نماز پڑھنے کا آسان طریقہ (حنفی)

نماز پڑھنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ نمازی کا بدن، کپڑے اور نماز کی جگہ پاک ہو ، ستر ڈهانپا هوا هو  اور نماز کا وقت ہوگیا ہو۔ پھر با وُضو قبلہ کی طرف منہ کر کے دونوں پاؤں کے درمیان کم ازکم چار انگلیاں اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت کا فاصلہ کرکے کھڑا ہو۔ جو نماز پڑھنی ہے اس کی دل سے نيت کرے اور زبان سے کہنا مستحب ہے۔نيت كرنے كا طريقہ درج ذيل  ہے۔

فرض نماز کی نیت: جس وقت کی نماز اور جتنی رکعات ہوں، نیت میں ان کا ذکر کیا جائے۔ مثال کے طور پر ظہر کے فرضوں کی نیت یوں کی جائے گی؛ میں نیت کرتا / کرتی ہوں چار رکعت فرض نماز ظہر کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف کے۔اگر امام کے پیچھے ہوں تو پھر کہا جائے: ’پیچھے اس امام کے۔‘ اس کے بعد تکبیرِ تحریمہ یعنی اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے۔

سنت نماز کی نیت: میں نیت کرتا / کرتی ہوں . . . رکعت سنت نماز . . . کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف کے، اللہ اکبر ۔

نفل نماز کی نیت:میں نیت کرتا/کرتی ہوں . . . رکعت نفل نماز . . . کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف کے، اللہ اکبر ۔

واجب نماز کی نیت:میں نیت کرتا/کرتی ہوں تین رکعت وتر واجب نماز عشاء کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف کے، اللہ اکبر ۔

پھر دونوں ہاتھ اپنے کانوں کی لو تک لے جائے اس طرح کہ ہتھیلیاں قبلہ رُخ ہوں اور انگلیاں نہ کھلی ہوئی ہوں نہ ملی ہوئی بلکہ اپنی نارمل حالت میں ہوں۔ اللہ اکبر کہتا ہوا ہاتھ نیچے لائے اور ناف کے نیچے باندھ لے اس طرح کہ داہنی ہتھیلی بائیں کلائی کے سرے پر ہو اور بیچ کی تین انگلیاں بائیں بائیں کلائی کی پشت پر اور انگوٹھا اور چھنگلیا کلائی کے اغل بغل  ہواور ثنا پڑھے۔  سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ۔

ترجمہ: ’’اے اﷲ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں، تیری تعریف کرتے ہیں، تیرا نام بہت برکت والا ہے، تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘  بحوالہ : ترمذی، 1 : 283، رقم : 243)

پھر تعوذ  پڑھے: اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔  ترجمہ:’’میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا / مانگتی ہوں۔‘‘

پھر تسمیہ پڑھے: بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ ترجمہ:’’اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَO الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِO اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُO اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْO غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَO  ترجمہ:سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا ،(2) بہت مہربان رحمت والا،(3) روز جزا کا مالک،(4) ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں ،(5) ہم کو سیدھا راستہ چلا،(6) راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا،(7) نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا  (القرآن الکریم )

ختم پر آمین آہستہ کہے، اس کے بعد کوئی سورت یا تین آیتیں پڑھے یا ایک آیت کہ تین کے برابر ہو، اب اﷲ اکبر کہتا ہوا رکوع میں جائے اور گھٹنوں کو ہاتھ سے پکڑے، اس طرح کہ ہتھیلیاں گھٹنے پر ہوں اور انگلیاں خوب پھیلی ہوں، نہ یوں کہ سب انگلیاں ایک طرف ہوں اور نہ یوں کہ چار انگلیاں ایک طرف، ایک طرف فقط انگوٹھا اور پیٹھ بچھی ہو اور سر پیٹھ کے برابر ہو اونچا نیچا نہ ہو اور کم سے کم

تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ

   ترجمہ’’پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا۔‘‘ (ترمذی شریف ، الجامع الصحيح، 1 : 300، رقم : 261) کہے

 پھر سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتا ہوا سیدھا کھڑا ہو جائے اور منفرد (اکیلا) ہو تو اس کے بعد اَللَّھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ  ۔ ترجمہ: ’’اے ہمارے پروردگار! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔‘‘(مسلم، الصحيح، 1 : 293، 294، رقم : 392) کہے

