مخدوم سید نصیر الدین اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ

 


اسم گرامی:

سید نصیرالدین اشرف۔ القابات: برہان العاشقین، شیخ الحدیث۔

ولادت باسعادت:

٢٢ ذی الحجہ ٩٩٥ ہجری  کو مرکز عقیدت کچھوچھہ مقدسہ کے علم وعرفان والے گھرانے میں آپ کی پیدائش ہوئی۔آپ علیہ الرحمہ کے والد ماجد قطب مشرق حضرت دیوان سید محمد صادق اشرف اشرفی جیلانی قدس سرہ کا تعلق تارک السلطنت، غوث العالممحبوب یزدانی سلطان مخدوم سید اوحدالدین اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کے پسر معنوی شہزادہ غوث الاعظم مخدوم الآفاق حضرت مخدوم سلطان سید عبدالرزاق نورالعین اشرف اشرفی جیلانی قدس سرہ کے خانوادہ مقدسہ سے ہے۔

سلسلہ نسب اس طرح سے ہے:

سید نصیر الدین اشرف بن سید محمد صادق اشرف بن سید شاہ عبد الرحیم اشرف بن سید شاہ محمد راجو اشرف بن سید شاہ حاجی چراغ جہاں اشرف بن سید شاہ جعفر اشرف بن سید حسین اشرف قتال بن سید عبد الرزاق نورالعین اشرف سجادہ نشین کچھوچھہ مقدسہ رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ آپ علیہ الرحمہ کا سلسلہ نسب بیسویں پشت میں محبوب سبحانی غوث الاعظم دستگیر حضور سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔

تعلیم و تربیت:

ابتدائی تعلیم وحفظ  قرآن اپنے جد امجد حافظ سید شاہ عبد الرحیم اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ سے مکمل کیا۔ کچھوچھہ مقدسہ میں متعدد علمائے کرام سے تکمیل علم کے بعد فراغت حاصل کی۔ روحانی تربیت اپنے والد ماجد قطب مشرق حضرت مخدوم سید شاہ دیوان محمد صادق اشرف قدس سرہ سے پائی اور مرید ہوئے۔ والد ماجد علیہ الرحمہ نے اپنی ظاہری حیات میں ہی خرقہ خلافت واجازت عطا فرماکر اپنا سجادہ نشین منتخب فرمایا۔

فضائل و مناقب:

آپ علیہ الرحمہ عالم باعمل ہونے کے ساتھ ساتھ صوفی با صفا اور شب زندہ دار بزرگ تھے، آپ کا شمار اپنے وقت کے جلیل القدر علمائے کرام میں ہوتا ہے۔ ابتدا میں خانقاہ صادقیہ اشرفیہ میں ہی تشنگان علم کی پیاس بجھاتے رہے اور تعلیم وتربیت کا سلسلہ جاری رہا۔

آپ علیہ الرحمہ کے علم وفضل کا اندازہ لگانے کیلئے اتنا کافی ہیکہ سلطان العارفین، سند المحدثین، جامع المنقولات، بحرالسلاسل حضرت مولانا سید شہباز محمد بھاگلپوری علیہ الرحمہ نے باصرار آپ کو خانقاہ شہبازیہ میں شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز کیا۔ اور آپ کو اپنے جیسا عالم قرار دیا۔ حضرت مولانا سید شہباز محمد قدس سرہ آپ کو بہت چاہتے تھے۔

جب شاہ جہاں بادشاہ نے موضع جھنجھری سابق ضلع بھاگلپور میں مدرسہ کی بنیاد رکھی تو سید شہباز پاک قدس سره سے مدرسہ کی سرپرستی کے لئے عرض کیا تو حضرت سید شہباز پاک قدس سره نے فرمایا کہ:

"میں اپنے جیسا عالم سید زادہ دونگا جوکہ اس کام کو بخوبی انجام دے سکتا ہے۔"

بادشاہ نے کہا جو آپ کریں گے بہتر ہی ہوگا۔ پھر حضرت سید شہباز پاک علیہ الرحمہ نے آپ کو بادشاہ شاہ جہاں سے ملوایا۔ بادشاہ نے آپ سے مل کر دست بوسی کی اور بہت خوش ہوا۔ الغرض حضور سلطان العارفین کے حکم پر آپ علیہ الرحمہ کئی سالوں تک اس مدرسہ میں شیخ الحدیث کا کام انجام دیتے رہے۔

شاہان مغلیہ کے کئی فرامین آپ کے نام ہیں۔ جن میں آپ کو حقائق معارف آگاہ،قدوة العارفین، زبدة الواصلین، برہان العاشقین کے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔

آپ علیہ الرحمہ نے پانچ مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت کی۔ اپنی ظاہری حیات میں ہی اپنے بڑے صاحبزادے حضرت سید شاہ عنایت مخدوم اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کو خرقۂ خلافت عطا کرکے سجادہ نشین منتخب فرمایا۔

اللہ رب العزت نے آپ کو دو فرزند ارجمند عطا فرمایا۔ اول حضرت سید شاہ عنایت مخدوم اشرفی جیلانی سجادہ نشین دوئم حضرت سید شاہ غلام مخدوم اشرفی جیلانی (علیہما الرحمہ)۔

وصال پاک:

15 شعبان المعظم ١١١٧ ہجری کو بمقام بنسی ٹیکر بھاگلپور میں علم وحکمت کا یہ آفتاب اپنے مالک حقیقی سے جا ملا۔ 16 شعبان المعظم کو بعد نماز عصر تدفین کا کام انجام دیا گیا۔ مزار اقدس بھاگلپور (بہار) ہوائی اڈہ سے دکھن وپورب کی جانب تھوڑی دور, بنسی ٹیکر کے باغ میں زیارت گاہ خاص وعام ہے۔ 16–17 شعبان المعظم کو آپ کا عرس پاک منایا جاتا ہے۔


