حضرت زید بنِ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ

 

آپ کا شمار طبقۂ تابعین کے سرداران میں ہوتا ہے۔ آپ سید الساجدین حضرت سیدنا امام زین العابدین علیِ اوسط بن حسین کے فرزندِ ارجمند اور إمام المسلمین، باقر العلوم حضرت سیدنا امام محمد باقر (رضی الله تعالیٰ عنھم) کے برادرِ علاتی (یعنی باپ شریک بھائی) تھے۔ ولادتِ با سعادت (غالباً) 82ہجری میں مدینۂ منوّرہ میں ہوئی۔ آپ کی تاریخ ولادت پرمختلف مورخین کے درمیان اختلاف رائے موجود ہے ۔ مشہور محقق ابن عساکر نے ان کی تاریخ ولادت 78 ہجری جبکہ ایک اور مورخ محلی ان کی تاریخ ولادت 75 ہجری لکھتے ہیں۔ چند مورخین کے مطابق ان کی تاریخ ولادت 80 ہجری بنتی ہے۔ حیاتِ مبارکہ کے ابتدائی تیرہ برس والدِ ماجد کی آغوشِ شفقت میں گزارے، 95 ہجری میں ان کی شہادتِ عالیہ کے بعد برادرِ اکبر امام محمد باقر کے سایۂ عاطفت میں رہے۔

حضرت زید بن علی کے القابات"

شہید

حلیف القرآن

زید الازیاد

عالم آل محمد

فقیہ اہلبیت

جناب زید کی والدہ کا نام حوریہ تھا جن کا تعلق سندھ کے ایک شاہی گھرانے سے تھا- جو جناب مختار ثقفی کے توسط سے امام زین العابدین (رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں پہنچی تھیں ۔

حضرت زید بن علی بہت خوبصوت اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔ آنکھیں بڑی اور سیاہ جبکہ ابرو کشیدہ جس سے آپ کی شخصیت دوسروں سے نمایاں نظر آتی تھی۔ بچپن ہی سے بہت ذہین اور لائق تھے آپ روحانی کمالات و معنوی جمالات کے ساتھ ساتھ شجاعت حیدر کرّار کے بھی وارث تھے۔ علی کا گھر بھی وہ گھر ہے کہ اس گھر کا ہر اک بچہ جہاں پیدا ہوا ، شیرِ خدا معلوم ہوتا ہے۔زید ابن علی نے مولا علی مشکل کشا، شیر خدا کی پڑپوتی سیدہ ریطہ دختر حضرت ابو ہاشم عبداللہ فرزند حضرت محمد حنیفہ بن امام علی سے عقد فرمایا ۔ اس طرح ان کا سلسلہ تین واسطوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔

 آپ کے عزیز بھتیجے، إمام المسلمین، شیخ الأئمہ حضرت سیدنا امام جعفرِصادق بن محمد باقر علیھما الرحمة آپ کے بارے میں فرماتے تھے: هو و الله أفضلنا و سيدنا و خيرنا. (ترجمہ:) "الله کی قسم! وہ (زید بن علی) ہم میں سب سے افضل، ہمارے سردار، اور ہم میں سب سے بہتر ہیں۔" 121ھ کے اوائل میں آپ نے اموی بادشاہ ہشام بن عبد الملك کی سر کشی اور ظلم کے خلاف عَلَم بغاوت بلند فرمایا۔ یہ وہی ہشام بن عبد الملك تھا جس نے آپ کے بھائی امام محمد باقر کو زہر دلوایا تھا۔ آپ نے عراق کے شہر کوفہ کو اپنا مرکز بنا کر جد و جہد کا آغاز فرمایا۔

امام باقر رضی اللہ عنہ کی پیشنگوئی: ایک ثقہ کے راوی کا بیان ہے کہ  میں ایک دن حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ امام زید ( آپ کے بھائی) ہمارے پاس سے گزرے تو امام باقر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا یہ کوفی میں خروج( اظہار حق کے نکلنا) کرے  گا  اور لوگ اسے شہید کردیں گے اور اس کا سر گلی کوچوں میں پھرائیں گے پھر یہاں لے آئیں گے۔ آخر میں اسی طرح ہواکہ آپ کو شہید کیا گیا اور آپ کا سر مبارک مدینہ منورہ لایا گیا ۔

