Sunni Sufi / Barailvi


 
سنی صوفی /بریلوی
قال رسول اﷲﷺ اتبعوا السواد الاعظم ید اﷲ علی الجماعۃ شذشذ فی النار
سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بڑی جماعت (یعنی اہل سنت و جماعت) کی پیروی کرو‘ اﷲ تعالیٰ کی رحمت و مدد جماعت کے ساتھ ہے‘ جو بڑی جماعت (اہل سنت و جماعت) سے علیحدہ ہوا وہ جہنم میں علیحدہ ڈالا گیا.  (کنز العمال …۱/ ۲۰۶)
اہل سنت کا  ہے  بیڑا پار اصحاب حضور
نجم ہیں اور نائو ہے عترت رسول اﷲ کی
تعارف’’اہل سنت و جماعت حنفی بریلوی مسلک‘‘ دینی مسلک‘ مختصر تعارف‘ مختصر تاریخ‘ مسلک کا آغاز کب ہوامتحدہ پاک و ہند میں ہمیشہ اہل سنت و جماعت حنفی کی غالب اکثریت رہی ہے۔ سرزمین ہند میں بڑے بڑے نامور اور باکمال علماء و مشائخ پیدا ہوئے جنہوں نے دین اسلام کی زریں خدمات انجام دیں اور ان کے دینی اور علمی کارنامے آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ تیرہویں صدی ہجری کے آخر میں افق ہند پر ایک ایسی شخصیت اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ نظر آتی ہے جن کی ہمہ گیر اسلامی خدمات اسے تمام معاصرین میں امتیازی حیثیت عطا کرتی ہیں۔ شخص واحد جو عظمت الوہیت‘ ناموس رسالت‘ مقام صحابہ و اہل بیت اور حرمت ولایت کا پہرا دیتا ہوا نظرآتا ہے۔ عرب و عجم کے ارباب علم جسے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ہماری مراد ہے امام اہل سنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قادری محدث بریلوی قدس سرہ العزیز جنہوں نے مسلک اہل سنت اور مذہب حنفی کے خلاف اٹھنے والے نت نئے فتنوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر مرحلے پر سرخرو ہوئے۔
 اہل سنت و جماعت کے عقائد ہوں یامعمولات جس موضوع پر بھی انہوں نے قلم اٹھایا‘ اسے کتاب و سنت ائمہ دین اور فقہاء اسلام کے ارشادات کی روشنی میں پائے ثبوت تک پہنچایا۔ آپ کی سینکڑوں تصانیف میں سے کسی کو اٹھا کر دیکھ لیجئے ہر کتاب میں آپ کویہ انداز بیان مل جائے گا۔ یہاں یہ بتادینا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے افکار و نظریات کی بے پناہ مقبولیت سے متاثر ہوکرمخالفین نے ان کے ہم مسلک علماء و مشائخ کو ’’بریلوی‘‘ کا نام دے دیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ دوسرے فرقوں کی طرح یہ بھی ایک نیافرقہ ہے جوسرزمین ہند میں پیدا ہوا ہے۔ سیدالمحققین مبلغ اسلام حضرت علامہ سیدمحمدمدنی میاں الاشرفی الجیلانی ثم کچھوچھوی فرماتے ہیں:
’’غورفرمایئے کہ فاضل بریلوی کسی نئے مذہب کے بانی نہ تھے از اول تا آخر مقلد رہے۔ ان کی ہر تحریر کتاب و سنت اور اجماع و قیاس کی صحیح ترجمان رہی نیز سلف صالحین و ائمہ مجتہدین کے ارشادات اور مسلک اسلام کو واضح طور پر پیش کرتی رہی وہ زندگی کے کسی گوشہ میں ایک پل کے لئے بھی ’’سبیل مومنین صالحین‘‘ سے نہیں ہٹے۔ اب اگر ایسے کے ارشادات حقانیہ اور توضیحات و تشریحات پر اعتماد کرنے والوں انہیں سلف صالحین کی روش کے مطابق یقین کرنے والوں کو ’’بریلوی‘‘ کہہ دیا گیا تو کیا ’’بریلویت‘ و ’’سنیت‘ْ‘ کو بالکل مترادف المعنی نہیں قرار دیا گیا؟ اور بریلویت کے وجود کا آغاز فاضل بریلوی کے وجود سے پہلے ہی تسلیم نہیں کرلیاگیا (تقدیم‘ دور حاضر میں بریلوی اہل سنت کا علامتی نشان‘ ص ۱۱۔۱۰‘ مکتبہ حبیبیہ لاہور)
خود مخالفین بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں ’’یہ جماعت اپنی پیدائش اور نام کے لحاظ سے نئی ہے لیکن افکار و عقائد کے اعتبار سے قدیم ہے (البریلویہ ص ۷)