حاجی الحرمین مخدوم قوام الدین عباسی چشتی علیہ الرحمہ

محتسب عارفاں حاجی الحرمین مخدوم شیخ قوام الدین محمد بن ظہیر الدین عباسی لکھنوی علیہ الرحمہ ، حضرت خواجہ نصیرالدین چراغ دہلی علیہ الرحمہ کے مریداور مخدوم جہانیاں  گشت سید جلال الدین بخاری علیہ الرحمہ کے اجل خلفا میں تھے۔  آپ علیہ الرحمہ کومخدوم جہانیاں سیدجلال الدین بخاری اوردوسری جگہوں سے بھی تلقین ذکرحاصل تھی۔حضرت شیخ قطب الدین دمشقی رحمۃ اللہ علیہ مصنف رسالہ مکیہ سے بھی تلقین ذکرحاصل تھی۔فوائد سعدیہ میں ہے:’’آپ علیہ الرحمہ قطب المشائخ خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی علیہ الرحمہ کے مرید اور سید السادات مخدوم جہانیاں قدس سرہ کے خلیفہ تھے۔مرید وں کی تربیت میں اعلیٰ شان رکھتے تھے۔ کئی سال تک حضرت مخدوم جہانیاں کی صحبت میں رہے، حرمین شریفین کی زیارت سے سرفراز ہوئے اور وہاں کے اکثر مشائخ زمانہ سے ملاقات کی۔ دمشق میں رسالہ مکیہ کے مصنف شیخ قطب الدین دمشقی سے تلقین ذکر حاصل کیا۔ آپ کومقام تجرید و تفرید میں کمال حاصل تھا۔

ملفوظات سید اشرف جہانگیر سمنانی  کچھوچھوی علیہ الرحمہ  المعروف لطائف اشرفی  میں ہے کہ حضرت شیخ قوام الدین عباسی ادھی قدس سرہ نے غوث العالم محبوب یزدانی سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ  کوسفر و حضر میں ذکر کی تعلیم دی تھی اورآپ علیہ الرحمہ اس پر پوری طرح کاربند تھے اگرچہ اس سلسلے میں بہت سے لوگوں نے اختلاف کیا اور یہاں تک کہ جنگ و جدال پر آمادہ ہوئے لیکن سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی استقامت کے ساتھ اسی معمول پر ثابت قدم رہے ۔

بزرگی و علوشان:

علم ظاہر و باطن میں کامل و مکمل ہونے کے باوجود اکابر مشائخ کی صحبت و تربیت میں آپ نے خود کو سپرد کیا اور ریاضت و مجاہدہ سے وہ مقام حاصل کیا کہ ایک زمانے کے مرشد و ہادی ہوئے۔خزانۂ جلالی میں آپ کاذکرِ خیر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ آپ علیہ الرحمہ نے اپنے پیر خلافت مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمہ سے سلوک سے متعلق ایک سوال کیا ہے ، جس کے جواب میں تفصیلی مکتوب حضرت مخدوم جہانیاں علیہ الرحمہ نے آپ کو روانہ فرمایا ، وہ سوال اور مکتوب گرامی دونوں خزانۂ جلالی میں محفوظ ہیں۔ نیز حضرت مخدوم نے جو مثال (خلافت نامہ) بہ دست خود رقم فرما کر آپ کو عطا کی تھی، وہ بھی اس میں منقول ہے، مخدوم جہانیاں علیہ الرحمہ  نے اس مثال شریف کو ۲۴؍ رجب ۷۶۸ہجری  بروز جمعہ [۲۷؍ مارچ ۱۳۶۷ء] کو قلمبند فرمایا ہے۔مریدین و سالکین کی تربیت میں آپ درجۂ کمال پر فائز تھے۔ آپ کو قطب العالم مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی علیہ الرحمہ نے ’’رئیس درویشان و محستبِ عارفان‘‘ ، ’’سلطان العارفین‘‘ اور ’’ برہان السالکین‘‘ جیسے القاب سے یاد فرمایا ہے۔

تواضع وانکساری:

شاہِ ولایت اودھ حضرت مخدوم شاہ مینا لکھنوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:قطب العالم مخدوم شیخ قوام الدین علیہ الرحمہ ایک روز سماع سن رہے تھے اورخزینۂ معرفت کے معانی کی گہرائی میں کھوئے ہوئے تھے۔ حاضرین میں سے ایک پرگریہ طاری تھا، جس سےاس کی شکستہ دلی اور شکستہ حالی ظاہرہورہی تھی۔ حضرت مخدوم نے جو رئیس درویشاں اور محتسب عارفاں تھے،اس شخص کاحال دریافت کیاکہ اے عزیز! اس حال سے تم نے کیاسمجھا اورتم پر یہ حال کیوں ظاہرہوا؟اس بے چارے نے جواب دیا: اے شیخ محترم!صوفیہ کے حال ومقام کی مجھے ذرہ برابر خبرنہیں،میں خود کو صاحبان حال میں شمار نہیںکرتا،لیکن میرے دل میں ایک خطرہ گزرااوراسی پر میری آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے کہ مولیٰ! تو پاک ہے،ہمارے وجود سے پیشتر ایسی کیا بات ہوئی کہ تونے مجھے عاصیوں اور گنہگاروں کی صف میں شامل کردیا اور حضرت مخدوم کے وجود سے پہلے ایسی کیا بات ہوئی کہ ان کوعارف کامل بنایااورتخت معرفت پر جلوہ افروز کردیا؟

حضرت مخدوم علیہ الرحمہ جوابھی تک سکون واطمینان کی حالت میں تھے، اس بات کو سنتے ہی آپ کے ذوق وشوق میں اضافہ ہوگیا، آپ نے اس بے چارے سے بڑی شفقت کا مظاہرہ کیا،بغل گیر ہوکر زاروقطار رونے لگے اور باربار اپنی زبان مبارک سے فرمانے لگے کہ حقیقی ذوق تجھ کوحاصل ہوا ہے کسی اور کو نہیں اور قوام الدین کو تیرے صدقے میں ذوق حاصل ہواہے اور دیر تک اس آیت کریمہ کی تکرار کرتے رہے: وَمَاكُنَّالِنَهْتَدِيَ لَوْلَا اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ (الاعراف:۴۳) (اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نہ دیتاتوہرگز ہمیں ہدایت نہ ملتی۔) اس کی وجہ سے حاضرین مجلس پر بھی بڑی کیفیت طاری رہی۔ ‘‘