واقعہ یہ ہے کہ امام زید  رضی اللہ عنہ اہل بیت اطہار میں سے ایک عظیم شخصیت تھے۔ آپ ہمیشہ اپنے آپ کو خلافت کا اہل سمجھتے تھے اسی سلسلہ میں اہل کوفہ آپ کے پاس جمع ہوگئے اور آپ کی بیعت کرنا شروع کی، نیز مدائن، بصرہ، واسطہ، موصل،خراسان،جرجان وغیرہ کےلوگوں نے بھی بیعت کرلی تو آپ نے خلافت کا اعلان کیا اور 122 ہجری میں شامل بن عبدالملک کے خلاف آپ نے خروج کیا ۔

ہشام بن عبدالملک نے آپ کے مقابلے کے لیے یوسف بن عمرثقفی کو روانہ کیا، جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو امام زید رضی اللہ عنہ کے ساتھی (شیعہ/ رافضی) کہنے لگے ہم آپ کا ساتھ اس وقت دیں گے جب آپ   ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) اور عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کریں گے۔  (جنہوں نے آپ کے جد اعلیٰ مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم پر ظلم جائز رکھا تھا۔ معاذاللہ)

یہ سن کر امام زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان دونوں (ابوبکر وعمر ) کے لیے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، میں تو بنو امیہ کے خلاف خروج(اعلان حق) کیا ہے۔ یہ میرے دادا (حسین رضی اللہ عنہ ) کے خلاف ہیں۔ یہ سن کر کوفی شیعوں نے کہا کہ ہم نے آپ کے ساتھ جو بیعت کی ہے وہ فسخ کرتے ہیں۔ امام زید رضی اللہ عنہ نے ان کو رافضی کا خطاب  دیا۔

بقول حافظ ابن کثیر کے آپ کے ساتھ صرف 218 آدمی رہ گئے، سخت مقابلہ ہوا امام زید رضی اللہ عنہ اور آپ کے چند ساتھیوں نے یوسف ثقفی کی کئی ہزار فوج کا مقابلہ کیا آخر میں ایک تیرآپ (علیہ السلام)  کی پیشانی میں لگا جس سے امام زید سے شہید ہوگئے۔ آپ کے ساتھیوں نے ایک نہر میں آپ کی قبر کھو دی اور دفن کر کے اوپر سے پانی بہا دیا جب یوسف ثقفی کامیاب ہو گیا تو اس نے امام زید رضی اللہ عنہ کی قبر کا پتہ لگانا شروع کر دیا۔ آخر میں ایک غلام نے اس کو بتایا کہ امام زید رضی اللہ عنہ کو وہاں دفن کیا گیا ہے چنانچہ اس نے امام زید رضی اللہ عنہ کو قبر سے نکال کر آپ کا سر مبارک کاٹ کر ہشام بن عبدالملک کے پاس بھیجا اور آپ کا جسم  سولی پر لٹکا دیا ۔ چار ساک تک آپ کا جسم مبارک سولی پر لٹکتا رہا ۔

ابن عمار حنبلی لکھتے ہیں جب آپ کو سولی پر  چڑھایا گیا تو جسم کو دشمنوں نے ننگا کردیا اس وقت عنکبوت (مکڑی) نے آپ کے جسم پر جالا تن دیا ۔ چار سال کے بعد آپ کا جسم سولی اتارا گیا کیا اور اس کو جلایا گیا اور اس کی راکھ دریائے فرات میں ڈال دی گئی ۔(البدایہ والنہایہ 9/330، شذرات المذہب 1/159)

حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتےہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو بعض صالحین نے دیکھا کہ امام مظلوم زید شہید (رضی اللہ عنہ ) کی سولی سے پشت اقدس لگائےکھڑے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ کچھ کیا جاتا ہے میرے بیٹوں کے ساتھ (فتاویٰ رضویہ جلد5)