پھر ا اکبر کہتا ہوا سجدہ میں جائے، یوں کہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھے پھر ہاتھ پھردونوں ہاتھوں کے بیچ میں سر رکھے، نہ یوں کہ صرف پیشانی چُھو جائے اور ناک کی نوک لگ جائے, بلکہ پیشانی اور ناک کی ہڈی جمائے اور بازوؤں کو کروٹوں اور پیٹ کو رانوں اور رانوں کو پنڈلیوں سے جُدا رکھے اور دونوں پاؤں کی سب انگلیوں کے پیٹ قبلہ رُو جمے ہوں اور ہتھیلیاں بچھی ہوں اور انگلیاں قبلہ کو ہوں اور کم از کم

تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی ۔ ترجمہ: ’’پاک ہے میرا پروردگار جو بلند ترہے۔‘‘(ابو داؤد، السنن، 1 : 337، رقم : 886)کہے

پھر سر اٹھائے، پھر ہاتھ اور داہنا قدم کھڑا کر کے اس کی انگلیاں قبلہ رُخ کرے اور بایاں قدم بچھا کر اس پر خوب سیدھا بیٹھ جائے اور ہتھیلیاں بچھا کر رانوں پر گھٹنوں کے پاس رکھے کہ دونوں ہاتھ کی انگلیاں قبلہ کو ہوں اسے جلسہ کہتے ہیں۔

 حضرت  سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان درج ذیل دعا مانگتے :اَللَّهُمَّ اغْفِرْلِيْ وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِيْ وَارْزُقْنِيْ.’’اے اﷲ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت پر قائم رکھ اور مجھے روزی عطا فرما۔‘‘ (ابو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب الدعا بين السجدتين، 1 : 322، رقم : 850)

 پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدے کو جائے اور اسی طرح سجدہ کرے، پھر سر اٹھائے، پھر ہاتھ کو گھٹنے پر رکھ کر پنجوں کے بل کھڑا ہو جائے۔

اب صرف بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر قراء ت شروع کر دے، پھر اسی طرح رکوع اور سجدے کر کے داہنا قدم کھڑا کر کے بایاں قدم بچھا کر بیٹھ جائے اور  اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرُسُوْلُہٗ ۔ ترجمہ: ’’تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اﷲ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اﷲ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اﷲ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ( ترمذی، الجامع الصحيح، 5 : 542، رقم : 3587)

پڑھے اور اس میں کوئی حرف کم و بیش نہ کرے اور اس کو تشہد کہتے ہیں اور جب کلمۂ لَا کے قریب پہنچے، دہنے ہاتھ کی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنائے اور چھنگلیا اور اس کے پاس والی کو ہتھیلی سے ملا دے اور لفظ لَا پر کلمہ کی انگلی اٹھائے مگر اس کو جنبش نہ دے اور کلمۂ اِلَّا پر گرا دے اور سب انگلیاں فوراً سیدھی کر لے، اگر دو سے زیادہ رکعتیں پڑھنی ہیں تو اٹھ کھڑا ہو اور اسی طرح پڑھے مگر فرضوں کی ان رکعتوں میں الحمد کے ساتھ سورت ملانا ضرور نہیں، اب پچھلا قعدہ جس کے بعد نماز ختم کریگا، اس میں تشہد کے بعد درودِ اِبراہیمی پڑھے:حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو، تین یا چار رکعت والی نماز کے قعدہ اخیرہ میں ہمیشہ درودِ ابراہیمی پڑھتے جو درج ذیل ہے :

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ترجمہ: ’’اے اﷲ! رحمتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر، جس طرح تونے رحمتیں نازل کیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے۔’’اے اﷲ! تو برکتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر، جس طرح تونے برکتیں نازل فرمائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے۔‘‘( بخاری، الصحيح، 3 : 1233، رقم : 3190)

درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھیں :

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ تَوَالَدَ وَلِجَمِیْعِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ الْاَحْیَاءِ مِنْھُمْ وَالْاَمْوَاتِ اِنَّکَ مُجِیْبُ الدَّعْوَاتِ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔اے اﷲ! تو بخش دے مجھ کو اور میرے والدین کو اور اس کو جو پیدا ہوا اور تمام مومنین و مومنات اور مسلمین و مسلمات کو، بیشک تو دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے اپنی رحمت سے، اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان۔ 