تلامذہ و مریدین:

آپ علیہ الرحمہ کے مریدین و متوسلین کی بڑی تعداد تھی، جن میں سلطان العارفین مخدوم شیخ سارنگ کا نام نامی علمی و روحانی اعتبار سے نہایت بلند ہے۔

تصانیف جلیلہ :

آپ علیہ الرحمہ نے تصوف و سلوک پر قابل قدر تصنیفات یادگار چھوڑیں، ان میں سے تین کتابوں کا تذکرہ ملتا ہے:

(۱) ارشاد المریدین

 (۲) اساس الطریقۃ

 (۳) معیار التصوف (عربی)

آپ علیہ الرحمہ کے اشعار بھی عرفان و تصوف کے اعلیٰ ترجمان ہیں۔ وارث الانبیاء والمرسلین مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی علیہ الرحمہ نے اپنی تصنیف لطیف مجمع السلوک والفوائد میں آپ کی کتب سے بہت سے اقتباسات بطور سند پیش کیے ہیں، نیز بیشتر مقامات پر آپ کے اشعار بھی درج کیے ہیں۔

تعلیمات وارشادات:

ذیل میں آپ کے چند ارشادات مجمع السلوک سے نقل کیے جاتے ہیں: آپ اپنی کتاب معیار التصوف میں لکھتے ہیں:  (ترجمہ) فقیرعباسی کہتاہے : ذکر،وصال حق کاسبب اورقلوب کی صفائی کا ذریعہ ہے، اس لیے سالک کوکسی بھی حال میں ذکر سے باز رہنا جائز نہیں ہے۔ حضرت حسن کا ارشادہے : لاإلٰہ إلااللہتمام معبودوں کی آلائش سے سِرکی نظافت کاذریعہ ہے اور جب سرّمیں غیرکی تعظیم موجود ہی نہ ہو تو اس قول کوکہنے کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ فقیر عباسی کہتاہے کہ میں نے عارف حق آگاہ حضرت محمدبن الفرہی ساکن بیت المقدس کویہ دواشعار گنگناتے ہوئےسنا:

بِذِکْرِ اللهِ تَنشَرِحُ القُلُوْبُ---وَ تَنْکَشِفُ السَّرَائِرُ وَ الْغُیُوْب

وَتَرْکُ الذِّکْرِ أَفْضَلُ مِنْهُ حَالًا---فَشَمْسُ الذَّاتِ لَیْسَ لَهَا غُرُوْب

(اللہ کی یادسےہی دل معمور ہوتے ہیں،اسی سے اسرارورموز منکشف ہوتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ ترک ذکراس سے افضل حال ہے، کیوں کہ ذات حق کے آفتاب کے لیے کبھی غروب نہیں ہے۔) شیخ العالم، بقیۃ السلف، قطب الحق والشرع حضرت شیخ قطب الدین دمشقی مؤلف رسالہ مکیہ نے جب مجھ کوکلمہ لاإلٰہ إلااللہ  کی تلقین فرمائی اور نفی واثبات کی کیفیت بیان کی، تومیں نے ان سے عرض کیا: میرے سردار، باعث برکات! جب سالک کے قلب میں غیر کاوجود باقی نہ رہ جائے تواب وہ کس کی نفی کرے گا؟

اس پر شیخ رضی اللہ عنہ، اللہ ان کی برکتوں کوسارے جہان پر قائم ودائم رکھے، نے جواب دیاکہ جب تک سالک کاوجودباقی ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ جس جس وجود کاقائل ہے اس کی نفی کرتارہے،یہاں تک کہ دوئی زائل ہو جائے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ سالک کے لیے نفی ضروری ہے ،اس لیے کہ مقام جمع میں وجود کی نفی ہوتی ہےاورمقام تفرقہ میںوجود کااثبات ہوتاہے،بلکہ تمام موجودات کے وجود کااثبات ہوتاہے۔ خالق کائنات کی جانب نظر کرنا مقام جمع ہےاورکائنات کی طرف نظرکرنامقام تفرقہ ۔اس لیے ضروری ہے کہ سالک موجودات کی نفی کرے اور جمع کے باغات میں داخل ہوجائے، یہاںتک کہ اسی مقام میںفناہوجائے۔یہ مقام کم لوگوں کوحاصل ہوتا ہے۔ اس مقام تک اصحاب توحید و معرفت ہی پہنچتے ہیں۔ جمع اورتفرقہ دونوں متضاد حالتیں ہیں، البتہ سلوک طے کرانے والے مشائخ کی نظر عام طور پر جمع کی طرف ہوتی ہے اورکائنات ان سے خوب فیض یاب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے محبین میں شامل فرمادے اور نبی کریم ﷺ اور ان کی آل امجاد کے طفیل، ہمیں ان کے انفاس کی برکات سے محروم نہ فرمائے۔

ارشاد فرمایا: خلوت، طاعت کا وہ سمندرہے کہ مردان خدا کے سینے میں چھپے حقیقت کے موتی اس سمندر کے علاوہ کہیں اورظاہرنہیں ہوتے؛ لیکن اس کے لیے سیدنا رسول اللہ ﷺ تک سلسلے کا اتصال اور بقدر ضرورت علم شریعت لازم ہے۔

ارشاد فرمایا: درویشی کی کسوٹی اور اس کامعیار کتاب و سنت اور قابل اقتدا اسلاف کی سیرتیں ہیں، صرف اجازتوں کا ہونا اور متبرک مقام پرہونا کافی نہیں کہ فلاں شخص فلاں بزرگ کا فرزند ہے اور فلاں اپنے آبا و اجداد کا جانشین ہے، اگر وہ اس مقام کے لائق نہ ہوتا تو اس کو جانشینی کا شرف حاصل نہ ہوتا! یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ انسان کا شرف اوراس کی بزرگی زمان ومکان سے نہیں، بلکہ تقویٰ سے ہے۔

