فقیہ اعظم حضرت حافظ ابوالوفا افعانی علیہ الرحمہ


 

 پورا نام : سید محمود شاہ  قادری حنفی علیہ الرحمہ

والد کا نام :سید مبارک شاہ قادری حنفی علیہ الرحمہ

ولادت باسعادت: آپ 10 ذی الحجہ 1310 ہجری کو قندھار میں افغانستان (اس وجہ سے امام افغانی سے ملقب ہوئے) پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد کے زیر سایہ ہی حاصل کی۔  نوجوانی میں آپ بھارت آ گئے

پیدائش اور تعلیم:آپ نے رام پور میں تعلیم حاصل کی، پھر گجرات میں اور بعد ازاں حیدرآباد پہنچے اور جامعہ نظامیہ مین داخلہ لیا۔ آپ نے 1330 ہجری میں یہاں سند حاصل کی۔

اساتذہ کرام : جامعہ نظامیہ میں حضرت ابو الوفا نے وقت کے عظیم علما جیسا کہ بانی جامعہ نظامیہ و دائرۃ المعارف العثمانیہ شیخ الاسلام امام محمد انواراللہ فاروقی، شیخ عبد الصمد، شیخ عبد الکریم، شیخ محمد یعقوب، شیخ مرقی محمد ایوب، شیخ رکن الدین اور دوسرے علما سے تعلیم حاصل کی۔

تدریسی دور: جامعہ نظامیہ سے سند تکمیل کے حصول کے بعد ابو الوفا کی وہاں بطور مدرس تقرری ہو گئی۔ وہاں آپ نے کافی لمبے عرصہ تک تدریس فرمائی اور بہت سے طلبہ نے آپ سے فیض حاصل کیا۔

احیاء المعارف النعمانیہ کا قیام: حضرت ابو الوفا  علیہ الرحمہ علم اسلامی خصوصاً فقہ حنفی کی ترویج و اشاعت کی بہت لگن رکھتے تھے۔ انھوں نے احیاء المعارف النعمانیہ قائم کیا تاکہ علوم اسلامیہ اور خصوصاً فقہ حنفی کی نایاب کتب کی اشاعت کی جا سکے۔جب انھیں کسی مسودہ اور نایاب کتاب کی ضرورت ہوتی، وہ اپنے جاننے والے عالم کو خط لکھ کر ان سے تعاون کی درخواست کرتے۔ اس طرح حضرت ابو الوفا علیہ الرحمہ نے فقہ حنفی، حدیث اور اس کے راویوں، تاریخ اور دوسرے علوم اسلامیہ کی کتب کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر لیا۔

احیاء المعارف النعمانیہ کی جانب سے شائع کردہ کتب:اس ادارے کی جانب سے بہت سی کتب کی اشاعت کی گئی ہے جن میں شامل چند کتب یہ ہیں :

·         کتاب الآثار ابوحنیفہ ، بروایت امام ابو یوسف علیہ الرحمہ

·         الرد الاسير الأوزاعی ، امام ابو یوسف علیہ الرحمہ

·         اختلاف ابی حنیفہ و ابن ابی لیلی ، امام ابو یوسف علیہ الرحمہ

·         کتاب الاصل (المبسوط) ، امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ

·         الجامع الکبیر ، امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ

·         کتاب الآثار ابوحنیفہ ، بروایت امام محمد بن حسن شیبانی   تحقیق تصحیح تخریج تعلیق و شرح ، مولانا ابوالوفاء افغانی علیہ الرحمہ

مولانا ابوالوفاء علیہ الرحمہ نہایت عمدہ تحقیق و شرح لکھ رہے تھے جو (باب زیارۃ القبور  حدیث 268 ) تک ہی پہنچ سکی اور مولانا افغانی  علیہ الرحمہ کا انتقال ہو گیا۔

·         اس کے علاوہ مزید

جن کتب پر کام کیادرج بالا کام کے علاوہ شیخ نے درج ذیل کتب پر تفسیری و تحقیقی کام کیا:

·         مختصر الطحاوی۔ ایک ضخیم جلد میں

·         تاریخ الکبیر ، امام بخاری کی تیسری جلد پر تحقیق

·         النفقات ، امام خصاف علیہ الرحمہ

·         اصول الفقہ ، امام سرخسی علیہ الرحمہ

·         شرح الزیادات - دو جلدیں۔

·         مناقب ابی حنیفہ و اصحابہ یوسف و محمد - امام ذہبی علیہ الرحمہ

·         الحجہ علی اہل المدینہ - امام محمد بن حسن الشیبانی علیہ الرحمہ : اس کتاب پر مفتی مہدی حسن نے تحقیق کی تھی۔ یہ کتاب حضرت ابو الوفا کے زیر نگرانی 4 جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔

·         اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ - امام محدث صیمری ابی عبد اللہ علیہ الرحمہ

·         عقود الجمان فی مناقب ابی حنیفہ النعمان - حافظ محدث محمد بن یوسف صالحي شافعی دمشقی علیہ الرحمہ

امام افغانی علیہ الرحمہ کا حج: آپ  علیہ الرحمہ نے حج کیا اور سرزمین پاک میں کچھ عرصہ قیام فرمایا۔ وقت کے بہت سے علما نے ان سے سند اجازت حاصل کی۔ اس سے حضرت ابو الوفا علیہ الرحمہ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔

نجی زندگی : آپ  علیہ الرحمہ نے شادی نہیں کی۔ شیخ عبد الفتاح ابوغدۃ  علیہ الرحمہ نے ان سے ملاقات کی، لکھتے ہیں : ان کے گھر میں کتابوں، مسودات اور تحریروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ یہ کتابیں ان کے ارد گرد بکھری پڑی تھیں۔آپ  علیہ الرحمہ رات کو بہت کم خوراک لیا کرتے اور اپنی راتیں اللہ تعالیٰ  سے دعاؤں میں گزارتے تھے۔

 محدث دکن علیہ الرحمہ  سے نسبت: آپ  علیہ الرحمہ محدث دکن، مصنف زجاجۃ المصابیح حضرت ابو الحسنات سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری علیہ الرحمہ  کے بہت قریب تھے۔ محدث دکن کے خلیفہ اور تذکرہ محدث دکن کے مصنف حصرت ابو الفدا عبد الستار خان نقشبندی مجددی قادری لکھتے ہیں : آپ علیہ الرحمہ  نے مجھے بتایا کہ میں بلا شبہ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے حضرت ابو الحسنات علیہ الرحمہ  کی صورت میں مرشد کامل میسر ہے۔ بصورت دیگر مجھے شیخ کامل کی تلاش میں سفر کرنا پڑ سکتا تھا۔

آپ  علیہ الرحمہ کا انتقال:  آپ علیہ الرحمہ نے اپنی ساری زندگی ترویج علوم اسلامی کی کوششوں میں صرف کی۔ آپ 13 رجب 1395ہجری کی صبح وفات پا گئے۔

No comments:

Post a Comment