یا اور کوئی دُعائے ماثور پڑھے۔ مثلاً اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیرًا وَّ اِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْلِی مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۔ ترجمہ: اے اﷲ !میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے اوربیشک تیرے سوا گناہوں کا بخشنے والا کوئی نہیں ہے، تو اپنی طرف سے میری مغفرت فرمااور مجھ پر رحم کر، بیشک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے

یا یہ دُعا پڑھے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَ فِتْنَۃِ الْمَمَاتِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَمِنَ الْمَغْرَمِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَ قَھْرِ الرِّجَال ۔ ترجمہ: اے اﷲ !تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور تيری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجّال کے فتنہ سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے اے اﷲ تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور تاوان سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں دَین کے غلبہ اور مَردوں کے قہر سے۔

یا یہ پڑھے۔

اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ.  اے اﷲ! اے ہمارے پروردگار، تو ہم کو دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں نیکی دے اور ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا۔  اور اس کو بغیر اَللّٰھُمَّ کے نہ پڑھے، پھر دہنے شانے کی طرف مونھ کر کے اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہِ کہے، پھر بائیں طرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللہِ کہے اب آپ کی امام یا تنہا مردکی نماز مکمل ہوئی ۔ مقتدی کے ليے اس میں کی بعض بات جائز نہیں، مثلاً امام کے پیچھے فاتحہ یا اور کوئی سورت پڑھنا۔ عورت بھی بعض اُمور میں مستثنیٰ ہے، مثلاً ہاتھ باندھنے اور سجدہ کی حالت اور قعدہ کی صورت میں فرق ہے۔ جس کو ہم بیان کرينگے ان شاء اللہ ۔

  



مخدوم سید نصیر الدین اشرف اشرفی الجیلانی قدس سرہ

 

اسم گرامی: سید نصیرالدین اشرف. القابات: برہان العاشقین، شیخ الحدیث

ولادت باسعادت: ٢٢ ذی الحجہ ٩٩٥ ہجری  کو مرکز عقیدت کچھوچھہ مقدسہ کے علم وعرفان والے گھرانے میں آپ کی پیدائش ہوئی۔آپ کے والد ماجد قطب مشرق حضرت سید دیوان محمد صادق اشرف اشرفی الجیلانی قدس سرہ کا تعلق تارک السلطنت, غوث العالم, محبوب یزدانی سلطان مخدوم سید اوحدالدین اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کے پسر معنوی شہزادہ غوث الاعظم حضرت مخدوم سلطان سید عبدالرزاق نورالعین اشرف اشرفی الجیلانی قدس سرہ کے خانوادہ مقدسہ سے ہے۔

سلسلہ نسب اس طرح سے ہے: سید نصیر الدین اشرف بن سید محمد صادق اشرف بن سید شاہ عبد الرحیم اشرف بن سید شاہ محمد راجو اشرف بن سید شاہ حاجی چراغ جہاں اشرف بن سید شاہ جعفر اشرف بن سید حسین اشرف قتال بن سید عبد الرزاق نورالعین اشرف سجادہ نشین کچھوچھہ مقدسہ رحمہم اللہ علیہم اجمعین

آپ کا سلسلہ نسب بیسویں پشت میں محبوب سبحانی غوث الاعظم دستگیر حضور سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔

تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم وحفظ قرآن اپنے جد امجد حافظ سید شاہ عبد الرحیم اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ سے مکمل کیا۔ کچھوچھہ مقدسہ میں متعدد علمائے کرام سے تکمیل علم کے بعد فراغت حاصل کی۔ روحانی تربیت اپنے والد ماجد قطب مشرق حضرت مخدوم سید شاہ دیوان محمد صادق اشرف علیہ الرحمہ سے پائی اور مرید ہوئے۔والد ماجد علیہ الرحمہ نے اپنی ظاہری حیات میں ہی خرقه خلافت و اجازت عطا فرماکر اپنا سجادہ نشین منتخب فرمایا۔ ابتداء میں خانقاہ صادقیہ اشرفیہ میں ہی تشنگان علم کی پیاس بجھاتے رہے اور تعلیم وتربیت کا سلسلہ جاری رہا۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے جلیل القدر علمائے کرام میں ہوتا ہے۔

آپ علیہ الرحمہ کے علم وفضل کا اندازہ لگانے کیلئے اتنا کافی ہیکہ سلطان العارفین، سند المحدثین، جامع المنقولات، بحرالسلاسل حضرت مولانا سید شہباز محمد بھاگلپوری قدس سرہ نے باصرار آپ کو خانقاہ شہبازیہ میں شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز کیا۔ اور آپ کو اپنے جیسا عالم قرار دیا۔ حضرت مولانا سید شہباز محمد قدس سرہ آپ کو بہت چاہتے تھے۔