ارشاد فرمایا: ولی کی تین قسمیں ہیں:

ا۔وہ ولایت جومحض ایمان سے حاصل ہوتی ہے،جس میں عمل صالح سے آراستگی، حرام چیزوں اورگناہوں سے اجتناب نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا (البقرۃ:۲۵۷)اللہ تعالیٰ ایمان والوں کاولی ہے۔ یہ ولایت کفرکی عداوت سے نکالنے والی اورحق تعالیٰ کی محبت عطاکرنے والی ہے۔

۲۔ دوسرا درجہ وہ ہے جومسلسل اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لگاہو ، اس میں گناہوں کا خلل نہ ہو،یہ عام ولی کی علامت ہے،ان کو علم شریعت یا اصطلاحی زبان میں عالم باللہ کہتے ہیں اوراس معنی کے علاوہ دوسرے معنی پر اس کا اطلاق نہیں کرتے۔ جو ایسے نہیں ہیںان کوفاسق اورظالم کہتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسے لوگوں کاحکم یہ ہے کہ اگروہ چاہے توان کوعذاب دے اور چاہے توبخش دے۔

۳۔ ولایت کاتیسرادرجہ جو نبوت کے بعدہوتاہے،وہ اجتبا،اختصاص اور اصطفا والی ولایت ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  اللہ جسے چاہتا ہے اپنے لیے چن لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے اپنی راہ کی ہدایت دیتاہے۔(الشوریٰ:۱۳) اس ولایت میں بندے کاباطن کائنات کے ملاحظے سے پاک ہوجاتا ہے اور ایسا شخص سراپا طاعت وبندگی اور بے گناہ بن جاتا ہے۔

ذکر جہری اور سری:

حاجی الحرمین مخدوم شیخ قوام الدین عباسی لکھنوی علیہ الرحمہ ذکر خفی کو ترجیح دیتے تھے، جب کہ آپ کے پیر تربیت و خلافت مخدوم جہانیان جہاں گشت اور آپ کے مرید وتربیت یافتہ مخدوم شیخ سارنگ اور ان کے مرید و خلیفہ مخدوم شاہ مینا ذکر جہری کو ترجیح دیتے تھے۔

وصال پرملال:

آپ  علیہ الرحمہ کا وصال ۲۰؍ شعبان ۸۰۶ہجری  / ۱۴۰۴عیسوی میں ہوا۔ اور آپ کا مزار مبارک آستا نہ عالیہ سرکار شاہ مینا  قدس سرہ کے قریب مرجع خلائق اور منبع فیوض و برکات ہے۔

 

محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قادری علیہ الرحمہ

 


نام و نسب

حضور محدث اعظم علیہ الرحمہ  کا اسم گرامی "محمد سرداراحمد" ہے، آپ کے والد گرامی " چودھری میراں بخش چشتی "علیہ الرحمہ نیک سیرت انسان اور مقربِ الہٰی ہستی تھے اور آپ کی کنیت ابوالفضل جبکہ معروف لقب محدثِ اعظم پاکستان ہے، آپ میں 1323ھ/1905ء کو موضع دیال گڑھ ضلع گورداسپور (مشرقی پنجاب ، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ دیال گڑھ ضلع گورداسپور کا مشہور قصبہ ہے جو بٹالہ سے چار میل کے فاصلے پر ہے۔

حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا ابو الفضل محمد سردار احمد قدس سرہ ١٣٢٣ہجری  /١٩٠٥ء کو موضع دیال گڑھ ضلع گورداسپور (مشرقی پنجاب ، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ دیال گڑھ ضلع گورداسپور کا مشہور قصبہ ہے جو بٹالہ سے چار میل کے فاصلے پر ہے۔

تحصیلِ علم: 

محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ  نے ابتدائی تعلیم پرائمری تک موضع دیال گڑھ میں حاصل کی، اسلامیہ ہائی سکول بٹالہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا، ایف اے کی تیاری کے لیے لاہور تشریف لائے، انہی دنوں مرکزی انجمن حزب الاحناف کے زیر اہتمام مسجد وزیر خاں میں ایک عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں پاک وہند کے کثیر علماء کرام و مشائخ عظام کے علاوہ جانشینِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ بھی شریک ہوئے۔

محدث اعظم پاکستان، حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ  کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انگریزی تعلیم کو خیر آباد کہہ کر مرکز علوم و معارف بریلی شریف چلے گئے، حضور حجۃ الاسلام، مفتی اعظم عالم اسلام اور صدر الشریعہ وغیرہ (علیہم الرحمہ) سے علمی استفادہ کیا، فیضِ رضا سے ایک وقت ایسا آیا کہ دنیا میں محدثِ اعظم پاکستان کے نام معروف ہوگئے۔

حضرت محدث اعظم پاکستان سلسلہ عالیہ چشتیہ میں "حضرت شاہ محمد سراج الحق چشتی "علیہ الرحمہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے اور سلسلہ اشرفیہ میں محبوب ربانی ہم شبیہ غوث الاعظم شیخ المشائخ حضور اعلیٰ حضرت اشرفی  میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ، سلسلہ قادریہ رضویہ میں حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں علیہ الرحمہ سے فیض یاب ہوئے اور مفتی اعظم الشاہ مولانا مصطفی رضا خان نوری علیہ الرحمہ اور حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ  نے جملہ سلاسل طریقت کی اجازت و خلافت عطا فرمائی۔