امام زید رضی اللہ عنہ نے جب ہشام بن عبدالملک کے خلاف 122 ہجری میں خروج کیا تو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے فتویٰ دیا تھا خروجہ یصنامی خروج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم بدر"امام زید رضی اللہ عنہ کا خروج"  بدرمیں حضور ﷺ کی جنگ سے مشابہ ہے اور کہا کہ امام زید برحق امام ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ نے دس ہزار درہم امام زیدکی خدمت میں روانہ کیےخود بیمار ہونے کی وجہ سے جنگ میں شرکت نہ کرسکے۔

 امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ چونکہ شاگرد بھی تھےکہتے تھےکہ  میں نے زید بن علی کے خاندان کے دوسرے افراد کو دیکھا ہے مگر میں ان سے زیادہ فقیہ، زیادہ  فصیح و بلیغ اور حاضر جواب کسی کو نہ پایا حقیقت یہ ہےکہ علم میں ان کی کوئی مثال نہیں تھی۔( بارہ امام /الحاج آل رسول احمد )


حضرت سخی سلطان منگھو پیر علیہ الرحمہ

 

اصل نام:حضرت پیر سخی منگھو پیر رحمۃ اللہ علیہ کے اصل نام کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بعض روایات میں حافظ حاجی حسن سلطان اور بعض میں کمال الدین کا ذکر ملتا ہے، تاہم کسی ایک نام پر مؤرخین کا اتفاق نہیں۔ آپ 13ویں صدی عیسوی کے معروف صوفی بزرگ تھے۔

خاندانی شجرۂ نسب:مقامی روایات کے مطابق آپ نجیب الطرفین سید تھے۔ والد کی طرف سے حسینی اور والدہ کی طرف سے حسنی سید تھے، تاہم اس نسبت کی مستند تاریخی اسناد محدود ہیں۔

والدین اور خاندان:مستند تاریخی کتب میں آپ کے والد، والدہ، بہن بھائی یا دیگر اہلِ خانہ کے نام محفوظ نہیں ہیں۔

تعلیم و تربیت:روایات کے مطابق آپ حافظِ قرآن تھے اور دینی علوم و تصوف سے فیض یاب ہوئے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی عبادتِ الٰہی، ذکر و فکر، مجاہدۂ نفس اور خدمتِ خلق میں بسر کی۔

پیشہ:آپ کے کسی دنیاوی پیشے کا مستند ذکر نہیں ملتا۔ آپ کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، بندگانِ خدا کی خدمت اور دینِ اسلام کی اشاعت تھا۔