اب اس کے سوا اور کیا کہاجائے کہ ’’بریلویت‘‘ کا نام لے کر مخالفت کرنے والے دراصل ان ہی عقائد و افکار کو نشانہ بنا رہے ہیں جو زمانہ قدیم سے اہل سنت و جماعت کے چلے آرہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہے کہ کھلے بندوں اہل سنت کے عقائد کو مشرکانہ اورغیر اسلامی قرار دے سکیں۔ باب عقائد میں آپ دیکھیں گے کہ جن عقائد کو ’’بریلوی عقائد‘‘ کہہ کر مشرکانہ قرار دیا گیا ہے وہ قرآن و حدیث اور متقدمین علماء اہلسنت سے ثابت اور منقول ہیں۔ کوئی ایک ایسا عقیدہ بھی تو نہیں پیش کیا جاسکا جو ’’بریلویوں‘‘ کی ایجاد ہوا ور متقدمین اہل سنت و جماعت سے ثابت نہ ہو۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کے القاب میں سے ایک لقب ہی ’’عالم اہل السنتہ‘‘ تھا…
 اہل سنت و جماعت کی نمائندہ جماعت ’’آل انڈیا سنی کانفرنس‘‘ کا رکن بننے کے لئے سنی ہونا شرط تھا اس کے فارم پر ’’سنی‘‘ کی یہ تعریف درج تھی۔
’’سنی وہ ہے جو ’’ماانا علیہ و اصحابی‘‘سرکار کریمﷺ نے فرمایا: نجات پانے والا گروہ ان عقائد پر ہوگا جن پر میں اور میرے صحابہ ہیں) کا مصداق ہوسکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ائمہ دین ‘ خلفاء اسلام اور مسلم مشائخ طریقت اور متاخرین علماء دین سے شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی‘ حضرت ملک العلماء بحر العلوم صاحب فرنگی محلی‘ حضرت مولانا فضل حق صاحب خیر آبادی‘ حضرت مولانا فضل رسول صاحب بدایونی‘ حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب رامپوری‘ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی احمد رضا خان رحمہم اﷲ تعالیٰ کے مسلک پر ہو‘‘ (خطبات آل انڈیا کانفرنس ص ۶و۸۵ مکتبہ رضویہ لاہور)
خود مخالفین بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ لوگ قدیم طریقوں پر کاربند ہیں۔ مشہور مورخ سلیمان ندوی جن کا میلان طبع اہل حدیث کی طرف تھا‘ لکھتے ہیں۔
’’تیسرا فریق وہ تھا جوشدت کے ساتھ اپنی روش پر قائم رہا اور اپنے آپ کو اہل سنت کہتا رہا‘ اس گروہ کے پیشوا زیادہ تر بریلی اور بدایوں کے علماء تھے‘‘ (حیات شبلی‘ ص ۴۶‘ بحوالہ تقریب تذکرہ اکابر اہل سنت ص ۲۲)
شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں ’’انہوں (امام احمد رضا بریلوی) نے نہایت شدت سے قدیم حنفی طریقوں کی حمایت کی ‘‘ (موج کوثر ص ۷۰)
اہل حدیث کے شیخ الاسلام مولوی ثناء اﷲ امرتسری لکھتے ہیں۔
’’امرتسر میں مسلم آبادی‘ غیر مسلم آبادی (ہندو سکھ وغیرہ) کے مساوی ہے۔ اسی سال قبل پہلے سب مسلمان اسی خیال کے تھے جن کو بریلوی حنفی خیال کیا جاتا ہے (شمع توحید ص ۲۰)

مسلک کے بنیادی عقائد
ممیزات اہل سنت و جماعت حنفی ’’ سنی صوفی/سنی صوفی ‘‘ حضرات کے عقائد وممیزات
عقیدہ: اﷲ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔ جس طرح سے اس کی ذات قدیم ازلی ابدی ہے اس کی صفات بھی قدیم ازلی ابدی ہیں۔ ذات و صفات کے علاوہ سب چیزیں حادث ہیں یعنی پہلے نہیں تھیں پھر موجود ہوئیں۔
عقیدہ: اﷲ تعالیٰ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
ومن اصدق من اﷲ قیلا (سورہ النساء ۴/۱۲۲)
’’اور اﷲ سے زیادہ کس کی بات سچی‘‘ (کنزالایمان) نیز ایک اور مقام پر فرماتا ہے۔
ومن اصدق من اﷲ حدیثا (سورہ النساء ۴/۸۷)
’’اور اﷲ سے زیادہ کس کی بات سچی‘‘ (کنزالایمان)
صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین اشرفی مراد آبادی قدس سرہ (خلیفہ اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔
’’یعنی اس سے زیادہ سچا کوئی نہیں اس لئے کہ اس کا کذب ناممکن و محال ہے کیونکہ کذب عیب ہے اور ہر عیب اﷲ پر محال ہے‘ وہ جملہ عیوب سے پاک ہے‘‘ (تفسیر خزائن العرفان)
عقیدہ: اﷲ تعالیٰ کا علم غیب ذاتی ہے… اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
ترجمہ ’’وہی اﷲ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ ہر نہاں و عیاں کا جاننے والا وہی ہے‘ بڑا مہربان رحمت والا (سورہ الحشر ۵۹/۲۲)
ترجمہ: ’’ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا سب سے بڑا بلندی والا‘‘ (سورہ الرعد ۱۳/۹)
ترجمہ: ’’بے شک توہی ہے سب غیبوں کا جاننے والا‘‘ (سورہ المائدہ ۵/۱۰۹‘۱۱۶)
عقیدہ: حضورﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت آپﷺ پر ختم کردیا۔ حضورﷺ کے زمانہ میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔ حضورﷺکے زمانہ میں یا حضورﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنا مانے یا جائز جانے‘ کافر ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
ترجمہ: ’’محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے‘‘ (سورہ الاحزاب ۳۳/۴۰)
عقیدہ: حضورﷺ نور ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ: بے شک تمہارے پاس اﷲ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب (سورہ المائدہ ۵/۱۵)
حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہماکی تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں نور سے مراد حضور پرنورﷺ ہیں۔ جمہور مفسرین کا یہی قول ہے ملاحظہ ہوں (تفسیر بیضاوی‘ تفسیر مظہری‘ تفسیر خازن‘ تفسیر مدارک‘ تفسیر روح البیان‘ تفسیر جلالین‘ تفسیر روح المعانی و غیرہا) صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’سید عالمﷺ کو نور فرمایا گیا کیونکہ آپ سے تاریکی کفر دور ہوئی اور راہ حق واضح ہوئی‘‘ (خزائن العرفان)
عقیدہ: حضورﷺ بے مثل بشر ہیں۔ حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔
’’میں تمہاری مثل نہیں‘‘ (صحیح بخاری ۲/۲۴۶‘ جامع الترمذی ۱/۹۷)
حضرت سیدنا علی رضی اﷲ عنہ ارشاد فرماتے ہیں ’’میں نے رسول اﷲ کی مثل نہ پہلے کسی کو دیکھا نہ بعد میں (ترمذی ۱۲/۸۹ تاریخ کبیر‘ خصائص کبریٰ)
عقیدہ: حضورﷺ شافع محشر ہیں۔ وہ اﷲ تعالیٰ کے اذن سے اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے مگر اس کے حکم سے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (سورہ البقرہ ۲/۲۵۵) (کنزالایمان)
’’قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں‘‘ (سورہ الاسراء ۱۷/۷۹)
جمہور مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں مقام محمود سے شفاعت مراد ہے۔
عقیدہ: عبدالمصطفی‘ عبدالنبی‘ غلام رسول اور غلام نبی وغیرہ نام رکھنا جائز ہے اور باعث برکات بھی ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’تم فرمائو اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اﷲ کی رحمت سے ناامید نہ ہو‘‘ (سورہ الزمر ۳۹/۵۳) (کنزالایمان)

اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں حضورﷺکو حکم فرمایا کہ یاعبادی (اے میرے بندوں) کہیں جس سے یہ ثابت ہوا کہ لفظ عبد غیر اﷲ کے ساتھ مل کر استعمال ہوسکتا ہے۔ یعنی جس طرح عبداﷲ اور عبدالرحمن نام ہوسکتے ہیں اسی طرح عبدالمصطفی اور عبدالنبی نام میں کچھ حرج نہیں ہے جو لوگ غیر اﷲ کی طرف اضافت کے سبب شرک کی بات کرتے ہیں وہ اس آیت کا کیا جواب دیں گے اس میں بندوں کی اضافت ضمیر واحد متکلمی کی طرف کی گئی ہے جس سے قطعا حضورپرنور سید عالم صاحب لولاک ﷺکی ذات ستودہ صفات مراد ہے۔