آپ کی والدہ ماجدہ فرمایا کرتیں’’تمہارا نام سردار ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں دین و دنیا کا سردار بنائے‘‘، بالآخر وہ وقت بھی آیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ والدہ محترمہ کی دعا کس طرح قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپکو اسم با مسمیٰ بنا دیا، محدثِ اعظم پاکستان، شیخ الحدیث والتفسیر، جامع المعقول والمنقول، رہبر شریعت، واقف رموز طریقت، آفتابِ رضویت، محبوبِ خانوادۂِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد چشتی قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ بیک وقت مایہ ناز مدرس، باکمال محدث، خوش الحان مقرر، بے نظیرمحقق اوردیانت دار وحق گو مفتی تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ علیہ الرحمہ سچے عاشقِ رسولﷺ اور متبع شریعت تھے۔

عشق رسول ﷺ کا یہ عالم تھا کہ حدیث رسول پڑھتے پڑھاتے ہوئے اکثر جھومتے جاتے اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں آبدیدہ رہتے، اس کمال درجہ محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک مرتبہ ارشاد فرمایا’’ جب لوگ بیمار ہوتے ہیں، بخار یا سر درد ہوتا ہے تو وہ دوائی کھاتے ہیں لیکن مجھے تکلیف ہوتی ہے تو مَیں ذکرِ مصطفیٰ ﷺکرتا ہوں اور حدیثِ مصطفیٰﷺ پڑھاتا ہوں جس سے مجھے آرام آجاتا ہے‘‘، یہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ تھا کہ آپ نے کبھی بھی شانِ رسالت کے کسی منکر سے ہاتھ نہیں ملایا اور اگر کوئی ایسا شخص ہاتھ ملانے کی کوشش بھی کرتا تو محبت مصطفیٰ ﷺ کے نور کی بدولت آپکو اسکی بدعقیدگی معلوم ہوجاتی اور آپ اپنا ہاتھ کھینچ لیتے۔

حضور محدث اعظم علیہ الرحمہ احترامِ حدیث رسول میں اس مقام پر فائز تھے کہ دوران درس کوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی معزز و محترم ہو، آتا، سلام کرتا تو سلام کا جواب تو ضرور دے دیتے اور ہاتھ سے بیٹھنے کے لیے اشارہ کرتے، مگر اس وقت تک کلام نہ فرماتے جب تک سبق پورا نہ ہو جائے، پھر آنے والے کے پاس اتنا وقت ہو تو بیٹھا رہے ورنہ اٹھ کر چلا جائے آپ مطلقا پرواہ نہ کرتے، دوسرے وقت ملاقات ہوتی تو فرما دیتے کہ ’’آپ فلاں وقت تشریف لائے تھے، مَیں حدیث شریف پڑھا رہا تھا، اس لیے آپ سے بات نہ کر سکا‘‘۔ جو طالب علم عبارت پڑھتا اسے تاکید ہوتی کہ حضورکے نامِ نامی کے ساتھ ’’ﷺ‘‘ ضرور کہے اور صحابی کے نام کے ساتھ ’’رضی اللہ عنہ‘‘ اور خود بھی اس کا التزام رکھتے تھے، جیسے ہی نام نامی سنتے بآوازبلند ’’ﷺ‘‘کہتے، تاکہ دوسرے طلبا جو غافل ہوں، انہیں سن کر یاد ہو جائے۔

اگر کہیں حدیث میں آ جاتا کہ ’’ضحک النبی ﷺ‘‘تو خود بھی مسکراتے اور طلبا سے کہتے کہ ’’آپ بھی مسکرایئے‘‘ ۔ایک بار عظیم مفسر و محدث حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی  اشرفی علیہ الرحمہ آپ سے ملاقات کرنے کے لیے فیصل آباد حاضر ہوئے، اس وقت حدیث شریف کا سبق جاری تھا لیکن آپ نے درس کو موقوف نہ فرمایا، درس ختم ہونے تک حضرت حکیم الامت علیہ الرحمہ  بیٹھے حدیث کا سبق سنتے رہے، سبق سے فراغت کے بعد حسب عادت حضور محدث اعظم نے ان سے ملاقات کی، دوران ناشتہ حکیم الامت نے آپ کے درس حدیث سے متاثر ہو کر کہا’’میری خواہش ہے کہ مَیں بھی آپ کے حلقۂ درس میں طلبا کی صف میں شامل ہو جاؤں‘‘۔

اتنے اعزازات کے باوجود عاجزی و انکساری کا عالم یہ تھا کہ نمود ونمائش سے بہت گریز فرماتے تھے، آپ کی ساری زندگی انتہائی سادگی اور بے تکلفی میں گزری، ایک مرتبہ آپ گوجرانوالہ تشریف لائے تو محبت مرشد میں آپ کے مریدِ صادق وخلیفۂ اول مفتی ابوداؤد محمد صادق رضوی نے ریلوے سٹیشن گوجرانوالہ مریدین و معتقدین کے ساتھ پرتپاک استقبال کا انتظام و انصرام کیا، کافی دیر انتظار کے بعد معلوم ہوا کہ حضور محدث اعظم علیہ الرحمہ  تو مرکز اہلسنّت زینت المساجد میں جلوہ فگن ہو چکے ہیں، قبلہ نباض قوم جلدی سے واپس تشریف لائے تو اپنے مرشد کریم حضور محدث اعظم سے دریافت کیا کہ’’ حضور! کیا وجہ بنی آپ نے تو فرمایا تھا کہ ریل گاڑی کے ذریعہ تشریف لا رہے ہیں ،تو یہ اچانک کیسے ریل گاڑی کا ارادہ ترک فرمایا ؟‘‘

حضرت محدث اعظم علیہ الرحمہ  نے فرمایا کہ’’ مولانا! مَیں نہیں چاہتا کہ لوگ خوامخواہ نعروں کی گونج میں مجھے لائیں اس لیے لاہور سے ریل کار کا ارادہ ترک کر کے بس پر سفر کرتے ہوئے گوجرانوالہ پہنچا اور وہاں سے ٹانگے پر بیٹھ کر زینت المساجد آگیا‘‘۔

اولاد امجاد:

حضرت محدث اعظم کو اﷲ تعالیٰ نے چار صاحبزادے اور چھ صاحبزادیاں عطا فرمائیں۔ صاحبزادگان کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں:

