Aqwal e Zarren By Syed Makhdoom Ashraf Jahnagir Simnani


ارشاد ات زرین
حضرت سلطان الاولیاء   درۃ تاج الاصفیاء عمدۃ الکاملین زبدۃ الواصلین، عین عیون محققین،  وارث علوم انبیاء و مرسلین تارک السلطنت غوث العالم محبوب یزدانی سلطان اوحدالدین قدوۃ الکبریٰ مخدوم سیداشرف  جہانیاں جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔
B              ایمان و توحید کے بعد بندہ پر سب سے پہلے عقائد حقہ شریعہ کا جاننا فرض  ہے۔
B              حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے حسب و نسب کے علم حاصل کرنا  شریف ترین عمل ہے اور آپ کے اجداد میں سے چار جدوں کے نام یاد ہونا مسلمان ہونے کی شرط ہے۔
B               علم حاصل کرو  کہ  زاہد بے علم شیطان کا تابعدار ہوتاہے اور عابد بے فقہ کمہار کے گدھوں کی طرح۔
B              علم ایک چمکتا ہو اآفتاب ہے اور تمام ہنر اس کی شعائیں ہیں۔
B              خدا کا دوست جاہل نہیں ہوتا۔
B              عالم بے عمل ایساہے جیسے بے قلعی کا آئینہ ۔
B              عالم دین اورعالم دنیا میں فرق وہی ہے جو کھرے اورکھوٹے چاندی میں ہوتاہے۔
B              جاننا شریعت ہے ، جاننے کے مطابق عمل کرنا طریقت ہے اور دونوں کے مقصود ہوتو ان کا حاصل کرنا حقیقت ہے۔
B              جو شخص بے محل علمی گفتگو کرتا ہے تو اسکے کلام کے نور کا دو حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔
B              اگر کوئی جان لے کہ اب اسکی زندگی میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گئے تو چاہیئے کہ علم فقہ میں مشغول ہوجائے کیونکہ علوم دین سے ایک مسئلہ جان لینا ہزار رکعت سے افضل ہے۔
B              کسی کو حقارت سے نہ دیکھو اس لئے کہ بہت سے خداکے دوست اس میں چھپے رہتے ہیں ۔
B              سلوک میں اگربارگاہ نبوی و سرکارمصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم  کی فرمانبرداری واطاعت کے راستے سے کچھ بھی انحراف ہو تو منزل مقصود تک پہونچنا ممکن نہیں ۔
B              بند وں کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کرنا اور ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی دوستی میں مستغرق کرنا مشائخ  طریقت کا کام ہے۔
B               پیر وہ ہونا چاہیئے کہ طالبان طریقت و سلوک کی ایک جماعت نے اس کی تربیت کی پناہ میں اور احباب اس کی درگاہ حمایت میں اپنے مقصود کو پہونچی ہو۔
B              ولی وہ ہے جس کا دل حق سبحانہ وتعالیٰ سے انس رکھےاور غیرحق سے متواحش اور گریزاں ہو ۔
B              شرط ولی یہ ہے کہ  گناہوں سے محفوظ ہو جس طرح نبی کی شرط یہ ہے کہ معصوم ہواور جس کسی پر بھی ازراہ  شریعت اعتراض  ہو پس وہ مغرور اور فریب خوردہ ہے ولی نہیں ہے۔
B              ہر بزرگ کی کوئی بات یاد کرلو اگریہ نہ ہوسکے تو ان کے نام ہی یاد کرلو کہ اس سے نفع پاؤگے۔
B              اگر علم کا چراغ ولی کے دل میں نہ ہو تو اسے شر کی خبر نہیں ہوسکتی اور وہ صحرائے ظلمت اور دشت کدورت میں مارا مارا پھرتا رہےگا۔
B              صالحین کا ذکر اورعارفین کا تذکرہ ایک نور ہےجو ہدایت طلب کرنے والوں پر ضوء فگن رہتاہے۔
B              شیخ طبیب حاذق اور تجربہ کارحکیم کی طرح ہے جو ہر مریض کا علاج اور اس کی دوا اس کے مزاج کے مطابق تجویز کرتاہے۔
B              جس شخص کا قدم شریعت  میں جم جائے گا طریقت کا راستہ خودبخود کھل جائے گا اور جب  شریعت کے ساتھ طریقت حاصل ہوجائے گی تو حقیقت کی تجلی خود بخود رونما ہوجائے گی۔
B              صوفی وہ ہے جو صفات الہیہ سے سوائے صفت وجوب (وجب الوجود) اور قدم موصوف ہو۔
B              اگر کسی صوفی کو دیکھو اور وہ تمہاری نظر میں نہ جچے تو اس کو ذلیل نہ سمجھوکہ یہ محرومی اورحجاب کی دلیل ہے۔
B              حسن خلق اس بلند پایہ گروہ یعنی صوفیہ کی خاص خصلت ہے جو انہیں ہی زیب دیتی ہے کہ یہ حق کے زیور اور کلام کے لباس سےروشن ہوتےہیں تمام اقوال وافعال میں صوفی کی نظر چونکہ حق تعالیٰ پر ہوتی ہے۔ اس لئے لازم آتاہے کہ وہ تمام مخلوق سے خوش اخلاق کا برتاؤ کرے۔ اگر شریعت کےمطابق کسی محل پر سختی درکارہے تو سختی کرے ، لیکن باطن کے مطابق اسی وقت اللہ سےمغفرت طلب کرے۔