عقیدہ: یارسول اﷲ‘ یا حبیب اﷲ لفظ ندا سے پیارے آقا و مولیٰﷺ کو پکارنایا یاد کرنا جائز ہے۔ امام المحدثین محمد بن اسمعیل بخاری قدس سرہ روایت فرماتے ہیں کہ:
’’حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما کا پائوں سن ہوگیا تو ایک شخص نے ان سے کہا کہ اس شخص کو یاد کریں جو آپ کو سب سے محبوب ہے‘ تو انہوں نے کہا ’’یامحمداہ ﷺ‘‘ (الادب المفردلامام بخاری ۱/۳۲۵)
عقیدہ: حضور سرور کون و مکاں دور و نزدیک سے اپنے امتیوں کی آواز و فریاد کو سنتے ہیں۔ شافع محشر‘ ساقی کوثر احمد مجتبیٰﷺ کا فرمان ہے۔ ’’جو کچھ میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے‘‘ (المستدرک علی صحیحین ۲/۵۵۴‘ سنن الترمذی ۴/۵۵۶‘ سنن البیہقی الکبری ۵۲۷‘ مسند البزار ۹/۳۵۸‘ مسند احمد ۵/ ۱۷۳‘ شعب الایمان ۱/۴۸۴)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ اپنے مشہور و معروف ’’سلام‘‘ میں فرماتے ہیں۔
دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلام
عقیدہ: حضور سرور کونینﷺ کو اﷲ تعالیٰ نے نفع و نقصان کا مالک بنایا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
’’اور انہیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اﷲ اور اﷲ کے رسولﷺ نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا
(سورہ التوبہ ۹/۷۴) (کنزالایمان)

’’اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اﷲ و رسول نے ان کو دیا اور کہتے اﷲ کافی ہے اب دیتا ہے ہمیں اﷲ اپنے فضل سے اور اﷲ کا رسول ہمیں اﷲ ہی کی طرف رغبت ہے‘‘
(سورہ التوبہ ۹/۵۹) (کنزالایمان)
’’اور اے محبوب یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اﷲ نے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی (سورہ الاحزاب ۳۳/۳۷) (کنزالایمان)
حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ’’ہم تقسیم فرمانے والے ہیں اور اﷲ تعالیٰ دیتا ہے‘‘ (صحیح البخاری ۱/۱۲۶ مشکورہ المصابیح)
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ سرکاردوعالمﷺ من جانب اﷲ پوری کائنات میں تقسیم فرمانے والے ہیں اور جو قاسم ہوتا ہے یقینا وہ نفع رساں ہوتا ہے۔
عقیدہ: انبیاء کرام‘ اولیاء کرام اور نیک ہستیوں کا وسیلہ مانگنا جائز ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
’’اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پائو‘‘
(سورہ المائدہ ۵/۳۵) (کنزالایمان)
حضور اکرم نور مجسمﷺ نے ایک نابینا صحابی رضی اﷲ عنہ کوایک دعا تعلیم فرمائی جس میں ان صحابی رضی اﷲ عنہ نے حضورﷺ کے وسیلہ سے دعا مانگی۔ وہ دعا یہ ہے
اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بمحمد نبی الرحمۃ یامحمد انی قد توجہت بک الی ربی فی حاجتی ہذہ لتقضی اللھم فشفعہ فی‘‘
اے اﷲ بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف اپنے حضرت محمد مصطفیﷺ نبی رحمت کے وسیلہ سے متوجہ ہوتا ہے‘ یا محمدﷺ بے شک میں آپﷺ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ اپنی اس حاجت کے لئے تاکہ میری حاجت پوری ہو۔ اے اﷲ حضور اکرمﷺ کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما‘‘ (سنن ابن ماجہ ۴/۲۹۶) علامہ سید احمد بن زینی دحلان مکی فرماتے ہیں۔ ’’اہل سنت و جماعت کے نزدیک وسیلہ مانگنے کے جائز ہونے پر اجماع ہے‘‘ (الدر السنیۃ ص ۴۰)