1.               محمد فضل رسول

2.                محمد فضل رحیم

3.               محمد فضل احمد رضا

4.                محمد فضل کریم

صاحبزادہ محمد فضل رحیم کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔ جبکہ تینوں صاحبزادگان اور چھ صاحبزادیاں حضرت محدث اعظم کے وصال کے وقت بقید حیات تھیں۔

تلامذہ وخلفاء :

درخت اپنے پھل سے اور اُستاذ اپنے شاگردوں سے پہچانا جاتاہے ۔ یوں تو حضرت محدثِ اعظم کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے جو نہ صرف پاکستان کے مختلف شہروں، قصبوں دیہاتوں بلکہ بیرون ملک سے آپ کے درس کی شہرت سن کر حاضر خدمت ہوئے۔ حضرت محدثِ اعظم کے جلیل القدر تلامذہ میں سے چند کے اسماء گرامی پیشِ خدمت ہیں:

1.مفسر اعظم مولانا ابراہیم رضا خاں بریلوی،

2. شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی،

3.اُستاذ العلماء مولانا علامہ سید جلال الدین شاہ صاحب،

4. اُستاذ العلماء علامہ محمد عبد الرشید جھنگوی،

5.نبیرہ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ حماد رضا نعمانی میاں،

6. پیر طریقت حضرت مولانا پیر محمد فاضل نقشبندی،

7. اُستاذ العلماء حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی،

8.شمس العلماء علامہ مفتی محمد نظام الدین سہسرامی،

9. مفتیئ اعظم کراچی علامہ مفتی محمد وقار الدین قادری ،

10.    شیر اہل سنت مولانا محمد عنایت اﷲ قادری

11.   مخدوم ملت علامہ سبطین رضا خاں بریلوی،

12.    اُستاذ العلماء علامہ تحسین رضا خاں بریلوی،

13.   ریحانِ ملت مولانا محمد ریحان رضا خاں بریلوی

14.    علامہ ابو الشاہ عبد القادر احمد آبادی،

15.   شیخ الفقہ مولانا محمد شمس الزماں قادری رضوی،

16.    اُستاذ العلماء مولاناصاحبزادہ عزیز احمد سیالوی،

17.    اُستاذ العلماء مولانا معین الدین شافعی رضوی،

18.   مجاہد ملت علامہ الحاج ابو داؤد محمد صادق قادری رضوی،

19.    اُستاذ الاساتذہ حضرت علامہ مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی

20.    عالمی مبلغ اسلام مولانا محمد ابراہیم خوشتر صدیقی،

21.    اُستاذ العلماء علامہ مفتی محمد حسین قادری رضوی،

22.    شیخ الحدیث علامہ ابو الفتح محمد نصر اﷲ خان افغانی،

23.    خطیبِ پاکستان مولانا محمد بشیراحمد رضوی وغیرہ۔

حضور محدث اعظم پاکستان  علیہ الرحمہ نے اپنے خادمین کو وصال شریف سے چند ماہ پہلے ہی اشارۃ اپنے وصال کی خبر دے دی تاکہ خدام و محبین جدائی کے اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیار رہیں۔

قبل از وصال پرملال اکابر اُمت، مشائخِ عظام، حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی ، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا بریلوی، صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی، صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی، مرشدِ برحق شاہ محمد سراج الحق چشتی صابری اور دیگر بندگان خدا عشاقان مصطفیٰ( علیہم الرحمۃ) کی خواب میں زیارات کیں، ان خوابوں کو ذکر کرنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ’’ان مشائخ عظام کی زیارت و ملاقات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقت قریب ہے کہ یہ فقیر خود ان سے جا ملے‘‘۔

وصال پر ملال:

قبل از وصال کان مبارک میں اذان، سورہ یٰسین، شجرہ قادریہ ، درود تاج اور قصیدہ غوثیہ پڑھا گیا، اسی عالم میں یکم شعبان 1382ہجری بمطابق 29 دسمبر 1962ء جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات 1 بج کر 40 منٹ پر یہ آفتابِ علم و فضل جس کی نورانی کرنوں سے عالمِ اسلام برسوں منور ہوتا رہا، ہمیشہ کیلئے روپوش ہوگیا اور عالم اسلام کی فضاؤں کو اپنی نورانی کرنوں سے منور کرنے والے رشد و ہدایت کے مہرِ منیر ’’اللہ اللہ‘‘ کی مقدس و بابرکت آواز کے ساتھ اپنے پیارے حبیب ﷺ کے دربار میں پہنچ گئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔


حضرت خواجہ حافظ محمد یوسف تونسوی المعروف خواجہ یوسف میٹھا علیہ الرحمہ

 


آپ علیہ الرحمہ  کا اسم گرامی محمد یوسف اور آپ علیہ الرحمہ  کے والد محترم کا اسم گرامی حضرت خواجہ میاں محمد حامد تونسوی علیہ الرحمہ  (سوم سجادہ نشین دربار عالیہ سلیمانیہ تونسہ شریف) ہیں ۔

ولادت باسعادت:

آپ علیہ الرحمہ  کی ولادت 28 رمضان المبارک 1924ء کو تونسہ شریف میں ہوئی ۔

شجرہ نسب:

آپ علیہ الرحمہ  اولاد پیر پٹھان علیہ الرحمہ  ہیں آپ علیہ الرحمہ  کا شجرہ نسب حضور پیرپٹھان حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ  سے یوں ملتا ہے۔حضرت خواجہ حافظ محمد یوسف تونسوی علیہ الرحمہ  بن حضرت خواجہ میاں حامد تونسوی علیہ الرحمہ   بن حضرت خواجہ حافظ محمد موسی تونسوی علیہ الرحمہ  بن حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ  بن حضرت خواجہ گل محمد تونسوی علیہ الرحمہ  بن حضرت پیرپٹھان خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ  ۔

تعلیم و تربیت :