B              شیخ کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرید کے احوال سے واقف ہو ، ترک دنیا اور تنہائی  کے علوم  کا عالم ہو  تاکہ اس کی خیر خواہی کرسکے  اور مرید کو راہ راست دکھا سکے۔ اس کے حال کے مناسب اس کو اس راہ کے خطرات اور فسادات سے آگاہ کرسکے ۔ اگر شیخ اس اوصاف مذکورہ سے متصف نہیں ہوگا تو اس کی پیروی کرنا کس طرح جائز ہوسکتاہے۔ اور ان سے کلاہ حاصل کرنا کس طرح روا ہوسکتا ہے۔
B              مرید کے لئے ایک شیخ کامل ضروری ہے جس کی اقتداء کی جائے  کیونکہ وہ رفیق سفر ہے اور جا ن لو کہ اس امر کے لئے کسوٹی اور معیار ہے اور وہ قرآن و حدیث و اجماع امت با ایمان  ہے تو جو معیار کے موافق ہوا اور کسوٹی سے کھرا اور آمیزش سے صاف نکلا تو وہ ٹھیک ہے اور جو اس کے خلاف ہوا وہ فاسد اور بے کار ہے۔
B              شیخ کو چاہئے کہ مرید کا بیکار اور غلط کاموں کا مواخدہ کرے۔ خواہ وہ کم ہویا ذیادہ۔ صغیر ہو یا کبیر ۔ اس سلسلہ میں مواخذ ہ کو نظر انداز نہ کرے اور تساہل کو روزانہ رکھے۔
B              پاک غذا ایک بیج کی طرح ہے جو معدہ کی زمین میں بویا جاتا ہےاگر وہ بیج پاک اورحلال غداکا ہے تواس سے اعمال صالحہ کا درخت پیدا ہوگا اور اگر مشتبہ روزی کا بیج بویا گیا  ہے تو اس خطرات فاسدہ اور عبادت میں کسائل پیدا ہوگی یعنی عبادت میں سستی اور دل میں وسوسے پیدا ہوں گے اور اگر حرام روزی  ہے تو معصیت  و نافرمانی کا درخت نشودنما   پائے گا۔
B              مرید کو چاہیئے کہ اس کا مقصود ومراد اپنے پیر کے سوا کوئی نہ ہو اور سارا مقصد اس کا ، ذاتِ شیخ کے سوا کچھ نہ ہو کیو نکہ شیخ کی صورت میں حق تعالیٰ کی تجلیاں ہےاور جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہ کردے۔یہ اللہ تعالی ٰ کی شان ہے  پیر بیچ میں سبب ہونے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
B              بادشاہوں اور امیروں سے درویشوں کو ضرور ملنا چاہیئے اور باحسن وجوہ اصلاح کرنا چاہیئے۔
B              جب کسی شہر میں پہونچوتو وہاں کے بزرگوں  کی زیارت کرو پھر وہاں کے  بزرگوں کی زیارت کے لئے جاؤ۔
B              کلمہ طیبہ پابندی سے پڑھنے کا نام اذکار ہے خدائے تعالیٰ  کے اذکار عشق الہی  کے میخانہ کی شراب ہے آب رداں اور کبھی نہ ختم ہونے والے چشمہ کا پانی ہے۔ جو بالکل پوشیدہ  طریقہ سے حلق اور ناطق کے ذہن میں پہونچتاہے۔
B              جو خلق میں مشغول رہا وہ خالق کا طالب نہیں بن سکتا۔
B              جوکوئی لاالہ الا اللہ کو زندہ یا مردہ کی نجات و  بخشش کے لئے  پڑھے تو اس کو ضرور نجات حاصل ہوگی۔
B              ایسے لوگوں کی صحبت سے پرہیز کریں جو  ہم خیال نہ ہوں اور خاص طور پر ایسے  لوگوں کی صحبت سے بچے جو نورایمان سے دور ہیں اور طبیعت  کی ظلمات میں پھنسے ہوئے ہیں۔
B              وجود کا آئینہ میں معائنہ کرنا اور چشم یقین سے دیکھنا  مشاہدہ ہے۔
B              خرقہ عاشقوں کی علامت اور فاسقوں کے لیے ایک ہیبت ہے۔
B              مشائخ سلاسل کا سلسلہ شجرہ مقصو د تک پہونچتاہے اور جس نے اس سلسلہ سے رابطہ پیدا  کر لیا  بہت سی غلامیوں سے آزاد ہوگیا۔
B              مشائخ کا دیدار ایک ایسی عبادت ہے کہ اگر وہ فوت ہوجائے تو اس عبادت کی  قضا اداکرنے کا وقت نہیں ہے۔
B              جہاں تک ممکن ہوسکے اپنے مرشد ، استاد  اور والدین کی جانب بغیر وضو نظر نہ کرے۔
B              لباس کی زینت نماز کے لئے مخصوص ہونا چاہیئے  لوگوں کے دکھاوے کے لئے نہیں ہونا چاہیے۔
B              مرنے والے زیارت کرنے والے کی آمد سےاور اس کی توجہ سے باخبر ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ عالم ارواح بہت ہی لطیف ہے۔
B              جب مشائخ کی زیارت کے لئے جائے تو  بغیر شیرینی ، پھول اور سبزہ کے نہ جائے۔
B              مختلف آوازوں کو سنکر فہم میں جو معانی پیدا ہوتے ہیں ان کے اثر سے صوفیہ کا وجد کر ناسماع ہے۔
B              جس مسئلہ میں حلت و حرمت مختلف فیہ ہواس میں دلیرانہ اور بے باکانہ  گفتگو نہیں کرنا چاہیئے بلکہ غور وتامل کے بعد اس سلسلے میں بات کرنا چاہیئے۔
B              ترک یہ ہے کہ نفس سے روگردانی کی جائے  اور بشریت کے میل کچیل سے قطع تعلق کیا جائے۔
B              ایمان ایسا آفتاب ہے جو قلب  انسانی کے مشرق سے شروع ہوتاہے اور اس کے نور سے شرک و طغیان کے ذرہ فنا ہوجاتے ہیں ۔
B              اصحاب تحیر وتفکر اس وجہ سے خاموش رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام رہتے ہیں اور جب پلک جھپکاتےہیں تو اگلا درجہ طلب کرتے ہیں ۔اخص الخواص  جب عالم ملکوت عبور کرلیتے ہیں  تو ان پر تحیر طاری ہوجاتا ہے اور اکثر و بیشتر تحیر عالم جبروت ولاہوت میں ہوتا ہے۔اس کی علامت خاموشی ہے۔