عقیدہ: حضور سید عالمﷺ معلم کائنات ہیں اور آپﷺ کی اطاعت سب پر لازم ہے۔
اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اﷲ کا حکم مانا‘‘
(سورہ النساء ۴/۸۰) (کنز الایمان)
’’اور جو کچھ رسول تمہیں عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو‘‘ (سورہ الحشر ۵۹/۷) (کنزالایمان)
’’اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ وہ انہیں صاف بتائے‘‘ (سورہ ابراہیم ۱۴/۴) (کنزالایمان)
شیخ سلیمان الجمل قدس سرہ حاشیہ جلالین میں لکھتے ہیں ’’اور رسول اﷲﷺ ہر قوم سے ان کی زبان میں خطاب فرمایا کرتے تھے‘‘ (تفسیر جمل ۲/۵۱۲)
’’اور تمہیں کتاب و حکمت سکھاتے ہیں اور تمہیں خوب ستھرا کرتے ہیں اور تمہیں وہ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے تھے‘‘ (سورہ البقرہ ۲/۱۵۱) (کنزالایمان)
ان آیات و تفسیر سے معلوم ہوا کہ حضورﷺ تمام لغات کے جاننے والے ہیں اور آپﷺ معلم کائنات ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ آپﷺ نے کوئی علم یا کوئی زبان کسی مخلوق سے سیکھی ہو۔
عقیدہ: حضورﷺ کو اﷲ تعالیٰ نے ہر چیز کا علم عطا فرمایا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
’’اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اﷲ کا تم پر بڑا فضل ہے‘‘
(سورہ النساء ۴/۱۱۳) (کنزالایمان)
صحابی رسولﷺ حضرت ابو زید رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’نبی پاکﷺ نے ہم کو جو کچھ بھی پہلے ہوچکا تھا اور جو کچھ آئندہ ہونے والا تھا‘ تمام بیان فرمادیا‘‘ (صحیح مسلم ۲/۳۹۰)
نیز سرکار کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’پس جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے‘ میں اس کو جان گیا ہوں‘‘
(جامع ترمذی ۲/۱۵۵)
نیز سرکار کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’کیا حال ہے ان قوموں کا جنہوں نے میرے علم میں طعن کیا ہے۔ قیامت تک کی جس چیز کے بارے میں تم مجھ سے پوچھو گے میں تمہیں بتادوں گا‘‘ (تفسیر خازن ۱/۳۸۲‘ مطبوعہ مصر)
عقیدہ: نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنا جائز ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا‘‘ (سورہ غافر ۴۰/۶۰) (کنزالایمان)
اس آیت میں کوئی قید نہیں ہے جب بھی ہم دعا مانگیں اﷲ تعالیٰ قبول فرمانے والا ہے۔ خواہ عام فرض نمازوں کے بعد دعا کی جائے یا نماز جنازہ کے بعد بالکل جائز اور حکم قرآن کے عین مطابق ہے۔ چنانچہ حضور اقدس سیدعالمﷺارشاد فرماتے ہیں۔ ’’جب تم نماز جنازہ پڑھ لو تو میت کے لئے خالص دعا مانگو‘‘ (ابن ماجہ ۴/۴۴۷‘ سنن ابی دائود ۸/۴۹۱)
حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما ایک جنازے پر نماز جنازہ کے بعد پہنچے تو انہوں نے نمازیوں سے فرمایا ’’اگر تم نے مجھ سے پہلے نماز پڑھ لی ہے تو دعا میں تم مجھ سے آگے نہ بڑھو‘‘
(المبسوط الامام شمس الائمۃ السرخسی ۲/۶۷)
عقیدہ: محفل میلاد شریف کرنا جائز اور باعث برکت ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ’’تم فرمائو کہ اﷲ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اس پر چاہئے کہ خوشی کریں‘‘ (سورۃ یونس ۱۰/۵۸) کنزالایمان)
’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘ (سورۃ الضحی ۹۳/۱۱) (کنزالایمان)