شجرۂ طریقت:عام روایات کے مطابق آپ کا تعلق سلسلۂ چشتیہ سے تھا اور آپ  کے مرید و خلیفہ تھے، جنہوں نے آپ کو سندھ میں دین کی خدمت کے لیے روانہ فرمایا یہ حقیقت ہے کہ سخی سلطان منگھو پیر روحانی بزرگ اور بابا فرید گنج شکر کے مریدوں میں سے ہیں۔ دوسرے ترجمانوں کے مطابق آپ حضرت شاہباز قلندر کے مرید ہیں۔ اس سلسلے میں حتمی دستاویز شاید مزار کے سابق متولی کے پاس موجود ہے۔کراچی شہر سے ۱۱ میل شمال کی جانب واقع پہاڑی جو لیاری ندی اور کھرتار ورب پہاڑوں کے دامن میں حضرت حافظ حاجی حسن المعروف سخی سلطان بابا منگھو پیر چشی مزار واقع ہے جو۷۰۰ سال قبل برصغیر میں تشریف لائے تھے آپ تیرہویں صدی عیسوی میں بخار ا سے آئے تھے حضرت منگھو پیر حضرت اما م حسن سے ماں کی طرف سے اور حضرت امام حسین سے باپ کی طرف سے نسبت رکھتے تھے، آپ نے تاتاریوں کے لشکر کے خلاف جنگ میں حصہ لیا جس نے اس ملک پر حملہ کیا تھا اس کے بعد آپ حجاز مقدس زیارت کے لیے چلے گئے اسی دوران جب آپ مدینہ منورہ میں تھے تو آپ حجاز مقدس زیارت کے لیے چلے گئے اسی دوران جب آپ مدینہ منورہ میں تھے تو آپ نے خواب میں حضرت محمد ﷺ کو دیکھا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے انکو حکم دیا کہ ہندوستان میں اجودھان جاکر اپنی خدمات حضرت باب فرید گنج شکر کو پیش کرو۔ حضرت منگھو پیر اجودھان پہنچے (آج کل جسکا نام پاک پٹن شریف ہے) اور حضرت بابا صاحب کے شاگردوں / مریدوں میں شامل ہوگئے۔ کچھ دنوں کے بعد حضرت بابا فرید نے حضرت منگھو پیر کو اپنا خلیفہ مقرر کیا اور اپنے خلافت نامہ میں ہدایت کی کہ اس جگہ جائیں جو اب کراچی کہلاتی ہے اور وہاں مقیم ہوجائیں اور اپنا مشن، تبلیغ اسلام بنائیں اور اسلامی تعلیمات کو علاقہ میں عام کریں۔ حضرت بابا فرید کی زندگی ۱۱۷۵ء سے ۱۲۶۵ء تک ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آپ نے آخری سولہ یا چوبیس سال پاک پٹن میں گزارے ، حضرت منگھو پیر ایک غار میں رہ کر روحانی ، عرفانی الہٰی کو حاصل کرنے کے لیے وظائف اور دعائیں کیا کرتے تھے۔ وہ علاقہ غیر آباد بنجر تھا۔ بعد میں آہستہ آہستہ علاقہ آباد ہوتا گیا اور علاقہ کے لوگوں کو آپکی روحانی علمی صلاحیت کا علم ہوتا گیا ۔ یہ ایک عام سی بات ہے خدا کے نیک بندے غیر آباد علاقوں میں قیام کرتے ہیں جو آہستہ آہستہ آباد ہوتی جاتی ہے۔ حضرت منگھو پیر کے بارے میں تاریخی معلومات مندرجہ ذیل کتابوں میں ملتی ہیں:(تاریخ البرہانی مصنف برہان الدین عربی زبان میں ہے اور الازہر یونیورسٹی میں موجود ہے)اس وقت کے ہم عصروں میں حضرت بہاؤ الدین ذکریا حضرت قلند لال شہباز ، حضرت جلال الدینبخاری اسکے علاوہ حضرت بابا فرید تھے۔ترجمانوں کا خیال ہے کہ محمد بن قاسم کے کچھ سپاہی وقتی طور سے اس علاقے میں رہائش پذیر تھے اس لیے کہ اس وقت کے قبروں کے ڈیزائن کے آثار موجود ہیں۔ جو ایسے نشانات رکھتے ہیں جو چوکنڈی، ٹھٹھہ اور سہون شریف کے قبروں پر ملتے ہیں۔

حضرت منگھو پیر کو اس نام سے لوگ پیا رو محبت اور عقید ت سے یاد کرتے ہیں اس لیے کہ وہاں تالاب میں کئی مگر مچھ موجود ہیں۔ منگھار میچ کے معنی مگر مچھ کے ہیں اور منگھو پیر کے معنی ہیں بزرگ یا پاک مگر مچھ ۔ اس تالاب میں تقریباً ۱۵ مگر مچھ پائے جاتے ہیں جبکہ بیان یہ کیا جاتا ہے کہ کبھی اس تالاب میں ۱۰۰ مگر مچھ ہوا کرتےتھے، اس تالاب میں مگر مچھوں سے متعلق مختلف روایتیں وغیرہ ملتی ہیں۔ ایک سمجھ میں آنے والی یہ بات بھی ہے کہ دریائے حب میں طغیانی آنے سے مگر مچھ یہاں آگئے اور تالاب میں ایک چشمہ ہے جہاں سے پانی آتا ہے، زائرین اور عقیدت مند احتراماً اور تعظیم کی خاطر ان مگر مچھوں کو خوراک مہیا کرتے ہیں۔یہاں ٹھنڈے اور گرم پانی کے گندھک ملے ہوئے چشمے ہیں جن میں زخم کی شفایابی کی تاثیر ہے خاص کر جلدی امراض کے لیے مفید ہیں۔ اسی کے قریب کوڑھ کا سینی ٹوریم بھی واقع ہے۔ مختلف عقیدے کے لوگ اس مزار مبارک پر تشریف لاتے ہیں ۔ اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے بعد چشموں پر جاکر نہاتے ہیں اور مگر مچھوں کو گوشت ڈالتے ہیں۔حضرت منگھو پیر کے ایک مرید جن کانام حضرت خاکی شاہ بخاری ہے جو بعد میں آپ کے خلیفہ بنے اور آپ کا بھی مزار کمپاؤنڈ میں قریب ہی واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں ایک ہندو شہزادی کوڑھ میں مبتلا تھی اور حضرت منگھو پیر نے اپنے مرید خاکی شہ ہدایت کی کہ وہ اسکا علاج دعا ؤں سے کریں جو کامیاب رہا جسکے نتیجہ میں ہندو راجہ نے اس کرامت کو دیکھ کر اپنی بیٹی کی شادی خاکی شاہ سے کردی۔