B              شریعت ان امور کا بجاآوری ہے جس کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان باتوں سے رکنا ہے جن سے منع کیا گیا ہے۔
B              علم شریعت ہے اور اس علم کے مطابق عمل کرنا طریقت ہے اور حقیقت ان دونوں کےمقصود کاحصول ہے۔جو شخص تین رکھتا ہے اس کے پاس تین ہیں،جو دو رکھتا ہے اس کے پاس دو ہیں اور جوصرف  ایک رکھتاہے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
B              جو شخص طریقت میں شریعت کی پابندی نہیں کرتا وہ طریقت کی نعمت سے محروم رہتاہے۔
B              توبہ برے کاموں سے بچنے اور اچھے کاموں پر توجہ دینے کو کہتے ہیں ینز بشری کدورتوں اور بنیادی عادتوں سے بھی احترازکرنا ہے۔
B              توبہ کاحکم تمام لوگوں کے لئے ہےلوگ ہرگھڑی توبہ کے دامن سے لپٹے رہیں تاکہ وصول کے گریباں تک رسائی ہوسکے۔کافر اپنے کفر سے توبہ کریں ۔ گناہ گار گناہوں سے  تاکہ مخلص اور اطاعت گزاروں میں شامل کئے جائیں۔
B              توبہ اتنی پختہ کریں کہ پھر برے افعال میں مبتلانہ ہوں  بلکہ دل میں برے افعال کا خیال بھی نہ ہو۔
B              شریعت کی روسے ظاہری نماز کا تعلق اعضا سے ہے ، طریقت کی رو سےباطنی نماز کاتعلق دل کےتفکرسے ہےاور ازروئے حقیقت نمازِ روحانی  کا تعلق فیض الٰہی کے ساتھ استغراق سے ہے۔
B              خشوع اورخضوع کے بغیر نماز اس جسم کے مانند ہے جس میں روح نہ ہو۔
B              نماز کی راحت چھ چیزوں سے حاصل ہوتی ہے ۔ دل کی حضوری، معنی کی سمجھ، ماہیت کی تعظیم ، خوف، امید اورحیا۔
B              نماز ِعادت سے پناہ مانگنا چاہیئے  خیالا ت کے  انتشار اور نفسانی وسوسوں سے جو نماز کی حالت میں پیدا ہوتے ہیں  استغفار کرنا چاہیے۔
B              اگرچہ نماز اسلام کا محض ایک رکن نظر آتی ہے  لیکن تفصیل میں جائیں تو اسلام کے پانچوں ارکان اسی میں شامل ہیں ۔
B              روزہ رکھنے کا مقصد کم خوراکی ہے اگر صائم روزہ رکھے اور رات کو پیٹ کی زنبیل بھرے تو یہ بات باعث شرم ہے۔
B              حج دلوں کے کعبے کے طواف کا  قصد کرنا ہے اور جہاد نفس کے ساتھ جنگ کرنا ہے۔
B              ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے کہ پتھر اورمٹی سے بنے ہوئے کعبے کو ایک نظر دیکھ کر شرف پالیتےہیں اور واپس چلے جاتےہیں اور قبلۂ دل پر قطعاً نگاہ نہیں ڈالتے  جس پر اللہ تعالیٰ کے ہمہ وقت  نظر رہتی ہے۔
B              امت کانام امت اس لئے ہوا کہ وہ بہر طور شارع کے حکم پر مجتمع ہوتی ہے۔
B              اعلیٰ ترین دولت ونعمت جس سے انسان سرفراز فرمایا گیا ہے وہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔ یہ جماعت میدان الٰہی کے سوار اور مکان نا متناہی  کی محافظ ہے اس لیے اس نعمت سے بہر ہ مند ہوئی۔
B              معنوی انسان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے صفات  و تعریفات سے موصوف  ومعروف ہو  اور سلوک کے حقائق نیز درویش کے رموز کے شرف سے مشرف کیاگیا ہو۔  ظاہری انسان وہ ہے جس کی زندگی مذکورہ اوصاف و کمالات کے برعکس ہو اور مجازی اسلام و ایمان سے بھی بہرور نہ ہو۔
B              مسافرت میں اگرچہ بہت سی تکالیف اور سختیاں برداست کرنی پڑتی ہیں اور لوگ اپنی اصلی وطن سے دور ہوجاتے ہیں  لیکن راحت اور خیریت سے قریب رہتےہیں  اور بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔
B              جو شخص کامل مرد نہ ہو اور اپنی طبیعت کے عیبوں سے واقف نہ ہو وہ سفر اختیار نہ کرے اور تنہا رہے۔
B              سفر ہمیشہ جمعرات یا ہفتے کو کرنا چاہیئے  حضور صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات اور ہفتے کو سفر پر تشریف لے جاتے تھے اور دعا بھی فرماتے تھے۔ خدایا میری امت کو ان دونوں دنوں کی صبح میں برکت عطافرما، لہذا  جمعرات اور ہفتہ  کی صبح مبارک ہے۔
B              میں نے موجودات اور مخلوقات سے متعلق جو عجیب و غریب باتیں دیکھی ہیں  اگر انہیں بیان کروں تو بعض لوگ یقین نہ کریں ۔
B              جس نے دیر سے (شدید بھوک کے وقت ) کھایا وہ (صحیح) کھانے والاہے اور جس شخص نے  اس طریقے پر نہ کھایا  وہ بوجھ اٹھانے والا ہے۔
B              کھانا عورت ہے اسے چھپاؤ  یعنی اس کے عیب ظاہر نہ کرو۔