جب شاہ جہاں بادشاہ نے موضع جھنجھری سابق ضلع بھاگلپور میں مدرسہ کی بنیاد رکھی تو سید شہباز پاک قدس سره سے مدرسہ کی سرپرستی کے لئے عرض کیا تو حضرت سید شہباز پاک قدس سره نے فرمایا کہ میں اپنے جیسا عالم سید زادہ دونگا جوکہ اس کام کو بخوبی انجام دے سکتا ہے۔

بادشاہ نے کہا جو آپ کریں گے بہتر ہی ہوگا۔

 پھر حضرت سید شہباز پاک علیہ الرحمہ نے آپ کو بادشاہ شاہ جہاں سے ملوایا۔بادشاہ نے آپ سے مل کر دست بوسی کی اور بہت خوش ہوا۔ الغرض حضور سلطان العارفین کے حکم پر آپ علیہ الرحمہ کئی سالوں تک اس مدرسہ میں شیخ الحدیث کا کام انجام دیتے رہے۔آپ نے پانچ مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت کی۔ اپنی ظاہری حیات میں ہی اپنے بڑے صاحبزادے حضرت سید شاہ عنایت مخدوم اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ کو خرقۂ خلافت عطا کرکے سجادہ نشین منتخب فرمایا۔اللہ رب العزت نے آپ کو دو فرزند ارجمند عطا فرمایا۔ اول حضرت سید شاہ عنایت مخدوم اشرفی الجیلانی سجادہ نشین دوئم حضرت سید شاہ غلام مخدوم اشرفی الجیلانی (علیھما الرحمہ)

وصال پاک: 15 شعبان المعظم ١١١٧ ھ کو بمقام بنسی ٹیکر بھاگلپور میں علم وحکمت کا یہ آفتاب اپنے مالک حقیقی سے جا ملا۔

16 شعبان المعظم کو بعد نماز عصر تدفین کا کام انجام دیا گیا۔مزار پاک بھاگلپور (بہار) ہوائی اڈہ سے دکھن وپورب کی جانب تھوڑی دور بنسی ٹیکر میں باغ میں زیارت گاہ خاص وعام ہے۔16-17 شعبان المعظم کو آپ کا عرس پاک منایا جاتا ہے۔


وقتِ نکاح و رخصتی سیدہ عائشہ صدیقہ کی عمر کتنی تھی؟



 السلام علیکم ! ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اور رخصتی کس عمر میں‌ ہوئی؟ براہِ مہربانی وضاحت فرما دیں۔

جواب:

منکرین حدیث نے اس بات کو بہت اچھالا ہے کہ حدیث شریف میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے وقت 9 سال عمر بتائی گئی ہے جو عقل و نقل کی رو سے غلط ہے۔ اس سے غیر مسلموں بلکہ پڑھے لکھے مسلمانوں کو بھی انکار حدیث کا بہانہ مل گیا ہے۔ ہماری تحقیق یہ ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک شادی کے وقت کم سے کم 17 یا 19 سال تھی۔

دلائل: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بڑی بہن سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا طویل العمر صحابیات میں سے ہیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں۔ بڑی خدا رسیدہ عبادت گذار اور بہادر خاتون ان کی عمر تمام مورخین نے سو سال لکھی ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے دس سال چھوٹی ہیں۔ سیدہ اسماء حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے پانچ یا دس دن بعد فوت ہوئیں۔ سن وفات 73ھ ہے۔ اس حساب سے سیدہ اسماء کی عمر ہجرت کے وقت 27 سال ہوئی اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے دس سال چھوٹی ہیں تو آپ کی عمر ہجرت کے وقت 17 سال ہوئی۔ اگر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی 2ھ کو مانی جائے تو رخصتی کے وقت آپ کی عمر مبارک 19 سال ہوئی۔ حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔اسلمت اسماء قديما وهم بمکة فی اول الاسلام... وهی آخر المهاجرين والمهاجرات موتا. وکانت هی اکبر من اختها عائشة بعشر سنين.. بلغت من العمر ماته سنة.