ان آیات سے یہ بات نہایت واضح کہ اﷲ تعالیٰ کے فضل‘ رحمت اور نعمت پر خوب خوشی کا اظہار کرو اور چرچا بھی کرو۔ اب کون سا مسلمان ہے جو سرور عالم نور مجسم شفیع اعظمﷺ کی ذات بابرکات کو اﷲ تعالیٰ کا فضل اس کی رحمت اور اس کی نعمت نہیںسمجھتا؟ یقینا تمام مسلمانان عالم حضورﷺ کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے رحمتہ للعالمین اور اﷲ تعالیٰ کی نعمت عظمیٰ سمجھتے ہیں جن کی بعثت شریفہ کا اﷲ تعالیٰ نے احسان جتایا ہے۔
’’بے شک اﷲ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا‘‘ (سورہ آل عمران ۳/۱۶۴) (کنزالایمان)
لہذا آپﷺ کے میلاد کی خوشی منانا اﷲ تعالیٰ کی نعمت کا چرچا کرنا ہے۔ اور محفل میلاد منعقد کرنا صرف پاکستان یا ہندوستان تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام عالم اسلام اپنے اپنے زمانے میں محفل میلاد منعقد کرتے آئے ہیں۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ لکھتے ہیں ’’اور اہل اسلام ہمیشہ سے حضورﷺ کی ولادت شریف والے مہینہ میں محافل میلاد منعقد کرتے رہے ہیں‘‘ (ماثبت من السنۃ ص ۴۰ مطبوعہ لاہور)
عقیدہ: حضور اکرم نور مجسمﷺ اور تمام انبیاء کرام اپنے اپنے مزاروں میں زندہ ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں‘‘
(سورہ البقرہ ۲/۱۵۴) (کنزالایمان)
علامہ احمد بن حجر عسقلانی رحمتہ اﷲ لکھتے ہیں:
’’اور جب قرآنی ارشادات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ شہید لوگ زندہ ہیں اور یہی عقل سے بھی بادلیل ثابت ہے تو وہ انبیاء کرام علیہم السلام جن کا درجہ شہداء سے بلند اور بالاتر ہے ان کی حیات بطریق اولیٰ ثابت ہوگئی‘‘ (فتح الباری شرح صحیح البخاری ۱۰/۲۴۳)
عقیدہ: بزرگان دین کے اعراس میں جو جانور نیاز اور ارواح کے ایصال ثواب کے لئے ذبح کیا جاتا ہے‘ وہ حلال ہے۔ قرآن مجید میں جو آیت ہے (اور وہ جو غیر خدا کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو‘‘ (سورہ البقرہ ۲/۱۷۳) (کنزالایمان) تو اس آیت کی تفسیر میں مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں وہ جانور مراد ہے جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام لیا جائے۔ مندرجہ ذیل تفاسیر میں یہ بیان موجود ہے (تفسیر بیضاوی‘ تفسیر مظہری‘ تفسیر خازن‘ تفسیر مدارک‘ تفسیر روح البیان‘ تفسیر جلالین‘ تفسیر روح المعانی وغیرہا)
لہذا حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کی گیارہویں شریف ان کے ایصال ثواب کے لئے جو جانور گائے‘ بکرا وغیرہ ذبح کیا جاتا ہے یا کسی ولی اﷲ کے عرس مقدس پر جو بکرا ذبح کیا جاتا ہے اس پر بھی ذبح کے وقت (بسم اﷲ اﷲ اکبر) پڑھا جاتا ہے لہذا وہ کھانا بالاتفاق حلال اور جائز ہے۔ کذا فی التفسیرات الاحمدیۃ
عقیدہ: مردے سنتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے قوم ثمود پر عذاب نازل کیا اور وہ لوگ مر گئے تو حضرت صالح علیہ السلام نے ان مردہ لوگوں کو فرمایا (پس ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا دی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرض ہی نہیں)
(سورہ الاعراف ۷/۷۹) (کنزالایمان)
حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک جب آدمی کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے دوست جب اس سے لوٹتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے‘‘ (صحیح بخاری ۵/۱۱۳)
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب سرکار دوعالمﷺ مدینہ طیبہ کے قبرستان سے گزرتے تو فرماتے:
’’اے قبر والو! تم پر سلامتی ہو‘ اﷲ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں بخشے اور تم ہم سے پہلے آئے اور ہم تمہارے بعد آئیں گے‘‘ (جامع ترمذی ۴/۲۰۸) ان احادیث سے صاف واضح ہے کہ قبروں والے مردے سنتے ہیں۔
عقیدہ: اولیاء اﷲ کو پکارنا اور ندا کرنا جائز ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
’’تو بے شک اﷲ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے فرشتہ مدد پر ہیں‘‘ (سورۃ التحریم ۶۶/۴) (کنزالایمان)
امام جلال الدین سیوطی قدس سرہ نے طبرانی شریف کے حوالے سے حدیث شریف درج فرمائی ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور سید عالمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اﷲ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جنہیں لوگوںکی حاجتیں پوری ہونے کے لئے لوگ اپنی حاجتوں میں ان کی طرف فریاد کریں گے‘ وہ اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ ہیں‘‘ (جامع صغیر مع فیض القدیر ۲/۴۷۷ مطبوعہ مصر‘ المعجم الکبیر ۱۲/۳۵۸‘ حلیتہ الاولیاء ۳/۲۲۵)
اس کے علاوہ بہت سے ایسے عقائد ہیں جن سے اہل سنت و جماعت حنفی بریلوی حضرات کا دیگر فرقوں سے امتیاز ہوجاتا ہے چنانچہ انہیں عقائد سے یہ ہیں۔

حضورﷺ کو حاضر و ناظر ماننا
حضورﷺ کے لئے عطائی علم غیب ماننا
حضورﷺ کو دنیا وآخرت کے احوال کا جاننے والا ماننا
اذان سے قبل اور بعد میں درود شریف پڑھنا
انگوٹھے چومنا‘ رحمۃ للعالمین صفت کو حضورﷺ کا خاصہ ماننا


ختم شریف‘ یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیأ اﷲ وغیرہ ان عقائد کے حامل حضرات ہی درحقیقت اہل سنت و جماعت ہیں جنہیں عرف میں ’’سنی صوفی/بریلوی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مذکورہ بالا عقائد چودہ سو سال سے چلے آرہے ہیں اور ان کے دلائل قرآن و سنت سے واضح ہیں۔ ان عقائد کے حامل شخص کو ’’بریلوی فرقہ‘‘ والا کہنا قطعا درست نہیں ہے۔ ورنہ پھر صحابہ کرام‘ تابعین‘مفسرین‘ محدثین‘ ائمہ مجتہدین‘ سب کو ’’بریلوی‘‘ کہنا پڑے گا۔ کیونکہ ان کے بھی وہی عقائد تھے جو آج اہل سنت حنفی بریلویوں کے ہیں۔ لہذا مذکورہ عقائد کے حامل حضرات کو ’’بریلوی‘‘ مکتبہ فکر والا کہہ کر اہل سنت و جماعت سے علیحدہ کہنا اور جدید فرقہ کے عقائد کا پیروکار کہنا ظلم و زیادتی ہے۔
۴: عبادات و معاملات میں کون سے فقہی مذہب سے وابستگی ہے‘ اس فقہی مذہب کی کون سی کتاب کو بنیادی ماخذ کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے‘ فقہی لحاظ سے ممیزات عبادات و معاملات میں فقہی مذہب ’’حنفی‘‘ ہے جوکہ حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ کی طرف منسوب ہے۔ اس فقہی مذہب کی کئی کتب کو ماخذ کی حیثیت حاصل ہے جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں۔
کتب ظاہر الروایہ میں چھ کتابیں ہیں۔
(۱) جامع کبیر (۲) جامع صغیر (۳) سیر کبیر (۴) سیر صغیر (۵) مبسوط (۶) زیادات
یہ کتابیں فقہ حنفی کا اصل ماخذ اور بنیادی ماخذ ہیں۔پھر مسائل پیدا ہوتے گئے اور کلیات سے جزئیات نکلتے گئے اور کتب فتاویٰ تصنیف ہوتی رہیں۔ ہمارے دور میں جو کتب فتاویٰ مشہور اور زیادہ مروج ہیں وہ یہ ہیں۔
(
۱) فتاویٰ عالمگیری (۲) فتاویٰ شامی (۳) فتاویٰ قاضی خان (۴) فتاویٰ خلاصہ (۵) فتاویٰ بزازیہ (۶) فتاویٰ انقرویہ (۷) فتاویٰ رضویہ (۸) فتاویٰ امجدیہ (۹) بہار شریعت (۱۰) فتاویٰ فیض رسولﷺ وغیرہا

No comments:

Post a Comment