B              اگر کھانے کے دوران مشائخ کے اقوال  اور ان کے حالات  جو بھی مجلس کی کیفیت کے مطابق ہو بیان کئے جائیں تو بہتر ہے۔ یہ عمل رافضیوں کے برعکس ہے۔
B              روٹی کی عزت کرنی چاہیئے۔ روٹی کی عزت یہ ہے کہ اس پر رکابی  اور نمک دان نہ ہو  اور نہ نمک دان پر روٹی یہ ایک درجے میں روٹی کو بےحیثیت  جاننا ہے ۔ اور ہمیشہ زمین پر کھانا چاہیئے۔
B              کھانا بے پرواہی اور بے دلی سے نہ کھائے  بلکہ حضور دل کے ساتھ کھانا کھا نا چاہیئے۔
B              کھانا تین طرح کا ہوتا ہے : فرض، سنت، مباح  کھانے کی وہ مقدار جو انسان کو ہلاکت سے بچائے فرض  ہےاور جتنی غذا عبادت یا پیشہ کے لئے ضروری ہو سنت ہے اور پیٹ بھر کھانا مباح ہے لیکن سیری سے زیادہ کھانا حرام ہے ۔
B              رات کا کھانا کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے اس لئے کہ اس ضعف اور بڑھاپا پیدا ہوتا ہے۔
B              اہل ریاضت ہمیشہ نفس کشی نہیں کرتے  بلکہ کبھی کبھی اس کی مراد بھی پوری کردیتےہیں ۔ یہ سختی مبتدیوں کے لئے ہے۔ کامل حضرات کےلئے لذیذ چیزوں کا کھانا  پینا مانع ریاضت نہیں ہے۔
B              مہمان کے قدموں کی تشریف کے سبب  میزبان کے گھر میں بے حد برکت ہوتی ہے۔ امید ہے کہ میزبان جس شئے سے مہمان کی ضیافت کرتاہے اللہ تعالیٰ اسی روز اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے۔
B              جب مہمان  گھر آئے تو سنت یہ ہےکہ  گھر میں جو کچھ موجود ہو اس کے سامنے رکھے۔زیادہ تکلف کا قصد نہ کرے کہ مشکلات پیدا ہوتی ہے۔البتہ اگر قدرت ہے تو  مناسب حال تکلف کیا جاسکتاہے۔
B              اگر کوئی شخص کسی سے ملاقات کرنے آئے تو اس کے پاس کھانے کے جو چیز ہو پیش کردے  خواہ تھوڑے سے چنے ہوں اگر کچھ نہ ہوں تو ایک پیالہ پانی یا شربت پیش کرے۔
B              جب دسترخوان پر روٹی رکھیں  تو اسی روٹی سے کھانے کی ابتدا کریں اور سالن کاانتظار نہ کریں۔ سالن کا انتظار روٹی کی توہین ہے اور حد درجہ ممنوع ہے۔
B              عبادت کے دس حصے ہیں اس  میں نو حصے خلق سے دوری اور ایک حصہ خاموش رہناہے۔
B              گروہ صوفیہ اور زمرۂ علیہ کے نزدیک سب سے بہترین نوافل  اور خوب ترین شغل  تہجد کی نمازہے۔ تمام مشائخ  اور علماء نے اس نیک وقت اور پاکیزہ ساعت کے فوائد حاصل کئے ہیں ۔ اسے سعادت دارین اور عبادت کونین کا سبب جانا ہے۔
B              تہجد کی نماز اللہ تعالیٰ کی محبت کی کنجی ہے یہ صدیقوں کا نورنظر ہے یہ فرائض میں کمی ہوجانے کی تلافی کرتی ہےاور یہ صالحین کے آداب میں سے ہے۔
B              رات کے پچھلے پہر جاگنے کا اس قدر فائدہ ہےکہ اگر کوئی شخص گناہوں میں مشغول ہو تب بھی فیض سے محروم نہ رہے گا۔
B              مجھے جو دینی سعادت اور یقینی افادات حاصل ہوئی ہےتمام کی تمام پچھلے پہر جاگنے کی برکت سے عطاہوئی ہے۔
B              زہد خالص نفس سے علیحدہ ہوجانا ہے۔
B              توکل (درحقیقت اپنے ) معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیناہے۔ (اللہ فرماتاہے)  جو اللہ پر بھروسہ کرے اللہ کے لئے کافی ہے۔
B              درحقیقت متوکل وہ شخص ہوتا  ہے  جس کی نظر اسباب پر نہ ہو بلکہ اسباب پیدا کرنے والے پر ہو۔
B              متوکل کی تین علامتیں ہیں ۔ اول سوال نہ کرے، دوسرے فتوح آئےتو واپس نہ کرے اور تیسرے جو آئے اس کو جمع نہ کرے۔
B              اکثر مشائخ نے ہمیشہ دست کاری کے ذریعے روزی کمائی ہے اور دل و  جان سے اس پر عمل کیا ہے۔
B              وہ عزیز بند ہ جس سے مسبب  (اللہ تعالیٰ)  اسباب لیتاہے  وہ حق تعالیٰ کے رضا کا منتظر رہتاہے اور ہر صورت حال میں کسی قسم کی تدبیر یں نہیں کرتا کہ تدبیر میں آفت اور سپردگی میں سلامتی ہے۔
B              شیطان ہر شکل کے مشابہ ہوکر سامنے آسکتے ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں نہیں۔
B              کنجوسی اپنے ذمے حق کو ادا کرنے سے رک جانا ہےاور سخاوت اللہ تعالیٰ کے راہ میں واجب کے ساتھ نفس کو فنا کرنا ہے۔
B              اگر ایثار کی تفصیل میں درختوں کے پتے ایک ضخیم کتاب اور سمندر کی پانی روشنائی بن جائیں تو ایک حرف سے زیادہ نہیں لکھا جاسکتا۔ خدانہ کرے کہ کوئی بندہ صفت بخل سے موصوف ہو۔