اسماء مکہ میں اوائل اسلام میں مسلمان ہوئیں۔ مہاجرین مردوں عورتوں میں سب سے آخر فوت ہونے والی ہیں۔ اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دس سال بڑی تھیں‘‘۔(ابن کثير، البدايه والنهايه 8 / 346 طبع بيروت)

اسلمت قديما بعد اسلام سبعة عشر انسانا... ماتت بمکة بعد قتله بعشره ايام وقيل بعشرين يوماً وذلک فی جمادی الاولیٰ سنة ثلاث وسبعين.

مکہ معظمہ میں سترہ آدمیوں کے بعد ابتدائی دور میں مسلمان ہوئیں۔۔۔ اور مکہ مکرمہ میں اپنے بیٹے (عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) کی شہادت کے دس یا بیس دن بعد فوت ہوئیں اور یہ واقع ماہ جمادی الاولیٰ سن 73ھ کا ہے‘‘۔(علامه ابن حجر عسقلانی، تهذيب التهذيب 12 ص 426 طبع لاهور، الامام ابوجعفر محمد بن حرير طبری، تاريخ الامم والملوک ج 5 ص 31 طبع بيروت، حافظ ابونعيم احمد بن عبدالله الاصبهانی م 430ه، حلية الولياء وطبقات الاصفياء 2 ص 56 طبع بيروت)

اسلمت قديما بمکة وبايعت رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم.. ماتت اسماء بنت ابی بکرالصديق بعد قتل ابنها عبدالله بن الزبير وکان قتله يوم الثلثاء لسبع عشرة ليلة خلت من جمادی الاولیٰ سنة ثلاث وسبعين.

’’سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ میں قدیم الاسلام ہیں۔ آپ نے رسول اللہﷺ کی بیعت کی۔ اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے چند دن بعد فوت ہوئیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت بروز منگل 12 جمادی الاولیٰ 73ھ کو ہوئی ہے‘‘۔ (محمد ابن سود الکاتب الواقدی 168ه م 230ه الطبقات الکبریٰ ج 8 / 255 طبع بيروت)

کانت اسن من عائشة وهی اختها من ابيها.. ولدت قبل التاريخ لسبع وعشرين سنة.

’’سیدہ اسمائ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ عمر کی تھیں۔ باپ کی طرف سے سگی بہن تھیں۔ ہجرت سے 27 سال قبل پیدا ہوئیں‘‘۔ (امام ابن الجوزی، اسدالغايه فی معرفة الصحابة ج 5 ص 392 طبع رياض)

اسلمت قديما بمکة قال ابن اسحق بعد سبعة عشر نفسا.. بلغت اسماء مائة سنة ولدت قبل الهجرة لسبع وعشرين سنة.

سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ میں ابتدائً مسلمان ہوئیں۔ ابن اسحاق نے کہا سترہ انسانوں کے بعد سو سال عمر پائی ہجرت سے 27 سال پہلے پیدا ہوئیں‘‘۔(شهاب الدين ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی، الاصابة فی تميز الصحابة 4 ص 230 م 773ه طبع بيروت، سيرة ابن هشام م 1 ص 271 طبع بيروت، علامه ابن الاثير، الکامل فی التاريخ 4، ص 358 طبع بيروت، علامه ابوعمر يوسف ابن عبدالله بن محمد بن عبدالقرطبی 363ه، الاستيعاب فی اسماء الاصحاب علی هامش الاصابة 463ه ج 4 ص 232 طبع بيروت، حافظ شمس الدين محمد بن احمد الذهبی، تاريخ الاسلام ودفيات المشاهير والاسلام ج 5 ص 30 طبع بيروت، الروض الانف شرح سيرة ابن هشام ج 1 ص 166 طبع ملتان)

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں سن ہجری کا آغاز نہیں ہوا اور سن عیسوی یا کسی اور سن کا عرب معاشرے میں تعارف یا چلن نہ تھا۔

اہل عرب کسی مشہور تاریخی واقعہ سے سالوں کا حساب کرتے تھے مثلاً واقعہ اصحاب فیل، سے اتنا عرصہ پہلے یا بعد وغیرہ۔ باقاعدہ سن ہجری کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں کیا اور اس کا آغاز سال ہجرت سے کیا۔

پہلی سن ہجری، دوسری سن ہجری، تیسری سن ہجری میں کم سے کم امکانی مدت۔ پہلی سن ہجری کا آخری دن یعنی 30 ذی الحجہ لیں اور دوسری سن ہجری کا پہلا دن یعنی یکم محرم، دو سنوں میں وقفہ ایک دن۔ دوسرے رخ سے دیکھیں پہلی سن ہجری کا پہلا دن یعنی یکم محرم، دوسری سن ہجری کا آخری دن یعنی 30 ذی الحجہ، کل مدت دو سال مکمل۔ دونوں صورتوں میں سن بدل گئے مگر ایک طرف ایک دن ملا اور دوسری طرف پورے دو سال۔ جب تک تاریخ اور مہینہ متعین نہ ہو یہ فرق باقی رہ کر ابہام پیدا کرتا رہے گا۔