حضرت منگھو پیر نے دعاؤں اور تبلیغ سے ایک کم عرصہ میں بہت کام کیا۔ وہ چھوٹی سی پہاڑی جسکے غار میں آپ قیام پذیر ہوئے تھے اور اپنا مشن عبادت و تبلیغ شروع کیا تھا وہاں بے شمار لوگ آباد ہوتے گئے اور علاقہ منگھو بستی یا اور نگی وادی کے نام سے مشہور ہوگیا۔

یہ بات بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ حضرت جلال الدین بخاری۔ حضرت لال شہباز قلنر اور حضرت بابا فرید ہمیشہ حضرت منگھو پیر سے محبت کرتے تھے اور یہ تمام بزرگان ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب تمام بزرگان حضرت منگھو پیر سے ملنے آئے اور آپ سے فرمایا کہ آپ ان کے ساتھ حج پر چلیں۔ حضرت منگھو پیر نے فرمایا کہ ان کی وفات کا وقت قریب ہے اور انہوں نے اپنا مشن مکمل کرلیا ہےجو اسلام کی تبلیغ حضرت نبی پاک ﷺ کی ہدایت کے مطابق تھی اور جو ہدایت آپ کو اپنے پیر و مرشد حضرت بابا فرید گنج شکرنے دی تھی لہٰذا یہ بہتر ہے کہ وہیں رہیں ۔آٹھ ذی الحج کا دن تھا کہ آپ نے وفات پائی اور ۸ اور ۹ ذی الحج کو ہر سال آپ کا عرس مبارک منایا جاتا ہے۔
تعلیمات و پیغام:آپ کی خانقاہ سے یہی صدا بلند ہوتی تھی کہ

·       اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے آباد کرو۔

·       نفس کو تقویٰ سے پاک کرو۔

·       مخلوق سے محبت کرو۔

·       اور ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھو۔

·       دنیا کی ہر نعمت فانی ہےمگر اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔

·       جو درِ اولیاء پہ جھکتا ہے، وہ دراصل اپنے رب کے حضور جھکنے کا سلیقہ سیکھتا ہے۔

کرامات:آپ سے متعدد کرامات منسوب ہیں۔ مشہور روایت کے مطابق آپ کی دعا سے منگھو پیر کے گندھک کے چشمے جاری ہوئے اور مگرمچھوں کا تالاب وجود میں آیا، جو آج بھی آپ کی نسبت سے مشہور ہے۔

وصال مبارک:حضرت پیر سخی منگھو پیر رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 13ویں صدی عیسوی میں ہوا، تاہم مستند تاریخی کتب میں آپ کی درست تاریخِ وفات محفوظ نہیں۔آپ علیہ الرحمہ کا سالانہ عرس ہر سال 8 ذوالحجہ کو نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔

مزار مبارک:آپ کا مزار مبارک کراچی کے شمال مغربی علاقے منگھو پیر میں واقع ہے۔ یہ مقام اپنے گندھک کے گرم چشموں اور صدیوں قدیم مگرمچھوں کے تالاب کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ (بشکریہ کریم پاشا سہروردی حفظہ اللہ  و تذکرہ اولیاءِ سندھ)