B              اللہ کی پناہ !اللہ کی پناہ ! اگرمیں اپنے احباب واصحاب کے بارے میں  سنوں کہ ان اوصاف ( بخل/ کنجوسی)  کا ایک شمہ اُن میں ہے تو اپنی بیعت اورخلافت کے بندھن سے آزاد کردوں گا۔
B              خدا ہر مسلمان کو بخل سے بچائے اس لئے کہ بخل کافروں کی خصوصیت ہے۔
B              بری رسم فی الحقیقت شریعت  کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتی اس لئے ناپسندیدہ اور نامقبول ہوتی ہے۔
B              واعظوں کی باتیں سننا اور نصیحت کرنے والوں کی نصیحتوں کا علم حاصل کرنا خوشگوار نعمت ہےاوریہ نعمت کسی کسی کو حاصل ہوتی ہے۔
B              جو شخص ریاضت و مجاہدہ نہ کرے گا اس کو دولت مشاہدہ نہیں حاصل ہوسکتی۔
B              غصہ  بدترین خصلت و علامت  ہے جس  سے وصول کی  نعمت میں  زوال ہونے لگتاہے اور حصول میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ہرحال میں اس عادت سے گریز کرنا چاہیئے۔ اللہ کی پناہ! اگر کسی سے یہ فعل کسی بھی نوعیت سے سرزد ہوجائےتو اسے فوراً استغفار کرنا چاہیئے۔
B              مخلوق میں انسانوں  کے تعلق سے پسندیدہ اور بہترین صفت شفقت کرنا ہے۔  جسے یہ نعمت کلی طور پر حاصل ہوجائے اسے ثمرۂ حقیقت بھی بخشا جاتاہے۔
B              شریعت کے معاملات اور طریقت کے کام چونکہ شریعت کے اصول پر مبنی ہے ۔ اس لئے انہیں ظاہر شرع کے مطابق انجام دیا جائے۔
B              مومن وہ ہے جو ہر حال میں مبتداپر یقین کرنے والا ہو۔
B              امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے لائق وہ شخص ہوتا ہے جو شریعت کے تمام باریکیوں کا عالم ہو اور ان تمام باریکیوں پر عمل کرتا ہوکہ وہ اس تنبیہ کے تحت نہ آسکے لم تقولون مالاتفعلون (کیوں کہتے ہو وہ بات جو کرتے نہیں)۔
B              امربالمعروف اور وعظ کے سلسلے میں واعظ کو خاص طور پر نرم مزاج اور نفع رساں ہونا چاہیے۔
B              بہت سے مسائل ہیں جنہیں علماء پوشیدہ رکھتے ہیں  انہی بیان نہ کرنا ہی فرض ہے اسی بنا پر فقہ کی کتابوں میں تحریر ہے  یہ مسئلہ جاننے کے لائق ہے اور فتویٰ دینے کے لائق نہیں ہے۔
B              امام بنی کا نائب ہوتا ہے ۔ ولی راستے کا مددگار اور رسول اللہ ﷺ کے بارگاہ سے متصل ہوتاہےاور اپنے قول و فعل میں نبی کا تابعدارہوتا ہے۔
B              نفس تاریک غبار ہے جو دل سے اٹھتا ہے، روح نورانی جوہر ہے اور جسم فانی تاریکی ہے۔
B              قبض ارواح کی تکلیف لوگوں کے درجات کی نسبت سے ہوتی ہےبعض بزرگوں کی روح اتنی آسانی سے ہوتی ہےجیسے شربت پیتے  ہیں یہ نصیب چند اہل نعمت کو حاصل ہوتاہے۔
B              
مسلمانوں میں جس کسی کو شکستگی  پیش آئے اور اس سے ایمان میں سستی پیدا ہو تو ہزگز مایوس نہ ہو کیونکہ اس  (صبر و آزما ) واقعے میں فتح و نصر ت  کی  بشارت مضمر ہوتی ہے۔

Hazrat Baba Kamaluddin Ki Billi

حضرت  بابا کمال  الدین کی بلی
حضرت سلطان سید اشرف جہانگیرسمنانی قد س سرہ   فضائل و کمالا ت شیخ نجم الدین کبریٰ فرمارہےتھے کہ انکی نگاہ تصرف سے کتا ولی ہوگیا تھا ۔ حضرت کے خلیفہ قاضی رفیع الدین کے دل میں خطرہ گزرا کہ آیا اس زمانہ میں بھی کوئی ایسا ولی ہوگا جس کی تاثیر نظر سے سے جانور ولی ہو جائیں۔
حضرت کے قلب مبارک پر ان کا یہ خطرہ ظاہر ہوگیا ۔ مسکرا کر فرمایا کہ شاید اس عالم میں ہو ۔
حضرت کے مرید کمال جوگی  کے یہاں ایک بلی پلی ہوئی تھی ۔ کبھی کبھی حضرت کی نظر اس پر پڑجاتی تھی۔ فرمایا کہ کمال جوگی کی بلی کہاں ہے۔میرے سامنے لاؤ۔
جس وقت اس بلی کو حضرت کے سامنے لائے۔ حضرت محبوب یزدانی کچھ اسرار معرفت بیان فرمارہے تھے ۔ کہتے کہتے ایک حالت گرم پر جوش طاری ہوگئی اورچہرۂ مبارک کا رنگ بدل گیا ۔ حاضرین پر ایک ہیبت چھا گئی ۔ معلوم ہوتاتھا کہ حضور کے قلب مبارک سے روح پرواز کیا چاہتی ہے۔ کمال جوگی کا بلی کان لگا کر حضرت کے کلمات معرفت کو سن رہی تھی  یہاں تک کہ اس کی حالت یہ ہوگئی کہ زمین سے قدآدم اچھل گئی اور ازخود رفتہ ہو گئی۔ ایک پہر تک بیہوش  پڑی رہی ۔ جب ہوش میں آئی حضرت محبوب یزدانی کے قدموں پر بوسہ دنیے گی اور آپ کے اردگرد گھومنے لگی  اس کے بعد جب کچھ کلام معرفت بیان فرماتے تو حضور کی مجلس میں آکر بیٹھتی اور سنتی  اور جب کوئی مہمان خانقاہ عالی میں آتے تو ان کی تعداد کے موافق آواز دیتی۔ باورچی اسی قدر مہمانوں کا کھانا پکاتا اور بی بی گربہ کو باقاعدہ دسترخوان بچھاکر ہر قسم کا کھانا پیش کیا جاتا۔ حضرت اگر کسی اصحاب کو بلانا چاہتے تو بلی سے فرمادیتے ۔ وہ ان کے مکان  ہر جاکر آواز دیتی ۔ وہ سمجھ جاتے کہ حضرت نے بلایا ہے۔