آج کل پرنٹ میڈ یا کتنی ترقی کرچکا ہے مگر کتابوں میں، اخبارات میں، حد تو یہ کہ قرآن کریم کی طباعت و کتابت میں غلطی ہوجاتی ہے، پہلا دور تو ہاتھوں سے کتابت کا دور تھا، ممکن ہے ’’تسع عشر‘‘ انیس سال عمر مبارک ہو، مگر کتابت کی غلطی سے تسع یا تسعاً رہ گیا اور عشر کا لفظ کتابت میں ساقط ہوگیا ہو، تسع عشر انیس سال کی جگہ تسعاً یا تسع یعنی نو سال باقی رہ گیا اور آنے والوں نے نقل درنقل میں اسی کو اختیار کرلیا کہ نقل کرنے والے اعلیٰ درجہ کے ایماندار، پرہیزگار، علوم وفنون کے ماہر، صحیح و سقیم میں امتیاز کرنے والے، نہایت محتاط لوگ تھے۔ وجہ سقوط کچھ بھی ہونا ممکن نہیں۔ حقائق بہر حال حقائق ہوتے ہیں، ان کے چہرے پر گردو غبار تو پڑسکتا ہے مگر ہمیشہ کے لئے اسے مسخ نہیں کیا جاسکتا۔ احادیث کی تمام کتب میں ایسے تسامحات کا ازالہ کیا جانا چاہئے تاکہ بد اندیش کو زبان طعن دراز کرنے کی ہمت نہ رہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔    مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

 

سید جمال الدین نقشبندی حضرت خواجہ دانا سورتی علیہ الرحمہ

 

آپ علیہ الرحمہ گجرات کے صنعتی شہر سورت کے ایک ولی کامل عارف باللہ اپنے وقت کے کشف و کرامت اور سلسلہ نقشبندیہ  کے ایک جلیل القدر بزرگ ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ  کے آباواجداد موضع جنوق کے جو خوارزم سے کچھ ہی دور ہے رہنے والے تھے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ جونک نام کے گاؤں میں رہتے تھے، آپ کے دادا کا نام حضرت خواجہ سید اسمٰعیل ہے۔ آپ کے والدماجد کا نام سید خواجہ بادشاہ پردہ پوش ہے۔ ایام طفولیت میں ہی آپ کے سر سے ماں باپ کا سایہ اٹھ گیا، 4 ماہ کی عمر تھی کہ آپ  علیہ الرحمہ کے والدماجد حضرت سید بادشاہ پردہ پوش نے جامِ شہادت نوش کیا، شاہ اسمٰعیل صفوی کی جنگ میں شریک تھے۔ آپ آپ  علیہ الرحمہ کے والدماجد حضرت سید بادشاہ پر وہ پوش نے اپنے مرید خواجہ بابا عرف خواجہ حسن عطا کو عالمِ رویا میں تاکید فرمائی کہ وہ ان کے شیر خوار صاحبزادے حضرت جمال الدین (خواجہ دانا) کی تعلیم و تربیت معقول طریقے سے کریں اور ان کی پرورش سے غافل نہ رہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار  علیہ الرحمہ نے بھی خواجہ بابا عرف خواجہ حسن عطا کو اس قسم کا حکم عالمِ رویا میں دیا تھا۔ یہ حکم پاکر خواجہ حسن عطا آپ کی تلاش میں نکلے، بہت تلاش کے بعد انہوں نے آپ کو ایک جھونپڑی میں دیکھا، خدا کا شکر بجالائے، وہ آپ کو کھاوراں کے جنگل میں لے گئے اور ایک تالاب کے پاس ٹھہرایا، اب حضرت خواجہ سید حسن عطا کو یہ فکر ہوئی کہ حضرت کو دودھ پلانے کا کوئی معقول انتظام ہو، چنانچہ وہ دایہ کی تلاش مین سرگرداں پھرنے لگے، بہت تلاش کرنے پر بھی کوئی دایہ نہ ملی، مجبوراً واپس آئے اور بارگاہِ ایزدی میں دعا کی کہ ”اے پروردگار ! اے رازق ! اے مسبب الاسباب ! اس معصوم شیرخوار بچے کی پرورش اور نگہداشت میرے ذمہ ہے، بغیر دود ھ پیئےیہ شیر خواجہ بچہ کیسے زندہ رہ سکتا ہے، اے میرے مولیٰ ! تو اس شیر خوار بچے کے لئے دودھ کا انتظام فرما میں نے دایہ تلاش کی لیکن کوئی نہ ملی، اب میں کیا کروں، اس شیر خوار بچے کی زندگی تیرے ہاتھ ہے‘‘ مایوسی کی حالت میں آپ واپس اس مقام پر آرہے تھے جہاں وہ حضرت کو چھوڑ گئے تھے، ابھی کچھ فاصلہ پر ہی تھے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ کوئی خوفناک جانور حضرت کو کھا جانے کی کوشش میں ہے، انہوں نے تیزی سے قدم بڑھائے اور حضرت کے پاس پہنچ کر یہ دیکھ کر بہت متعجب ہوئے کہ ایک لولی ہرنی حضرت کو دودھ پلا رہی تھی، وہ خداوند تعالیٰ کا شکر بجا لائے اور سمجھ گئے کہ ان کی دعا بارگاہِ ایزدی میں قبول ہوئی، اس ہرنی کا یہ طریقہ تھا کہ صبح و شام مقررہ وقت پر یہ ہرنی آتی اور حضرت کو دودھ پلاتی اور چلی جاتی، جب تک حضرت کی دودھ پینے کی عمر رہی ہرنی پابندی سے دودھ پلاتی رہی، اس طرح سے وقت گذرتا گیا۔

