی قرآنی آیت کی
تشریح و توضیح میں مستقل تصنیف فرمائی ہیں۔سطور ذیل میں آپ کے کچھ رسائل اور شروح
و حواشی کے اسما لکھے جاتے ہیں:
رسائل:
(1)رسالہ “جنات عدن”( 2 ) رسالہ “تحقیق والذين آمنوا واتبعتهم ذريتهم: ( 3
) رسالہ “تحقیق فأما من ثقلت موازينه” ( 4 ) رسالہ الایمان ( 5 ) رسالہ “الترتیب
في الصلوة” ( 6 ) رسالہ “الکلام”( 7 ) رسالہ “القلب” ( 8 ) رسالہ “تحقیق ابلیس” (
9 ) رسالہ ” الانسکریة في جواب الطفقریة” ( 10 ) رسالہ “اوارد وجیه” ( 11 ) رسالہ
“في اجوبة اعتراضات الفقیه الحیرتي علی الفاضل الهندي” ( 12 ) رسالہ طریقہ بیعت (
13 ) رسالہ وقف اعراد( 14 ) رسالہ مختصر التعریف بالمولد الشریف للامام الجزري (
15 ) رسالہ حقیقت محمدیہ ( 16 ) مکتوبات
شروح و حواشی(1) حاشیة البیضاوي ( 2 ) حاشیه تفسیر رحامني ( 3 ) شرح نزھة النظر
( 4 ) حاشیه ھدایه ( 5 ) حاشیه شرح وقایه ( 6 ) حاشیه تلویح ( 7 ) حاشیه علی شرح
العضد علی مختصر ابن الحاجب ( 8 ) حاشیه علی شرح التفتازاني علی الشرح العضدي( 9 )
حاشیه اصول البزدوي( 10 ) حاشیه شرح مواقف للجرجاني( 11 ) حاشیه شرح مقاصد
للتفتازاني ( الف ) باب الهیات ( ب ) سمعیات12 ) حاشیه علی شرح التجرید للقوشجي (
13 ) حاشیه علی شرح التجرید للاصفهاني ( 14 ) حاشیه علی الحاشیة القدیمة الجلالیة
علی شرح التجرید ( 15 ) حاشیه علی شرح العقائد ( 16 ) حاشیه علی حاشیة الخیالي( 17
) حاشیه علی شرح المطالع ( 18 ) حاشیه علی حاشیة السید علی شرح المطالع ( 19 )
حاشیه علی الزبدہ شرح الشمسیه لعلاء الدین النهروالي ( 20 ) حاشیه علی شرح الشمسیه
للقطب الرازي ( 21 ) حاشیه شرح حکمة العین ( 22 ) حاشیه شرح چغمیني ( 23 ) شرح
رساله قوشجی ( فارسی )( 24 ) حاشیه علی شرح التذکره للنیسابوري ( 25 ) حاشیه شرح جامي ( 26 ) شرح الوافي ( 27 )
حاشیه علی المنهل الصافي للدمامیني ( 28 ) شرح ابیات المنهل والوجیز ( 29 ) شرح
ارشاد النحو ( 30 ) حاشیه ضریري ( 31 ) شرح ابیات تسهیل لابن مالك ( 32 ) حاشیه
شرح تهذیب ( 33 ) شرح تلخیص المفتاح ( 34 ) حاشیه علی المطول للتفتازاني ( 35 )
حاشیه علی مختصر التلخیص للتفتازاني و حاشیه علی شرح الجرجاني ( 36 ) شرح البسیط
في الفرائض ( 37 ) حاشیه علی الشفاء للقاضي عیاض المالکي ( 38 ) شرح کلید مخازن (
فارسی ) للشیخ محمد غوث الگوالیری ( 39 ) شرح جام جهاں نما ( فارسی ) ( 40 ) شرح
تحفه شاھیه ( 41 ) شرح لوائح جامی ( 42 ) وافیه شرح کافیه( 43 ) حاشیه عضدي( حضرت
شاہ وجیہ الدین علوی گجراتی شخصیت اور کارنامے، ص 47 تا 50)
تلامذہ آپ کے درس گاہ بافیض سے بے شمار علما و فضلا نے فیض پایا جو اپنے عہد اور علاقہ کے ممتاز اور باکمال ارباب علم و دانش شمار کیے گئے۔ آپ علیہ الرحمہ 29 محرم الحرام 998 ہجری بروز اتوار صبح صادق کے وقت دار فانی سے راہی ملک بقا ہوئے اور مزار مبارک احمد آباد (گجرات) میں مشہور و معرور اور زیارت گاہ خلائق ہے۔
•Blogger | •Independent | •Journalist | •Writter | •Teacher | •Social Activities & •Motivator Rts are not endorsement.