ایک دن حضورکی حضور کی خانقاہ میں جماعت درویشاں مسافر آئے ۔ بلی نے بعادت معمولہ تعداد درویشاں کے موافق آواز دی ۔ مگر کھانا  بھیجنے کے وقت ایک شخص زیادہ نکلا۔
حضرت محبوب یزدانی نے بلی کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ آج بلی نے کیوں کر خطاکی اور ایک مہمان زیادہ کی خبر  کیوں نہیں کی ؟
بلی فوراً باہر گئی ان مہمانوں کی جماعت میں پہونچی ۔ ہر شخص کو سونگھتی تھی اور چھوڑ دیتی تھی۔ ایک شخص اس جماعت کا سرحلقہ تھا جب اس کو سونگھا تو اس کے زانوں پر جاکر بیٹھی اور پیشاب کردیا۔
حضرت نے جب معائنہ کیا تو فرمایا  کہ غریب بلی کا کچھ قصور نہیں ۔ یہ مرد بے گانہ تھا ۔ وہ درویش کھڑا ہوا اور حضرت کے قدموں پر گرپڑا اور عرض کرنے لگاکہ بارہ سال سے میں مذہب دہریہ رکھتا ہوں اور مسلمانوں کے لباس میں رہتاہوں اور بزرگوں کی خانقاہوں میں پھرتا ہوں اس نیت سے کہ کوئی میر ا نفاق ظاہر کرے تو میں اس کے ہاتھ مسلمان ہوجاؤں ۔ آج حضرت کی بلی نے مجھے پہچان لیا ۔ اب میں توبہ کرتا ہوں اور مسلمان ہوجاتا ہوں ۔
سبحان اللہ ! کیا فضل و کمال حق تعالےٰ نے حضرت  غوث العالم محبوب یزدانی سلطان  سید اشرف جہانگیر سمنانی قد س سرہ  کوعطا فرما یا تھا کہ جس کی تاثیر نظر سے بلی ولیہ ہوگئی اور حق و باطل میں فرق کردیتی تھی۔
حضرت نے اس دہریہ کو کلمہ پڑھاکر مسلمان کیا اس کے بعد اس کو ضیافت اور مجاہدہ میں مشغول رکھا ۔ جب تصفیہ  باطن میں کامل ہوگیا تو تاج خلافت دے کر بندگان خدا کی ہدایت کے واسطت شہر استنبول بھیج دیا ۔ بعد وصال حضرت  محبوب یزدانی کے چند سال بی بی گربہ حضرت نورالعین صاحب سجادہ مخدوم زادہ کی خدمت میں رہی۔
 ایک دن باورچی خانہ میں دیگ میں دودھ گرم ہورہا تھا اس کی بھاپ جو چھت تک پہونچی ایک کالاسانپ دیگ میں میں گرگیا ۔ باورچی کو اس کی خبر نہ تھی ۔ بی بی گربہ باربار دیگ کے کنارے پھر کر اشارہ کرتی۔ بارورچی کہتا کہ جب دودھ تیار ہوگا تجھے ملے گا تو کیوں گھبراتی ہے۔ یہاں تک کہ باورچی نے بی بی گربہ کو جھڑک دیااوروہ سمجھی کہ باروچی میرا اشارہ نہیں سمجھتا۔ اگر یہ دودھ فقراء میں تقسیم ہوگا اس کے زہر سے لوگوں کی ہلاکت ہوگی ۔ اس لئے  ایک ہی مرتبہ میں کودکر دیگ میں جاگری اور شہید محبت ہوگئیں۔ جب دودھ پھینکا گیا تو کالا اور زہریلا سانپ نکلا۔
حاجی الحرمین حضرت سید عبدالرزاق نورالعین  رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس غریب بلی نے اپنی جان فقیروں پر قربان کردی ۔ اس کو ایک قبر کے اندر دفن کردواور اس کا روضہ تیار کردو۔
چنانچہ مزار بی بی گربہ آستانۂ عالیہ سے پورب جانب مقام دارالامان میں موجود ہے اور ا ن کی مزار پر یہ تصرف ہے کہ اگر کسی کو جن یا شیاطین ستائے اور بی بی گربہ کے مزار پر جائے تو وہ آسیب زدہ چیختا ہے اور شور کرتا ہے کہ بی بی گربہ  مجھ کو پنچہ مارتی ہے ۔میں توبہ کرتا ہوں کہ اب اس کو نہیں ستاؤں گا۔ 

Who has Kiled Innocent Humain Beings ?

In the HISTORY of the world, who has KILLED maximum INNOCENT human beings?
1) "Hitler"
Do you know who he was.
He was a Christian, but media will never call Christians terrorists.
2) "Joseph Stalin called as Uncle Joe".
He has killed 20 million human beings including 14.5 million were starved to death.
Was he a Muslim
3) "Mao Tse Tsung (China)"
He has killed 14 to 20 million human beings.
Was he a Muslim
4) "Benito Mussolini (Italy)"
He has killed 400 thousand human beings.
Was he a Muslim
5) "Ashoka" In Kalinga Battle
He has killed 100 thousand human beings.
Was he a Muslim
6) Embargo put by George Bush in Iraq,
1/2 million children has been killed in Iraq alone!!! Imagine these people are never called terrorists by the media.
Why
Today the majority of the non-Muslims are afraid by hearing the words "JIHAD".
Jihad is an Arabic word which comes from root Arabic word "JAHADA" which means "TO STRIVE" or "TO STRUGGLE" against evil and for justice. It does not
mean killing innocents.
The difference is we stand against evil, not with evil".
You still think that ISLAM is the problem
1. The First World War, 17 million dead
(caused by non-Muslim).