آپ علیہ الرحمہ  کی عمر جب چار سال چار ماہ چار دن ہوئی تو قرآن پاک پڑھنے کےلئے مولانا غلام رسول صاحب کی خدمت میں آپ کو بیٹھا دیا گیا آپ علیہ الرحمہ  نے ابھی پانچ سپارے حفظ کیے تھے کہ آپ علیہ الرحمہ  کے والد محترم حضرت خواجہ میاں محمد حامد تونسوی علیہ الرحمہ  کا وصال ہو گیا ۔

آپ علیہ الرحمہ  اپنے والد محترم کے دست اقدس پہ بیعت تھے لیکن خلافت اپنے بڑے بھائی حضرت خواجہ حافظ سدیدالدین تونسوی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کی ۔ آپ کے دو بھائی تھے حضرت خواجہ حافظ سدیدالدین تونسوی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت خواجہ خان محمد تونسوی علیہ الرحمہ  ۔

آپ علیہ الرحمہ  کو پیار سے لوگ یوسف میٹھا بھی کہتے تھے ۔

تونسہ شریف میں آپ نے کئی مساجد تعمیر کرائی صدر بازار روڈ پہ واقع مدینہ مسجد جامع اور راقم الحروف کے گھر کے نزدیک مسجد قرت القرآن المعروف خواجہ یوسف صاحب والی مسجد آپ ہی کی تعمیر کرائی گئی مساجد میں سے ہیں

اولاد و امجاد:

آپ علیہ الرحمہ  کے دو فرزند تھے بڑے حضرت خواجہ غلام اللہ بخش یوسفی رحمتہ اللہ علیہ اور چھوٹے حضرت حضرت خواجہ مسعود یوسفی رحمتہ اللہ علیہ آپ کے دونوں صاحبزادگان نہایت کریمانہ اخلاق اور اعلی صفت کے مالک تھے آپ نے اپنے دونوں صاحبزادگان کو بیعت و خلافت سے نوازا ۔

وصال پر ملال:

آپ علیہ الرحمہ  کا وصال 10 رجب المرجب 1406 ہجری بمطابق 22 مارچ 1986ء بروز ہفتہ کو ہوا ۔آپ علیہ الرحمہ  کے وصال کے بعد حسب خاندانی دستور آپ کے وصال کے بعد آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت خواجہ غلام اللہ بخش یوسفی رحمتہ اللہ علیہ کی دستار بندی خواجگان مہار شریف اور خواجگان تونسہ شریف نے کی ۔ آپ کا مزار اقدس دربار عالیہ سلیمانیہ کے برآمدے میں واقع ہے ساتھ ہی آپ کے دونوں صاحبزادگان کے مزار بھی واقع ہیں ۔ ہر سال 10 رجب المرجب کو آپ کا عرس چینی مسجد نزد شیش محل چینی مسجد تونسہ شریف میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ 

حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی چشتی علیہ الرحمہ


آپ علیہ الرحمہ کا اسم گرامی شریف اور لقب نیرالدین، حج کی وجہ سے حاجی مشہور ہو گئے زندن ایک پرگنہ ہے بخارا کے سات پرگنوں میں سے ہے ۔آپ علیہ الرحمہ حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی علیہ الرحمہ کے دست اقدس پہ بیعت ہوئے اور انہی سے خرقہ خلافت حاصل کیا آپ علیہ الرحمہ حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی علیہ الرحمہ کے مشہور و معروف خلیفہ تھے ۔ سلسلہ چشتیہ کے نامور بزرگ اور حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ کے استاد و مرشد بھی تھے ۔

نام و نسب:

پوار نام قطب الاقطاب خواجہ خواجگاں حضرت سیدنا سرکارحاجی شریف زندنی علیہ الرحمہ تھا۔ حاجی شریف زندنی علیہ الرحمہ کی پیدائش بخارا کے موضع زندنہ میں ہوئی اسی مناسبت سے زندنی کہے گئے۔

القابات:

صاحب اسرار،مقتدائے اولیاء عالی،قطب افراد اور مشائخ وقت

کتاب سر العارفین میں ہے کہ حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی چشتی علیہ الرحمہ باعظمت شیخ اہل ولایت صاحب کرامت اہل ریا سنت اور مجاہدہ تھے آپ کی نظر اکسیر کا حکم رکھتی تھی جس پر آپ نگاہ ڈالتے وہ صاحب نعمت اور کامل درویش بن جاتا اور عرش سے لے کر تحت الثریٰ تک دیکھنے لگ جاتا ۔ آپ ہمیشہ خلوت میں رہا کرتے اور تین دن کے بعد افطار کرتے اور بے نمک سبزی کے تین لقمے کھاتے جو آپ کا پس خوردہ کھاتا وہ مجذوب ہو جاتا اور اس کا دل دنیا سے بالکل سرد ہو جاتا اور پھر کبھی گناہ کے نزدیک نہ پھٹکتا ۔ منقول ہے کہ آپ علیہ الرحمہ کی عمر 120 سال تھی 14 سال کی عمر سے لے کر آخری دم تک آپ کا وضو سوائے قضائے حاجت کے کبھی باطل نہ ہوا ۔

کتاب سیرالاولیاء میں ہے کہ منقول ہے کہ سلطان سنجر کو لوگوں نے خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ خدا نے تمہارے ساتھ کیسا برتاؤ کیا سلطان نے کہا کہ میں نے جو نیک و بد کام دنیا میں کیے تھے ایک ایک میری آنکھوں کے سامنے رکھے گئے اور عذاب کے فرشتوں کو حکم صادر ہوا کہ اسے دوزخ میں لے جا کر داخل کرو ابھی میں دوزخ کے فرشتوں کے ہاتھ میں نہ گیا تھا کہ دوبارہ یہ فرمان صادر ہوا چونکہ اس شخص نے فلاں دن دمشق کی مسجد میں خواجہ حاجی شریف زندنی کی قدم بوسی حاصل کی تھی لہذا میں نے انکی برکت سے بخش دیا ۔