حضرت خواجہ سید عطا کی وفات کے بعد حضرت کے والد ماجد حضرت سید بادشاہ پردہ پوش نے خواجہ سید محمد کو عالم رویا میں یہ حکم دیا کہ ان کے صاحبزادے (حضرت خواجہ دانا) کو مزید تعلیم وتربیت دیں، ابھی ان میں کمی ہے، آپ کے والد ماجد نے ان سے فرمایا کہ”میرا لڑکا (حضرت خواجہ دانا) ابھی پورے طور پر تعلیم سے بہرہ مند نہیں ہوا ہے، اس کو مزید تعلیم کی ضرورت ہے اور اس کی تربیت بھی خاطر خواہ نہیں ہوئی ہے، تم کو چاہئے کہ اس کی تعلیم و تربیت سے غافل نہ ہو، میں اس کو تمہارے سپرد کرتا ہوں، اس کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری تم پر ہے، تم کو چاہئے کہ اس فرض کو بخیروخوبی انجام دو“  یہ حکام پاکر حضرت خواجہ سید محمد حضرت کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، تلاش کرتے کرتے کھاورال کے جنگل میں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت ہر نوں کے ٹولے میں رونق افروز ہیں، ہرن حضرت سید محمد کو دیکھ کر بھاگنے لگے اور حضرت بھی ان کے ساتھ ہولئے، کئی دن تک ایسا ہی ہوا کہ جب خواجہ سید محمد وہاں پہنچتے تو حضرت ہرنوں کے ساتھ نکل پڑتے، ایک دن حضرت خواجہ سید محمد بہت آزردہ خاطر ہوئے کہ آخر وہ کب تک ان سے بھاگیں گے اور وہ (حضرتِ خواجہ سید محمد) کب تک ان کا پیچھا کریں گے، انہوں نے حضرت کو عاجزی، منت اور محبت سے روک کر کہا کہ ”آپ مجھ سے واقف نہیں، میں کوئی اجنبی نہیں ہوں، آپ کے والدماجد نے مجھے آپ کی تعلیم و تربیت پر مامور فرمایا ہے پھر آپ مجھ سے کیوں بھاگتے ہیں“ یہ سن کر حضرت رک گئے اور وہیں رہنے لگے اور تعلیم حاصل کرنے لگے۔ آپ کے والدماجد کے حکم کے مطابق جو انہوں نے عالمِ رویا میں دیا تھا، حضرت خواجہ سید حسن عطا نے آپ کو ابتدائی تعلیم دی اور آپ کی تربیت پر کافی دھیان دیا، ان کی وفات کے بعد حضرت خواجہ سید محمد کو حضرت کے والدماجد نے عالمِ رویا میں حکم دیا کہ وہ حضرت کو تعلیم و تربیت دیں، چنانچہ انہوں نے چھ سال تک تعلیم دی، اس کے بعد وہ اپنے وطن لوٹ گئے۔  حضرت خواجہ سید محمد کے چلے جانے کے بعد آپ جنگل میں تنِ تنہا رہتے تھے اور عبادت کرتے تھے، آپ کی عبادت کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ایک وسیع دائرہ کے بیچ میں بیٹھتے تھے اور آپ کے چاروں طرف جنگلی جانور ہوتے تھے، آپ جب اللہ اللہ کہتے تو جنگل جانور بھی نقل کرنے کی کوشش کرتے، اس طرح سارا جنگل اللہ اللہ کے ذکر سے گونج اٹھتا تھا۔ آپ علیہ الرحمہ جنگل کی قدرتی زندگی پسند فرماتے تھے جس میں کوئی تصنع یا بناوٹ نہ تھی جانوروں سے مانوس اور انسانوں سے دور رہ کر آپ جنگل میں اللہ اللہ کرنے میں خوشی پاتے تھے، انسان کو دیکھ کر آپ بھاگتے تھے، شہری زندگی سے آپ نابلد اور نا آشنا تھے، اگر اسی طرح آپ زندگی گزارتے اور اسی طرح جنگل میں رہتے تو مخلوق آپ سے کیسے اور کس طرح مستفید ہوتی۔ آپ علیہ الرحمہ حضرت خواجہ سلام جوئبار نقشبندی سے حضرت نے خلافت پائی، حضرت خواجہ عبداللہ اشراقی سے حضرت کو اویسیہ فیض پہنچا، حضرت خواجہ عبید اللہ احرار کی روحانیت سے بھی حضرت مستفید و مستفیض ہوئے، حضرت خواجہ سید حسن عطا کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوکر آپ نقشبندی سلسلے میں منسلک ہوئے۔ آپ علیہ الرحمہ  رات کو جاگتے تھے اور عبادت اور نماز میں مشغول ہوجاتے تھے، مخلوق سے بے نیاز رہتے تھے، غریبوں، مسکینوں اور معذوروں کی ہر طرح امداد کرتے تھے، آپ کو کھیتی باڑی کا بہت شوق تھا، زمین جوتتے اور جو اس سے آمدنی ہوتی، وہ ان کاشتکاروں میں تقسیم کردیتے تھے جن کو کھیتی میں نقصان ہوا ہوتا، آپ سخاوت کے لئے مشہور تھے، سائل کو خالی نہ لوٹاتے تھے، اتباعِ سنت کے سخت پابند تھے، میلادالنبی اور معراج النبی بڑی شان و شوکت سے مناتے تھے، لوگوں کو کھانا تقسیم کرتے تھے اور اعلیٰ قسم کا عطر مہمانوں کو بطور تحفہ دیتے تھے، علمی جلسوں میں بھی شریک ہوتے تھے اور مشکل علمی نکات کو بہ آسانی حل کر دیتے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ  کو شہر سے زیادہ جنگل پسند تھا، روزانہ بلا ناغا جنگل میں جاتے تھے اور قدرتی مناظر، صارف آب و ہوا اور وہاں کے سکوت اور خاموشی سے لطف اندوز ہوتے تھے، جنگل کے جانور اور پرند آپ سے ملے جلے رہتے تھے، کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ پرندوں کی زبان میں پرندوں کے گانے گاتے تھے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ جانوروں اور پرندوں کی بولی سمجھتے تھے، جانوروں اور پرندوں پر زیادتی یا ظلم کرنا آپ کے نزدیک قہرِ خداوندی کو دعوت دینا ہے۔ مزدوروں کا آپ خاص طور سے خیال رکھتے تھے، جب کوئی عمارت بناتے تو اس کو کئی کئی مرتبہ گروا دیا کرتے تھے تاکہ مزدوروں کو زیادہ مزدوری ملے۔

118 سال عمر شریف پاکر 5 صفر المظفر 1016 ہجری بمطابق 1607 عیسوی بروزجمعہ آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا اور بڑے خان چکلہ سورت میں آپ کی تجہیز و تکفین عمل میں آئی ۔ آج بھی آپ کا مزار پرانوار مرجع خلائق خاص  و عام ہے ۔ہر سال 3 اور 4 صفرالمظفر کو حسب روایت آپ کا عرس شریف درگاہ کے احاطہ میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منا جاتا ہے ۔  (مآخد و مراجع: تاریخ شہنشاہ سورت/ سیرت خواجہ دانا / صلحائے سورت)