2. The Second World War, 50-55 million dead (caused by non-Muslim).
3. Nagasaki atomic bombs 200000 dead
(caused by non-Muslim).
4. The War in Vietnam, over 5 million dead (caused by non-Muslim).
5. The War in Bosnia/Kosovo, over 5,00,000 dead (caused by non-Muslim).
6. The War in Iraq (so far) 12,000,000 deaths
(caused by non-Muslim).
7. Afghanistan, Iraq, Palestine, Burma etc (caused by non-Muslim).
8. In Cambodia 1975-1979, almost 3 million deaths (caused by non-Muslim).
"MUSLIMS ARE NOT TERRORISTS AND
TERRORISTS ARE NOT MUSLIMS."
Please remove first double standards on Killings.
Please share as much as you can.....
Credit and Copy from Adil Hosam


Yazeed Paleed Ke Shaitani Karname


یزید پلید کے شیطانی کارنامے
عظیم مؤرخ حضرت علامہ طبری رحمۃ اللہ علیہ  اپنے مشہور کتاب "التاریخ طبری " میں لکھتے ہیں کہ یزید نے ابن زیاد کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا اور اسے حکم دیا کہ حضرت  مسلم بن عقیل  رضی اللہ عنہ کو جہاں پاؤ قتل کردو یا شہر سے نکال دو۔
(تاریخ طبری ، 4/176)
پھر جب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور ہانی کو شہید کردیا گیا تو ابن زیاد نے ان دونوں کے سرکاٹ کر یزید پلید کے پاس دمشق بھیجے ۔ اس پر یزید خبیث  نے ابن زیاد کو خط لکھ کر اس کا شکریہ اداکیا۔
تاریخ کامل ، 6/36)
یہ بھی لکھا ، جو میں چاہتاتھا تونے وہی کیا تونے عاقلانہ کا م اور دلیر انہ حملہ کیا ۔
(تاریخ کامل4/173)
علامہ ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ابن زیاد نے امام حسین رضی اللہ عنہ کا سراقدس آپ کے قاتل یزید کے پاس بھیج دیا ۔اس نے وہ سر اقدس یزید لعین کے سامنے رکھ دیا ۔ اس وقت وہاں صحابی رسول حضرت سیدنا ابوبرزۃ الاسلمی رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ یزیدمردود نے ایک چھڑی امام حسین رضی اللہ عنہ  کے مبارک لبوں پر مارنے لگے اور اس نے یہ شعر پڑھے:
"انہوں نے ایسے لوگوں کی کھوپڑیوں کو پھار دیا جو ہمیں عزیز تھے لیکن وہ وہ نافرن اور ظالم تھے۔"
حضرت سیدنا ابوبرزۃ الاسلمی رضی اللہ عنہ سے برداشت نہ ہوسکا اور انہوں نے فرمایا: اے یزید! اپنی چھڑی ہٹالو۔ خداکی قسم ! میں نے بارہا دیکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  اس مبارک منہ کو چومتے تھے۔
( تاریخ طبری ،4/181)
(البدایہ والنہایہ ، 8/197)
مشہورمؤرخین علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اور علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ کامل میں اس  واقعہ کو تحریر فرمایا  ہے۔
اب آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ  سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر یزید کتنا  خوش ہوا ہوگاارے وہ سنگدل ،ظالم، فاسق، فاجر، بدکار ، شرابی ، مردود ، ملعون، ہے جو نواسہ رسول اعظم کے سراقدس کو اپنے سامنے رکھ کر متکبرانہ شعر پڑھتا تھا اور ان مبارک لبوں پر اپنی چھڑی مارتا ہے جو حبیبِ خداعزوجل سیدنا  محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم  اکثر چوما کرتے تھے، کیا وہ لعنت وملامت کا مستحق نہیں ہے؟
جب اہل بیت نبوت کا یہ مصیبت زدہ قافلہ ابن زیاد  نے یزید  لعین کے پاس بھیجاتو اس نے ملک شام کے امراء اور درباریوں کو جمع کیا پھر بھرے دربار میں خانوادۂ نبوت کی خواتین اس کے سامنے پیش کی گئیں اور اس کے سب درباریوں نے یزید کو اس فتح پر مبارکباد دی۔ (طبری،4/181)
(البدایہ والنہایہ ،8/197)
اس عام دربار میں ایک شامی شیطان نما انسان کھڑا ہوا اور اہل بیت میں سے سیدہ  فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کرکے یہ کہنے لگے یہ مجھے بخش دو۔معصوم سیّدہ یہ سن کر لزرگئی اور اس نے اپنی بہن سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا کا دامن مضبوطی سے پکڑ لیا۔
حضرت سیدتنا رینب رضی اللہ عنہا نے گرج کر کہا، تو جھوٹ بکتا ہے یہ نہ تجھے مل سکتی ہے اور نہ اس یزید کو
یزیدلعین یہ سن کر طیش میں آگیا اور بولا، تم جھوٹ بولتی ہو ۔ خداکی قسم! یہ میرے قبضے میں ہے اور اگر میں اسے دینا چاہوں تو دے سکتا ہوں۔
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے گرجدار آواز میں کہا ، ہرگز نہیں ۔ خداکی قسم! تمہیں ایساکرنے کا اللہ تعالی نے کوئی حق نہیں دیا  ہے ۔
(طبری ،4/181)
(البدایہ والنہایہ ، 8/197)
بعض لوگ یزید لعین کی حمایت میں افسوس و ندامت کا ذکر کرکے اسے بے قصور ثابت کرنےکی کوشش کرتے ہیں اس کی ندامت کی حقیقت علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ کے قلم سے پڑھیئے:
جب امام عالی مقام کا سراقدس یزید کے پاس پہونچا تو یزید کے دل میں ابن زیاد کی قدر و منزلت بڑھ گئی اور جو اس نے کیا تھا اس پر یزید بڑاخوش ہوا  لیکن جب اسے یہ خبر یں ملنے لگیں کہ اس وجہ سے لوگ اس سے نفرت کرنے لگے ہیں اس پر لعنت بھیجتے ہیں اور اسے گالیاں دیتےہیں تو پھر وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر نادم ہوا۔ (تاریخ کامل ، 4/87)