کتاب مخزن چشت میں ہے کہ آپ علیہ الرحمہ نے اپنی عمر کے چالیس سال گم نامی اور تجرّد میں بسر کیے اس عرصہ میں آپ صحراوں میں عبادت میں مصروف رہے اور اکثر اوقات درختوں کے پتے کھا کر گذارا کیا آپ لوگوں سے میل جول پسند نہ کرتے تھے فاقہ کشی کی نوبت آتی تو شکرانہ کی سو رکعت نماز ادا کرتے ۔

نافع السالکین میں ہے کہ حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ آپ علیہ الرحمہ کی مجلس میں اگر کوئی دنیا ذکر کرتا تو اُسے مجلس سے باہر نکال دیا جاتا ۔

کتاب سر العارفین میں ہے کہ جب کوئی فقیر آپ علیہ الرحمہ کے گھر آتا تو آپ علیہ الرحمہ اس کی اس قدر تعظیم و تکریم کرتے کہ لوگ حیران رہ جاتے بارہا آپ فقیر دل غریبوں اور مسکینوں کی خاک پا کو اپنی آنکھوں اور اپنے چہرے پر ملتے اور بارگاہ الہیٰ میں عرض کرتے کہ اے پروردگار ! بیچارے حاجی کو فقیروں غریبوں کو اور مسکینوں کی حرمت سے فقر و فاقہ پر مستقل اور ثابت قدم رکھ ۔منقول ہے کہ جب کوئی فقیرآپ علیہ الرحمہ کے گھر آتا تو آپ با ادب اس کے روبرو بیٹھتے اور جو اس کا مطلب ہوتا اسے پورا کرتے ۔

منقول ہے کہ ایک دن آپ علیہ الرحمہ کی خدمت میں ایک آدمی کچھ نقد رقم بطور نذرانے کے لایا۔ آپ علیہ الرحمہ نے اسے فرمایا کہ کیا تم درویشوں سے دشمنی رکھتے ہو کہ دشمن خدا کو ساتھ لائے ہو یہ کہہ کر آپ نے اس سے فرمایا کہ ذرا جنگل کی طرف دیکھو اس شخص نے دیکھا تو اسے نظر آیا کہ جنگل میں سونے کی ایک نہر جاری ہے۔ اس کے بعد حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی رحمتہ اللہ علیہ نے اس سے فرمایا کہ جس کو خزانہ غیب پر اس قدر قدرت حاصل ہو وہ تمہارے مال کی طرف کیسے دیکھے گا ۔

سیرالاقطاب میں ہے کہ آپ علیہ الرحمہ سماع کے شوقین تھے اور آپ علیہ الرحمہ کی مجلس سماع میں علماء اور مشائخ بھی شریک ہوتے تھے اور علماء میں سے کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا آپ کی مجلس سماع میں جو شریک ہوتا تارک دنیا ہو جاتا ۔

کتاب اقوال اولیاء میں ہے کہ آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا درویش وہ ہے جو چار اشیاء کو ترک کرے۔

ترک دنیا:

1.   ترک عقبیٰ یعنی ذات پاک حق سبحانہ تعالیٰ کے سوا اور کچھ مقصود نہ ہو

2.    ترک حوزو خواب ماسوائے بقدر ضرورت

3.   ترک خواہشات نفسانی ، نفس جو کہے اس کے خلاف کرے ۔

آپ علیہ الرحمہ کے بے شمار خلفاء تھے لیکن ہمارا سلسلہ طریقت حضرت خواجہ عثمان ہرونی رحمتہ اللہ علیہ سے جاری ہوا جو کہ آپ کے مشہور و معروف خلیفہ ہیں۔آپ علیہ الرحمہ کے وصال کے متعلق مختلف تواریخ لکھی گئی ہیں آداب الطالبین کے مطابق آپ کا وصال 13 رجب کو ہوا ۔سفینتہ الاولیاء کے مطابق 6 رجب کو ۔ اور مرات الاسرار ، شجرة الانوار ، اقتباس الانوار کے مطابق آپ کا وصال 3 رجب کو سلطان سنجر سلجوقی کی سلطنت کے زمانہ میں ہوا ۔ کتاب سیر الاقطاب کے مطابق10 رجب المرجب 612ھ میں انتقال ہوا اور مزار پاک قنوج اتر پردیش ہندوستان میں ہے ( صفحہ 90)۔ وصال کے وقت آپ کی عمر 120سال تھی ۔ آپ کا مزار اقدس کے متعلق مختلف روایات ہیں مرات الاسرار کے مطابق آپ کا مزار اقدس ملک شام میں ہے ۔ سیر الاقطاب کے مطابق قنوج (انڈیا) میں ہے ۔اقتباس الانوار میں لکھا ہے آپ کا مزار اقدس قنوج (انڈیا) میں دریا کے کنارے شہر سے متصل شمال کی جانب ہے ایک صاحب کے بقول روس کے سرحدی علاقوں میں حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی چشتی علیہ الرحمہ کا مزار موجود ہے ایک اور روایت کے مطابق شہر بخارا کے محلہ زندنہ میں حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی چشتی علیہ الرحمہ کا مزار واقع ہے ۔واللہ اعلم حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے احوال و ملفوظات کے متعلق کوئی کتاب حاصل نہ ہو سکی البتہ ان مختلف کتب میں مختصراً آپ کی سوانح عمری اور ملفوظات کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے:کتاب سِر العارفین ،کتاب مرآة الاسرار،کتاب اقتباس الانوار،کتاب سیرالاولیاء،کتاب مناقب المحبوبین،کتاب مخزن چشت ،کتاب سفینتہ الاولیاء،کتاب سیرالاقطاب،کتاب خزینتہ الاصفیاء ،کتاب آثار الصالحین ،کتاب ہفت اقطاب،کتاب تکملہ سیرالاولیاء، کتاب تذکرہ خواجگان چشت ۔ہر سال حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی چشتی علیہ الرحمہ  کا سالانہ عرس مبارک قنوج انڈیا میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