یزید کی ندامت و پیشمانی کی وجہ آپ نے پڑھ لی ہے ۔ اس ندامت کا عدل و انصاف سے ذرا بھی تعلق نہیں ہے  ورنہ ایک عام مسلمان بھی قتل کردیا جائے تو قاتل سے قصاص لینا حاکم پر فرض ہوتا ہے ۔ یہاں تو خاندان نبوت کے قتل عام کا معاملہ تھا ۔ ابن زیاد، ابن سعد، شمرمعلون وغیرہ سے قصاص لینا تو درکنار کسی کو اس کے عہدہ سے برطرف تک نہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی تادیبی کاروائی ہوئی بلکہ خوشی کا اظہار کیا بعد میں حالات بے قابو ہونے کے خوف سے وقتیہ طور سے سیاسی انداز میں رنج و ملال کا اظہار کیا ۔
قتل حسین  رضی اللہ عنہ کایزید نے حکم دیا
 ابن زیاد بدنہاد کا اقراری بیان
ابن زیاد بدنہاد نے خود اقرار کیا کہ یزید پلید نے اسے سید الشہداء سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا حکم دیا ورنہ خود اسے قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔جیساکہ ابن اثیر ،تاریخ کامل میں ابن زیاد کا قول نقل کرتے ہیں : اما قتلی الحسین فانہ اشار علی یزید بقتلہ اوقتلی فاخترت قتلہ۔
اب رہا امام حسین رضی اللہ عنہ کو میرا شہید کرنا تو بات دراصل یہ ہے کہ یزید نے مجھے اس کا حکم دیا تھا بصورت دیگر اس نے مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی تھی تو میں نے انہیں شہید کرنے کو اختیار کیا ۔  (التاریخ الکامل ،4/474)

مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ پر حملہ
جب 63 ہجری میں یزید پلید کو یہ خبر ملی کہ اہل مدینہ نے اس کی بیعت توڑدی ہے تو اس نے ایک عظیم لشکر مدینہ منورہ پر حملہ کے لیے روانہ کیا ۔علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس لشکر کے سالار اور اس کے سیا ہ کارناموں کے متعلق لکھتے ہیں :۔
مسلم بن عقبہ جسے اسلام مسرف بن عقبہ کہتے ہیں ، خدا اس ذلیل و رسوا کرے ، وہ بڑا جاہل اور اجڈ بوڑھا تھا ۔ اس نے  یزید کے حکم مطابق مدینہ طیبہ کو تین دن کے لئے مباح کردیا ۔اللہ تعالیٰ کو جزائے نہ دے ، اس لشکر نے بہت سے بزگوں اور قاریوں کو قتل کیا اموال لوٹ لئے ۔ ( البدایہ ج8/220)
مدینہ طیبہ کو مباح کرنے کا مطلب یہ ہے وہاں جس کو چاہو قتل کرو، جو مال چاہولوٹ ہواور جس کو چاہوآبرویزی کرو ۔ (العیاذباللہ) یزیدی لشکر کے کرتوت پڑھ کر ہر مومن خوف خدا سے کانپ جاتا ہے اور سکتہ میں آجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اس شخص نے حلال کردیا جسے آج لوگ امیر المومین بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔
علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ، یزیدی لشکر نے عورتوں کی عصمتیں پامال کیں اور کہتے ہیں کہ ان ایا م میں ایک ہزارکنواری عورتیں حاملہ ہوئیں ۔  (البدایہ ج 8/221)
تاریخ میں اس واقعہ کو واقعہ حرہ کہا جاتا ہے۔
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، شک نہیں کہ یزید کہ نے والی ملک ہوکر زمین میں فساد پھیلایا، حرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں،  مسجد کریم میں گھوڑے  باندھے، ان کی لید اور پیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجد نبوی بے و نماز رہی ، مکہ ومدینہ و حجاز صحابہ وتابعین بے گناہ شہیدکئے گئے۔
کعبہ معظمہ پر پھینکے، غلاف شریف پھاڑا اور جلایا ، مدینہ طیبہ کی پاک دامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیں۔ (عرفان شریعت)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایام حرہ میں مسجد نبوی میں تین تک اذان واقامت نہ ہوئی ۔ جب بھی نماز کا وقت آتا تو میں قبر انور سے اذان اور اقامت آواز سنتا تھا۔ 
(دارمی، مشکوۃ ، وفاالوفاء)
علامہ سیوطی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ جب مدینہ پر لشکر کشائی ہوئی تو وہاں کا کوئی ایسا شخص نہ تھا جو اس لشکر سے پناہ میں رہا ہو۔ یزیدی لشکر کے ہاتھوں ہزاروں صحابہ کرام علیہم الرضوان شہید ہوئے ، مدینہ منورہ کو خوب لوٹا گیا ، ہزاروں کنواری لڑکیوں کی آبروریزی کی گئ۔
مدینہ منورہ تباہ کرنے کے بعد یزیدملعون نے اپنا لشکر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کے لیے مکہ معظمہ بھیج دیا  اس  لشکر نے مکہ مکرمہ پہونچ کر ان کا محاصرہ کرلیا اور ان پر منجنیق سے پتھر برسائے ۔
ان پتھر وں کی چنگاریوں سے کعبہ شریف کا پردہ جل گیا ، کعبہ کا چھت اور اس دنبہ کا سینگ جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں جنت سے بھیجا گیا تھا اور وہ کعبہ کی چھت میں آویزاں تھا، سب کچھ جل گیا ۔
یہ واقعہ 64 ہجری میں ہوا اور اس کے اگلے ماہ یزید لعین مرگیا۔
جب یہ خبر مکہ مکرمہ پہونچی تو یزیدی لشکر بھاگ کھڑا ہوا اور لوگوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ ( تاریخ الخلفاء ص 307)

Muharram Me Ghair Islami Rasoomat